دھرنا: کیا کھویا, کیا پایا ؟

دھرنا: کیا کھویا, کیا پایا ؟

اسپیشل فیچر

تحریر : محمد عامر خاکوانی کا تجزیہ


جمعہ کی شام اسلام آبادمیں جاری دھرنے کے خوشگوار اختتام نے جہاں ملک بھر کے عوام کی بے چینی اور اضطراب کو دور کر دیا ، وہاںاس غیرمعمولی اہم واقعے نے ہمارے سیاسی اور جمہوری نظام کو بھی کئی نئے سبق دیے ہیں۔ ہماری سیاسی جماعتیں لانگ مارچ اور دھرنے کے ہفتہ بھر کے تجربے سے بہت کچھ سیکھ سکتی ہیں۔پاکستان کے عوام، سیاسی اشرافیہ اور مقتدر قوتوں نے یہ بھی ثابت کر دیا ہے کہ ان میں کم عمر ہونے کے باوجود پختگی اور شعور موجود ہے، مشرق وسطیٰ میں عرب سپرنگ یا عرب بہار کے برعکس یہاں پرزیادہ سمجھداری اور ہوشمندی کے ساتھ معاملات سلجھائے گئے۔ حالات بظاہر بندگلی میں چلے جانے کی نشاندہی دے رہے تھے ، مگر اچانک ہی فریقین نے ہوشمندی کا مظاہرہ کیا اورخوبصورتی سے اس پورے قضیے کو نمٹا دیا۔ اس ایک ہفتے کے دوران مختلف سیاسی قوتوں، انٹیلی جنشیا، میڈیا اورمقتدر قوتوں نے کیا کیا کردار ادا کیا،اس کے نتیجے میں انہیں کیا ملا…، اس پر ایک نظر ڈالتے ہیں: علامہ طاہرالقادری کا کردار آغاز تحریک منہاج القرآن کے سربراہ علامہ طاہرالقادری سے کرتے ہیں۔ علامہ صاحب ایک معروف دینی سکالر اور خطیب ہونے کی شہرت رکھتے ہیں۔وہ اپنے بعض بیانات اور ماضی میں چند ایشوز پرموقف بدلتے رہنے کے باعث متنازع رہے ہیں۔ 80ء کی دہائی میں ان کی بشارتوں کے حوالے سے بیان کئے گئے بعض خواب اوراپنے اوپر قاتلانہ حملے کے دعوے کے حوالے سے لاہور ہائیکورٹ کے ٹریبونل کی رپورٹ ہمیشہ ان کے خلاف استعمال کی جاتی ہے۔پولیٹیکل سائنس کی اصطلاح میں وہ اچھے خاصے بوجھ(Baggage)کے ساتھ سیاست کی وادی خارزار میںسفر کر رہے تھے۔ چند برس قبل وہ جنرل پرویز مشرف کے دور میں اسمبلی کی رکنیت سے استعفا دے کر کینیڈا چلے گئے تھے، اس وقت کہا گیا کہ وہ اپنا زیادہ وقت علمی وتدریسی مشاغل کو دینا چاہتے ہیں۔ تین چار سال پہلے انہیں وہاں کی نیشنلٹی بھی مل گئی۔اس دوران علامہ صاحب سیاست سے قدرے دور رہے ،مگر ان کے پاکستان میں رابطے مسلسل قائم رہے، منہاج القرآن کا بڑا تعلیمی نیٹ ورک پچھلے چند برسوں میں بہت زیادہ بڑھا، یہ سب علامہ صاحب کی نگرانی میں ہوا۔ اس دوران ان کی تحریر کردہ کئی کتب بھی شائع ہوئیں، جن میں ترجمہ قرآن ’’عرفان القرآن‘‘، احادیث کا مجموعہ اور خودکش حملوں کے خلاف کئی سو صفحوں پر محیط ایک مبسوط فتویٰ قابل ذکر ہے۔ پاکستانی میڈیا لانگ مارچ کے دنوں میںقادری صاحب سے بار بار یہ کہتا رہا کہ آپ اچانک کیسے آ گئے؟ دراصل یہ ہمارے تجزیہ کاروں اور نیوز اینکرز کی روایتی لاعلمی اوربے خبری تھی۔ سیاست کو باریک بینی سے مانیٹر کرنے والے جانتے تھے کہ طاہرالقادری صاحب بتدریج سیاسی اعتبار سے فعال ہو رہے ہیں۔ سال ڈیڑھ پہلے سے لاہور کے بعض موٹر رکشوں کے پیچھے قادری صاحب کا یہ نعرہ نمودار ہوا،چہرے نہیں، نظام بدلو۔ نظام بدلو کے نام سے ایک ویب سائیٹ بھی بنا دی گئی تھی۔اس کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر قادری صاحب کے حامی اچانک ہی بہت متحرک ہوگئے تھے۔ نظام بدلنے اور قومی سیاست میں جوہری تبدیلیاں لانے کے حوالے سے قادری صاحب کی تقاریر کے ویڈیو کلپس اور تحریریں فیس بک پیجز پر لگائی جانے لگیں۔ رفتہ رفتہ یہ عمل بڑا تیز ہوگیا ۔ اس وقت بھی سوشل میڈیا پر دو تین سب سے متحرک گروپوں میں سے ایک تحریک منہاج القرآن ہے۔ تئیس دسمبر کے جلسے سے چار پانچ ماہ پہلے قادری صاحب نے لاہور کے تھنک ٹینک کونسل آف نیشنل افئیرز کے صحافیوں اور دانشوروں کو منہاج مرکز میں دعوت دی اور ویڈیو کانفرنس کے ذریعے انہیں بریفنگ دی، سوال جواب کا سیشن بھی ہوا۔ اس میں قادری صاحب نے بتایا کہ وہ پاکستان واپس آ رہے ہیں اور ایک بڑا جلسہ کریں گے۔ تاہم اخبار نویسوں نے قادری صاحب کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا۔پھر تئیس دسمبر کے جلسے کے لئے کمپین شروع ہوگئی، دسمبر کے اوائل میں میڈیا کو احساس ہوا کہ قادری صاحب کے حامی جس محنت سے مہم چلا رہے ہیں، وہ بڑا جلسہ کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ پھر ایسا ہی ہوا۔ قادری صاحب نے پہلے اپنے جلسے ، لانگ مارچ اور پھر چار پانچ دن کے دھرنے کے بعد اپنا امیج تبدیل کر لیا۔ ایک غیر اہم، مبالغہ آمیز تقاریر کرنے والے خطیب کے بجائے اب انہیں ایک اہم ، عوامی مقبولیت رکھنے والا طاقتور سیاستدان تصور کیا جائے گا۔ آئندہ میڈیا یا کوئی سیاسی جماعت انہیں Easy نہیں لے گی۔ ان کے کسی دعوے یا اعلان کو نظرانداز کرنا اب ممکن نہیں۔ بڑی مہارت اور دانشمندی سے انہوں نے اپنے پتے کھیلے اور اسلام آباد کے قلب میں پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔انہوں نے اپنے سیاسی حریفوں کو ایک طرح سے آئوٹ کلاس کر دیا۔ان کا اعتماد بھی دیدنی تھا، چودھری برادران کے پیچھے ہٹنے اور عین وقت پر ایم کیو ایم کے دغا دے جانے کے باوجود وہ اپنے پروگرام سے پیچھے نہیں ہٹے اور کامیابی حاصل کر لی۔ وہ ایک ایسے سیاستدان کے طور پر ابھرے ہیں، جن کی اب ہمارے سیاسی منظرنامے میں ایک خاص جگہ اور مستقبل ہے۔انہوں نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ وہ لاکھوں افراد کے لئے ایک روحانی رہنما کی حیثیت بھی رکھتے ہیں، ایسا لیڈر جس کے کہنے پر لوگ اپنے معصوم شیر خوار بچے ساتھ لے کر میدان میں کود سکتے ہیں۔ایک زمانے میں پیر پگارا کے حروں کو یہ حیثیت حاصل تھی۔ تحریک منہاج القرآن کا تاثر ایک خالصتاً علمی اور دعوتی تحریک کا تھا، اب اس نے یہ بھی ثابت کر دیا کہ ان کے پاس انتہائی منظم اور مشکل ترین حالات میں ڈسپلن قائم رکھنے والے کارکن موجود ہیں۔ ایسے کارکن جن پر کسی قسم کے پروپیگنڈہ کا کوئی اثر نہیںاور وہ رہنمائی کے لئے اپنے قائد کی جانب ہی دیکھتے ہیں۔ دھرنے کے سبق قادری صاحب کو بھی یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ خطابت اپنی جگہ ،مگر مطالبے وہی مانے جاتے ہیں جو حقیقت پسندانہ ہوں اور جن کی وسیع پیمانے پر پزیرائی ہوسکے۔انہوں نے اسلام آباد پہنچنے کے بعد شروع میںغیر حقیقی مطالبے کئے، حکومت اور وزرا کو سابق اور پارلیمنٹ کی تحلیل اورالیکشن کمیشن کی فوری تشکیل نو کا کہا۔ یہ مطالبے مانے جانے والے نہیں تھے ، شائد وہ دبائو بڑھانے کے لئے ایسا کر رہے تھے ، مگر ان کا زیادہ مثبت اثر نہیں ہوا۔ بعد میںانہوں نے دانشمندی سے اپنے پرانے اور حقیقی نکات پر توجہ دی اور کم وبیش تمام مطالبے منوا لئے۔ اگلے روز اگرچہ میڈیا کے ایک حصے نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ قادری صاحب کے مطالبے نہ مانے گئے ، مگرحقیقت اس کے برعکس تھی۔ علامہ طاہرالقادری کا اصل مطالبہ آئین کے آرٹیکل باسٹھ ، تریسٹھ کے امیدواروں پر اطلاق، سکروٹنی کی مدت میں توسیع اور عوامی نمائندگی ایکٹ کی شق 77تا 82 میں تبدیلی لانا تھا۔ الیکشن کمیشن کے اختیارات میں اضافہ کامطالبہ بھی اس وجہ سے تھا۔ یہ تمام باتیں مانی گئی ہیں، نگران وزیراعظم کے لئے بھی انہیں ایک سٹیک ہولڈر کے طور پر مان لیا گیا ہے۔ اگر اس معاہدے پر عمل درآمد ہوا تو بڑی حد تک بدنام اور کرپٹ امیدواروں کا صفایا ہوجائے گا۔اس لحاظ سے بڑی کامیابی کہی جا سکتی ہے۔تحریک منہاج القرآن کو یقیناً یہ اندازہ ہو گیا ہو گا کہ دھرنے کے آخری روز بارش کے باعث ان کے لئے آپشنز محدود ہوگئی تھیں، اس سے پہلے بعض اپوزیشن جماعتوں نے میاں نواز شریف کی قیادت میں مشترکہ اعلامیہ جا ری کر کے قادری صاحب اور ان کے حامیوں کو سیاسی طور پر تنہا کر دیا تھا۔ یوں لگ رہا تھا کہ وہ بند گلی میں چلے گئے ہیں، اگر حکومت دانشمندی سے کام نہ لیتی ، مذاکرات نہ کرتی اور محفوظ راستہ نہ دیتی توصورتحال خاصی مشکل ہو گئی تھی۔ سیاست میں واپسی کے راستے کھلے رکھنے چاہیں، قادری صاحب نے ایسا نہیں کیا، وہ انتہا پر چلے گئے تھے۔ تیونس، مصر اور یمن وغیر ہ میں عرب سپرنگ کی کامیابی کی ایک وجہ ان ممالک کے دارالحکومت کی خاص پوزیشن تھی۔ مصر میں تحریر اسکوائر پر جمع ہونے والے لاکھوں افراد قاہرہ کے رہائشی تھے، اگرچہ دوسرے شہروں سے بھی لوگ آئے ،مگر بنیادی طور پر وہ مظاہرے ان شہروں کے اپنی آبادی نے کئے تھے۔ یہی تیونس اور یمن میں ہوا۔ لیبیا اور شام میں صورتحال مختلف تھی، وہاں دارالحکومت میں اپوزیشن کی گرفت مضبوط نہیں تھی، اس لئے ان مظاہروں کا اس طرح اثر نہ ہوسکا۔ کوئٹہ میں ہزارہ کمیونٹی کا دھرنا بھی وہاں کے مقامی آبادی کا اجتماع تھا، جن کے لئے گھروں سے ساز وسامان لانا بھی آسان تھا اور لوگ اپنی پوزیشنیں بھی بدل سکتے تھے۔ ایک دو راتوں کے بعد ضرورت پڑنے پر چند گھنٹوں کے لئے اپنے گھروں میں سستایا جا سکتا تھا۔ قادری صاحب کے لانگ مارچ میں ایسی کوئی سہولت موجود نہیں تھی۔ اس کا تمام تر دارومدار شرکا کے عزم وایثار پر تھا۔ اگر چہ قادری صاحب خوش قسمتی سے اس بار کامیاب ہوئے ،مگر شرکا کا اس قدر سخت امتحان لینا رسک ہوتا ہے، اگر ایسی بارش دو دن پہلے ہوجاتی ، تب کیا ہوتا؟اس وقت تک تو دھرنے کا ٹیمپو بھی نہیں بنا تھا۔ حکومتی اتحادکی سیاسی کامیابی پیپلز پارٹی کی حکومت پر بہت سے حوالوں سے سخت تنقید کی جاتی ہے، جو یکسر بے وزن بھی نہیں، ایک بات مگر اس نے یہ ثابت کر دی ہے کہ وہ ایک سیاسی جماعت ہے اور سیاسی انداز سے سوچتی ہے۔ ایک وقت میں وفاقی حکومت سخت مشکلات کا شکار تھی، پنجاب حکومت لانگ مارچ کو پنڈی پہنچا کر سکون سے تماشا دیکھ رہی تھی،تمام تر دبائو مرکز پر تھا۔ اس مشکل وقت میں پیپلز پارٹی نے اپنے اتحادیوں کو ساتھ ملایا اوراعلیٰ سطحی وفد کے ذریعے مذاکرات کئے ،یوں ڈیڈلاک بھی ختم کیا اوراس معاہدے پر عمل درآمد کرا کر وہ الیکشن کے عمل کا شفاف بنانے کا کریڈٹ بھی لے سکتی ہے۔ پیپلز پارٹی نے اپنے سخت گیر سوچ رکھنے والوں کو سائیڈ پر کیا اور اس کے ثمرات بھی انہیں مل گئے۔ اگر خدانخواستہ تصادم ہوجاتا تو اس کے خوفناک نتائج نکلتے۔ لال مسجد کے سانحے کے اثرات سے ہم ابھی تک نہیں نکل سکے، ملک کسی اور ہولناک واقعہ کا متحمل نہیں ہوسکتا۔پیپلز پارٹی کا اصل امتحان لانگ مارچ ڈیکلئریشن پر عمل کرانا ہے۔ انہیں یہ سمجھنا ہوگا کہ صرف منہاج القرآن ہی نہیں بلکہ ملک بھر میں انتخابی اصلاحات کی خواہش موجود ہے۔ یہ اچھا موقعہ ہے کہ ہمارے سیاستدان جمہوری نظام کی تطہیر کریں، اس سے جمہوریت دشمن قوتوں کو شدید حوصلہ شکنی ہوگی۔ میڈیا اور تجزیہ کار اب یہ مان لینا چاہیے کہ میڈیا اور ہمارے تجزیہ کاروں نے علامہ طاہرالقادری کو انڈر اسٹیمیٹ کیا۔ وہ علامہ صاحب کے شخصی اثر اور قوت کا اندازہ نہ لگا سکے۔ میڈیا کے بیشتر حصے کو یقین تھا کہ لانگ مارچ ہو ہی نہیں سکے گا۔دھرنے کے دوران بھی کوریج کرتے ہوئے انہیں شرکا ء کے موڈکا اندازہ نہیں ہوسکا۔ کئی اینکر خواتین چیختی رہیں کہ آپ لوگوں کو سردی کیوں نہیں لگ رہی، بچے بیمار ہوجائیں گے وغیرہ وغیرہ۔ انہیںسمجھنا چاہیے تھا کہ لوگ کسی جذبے اور کمٹمنٹ کے ساتھ ہی یہاں تک آئے ہیں اور یہ یوں واپس نہیں جائیں گے۔ ہمارے اہل دانش اور تجزیہ کاروں نے سب سے اہم غلطی یہ کی کہ انہوں نے طاہرالقادری کی شخصیت کو بے رحمی سے نشانہ بنایا ،مگر ان کے ایجنڈے کو نظر انداز کر گئے۔ انہیں یہ ادراک نہ ہوسکا کہ انتخابی اصلاحات کرنا اور تبدیلی لانے کے ایجنڈے کی عوام میں زبردست کشش موجود ہے۔ قادری صاحب نے اس خلا میں قدم رکھا ،جو ہماری دوسری سیاسی جماعتیں پر کرنے میں ناکام رہیں۔ جیسا کہ شرکا کے انٹرویوز سے ظاہر بھی ہوا کہ ان میں تمام لوگ منہاج القرآن کے نہیں تھے، بہت سے لوگوں نے بتایا کہ وہ عمران خان کے ووٹر ہیں، بعض دوسری جماعتوں کے حامی بھی تھے۔ ایجنڈے پر زیادہ بات ہونا چاہیے تھی، وہ نہ ہوسکی اور تمسخر،پیروڈی،طنز وتشنیع ہمارے میڈیا پر حاوی رہے۔ یہی وجہ ہے کہ جمعہ کو دھرنے کی کامیابی کے بعد بہت سے اینکروں اور تجزیہ کاروں کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا ردعمل دیں۔ جن باتوں کا وہ مذاق اڑاتے رہے، وہ تقریباً سب مان لی گئیں۔ جہاں تک اسمبلیوں کی تحلیل اور الیکشن کمیشن کی فوری تشکیل کی بات تھی، یہ دبائو بڑھانے کا حربہ تھا، حقیقی مطالبہ نہیں تھا۔میڈیا اور انٹیلی جنشیا کو آنے والے دنوں میں زیادہ محتاط اور باریک بین ہونا پڑے گا۔ الیکشن میں اصلاحات کے عمل پر بھی نظر رکھنے کی ضرورت پڑے گی۔ مسلم لیگ ن مسلم لیگ ن نے بظاہر بڑی عقل مندی اور ہوشیاری سے چالیں چلیں۔ انہوں نے لانگ مارچ کو روکنے کی کوئی کوشش نہیں کی کہ اس کا رخ اسلام آباد کی جانب تھا۔ جب انہوں نے محسوس کیا کہ دھرنے میں خاصے لو گ آگئے ہیں اور یہ اجتماع خطرناک ثابت ہوسکتا ہے تووہ متحرک ہوئے۔ میاں صاحب نے کمال مہارت سے کئی اہم جماعتوںسے رابطے کئے۔ بلوچستان سے اچکزئی صاحب اور حاصل بزنجو کے ساتھ ساتھ مولانا فضل الرحمن اورجماعت اسلامی کو ساتھ ملا لینا ان کی بڑی کامیابی تھی۔ انہوں نے اپنے مشترکہ اعلامیہ سے علامہ طاہرالقادری کو بالکل تنہا کر دیا۔ یہ جمہوریت کے لئے اچھا شگون تھا کہ ہماری سیاسی جماعتیں ہر قسم کی تبدیلی کے لئے انتخابات کی جانب ہی دیکھنے لگی ہیں۔ میاں صاحب نے دانستہ یا نا دانستہ ایک بڑی غلطی یہ کی کہ انہوں نے قادری صاحب کو محفوظ راستہ نہیں دیا۔اے پی سی کے شرکا میں سے کسی نے یہ نہیں سوچا کہ اسلام آباد میںکئی روز سے ہزاروں افراد کا دھرنا جاری ہے۔دھرنے کے شرکا اور ان کے لیڈر قادری صاحب اتنا آگے جا چکے ہیں کہ ان کے لئے کچھ حاصل کئے بغیر واپس لوٹنا شرمندگی کے مترادف ہے۔ انہیں محفوظ راستہ دینا (Face saving)دینا ضروری تھا۔ دوسری صورت میں شرکاء فرسٹریٹ ہو کر تصادم کی طرف جا سکتے تھے، ایسا ہو جاتا تو پھر کچھ بھی نہ بچ پاتا۔ جس طرح کا اعلیٰ سطحی وفد حکومت نے مذاکرات کے لئے بھیجا، ویسا کام پہلے نواز شریف صاحب بھی کر سکتے تھے۔ اگر ایسا کرتے تو وہ محاورے کے مطابق میلہ لوٹ لیتے۔ انہوں نے ایسا نہیں کیا، شائد وہ اپنی مخالف وفاقی حکومت کو ٹف ٹائم دینا چاہتے تھے، مگر اختتام میں اس کا تمام تر نقصان انہیں ہی ہوا۔ ٹی وی چینلز پر ن لیگ کے رہنمائوں کی تلخی دیکھ کر انہیں پہنچنے والے دھچکے کی شدت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ ؟ ہمارے اہل دانش اور تجزیہ کاروں کو ہر ایشو میں اسٹیبلشمنٹ کا کردار دیکھنے کا رویہ بھی بدلنا ہوگا۔ یوں لگتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کا آسیب ان کی دانش کے گرد لپٹ گیا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کے حوالے سے ویسے بھی دو تین باتیں سمجھنی چاہیں۔ دنیا بھر میں اسٹیبلشمنٹ ہمیشہ پر و’’ سٹیٹس کو‘‘ ہوتی ہے۔ نظام بدلنے یا تبدیلی لانے کا نعرہ کبھی انہیں راس نہیں ہوتا۔ ایسا نعرہ لگانے والوں کو ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ قادری صاحب والے معاملے کو زیادہ غور سے دیکھنا چاہیے تھا۔ اگر اس میں اسٹیبلشمنٹ شامل ہوتی تو معروف اسٹیبلشمنٹ نواز جماعتیں اس سے دور نہ رہتیں اور وعدہ کر کے واپس نہ چلی جاتیں۔ جو مارچ یا دھرنا اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر کیا جاتا ہے ، اس کے تیور ہی الگ ہوتے ہیں، اس کے شرکا شروع ہی سے ڈنڈے لے کر چلتے ہیں اور تباہی ان کا مشن ہوتی ہے۔ ایسے جلوسوں میں لوگ خود اپنی خوشی سے اپنی بیویوں، بہنوں اور شیر خوار بچوں کو نہیں لاتے۔ پیسے خواہ جتنے ملیں، اولاد آدمی کو اپنی جان سے بھی زیادہ پیاری ہوتی ہے۔ اس دھرنے کے پرامن اختتام نے یہ ثابت کر دیا کہ اسٹیبلشمنٹ کی رٹ لگانے والے تجزیہ کاروں نے ٹھوکر کھائی، اصولاً تو انہیں اپنے قارئین اور ناظرین سے معذرت کرنی چاہیے، مگرافسوس کہ ہمارے ہاں ایسی اچھی روایتیں موجود نہیں۔ ویسے اس حوالے سے فورسز کا رویہ مثبت رہا۔ کورکمانڈرز کانفرنس کو بعض حلقوں نے معنی خیز نظروں سے دیکھا ،مگر آئی ایس پی آر نے بروقت وضاحت کر دی۔ ہماری مقتدرہ قوتوں کو یہ یاد رکھناچاہیے کہ سیاست صرف سیاستدانوں کے کھیلنے کا میدان ہے۔ عسکری قوتوںکو اپنے پروفیشنل فرائض ہی انجام دینے چاہیں۔ ایسا کرنا ہی ان کے وقاراور عزت میں اضافہ کرے گا۔ اس دھرنے کا پرامن انجام یہ ثابت کرتا ہے کہ ملک میں جمہوریت پنپ رہی ہے اورہمارا بظاہر کمزور جمہوری سسٹم اس قسم کے بڑے دھچکوں کو برداشت کرنے کی سکت اور قوت رکھتا ہے۔اس سے ہمارے سیاستدانوں اور جمہوری قوتوں نے خاصا کچھ سیکھا ہوگا۔ تحریک انصاف عمران خان اور ان کے بعض حامیوں کو ممکن ہے اب اندازہ ہو رہا ہو کہ انہوں نے ملنے والے ایک بڑے موقع سے فائدہ نہیں اٹھایا۔ تحریک انصاف میں لانگ مارچ کے حمایت میں ایک مضبوط لابی موجود تھی،ان کے کئی اہم سیاسی لیڈروں کا خیال تھا کہ ہمیں قادری صاحب کے ساتھ شامل ہونا چاہیے، ان کی جماعت کا سیاسی نیٹ ورک موجود نہیں ،ا س لئے سیاسی کامیابی کے تمام تر ثمرات تحریک انصاف کو پہنچیں گے۔ اس لابی کی بات نہیں مانی گئی، عمران خان اور ان کے بعض غیر سیاسی مگر پارٹی کے لئے تھنک ٹینک کا درجہ رکھنے والے لوگوں کی بات مانی گئی۔ تاہم عمران خان نے لانگ مارچ اور دھرنے پر تنقید بالکل نہیں کی، وہ اسے بڑی احیتاط سے دیکھتے رہے، جائزہ لیتے رہے ،مگر شامل نہیں ہوئے۔ ممکن ہے انہیں خطرہ ہو کہ یہ دھرنا کسی اور جانب جا سکتا ہے۔ انہوں نے اپنی تمام تر توجہ انتخابات کی جانب مبذول کی اور اس حوالے سے دبائو بڑھانے کی کوشش کی ،مگر تحریک انصاف کے بہت سے نوجوان کارکنوں کو اب یقیناً مایوسی ہو رہی ہوگی۔پی ٹی آئی نے اس معاملے میں اگرچہ کھویا بھی زیادہ نہیں۔ ان کے لئے انتخابات کے حوالے سے قادری صاحب کے ساتھ ہاتھ ملانے کی آپشن موجود ہے۔دیکھنا یہ ہے کہ تحریک انصاف آنے والے دنوں میں کیسے پتے چلتی ہے؟

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
جدید ٹیکنالوجی، نئے خطرات!

جدید ٹیکنالوجی، نئے خطرات!

''ڈارک سوورڈ‘‘ کروڑوں فونز کو خطرے میں ڈال سکتا ہے:ماہرینڈیجیٹل دور میں جہاں اسمارٹ فونز ہماری روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بن چکے ہیں، وہیں سائبر سکیورٹی کے خطرات بھی تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق دنیا بھر میں لاکھوں آئی فون صارفین ایک ممکنہ طور پر تباہ کن ''ڈارک سوورڈ‘‘ سائبر حملے کے خطرے سے دوچار ہیں، جس نے ماہرین کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس خطرناک حملے کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے صارفین کو فوری حفاظتی اقدامات کرنے کی ہدایت کی جا رہی ہے تاکہ ان کی ذاتی معلومات، مالیاتی ڈیٹا اور نجی زندگی محفوظ رہ سکے۔ یہ صورتحال اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے فوائد کے ساتھ ساتھ اس کے خطرات سے آگاہی اور احتیاط بھی بے حد ضروری ہے۔سائبر سکیورٹی ماہرین نے ایک نئے خطرے کے بارے میں انتباہ جاری کیا ہے جو کروڑوں آئی فونز کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ گوگل تھریٹ انٹیلی جنس گروپ کے مطابق، اس مالویئر کو ''ڈارک سوورڈ‘‘ کہا جاتا ہے جو ہیکرز کو آلات میں داخل ہونے اور ذاتی معلومات حاصل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ ڈارک سوورڈ ''iOS‘‘ اور ''Safari‘‘ میں چھ الگ الگ خامیوں کو ایک ساتھ جوڑتا ہے، جس سے حملہ آور کسی بھی ہدف شدہ ڈیوائس پر خاموشی سے مالویئر انسٹال کر سکتے ہیں۔ یہ خامیاں ''iOS‘‘ کے ورژن 18.4 سے 18.7 والے آئی فونز کو متاثر کرتی ہیں اور صارف کی جانب سے مزید کسی کارروائی کی ضرورت نہیں، بس کسی نقصان دہ یا ہیک شدہ ویب سائٹ پر جانا کافی ہے۔تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ متعدد گروہ پہلے ہی اس ٹول کو حقیقی دنیا میں استعمال کر رہے ہیں، جن میں تجارتی جاسوسی کرنے والی کمپنیاں اور ریاستی سطح کے ہیکرز شامل ہیں۔یہ سرگرمی سعودی عرب، ترکی، ملائیشیا اور یوکرین میں نوٹ کی گئی ہے۔ایپل کے ترجمان نے کہا کہ یہ خامیاں پرانے سافٹ ویئر کو ہدف بنا رہی تھیں، اور بنیادی خامیوں کو حالیہ برسوں میں کئی اپ ڈیٹس میں دور کر دیا گیا ہے، جو صارفین اپنے آلات کے تازہ ترین ورژنز پر چلا رہے ہیں۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ سافٹ ویئر کو اپ ڈیٹ رکھنا اب بھی صارفین کیلئے سب سے اہم اقدام ہے تاکہ وہ اپنے ایپل ڈیوائسز کی اعلیٰ سکیورٹی برقرار رکھ سکیں۔ماہرین نے ان صارفین کو ہدایت دی ہے جو ایسے حملوں کا ہدف بننے کا شبہ رکھتے ہیں، خاص طور پر صحافی، کارکنان یا وہ لوگ جو حساس معلومات ہینڈل کرتے ہیں کہ وہ ایپل کا لاک ڈاؤن موڈ فعال کریں۔ یہ کرنے کیلئے Settings میں جائیں، ''Privacy & Security‘‘ منتخب کریں،''Lockdown Mode‘‘ پر ٹیپ کریں اور ہدایات کے مطابق اسے آن کرکے ڈیوائس کو ری اسٹارٹ کریں۔سائبر سکیورٹی فرم Lookout، موبائل سکیورٹی کمپنی iVerify اور گوگل کے محققین نے ڈارک سوورڈ پر مربوط تجزیے شائع کیے، جن میں یہ بات سامنے آئی کہ یہ آئی فونز اور Safari براؤزر میں موجود کئی چھپی ہوئی خامیوں کا فائدہ اٹھاتا ہے۔اس سے حملہ آور کسی ڈیوائس پر خفیہ طور پر مالویئر انسٹال کر سکتے ہیں، جو ایک بار پھر اس بات کی یاد دہانی ہے کہ فون کو اپ ڈیٹ رکھنا کتنا ضروری ہے۔کچھ معاملات میں حملہ آور لوگوں کو دھوکہ دینے کیلئے جعلی ویب سائٹس یا ایپس بناتے ہیں، جیسے کہ Snapchat کا نقلی ورژن، جبکہ بعض میں وہ قانونی ویب سائٹس، بشمول ایک سرکاری ویب سائٹ، کو ہیک کر لیتے ہیں۔ایک بار فون متاثر ہو جائے تو ہیکرز اپنے مقصد کے مطابق مختلف قسم کے جاسوسی سافٹ ویئر انسٹال کر سکتے ہیں۔ان میں سے ایک ورژن، جسے ''Ghostblade‘‘ کہا جاتا ہے، بہت بڑی مقدار میں ذاتی معلومات چرانے کیلئے بنایا گیا ہے۔اس میں ٹیکسٹ میسجز، کال ہسٹری، رابطے، تصاویر، ای میلز، پاس ورڈز، مقام کی معلومات، براؤزنگ ہسٹری اور یہاں تک کہ iCloud میں محفوظ فائلیں شامل ہیں۔یہ WhatsApp اور Telegram جیسی ایپس کے پیغامات تک بھی رسائی حاصل کر سکتا ہے۔مالویئر کرپٹو کرنسی ایپس اور والٹس کو بھی تلاش کرتا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ڈیجیٹل اثاثے یا حساس مالی معلومات بھی چرا سکتا ہے۔کچھ جاسوسی سافٹ ویئر کے برعکس جو طویل عرصے تک چھپا رہتا ہے، یہ مالویئر مطلوبہ ڈیٹا حاصل کرنے کے بعد خود کو حذف کر دیتا ہے، جس کی وجہ سے اسے پکڑنا اور شناخت کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔محققین کے مطابق یہ واضح نہیں کہ کتنے آئی فونز ڈارک سوورڈ حملوں کے لیے کمزور ہیں۔ ایپل نے بنیادی خامیوں کے لیے متعدد فکسز جاری کیے ہیں جن کا استعمال حملہ آوروں نے ڈارک سوورڈ بنانے کیلئے کیا۔اس کے باوجود، بہت سے لوگ آئی فون اپ ڈیٹس انسٹال نہیں کرتے، اور اندازاً 220 ملین سے 270 ملین آئی فونز اب بھی ایسے ''iOS‘‘ ورژنز پر چل رہے ہیں جو خطرے سے دوچار ہیں، ''iVerify ‘‘اور ''Lookout‘‘ کے مطابق، جنہوں نے یہ اعداد و شمار عوامی تخمینوں کی بنیاد پر دیے ہیں۔

عزم و ہمت کی نئی تاریخ رقم!

عزم و ہمت کی نئی تاریخ رقم!

معذور شخص نے پانی کے اندر سانس روکنے کا ریکارڈ قائم کر دیاانسانی عزم، حوصلے اور ہمت کی داستانیں ہمیشہ سے دنیا کو حیران کرتی آئی ہیں، مگر بعض کارنامے ایسے ہوتے ہیں جو نہ صرف ریکارڈ قائم کرتے ہیں بلکہ معاشرتی سوچ کو بھی بدلنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ حال ہی میں ایک معذور شخص نے پانی کے اندر طویل عرصے تک سانس روک کر نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا، جس کا مقصد محض شہرت حاصل کرنا نہیں بلکہ معذوری سے جڑے منفی تصورات کو چیلنج کرنا تھا۔ یہ کارنامہ اس حقیقت کی روشن مثال ہے کہ جسمانی کمزوری انسان کی صلاحیتوں کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتی، بلکہ مضبوط ارادہ اور مستقل مزاجی ہی اصل کامیابی کی کنجی ہیں۔ایک پولینڈ سے تعلق رکھنے والے شخص، جو ایک کار حادثے میں اپنے اعضاء کے استعمال سے محروم ہو گئے تھے، نے معذوری سے متعلق غلط تصورات کو ختم کرنے کیلئے ایک ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔ ایک بچے کے والد سباسٹین گورنیئک چاہتے ہیں کہ ہر کوئی یہ جانے کہ معذور افراد بھی غیر معمولی کارنامے انجام دے سکتے ہیں۔52 سالہ سباسٹین، جو ایک کوچ کے طور پر کام کرتے ہیں، نے پولینڈ کے شہر وروتسواف میں پانی کے اندر رضاکارانہ طور پر سب سے طویل وقت تک سانس روکنے (مرد) کا ریکارڈ 5 منٹ 41.9 سیکنڈ کے وقت کے ساتھ اپنے نام کیا۔''ایم پی 4‘‘(MP4 )ہماری معذوری کی درجہ بندیوں میں سے ایک ہے، جس کا مقصد ریکارڈ سازی کے عمل کو منصفانہ اور ہر ایک کیلئے قابلِ رسائی بنانا ہے۔ سباسٹین کو ریڑھ کی ہڈی کا مرض لاحق ہے اور ''C3‘‘ پر خون کا جماؤ (ہیمیٹوما) موجود ہے، جس کے باعث وہ چاروں اعضا کے فالج (مکمل جسمانی معذوری) کا شکار ہیں۔اس ریکارڈ کو قائم کرنے کی کوشش کے پیچھے ان کی بنیادی خواہش یہ تھی کہ وہ صحت مند (نارمل) کھلاڑیوں کے ساتھ مقابلہ کریں۔سباسٹین نے اپنے اس ریکارڈ کی تیاری کیلئے برداشت (اسٹیمنا) بڑھانے کی ٹریننگ، باکسنگ، تیراکی، وہیل چیئر ریسنگ اور سانس روکنے کی مشقیں (اپنیا ایکسرسائزز) کیں تاکہ وہ زیادہ دیر تک سانس روک سکیں۔وہ کہتے ہیں کہ ان کا رویہ ''کبھی ہمت نہ ہارنے والا‘‘ ہے اور ان کے نزدیک لوگوں کیلئے بہترین مشورہ یہ ہے کہ زندگی کے ''ہر شعبے میں‘‘ سخت محنت کی جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ جو بھی ہو جائے، اپنے مقاصد سے دستبردار نہ ہوں، خواب ضرور پورے ہوتے ہیں،کبھی تھوڑی دیر سے، اور کبھی کسی مختلف انداز میں۔سباسٹین کا کہنا ہے کہ جب وہ پانی میں تیرتے ہوئے سانس روکے رکھتے ہیں تو وہ خود کو مکمل طور پر پرسکون رکھنے کی کوشش کرتے ہیں اورکسی بھی دباؤ والی بات کے بارے میں سوچنے سے گریز کرتے ہیں۔اس کے بعد وہ اپنے ذاتی ریکارڈ کو مزید بہتر کرتے ہوئے 6 منٹ 22 سیکنڈ تک سانس روکنے میں کامیاب ہو چکے ہیں، اور اب وہ اگلا ریکارڈ برف کے نیچے بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

آج تم یاد بے حساب آئے!لطیف کپاڈیا:ورسٹائل اداکار (2002-1934ء)

آج تم یاد بے حساب آئے!لطیف کپاڈیا:ورسٹائل اداکار (2002-1934ء)

٭...1934ء میں بھارتی ریاست مہاراشٹر میں آنکھ کھولی، تقسیم ہند کے بعد وہ پاکستان چلے آئے۔٭... کراچی یونیورسٹی سے بیچلر کی ڈگری حاصل کی۔٭...بنیادی طور پر ایک بینکر تھے، 1952 میں نیشنل بینک آف پاکستان سے وابستہ ہوئے اور 1994 میں وائس پریزیڈنٹ کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔٭... فنی کرئیر کا آغاز 1953ء میں اسٹیج ڈرامے ''شہناز‘‘ سے کیا۔٭... ٹیلی ویژن پر اداکاری کا آغا ز علی احمد کے ڈرامے '' شیشے کا آدمی‘‘ سے کیا۔50 سے زائد ڈراموں میں اداکاری کے جوہردکھائے۔٭...وہ کوئی بھی کردار اد اکرتے ہوئے اس میں کھو جاتے تھے،انھوں نے ہمیشہ منفرد اور مختلف کردار ادا کیے۔٭...انہوں نے چند فلموں میں بھی اداکاری کے جوہر دکھائے، ان کی انگلش فلم ''ٹریفک‘‘ برطانیہ کے چینل فور سے پیش کی گئی ۔٭...فلم ''ویری گڈ دنیا ویری بیڈ لوگ‘‘ میں بہترین کردار نگاری پر انہیں نیشنل ایوارڈ دیا گیا۔ ٭...2001ء میں حکومت پاکستان نے انہیں '' تمغہ حسن کارکردگی‘‘ سے نوازا۔٭... فنکار ہونے کے ساتھ ساتھ آرٹ سے ان کو گہرا لگاؤ تھا۔٭...یہ ہنستا مسکراتا چہرہ 29 مارچ 2003ء کو کراچی میں دنیا سے رخصت ہوا۔ اسٹیج ڈرامےشہناز، شمع، اجنبی، میری قسم، ایک دن کا سلطان، غلط فہمی، ذات شریف، جب تک چمکے سونا، صبح ہونے تک، نیا بخار، بڑا صلیب، گیسٹ ہائوس، کمرہ نمبر پانچ ٹی وی ڈرامےشکست آرزو، برزخ، دھوپ کنارے، ففٹی ففٹی ، نجات، آگاہی ، آپ کا مخلص، تعبیر، ایمرجنسی وارڈ، انا، کافی ہائوس، گرتو برا نہ مانے ، شوٹائم، آنگن ٹیڑھا، چاند گرہن، ستارہ اور مہر النساء ، نادان نادیہ، اسٹوڈیو ڈھائی، اسٹوڈیہ پونے تین، اسٹوڈیو چاربیس ، بارش، ہاف پلیٹ، روزے، فنون لطیفہ، ایک تھی صفیہ، لا سے اللہ تک، ایسا بھی ہوتا ہے

آج کا دن

آج کا دن

7ممالک نیٹو میں شامل2004ء کوبلغاریہ، ایسٹونیا، لٹویا، لیتھوانیا، رومانیہ، سلوواکیہ اور سلووینیا نے نیٹو میں شمولیت اختیار کی۔ نیٹوکو مغربی فوجی اتحاد بھی کہا جاتا ہے اور اس اتحاد میں شامل ممالک ایک دوسرے کاکسی بھی مشکل صورتحال میں دفاع کرنے کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔موجودہ روس یوکرین جنگ بھی نیٹو میں شمولیت کے معاملے پر ہی شروع کی گئی تھی ۔ نیٹو میں شامل ممالک اس کے قوائد وضوابط کے بھی پابند ہوتے ہیں۔سگریٹ نوشی ممنوعبرطانیہ اور آئرلینڈ نے پبلک ہیلتھ ایکٹ کے ذریعے عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی پر پابندی عائد کی ۔دفاتر میں بھی سگریٹ پینے کو ممنوع قرار دیا گیا۔جن جگہوں پر سگریٹ پینے پر پابندی عائد کی ان میں گاڑیاں، دفاتر، کلب، ریسٹورانٹ اور کمرشل و رہائشی عمارتیں شامل تھیں۔ یہ اقدام برطانیہ اور آئر لینڈ میں سگریٹ کے بڑھتے ہوئے رجحان کو کم کرنے کیلئے اٹھایاگیا۔اس کے ثمرات بھی دیکھنے کو ملے، اس پر عمل کروانے کے باعث برطانیہ میں سگریٹ سے ہونے والی بیماریوں میں واضح کمی دیکھنے میں آئی۔ماسکو میٹرو میں دھماکے2010ء میں ماسکو میٹرو میں رش کے دوران دوخودکش دھماکے ہوئے ۔ دونوں دھماکوں میں40منٹ کا وقفہ تھا۔یہ دھماکے میٹرو میں اس وقت کئے گئے جب لوگ صبح صبح اپنے دفاتر جانے کیلئے میٹرو کا استعمال کرتے ہیں۔اس ناخوشگوار واقع میں تقریباً40سے زائد افراد جاں بحق جبکہ100سے زائد افراد زخمی ہوئے۔روسی حکام کے مطابق یہ روسی تاریخ کے بدترین دھماکوں میں سے ایک تھے۔عالمی جنگ: جرمنی کو شکست1945ء کو جرمنی کی فوج کو سوویت یونین کی سرخ فوج نے شکست سے دوچار کیا۔عالمی جنگ کے دوران سوویت یونین نے پیش قدمی کرتے ہوئے جرمن افواج کو یرغمال بنایا اورآخر کار جرمنی کی چوتھی فوج کو شکست کھانا پڑی۔یہ دوسری عالمی جنگ کا وہ موقع تھا جب جرمنی کو مختلف مقامات پر پسپائی کا سامنا تھا۔ہپناٹائز قتل1951ء میں کوپن ہیگن میں دو افراد کو ہپناٹائز کر کے قتل کیا گیا،جو ناکام بینک ڈکیتی کے ملزم تھے۔قاتلوں کو بھی گرفتار کر لیاگیا۔تحقیقات کے بعد دونوں افراد کو اس قتل کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔اس مقدمے میں عدالت نے ماہر نفسیات کی معاونت بھی حاصل کی جواس نتیجے پر پہنچے کہ اس قتل کیلئے ملزمان نے ہپناٹزم کا استعمال کیا ۔ تیزرفتاری کا ریکارڈ 1927ء میں آج کے روز فلوریڈا کی ڈیٹونا بیچ پر سن بیم 1000 ہارس پاور گاڑی نے تیزرفتاری کا نیا ریکارڈ قائم کیا جواپنی شاندار طاقت اور انجینئرنگ کیلئے مشہور تھی۔ ڈے ٹونا کے ریتیلے ساحل نے اس ریکارڈ کیلئے بہترین راستہ فراہم کیا، جہاں گاڑی نے حیران کن رفتار کے ساتھ دوڑ مکمل کی۔ اس کارنامے نے نہ صرف ریسنگ کے شائقین کو حیران کیا بلکہ موٹرنگ اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں ترقی کی ایک علامت بھی بن گیا، جو مستقبل کے رفتار کے ریکارڈز کیلئے راہ ہموار کرتا ہے۔

مصنوعی ذہانت کا غیر متوقع پہلو

مصنوعی ذہانت کا غیر متوقع پہلو

روبوٹس کے انسانوں پر حملوں کے واقعات میں اضافہکیا آپ اپنے خاندان کے اردگرد کسی روبوٹ پر بھروسہ کریں گے؟اب جبکہ ہیومنائیڈ روبوٹس عام گھریلو کام جیسے کپڑے تہہ کرنا، برتن دھونا اور حتیٰ کہ کیتلی میں پانی اُبالنا بھی انجام دینے کے قابل ہو چکے ہیں، تو ممکن ہے کہ آپ انہیں اپنے گھر میں لانے کا سوچیں۔تاہم، جدید ٹیکنالوجی کے اس دور میں جہاں مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس انسانی زندگی کو سہل بنانے کے دعوے کر رہے ہیں، وہیں حالیہ واقعات نے ایک نئی تشویش کو جنم دیا ہے۔ دنیا کے مختلف حصوں میں ایسے واقعات سامنے آئے ہیں جہاں ہیومنائیڈ روبوٹس نے غیر متوقع اور خطرناک رویہ اختیار کرتے ہوئے بچوں کو نقصان پہنچایا، بزرگوں کو خوفزدہ کیا اور عوامی مقامات پر افراتفری پھیلائی۔ ایڈنبرا نیپئر یونیورسٹی کے روبوٹکس ماہرین کارل اسٹریتھیرن اور ایمیلیا سوبولیوسکا نے اپنے ایک مضمون میں کہاکہ آئندہ دہائی میں ہیومنائیڈ روبوٹس کی فروخت میں تیزی سے اضافہ متوقع ہے، جس کے باعث عوام کو اس نوعیت کے واقعات کے خطرات کا زیادہ سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔روبوٹکس کے محققین کی حیثیت سے ہمارا ماننا ہے کہ حکومتوں نے ان خطرات پر بہت کم غور کیا ہے۔ ٹیسلا فیکٹری میں روبوٹ کا حملہٹیکساس میں واقع ٹیسلا کی گِگا فیکٹری میں ایک خطرناک واقعہ پیش آیا جہاں ایک روبوٹ کی خرابی کے باعث ایک انجینئر شدید زخمی ہو گیا۔ روبوٹ، جو تازہ تیار شدہ ایلومینیم گاڑیوں کے پرزے اُٹھانے اور منتقل کرنے کیلئے بنایا گیا تھا، اچانک بے قابو ہو گیااس نے اپنے ساتھی کارکن کو دبوچ لیا، جو قریب ہی موجود دو خراب روبوٹس کیلئے سافٹ ویئر پروگرامنگ کر رہا تھا۔روبوٹ نے اپنے دھاتی پنجے اس کارکن کی پیٹھ اور بازو میں گاڑ دیے۔اس واقعے میں متاثرہ شخص کے بائیں ہاتھ پر گہرا زخم آیا۔کیلیفورنیا کے ریستوران میں روبوٹ بے قابوکیلیفورنیا کے شہر سان ہوزے میں واقع ریستوران میں گاہک سکون سے کھانا کھا رہے تھے کہ اچانک ایک ہیومنائیڈ روبوٹ نے اپنی حرکات سے سب کی توجہ حاصل کر لی۔روبوٹ ایک ڈانس پرفارمنس پیش کر رہا تھا، جس میں وہ اپنے بازو لہرا رہا اور کولہے ہلا رہا تھا،اچانک اس نے اپنے ہاتھ زور سے میز پر دے مارے۔ عملہ فوری طور پر روبوٹ کو بند کرنے کیلئے دوڑا۔اس ہنگامے کے دوران تین ملازمین نے اسے قابو کرنے کی کوشش کی اور اسے گردن سے پکڑ کر وہاں سے گھسیٹ کر لے گئے۔چین :روبوٹ نے بچے کو تھپڑجڑ دیاچین کے شہانشی صوبے میں ایک فیملی فرینڈلی ڈانس پرفارمنس ایک المناک واقعے میں بدل گئی، جب ایک نوجوان لڑکے کوہیومنائیڈ روبوٹ نے تھپڑ مار دیا۔21 مارچ کو پیش آنے والے اس واقعہ کی حیران کن فوٹیج میں دکھایا گیا کہ یونِٹری روبوٹ اسٹیج پر گھوم رہا تھا۔ بدقسمتی سے، اس کی حرکات ناکام ہو گئیں اور روبوٹ نے ایک پل میں بچے کے چہرے کو پوری طرح پکڑ لیا۔ لڑکے نے کوشش کی کہ وہ دھاتی بازوؤں سے بچ سکے، مگر وہ کامیاب نہ ہو سکا۔چین میلہ میں روبوٹ کا ہجوم پر حملہچین کے شمال مشرقی شہر تیانجن میں ہونے والے اسپرنگ فیسٹیول کے دوران خوشگوار تقریب ایک المناک واقعے میں بدل گئی، جب ایک ہیومنائیڈ روبوٹ نے ہجوم کی جانب حملے کی کوشش کی۔فوٹیج میں دکھایا گیا کہ روبوٹ، جو روشن جیکٹ پہنے ہوئے تھا، باڑ کے پیچھے موجود لوگوں کی طرف جھک رہا تھا۔اس کے غیر متوقع اور بے قابو حرکات کی وجہ سے میلے کے سکیورٹی عملے کو اسے ہجوم سے دور دھکیلنا پڑا۔ایونٹ کے منتظمین نے اس واقعے کو ''سادہ روبوٹ کی خرابی‘‘ قرار دیا۔ہینڈلر پر حملہمئی 2025 میں چین کی ایک فیکٹری میں ایک ہیومنائیڈ روبوٹ نے اپنے ہینڈلر پر حملہ کر دیا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں دکھایا گیا کہ کالا روبوٹ ایک چھوٹی کرین سے جڑا ہوا تھاکہ اچانک اس نے اپنے بازوؤں کو آگے پیچھے جھلانا شروع کر دیا۔روبوٹ نے اپنے بازو ہوا میں اٹھائے اور دوبارہ نیچے مارے، یہ حرکت تیزی اور شدت کے ساتھ دہرائی۔ پھر یہ آگے بڑھنے لگا اور بظاہر آزاد ہونے کی کوشش میں اپنے اردگرد سب کو مارتا رہا۔ملازمین خوفزدہ ہو کر اپنے بازوؤں سے چہرے کو بچانے کی کوشش کرتے ہوئے راستہ چھوڑتے گئے۔ کمپیوٹر مانیٹر گر گیا۔آخرکار، ایک شخص نے کرین کو پیچھے سے کھینچ کر تباہی کو روکنے کی کوشش کی اور روبوٹ کو قابو میں لایا۔یہ واقعہ روبوٹکس اور صنعتی مشینری میں حفاظتی انتظامات کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ ٹیسٹنگ کے دوران انسانوں اور مشینوں کے درمیان مناسب فاصلے اور حفاظتی اقدامات لازمی ہیں۔بزرگ خاتون کو خوفزدہ کرنے کے بعد روبوٹ پولیس کے ہاتھوں گرفتارچین میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جو کسی سائنس فکشن تھرلر کا منظر معلوم ہوتا ہے، جب ایک ہیومنائیڈ روبوٹ کو ایک بزرگ خاتون کو خوفزدہ کرنے کے بعد پولیس نے حراست میں لے لیا۔ مقامی حکام کے مطابق70 سالہ خاتون کو اچانک پیچھے کھڑے روبوٹ نے خوفزدہ کر دیا۔ وائرل کلپ میں دکھایا گیا کہ خاتون چیختی ہوئی اپنے بیگ سے روبوٹ کی طرف اشارہ کر رہی تھی، جبکہ روبوٹ بار بار اپنے بازو ہوا میں اٹھا رہا تھا۔ پولیس نے بتایا کہ خاتون اپنے فون کو چیک کرنے کیلئے رکئی تھیں، اور روبوٹ اس کے پیچھے رک کر انتظار کر رہا تھا کہ وہ راستہ خالی کرے۔ بزرگ خاتون روبوٹ کو خاموشی سے پیچھا کرتے دیکھ کر شدید خوفزدہ ہو گئیں۔واقعے کے بعد، خاتون نے پولیس کو بتایا کہ وہ طبی طور پر غیر صحت مند محسوس کر رہی ہیں اور انہیں علاج کیلئے اسپتال لے جایا گیا۔یہ واقعات نہ صرف ٹیکنالوجی پر اندھا اعتماد کرنے کے رجحان پر سوالیہ نشان ہیں بلکہ یہ بھی سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ آیا ہم واقعی ان مشینوں کو اپنے گھروں اور خاندانوں کے قریب لانے کیلئے تیار ہیں یا نہیں۔

مصر میں دوسرا اسفنکس؟ زیرِ زمین میگا سٹرکچر کی نشاندہی

مصر میں دوسرا اسفنکس؟ زیرِ زمین میگا سٹرکچر کی نشاندہی

مصر کے صحرائی علاقے میں ایک حیران کن اور تاریخی دریافت سامنے آئی ہے، جس میں اسکیننگ ٹیکنالوجی کی مدد سے ایک ممکنہ دوسرا ''اسفنکس‘‘ یا وسیع زیر زمین میگا سٹرکچر کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق یہ دریافت مصر کی قدیم تہذیب کے رازوں کو سمجھنے میں ایک اہم پیشرفت ہو سکتی ہے۔ جدید اسکیننگ اور ریڈار ٹیکنالوجی نے زمین کے نیچے ایسی بڑی ساخت کو اجاگر کیا ہے جس پر تحقیق اور کھوج جاری ہے۔مصر کے عظیم اسفنکس کے پنجوں کے درمیان واقع اسٹیل پر کندہ 3ہزار سال پرانی علامات ممکنہ طور پر خفیہ دوسرے اسفنکس کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ اسٹیل پر دکھائے گئے دو اسفنکس کے نقش اس بات کا عندیہ دیتے ہیں کہ مشہور یادگار کبھی اپنی جوڑی رکھتی تھی۔2025 میں اٹلی کے محققین نے ''ابوالہول‘‘ کے پلیٹو کے نیچے وسیع زیر زمین ڈھانچے دریافت کرنے کا دعویٰ کیا اور اب وہ سمجھتے ہیں کہ دوسرا اسفنکس ریت کے نیچے دفن ہے۔فلِپو بیونڈی نے یہ دریافت میٹ بیل لمیٹ لیس پوڈکاسٹ میں شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ موجود اسفنکس تک کھینچی گئی خطوط ایک آئینہ دار مقام کی نشاندہی کرتی ہیں، جہاں یہ دفن شدہ ڈھانچہ موجود ہو سکتا ہے۔بیونڈی کے مطابق، سیٹلائٹ ریڈار ٹیکنالوجی سے زمین کی ہلکی ارتعاشات کا تجزیہ کرنے پر یہ ڈیٹا سامنے آیا ہے کہ ایک 180 فٹ اونچی ریت کی مضبوط تہہ کے نیچے ایک بڑا ڈھانچہ چھپا ہوا ہے، جو قدرتی چٹان نہیں بلکہ سخت ریت پر مشتمل ہے۔ابتدائی اسکینز میں عمودی شافٹ اور راہداریوں کی موجودگی دکھائی دی ہے جو اصل اسفنکس کے نیچے پائے گئے ڈھانچے کے مشابہ ہیں۔ ان عمودی لائنوں کو ممکنہ طور پر زیر زمین شافٹ کی مضبوط دیواریں قرار دیا گیا ہے۔بیونڈی کا ماننا ہے کہ ممکنہ دوسرے اسفنکس سے بڑھ کر، ابوالہول کے پلیٹو کے نیچے ایک وسیع زیر زمین میگا سٹرکچر موجود ہے، جس کی پیمائش وہ کر رہے ہیں۔ یہ دریافت مصر کی قدیم تہذیب اور اس کی تعمیراتی مہارت کے راز کھولنے میں ایک نیا باب ثابت ہو سکتی ہے۔مصر کے عظیم اسفنکس کے سامنے والے پنجوں کے درمیان ڈریم اسٹیل یا سفنکس اسٹیل لگائی گئی تھی، جسے فرعون تھوٹ موس چہارم نے تقریباً 1401 قبل مسیح میں مصر کی 18ویں سلطنت کے دور میں نصب کیا۔یہ قدیم کندہ کاری، جیسے کہ نیو کنگڈم کے دوران بنائی گئی دیگر تحریریں، حکمران کے الٰہی حقِ حکمرانی کو مضبوط کرنے کیلئے کی گئی تھی۔روایت کے مطابق، یہ اسٹیل تھوٹ موس چہارم کے غیر متوقع تخت نشینی کو جواز فراہم کرتی ہے، اس خواب کی کہانی بیان کرتے ہوئے جس میں اسفنکس نے اسے یادگار کی مرمت کے عوض تخت دینے کا وعدہ کیا تھا۔ اس طرح سیاسی پروپیگنڈا اور مذہبی مشروعیت کا امتزاج نظر آتا ہے اور ابتدائی مرمت کے اقدامات کی دستاویز بھی ملتی ہیں۔تاہم، فلِپو بیونڈی اور ان کی ٹیم کا ماننا ہے کہ تصویروں میں چھپے دو اسفنکس کی علامتی اہمیت سے زیادہ حقیقت ہوسکتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ کندہ کاری محض علامتی نہیں بلکہ یادگاروں کی ترتیب کیلئے ایک خفیہ سراغ ہو سکتا ہے۔بیونڈی نے وضاحت کی کہ جب انہوں نے خفرے کے ہرم کے مرکز سے موجود اسفنکس تک ایک لکیر کھینچی، تو اس کی ترتیب نے پلیٹو پر ایک درست جیومیٹرک راستہ قائم کیا، جو دوسرے ممکنہ مقام کی شناخت کیلئے آئینہ دار حوالہ لکیر کے طور پر کام کرتا ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر، جس میں عظیم ہرم، خفرے کا ہرم، منکورے کا ہرم اور عظیم اسفنکس شامل ہیں، ایک تہہ کو ظاہر کرتی ہیں، اور بیونڈی کا ماننا ہے کہ یہ دوسرے اسفنکس کے اوپر موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ پہلا اسفنکس اردگرد کی سطح کے تھوڑا نیچے کم گہرائی میں واقع ہے، ممکن ہے کہ دوسرا اسفنکس اس بلند تہہ کے نیچے چھپا ہوا ہو۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ اندازے درست ثابت ہوے تو یہ مصر کے تاریخی نقشے میں ایک نیا اور شاندار اضافہ ثابت ہو سکتا ہے، جو پرانے مصر کی عمارات اور فن تعمیر کی حیرت انگیز مہارت کو سامنے لاتا ہے۔یہ ابتدائی رپورٹ عالمی ماہرین اور محققین کیلئیے بھی ایک سنجیدہ دلچسپی کا سبب بنی ہے، جو قدیم مصر کی تاریخ اور آثار قدیمہ کی دنیا میں نئی بحث کو جنم دے سکتی ہے۔