دھرنا: کیا کھویا, کیا پایا ؟

دھرنا: کیا کھویا, کیا پایا ؟

اسپیشل فیچر

تحریر : محمد عامر خاکوانی کا تجزیہ


جمعہ کی شام اسلام آبادمیں جاری دھرنے کے خوشگوار اختتام نے جہاں ملک بھر کے عوام کی بے چینی اور اضطراب کو دور کر دیا ، وہاںاس غیرمعمولی اہم واقعے نے ہمارے سیاسی اور جمہوری نظام کو بھی کئی نئے سبق دیے ہیں۔ ہماری سیاسی جماعتیں لانگ مارچ اور دھرنے کے ہفتہ بھر کے تجربے سے بہت کچھ سیکھ سکتی ہیں۔پاکستان کے عوام، سیاسی اشرافیہ اور مقتدر قوتوں نے یہ بھی ثابت کر دیا ہے کہ ان میں کم عمر ہونے کے باوجود پختگی اور شعور موجود ہے، مشرق وسطیٰ میں عرب سپرنگ یا عرب بہار کے برعکس یہاں پرزیادہ سمجھداری اور ہوشمندی کے ساتھ معاملات سلجھائے گئے۔ حالات بظاہر بندگلی میں چلے جانے کی نشاندہی دے رہے تھے ، مگر اچانک ہی فریقین نے ہوشمندی کا مظاہرہ کیا اورخوبصورتی سے اس پورے قضیے کو نمٹا دیا۔ اس ایک ہفتے کے دوران مختلف سیاسی قوتوں، انٹیلی جنشیا، میڈیا اورمقتدر قوتوں نے کیا کیا کردار ادا کیا،اس کے نتیجے میں انہیں کیا ملا…، اس پر ایک نظر ڈالتے ہیں: علامہ طاہرالقادری کا کردار آغاز تحریک منہاج القرآن کے سربراہ علامہ طاہرالقادری سے کرتے ہیں۔ علامہ صاحب ایک معروف دینی سکالر اور خطیب ہونے کی شہرت رکھتے ہیں۔وہ اپنے بعض بیانات اور ماضی میں چند ایشوز پرموقف بدلتے رہنے کے باعث متنازع رہے ہیں۔ 80ء کی دہائی میں ان کی بشارتوں کے حوالے سے بیان کئے گئے بعض خواب اوراپنے اوپر قاتلانہ حملے کے دعوے کے حوالے سے لاہور ہائیکورٹ کے ٹریبونل کی رپورٹ ہمیشہ ان کے خلاف استعمال کی جاتی ہے۔پولیٹیکل سائنس کی اصطلاح میں وہ اچھے خاصے بوجھ(Baggage)کے ساتھ سیاست کی وادی خارزار میںسفر کر رہے تھے۔ چند برس قبل وہ جنرل پرویز مشرف کے دور میں اسمبلی کی رکنیت سے استعفا دے کر کینیڈا چلے گئے تھے، اس وقت کہا گیا کہ وہ اپنا زیادہ وقت علمی وتدریسی مشاغل کو دینا چاہتے ہیں۔ تین چار سال پہلے انہیں وہاں کی نیشنلٹی بھی مل گئی۔اس دوران علامہ صاحب سیاست سے قدرے دور رہے ،مگر ان کے پاکستان میں رابطے مسلسل قائم رہے، منہاج القرآن کا بڑا تعلیمی نیٹ ورک پچھلے چند برسوں میں بہت زیادہ بڑھا، یہ سب علامہ صاحب کی نگرانی میں ہوا۔ اس دوران ان کی تحریر کردہ کئی کتب بھی شائع ہوئیں، جن میں ترجمہ قرآن ’’عرفان القرآن‘‘، احادیث کا مجموعہ اور خودکش حملوں کے خلاف کئی سو صفحوں پر محیط ایک مبسوط فتویٰ قابل ذکر ہے۔ پاکستانی میڈیا لانگ مارچ کے دنوں میںقادری صاحب سے بار بار یہ کہتا رہا کہ آپ اچانک کیسے آ گئے؟ دراصل یہ ہمارے تجزیہ کاروں اور نیوز اینکرز کی روایتی لاعلمی اوربے خبری تھی۔ سیاست کو باریک بینی سے مانیٹر کرنے والے جانتے تھے کہ طاہرالقادری صاحب بتدریج سیاسی اعتبار سے فعال ہو رہے ہیں۔ سال ڈیڑھ پہلے سے لاہور کے بعض موٹر رکشوں کے پیچھے قادری صاحب کا یہ نعرہ نمودار ہوا،چہرے نہیں، نظام بدلو۔ نظام بدلو کے نام سے ایک ویب سائیٹ بھی بنا دی گئی تھی۔اس کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر قادری صاحب کے حامی اچانک ہی بہت متحرک ہوگئے تھے۔ نظام بدلنے اور قومی سیاست میں جوہری تبدیلیاں لانے کے حوالے سے قادری صاحب کی تقاریر کے ویڈیو کلپس اور تحریریں فیس بک پیجز پر لگائی جانے لگیں۔ رفتہ رفتہ یہ عمل بڑا تیز ہوگیا ۔ اس وقت بھی سوشل میڈیا پر دو تین سب سے متحرک گروپوں میں سے ایک تحریک منہاج القرآن ہے۔ تئیس دسمبر کے جلسے سے چار پانچ ماہ پہلے قادری صاحب نے لاہور کے تھنک ٹینک کونسل آف نیشنل افئیرز کے صحافیوں اور دانشوروں کو منہاج مرکز میں دعوت دی اور ویڈیو کانفرنس کے ذریعے انہیں بریفنگ دی، سوال جواب کا سیشن بھی ہوا۔ اس میں قادری صاحب نے بتایا کہ وہ پاکستان واپس آ رہے ہیں اور ایک بڑا جلسہ کریں گے۔ تاہم اخبار نویسوں نے قادری صاحب کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا۔پھر تئیس دسمبر کے جلسے کے لئے کمپین شروع ہوگئی، دسمبر کے اوائل میں میڈیا کو احساس ہوا کہ قادری صاحب کے حامی جس محنت سے مہم چلا رہے ہیں، وہ بڑا جلسہ کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ پھر ایسا ہی ہوا۔ قادری صاحب نے پہلے اپنے جلسے ، لانگ مارچ اور پھر چار پانچ دن کے دھرنے کے بعد اپنا امیج تبدیل کر لیا۔ ایک غیر اہم، مبالغہ آمیز تقاریر کرنے والے خطیب کے بجائے اب انہیں ایک اہم ، عوامی مقبولیت رکھنے والا طاقتور سیاستدان تصور کیا جائے گا۔ آئندہ میڈیا یا کوئی سیاسی جماعت انہیں Easy نہیں لے گی۔ ان کے کسی دعوے یا اعلان کو نظرانداز کرنا اب ممکن نہیں۔ بڑی مہارت اور دانشمندی سے انہوں نے اپنے پتے کھیلے اور اسلام آباد کے قلب میں پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔انہوں نے اپنے سیاسی حریفوں کو ایک طرح سے آئوٹ کلاس کر دیا۔ان کا اعتماد بھی دیدنی تھا، چودھری برادران کے پیچھے ہٹنے اور عین وقت پر ایم کیو ایم کے دغا دے جانے کے باوجود وہ اپنے پروگرام سے پیچھے نہیں ہٹے اور کامیابی حاصل کر لی۔ وہ ایک ایسے سیاستدان کے طور پر ابھرے ہیں، جن کی اب ہمارے سیاسی منظرنامے میں ایک خاص جگہ اور مستقبل ہے۔انہوں نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ وہ لاکھوں افراد کے لئے ایک روحانی رہنما کی حیثیت بھی رکھتے ہیں، ایسا لیڈر جس کے کہنے پر لوگ اپنے معصوم شیر خوار بچے ساتھ لے کر میدان میں کود سکتے ہیں۔ایک زمانے میں پیر پگارا کے حروں کو یہ حیثیت حاصل تھی۔ تحریک منہاج القرآن کا تاثر ایک خالصتاً علمی اور دعوتی تحریک کا تھا، اب اس نے یہ بھی ثابت کر دیا کہ ان کے پاس انتہائی منظم اور مشکل ترین حالات میں ڈسپلن قائم رکھنے والے کارکن موجود ہیں۔ ایسے کارکن جن پر کسی قسم کے پروپیگنڈہ کا کوئی اثر نہیںاور وہ رہنمائی کے لئے اپنے قائد کی جانب ہی دیکھتے ہیں۔ دھرنے کے سبق قادری صاحب کو بھی یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ خطابت اپنی جگہ ،مگر مطالبے وہی مانے جاتے ہیں جو حقیقت پسندانہ ہوں اور جن کی وسیع پیمانے پر پزیرائی ہوسکے۔انہوں نے اسلام آباد پہنچنے کے بعد شروع میںغیر حقیقی مطالبے کئے، حکومت اور وزرا کو سابق اور پارلیمنٹ کی تحلیل اورالیکشن کمیشن کی فوری تشکیل نو کا کہا۔ یہ مطالبے مانے جانے والے نہیں تھے ، شائد وہ دبائو بڑھانے کے لئے ایسا کر رہے تھے ، مگر ان کا زیادہ مثبت اثر نہیں ہوا۔ بعد میںانہوں نے دانشمندی سے اپنے پرانے اور حقیقی نکات پر توجہ دی اور کم وبیش تمام مطالبے منوا لئے۔ اگلے روز اگرچہ میڈیا کے ایک حصے نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ قادری صاحب کے مطالبے نہ مانے گئے ، مگرحقیقت اس کے برعکس تھی۔ علامہ طاہرالقادری کا اصل مطالبہ آئین کے آرٹیکل باسٹھ ، تریسٹھ کے امیدواروں پر اطلاق، سکروٹنی کی مدت میں توسیع اور عوامی نمائندگی ایکٹ کی شق 77تا 82 میں تبدیلی لانا تھا۔ الیکشن کمیشن کے اختیارات میں اضافہ کامطالبہ بھی اس وجہ سے تھا۔ یہ تمام باتیں مانی گئی ہیں، نگران وزیراعظم کے لئے بھی انہیں ایک سٹیک ہولڈر کے طور پر مان لیا گیا ہے۔ اگر اس معاہدے پر عمل درآمد ہوا تو بڑی حد تک بدنام اور کرپٹ امیدواروں کا صفایا ہوجائے گا۔اس لحاظ سے بڑی کامیابی کہی جا سکتی ہے۔تحریک منہاج القرآن کو یقیناً یہ اندازہ ہو گیا ہو گا کہ دھرنے کے آخری روز بارش کے باعث ان کے لئے آپشنز محدود ہوگئی تھیں، اس سے پہلے بعض اپوزیشن جماعتوں نے میاں نواز شریف کی قیادت میں مشترکہ اعلامیہ جا ری کر کے قادری صاحب اور ان کے حامیوں کو سیاسی طور پر تنہا کر دیا تھا۔ یوں لگ رہا تھا کہ وہ بند گلی میں چلے گئے ہیں، اگر حکومت دانشمندی سے کام نہ لیتی ، مذاکرات نہ کرتی اور محفوظ راستہ نہ دیتی توصورتحال خاصی مشکل ہو گئی تھی۔ سیاست میں واپسی کے راستے کھلے رکھنے چاہیں، قادری صاحب نے ایسا نہیں کیا، وہ انتہا پر چلے گئے تھے۔ تیونس، مصر اور یمن وغیر ہ میں عرب سپرنگ کی کامیابی کی ایک وجہ ان ممالک کے دارالحکومت کی خاص پوزیشن تھی۔ مصر میں تحریر اسکوائر پر جمع ہونے والے لاکھوں افراد قاہرہ کے رہائشی تھے، اگرچہ دوسرے شہروں سے بھی لوگ آئے ،مگر بنیادی طور پر وہ مظاہرے ان شہروں کے اپنی آبادی نے کئے تھے۔ یہی تیونس اور یمن میں ہوا۔ لیبیا اور شام میں صورتحال مختلف تھی، وہاں دارالحکومت میں اپوزیشن کی گرفت مضبوط نہیں تھی، اس لئے ان مظاہروں کا اس طرح اثر نہ ہوسکا۔ کوئٹہ میں ہزارہ کمیونٹی کا دھرنا بھی وہاں کے مقامی آبادی کا اجتماع تھا، جن کے لئے گھروں سے ساز وسامان لانا بھی آسان تھا اور لوگ اپنی پوزیشنیں بھی بدل سکتے تھے۔ ایک دو راتوں کے بعد ضرورت پڑنے پر چند گھنٹوں کے لئے اپنے گھروں میں سستایا جا سکتا تھا۔ قادری صاحب کے لانگ مارچ میں ایسی کوئی سہولت موجود نہیں تھی۔ اس کا تمام تر دارومدار شرکا کے عزم وایثار پر تھا۔ اگر چہ قادری صاحب خوش قسمتی سے اس بار کامیاب ہوئے ،مگر شرکا کا اس قدر سخت امتحان لینا رسک ہوتا ہے، اگر ایسی بارش دو دن پہلے ہوجاتی ، تب کیا ہوتا؟اس وقت تک تو دھرنے کا ٹیمپو بھی نہیں بنا تھا۔ حکومتی اتحادکی سیاسی کامیابی پیپلز پارٹی کی حکومت پر بہت سے حوالوں سے سخت تنقید کی جاتی ہے، جو یکسر بے وزن بھی نہیں، ایک بات مگر اس نے یہ ثابت کر دی ہے کہ وہ ایک سیاسی جماعت ہے اور سیاسی انداز سے سوچتی ہے۔ ایک وقت میں وفاقی حکومت سخت مشکلات کا شکار تھی، پنجاب حکومت لانگ مارچ کو پنڈی پہنچا کر سکون سے تماشا دیکھ رہی تھی،تمام تر دبائو مرکز پر تھا۔ اس مشکل وقت میں پیپلز پارٹی نے اپنے اتحادیوں کو ساتھ ملایا اوراعلیٰ سطحی وفد کے ذریعے مذاکرات کئے ،یوں ڈیڈلاک بھی ختم کیا اوراس معاہدے پر عمل درآمد کرا کر وہ الیکشن کے عمل کا شفاف بنانے کا کریڈٹ بھی لے سکتی ہے۔ پیپلز پارٹی نے اپنے سخت گیر سوچ رکھنے والوں کو سائیڈ پر کیا اور اس کے ثمرات بھی انہیں مل گئے۔ اگر خدانخواستہ تصادم ہوجاتا تو اس کے خوفناک نتائج نکلتے۔ لال مسجد کے سانحے کے اثرات سے ہم ابھی تک نہیں نکل سکے، ملک کسی اور ہولناک واقعہ کا متحمل نہیں ہوسکتا۔پیپلز پارٹی کا اصل امتحان لانگ مارچ ڈیکلئریشن پر عمل کرانا ہے۔ انہیں یہ سمجھنا ہوگا کہ صرف منہاج القرآن ہی نہیں بلکہ ملک بھر میں انتخابی اصلاحات کی خواہش موجود ہے۔ یہ اچھا موقعہ ہے کہ ہمارے سیاستدان جمہوری نظام کی تطہیر کریں، اس سے جمہوریت دشمن قوتوں کو شدید حوصلہ شکنی ہوگی۔ میڈیا اور تجزیہ کار اب یہ مان لینا چاہیے کہ میڈیا اور ہمارے تجزیہ کاروں نے علامہ طاہرالقادری کو انڈر اسٹیمیٹ کیا۔ وہ علامہ صاحب کے شخصی اثر اور قوت کا اندازہ نہ لگا سکے۔ میڈیا کے بیشتر حصے کو یقین تھا کہ لانگ مارچ ہو ہی نہیں سکے گا۔دھرنے کے دوران بھی کوریج کرتے ہوئے انہیں شرکا ء کے موڈکا اندازہ نہیں ہوسکا۔ کئی اینکر خواتین چیختی رہیں کہ آپ لوگوں کو سردی کیوں نہیں لگ رہی، بچے بیمار ہوجائیں گے وغیرہ وغیرہ۔ انہیںسمجھنا چاہیے تھا کہ لوگ کسی جذبے اور کمٹمنٹ کے ساتھ ہی یہاں تک آئے ہیں اور یہ یوں واپس نہیں جائیں گے۔ ہمارے اہل دانش اور تجزیہ کاروں نے سب سے اہم غلطی یہ کی کہ انہوں نے طاہرالقادری کی شخصیت کو بے رحمی سے نشانہ بنایا ،مگر ان کے ایجنڈے کو نظر انداز کر گئے۔ انہیں یہ ادراک نہ ہوسکا کہ انتخابی اصلاحات کرنا اور تبدیلی لانے کے ایجنڈے کی عوام میں زبردست کشش موجود ہے۔ قادری صاحب نے اس خلا میں قدم رکھا ،جو ہماری دوسری سیاسی جماعتیں پر کرنے میں ناکام رہیں۔ جیسا کہ شرکا کے انٹرویوز سے ظاہر بھی ہوا کہ ان میں تمام لوگ منہاج القرآن کے نہیں تھے، بہت سے لوگوں نے بتایا کہ وہ عمران خان کے ووٹر ہیں، بعض دوسری جماعتوں کے حامی بھی تھے۔ ایجنڈے پر زیادہ بات ہونا چاہیے تھی، وہ نہ ہوسکی اور تمسخر،پیروڈی،طنز وتشنیع ہمارے میڈیا پر حاوی رہے۔ یہی وجہ ہے کہ جمعہ کو دھرنے کی کامیابی کے بعد بہت سے اینکروں اور تجزیہ کاروں کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا ردعمل دیں۔ جن باتوں کا وہ مذاق اڑاتے رہے، وہ تقریباً سب مان لی گئیں۔ جہاں تک اسمبلیوں کی تحلیل اور الیکشن کمیشن کی فوری تشکیل کی بات تھی، یہ دبائو بڑھانے کا حربہ تھا، حقیقی مطالبہ نہیں تھا۔میڈیا اور انٹیلی جنشیا کو آنے والے دنوں میں زیادہ محتاط اور باریک بین ہونا پڑے گا۔ الیکشن میں اصلاحات کے عمل پر بھی نظر رکھنے کی ضرورت پڑے گی۔ مسلم لیگ ن مسلم لیگ ن نے بظاہر بڑی عقل مندی اور ہوشیاری سے چالیں چلیں۔ انہوں نے لانگ مارچ کو روکنے کی کوئی کوشش نہیں کی کہ اس کا رخ اسلام آباد کی جانب تھا۔ جب انہوں نے محسوس کیا کہ دھرنے میں خاصے لو گ آگئے ہیں اور یہ اجتماع خطرناک ثابت ہوسکتا ہے تووہ متحرک ہوئے۔ میاں صاحب نے کمال مہارت سے کئی اہم جماعتوںسے رابطے کئے۔ بلوچستان سے اچکزئی صاحب اور حاصل بزنجو کے ساتھ ساتھ مولانا فضل الرحمن اورجماعت اسلامی کو ساتھ ملا لینا ان کی بڑی کامیابی تھی۔ انہوں نے اپنے مشترکہ اعلامیہ سے علامہ طاہرالقادری کو بالکل تنہا کر دیا۔ یہ جمہوریت کے لئے اچھا شگون تھا کہ ہماری سیاسی جماعتیں ہر قسم کی تبدیلی کے لئے انتخابات کی جانب ہی دیکھنے لگی ہیں۔ میاں صاحب نے دانستہ یا نا دانستہ ایک بڑی غلطی یہ کی کہ انہوں نے قادری صاحب کو محفوظ راستہ نہیں دیا۔اے پی سی کے شرکا میں سے کسی نے یہ نہیں سوچا کہ اسلام آباد میںکئی روز سے ہزاروں افراد کا دھرنا جاری ہے۔دھرنے کے شرکا اور ان کے لیڈر قادری صاحب اتنا آگے جا چکے ہیں کہ ان کے لئے کچھ حاصل کئے بغیر واپس لوٹنا شرمندگی کے مترادف ہے۔ انہیں محفوظ راستہ دینا (Face saving)دینا ضروری تھا۔ دوسری صورت میں شرکاء فرسٹریٹ ہو کر تصادم کی طرف جا سکتے تھے، ایسا ہو جاتا تو پھر کچھ بھی نہ بچ پاتا۔ جس طرح کا اعلیٰ سطحی وفد حکومت نے مذاکرات کے لئے بھیجا، ویسا کام پہلے نواز شریف صاحب بھی کر سکتے تھے۔ اگر ایسا کرتے تو وہ محاورے کے مطابق میلہ لوٹ لیتے۔ انہوں نے ایسا نہیں کیا، شائد وہ اپنی مخالف وفاقی حکومت کو ٹف ٹائم دینا چاہتے تھے، مگر اختتام میں اس کا تمام تر نقصان انہیں ہی ہوا۔ ٹی وی چینلز پر ن لیگ کے رہنمائوں کی تلخی دیکھ کر انہیں پہنچنے والے دھچکے کی شدت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ ؟ ہمارے اہل دانش اور تجزیہ کاروں کو ہر ایشو میں اسٹیبلشمنٹ کا کردار دیکھنے کا رویہ بھی بدلنا ہوگا۔ یوں لگتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کا آسیب ان کی دانش کے گرد لپٹ گیا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کے حوالے سے ویسے بھی دو تین باتیں سمجھنی چاہیں۔ دنیا بھر میں اسٹیبلشمنٹ ہمیشہ پر و’’ سٹیٹس کو‘‘ ہوتی ہے۔ نظام بدلنے یا تبدیلی لانے کا نعرہ کبھی انہیں راس نہیں ہوتا۔ ایسا نعرہ لگانے والوں کو ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ قادری صاحب والے معاملے کو زیادہ غور سے دیکھنا چاہیے تھا۔ اگر اس میں اسٹیبلشمنٹ شامل ہوتی تو معروف اسٹیبلشمنٹ نواز جماعتیں اس سے دور نہ رہتیں اور وعدہ کر کے واپس نہ چلی جاتیں۔ جو مارچ یا دھرنا اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر کیا جاتا ہے ، اس کے تیور ہی الگ ہوتے ہیں، اس کے شرکا شروع ہی سے ڈنڈے لے کر چلتے ہیں اور تباہی ان کا مشن ہوتی ہے۔ ایسے جلوسوں میں لوگ خود اپنی خوشی سے اپنی بیویوں، بہنوں اور شیر خوار بچوں کو نہیں لاتے۔ پیسے خواہ جتنے ملیں، اولاد آدمی کو اپنی جان سے بھی زیادہ پیاری ہوتی ہے۔ اس دھرنے کے پرامن اختتام نے یہ ثابت کر دیا کہ اسٹیبلشمنٹ کی رٹ لگانے والے تجزیہ کاروں نے ٹھوکر کھائی، اصولاً تو انہیں اپنے قارئین اور ناظرین سے معذرت کرنی چاہیے، مگرافسوس کہ ہمارے ہاں ایسی اچھی روایتیں موجود نہیں۔ ویسے اس حوالے سے فورسز کا رویہ مثبت رہا۔ کورکمانڈرز کانفرنس کو بعض حلقوں نے معنی خیز نظروں سے دیکھا ،مگر آئی ایس پی آر نے بروقت وضاحت کر دی۔ ہماری مقتدرہ قوتوں کو یہ یاد رکھناچاہیے کہ سیاست صرف سیاستدانوں کے کھیلنے کا میدان ہے۔ عسکری قوتوںکو اپنے پروفیشنل فرائض ہی انجام دینے چاہیں۔ ایسا کرنا ہی ان کے وقاراور عزت میں اضافہ کرے گا۔ اس دھرنے کا پرامن انجام یہ ثابت کرتا ہے کہ ملک میں جمہوریت پنپ رہی ہے اورہمارا بظاہر کمزور جمہوری سسٹم اس قسم کے بڑے دھچکوں کو برداشت کرنے کی سکت اور قوت رکھتا ہے۔اس سے ہمارے سیاستدانوں اور جمہوری قوتوں نے خاصا کچھ سیکھا ہوگا۔ تحریک انصاف عمران خان اور ان کے بعض حامیوں کو ممکن ہے اب اندازہ ہو رہا ہو کہ انہوں نے ملنے والے ایک بڑے موقع سے فائدہ نہیں اٹھایا۔ تحریک انصاف میں لانگ مارچ کے حمایت میں ایک مضبوط لابی موجود تھی،ان کے کئی اہم سیاسی لیڈروں کا خیال تھا کہ ہمیں قادری صاحب کے ساتھ شامل ہونا چاہیے، ان کی جماعت کا سیاسی نیٹ ورک موجود نہیں ،ا س لئے سیاسی کامیابی کے تمام تر ثمرات تحریک انصاف کو پہنچیں گے۔ اس لابی کی بات نہیں مانی گئی، عمران خان اور ان کے بعض غیر سیاسی مگر پارٹی کے لئے تھنک ٹینک کا درجہ رکھنے والے لوگوں کی بات مانی گئی۔ تاہم عمران خان نے لانگ مارچ اور دھرنے پر تنقید بالکل نہیں کی، وہ اسے بڑی احیتاط سے دیکھتے رہے، جائزہ لیتے رہے ،مگر شامل نہیں ہوئے۔ ممکن ہے انہیں خطرہ ہو کہ یہ دھرنا کسی اور جانب جا سکتا ہے۔ انہوں نے اپنی تمام تر توجہ انتخابات کی جانب مبذول کی اور اس حوالے سے دبائو بڑھانے کی کوشش کی ،مگر تحریک انصاف کے بہت سے نوجوان کارکنوں کو اب یقیناً مایوسی ہو رہی ہوگی۔پی ٹی آئی نے اس معاملے میں اگرچہ کھویا بھی زیادہ نہیں۔ ان کے لئے انتخابات کے حوالے سے قادری صاحب کے ساتھ ہاتھ ملانے کی آپشن موجود ہے۔دیکھنا یہ ہے کہ تحریک انصاف آنے والے دنوں میں کیسے پتے چلتی ہے؟

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
کیا بلیک ہولز کے گرد خلائی مخلوق کی ٹیکنالوجی ہو سکتی ہے ؟

کیا بلیک ہولز کے گرد خلائی مخلوق کی ٹیکنالوجی ہو سکتی ہے ؟

کائنات کے راز ہمیشہ سے انسان کے لیے تجسس کا باعث رہے ہیں۔ انہی رازوں میں بلیک ہولز اور زمین سے باہر ذہین مخلوق (Extraterrestrial Intelligence) کا موضوع بھی شامل ہے۔ حال ہی میں امریکہ کے معروف ادارے میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (MIT) میں سائنسدانوں کی ایک خصوصی نشست منعقد ہوئی جس میں اس غیر معمولی سوال پر غور کیا گیا کہ کیا ممکن ہے کہ انتہائی ترقی یافتہ خلائی مخلوقات بلیک ہولز کے گرد اپنی جدید ٹیکنالوجی قائم کر چکی ہوں؟ اس نشست میں کسی دریافت کا اعلان نہیں کیا گیا بلکہ یہ اس بات پر سائنسی غور و فکر تھا کہ اگر ایسی ٹیکنالوجی موجود ہو تو اسے دریافت کرنے کے لیے کن طریقوں سے تحقیق کی جا سکتی ہے۔بلیک ہولز کیوں اہم ہیں؟بلیک ہولز کائنات کے وہ اجسام ہیں جن کی کششِ ثقل اس قدر طاقتور ہوتی ہے کہ روشنی بھی ان سے فرار نہیں ہو سکتی۔ سائنسدانوں کے مطابق خاص طور پر گھومنے والے بلیک ہولز اپنے اردگرد بے پناہ توانائی پیدا کرتے ہیں۔ نظریاتی طور پر اگر کوئی مخلوق انسانوں سے لاکھوں یا کروڑوں گنا زیادہ ترقی یافتہ ہو تو وہ اس توانائی کو استعمال کرنے کے قابل ہو سکتی ہے۔یہ تصور محض سائنسی تخیل نہیں بلکہ طبیعیات کے بعض اصولوں پر مبنی ایک نظریاتی امکان ہے۔ اسی وجہ سے محققین نے اس موضوع کو سنجیدگی سے زیرِ بحث لایا۔ایم آئی ٹی کی نشست کا سوال؟اس سال جون میں ہونے والے اس دو روزہ اجلاس میں فلکیات، طبیعیات، بلیک ہولز اور SETI (Search for extraterrestrial intelligence) کے شعبوں سے تعلق رکھنے والے دو درجن سے زائد ماہرین شریک ہوئے۔ ان کا مقصد یہ نہیں تھا کہ وہ خلائی مخلوق کے وجود کو ثابت کریں بلکہ یہ جاننا تھا کہ اگر ایسی تہذیبیں واقعی موجود ہوں تو ان کے آثار کیسے تلاش کیے جا سکتے ہیں۔سائنسدانوں نے مختلف نظریات، مشاہداتی طریقوں اور مستقبل کی تحقیق کے امکانات پر گفتگو کی۔ ان کے مطابق جدید دوربینیں اور فلکیاتی مشاہدات اب اتنے ترقی یافتہ ہو چکے ہیں کہ پہلے سے جمع شدہ ڈیٹا کو بھی نئے زاویے سے دیکھا جا سکتا ہے۔ٹیکنوسگنیچر کیا ہوتے ہیں؟روایتی طور پر خلائی مخلوق کی تلاش میں ریڈیو سگنلز پر زیادہ توجہ دی جاتی رہی ہے لیکن اب سائنس دان ٹیکنوسگنیچر (Technosignatures) کے تصور پر زیادہ کام کر رہے ہیں۔ٹیکنوسگنیچر سے مراد ایسے غیر معمولی آثار یا اشارے ہیں جو قدرتی فلکیاتی عمل سے مطابقت نہ رکھتے ہوں اور جنہیں کسی ذہین تہذیب کی ٹیکنالوجی سے منسلک کیا جا سکے۔مثال کے طور پر غیر معمولی روشنی کے نمونے، غیر متوقع انفرا ریڈ شعاعیں یا بلیک ہول کے گرد ایسے ڈھانچے یا سرگرمیاں جو قدرتی قوانین سے مختلف نظر آئیں۔اگر مستقبل میں ایسے شواہد ملتے ہیں تو ان کا انتہائی احتیاط سے تجزیہ کیا جائے گا تاکہ پہلے تمام قدرتی وضاحتوں کو جانچا جا سکے۔کیا بلیک ہول توانائی کا ذریعہ بن سکتے ہیں؟طبیعیات کے بعض نظریات کے مطابق گھومنے والے بلیک ہولز سے توانائی حاصل کرنا اصولی طور پر ممکن ہو سکتا ہے۔ اگر کوئی انتہائی ترقی یافتہ تہذیب اس قابل ہو تو وہ ایسی ٹیکنالوجی بنا سکتی ہے جو بلیک ہول سے توانائی حاصل کر کے اپنی ضروریات پوری کرے۔یہ تصور انسانی ٹیکنالوجی سے بہت آگے ہے لیکن سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ناممکن اور غیر دریافت شدہ چیز میں فرق ہوتا ہے۔ آج کی بہت سی سائنسی حقیقتیں بھی کبھی صرف نظریات سمجھی جاتی تھیں۔موجودہ مشاہدات سے کیا معلوم ہو سکتا ہے؟ایم آئی ٹی کے اجلاس میں اس بات پر بھی غور کیا گیا کہ کیا موجودہ فلکیاتی مشاہدات خصوصاً ایونٹ ہورائزن ٹیلی سکوپ اور دیگر رصدگاہوں کا ڈیٹا دوبارہ جانچنے سے کوئی غیر معمولی اشارہ سامنے آ سکتا ہے۔محققین کے مطابق اگر مستقبل میں کوئی عجیب یا غیر متوقع مشاہدہ سامنے آئے تو اس کا مطلب فوری طور پر خلائی مخلوق نہیں ہوگا۔ سب سے پہلے اس کی قدرتی وجوہات تلاش کی جائیں گی اور صرف تمام سائنسی امکانات ختم ہونے کے بعد ہی کسی غیر معمولی وضاحت پر غور کیا جائے گا۔کیا خلائی مخلوق دریافت ہو گئی ہے؟اس سوال کا واضح جواب نہیں ہےایم آئی ٹی کی اس نشست میں ایسی کوئی دریافت یا ثبوت پیش نہیں کیا گیا جس سے ثابت ہو کہ بلیک ہولز کے گرد خلائی مخلوق کی ٹیکنالوجی موجود ہے۔ یہ صرف ایک تحقیقی اور فکری نشست تھی جس کا مقصد مستقبل کی تحقیق کے نئے راستے تلاش کرنا تھا۔سائنس دان اس بات پر متفق ہیں کہ غیر معمولی دعووں کے لیے غیر معمولی اور مضبوط شواہد درکار ہوتے ہیں۔ جب تک قابلِ اعتماد سائنسی ثبوت موجود نہ ہوں، کسی بھی امکان کو حقیقت قرار نہیں دیا جا سکتا۔مستقبل کی تحقیقکائنات کے بارے میں ہماری معلومات مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ نئی دوربینیں، طاقتور کمپیوٹرز اور مصنوعی ذہانت فلکیاتی ڈیٹا کے تجزیے کو پہلے سے کہیں زیادہ مؤثر بنا رہے ہیں۔ ممکن ہے آنے والے برسوں میں سائنس دان بلیک ہولز، کہکشاؤں اور دیگر فلکیاتی اجسام میں ایسے اشارے تلاش کر سکیں جو آج ہماری نظر سے اوجھل ہیں۔اگرچہ خلائی مخلوق کے وجود کا کوئی ثبوت ابھی تک نہیں ملا، لیکن سائنس کا بنیادی اصول یہی ہے کہ ہر قابلِ آزمائش امکان کی تحقیق کی جائے۔ اسی سوچ کے تحت ایم آئی ٹی کی یہ نشست منعقد ہوئی، جس نے سائنس دانوں کو نئی تحقیق، نئے سوالات اور نئی حکمتِ عملیوں پر غور کرنے کا موقع فراہم کیا۔ایم آئی ٹی میں ہونے والی اس سائنسی نشست نے یہ واضح کیا کہ جدید سائنس صرف معلوم حقائق تک محدود نہیں بلکہ نامعلوم امکانات کی بھی منظم اور منطقی تحقیق کرتی ہے۔ بلیک ہولز کے گرد ممکنہ خلائی ٹیکنالوجی کا تصور فی الحال ایک نظریاتی امکان ہے،حقیقت۔ تاہم اس موضوع پر ہونے والی گفتگو اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ انسان کائنات کے سربستہ رازوں کو سمجھنے کے لیے مسلسل کوشش کر رہا ہے۔ مستقبل میں اگر کوئی غیر معمولی ثبوت سامنے آتا ہے تو وہ سائنسی دنیا کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی، لیکن فی الحال یہ موضوع تحقیق، تجسس اور سائنسی جستجو کا حصہ ہے۔

قلعہ روہتاس کی بحالی اور یونیسکو کے تحفظات

قلعہ روہتاس کی بحالی اور یونیسکو کے تحفظات

قومی ورثے کے تحفظ کا اہم امتحان قلعہ روہتاس پاکستان کے تاریخی ورثے کی ایک عظیم علامت ہے، جو ضلع جہلم میں واقع ہے۔ یہ قلعہ سولہویں صدی میں شیر شاہ سوری نے تعمیر کروایا تھا اور اپنی منفرد فوجی تعمیر، بلند فصیلوں، عظیم الشان دروازوں اور مضبوط دفاعی نظام کی وجہ سے دنیا بھر میں شہرت رکھتا ہے۔ 1997ء میں یونیسکو نے اسے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کرلیا جس کے بعد اس کی حفاظت اور بحالی عالمی اصولوں کے مطابق کرنا پاکستان کی ذمہ داری بن گئی۔مگر حالیہ دنوں قلعے میں جاری مرمتی کاموں پر یونیسکو کی جانب سے اظہارِ تشویش نے اس تاریخی ورثے کے تحفظ کے حوالے سے ایک اہم بحث چھیڑ دی ہے۔یونیسکو کے تحفظات کی وجہخبروں کے مطابق یونیسکو کو اطلاع ملی کہ قلعہ روہتاس میں ہونے والے بعض بحالی کے کام عالمی معیار کے مطابق نہیں۔ اس اطلاع کے بعد یونیسکو کے نمائندوں نے وزارتِ قومی ورثہ و ثقافت کے تعاون سے قلعے کا معائنہ کیا۔ معائنے کا مقصد یہ جانچنا تھا کہ مرمت کے دوران استعمال ہونے والے تعمیراتی طریقے، مواد اور تکنیک عالمی اصولوں کے مطابق ہے یا نہیں۔اطلاعات کے مطابق بعض مقامات پر جدید تعمیراتی مواد استعمال کیے جانے اور اصل تاریخی ساخت میں تبدیلی کے خدشات سامنے آئے ہیں۔ یونیسکو کے مطابق کسی بھی عالمی ثقافتی ورثے کی بحالی اس انداز میں ہونی چاہیے کہ اس کی اصل شناخت، تاریخی اہمیت اور قدامت برقرار رہے۔ اگر غیر موزوں مواد یا جدید تعمیراتی انداز اختیار کیا جائے تو یادگار کی تاریخی حیثیت متاثر ہو سکتی ہے۔تاریخی ورثے کی بحالی کے اصولدنیا بھر میں تاریخی عمارتوں کی مرمت کے کچھ اصول ہیں۔ ان اصولوں کے مطابق مرمت صرف اتنی ہی کی جاتی ہے جتنی عمارت کو محفوظ رکھنے کے لیے ضروری ہو۔ اس دوران اصل پتھر، اینٹ، چونا یا دیگر روایتی مواد کو ترجیح دی جاتی ہے تاکہ عمارت کی تاریخی حیثیت برقرار رہے۔ماہرین آثارِ قدیمہ کا کہنا ہے کہ اگر کسی تاریخی عمارت میں جدید سیمنٹ، نئی اینٹیں یا مختلف طرزِ تعمیر استعمال کی جائے تو اس سے اس کی اصل تاریخی اہمیت کم ہو سکتی ہے یہی وجہ ہے کہ یونیسکو ہر مرمتی منصوبے پر گہری نظر رکھتا ہے، خاص طور پر ان مقامات پر جو عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل ہوں۔یہ پہلا موقع نہیں کہ پاکستان میں کسی تاریخی مقام کی بحالی پر سوالات اٹھے ہوں۔ اس سے قبل ٹیکسلا کے بعض آثارِ قدیمہ پر بھی یونیسکو نے غیر معیاری مرمت کے حوالے سے تحفظات ظاہر کیے تھے اور متعلقہ اداروں کو اصلاحی اقدامات کی سفارش کی تھی۔ قلعہ روہتاس کی تاریخی اہمیت قلعہ روہتاس برصغیر میں فوجی فنِ تعمیر کا ایک بے مثال نمونہ سمجھا جاتا ہے۔ تقریباً چار کلومیٹر طویل فصیل، بارہ عظیم الشان دروازے، متعدد برج، شاہی مسجد، باؤلی اور دیگر تاریخی عمارتیں اس قلعے کی شان میں اضافہ کرتی ہیں۔ یہ قلعہ نہ صرف شیر شاہ سوری کی عسکری حکمتِ عملی کی عکاسی کرتا ہے بلکہ اس دور کی تعمیراتی مہارت کا بھی زندہ ثبوت ہے۔ہر سال ملک و بیرونِ ملک سے ہزاروں سیاح اس تاریخی مقام کی سیر کے لیے آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی اصل ساخت کو محفوظ رکھنا نہ صرف تاریخی اعتبار سے بلکہ سیاحتی اور معاشی لحاظ سے بھی بے حد اہم ہے۔ اگر بحالی کا عمل عالمی معیار کے مطابق نہ ہو تو اس سے پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ بھی متاثر ہو سکتی ہے۔مستقبل کیلئے ضروری اقدامات قلعہ روہتاس کے حوالے سے سامنے آنے والے تحفظات متعلقہ اداروں کے لیے ایک اہم موقع ہیں کہ وہ اپنے پیشہ ورانہ طریقہ کار کا ازسرِنو جائزہ لیں۔ ضروری ہے کہ مستقبل میں ہر بحالی منصوبہ بین الاقوامی اصولوں، ماہرین آثارِقدیمہ کی سفارشات اور یونیسکو کی ہدایات کے مطابق مکمل شفافیت کے ساتھ انجام دیا جائے۔اس مقصد کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں، آثارِ قدیمہ کے ماہرین، انجینئرز اور تحفظِ آثار قدیمہ کے بین الاقوامی ماہرین میں قریبی رابطہ اور تعاون ناگزیر ہے۔ ہر مرمتی مرحلے کی مکمل دستاویزات، تصاویر اور تکنیکی رپورٹس بھی محفوظ رکھی جائیں تاکہ کسی بھی وقت اس عمل کا جائزہ لیا جا سکے۔ قلعہ روہتاس صرف ایک تاریخی عمارت نہیں بلکہ پاکستان کی تہذیبی شناخت، تاریخی عظمت اور ثقافتی ورثے کی علامت ہے۔ یونیسکو کے تحفظات کو تنقید کے بجائے اصلاح کا موقع سمجھنا چاہیے تاکہ اس عالمی ورثے کی اصل حیثیت محفوظ رہے۔ اگر عالمی معیار کے مطابق بحالی کو یقینی بنایا جائے تو قلعہ روہتاس آنے والی نسلوں کے لیے بھی اسی شان و شوکت کے ساتھ محفوظ رہے گا اور ملک عزیز کا ثقافتی تشخص عالمی سطح پر مزید مستحکم ہوگا۔

آج کا دن

آج کا دن

آرک دے تریومف کا افتتاح29 جولائی 1836ء کوپیرس میں مشہور یادگار، آرک دے تریومف کا افتتاح کیا گیا۔ اس یادگار کی تعمیر کا حکم 1806ء میں نپولین بوناپارٹ نے آسٹرلٹز کی جنگ میں فتح کے بعد دیا تھا۔ اگرچہ نپولین اپنی زندگی میں اس کی تکمیل نہ دیکھ سکا لیکن تقریباً تیس سال بعد یہ عظیم الشان یادگار مکمل ہوئی۔ اس کی دیواروں پر فرانسیسی جرنیلوں اور اہم جنگوں کے نام کندہ کیے گئے ہیں۔ بعد میں پہلی جنگِ عظیم کے نامعلوم سپاہی کی قبر بھی اسی یادگار کے نیچے بنائی گئی جہاں آج بھی شمع روشن رہتی ہے۔ آرک دے تریومف نہ صرف فرانس کی قومی شناخت کی علامت ہے بلکہ آزادی، حب الوطنی اور قومی اتحاد کی بھی نمائندگی کرتا ہے۔ لندن اولمپکس 29 جولائی 1948ء کو لندن میں چودہویں جدید اولمپک کھیلوں کا افتتاح ہوا۔ یہ مقابلے دوسری جنگِ عظیم کے بعد منعقد ہونے والے پہلے اولمپکس تھے کیونکہ 1940ء اور 1944ء کے اولمپکس جنگ کی وجہ سے منسوخ کر دیے گئے تھے۔ جنگ کے بعد بیشتر ممالک معاشی مشکلات کا شکار تھے اسی لیے ان کھیلوں کو سادگی کے ساتھ منعقد کیا گیا۔ تقریباً ساٹھ ممالک کے چار ہزار سے زائد کھلاڑیوں نے مختلف کھیلوں میں حصہ لیا۔ لندن اولمپکس نے بین الاقوامی کھیلوں کی بحالی میں اہم کردار ادا کیا اور بعد کے اولمپکس کے لیے نئی امید پیدا کی۔The Lord of the Rings29 جولائی 1954ء کو برطانوی ادیب جے آر آر ٹولکین کے شہرہ آفاق ناول The Lord of the Rings کی پہلی جلد شائع ہوئی۔ یہ کتاب جدید فینٹسی ادب کی تاریخ میں ایک سنگِ میل سمجھی جاتی ہے۔ ٹولکین نے کئی برسوں کی محنت سے ایک مکمل خیالی دنیا تخلیق کی جہاں انسان، ہوبٹ، ایلف، بونے اور دیگر مخلوقات خیر و شر کی عظیم جنگ میں شریک ہوتی ہیں۔ اس ناول کی کہانی ایک طاقتور انگوٹھی کے گرد گھومتی ہے جسے تباہ کرنا دنیا کو تاریکی کی قوتوں سے بچانے کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ 2001ء سے 2003ء کے درمیان اسی ناول پر بننے والی فلمی سیریز نے عالمی سطح پر بے مثال کامیابی حاصل کی اور متعدد آسکر ایوارڈز جیتے۔آئی اے ای اے کا قیام29 جولائی 1957ء کو بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کا قیام عمل میں آیا۔ اس ادارے کا مقصد دنیا بھر میں ایٹمی توانائی کے پرُامن استعمال کو فروغ دینا اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ جوہری ٹیکنالوجی کو ہتھیار بنانے کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔ IAEA مختلف ممالک کے جوہری پروگراموں کا معائنہ کرتی ہے، حفاظتی معیارات مقرر کرتی ہے اور عالمی جوہری سلامتی کے لیے اہم کردار ادا کرتی ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک اس کے رکن ہیں اور جوہری عدم پھیلاؤ کے عالمی نظام میں اس کا بنیادی کردار ہے۔ شہزادہ چارلس اور لیڈی ڈیانا کی شادی29 جولائی 1981ء کو شہزادہ چارلس اور لیڈی ڈیانا کی شادی لندن کے سینٹ پال کیتھیڈرل میں منعقد ہوئی۔ یہ تقریب بیسویں صدی کی سب سے زیادہ دیکھی جانے والی تقریبات میں شمار ہوتی ہے۔ اندازاً دنیا بھر میں 70 کروڑ سے زائد افراد نے اسے ٹیلی ویژن پر دیکھا۔ اگرچہ یہ شادی بعد میں کامیاب نہ رہی اور 1996ء میں طلاق ہو گئی لیکن اس تقریب کو آج بھی برطانوی شاہی تاریخ کا ایک اہم واقعہ سمجھا جاتا ہے۔ اس نے برطانوی شاہی خاندان کی عالمی مقبولیت میں اضافہ کیا اور شاہی تقریبات کی بین الاقوامی نشریات کا ایک نیا معیار قائم کیا۔ 

ورلڈ ہیپاٹائٹس ڈے

ورلڈ ہیپاٹائٹس ڈے

محتاط رہیں،محفوظ رہیںہر سال 28 جولائی کو دنیا بھر میں ہیپاٹائٹس ڈے منایا جاتا ہے جس کا مقصد عوام میں ہیپاٹائٹس کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا، بروقت تشخیص، مؤثر علاج اور احتیاطی تدابیر کو فروغ دینا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق دنیا بھر میں 30 کروڑ 40 لاکھ افراد ہیپاٹائٹس بی یا سی کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، جبکہ 2022ء میں تقریباً 13 لاکھ افراد اس بیماری کے باعث جان کی بازی ہار گئے۔ یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ ہیپاٹائٹس صرف ایک طبی مسئلہ نہیں بلکہ صحت کے ایک خوفناک بحران کی صورت اختیار کر چکاہے۔پاکستان کے لیے یہ دن خصوصی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ ہمارا ملک دنیا میں ہیپاٹائٹس سی کے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان میں ہیپاٹائٹس بی اور سی سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد تقریباً ایک کروڑ 38 لاکھ ہے جبکہ ان میں سے صرف 25 سے 30 فیصد افراد ہی اپنی بیماری سے آگاہ ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ لاکھوں افراد انجانے میں بیماری کو دوسروں تک منتقل بھی کر رہے ہیں اور خود بھی علاج سے محروم ہیں۔ہیپاٹائٹس ، تشویشناک پھیلاؤ ہیپاٹائٹس بی اور سی کے پھیلنے کی کئی بنیادی وجوہات ہیں جن میں غیر محفوظ طبی طریقہ کار سب سے نمایاں ہے۔ ماہرین کے مطابق غیر ضروری انجکشن لگانے کا رجحان، استعمال شدہ سرنجوں کا دوبارہ استعمال، غیر معیاری کلینکس، دانتوں کے علاج میں جراثیموں سے پاک کئے بغیر آلات کا استعمال اور حجام کی دکانوں پر ایک ہی بلیڈ کا بار بار استعمال اس بیماری کے پھیلاؤ کے بڑے اسباب ہیں۔ عالمی ادارہ صحت بھی انہی عوامل کو پاکستان میں ہیپاٹائٹس کے پھیلاؤ کی بنیادی وجوہات قرار دیتا ہے۔حالیہ طبی مطالعات سے معلوم ہوا ہے کہ عمر کے ساتھ ہیپاٹائٹس کی شرح میں اضافہ ہوتا ہے جبکہ ایسے افراد جن کے خاندان میں جگر کی بیماری کی تاریخ موجود ہو یا جو بار بار حجام سے شیو کرواتے ہوں ان میں خطرہ نسبتاً زیادہ ہوتا ہے۔ ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ قومی سطح پر سکریننگ‘ احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل درآمد اور بروقت علاج ہی اس جان لیوا مرض سے بچاؤکا مؤثر ذریعہ ہے۔خاموش بیماری مہلک نتائجہیپاٹائٹس کو اکثر خاموش قاتل کہا جاتا ہے کیونکہ اس کی ابتدائی علامات بہت کم یا بالکل ظاہر نہیں ہوتیں۔ بہت سے مریض برسوں تک معمول کی زندگی گزارتے رہتے ہیں لیکن اس دوران وائرس مسلسل جگر کو نقصان پہنچاتا رہتا ہے۔ جب علامات ظاہر ہوتی ہیں تو اکثر بیماری خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکی ہوتی ہے۔عام علامات میں مسلسل تھکن، کمزوری، بھوک میں کمی، متلی، بخار، پیٹ کے دائیں حصے میں درد، جلد اور آنکھوں کا پیلاپن، پیشاب کی گہری رنگت اور وزن میں غیر معمولی کمی شامل ہے۔ اگر بروقت تشخیص اور علاج نہ کیا جائے تو ہیپاٹائٹس جگر کے سکڑنے (سروسس) جگر کے سرطان اور جگر کے مکمل ناکارہ ہونے کا سبب بن سکتا ہے۔خوش آئند بات یہ ہے کہ ہیپاٹائٹس بی سے بچاؤ کے لیے مؤثر ویکسین دستیاب ہے جبکہ ہیپاٹائٹس سی کا جدید ادویات کے ذریعے کامیاب علاج بھی ممکن ہے بشرطیکہ بیماری کی بروقت تشخیص ہو جائے۔احتیاط ہی مؤثر دفاعہیپاٹائٹس سے بچاؤ کے لیے چند بنیادی احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔سب سے پہلے انجکشن صرف ضرورت کے وقت اور نئی، سیل بند سرنج سے لگوائیں۔ خون لینے دینے کا عمل ہمیشہ مستند بلڈ بینک سے کروائیں اور اس کی مکمل سکریننگ یقینی بنائیں۔ دانتوں کا علاج صرف ایسے کلینکس سے کروائیں جہاں جراثیم سے پاک آلات استعمال کیے جاتے ہوں۔ حجام کی دکان پر ہر مرتبہ نیا بلیڈ استعمال کرنے پر اصرار کریں۔ ریزر، نیل کٹر، ٹوتھ برش اور دیگر ذاتی استعمال کی اشیاکسی کے ساتھ مشترک استعمال نہ کریں۔ کان یا ناک چھدوانے کی صورت میں صرف جراثیم سے پاک آلات استعمال کیے جائیں۔اس کے علاوہ ہیپاٹائٹس بی کی ویکسین ہر بچے اور خطرے سے دوچار بالغ افراد کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ جن افراد کو شک ہو کہ وہ متاثرہ خون یا غیر محفوظ طبی آلات کے ذریعے وائرس کے رابطے میں آئے ہیں انہیں فوری طور پر ہیپاٹائٹس بی اور سی کا ٹیسٹ کروانا چاہیے تاکہ بیماری کی بروقت تشخیص اور علاج ممکن ہو سکے۔قومی سطح پر مشترکہ جدوجہد کی ضرورتہیپاٹائٹس کا خاتمہ صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ غیر معیاری کلینکس اور غیر تربیت یافتہ طبی عملے کے خلاف مؤثر کارروائی کرے، محفوظ خون کی فراہمی کو یقینی بنائے، عوامی آگاہی مہمات کو وسعت دے اور مفت سکریننگ اور علاج کی سہولیات میں اضافہ کرے۔عالمی ادار صحت نے 2030ء تک ہیپاٹائٹس کو صحتِ عامہ کے بڑے خطرے کے طور پر ختم کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اگر ہم قومی سطح پر بروقت اور ضروری اقدامات کریں، عوام احتیاطی اصولوں پر عمل کریں اور ہر مشتبہ فرد اپنا ٹیسٹ کروائے تو اس خاموش قاتل کے پھیلاؤ کو نمایاں حد تک روکا جا سکتا ہے۔عالمی یومِ ہیپاٹائٹس ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ آگاہی، احتیاط، بروقت تشخیص اور مؤثر علاج ہی اس مہلک بیماری کے خلاف ہماری سب سے بڑی طاقت ہیں۔ ایک صحت مند پاکستان کی تعمیر اسی وقت ممکن ہے جب ہر شہری اپنی اور دوسروں کی صحت کے تحفظ کو اپنی قومی ذمہ داری سمجھے۔

ملکی وے

ملکی وے

کہکشاں کا براعظموں کی تشکیل میں کردار؟جرمنی اور جاپان کے سائنسدانوں نے ایک نئی تحقیق میں حیران کن امکان پیش کیا ہے کہ ہماری کہکشاں 'ملکی وے‘ نے اربوں سال پہلے زمین پر براعظموں کی تشکیل میں بالواسطہ کردار ادا کیا ہو گا ۔ اگرچہ یہ نظریہ ابھی ابتدائی تحقیقی مرحلے میں ہے تاہم اس نے ماہرینِ فلکیات اور ارضیات کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ اگر مستقبل کی تحقیقات اس مفروضے کی تائید کرتی ہیں تو زمین کی ابتدائی تاریخ کے بارے میں ہماری موجودہ سمجھ میں ایک اہم تبدیلی آ سکتی ہے۔زمین سورج کے گرد گردش کرتی ہے جبکہ سورج اپنے تمام سیاروں سمیت ملکی وے کے مرکز کے گرد مسلسل سفر کر رہا ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق ہمارا نظامِ شمسی تقریباً ہر 15 سے 20 کروڑ سال بعد ملکی وے کے ان حصوں سے گزرتا ہے جہاں ستاروں کی تعداد زیادہ اور کششِ ثقل نسبتاً طاقتور ہوتی ہے۔محققین کا کہنا ہے کہ ایسے علاقوں سے گزرتے ہوئے ملکی وے کی اضافی کششِ ثقل نظامِ شمسی کے انتہائی بیرونی حصے میں موجود اوورٹ کلاؤڈ کو متاثر کر سکتی ہے۔ اوورٹ کلاؤڈ برفیلے اجسام اور دمدار ستاروں کا ایک وسیع ذخیرہ ہے جو سورج سے انتہائی فاصلے پر موجود ہے۔جب اس خطے میں کششِ ثقل کا توازن بگڑتا ہے تو بعض دمدار ستارے اپنے اصل مدار سے ہٹ کر اندرونی نظامِ شمسی کی جانب سفر شروع کر دیتے ہیں۔ ان میں سے کچھ کا رخ زمین کی طرف بھی ہو سکتا ہے۔دمدار ستاروں کا تصادم اور براعظموں کی تشکیلزمین کی ابتدائی تاریخ میں بڑے شہابی پتھروں اور دمدار ستاروں کا ٹکراؤ عام تھا اورجرمنی کی جولیس میکسیملین یونیورسٹی کے محقق تھامس سیگرٹ اور جاپان کی کیوٹو یونیورسٹی کے ہیروکی یونیڈا کی تحقیق کے مطابق ممکن ہے کہ انہی میں سے کچھ بڑے تصادم ملکی وے کی کششِ ثقل کے نتیجے میں رونما ہوئے ہوں۔سائنسدانوں کا خیال ہے کہ جب ایسے اجرام زمین سے ٹکراتے تھے تو ان سے پیدا ہونے والی بے پناہ حرارت اور دباؤ زمین کی بیرونی پرت میں بڑی تبدیلیاں لاتے تھے۔ اس عمل سے ایسی چٹانیں وجود میں آئیں جو بعد میں براعظمی پرت کی بنیاد بنیں۔ یہی پرت لاکھوں ، کروڑوں برسوں کے ارتقائی عمل سے گزر کر آج کے براعظموں کی شکل اختیار کرتی گئی۔اس تحقیق کا مقصد یہ نہیں کہ زمین کے اندرونی ارضیاتی عوامل جیسے ٹیکٹونکس پلیٹ یا آتش فشانی سرگرمی کی اہمیت کو کم کیا جائے بلکہ یہ تجویز پیش کی جا رہی ہے کہ ان عوامل کے ساتھ ساتھ ملکی وے کا بالواسطہ اثر بھی براعظموں کی تشکیل میں شامل رہا ہو سکتا ہے۔قدیم زرکون کرسٹل نے کیا راز کھولا؟اس نظریے کو جانچنے کے لیے محققین نے زمین کی قدیم ترین چٹانوں میں موجود زرکون نامی معدنی کرسٹل کا تفصیلی مطالعہ کیا۔ زرکون کو ارضیات میں غیر معمولی اہمیت حاصل ہے کیونکہ یہ اربوں سال پرانی معلومات کو محفوظ رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔سائنسدانوں نے ان کرسٹلز کی عمر اور کیمیائی خصوصیات کا موازنہ ایسے فلکیاتی ماڈلز سے کیا ہے جن میں نظامِ شمسی کے ملکی وے میں سفر کو ظاہر کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق بعض ادوار میں بڑے دمدار ستاروں کے ممکنہ تصادم اور ابتدائی براعظمی چٹانوں کی تشکیل کے درمیان ایک دلچسپ مماثلت پائی گئی۔اگرچہ یہ شواہد اس نظریے کو تقویت دیتے ہیں لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اربوں سال پرانے فلکیاتی اور ارضیاتی واقعات کو مکمل یقین کے ساتھ ثابت کرنا آسان نہیں اس لیے مزید تحقیق کی ضرورت باقی ہے۔ دلچسپ مفروضہیہ تحقیق کرنے والے جرمن سائنسدان تھامس سیگرٹ اور جاپان کے ہیروکی یونیڈا خود اس بات پر زور دیتے ہیں کہ یہ ابھی ایک سائنسی مفروضہ ہے، ممکن ہے مستقبل میں مزید شواہد اس نظریے کی تائید کریں، اس میں ترمیم کریں یا اسے مسترد کر دیں۔ یہی سائنسی تحقیق کا بنیادی اصول ہے کہ ہر نئی تجویز کو بار بار جانچا جاتا ہے۔تاہم اگر آنے والے برسوں میں یہ نظریہ درست ثابت ہو جاتا ہے تو یہ دریافت ہماری زمین کی تاریخ کو سمجھنے کے انداز کو بدل سکتی ہے۔ اس سے یہ تصور مزید مضبوط ہوگا کہ زمین کی تشکیل صرف اس کے اندرونی عوامل کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ اربوں کلومیٹر دور موجود ملکی وے میں ہونے والے فلکیاتی عمل بھی بالواسطہ طور پر ہماری دنیا کی تشکیل پر اثر انداز ہوئے۔ملکی وے اور زمین کے براعظموں کے درمیان ممکنہ تعلق پر ہونے والی یہ تحقیق سائنس کی ان دلچسپ کوششوں میں سے ایک ہے جو کائنات اور ہماری زمین کے درمیان پوشیدہ روابط کو سمجھنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اگرچہ اس مفروضے کو ابھی مزید شواہد درکار ہیں، لیکن اس نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ شاید ہماری زمین کی تاریخ کا تعلق صرف زمین تک محدود نہیں، بلکہ پوری کائنات سے جڑا ہوا ہے۔ آنے والے برسوں کی تحقیق ہی یہ فیصلہ کرے گی کہ آیا واقعی ملکی وے نے زمین کے براعظموں کی تشکیل میں کوئی کردار ادا کیا تھا یا نہیں۔

آج کا دن

آج کا دن

پیرو کی آزادی28 جولائی 1821 کو جنوبی امریکہ کے ملک پیرو نے ہسپانوی سلطنت سے اپنی آزادی کا اعلان کیا۔ اس تاریخی اعلان کی قیادت جنرل خوسے دے سان مارٹن نے لیما میں کی۔ اگرچہ آزادی کی جدوجہد کئی برس پہلے شروع ہو چکی تھی لیکن 28 جولائی کو پہلی مرتبہ پیرو کو آزاد ریاست قرار دیا گیا۔ پیرو کی آزادی صرف ایک ملک کی کامیابی نہیں تھی بلکہ پورے لاطینی امریکہ میں نوآبادیاتی نظام کے خاتمے کی تحریک کا اہم حصہ تھی۔ اس کے نتیجے میں ہسپانوی اقتدار بتدریج جنوبی امریکہ سے ختم ہونے لگا اور متعدد نئی آزاد ریاستیں وجود میں آئیں۔ 28 جولائی پیرو میں یومِ آزادی کے طور پر منایا جاتا ہے۔ پہلی جنگِ عظیم کا آغاز28 جولائی 1914ء کو آسٹریا۔ہنگری نے سربیا کے خلاف جنگ کا اعلان کیا جسے پہلی جنگِ عظیم کا باقاعدہ آغاز سمجھا جاتا ہے۔ اس سے ایک ماہ قبل 28 جون 1914ء کو آسٹریا کے ولی عہد آرچ ڈیوک فرانز فرڈینینڈ کو بوسنیا کے شہر سرائیوو میں قتل کر دیا گیا تھا۔ اس قتل کے بعد آسٹریا۔ہنگری نے سربیا کو سخت شرائط پر مشتمل الٹی میٹم دیا۔ اگرچہ سربیا نے بیشتر شرائط قبول کر لیں لیکن تمام مطالبات نہ ماننے پر آسٹریا۔ہنگری نے 28 جولائی کو جنگ چھیڑ دی۔ جلد ہی یورپ کے مختلف ممالک اس تنازع میں شامل ہو گئے۔ جرمنی آسٹریا۔ہنگری کے ساتھ جبکہ روس، فرانس اور بعد میں برطانیہ سربیا کے حامی بن گئے۔ یہ علاقائی تنازع چند ہی دنوں میں عالمی جنگ میں تبدیل ہو گیا۔ ناسا کا قیام 28 جولائی 1958ء کو امریکی کانگریس نے نیشنل ایروناٹکس اینڈ سپیس ایکٹ منظور کیا جس کے تحت بعد میں ناساکا قیام عمل میں آیا۔ یہ اقدام سوویت یونین کی جانب سے 1957ء میں سپوتنک سیٹلائٹ کی کامیاب لانچ کے بعد کیا گیا۔ اس قانون کے ذریعے مختلف سرکاری اداروں کی خلائی تحقیق کو ایک مرکزی ادارے کے تحت منظم کیا گیا۔ ناسا نے یکم اکتوبر 1958 ء سے باضابطہ کام شروع کیا۔ آنے والے برسوں میں ناسا نے مرکری، جیمینائی اور اپولو پروگرام شروع کیے جن کی بدولت 1969 میں انسان پہلی مرتبہ چاند پر پہنچا۔ بعد ازاں خلائی شٹل پروگرام، ہبل خلائی دوربین، مریخ پر بھیجے گئے متعدد مشنز، جیمز ویب اسپیس ٹیلی سکوپ اور بین الاقوامی خلائی اسٹیشن جیسے منصوبوں میں بھی ناسا نے کلیدی کردار ادا کیا۔ ایمسٹرڈیم اولمپکس 28 جولائی 1928 کو نیدرلینڈز کے شہر ایمسٹرڈیم میں نویں جدید اولمپک کھیلوں کا افتتاح ہوا۔ یہ اولمپکس کئی حوالوں سے تاریخی اہمیت رکھتے ہیں۔ پہلی مرتبہ خواتین کو ایتھلیٹکس اور جمناسٹکس کے کئی مقابلوں میں باقاعدہ شرکت کا موقع ملا۔ اسی اولمپکس میں پہلی مرتبہ افتتاحی تقریب کے دوران اولمپک مشعل روشن رکھنے کی روایت بھی اختیار کی گئی۔ ایمسٹرڈیم اولمپکس نے یہ ثابت کیا کہ کھیل مختلف قوموں کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر امن، دوستی اور باہمی احترام کو فروغ دے سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ 1928 کے اولمپکس جدید اولمپک تاریخ کا ایک اہم سنگ میل تصور کیے جاتے ہیں۔ آئرش مسلح جدوجہدکا خاتمہ28 جولائی 2005ء کو آئرش ریپبلکن آرمی (IRA) نے تقریباً تین دہائیوں پر محیط اپنی مسلح جدوجہد ختم کرنے اور صرف پرامن و جمہوری ذرائع اختیار کرنے کا اعلان کیا۔ شمالی آئرلینڈ میں کئی برس تک جاری رہنے والے تشدد، بم دھماکوں اور مسلح کارروائیوں نے ہزاروں افراد کی جانیں لیں۔ 1998 کے گڈ فرائیڈے معاہدے کے بعد امن عمل کا آغاز ہو چکا تھا لیکن 2005ء کا یہ اعلان اس عمل میں ایک انتہائی اہم پیش رفت ثابت ہوا۔ تنظیم نے اپنے ارکان کو ہدایت دی کہ وہ ہتھیاروں کے استعمال سے مکمل اجتناب کریں اور تمام سیاسی مقاصد صرف جمہوری طریقوں سے حاصل کیے جائیں۔ بعد ازاں بین الاقوامی مبصرین نے IRA کے ہتھیار ناکارہ بنانے کے عمل کی تصدیق بھی کی۔