پاکستان میں مفت فراہم کردہ تمام 13 ویکسین درآمدی، سالانہ 40 کروڑ ڈالر خرچ

پاکستان میں مفت فراہم کردہ تمام 13 ویکسین درآمدی، سالانہ 40 کروڑ ڈالر خرچ

سالانہ 14کروڑ ویکسین مفت فراہم کی جاتیں،مقامی ویکسین تیار نہ ہوئی تو 2030تک سالانہ لاگت 1.2ارب ڈالر تک پہنچنے کا خدشہ ملکی سطح پر ویکسین بنانے کیلئے چین، انڈونیشیا ، سعودیہ کیساتھ رابطے تیز ،حتمی شکل دینے کیلئے سعودی وفد28جنوری کوپاکستان آئیگا

اسلام آباد (ذیشان یوسفزئی)پاکستان میں حکومت شہریوں کو 13 اقسام کی ویکسین مفت فراہم کر رہی ہے ، تاہم ان میں سے کوئی بھی ویکسین ملک میں تیار نہیں کی جاتی اور تمام ویکسین بیرونِ ملک سے درآمد کی جارہی ہیں۔ حکومت پاکستان یہ ویکسین عالمی اداروں کے تعاون سے درآمد کرتی ہے ، جن میں ڈبلیو ایچ او، یونیسف اور گاوی (Gavi) شامل ہیں۔ ان اداروں کی جانب سے ویکسین کی قیمت کا بڑا حصہ ادا کیا جاتا ہے جس کے باعث حکومت پر مالی بوجھ نسبتاً کم رہتا ہے ۔ اس وقت پاکستان کو ویکسین کی درآمد کے لیے سالانہ 35 کروڑ سے 40 کروڑ ڈالر ادا کرنا پڑتے ہیں۔

وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال کے مطابق عالمی ادارے بتدریج اپنی مالی معاونت کم کر رہے ہیں، جبکہ سال 2030 تک یہ معاونت مکمل طور پر ختم ہو جائے گی اور اگر مقامی سطح پر ویکسین کی تیاری کا بندوبست نہ کیا گیا تو 2030 کے بعد حکومت پاکستان کو شہریوں کو مفت ویکسین فراہم کرنے کے لیے سالانہ 1.2 ارب ڈالر ادا کرنا ہوں گے ، جو قومی معیشت پر ایک بڑا بوجھ ثابت ہو سکتا ہے ۔ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ہر سال تقریباً 14 کروڑ ویکسین شہریوں کو مفت فراہم کی جاتی ہیں۔

وزیر صحت مصطفی کمال کاکہنا ہے کہ جس ادارے گاوی سے پاکستان ویکسین لیتا ہے وہ بھارت سے ویکسین کی خریداری کرتا ہے اور مئی میں جب دونوں ممالک کے درمیان لڑائی ہوئی تو بھارت نے ان کو ویکسین دینا بند کردی تھی جس کے بعد پاکستان کو ویکسین کی کمی کا سامنا رہا۔ اس تمام تر صورتحال کے پیشِ نظر حکومت پاکستان نے چین، انڈونیشیا اور سعودی عرب کے ساتھ مقامی ویکسین سازی کے امکانات پر رابطے تیز کر دیے ہیں۔وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے ان ممالک کے وزرائے صحت سے ملاقاتیں کی ہیں۔ وزیر صحت کے مطابق سعودی عرب کے وزیر صحت کے ساتھ تین ملاقاتیں ہو چکی ہیں اور سعودی وفد 28 تاریخ کو پاکستان کا دورہ کرے گا، جس کے بعد مشترکہ منصوبے (جوائنٹ وینچر) کے تحت پاکستان میں مقامی ویکسین تیار کرنے سے متعلق معاملات کو حتمی شکل دی جائے گی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں