دھرنا: کیا کھویا, کیا پایا ؟

دھرنا: کیا کھویا, کیا پایا ؟

اسپیشل فیچر

تحریر : محمد عامر خاکوانی کا تجزیہ


جمعہ کی شام اسلام آبادمیں جاری دھرنے کے خوشگوار اختتام نے جہاں ملک بھر کے عوام کی بے چینی اور اضطراب کو دور کر دیا ، وہاںاس غیرمعمولی اہم واقعے نے ہمارے سیاسی اور جمہوری نظام کو بھی کئی نئے سبق دیے ہیں۔ ہماری سیاسی جماعتیں لانگ مارچ اور دھرنے کے ہفتہ بھر کے تجربے سے بہت کچھ سیکھ سکتی ہیں۔پاکستان کے عوام، سیاسی اشرافیہ اور مقتدر قوتوں نے یہ بھی ثابت کر دیا ہے کہ ان میں کم عمر ہونے کے باوجود پختگی اور شعور موجود ہے، مشرق وسطیٰ میں عرب سپرنگ یا عرب بہار کے برعکس یہاں پرزیادہ سمجھداری اور ہوشمندی کے ساتھ معاملات سلجھائے گئے۔ حالات بظاہر بندگلی میں چلے جانے کی نشاندہی دے رہے تھے ، مگر اچانک ہی فریقین نے ہوشمندی کا مظاہرہ کیا اورخوبصورتی سے اس پورے قضیے کو نمٹا دیا۔ اس ایک ہفتے کے دوران مختلف سیاسی قوتوں، انٹیلی جنشیا، میڈیا اورمقتدر قوتوں نے کیا کیا کردار ادا کیا،اس کے نتیجے میں انہیں کیا ملا…، اس پر ایک نظر ڈالتے ہیں: علامہ طاہرالقادری کا کردار آغاز تحریک منہاج القرآن کے سربراہ علامہ طاہرالقادری سے کرتے ہیں۔ علامہ صاحب ایک معروف دینی سکالر اور خطیب ہونے کی شہرت رکھتے ہیں۔وہ اپنے بعض بیانات اور ماضی میں چند ایشوز پرموقف بدلتے رہنے کے باعث متنازع رہے ہیں۔ 80ء کی دہائی میں ان کی بشارتوں کے حوالے سے بیان کئے گئے بعض خواب اوراپنے اوپر قاتلانہ حملے کے دعوے کے حوالے سے لاہور ہائیکورٹ کے ٹریبونل کی رپورٹ ہمیشہ ان کے خلاف استعمال کی جاتی ہے۔پولیٹیکل سائنس کی اصطلاح میں وہ اچھے خاصے بوجھ(Baggage)کے ساتھ سیاست کی وادی خارزار میںسفر کر رہے تھے۔ چند برس قبل وہ جنرل پرویز مشرف کے دور میں اسمبلی کی رکنیت سے استعفا دے کر کینیڈا چلے گئے تھے، اس وقت کہا گیا کہ وہ اپنا زیادہ وقت علمی وتدریسی مشاغل کو دینا چاہتے ہیں۔ تین چار سال پہلے انہیں وہاں کی نیشنلٹی بھی مل گئی۔اس دوران علامہ صاحب سیاست سے قدرے دور رہے ،مگر ان کے پاکستان میں رابطے مسلسل قائم رہے، منہاج القرآن کا بڑا تعلیمی نیٹ ورک پچھلے چند برسوں میں بہت زیادہ بڑھا، یہ سب علامہ صاحب کی نگرانی میں ہوا۔ اس دوران ان کی تحریر کردہ کئی کتب بھی شائع ہوئیں، جن میں ترجمہ قرآن ’’عرفان القرآن‘‘، احادیث کا مجموعہ اور خودکش حملوں کے خلاف کئی سو صفحوں پر محیط ایک مبسوط فتویٰ قابل ذکر ہے۔ پاکستانی میڈیا لانگ مارچ کے دنوں میںقادری صاحب سے بار بار یہ کہتا رہا کہ آپ اچانک کیسے آ گئے؟ دراصل یہ ہمارے تجزیہ کاروں اور نیوز اینکرز کی روایتی لاعلمی اوربے خبری تھی۔ سیاست کو باریک بینی سے مانیٹر کرنے والے جانتے تھے کہ طاہرالقادری صاحب بتدریج سیاسی اعتبار سے فعال ہو رہے ہیں۔ سال ڈیڑھ پہلے سے لاہور کے بعض موٹر رکشوں کے پیچھے قادری صاحب کا یہ نعرہ نمودار ہوا،چہرے نہیں، نظام بدلو۔ نظام بدلو کے نام سے ایک ویب سائیٹ بھی بنا دی گئی تھی۔اس کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر قادری صاحب کے حامی اچانک ہی بہت متحرک ہوگئے تھے۔ نظام بدلنے اور قومی سیاست میں جوہری تبدیلیاں لانے کے حوالے سے قادری صاحب کی تقاریر کے ویڈیو کلپس اور تحریریں فیس بک پیجز پر لگائی جانے لگیں۔ رفتہ رفتہ یہ عمل بڑا تیز ہوگیا ۔ اس وقت بھی سوشل میڈیا پر دو تین سب سے متحرک گروپوں میں سے ایک تحریک منہاج القرآن ہے۔ تئیس دسمبر کے جلسے سے چار پانچ ماہ پہلے قادری صاحب نے لاہور کے تھنک ٹینک کونسل آف نیشنل افئیرز کے صحافیوں اور دانشوروں کو منہاج مرکز میں دعوت دی اور ویڈیو کانفرنس کے ذریعے انہیں بریفنگ دی، سوال جواب کا سیشن بھی ہوا۔ اس میں قادری صاحب نے بتایا کہ وہ پاکستان واپس آ رہے ہیں اور ایک بڑا جلسہ کریں گے۔ تاہم اخبار نویسوں نے قادری صاحب کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا۔پھر تئیس دسمبر کے جلسے کے لئے کمپین شروع ہوگئی، دسمبر کے اوائل میں میڈیا کو احساس ہوا کہ قادری صاحب کے حامی جس محنت سے مہم چلا رہے ہیں، وہ بڑا جلسہ کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ پھر ایسا ہی ہوا۔ قادری صاحب نے پہلے اپنے جلسے ، لانگ مارچ اور پھر چار پانچ دن کے دھرنے کے بعد اپنا امیج تبدیل کر لیا۔ ایک غیر اہم، مبالغہ آمیز تقاریر کرنے والے خطیب کے بجائے اب انہیں ایک اہم ، عوامی مقبولیت رکھنے والا طاقتور سیاستدان تصور کیا جائے گا۔ آئندہ میڈیا یا کوئی سیاسی جماعت انہیں Easy نہیں لے گی۔ ان کے کسی دعوے یا اعلان کو نظرانداز کرنا اب ممکن نہیں۔ بڑی مہارت اور دانشمندی سے انہوں نے اپنے پتے کھیلے اور اسلام آباد کے قلب میں پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔انہوں نے اپنے سیاسی حریفوں کو ایک طرح سے آئوٹ کلاس کر دیا۔ان کا اعتماد بھی دیدنی تھا، چودھری برادران کے پیچھے ہٹنے اور عین وقت پر ایم کیو ایم کے دغا دے جانے کے باوجود وہ اپنے پروگرام سے پیچھے نہیں ہٹے اور کامیابی حاصل کر لی۔ وہ ایک ایسے سیاستدان کے طور پر ابھرے ہیں، جن کی اب ہمارے سیاسی منظرنامے میں ایک خاص جگہ اور مستقبل ہے۔انہوں نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ وہ لاکھوں افراد کے لئے ایک روحانی رہنما کی حیثیت بھی رکھتے ہیں، ایسا لیڈر جس کے کہنے پر لوگ اپنے معصوم شیر خوار بچے ساتھ لے کر میدان میں کود سکتے ہیں۔ایک زمانے میں پیر پگارا کے حروں کو یہ حیثیت حاصل تھی۔ تحریک منہاج القرآن کا تاثر ایک خالصتاً علمی اور دعوتی تحریک کا تھا، اب اس نے یہ بھی ثابت کر دیا کہ ان کے پاس انتہائی منظم اور مشکل ترین حالات میں ڈسپلن قائم رکھنے والے کارکن موجود ہیں۔ ایسے کارکن جن پر کسی قسم کے پروپیگنڈہ کا کوئی اثر نہیںاور وہ رہنمائی کے لئے اپنے قائد کی جانب ہی دیکھتے ہیں۔ دھرنے کے سبق قادری صاحب کو بھی یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ خطابت اپنی جگہ ،مگر مطالبے وہی مانے جاتے ہیں جو حقیقت پسندانہ ہوں اور جن کی وسیع پیمانے پر پزیرائی ہوسکے۔انہوں نے اسلام آباد پہنچنے کے بعد شروع میںغیر حقیقی مطالبے کئے، حکومت اور وزرا کو سابق اور پارلیمنٹ کی تحلیل اورالیکشن کمیشن کی فوری تشکیل نو کا کہا۔ یہ مطالبے مانے جانے والے نہیں تھے ، شائد وہ دبائو بڑھانے کے لئے ایسا کر رہے تھے ، مگر ان کا زیادہ مثبت اثر نہیں ہوا۔ بعد میںانہوں نے دانشمندی سے اپنے پرانے اور حقیقی نکات پر توجہ دی اور کم وبیش تمام مطالبے منوا لئے۔ اگلے روز اگرچہ میڈیا کے ایک حصے نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ قادری صاحب کے مطالبے نہ مانے گئے ، مگرحقیقت اس کے برعکس تھی۔ علامہ طاہرالقادری کا اصل مطالبہ آئین کے آرٹیکل باسٹھ ، تریسٹھ کے امیدواروں پر اطلاق، سکروٹنی کی مدت میں توسیع اور عوامی نمائندگی ایکٹ کی شق 77تا 82 میں تبدیلی لانا تھا۔ الیکشن کمیشن کے اختیارات میں اضافہ کامطالبہ بھی اس وجہ سے تھا۔ یہ تمام باتیں مانی گئی ہیں، نگران وزیراعظم کے لئے بھی انہیں ایک سٹیک ہولڈر کے طور پر مان لیا گیا ہے۔ اگر اس معاہدے پر عمل درآمد ہوا تو بڑی حد تک بدنام اور کرپٹ امیدواروں کا صفایا ہوجائے گا۔اس لحاظ سے بڑی کامیابی کہی جا سکتی ہے۔تحریک منہاج القرآن کو یقیناً یہ اندازہ ہو گیا ہو گا کہ دھرنے کے آخری روز بارش کے باعث ان کے لئے آپشنز محدود ہوگئی تھیں، اس سے پہلے بعض اپوزیشن جماعتوں نے میاں نواز شریف کی قیادت میں مشترکہ اعلامیہ جا ری کر کے قادری صاحب اور ان کے حامیوں کو سیاسی طور پر تنہا کر دیا تھا۔ یوں لگ رہا تھا کہ وہ بند گلی میں چلے گئے ہیں، اگر حکومت دانشمندی سے کام نہ لیتی ، مذاکرات نہ کرتی اور محفوظ راستہ نہ دیتی توصورتحال خاصی مشکل ہو گئی تھی۔ سیاست میں واپسی کے راستے کھلے رکھنے چاہیں، قادری صاحب نے ایسا نہیں کیا، وہ انتہا پر چلے گئے تھے۔ تیونس، مصر اور یمن وغیر ہ میں عرب سپرنگ کی کامیابی کی ایک وجہ ان ممالک کے دارالحکومت کی خاص پوزیشن تھی۔ مصر میں تحریر اسکوائر پر جمع ہونے والے لاکھوں افراد قاہرہ کے رہائشی تھے، اگرچہ دوسرے شہروں سے بھی لوگ آئے ،مگر بنیادی طور پر وہ مظاہرے ان شہروں کے اپنی آبادی نے کئے تھے۔ یہی تیونس اور یمن میں ہوا۔ لیبیا اور شام میں صورتحال مختلف تھی، وہاں دارالحکومت میں اپوزیشن کی گرفت مضبوط نہیں تھی، اس لئے ان مظاہروں کا اس طرح اثر نہ ہوسکا۔ کوئٹہ میں ہزارہ کمیونٹی کا دھرنا بھی وہاں کے مقامی آبادی کا اجتماع تھا، جن کے لئے گھروں سے ساز وسامان لانا بھی آسان تھا اور لوگ اپنی پوزیشنیں بھی بدل سکتے تھے۔ ایک دو راتوں کے بعد ضرورت پڑنے پر چند گھنٹوں کے لئے اپنے گھروں میں سستایا جا سکتا تھا۔ قادری صاحب کے لانگ مارچ میں ایسی کوئی سہولت موجود نہیں تھی۔ اس کا تمام تر دارومدار شرکا کے عزم وایثار پر تھا۔ اگر چہ قادری صاحب خوش قسمتی سے اس بار کامیاب ہوئے ،مگر شرکا کا اس قدر سخت امتحان لینا رسک ہوتا ہے، اگر ایسی بارش دو دن پہلے ہوجاتی ، تب کیا ہوتا؟اس وقت تک تو دھرنے کا ٹیمپو بھی نہیں بنا تھا۔ حکومتی اتحادکی سیاسی کامیابی پیپلز پارٹی کی حکومت پر بہت سے حوالوں سے سخت تنقید کی جاتی ہے، جو یکسر بے وزن بھی نہیں، ایک بات مگر اس نے یہ ثابت کر دی ہے کہ وہ ایک سیاسی جماعت ہے اور سیاسی انداز سے سوچتی ہے۔ ایک وقت میں وفاقی حکومت سخت مشکلات کا شکار تھی، پنجاب حکومت لانگ مارچ کو پنڈی پہنچا کر سکون سے تماشا دیکھ رہی تھی،تمام تر دبائو مرکز پر تھا۔ اس مشکل وقت میں پیپلز پارٹی نے اپنے اتحادیوں کو ساتھ ملایا اوراعلیٰ سطحی وفد کے ذریعے مذاکرات کئے ،یوں ڈیڈلاک بھی ختم کیا اوراس معاہدے پر عمل درآمد کرا کر وہ الیکشن کے عمل کا شفاف بنانے کا کریڈٹ بھی لے سکتی ہے۔ پیپلز پارٹی نے اپنے سخت گیر سوچ رکھنے والوں کو سائیڈ پر کیا اور اس کے ثمرات بھی انہیں مل گئے۔ اگر خدانخواستہ تصادم ہوجاتا تو اس کے خوفناک نتائج نکلتے۔ لال مسجد کے سانحے کے اثرات سے ہم ابھی تک نہیں نکل سکے، ملک کسی اور ہولناک واقعہ کا متحمل نہیں ہوسکتا۔پیپلز پارٹی کا اصل امتحان لانگ مارچ ڈیکلئریشن پر عمل کرانا ہے۔ انہیں یہ سمجھنا ہوگا کہ صرف منہاج القرآن ہی نہیں بلکہ ملک بھر میں انتخابی اصلاحات کی خواہش موجود ہے۔ یہ اچھا موقعہ ہے کہ ہمارے سیاستدان جمہوری نظام کی تطہیر کریں، اس سے جمہوریت دشمن قوتوں کو شدید حوصلہ شکنی ہوگی۔ میڈیا اور تجزیہ کار اب یہ مان لینا چاہیے کہ میڈیا اور ہمارے تجزیہ کاروں نے علامہ طاہرالقادری کو انڈر اسٹیمیٹ کیا۔ وہ علامہ صاحب کے شخصی اثر اور قوت کا اندازہ نہ لگا سکے۔ میڈیا کے بیشتر حصے کو یقین تھا کہ لانگ مارچ ہو ہی نہیں سکے گا۔دھرنے کے دوران بھی کوریج کرتے ہوئے انہیں شرکا ء کے موڈکا اندازہ نہیں ہوسکا۔ کئی اینکر خواتین چیختی رہیں کہ آپ لوگوں کو سردی کیوں نہیں لگ رہی، بچے بیمار ہوجائیں گے وغیرہ وغیرہ۔ انہیںسمجھنا چاہیے تھا کہ لوگ کسی جذبے اور کمٹمنٹ کے ساتھ ہی یہاں تک آئے ہیں اور یہ یوں واپس نہیں جائیں گے۔ ہمارے اہل دانش اور تجزیہ کاروں نے سب سے اہم غلطی یہ کی کہ انہوں نے طاہرالقادری کی شخصیت کو بے رحمی سے نشانہ بنایا ،مگر ان کے ایجنڈے کو نظر انداز کر گئے۔ انہیں یہ ادراک نہ ہوسکا کہ انتخابی اصلاحات کرنا اور تبدیلی لانے کے ایجنڈے کی عوام میں زبردست کشش موجود ہے۔ قادری صاحب نے اس خلا میں قدم رکھا ،جو ہماری دوسری سیاسی جماعتیں پر کرنے میں ناکام رہیں۔ جیسا کہ شرکا کے انٹرویوز سے ظاہر بھی ہوا کہ ان میں تمام لوگ منہاج القرآن کے نہیں تھے، بہت سے لوگوں نے بتایا کہ وہ عمران خان کے ووٹر ہیں، بعض دوسری جماعتوں کے حامی بھی تھے۔ ایجنڈے پر زیادہ بات ہونا چاہیے تھی، وہ نہ ہوسکی اور تمسخر،پیروڈی،طنز وتشنیع ہمارے میڈیا پر حاوی رہے۔ یہی وجہ ہے کہ جمعہ کو دھرنے کی کامیابی کے بعد بہت سے اینکروں اور تجزیہ کاروں کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا ردعمل دیں۔ جن باتوں کا وہ مذاق اڑاتے رہے، وہ تقریباً سب مان لی گئیں۔ جہاں تک اسمبلیوں کی تحلیل اور الیکشن کمیشن کی فوری تشکیل کی بات تھی، یہ دبائو بڑھانے کا حربہ تھا، حقیقی مطالبہ نہیں تھا۔میڈیا اور انٹیلی جنشیا کو آنے والے دنوں میں زیادہ محتاط اور باریک بین ہونا پڑے گا۔ الیکشن میں اصلاحات کے عمل پر بھی نظر رکھنے کی ضرورت پڑے گی۔ مسلم لیگ ن مسلم لیگ ن نے بظاہر بڑی عقل مندی اور ہوشیاری سے چالیں چلیں۔ انہوں نے لانگ مارچ کو روکنے کی کوئی کوشش نہیں کی کہ اس کا رخ اسلام آباد کی جانب تھا۔ جب انہوں نے محسوس کیا کہ دھرنے میں خاصے لو گ آگئے ہیں اور یہ اجتماع خطرناک ثابت ہوسکتا ہے تووہ متحرک ہوئے۔ میاں صاحب نے کمال مہارت سے کئی اہم جماعتوںسے رابطے کئے۔ بلوچستان سے اچکزئی صاحب اور حاصل بزنجو کے ساتھ ساتھ مولانا فضل الرحمن اورجماعت اسلامی کو ساتھ ملا لینا ان کی بڑی کامیابی تھی۔ انہوں نے اپنے مشترکہ اعلامیہ سے علامہ طاہرالقادری کو بالکل تنہا کر دیا۔ یہ جمہوریت کے لئے اچھا شگون تھا کہ ہماری سیاسی جماعتیں ہر قسم کی تبدیلی کے لئے انتخابات کی جانب ہی دیکھنے لگی ہیں۔ میاں صاحب نے دانستہ یا نا دانستہ ایک بڑی غلطی یہ کی کہ انہوں نے قادری صاحب کو محفوظ راستہ نہیں دیا۔اے پی سی کے شرکا میں سے کسی نے یہ نہیں سوچا کہ اسلام آباد میںکئی روز سے ہزاروں افراد کا دھرنا جاری ہے۔دھرنے کے شرکا اور ان کے لیڈر قادری صاحب اتنا آگے جا چکے ہیں کہ ان کے لئے کچھ حاصل کئے بغیر واپس لوٹنا شرمندگی کے مترادف ہے۔ انہیں محفوظ راستہ دینا (Face saving)دینا ضروری تھا۔ دوسری صورت میں شرکاء فرسٹریٹ ہو کر تصادم کی طرف جا سکتے تھے، ایسا ہو جاتا تو پھر کچھ بھی نہ بچ پاتا۔ جس طرح کا اعلیٰ سطحی وفد حکومت نے مذاکرات کے لئے بھیجا، ویسا کام پہلے نواز شریف صاحب بھی کر سکتے تھے۔ اگر ایسا کرتے تو وہ محاورے کے مطابق میلہ لوٹ لیتے۔ انہوں نے ایسا نہیں کیا، شائد وہ اپنی مخالف وفاقی حکومت کو ٹف ٹائم دینا چاہتے تھے، مگر اختتام میں اس کا تمام تر نقصان انہیں ہی ہوا۔ ٹی وی چینلز پر ن لیگ کے رہنمائوں کی تلخی دیکھ کر انہیں پہنچنے والے دھچکے کی شدت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ ؟ ہمارے اہل دانش اور تجزیہ کاروں کو ہر ایشو میں اسٹیبلشمنٹ کا کردار دیکھنے کا رویہ بھی بدلنا ہوگا۔ یوں لگتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کا آسیب ان کی دانش کے گرد لپٹ گیا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کے حوالے سے ویسے بھی دو تین باتیں سمجھنی چاہیں۔ دنیا بھر میں اسٹیبلشمنٹ ہمیشہ پر و’’ سٹیٹس کو‘‘ ہوتی ہے۔ نظام بدلنے یا تبدیلی لانے کا نعرہ کبھی انہیں راس نہیں ہوتا۔ ایسا نعرہ لگانے والوں کو ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ قادری صاحب والے معاملے کو زیادہ غور سے دیکھنا چاہیے تھا۔ اگر اس میں اسٹیبلشمنٹ شامل ہوتی تو معروف اسٹیبلشمنٹ نواز جماعتیں اس سے دور نہ رہتیں اور وعدہ کر کے واپس نہ چلی جاتیں۔ جو مارچ یا دھرنا اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر کیا جاتا ہے ، اس کے تیور ہی الگ ہوتے ہیں، اس کے شرکا شروع ہی سے ڈنڈے لے کر چلتے ہیں اور تباہی ان کا مشن ہوتی ہے۔ ایسے جلوسوں میں لوگ خود اپنی خوشی سے اپنی بیویوں، بہنوں اور شیر خوار بچوں کو نہیں لاتے۔ پیسے خواہ جتنے ملیں، اولاد آدمی کو اپنی جان سے بھی زیادہ پیاری ہوتی ہے۔ اس دھرنے کے پرامن اختتام نے یہ ثابت کر دیا کہ اسٹیبلشمنٹ کی رٹ لگانے والے تجزیہ کاروں نے ٹھوکر کھائی، اصولاً تو انہیں اپنے قارئین اور ناظرین سے معذرت کرنی چاہیے، مگرافسوس کہ ہمارے ہاں ایسی اچھی روایتیں موجود نہیں۔ ویسے اس حوالے سے فورسز کا رویہ مثبت رہا۔ کورکمانڈرز کانفرنس کو بعض حلقوں نے معنی خیز نظروں سے دیکھا ،مگر آئی ایس پی آر نے بروقت وضاحت کر دی۔ ہماری مقتدرہ قوتوں کو یہ یاد رکھناچاہیے کہ سیاست صرف سیاستدانوں کے کھیلنے کا میدان ہے۔ عسکری قوتوںکو اپنے پروفیشنل فرائض ہی انجام دینے چاہیں۔ ایسا کرنا ہی ان کے وقاراور عزت میں اضافہ کرے گا۔ اس دھرنے کا پرامن انجام یہ ثابت کرتا ہے کہ ملک میں جمہوریت پنپ رہی ہے اورہمارا بظاہر کمزور جمہوری سسٹم اس قسم کے بڑے دھچکوں کو برداشت کرنے کی سکت اور قوت رکھتا ہے۔اس سے ہمارے سیاستدانوں اور جمہوری قوتوں نے خاصا کچھ سیکھا ہوگا۔ تحریک انصاف عمران خان اور ان کے بعض حامیوں کو ممکن ہے اب اندازہ ہو رہا ہو کہ انہوں نے ملنے والے ایک بڑے موقع سے فائدہ نہیں اٹھایا۔ تحریک انصاف میں لانگ مارچ کے حمایت میں ایک مضبوط لابی موجود تھی،ان کے کئی اہم سیاسی لیڈروں کا خیال تھا کہ ہمیں قادری صاحب کے ساتھ شامل ہونا چاہیے، ان کی جماعت کا سیاسی نیٹ ورک موجود نہیں ،ا س لئے سیاسی کامیابی کے تمام تر ثمرات تحریک انصاف کو پہنچیں گے۔ اس لابی کی بات نہیں مانی گئی، عمران خان اور ان کے بعض غیر سیاسی مگر پارٹی کے لئے تھنک ٹینک کا درجہ رکھنے والے لوگوں کی بات مانی گئی۔ تاہم عمران خان نے لانگ مارچ اور دھرنے پر تنقید بالکل نہیں کی، وہ اسے بڑی احیتاط سے دیکھتے رہے، جائزہ لیتے رہے ،مگر شامل نہیں ہوئے۔ ممکن ہے انہیں خطرہ ہو کہ یہ دھرنا کسی اور جانب جا سکتا ہے۔ انہوں نے اپنی تمام تر توجہ انتخابات کی جانب مبذول کی اور اس حوالے سے دبائو بڑھانے کی کوشش کی ،مگر تحریک انصاف کے بہت سے نوجوان کارکنوں کو اب یقیناً مایوسی ہو رہی ہوگی۔پی ٹی آئی نے اس معاملے میں اگرچہ کھویا بھی زیادہ نہیں۔ ان کے لئے انتخابات کے حوالے سے قادری صاحب کے ساتھ ہاتھ ملانے کی آپشن موجود ہے۔دیکھنا یہ ہے کہ تحریک انصاف آنے والے دنوں میں کیسے پتے چلتی ہے؟

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
شرفِ انسانی عزت ،احترام اور مساوات کا عالمی پیغام

شرفِ انسانی عزت ،احترام اور مساوات کا عالمی پیغام

انسانی وقار کسی عہدے، دولت، رنگ، نسل یا سماجی مرتبے کا محتاج نہیں، یہ ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ مہذب معاشرے کی پہچان اس کی بلند و بالا عمارتوں، جدید ٹیکنالوجی یا معاشی ترقی سے زیادہ اس رویے سے ہوتی ہے جو اس کے افراد ایک دوسرے کے ساتھ اختیار کرتے ہیں۔ کسی معاشرے میں انسان کی عزت کو اس کی حیثیت اور دولت کے بجائے اس کی انسانیت کی بنیاد پر تسلیم کیا جاتا ہے تو وہاں حقیقی ترقی، امن اور سماجی ہم آہنگی کی راہیں ہموار ہوتی ہیں۔'عالمی یومِ انسانی وقار‘ جو کہ اکتوبر کے تیسرے بدھ کو منایا جاتا ہے، اسی بنیادی انسانی قدر کی یاد دہانی کراتا ہے کہ دنیا کا ہر فرد عزت، احترام اور مساوی سلوک کا مستحق ہے۔انسانی وقار کا مفہوم اور اہمیتوقار محض ایک لفظ نہیں بلکہ انسانی شخصیت کی بنیادی قدر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر انسان کو ایک باعزت زندگی گزارنے، اپنی رائے کا اظہار کرنے، اپنے حقوق سے فائدہ اٹھانے اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔ کسی شخص کو اس کی غربت، جسمانی معذوری یا سماجی حیثیت کی وجہ سے کمتر سمجھنا انسانی وقار کے منافی ہے۔انسانی تاریخ گواہ ہے کہ جہاں انسانوں کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کیا گیا، وہاں نفرت، استحصال، ناانصافی اور تصادم نے جنم لیا۔ اس کے برعکس جن معاشروں نے انسانی عزت، قانون کی بالادستی اور مساوات کو فروغ دیا، وہاں سماجی استحکام اور باہمی اعتماد کو تقویت ملی۔ یہی وجہ ہے کہ انسانی وقار کا تحفظ صرف اخلاقی ذمہ داری نہیں بلکہ پرامن اور ترقی یافتہ معاشرے کی بنیادی ضرورت بھی ہے۔اقوام متحدہ کے منشور اور انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے میں بھی انسانی وقار اور تمام انسانوں کے مساوی حقوق کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ اس اصول کی روشنی میں ہر ریاست اور معاشرے کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ایسے حالات پیدا کرے جن میں کسی انسان کی تذلیل نہ ہو اور ہر فرد کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا مناسب موقع میسر آئے۔معاشرتی رویے اور احترامِ انسانیتانسانی وقار کا اصل امتحان روزمرہ زندگی میں ہوتا ہے۔ ہم اکثر بڑے بڑے اصولوں کی بات کرتے ہیں لیکن عملی زندگی میں اپنے سے کمزور افراد کے ساتھ ہمارا رویہ ان دعوؤں کی حقیقت واضح کر دیتا ہے۔کسی شخص کو اس کی مالی حیثیت کی وجہ سے حقیر سمجھنا، کسی کمزور کا مذاق اڑانا، عوامی مقامات پر کسی کی تضحیک کرنا یا اختلافِ رائے کی بنیاد پر کسی کی کردار کشی کرنا ایسے رویے ہیں جو انسانی وقار کو مجروح کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے سوشل میڈیا نے تضحیک، توہین اور کردار کشی کو عام کرنے میں کردار ادا کیا ہے۔ کسی کی تصویر یا ویڈیو کو مذاق کا نشانہ بنانا، بغیر تصدیق الزام لگانا اور ذاتی معلومات کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کرنا نہ صرف غیر ذمہ دارانہ عمل ہے بلکہ کسی کی عزت اور نجی زندگی پر حملہ بھی ہو سکتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی گفتگو، تحریر اور ڈیجیٹل سرگرمیوں میں شائستگی کو فروغ دیں۔ اختلاف ضرور کیا جائے مگر دلیل کے ساتھ، تنقید ضرور کی جائے مگر تہذیب کے دائرے میں رہ کر۔ پاکستان میں انسانی وقار کے تقاضےپاکستانی معاشرے میں انسانی وقار کے تحفظ کی اہمیت کئی حوالوں سے نمایاں ہے۔ ہمارے ہاں غربت، طبقاتی فرق، صنفی امتیاز، کم عمر بچوں سے مشقت، ملازمت کے مقامات پر نامناسب رویے اور بعض کمزور طبقات کے حقوق سے متعلق مسائل موجود ہیں۔ ان مسائل کے حل کے لیے صرف قوانین بنانا کافی نہیں، ان پر مؤثر عمل درآمد اور معاشرتی سوچ میں مثبت تبدیلی بھی ضروری ہے۔آئینِ پاکستان شہریوں کی مساوات، انسانی وقار اور بنیادی حقوق کے تحفظ کو اہمیت دیتا ہے۔ اس اصول کا تقاضا ہے کہ ہر شہری کو قانون کے تحت عزت و انصاف ملے اور کسی شخص کے ساتھ اس کی معاشی یا سماجی حیثیت کی بنیاد پر امتیازی سلوک نہ کیا جائے۔ سرکاری اداروں، تعلیمی مراکز، ہسپتالوں اور کام کی جگہوں پر ایسا ماحول ہونا چاہیے جہاں ہر فرد کی بات سنی جائے، اس کے حقوق کا احترام کیا جائے اور اس کے ساتھ منصفانہ برتاؤ ہو۔خصوصی افراد، بزرگوں، خواتین، بچوں اور معاشی طور پر کمزور خاندانوں کے لیے سہولتوں کی فراہمی بھی انسانی وقار کے تحفظ کا حصہ ہے۔اس مقصد کے حصول میں خاندان، تعلیمی اداروں، ذرائع ابلاغ، مذہبی رہنماؤں اور ریاستی اداروں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ بچوں کو ابتدائی عمر ہی سے یہ سکھانا ضروری ہے کہ کسی انسان کی عزت اس کے لباس، زبان، دولت یا عہدے سے متعین نہیں ہوتی۔تعلیم، نوجوان اور بہتر مستقبلانسانی وقار کے فروغ میں تعلیم بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ تعلیم کا مقصد صرف معلومات فراہم کرنا یا روزگار کے مواقع پیدا کرنا نہیں، بلکہ انسان کو ذمہ دار، باشعور اور دوسروں کے حقوق کا احترام کرنے والا شہری بنانا بھی ہے۔ تعلیمی اداروں میں برداشت، مساوات، ہمدردی اور اختلافِ رائے کے احترام کو عملی طور پر فروغ دیا جانا چاہیے۔نوجوان اس حوالے سے خصوصی اہمیت رکھتے ہیں کیونکہ وہ مستقبل کے معاشرے کی تشکیل میں مرکزی کردار ادا کریں گے۔ وقار کا آغاز اپنے رویے سےعالمی یومِ انسانی وقار ہمیں یہ سوچنے کا موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم دوسروں کی عزت کے تحفظ کے لیے کیا کردار ادا کر رہے ہیں۔ کسی ضرورت مند کی مدد کرنا، محنت کش کی خدمات کو تسلیم کرنا، کمزور کے حق میں آواز اٹھانا، اختلاف رکھنے والے شخص کی بات سننا اور کسی کی تضحیک سے گریز کرنا ایسے عملی اقدامات ہیں جو انسانی وقار کو مضبوط بناتے ہیں۔بہتر معاشرے کی تعمیر اس وقت ممکن ہے جب عزت و احترام ہر انسان کا حق سمجھا جائے۔ اگر ہم اپنے گھروں، تعلیمی اداروں، دفاتر اور عوامی مقامات پر انسانی وقار کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنا لیں تو ایک زیادہ منصفانہ، پرامن اور ہمدرد معاشرے کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔

سپرال نینو

سپرال نینو

عالمی ماحولیاتی نظام کیلئے نیا خطرہقدرتی موسمیاتی نظام میں رونما ہونے والی تبدیلیاں کبھی کبھار پوری دنیا کے موسم، زراعت، سمندری حیات اور انسانی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہیں۔ ال نینو بھی ایسا ہی ایک قدرتی عمل ہے، لیکن 2026ء میں اس کے غیر معمولی طور پر طاقتور ہونے کے خدشات نے سائنسدانوں اور ماہرینِ ماحولیات کی تشویش بڑھا دی ہے۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر موجودہ ال نینو انتہائی شدت اختیار کرتا ہے تو اس کے اثرات صرف درجہ حرارت میں اضافے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ دنیا کے مختلف خطوں میں ماحولیاتی توازن، جنگلی حیات اور انسانی خوراک کے وسائل بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔امریکی ادارے نیشنل اوشیانک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن (NOAA) کی 8 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق ال نینو مضبوط ہو رہا ہے اور جنوری سے مارچ 2027 ء تک اس کے شدید یا انتہائی شدید رہنے کا امکان نمایاں ہے۔ تاہم اس کی شدت اور مختلف علاقوں پر اس کے اثرات کے بارے میں پیش گوئیوں کو مسلسل نئے مشاہدات کی روشنی میں جانچنا ضروری ہے۔ال نینو اور سپر ال نینو کیا ہے؟ال نینو بحرالکاہل کے خطِ استوا کے قریب سمندر کی سطح کے پانی کے معمول سے زیادہ گرم ہونے کے موسمیاتی عمل کو کہا جاتا ہے۔ اس تبدیلی سے سمندر اور فضا کے درمیان حرارت کا تبادلہ، ہواؤں کی سمت اور بارش کے معمولات متاثر ہوتے ہیں نتیجتاً دنیا کے ایک حصے میں خشک سالی ہو تی ہے جبکہ دوسرے حصے میں غیر معمولی بارشیں اور سیلاب آ سکتے ہیں۔جب بحرالکاہل کے پانی کا درجہ حرارت معمول سے بہت زیادہ بڑھ جائے اور اس کے ساتھ فضائی گردش میں نمایاں تبدیلیاں پیدا ہوں تو اسے سپر ال نینو کہا جاتا ہے۔ موجودہ صورتحال اس لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے کہ زمین پہلے ہی انسانی سرگرمیوں، بالخصوص فوسل فیول کے استعمال کے باعث گرم ہو رہی ہے۔ ایسے میں ال نینو کی اضافی حرارت عالمی درجہ حرارت کو مزید بلند کر سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق اس رجحان کا مطلب یہ نہیں کہ دنیا کے ہر علاقے میں یکساں گرمی یا خشک سالی ہوگی۔ اس کے اثرات خطے، موسم اور سمندر و فضا کی دیگر تبدیلیوں کے مطابق مختلف ہو سکتے ہیں۔ بحری اور جنگلی حیات پر اثرات سپر ال نینو کے ممکنہ اثرات میں سمندری ماحولیاتی نظام کو پہنچنے والا نقصان خاص طور پر تشویشناک ہے۔ سمندر کی سطح کا درجہ حرارت بڑھنے سے مرجان کی چٹانیں متاثر ہوتی ہیں، اس عمل کو کورل بلیچنگ کہا جاتا ہے۔مرجان کی چٹانیں بے شمار مچھلیوں اور دوسرے سمندری جانداروں کو خوراک، پناہ اور افزائش کے لیے جگہ فراہم کرتی ہیں۔ ان کی تباہی سے پورا غذائی سلسلہ متاثر ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ گرم پانی میں غذائی اجزا کی فراہمی اور سمندری جانداروں کی نقل مکانی میں تبدیلیاں مچھلیوں کی آبادی کو بھی نقصان پہنچا سکتی ہیں۔کہیں خشک سالی، کہیں سیلاب اور کہیں آگال نینو کے اثرات زمین پر شدید نوعیت کے ہوتے ہیں۔ بعض علاقوں میں بارشیں معمول سے کم ہونے کے باعث پانی کی قلت، فصلوں کی تباہی اور جنگلات میں آگ لگنے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ انڈونیشیا جیسے علاقوں میں خشک پیٹ لینڈز اور جنگلات میں آگ لگنے سے بڑے پیمانے پر دھواں اور کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج ہو تی ہے۔ اس سے انسانی صحت اور ماحول دونوں متاثر ہوتے ہیں۔اس کے برعکس جنوبی امریکہ کے ساحل اور مشرقی افریقہ کے بعض علاقوں میں شدید بارشوں اور سیلاب کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ یہ تمام اثرات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ جنگلات کی آگ سے خارج ہونے والی گرین ہاؤس گیسیں موسمیاتی تبدیلی میں اضافہ کرتی ہیں جبکہ پہلے سے کمزور ماحولیاتی نظام شدیدموسمی حالات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کھو سکتے ہیں۔ تاہم ہر آفت کو صرف ال نینو سے منسوب کرنا درست نہیں؛ مقامی حالات، انسانی سرگرمیاں اور طویل مدتی عالمی حدت بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔پاکستان کیلئے سبق پاکستان میں ال نینو کے اثرات خاص طور پر مون سون، پانی کی دستیابی، زراعت اور گرمی کی شدت کے حوالے سے اہم ہو سکتے ہیں۔ ماضی کے موسمیاتی مشاہدات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ال نینو جنوبی ایشیا کے مون سون پر اثر انداز ہو تا ہے لیکن اس کا نتیجہ ہر مرتبہ یکساں نہیں ہوتا۔ کہیں بارشوں میں کمی ہو سکتی ہے تو کہیں مقامی موسمی نظام کے باعث شدید بارشیں بھی ہو سکتی ہیں۔اگر بارشیں کم ہوں تو پنجاب اور سندھ کے زرعی علاقوں میں آب پاشی کی ضرورت بڑھ سکتی ہے، زیرِ زمین پانی پر دباؤ پڑتا ہے اور گندم سمیت اہم فصلوں کی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو تا ہے۔ان حالات میں بروقت موسمی پیشگوئی، پانی کا محتاط استعمال، فصلوں کی منصوبہ بندی اور کسانوں کو درست معلومات فراہم کرنا نہایت ضروری ہے۔ حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ موسمیاتی نگرانی کے نظام مضبوط کریں، خشک سالی اور سیلاب کے لیے پیشگی منصوبہ بندی کریں، جنگلات اور آبی وسائل کی حفاظت کریں اور ماحولیاتی نظام کی بحالی پر سرمایہ کاری بڑھائیں۔ طویل مدت میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی بھی ناگزیر ہے۔سپر ال نینو ایک قدرتی رجحان ہے مگر اس کے ممکنہ نقصانات کا پیمانہ اس بات پر بھی منحصر ہے کہ انسان اور معاشرے اس کے لیے کتنے تیار ہیں۔ بروقت سائنسی معلومات، مؤثر منصوبہ بندی اور قدرتی وسائل کے تحفظ کے ذریعے خطرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔ اصل چیلنج صرف ایک طاقتور موسمیاتی واقعے کا سامنا کرنا نہیں بلکہ بدلتی ہوئی آب و ہوا میں زمین کے نازک ماحولیاتی توازن کو محفوظ رکھنا ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

جنگِ ٹرافلگر جنگِ ٹرافلگر یورپ کی بحری تاریخ کی فیصلہ کن جنگوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس زمانے میں فرانس کا شہنشاہ نپولین بوناپارٹ یورپ پر اپنا اثرورسوخ بڑھا رہا تھا اور برطانیہ پر حملے کے امکانات بھی زیرِ غور تھے۔ اس مقصد کے لیے فرانسیسی اور ہسپانوی بحری بیڑوں کی مشترکہ طاقت اہم سمجھی جاتی تھی۔ 21 اکتوبر 1805ء کو برطانوی بحریہ کا مقابلہ فرانسیسی اور ہسپانوی بحری افواج سے ہوا۔ برطانوی بیڑے کی قیادت ایڈمرل ہوریشیو نیلسن کر رہے تھے۔ انہوں نے روایتی جنگی حکمتِ عملی سے ہٹ کر اپنے جہازوں کو دو کالموں میں آگے بڑھایا اور دشمن کی صفوں کو توڑنے کی کوشش کی۔ برطانیہ کو اس جنگ میں فیصلہ کن کامیابی حاصل ہوئی لیکن نیلسن جنگ کے دوران زخمی ہوئے اور بعد میں وفات پا گئے۔ تھامس ایڈیسن کا برقی بلب21 اکتوبر 1879ء کو امریکی موجد تھامس الوا ایڈیسن نے برقی روشنی کی ترقی میں ایک اہم کامیابی حاصل کی۔ انیسویں صدی میں گھروں، دکانوں اور کارخانوں میں روشنی کے لیے تیل کے چراغ اور گیس کے لیمپ عام تھے۔ ایڈیسن اور ان کی ٹیم ایک ایسا برقی بلب تیار کرنے پر کام کر رہے تھے جو مناسب مدت تک روشن رہ سکے۔ اس روز ان کی تجربہ گاہ میں کاربنائز کیے گئے دھاگے پر مشتمل ایک بلب کامیابی سے روشن ہوا اور کئی گھنٹوں تک جلتا رہا۔ یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ ایڈیسن برقی بلب کے پہلے موجد نہیں تھے؛ ان سے پہلے بھی مختلف موجد اس ٹیکنالوجی پر کام کر چکے تھے۔ تاہم ان کی کوششوں نے بلب کو زیادہ عملی اور تجارتی طور پر قابلِ استعمال بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ آچن پر اتحادیوں کا قبضہدوسری جنگِ عظیم کے آخری مرحلے میں 21 اکتوبر 1944ء کو امریکی افواج نے جرمنی کے شہر آچن پر قبضہ مکمل کر لیا۔ آچن مغربی جرمنی میں واقع ایک تاریخی شہر ہے جو اپنی جغرافیائی حیثیت کی وجہ سے اتحادی افواج کی پیش قدمی کے لیے اہم تھا۔ جون 1944ء میں نارمنڈی کے ساحل پر اتحادی افواج کے اترنے کے بعد مغربی یورپ میں جرمن فوجوں کے خلاف کارروائیاں تیز ہو گئی تھیں۔ امریکی فوجیوں نے آچن کے دفاع کے لیے موجود جرمن دستوں کے خلاف شدید لڑائی لڑی۔ تقریباً ایک ہفتے تک جاری رہنے والی شدید جنگ کے بعد جرمن مزاحمت ختم ہوئی اور شہر اتحادیوں کے قبضے میں آ گیا۔ آچن مغربی محاذ پر اتحادی افواج کے ہاتھوں قبضہ کیا جانے والا پہلا بڑا جرمن شہر تھا۔ فرانس میں خواتین کا ووٹ 21 اکتوبر 1945ء فرانس کی جمہوری تاریخ میں خواتین کے سیاسی حقوق کے حوالے سے ایک اہم دن تھا۔ اس روز فرانس میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات منعقد ہوئے اور فرانسیسی خواتین نے پہلی مرتبہ قومی سطح کے پارلیمانی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا حق استعمال کیا۔ فرانس میں خواتین کو ووٹ کا حق دینے کا قانونی فیصلہ اپریل 1944ء میں جنرل ڈیگال کی قیادت میں قائم عارضی حکومت کے دور میں کیا گیا تھا۔ تاہم اس حق کا عملی استعمال جنگِ عظیم دوم کے خاتمے کے بعد 1945ء میں ہونے والے انتخابات کے موقع پر سامنے آیا۔ اس پیش رفت کے بعد فرانسیسی خواتین پارلیمانی سیاست اور عوامی زندگی میں زیادہ مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل ہوئیں۔ ایبرفان کا المناک حادثہ21 اکتوبر 1966ء کو ویلز کے گاؤں ایبرفان میں ایک ایسا المناک حادثہ پیش آیا جس نے پورے برطانیہ کو صدمے سے دوچار کر دیا۔ اس علاقے میں کوئلے کی کانوں سے نکلنے والا فضلہ اور مٹی ایک بڑے ڈھیر کی صورت میں جمع کی جاتی تھی۔ مسلسل بارش کے باعث کان کے فضلے کا ایک بڑا حصہ غیر مستحکم ہو گیا اور اچانک ڈھلوان سے نیچے گاؤں کی طرف بہہ نکلا۔ مٹی اور کوئلے کے اس تودے نے راستے میں موجود عمارتوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور پینٹگلاس جونیئر سکول بھی اس کی زد میں آ گیا۔ حادثے میں مجموعی طور پر 144 افراد ہلاک ہوئے، جن میں 116 بچے شامل تھے۔ اس سانحے نے صنعتی فضلے کو محفوظ انداز میں ٹھکانے لگانے، کان کنی کے ضوابط اور خطرات کی بروقت نشاندہی کے بارے میں سنگین سوالات اٹھائے۔

2200 سال قدیم انگلیوں کے نشانات

2200 سال قدیم انگلیوں کے نشانات

ٹیراکوٹا آرمی کے معماروں کا راز چین کی ٹیراکوٹا آرمی دنیا کے حیرت انگیز تاریخی آثار میں شمار ہوتی ہے۔ مٹی سے بنے ہزاروں جنگجوؤں، گھوڑوں اور رتھوں پر مشتمل یہ عظیم مجموعہ دو ہزار سال سے زائد عرصے سے ماہرینِ آثارِ قدیمہ اور تاریخ کے شائقین کی توجہ کا مرکز ہے۔ ان مجسموں کی باریک کاریگری اور منفرد چہرے قدیم چینی تہذیب کی فنی مہارت کا ثبوت ہیں۔ تاہم ایک اہم سوال طویل عرصے سے موجود تھا کہ آخر اس عظیم منصوبے کو مکمل کرنے والے لوگ کون تھے؟تاہم مجسموں پر موجود انگلیوں کے نشانات نے ایک بڑا راز افشا کر دیا ہے اور ماہرین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ٹیراکوٹا آرمی کی تیاری میں صرف مرد ہی نہیں خواتین اور بچے بھی شریک تھے۔ ٹیراکوٹا آرمی کی تاریخٹیراکوٹا آرمی چین کے پہلے شہنشاہ چن شی ہوانگ (Qin Shi Huang) کے مقبرے کی حفاظت کے لیے تیار کی گئی تھی۔ انہوں نے 221 قبل مسیح میں چین کی مختلف ریاستوں کو متحد کرکے ایک مرکزی سلطنت قائم کی۔ ان کے دور میں بڑے تعمیراتی منصوبوں اور ریاستی انتظام کو غیر معمولی اہمیت حاصل تھی۔ 1974ء میں چین کے صوبے شانشی میں کنواں کھودتے ہوئے کسانوں کو زمین کے اندر مٹی کے جنگجوؤں کے ٹکڑے ملے۔ بعد ازاں ہونے والی کھدائی نے ایک وسیع زیرِ زمین مجموعے کا انکشاف کیا جس میں ہزاروں جنگجو، گھوڑے اور رتھ شامل تھے۔اس تاریخی مقام پر اب تک دریافت ہونے والے مجموعے میں تقریباً آٹھ ہزار جنگجوؤں، 130 رتھوں، رتھوں کے ساتھ منسلک 520 گھوڑوں اور گھڑ سواروں کے لیے بنائے گئے مزید 150 گھوڑوں کے مجسموں کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔مٹی پر محفوظ انگلیوں کے نشاناتٹیراکوٹا آرمی کے مجسمے تیار کرتے وقت کاریگر گیلی مٹی کو مختلف شکلیں دیتے ، جسم کے حصوں کو آپس میں جوڑتے اور زرہ بکتر پر آرائش کرتے تھے۔ اس عمل کے دوران ان کی انگلیوں کے نشانات مٹی پر ثبت ہوجاتے تھے۔ ہزاروں سال گزرنے کے باوجود بعض نشانات محفوظ رہ گئے جو اَب ماضی کے کاریگروں کے بارے میں معلومات فراہم کررہے ہیں۔محققین نے 36 جسموں کا جائزہ لیا۔ ابتدائی معائنے میں انگلیوں کے 91 نشانات ریکارڈ کیے گئے تاہم 12 نشانات کو خارج کردیا گیا کیونکہ وہ ممکنہ طور پر انہی افراد کے متعدد نشانات تھے۔ اس طرح تفصیلی تجزیے کے لیے 79 نشانات باقی رہ گئے۔یہ نشانات مجسموں کے سروں، بازوؤں، ہاتھوں، کالروں، زرہ بکتر اور دیگر حصوں پر پائے گئے۔ بعض نشانات اس وقت ثبت ہوئے جب کاریگر مٹی کے مختلف حصوں کو جوڑ رہے تھے جبکہ کچھ آرائشی اجزا کو مجسموں کی سطح پر دبانے سے بنے تھے۔انگلیوں کی لکیروں سے کیا معلوم ہوا؟سائنسدانوں نے انگلیوں کی باریک لکیروں کے درمیان فاصلے کی پیمائش کی۔ اس پیمائش کو سائنسی اصطلاح میںMean Ridge Breadth کہا جاتا ہے۔انسان کی نشوونما کے ساتھ انگلیوں کی لکیروں کے درمیان فاصلہ بڑھتا ہے۔محققین نے ان پیمائشوں کی بنیاد پر شماریاتی ماڈل استعمال کیا جس سے تمام نشانات میں مختلف آبادیاتی گروہوں کی ممکنہ نمائندگی کا اندازہ لگایا گیا۔نتائج کے مطابق تقریباً 45 فیصد نشانات بالغ مردوں، 32 فیصد بالغ خواتین اور 22 فیصد پندرہ سال سے کم عمر بچوں سے منسوب کیے گئے۔یہ اعداد اس امکان کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ٹیراکوٹا آرمی کی تیاری میں مختلف عمر اور جنس کے افراد شامل تھے۔ خواتین اور بچوں کا ممکنہ کردارقدیم چین میں ریاستی نگرانی میں چلنے والی ورکشاپس میں خواتین اور بچوں کی شرکت کے تاریخی شواہد موجود ہیں۔ چن خاندان کے دور سے تعلق رکھنے والی بانس کی تختیوں پر لکھی قانونی دستاویزات کاریگروں کی تربیت اور شاگردی کے نظام کے بارے میں معلومات فراہم کرتی ہیں۔ممکن ہے کہ کم عمر شاگردوں کو نسبتاً آسان کام دیے جاتے ہوں مثلاً زرہ بکتر پر چھوٹے آرائشی اجزا لگانا یا مٹی کے تیار شدہ حصوں کو جوڑنے میں مدد دینا جبکہ تجربہ کار کاریگر زیادہ پیچیدہ مجسمہ سازی اور باریک نقش و نگار کا کام انجام دیتے ہوں گے۔ماضی کے گمنام معماروں کی کہانیٹیراکوٹا آرمی محض مٹی کے جنگجوؤں کا مجموعہ نہیں بلکہ ہزاروں افراد کی محنت، مہارت اور اجتماعی کوششوں کی علامت ہے۔ نئی تحقیق اس امکان کو تقویت دیتی ہے کہ اس عظیم منصوبے کے پیچھے کام کرنے والی افرادی قوت متنوع تھی۔مستقبل میں مزید مجسموں پر انگلیوں کے نشانات کا تجزیہ اس سوال کے جواب کو زیادہ واضح کرسکتا ہے کہ قدیم چین میں خواتین، بچوں اور مردوں نے اس تاریخی شاہکار کی تیاری میں کس حد تک حصہ لیا تھا۔اس تحقیق کا سب سے اہم پیغام یہ ہے کہ تاریخ کے عظیم کارناموں کے پیچھے صرف بادشاہوں اور حکمرانوں کے فیصلے نہیں ہوتے بلکہ ان گنت گمنام افراد کی محنت بھی شامل ہوتی ہے۔ ٹیراکوٹا آرمی کے مجسموں پر محفوظ انگلیوں کے یہ نشانات آج بھی ان ہاتھوں کی کہانی سناتے ہیں جنہوں نے دو ہزار سال پہلے مٹی کو ایک لازوال تاریخی شاہکار میں ڈھال دیا۔

 خلا سے زمین تک بجلی

خلا سے زمین تک بجلی

لامحدود شمسی توانائی کے حصول کی نئی دوڑسائنسدان خلا میں ایسے بڑے شمسی بجلی گھر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں جو دن رات سورج کی توانائی حاصل کرکے مائیکروویوز کے ذریعے زمین تک پہنچا سکیں۔ چین، امریکہ، برطانیہ اور جاپان اس ٹیکنالوجی کو عملی شکل دینے کے لیے سرگرم ہیں۔سائنسی ویب سائٹ لائیو سائنس کی ایک رپورٹ کے مطابق خلائی شمسی توانائی کے منصوبوں میں کئی ممالک کی دلچسپی بڑھ رہی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے حامیوں کا خیال ہے کہ اگر اسے کامیابی سے عملی شکل دے دی جائے تو دنیا کی توانائی کی ضروریات کا بہت بڑا حصہ پورا کیا جا سکتا ہے۔ تاہم اس خواب کی تکمیل کے لیے ابھی اہم تکنیکی اور مالی مشکلات حل کرنا باقی ہیں۔ خلا میں شمسی بجلی گھر بنانے کا تصوراس منصوبے کا بنیادی خیال بظاہر سادہ ہے کہ زمین کے گرد مدار میں بڑے سیٹلائٹ نصب کیے جائیں جن پر وسیع شمسی پینل لگے ہوں۔ یہ پینل سورج کی روشنی سے بجلی پیدا کریں گے اور اس توانائی کو مخصوص نظام کے ذریعے مائیکروویوز میں تبدیل کرکے زمین پر بھیجا جائے گا جہاں اسے دوبارہ بجلی میں تبدیل کرکے بجلی کے قومی نظام میں شامل کیا جا سکے گا۔زمین کے برعکس خلا میں سورج کی روشنی کو فضا میں موجود بادلوں، گردوغبار اور دیگر عوامل سے گزرنا نہیں پڑتا۔ مناسب مدار میں نصب نظام کو طویل عرصے تک مسلسل دھوپ بھی مل سکتی ہے۔ اس طرح روایتی شمسی بجلی گھروں کے مقابلے میں زیادہ مستقل توانائی حاصل کرنے کا امکان پیدا ہوتا ہے۔سائنسدانوں کے مطابق اس نظام کا ایک اہم فائدہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بجلی کی پیداوار رات کے وقت مکمل طور پر بند نہ ہو۔ اگر سیٹلائٹ کا مدار اور نظام مناسب انداز میں ڈیزائن کیے جائیں تو زمین پر سورج غروب ہونے کے بعد بھی خلا سے توانائی بھیجی جا سکتی ہے۔ ایک پرانا خواب جو حقیقت کے قریب آ رہا ہےخلا سے توانائی حاصل کرنے کا خیال نیا نہیں۔ روسی سائنسدان اور خلائی سفر کے ابتدائی نظریات پیش کرنے والے کونسٹنٹین تسیا لکوفسکی نے 1923ء میں خلا میں آئینے نصب کرکے سورج کی روشنی کو مرتکز کرنے کا تصور پیش کیا تھا۔ بعد کے عشروں میں یہ خیال سائنس فکشن کا حصہ بنا اور بالآخر انجینئرز نے اسے بجلی پیدا کرنے کے ممکنہ طریقے کے طور پر سنجیدگی سے جانچنا شروع کیا۔1960ء کی دہائی میں امریکی سائنسدان پیٹر گلیزر نے خلائی شمسی توانائی کے ذریعے بجلی زمین تک پہنچانے کے تصور کو مزید منظم شکل دی۔ 1970ء کی دہائی میں ناسا نے بھی اس ٹیکنالوجی کے امکانات کا مطالعہ کیا لیکن اس زمانے میں سیٹلائٹس کی تیاری، انہیں خلا میں پہنچانے اور وہاں نصب کرنے کی لاگت بہت زیادہ تھی۔ابتدائی منصوبوں میں مطلوبہ مقدار میں بجلی پیدا کرنے کے لیے انتہائی بڑے اور بھاری ڈھانچوں کی ضرورت پڑتی تھی۔ 1981ء میں امریکی محکمہ توانائی کے ایک مطالعے میں 300 گیگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے تصور کے لیے درجنوں بڑے سیٹلائٹس کی ضرورت کا اندازہ لگایا گیا تھا۔ اس نوعیت کے منصوبے اس وقت کے وسائل اور ٹیکنالوجی کے لحاظ سے ناقابلِ برداشت سمجھے گئے۔تاہم گزشتہ چند دہائیوں میں ہلکے مواد، بہتر سولر سیلز، روبوٹکس اور خلائی لانچ ٹیکنالوجی میں ہونے والی ترقی نے اس تصور کو دوبارہ قابلِ غور بنا دیا ہے۔ اب سوال صرف یہ نہیں کہ یہ نظام بنایا جا سکتا ہے یا نہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ کیا اس سے پیدا ہونے والی بجلی مناسب قیمت پر صارفین تک پہنچائی جا سکتی ہے؟ چین، جاپان، برطانیہ اور امریکہ کی دوڑخلائی سولر انرجی کے حصول کے لیے مختلف ممالک اپنے اپنے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔ ان کوششوں کا مقصد یہ جانچنا ہے کہ آیا خلا میں بجلی پیدا کرکے اسے محفوظ اور مؤثر انداز میں زمین تک پہنچانا ممکن ہے یا نہیں۔چین کا ژو ری (ZhuRi) پروگرام، جس کا مفہوم ''سورج کا تعاقب‘‘ ہے اس شعبے میں نمایاں کوششوں میں شامل ہے۔ جاپان کا اوہی ساما (OHISAMA) منصوبہ بھی خلا سے زمین تک توانائی پہنچانے کے تجربات پر توجہ دے رہا ہے۔ دوسری جانب برطانیہ کی کمپنیSpace Solar ایک بڑے خلائی شمسی بجلی گھر کے ڈیزائن پر کام کر رہی ہے جبکہ امریکہ میںCaltech اور ایئر فورس ریسرچ لیبارٹری توانائی کی وائرلیس ترسیل کے تجربات میں مصروف ہیں۔ سپیس سولر کے مطابق اس کا ایک مکمل سیٹلائٹ تقریباً 1.6 کلومیٹر قطر کا ہوگا اور مسلسل دو گیگاواٹ تک بجلی زمین پرپہنچا سکتا ہے۔ یہ مقدار تقریباً 20 لاکھ افراد پر مشتمل شہر کی بجلی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہو سکتی ہے۔ لامحدود توانائی کا خواب اور چیلنجزخلائی سولر انرجی کی مجوزہ ٹیکنالوجی کے سامنے کئی چیلنجز ہیں۔سب سے پہلے ہزاروں ٹن وزنی سٹرکچر اور لاکھوں سولر پینلز کو خلا میں پہنچانا انتہائی مہنگا کام ہے۔ اس کے بعد مدار میں اتنے بڑے نظام کو جوڑنا، درست سمت میں رکھنا، اس کی مرمت کرنا اور اسے خلائی ملبے سے محفوظ رکھنا بھی بڑے چیلنج ہیں۔دوسرا مسئلہ انرجی کو مائیکروویوز میں تبدیل کرکے زمین تک پہنچانے کا ہے۔مگر سب سے اہم سوال لاگت کا ہے۔ اگر خلائی سولر انرجی، زمین پر نصب سولر پینلز، ہوا سے پیدا ہونے والی بجلی اورانرجی ذخیرہ کرنے کے نظام کے مقابلے میں بہت مہنگی ہوئی تو اس کا وسیع پیمانے پر استعمال مشکل ہوگا۔اس کے باوجود یہ ٹیکنالوجی مستقبل کی توانائی کیلئے ایک بڑا امکان پیش کرتی ہے۔ اگر انجینئرز کم لاگت والے لانچ، مؤثر توانائی کی ترسیل اور قابلِ اعتماد خلائی نظام تیار کرنے میں کامیاب ہو گئے تو دنیا کو صاف توانائی کا ایک نیا ذریعہ مل سکتا ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

ریاست لوزیانا کی خریداری 20 اکتوبر 1803ء کو امریکی سینیٹ نے فرانس سے لوزیانا کا وسیع علاقہ خریدنے کے معاہدے کی منظوری دی۔ یہ واقعہ ریاستہائے متحدہ امریکہ کی جغرافیائی توسیع اور مستقبل کی ترقی کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا تھا۔لوزیانا کا علاقہ دریائے مسیسیپی کے مغرب میں پھیلی ہوئی وسیع زمینوں پر مشتمل تھا جس میں آج کی کئی امریکی ریاستوں کے علاقے شامل ہیں۔اس خریداری کی مجموعی قیمت تقریباً 15 ملین ڈالر تھی۔ اس معاہدے کے نتیجے میں امریکہ کا رقبہ تقریباً دوگنا ہو گیا جس سے اسے مغرب کی جانب پھیلنے، زراعت کو فروغ دینے اور نئے وسائل تک رسائی حاصل کرنے کے مواقع ملے۔ تاہم اس توسیع کے نتیجے میں مقامی امریکی آبادیوں کی زمینوں اور حقوق سے متعلق مسائل بھی مزید سنگین ہوگئے۔ جنگِ آزادی یونان 20 اکتوبر 1827ء کو بحیرہ روم کے علاقے میں واقع خلیجِ ناوارینو، جو موجودہ یونان کے جنوب مغربی ساحل کے قریب ہے، ایک فیصلہ کن بحری جنگ کا میدان بنی۔ یہ جنگ یونان کی سلطنتِ عثمانیہ سے آزادی حاصل کرنے کی جدوجہد کے دوران لڑی گئی۔ برطانیہ، فرانس اور روس کے مشترکہ بحری بیڑے نے عثمانی اور مصری بحری افواج کا مقابلہ کیا۔ ان یورپی طاقتوں کا مقصد یونان میں جاری جنگ کو روکنے اور یونانیوں کے خلاف فوجی کارروائیوں کو محدود کرنے کے لیے دباؤ ڈالنا تھا۔ یہ جنگ بحری تاریخ میں اس لیے بھی اہم ہے کہ اسے بادبانی جہازوں کے ذریعے لڑی جانے والی آخری بڑی بحری جنگوں میں شمار کیا جاتا ہے۔اس فتح نے یونان کی آزادی کی جدوجہد کو فیصلہ کن تقویت دی۔ جنرل میک آرتھر کی واپسیدوسری جنگِ عظیم کے دوران 20 اکتوبر 1944ء کو امریکی جنرل ڈگلس میک آرتھر اتحادی افواج کے ساتھ فلپائن کے جزیرے لیئتے پر اترے۔ یہ واقعہ جاپانی قبضے سے فلپائن کو آزاد کرانے کی مہم میں ایک اہم سنگِ میل تھا۔ جاپانی افواج نے 1941ء اور 1942ء کے دوران فلپائن پر قبضہ کر لیا تھا جس کے بعد میک آرتھر کو امریکی اور فلپائنی افواج کے ساتھ وہاں سے نکلنا پڑا۔ روانگی کے وقت انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ واپس آئیں گے۔لیئتے پر اتحادی افواج کی تعیناتی ایک بڑے فوجی آپریشن کا حصہ تھی جس میں امریکی بحری اور زمینی افواج نے مشترکہ کارروائی کی۔ اس مہم کا مقصد فلپائن میں جاپانی فوجی طاقت کو کمزور کرنا اور بحرالکاہل میں اتحادی افواج کی پیش قدمی کو تیز کرنا تھا۔ چین بھارت جنگ 20 اکتوبر 1962ء کو چین اور بھارت کے درمیان سرحدی تنازع نے بڑے پیمانے کی جنگ کی شکل اختیار کر لی۔ دونوں ممالک کے درمیان سرحدوں کے تعین، تاریخی دعوؤں اور ہمالیائی علاقوں پر کنٹرول کے حوالے سے کشیدگی کئی برسوں سے جاری تھی۔ مشرقی حصے میں میک موہن لائن کے بارے میں اختلافات اور مغربی حصے میں لداخ کے علاقے پر دعوے اس تنازع کے بنیادی اسباب میں شامل تھے۔اس روز چینی افواج نے مشرقی سرحدی علاقے اور لداخ میں بھارتی چوکیوں پر حملے کیے۔یہ جنگ تقریباً ایک ماہ تک جاری رہی۔ چین نے 21 نومبر 1962ء کو جنگ بندی کی جس کے بعد مشرقی محاذ پر چینی افواج کی واپسی کا عمل شروع ہوا جبکہ مغربی علاقے خصوصاً اکسائی چن، کا تنازع برقرار رہا۔ واٹرگیٹ سکینڈل اور سنیچر نائٹ میسکر20 اکتوبر 1973ء کو امریکہ میں ایک ایسا سیاسی بحران پیدا ہوا جسے تاریخ میں سنیچر نائٹ میسکر (Saturday Night Massacre) کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ واقعہ صدر رچرڈ نکسن کے دورِ حکومت میں سامنے آنے والے واٹرگیٹ سکینڈل کا اہم مرحلہ تھا۔ واٹرگیٹ سکینڈل کا تعلق 1972ء میں ڈیموکریٹک پارٹی کے انتخابی ہیڈکوارٹر میں ہونے والی غیر قانونی دراندازی اور اس واقعے کو چھپانے کی کوششوں سے تھا۔ اس واقعے نے امریکی عوام اور سیاسی حلقوں میں شدید ردِعمل پیدا کیا بالآخر نکسن کی صدارت کے خاتمے کی جانب بڑھنے والے واقعات میں شامل ہوا۔ واٹرگیٹ سکینڈل کی تحقیقات اور وائٹ ہاؤس کی ریکارڈنگز سامنے آنے کے بعد صدر کے لیے سیاسی دباؤ بڑھتا گیا۔ بالآخر نکسن نے 9 اگست 1974ء کو استعفیٰ دے دیا۔