عالمی یومِ خواندگی

عالمی یومِ خواندگی

اسپیشل فیچر

تحریر : محمد علی


پاکستان میں تعلیم کی روشنی کہاں تک؟

ہر سال 8 ستمبر کو عالمی یومِ خواندگی (International Literacy Day) منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد دنیا کو یہ یاد دلانا ہے کہ پڑھنے لکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت محض ایک تعلیمی ہنر نہیں بلکہ ایک بنیادی انسانی حق ہے۔ یونیسکو کے مطابق خواندگی انسان کو اپنے حقوق سمجھنے، بہتر فیصلے کرنے، معاشی مواقع حاصل کرنے اور معاشرے میں مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل بناتی ہے۔ عالمی یومِ خواندگی کا آغاز 1967ء میں ہوا اور رواں سال اس دن کی 60ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔اس سال دنیا بھر میں خواندگی کو بدلتے ہوئے ڈیجیٹل دور کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت کو بھی اجاگر کیا جا رہا ہے۔ آج صرف حروف پڑھ لینا کافی نہیں بلکہ انسان کے لیے معلومات کو سمجھنا، درست اور غلط خبر میں فرق کرنا، ڈیجیٹل ذرائع کا ذمہ دارانہ استعمال اور بنیادی حساب کتاب جاننا بھی ضروری ہو چکا ہے۔
پاکستان میں خواندگی کی صورتحال
پاکستان کے لیے عالمی یومِ خواندگی محض ایک رسمی دن نہیں بلکہ ایک اہم قومی یاد دہانی ہے۔ ملک نے گزشتہ برسوں میں خواندگی کے میدان میں کچھ پیش رفت ضرور کی ہے تاہم مجموعی صورتحال اب بھی حالات تشویش کا باعث ہیں۔پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس کی رپورٹ کے مطابق 10 سال یا اس سے زیادہ عمر کی آبادی میں پاکستان کی شرحِ خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ مردوں میں شرحِ خواندگی 73 فیصد جبکہ خواتین میں 54 فیصد ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ تعلیمی مواقع میں صنفی فرق اب بھی واضح ہے۔شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان بھی نمایاں فرق موجود ہے۔ شہری علاقوں میں شرحِ خواندگی 74 فیصد جبکہ دیہی علاقوں میں 55 فیصد ہے۔ خواتین کے معاملے میں یہ فرق مزید نمایاں ہو جاتا ہے۔ شہری خواتین میں خواندگی 68 فیصد ہے جبکہ دیہی خواتین میں یہ شرح تقریباً 44 فیصد ہے۔صوبائی سطح پر بھی صورتحال یکساں نہیں۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق پنجاب تقریباً 68 فیصد شرحِ خواندگی کے ساتھ سب سے آگے ہے، سندھ اور خیبر پختونخوا تقریباً 58 فیصد کے قریب ہیں جبکہ بلوچستان تقریباً 49 فیصد کے ساتھ سب سے پیچھے ہے۔
لڑکیوں کی تعلیم اور دیہی علاقوں کے چیلنجز
پاکستان میں خواندگی کے فروغ کی سب سے بڑی ضرورت دیہی علاقوں اور خصوصاً لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے محسوس ہوتی ہے۔ غربت، سکولوں کا دور ہونا، محفوظ سفری سہولیات کی کمی، اساتذہ کی کمی، کمزور تعلیمی انفراسٹرکچر اور بعض علاقوں میں سماجی رکاوٹیں بچوں کو تعلیم سے دور رکھنے کی اہم وجوہات ہیں۔لڑکیوں کی تعلیم پر توجہ دینا صرف صنفی مساوات کا معاملہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کی ترقی کا مسئلہ ہے۔ ایک تعلیم یافتہ ماں اپنے بچوں کی صحت، صفائی، تعلیم اور مستقبل کے بارے میں زیادہ بہتر فیصلے کر سکتی ہے اس لیے خواتین کی خواندگی میں اضافہ اگلی نسل کی تعلیم پر بھی براہِ راست اثر انداز ہوتا ہے۔پاکستان میں سکول سے باہر بچوں کی تعداد بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ اکنامک سروے 2025-26 ء کے مطابق پانچ سے 16 سال کی عمر کے سکول سے باہر بچوں کا تناسب 2023 ء کے 38 فیصد سے کم ہو کر 2025ء میں 28 فیصد رہ گیا۔تاہم یہ صورتحال اب بھی تشویش کا باعث ہے کہ ملک میں مجموعی طور پر ڈھائی کروڑ بچے اب بھی سکولوں سے باہر ہیں اور اس حوالے سے عالمی سطح پر پاکستان دوسرے نمبر پر ہے۔اس لیے صرف نئے سکول بنانے، بچوں کو سکول تک لانے، انہیں سکول میں برقرار رکھنے اور معیاری تعلیم فراہم کرنے کا کڑا چیلنج درپیش ہے۔
خواندگی کی نئی توجیہات
موجودہ دور میں خواندگی کا تصور روایتی پڑھنے لکھنے سے کہیں آگے بڑھ چکا ہے۔ ایک شخص اگر اپنا نام لکھ سکتا ہے لیکن کسی بینک فارم، دوا کی ہدایت، سرکاری دستاویز یا آن لائن معلومات کو سمجھنے سے قاصر ہے تو اس کی عملی خواندگی محدود ہے۔پاکستان جیسے ملک میں صحت، مالیات اور ڈیجیٹل خواندگی پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔ موبائل فون اور انٹرنیٹ کے بڑھتے ہوئے استعمال نے معلومات تک رسائی آسان تو کی ہے لیکن غلط معلومات، جعلی خبروں اور آن لائن فراڈ کے خطرات بھی بڑھا دیے ہیں لہٰذا نئی نسل کو یہ سکھانا بھی ضروری ہے کہ وہ معلومات حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی صحت اور درستگی کو جانچ سکے۔
کیا کرنا ہوگا؟
پاکستان میں خواندگی بڑھانے کے لیے سب سے پہلے تعلیم کو قومی ترجیح بنانا ہوگا۔ حکومت کو سرکاری سکولوں کے معیار، اساتذہ کی تربیت، نصاب، بنیادی سہولیات اور سکولوں تک رسائی پر مسلسل سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔دیہی علاقوں میں بالخصوص لڑکیوں کے لیے قریبی سکول، محفوظ ٹرانسپورٹ، وظائف اور والدین کی حوصلہ افزائی مؤثر اقدامات ثابت ہو سکتے ہیں۔ جو بچے کسی وجہ سے رسمی سکول کا حصہ نہیں بن سکے ان کے لیے بالغ خواندگی مراکز، غیر رسمی تعلیم اور کمیونٹی لرننگ پروگراموں کو مضبوط بنانا بھی ضروری ہے۔ عالمی یومِ خواندگی ہمیں یہ سوچنے کا موقع فراہم کرتا ہے کہ پاکستان میں تعلیم کے میدان میں پیش رفت کو تیز کیسے کیا جائے۔ایک ایسا پاکستان جہاں ہر بچہ سکول جائے، ہر نوجوان کو معیاری تعلیم اور ہنر حاصل کرنے کا موقع ملے، ہر عورت پڑھ لکھ سکے اور ہر شہری جدید معلومات کو سمجھ کر اپنے فیصلے کر سکے، صرف ایک تعلیمی خواب نہیں بلکہ مضبوط، خوشحال اور بااختیار معاشرے کی بنیاد ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
’’جہنم کا دہانہ‘‘ بیدار؟

’’جہنم کا دہانہ‘‘ بیدار؟

خطرناک آتش فشاں کے نیچے میگما جمع ہونے لگازمین کے سینے میں چھپی آتش فشانی طاقت جب حرکت میں آتی ہے تو اس کے اثرات پورے خطے کو ہلا کر رکھ سکتے ہیں۔ بظاہر خاموش دکھائی دینے والے آتش فشاں بھی اندر ہی اندر تباہ کن قوت جمع کرتے رہتے ہیں، جو کسی بھی وقت لاوے، راکھ اور زہریلی گیسوں کی صورت میں باہر نکل سکتی ہے۔ سائنسدانوں نے اب ''جہنم کا دہانہ‘‘ کہلانے والے خطرناک آتش فشاں کے حوالے سے تشویش ظاہر کی ہے، جہاں زمین کی گہرائی میں پگھلی ہوئی چٹانوں، یعنی میگما، کے جمع ہونے کے آثار سامنے آئے ہیں۔ ماہرین کی یہ تنبیہ ایک بار پھر اس حقیقت کی یاد دہانی کراتی ہے کہ قدرت کی بعض خاموش قوتیں بیدار ہونے پر انسانی آبادیوں اور ماحول کیلئے سنگین خطرہ بن سکتی ہیں۔سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ ''جہنم کا دہانہ‘‘ کہلانے والا آتش فشاں دوبارہ بیدار ہو سکتا ہے۔محققین نے فعال آتش فشاں ماسایا کے نیچے میگما کے دو ایسے ذخائر کے بھرنے کے شواہد دریافت کیے ہیں، جن میں پگھلی ہوئی چٹانیں جمع ہو رہی ہیں۔ یہ آتش فشاں نکاراگوا کے دارالحکومت مناگوا سے محض 20 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، جہاں تقریباً 20 لاکھ افراد آباد ہیں۔دوسری جانب، ہر سال ہزاروں سیاح اس آتش فشاں کے خوف ناک نام کی وجہ بننے والے لاوے سے بھرے سانتیاگو دہانے کو دیکھنے کیلئے یہاں آتے ہیں۔آتش فشاں پھٹنے کا خطرہ مسلسل تشویش کا باعث بنا رہتا ہے اور ایک نئی تحقیق میں زمین کے نیچے چھپی سرگرمی کے پریشان کن آثار سامنے آئے ہیں۔ اگرچہ تحقیق میں کسی فوری خطرے کی نشاندہی نہیں کی گئی، تاہم اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ''جہنم کے دہانے‘‘ کے اندر میگما کی نقل و حرکت کا نظام پہلے کے اندازوں سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ میگما کی زیر زمین سرنگوں اور ذخائر پر مشتمل اس نظام کو سمجھنا ان تبدیلیوں کی نشاندہی کیلئے انتہائی اہم ہے جو آتش فشاں کے ممکنہ طور پر پھٹنے کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہیں۔ اس تحقیق کی مرکزی مصنفہ اور امریکی ریاست پنسلوانیا کی پین اسٹیٹ یونیورسٹی سے وابستہ لیزی جانسن نے کہا کہ ماسایا آتش فشاں کی سرگرمیوں اور ان سے وابستہ خطرات کو مکمل طور پر سمجھنا انتہائی اہم ہے۔''جہنم کا دہانہ‘‘ ایک غیر معمولی طور پر پیچیدہ آتش فشاں ہے، جو ایک دوسرے کے اندر واقع کئی دہانوں اور زمین میں بننے والے گڑھوں پر مشتمل ہے۔ یہ گڑھے میگما کے زیر زمین ذخائر خالی ہونے کے نتیجے میں وجود میں آئے ہیں۔ اس پیچیدہ ساخت کے باعث زمین کی سطح کے نیچے موجود سرنگوں اور میگما کے ذخائر کے باہمی نظام کو ابھی تک پوری طرح نہیں سمجھا جا سکا۔ یہی وجہ ہے کہ ان معمولی تبدیلیوں کی نشاندہی کرنا مشکل ہو جاتا ہے جو آتش فشاں پھٹنے کے قریب ہونے کا اشارہ دے سکتی ہیں۔ شہر کے اتنے قریب واقع سیاحتی مقام کیلئے یہ صورت حال سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔محترمہ جانسن کا کہنا ہے کہ اگرچہ ماسایا آتش فشاں سے آخری مرتبہ 1772ء میں لاوے کا ایک بڑا بہاؤ خارج ہوا تھا، تاہم اس سے مسلسل خارج ہونے والی گیسوں کے باعث آتش فشانی گیس سلفر ڈائی آکسائیڈ کی خطرناک حد تک زیادہ مقدار اکثر پیدا ہوتی رہتی ہے۔گزشتہ 50 برسوں کے دوران اس آتش فشاں میں کئی دھماکے بھی ہو چکے ہیں۔ اگرچہ اب تک ان واقعات میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم محققین کسی قسم کا خطرہ مول نہیں لینا چاہتے۔ تحقیق کاروں نے اپنے نئے مقالے میں یورپی خلائی ایجنسی کے ''سینٹینل1‘‘ سیٹلائٹ سے حاصل کردہ اعداد و شمار کا جائزہ لیا۔ یہ تحقیق سائنسی جریدے جیو فزیکل ریسرچ لیٹرز میں شائع ہوئی ہے۔یہ سیٹلائٹ ہر 12 دن بعد اس علاقے کے اوپر سے گزرتا ہے اور زمین کی سطح کے اتار چڑھاؤ کی تفصیلی تصاویر جمع کرتا ہے۔ ان تصاویر کے ذریعے یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ زمین کے نیچے میگما کی نقل و حرکت کے باعث سطح زمین کس طرح بلند یا پست ہو رہی ہے۔محترمہ جانسن کے مطابق ''جب زمین کی سطح نیچے بیٹھتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ آتش فشاں کے اندر سے میگما خارج ہو کر کسی دوسری جانب منتقل ہو رہا ہے، لیکن جب زمین دوبارہ بلند ہونے لگے تو اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ نیا میگما اندر داخل ہو رہا ہے‘‘۔ تحقیق کاروں نے 2018ء سے 2022ء کے وسط تک مشاہدہ کیا کہ مشہور سانتیاگو دہانے کے عین شمال میں واقع ماسایا کے مرکزی میگما ذخیرے کے اردگرد زمین کی سطح تقریباً 1.2 انچ (3 سینٹی میٹر) نیچے بیٹھ گئی تھی۔اس تبدیلی سے ظاہر ہوتا ہے کہ زیر زمین موجود ذخیرے سے میگما کی کچھ مقدار دوسری جانب منتقل ہو گئی تھی، جس کے نتیجے میں زمین کی سطح نیچے دھنس گئی۔تاہم، 2022ء سے 2024ء کے دوران زمین کی سطح ایک بار پھر بلند ہونا شروع ہو گئی، جس سے یہ اشارہ ملا کہ زیر زمین میگما کا ذخیرہ دوبارہ بھر رہا ہے۔حیرت انگیز طور پر، اس پورے چھ سالہ عرصے کے دوران سانتیاگو دہانے اور اس میں موجود لاوے کی جھیل کے آس پاس زمین کی سطح مسلسل نیچے دھنس رہی تھی۔ محققین کے مطابق، اس صورتِ حال کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ زمین کی سطح سے تقریباً 656 فٹ (200 میٹر) نیچے میگما کا ایک دوسرا، نسبتاً کم گہرائی میں واقع ذخیرہ بھی موجود ہے، جو سرگرم ہے۔ محترمہ جانسن نے مزید کہا کہ یہ صورتِ حال ظاہر کرتی ہے کہ آتش فشاں کے اندر میگما کی نقل و حرکت کا نظام پہلے کے اندازوں سے زیادہ پیچیدہ ہے۔ اس تبدیلی کی ایک وجہ میگما کے دوسرے، نسبتاً کم گہرائی میں واقع ذخیرے میں اس کی مقدار کا کم ہونا بھی ہو سکتی ہے۔محققین مستقبل میں اس نوعیت کی مزید پیمائشوں کے ذریعے آتش فشاں کی سرگرمیوں کے بارے میں زیادہ جامع معلومات حاصل کرنے اور اس کے پھٹنے کی پیش گوئی کے نظام کو بہتر بنانے کے خواہاں ہیں۔ پین اسٹیٹ یونیورسٹی کے شریک محقق ڈاکٹر ینگ چولکم کا کہنا ہے کہ مسلسل نگرانی کے ذریعے ہمیں آتش فشاں کی معمول کی سرگرمیوں کو سمجھنے اور ان میں ہونے والی تبدیلیوں کی نشاندہی کرنے میں مدد ملتی ہے۔ اگر کسی موقع پر لوگوں کو خبردار کرنے کی ضرورت پیش آئے تو مسلسل نگرانی کی بدولت ہم بروقت ایسا کر سکتے ہیں۔

’’عمودی ڈراپ‘‘

’’عمودی ڈراپ‘‘

ماؤنٹین بائیک رائیڈر کا حیران کن کارنامہسائیکلنگ محض ایک کھیل نہیں بلکہ حوصلے، مہارت، جسمانی طاقت اور خطرات کا سامنا کرنے کے غیر معمولی جذبے کا نام بھی ہے۔ پہاڑی علاقوں میں ماؤنٹین بائیک چلانے والے کھلاڑی دشوار گزار راستوں، گہری کھائیوں اور عمودی ڈھلوانوں پر اپنی صلاحیتوں کا امتحان لیتے ہیں۔ ایسے ہی ایک باہمت سائیکل سوار نے پیشہ ور کھلاڑی بننے کا خواب آنکھوں میں سجائے عمودی بلندی سے نیچے اترنے کا ریکارڈ توڑ کر دنیا کو حیران کر دیا۔ اس کی یہ کامیابی نہ صرف غیر معمولی مہارت اور جرأت کا مظہر ہے بلکہ اس حقیقت کی عکاس بھی ہے کہ بلند عزائم، مسلسل محنت اور خود اعتمادی انسان کو حیرت انگیز کارنامے انجام دینے کے قابل بنا سکتی ہے۔ماؤنٹین بائیک پر تقریباً چار میٹر کی بلندی سے نیچے اترنا ہی بیشتر لوگوں کو بریک لگانے پر مجبور کرنے کیلئے کافی ہے، لیکن آسٹریا سے تعلق رکھنے والے ماریو نیوراٹر کیلئے یہ اپنی سائیکلنگ کی صلاحیتوں کو نئی بلندیوں تک پہنچانے کا ایک موقع تھا۔ پیشہ ور ماؤنٹین بائیک کھلاڑی بننے کا خواب دیکھنے والے ماریو ہمیشہ سے اپنی صلاحیتوں کو مزید نکھارنے اور پہلے سے زیادہ بلندی، فاصلے اور رفتار تک پہنچنے کیلئے کوشاں رہے ہیں۔ کم عمری ہی سے اپنے شعبے میں بہترین بننے کی کوششوں کے نتیجے میں انہوں نے سائیکل پر کسی مقررہ ہدف پر عمودی طور پر سب سے زیادہ بلندی سے گرنے (مردوں کی کیٹیگری) کا گنیز ورلڈ ریکارڈ اپنے نام کر لیا۔ماریو کو ماؤنٹین بائیک چلانے کا سات سالہ تجربہ ہے۔ 13 ستمبر 2025ء کو 20 سالہ ماریو نے 3.80 میٹر (12.46 فٹ) کی بلندی سے نیچے اتر کر یہ ریکارڈ قائم کیا۔ یہ بلندی تقریباً ڈبل ڈیکر بس کے برابر ہے۔ ماریو نے بتایا کہ میں نے اس سے پہلے کبھی اس طرح کے باکس نما ہدف پر لینڈنگ نہیں کی تھی۔ تاہم، عمومی طور پر میں نے چھوٹی بلندیوں سے آغاز کیا اور برسوں کے دوران بتدریج زیادہ سے زیادہ بلندی سے نیچے اترنے کی مشق کرتا رہا۔اگرچہ اتنی بلندی سے نیچے اترنے کا حوصلہ کرنا اس ریکارڈ کی کوشش کا ایک اہم مرحلہ تھا، تاہم ماریو کیلئے یہ یقینی بنانا بھی ضروری تھا کہ وہ درست نشانے کے ساتھ لینڈنگ باکس پر اتریں۔ انہوں نے بتایا کہ مجھے خوف محسوس نہیں ہو رہا تھا، لیکن میں جانتا تھا کہ باکس پر درست انداز میں اترنا مشکل ہو گا۔ میں نے اس مقصد کیلئے خصوصی تربیت حاصل نہیں کی تھی، اس لیے مجھے معلوم نہیں تھا کہ کامیابی کیلئے کتنی کوششیں کرنا پڑیں گی۔ بالآخر، سب کچھ توقعات کے مطابق کافی اچھا رہا۔ماریو نے ریکارڈ قائم کرنے کی یہ کوشش آسٹریا میں منعقد ہونے والے ''بائیک ریپبلک سولڈن فیسٹیول‘‘ کے دوران کی، جسے ''سواچ نائنز‘‘ کے ساتھ یکجا کیا گیا تھا۔ اس میلے میں ماؤنٹین بائیکنگ کی دنیا سے تعلق رکھنے والے سائیکل سواروں اور شائقین نے شرکت کی۔ ماریو نے وضاحت کرتے ہوئے کہاکہ میرے خیال میں اس طرح کے کارنامے کیلئے یہ میلہ بہترین موقع تھا۔ یہاں سائیکلنگ سے وابستہ پوری کمیونٹی جمع ہوتی ہے، اس لیے ریکارڈ قائم کرنے کی کوشش کیلئے اس سے بہتر ماحول ممکن نہیں تھا۔ماریو نے سائیکل پر سب سے زیادہ عمودی بلندی سے نیچے اترنے اور 360 ڈگری گھومتے ہوئے سائیکل پر کسی مقررہ ہدف پر سب سے زیادہ عمودی بلندی سے اترنے کے ریکارڈ قائم کرنے کی کوششیں بھی کیں۔ اب وہ ان کوششوں کے نتائج کا انتظار کر رہے ہیں کہ آیا وہ ان میں کامیاب ہوئے یا نہیں۔ اگر ان کوششوں کی کامیابی کی تصدیق ہو گئی تو ریکارڈ توڑنے والا یہ ہفتہ ان کیلئے مزید بڑی کامیابیوں کا باعث بن سکتا ہے۔

آج تم یاد بے حساب آئے!عابد کشمیری:ورسٹائل اداکار (2024-1950ء)

آج تم یاد بے حساب آئے!عابد کشمیری:ورسٹائل اداکار (2024-1950ء)

٭...4 مئی 1950ء کو اندرون لاہور میں پیدا ہوئے اور ابتدائی تعلیم یہیں سے حاصل کی۔ ٭...عابد کشمیری اندرون لاہور کے کشمیری گھرانے سے تعلق رکھتے تھے، جہاں پنجابی بولی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مکالموں کی ادائیگی کے دوران ان کے لہجے سے بھی پنجابی ٹچ جھلکتا تھا۔٭...1970ء اپنے کریئر کا آغاز کیا۔ ابتداء میں انہوں نے ڈراموں میں ایکسٹرا کے طور پر کام کیا۔٭... ان کا پہلا ٹی وی ڈرامہ ''رضیہ سلطانہ‘‘ تھا۔٭... سینکڑوں ٹی وی ڈراموں، تھیٹر اور فلموں میں کام کیا۔ وہ زیادہ تر مزاحیہ کردار ادا کرتے رہے۔٭...ان کے ڈائیلاگ ''خیر ہو آپ کی‘‘ اور ''کس کو کہہ رہے ہو‘‘ بہت مشہورہوئے۔ ٭... 1988ء میں ریلیز ہونے والی فلم ''بازار حسن‘‘ پر بہترین مزاحیہ اداکار کے نگار ایوارڈ سے نوازا گیا ۔٭...ان کی مشہور فلموں میں '''جیتے ہیں شان سے‘‘‘ اور 'آہٹ‘ بھی شامل ہیں۔٭...250فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے ، دو فلمیں پروڈیوس بھی کیں جن میں ''محلے دار‘‘ اور ''عینک والا جن‘‘ شامل ہیں۔''محلے دار‘‘ میں انہوں نے ریما کے ساتھ بطور ہیرو کام کیا۔٭...مقبول ٹی وی ڈراموں میں ''لوہاری گیٹ،سورج کے ساتھ ساتھ‘، 'تیسرا کنارہ اوراپنے لوگ‘‘ نمایاں ہیں۔٭...ڈرامہ ''سمندر‘ میں عابد کشمیری کا کردار ''گلو بادشاہ‘‘ بہت مقبول ہوا ۔٭...2024ء میں ان کا انتقال ہوا، انہوں 74برس کی عمر پائی۔

آج کا دن

آج کا دن

پہلا انسانی خلائی مشن 11 اکتوبر 1968ء کو امریکی خلائی ادارے ''ناسا ‘‘نے اپالو7 کو خلائی سفر پر روانہ کیا۔ ''اپالو7‘‘ ناسا کی پہلی انسانی خلائی پرواز تھی۔ خلائی گاڑی میں تین خلاء بازوالی شیرا، ڈون فلٹن اور آروالٹر سوار تھے۔ اس خلائی گاڑی سے ناسا نے ایک تواتر سے ''والی، والٹ اینڈ ڈون شو‘‘کے نام سے لائیو براڈکاسٹ دی۔ اس نشریات کو اس قدر زیادہ دیکھا گیا کہ شو اُس سال کے ایمی ایوارڈ کا حقدار قرار پایاتھا۔ریگن اور گورباچوف کی ملاقات1986ء میں آج کے روز امریکی صدر رونالڈ ریگن اور سوویت رہنما میخائل گوربا چوف نے آئس لینڈ کے دارالحکومت ریکیاوک میں ملاقات کی۔ اس ملاقات کا مقصد یورپ میں موجود درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائلوں کے ذخیرے میں کمی سے متعلق مذاکرات کو آگے بڑھانا تھا۔ دونوں رہنماؤں نے جوہری ہتھیاروں میں کمی اور عالمی کشیدگی گھٹانے کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ اس ملاقات کو دونوں ممالک کے درمیان سرد جنگ کے خاتمے کی جانب ایک اہم قدم سمجھا گیا۔پورٹو ریکو میں شدید زلزلہ1918ء میں پورٹو ریکو میں 7.1 شدت کا ایک شدید زلزلہ آیا، جسے سان فرمین زلزلہ کہا جاتا ہے۔ زلزلے کے شدید جھٹکوں نے جزیرے کے مختلف علاقوں کو ہلا کر رکھ دیا، جبکہ اس کے بعد آنے والی سونامی نے تباہی میں مزید اضافہ کیا،116 افراد جاں بحق ہوئے۔ اس قدرتی آفت سے عمارتوں اور دیگر املاک کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ یہ واقعہ پورٹو ریکو کی تاریخ کے تباہ کن زلزلوں میں شمار کیا جاتا ہے۔برچارڈی کا سیلاب''برچارڈی سیلاب‘‘ ایک طوفانی لہر تھی جو 11 اکتوبر 1634 ء کی رات کو شمالی فریشیا اور جرمنی کے سمندری ساحل سے ٹکرائی۔ ساحلی پٹی پر رہنے والوں کو شدید تباہی کا سامنا کرنا پڑا ،8سے 15ہزار افراد ڈوب گئے جبکہ سیکڑوں عمارتوں کا نقصان پہنچا۔ سیلاب سے متاثرہ کئی علاقے طویل عرصے تک آباد نہیں ہو سکے اور ہزاروں افراد کو نقل مکانی کرنا پڑی۔فضائی حادثہایرو فلوٹ فلائٹ 3352 کرانسودار سے نووسیبرسک جانے والی ایک ڈومیسٹک پرواز تھی۔ 11 اکتوبر 1984ء کو اومسک ہوائی اڈے پر لینڈنگ کرتے وقت ہوائی جہاز رن وے پر موجود دیکھ بھال کرنے والی گاڑیوں سے ٹکرا گیا۔اس حادثے کی وجہ سے جہاز میں موجود 174 جبکہ زمین پر موجود4افراد ہلاک ہو گئے۔حادثہ ائیر ٹریفک کنٹرول کے اہلکار کے دوران ڈیوٹی سونے کے باعث پیش آیا۔میرمانی بم دھماکہ11اکتوبر2002ء کو میرمانی بم دھماکہ ایک شاپنگ مال میں ہوا۔بم کو کچرے کے ایک بیگ میں چھپایا گیا تھا اور بیگ کچرا اکٹھا کرنے والے ایک کنٹینر میں موجود تھا۔ 5افراد موقع پر ہلاک ہو گئے، دھماکے سے زمین میں 10سینٹی میٹر گہرا گڑھا بن گیا۔مجموعی طور پر سات افراد ہلاک ہوئے جن میں دو نوعمر اور ایک 7سالہ بچہ بھی شامل تھا۔اس دھماکے میں 159افراد زخمی ہوئے۔

بصارت :زندگی کو معنی عطا کرنے والی نعمت

بصارت :زندگی کو معنی عطا کرنے والی نعمت

عالمی یومِ بصارت (World Sight Day) ہر سال اکتوبر کی دوسری جمعرات کو منایا جاتا ہے۔ اس عالمی دن کا مقصد نابینا پن اور بصارت کی کمزوری جیسے مسائل کی جانب توجہ مبذول کرانا ہے۔ اس کا آغاز 2000 ء میں لائنز کلب انٹرنیشنل فاؤنڈیشن کیSight FirstCampaign کے تحت کیا گیا تھا۔ بعد ازاں اسے یو این کے ویژن 2020 کا حصہ بنا دیا گیا اور اب اس کا انتظام انٹرنیشنل ایجنسی فار دی پریوینشن آف بلائنڈنس (IAPB) کی جانب سے عالمی ادارہ صحت کے تعاون سے کیا جاتا ہے۔رواں برس یہ دن کل (8 اکتوبر) منایا جائے گا۔ اس سال عالمی مہم کا پیغام اس امر کے گرد گھومتا ہے کہ آنکھوں کی صحت ہر انسان کی ترجیح بنے اور دنیا میں ہر شخص کو ایسی نگہداشتِ چشم میسر ہو جو قابلِ رسائی، دستیاب اور قابلِ استطاعت ہو۔2.2 ارب انسان: ایک عدد نہیں، انسانی کہانیاں ہیںعالمی سطح پر کم از کم 2.2 ارب افراد کسی نہ کسی درجے کی بصری کمزوری کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں جبکہ ان میں کم از کم ایک ارب ایسے افراد شامل ہیں جن کی بصری کمزوری کو روکا جا سکتا تھا یا جس کا مناسب علاج ابھی تک نہیں ہو سکا۔یہ اعداد بظاہر اعداد و شمار ہیں لیکن ان کے پیچھے کروڑوں انسانی داستانیں موجود ہیں۔ ان میں وہ بچہ بھی ہے جو کلاس روم میں بیٹھا بلیک بورڈ صاف نہیں دیکھ پاتا،وہ طالب علم بھی ہے جسے کتاب کے الفاظ دھندلے دکھائی دیتے ہیں،وہ مزدور ہے جس کی روزی روٹی اس کی آنکھوں کی صحت سے وابستہ ہے،وہ بزرگ بھی ہے جس کی دنیا موتیا یا کسی دوسری بیماری کے باعث آہستہ آہستہ دھندلا رہی ہے۔اور ذیابیطس کا وہ مریض ہے جسے شاید ابھی یہ احساس تک نہیں کہ اس کی بیماری اس کی بینائی کیلئے خاموش خطرہ بن سکتی ہے۔اس لیے بصارت کا مسئلہ صرف آنکھ کا مسئلہ نہیں یہ انسان کی پوری زندگی کا مسئلہ ہے۔خاموش بیماریاں اور ہماری بے خبریآنکھوں کی طب کا ایک نہایت اہم پہلو یہ ہے کہ بعض سنگین بیماریاں ابتدا میں کوئی واضح شواہد پیدا نہیں کرتیں۔مریض کو درد نہیں ہوتا، سرخی نہیں ہوتی، کبھی کبھی نظر بھی بظاہر ٹھیک محسوس ہوتی ہے، مگر بیماری اندر ہی اندر اپنا اثر مرتب کر رہی ہوتی ہے۔گلوکوما اس کی ایک اہم مثال ہے۔ اسی طرح ذیابیطس سے وابستہ آنکھوں کی پیچیدگیاں بھی بعض اوقات خاموشی سے پیش رفت کرتی رہتی ہیں۔یہاں ایک بنیادی طبی حقیقت کو سمجھنا ضروری ہے کہ نظر کا ٹھیک محسوس ہونا، آنکھ کے مکمل طور پر صحت مند ہونے کی ضمانت نہیں۔ اسی لیے آنکھوں کا معائنہ صرف اس وقت نہیں ہونا چاہیے جب نظر کم ہو جائے۔ بعض اوقات بروقت معائنہ اس بیماری کو اس وقت پکڑ لیتا ہے جب مریض کو خود اس کی موجودگی کا ادراک بھی نہیں ہوتا۔بچوں کی آنکھیں قوم کے مستقبل کا آئینہآج کا بچہ کل کا معمار ہے لیکن اگر اس کے سامنے دنیا ہی دھندلی ہو تو اس کے خوابوں کی تعمیر کیسے  مکمل ہوگی؟بچوں کی بصارت کو معمولی مسئلہ سمجھنا سنگین غفلت ہو سکتی ہے۔اگر بچہ کتاب کو بہت قریب لا کر پڑھتا ہے، ٹی وی یا موبائل سکرین کے قریب بیٹھتا ہے، بار بار آنکھیں ملتا ہے، سر درد کی شکایت کرتا ہے، آنکھیں سکیڑ کر دور کی چیزیں دیکھتا ہے یا کلاس روم میں بورڈ دیکھنے میں دشواری محسوس کرتا ہے تو اسے محض عادت قرار دے کر نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ بروقت معائنہ بعض اوقات بچے کے تعلیمی سفر کا رخ بدل سکتا ہے۔ایک درست چشمہ صرف نظر نہیں سنوارتا، بعض اوقات بچے کا اعتماد بھی واپس لاتا ہے۔ یہاں والدین، اساتذہ اور تعلیمی اداروں پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ بچوں کی بصارت کو تعلیمی صحت کا لازمی حصہ سمجھا جائے۔ڈیجیٹل عہد اور آنکھوں کا نیا امتحانہم ایک ایسے عہد میں داخل ہو چکے ہیں جہاں ہماری زندگی کا ایک بڑا حصہ سکرین کے اندر آباد ہے۔ موبائل فون، کمپیوٹر، ٹیبلٹ اور دیگر ڈیجیٹل آلات نے تعلیم، کاروبار اور رابطے کو آسان بنایا ہے، مگر ان کا غیر متوازن استعمال آنکھوں کی تھکن اور دیگر بصری شکایات کو بڑھا سکتا ہے۔مسئلہ ٹیکنالوجی نہیں، مسئلہ غیر متوازن طرزِ استعمال ہے۔ہمیں بچوں اور بڑوں دونوں میں سکرین کے استعمال کے دوران مناسب وقفوں، مناسب فاصلہ، مناسب روشنی اور مجموعی طور پر صحت مند بصری عادات کو فروغ دینا ہوگا۔آنکھ محض جسم کا ایک عضو نہیں یہ یادوں کا آئینہ ہے،یہ خوابوں کا دریچہ ہے،یہ علم تک رسائی کا وسیلہ ہے،یہ انسان کے چہرے پر لکھی ہوئی محبت پڑھنے کی صلاحیت ہے۔ایک بچے کیلئے آنکھ مستقبل کا راستہ ہے۔ایک نوجوان کیلئے امکانات کی دنیا ہے۔ایک بزرگ کیلئے ماضی کی محفوظ تصویریں ہیں۔اور ایک ڈاکٹر کیلئے آنکھ انسانی جسم کی پیچیدہ ساخت، لطیف توازن اور حیرت انگیز حیاتیاتی حکمت کی ایک زندہ مثال ہے۔اس لیے بصارت کی حفاظت صرف طب کا موضوع نہیں، یہ انسانی وقار کا سوال ہے۔ہمیں ایسی دنیا کی تعمیر کرنی ہے جہاں کوئی انسان محض اس لیے اپنی بینائی سے محروم نہ ہو کہ اسے بروقت تشخیص، مناسب چشمہ یا ضروری علاج میسر نہ آ سکا،کیونکہ آنکھیں سلامت ہوں تو منظر باقی رہتے ہیں،بصارت سلامت ہو تو خواب باقی رہتے ہیں،اور خواب باقی ہوں تو زندگی کا سفر روشن رہتا ہے۔

فولاد سے پائیدار سڑکیں

فولاد سے پائیدار سڑکیں

ماحول کے ساتھ انسانی جانیں بھی بچا سکتی ہیںدنیا بھر میں فولاد کی صنعت معاشی ترقی اور جدید تعمیرات کی بنیاد سمجھی جاتی ہے لیکن اس صنعت کے ساتھ ایک بڑا ماحولیاتی مسئلہ بھی جڑا ہوا ہے۔ فولاد بنانے کے عمل میں بڑی مقدار میں ایک ضمنی صنعتی مادہ پیدا ہوتا ہے جسےSteel slag (سٹیل سلیگ) کہا جاتا ہے۔ عام طور پر اسے صنعتی فضلے کے طور پر ذخیرہ یا محدود پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اب سائنسدانوں نے اسی بظاہر بے کار مادے کے لیے ایک ایسا استعمال دریافت کیا ہے جو مستقبل میں سڑکوں کی تعمیر کو زیادہ پائیدار بنانے کے ساتھ ساتھ فضائی آلودگی اور کاربن اخراج میں کمی کا سبب بن سکتا ہے۔ حالیہ تحقیق میں تجویز کیا گیا ہے کہ سٹیل سلیگ کو خصوصی قسم کے اسفالٹ کے ساتھ ملا کر سڑکیں تیار کی جا سکتی ہیں جو روایتی سڑکوں کے مقابلے میں زیادہ مضبوط اور دیرپا ہوں گی۔ اس طریقے کا مقصد صرف صنعتی فضلے کو دوبارہ استعمال کرنا نہیں بلکہ سڑکوں کی بار بار مرمت، ٹریفک کے اضافی دباؤ اور گاڑیوں کے ایندھن کے غیر ضروری استعمال کو بھی کم کرنا ہے۔سٹیل سلیگ سڑکوں کیلئے ؟سٹیل سلیگ فولاد بنانے کے دوران پیدا ہونے والا مادہ ہے۔ اس میں مختلف معدنی اجزا اور دھاتی آکسائیڈز شامل ہوتے ہیں۔ اس کی ایک خاص خصوصیت اس کی مضبوطی ہے جس کی وجہ سے یہ سڑکوں میں استعمال ہونے والے روایتی مواد کا متبادل بن سکتا ہے۔ محققین نے اس صلاحیت کو مزید بہتر بنانے کے لیے سٹیل سلیگ کو epoxy-modified asphalt binderکے ساتھ ملایا جس سےSteel Slag Epoxy Asphalt Mixture (SEAM) تیار ہوتا ہے۔ اس مرکب کا بنیادی فائدہ یہ ہے کہ اپاکسی سلیگ کے ذرات اور اسفالٹ کے درمیان مضبوط تعلق پیدا کرتا ہے۔ اس کے نتیجے میں سڑک زیادہ دیر تک اپنی ساخت برقرار رکھ سکتی ہے اور نمی، بھاری ٹریفک اور درجہ حرارت کی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والے نقصان کے خلاف بہتر مزاحمت دکھا سکتی ہے۔کم مرمت، کم ایندھن ،کم آلودگیاس تحقیق کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ سائنسدانوں نے صرف سڑک بنانے کے دوران ہونے والے اخراج کا جائزہ نہیں لیا بلکہ سڑک کی پوری زندگی کو مدنظر رکھا۔ روایتی سڑک وقت کے ساتھ خراب ہوجاتی ہے جس کے نتیجے میں گڑھے، ٹوٹ پھوٹ اور دیگر نقصانات پیدا ہوتے ہیں۔SEAM کی زیادہ پائیداری اس مسئلے کو کم کر سکتی ہے۔ اربوں ٹن کاربن میں کمی کا امکانتحقیق میں چین کے شہروں میں سڑکوں کے ایک وسیع نیٹ ورک کو مثال کے طور پر استعمال کیا گیا۔ سائنسدانوں نے یہ جانچنے کے لیے مختلف منظرنامے بنائے کہ اگر موجودہ شہری اسفالٹ سڑکوں کے 25، 50، 75 یا 100 فیصد حصے کو SEAM سے تبدیل کیا جائے تو کیا نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔تحقیق کے مطابق 25 سے 100 فیصد تک تبدیلی کے مختلف منظرناموں میں 431 ملین سے 1.741 ارب ٹن گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی کا تخمینہ لگایا گیا۔ اسی طرح 303 ملین سے 1.229 ارب کلوگرام PM2.5 کی کمی کا اندازہ سامنے آیا۔ PM2.5 انتہائی باریک فضائی ذرات ہیں جو انسانی صحت کے لیے خطرناک سمجھے جاتے ہیں ۔ معاشی اور ماحولیاتی صلاحیت عملی چیلنجزاس طریقے کا فائدہ صرف ماحول تک محدود نہیں، سڑکوں کی کم مرمت، طویل سروس لائف اور ٹریفک و ایندھن سے متعلق فوائد بھی حاصل ہو سکتے ہیں۔ تاہم اس ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے پر استعمال کرنے میں کچھ رکاوٹیں بھی ہیں۔ SEAM روایتی اسفالٹ کے مقابلے میں زیادہ مہنگی ہے جبکہ اپاکسی موڈیفائیڈ اسفالٹ کی قیمت بھی زیادہ ہوتی ہے۔ مزید یہ کہ نئی SEAM سڑک کو مکمل مضبوطی حاصل کرنے کے لیے تقریباً سات دن تک حفاظت درکار ہوتی ہے جبکہ عام اسفالٹ سڑک نسبتاً جلد ٹریفک کے لیے کھولی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ سٹیل سلیگ ہر علاقے میں یکساں مقدار میں دستیاب نہیں۔ تاہم تحقیق کے مطابق ان اضافی اخراجات کے باوجود مجموعی ماحولیاتی فائدہ مثبت ہو سکتا ہے۔سٹیل سلیگ کو سڑکوں میں استعمال کرنا صنعتی فضلے کو قیمتی وسائل میں تبدیل کرنے کا ایک مؤثر راستہ بن سکتا ہے۔