دھرنا: کیا کھویا, کیا پایا ؟

دھرنا: کیا کھویا, کیا پایا ؟

اسپیشل فیچر

تحریر : محمد عامر خاکوانی کا تجزیہ


جمعہ کی شام اسلام آبادمیں جاری دھرنے کے خوشگوار اختتام نے جہاں ملک بھر کے عوام کی بے چینی اور اضطراب کو دور کر دیا ، وہاںاس غیرمعمولی اہم واقعے نے ہمارے سیاسی اور جمہوری نظام کو بھی کئی نئے سبق دیے ہیں۔ ہماری سیاسی جماعتیں لانگ مارچ اور دھرنے کے ہفتہ بھر کے تجربے سے بہت کچھ سیکھ سکتی ہیں۔پاکستان کے عوام، سیاسی اشرافیہ اور مقتدر قوتوں نے یہ بھی ثابت کر دیا ہے کہ ان میں کم عمر ہونے کے باوجود پختگی اور شعور موجود ہے، مشرق وسطیٰ میں عرب سپرنگ یا عرب بہار کے برعکس یہاں پرزیادہ سمجھداری اور ہوشمندی کے ساتھ معاملات سلجھائے گئے۔ حالات بظاہر بندگلی میں چلے جانے کی نشاندہی دے رہے تھے ، مگر اچانک ہی فریقین نے ہوشمندی کا مظاہرہ کیا اورخوبصورتی سے اس پورے قضیے کو نمٹا دیا۔ اس ایک ہفتے کے دوران مختلف سیاسی قوتوں، انٹیلی جنشیا، میڈیا اورمقتدر قوتوں نے کیا کیا کردار ادا کیا،اس کے نتیجے میں انہیں کیا ملا…، اس پر ایک نظر ڈالتے ہیں: علامہ طاہرالقادری کا کردار آغاز تحریک منہاج القرآن کے سربراہ علامہ طاہرالقادری سے کرتے ہیں۔ علامہ صاحب ایک معروف دینی سکالر اور خطیب ہونے کی شہرت رکھتے ہیں۔وہ اپنے بعض بیانات اور ماضی میں چند ایشوز پرموقف بدلتے رہنے کے باعث متنازع رہے ہیں۔ 80ء کی دہائی میں ان کی بشارتوں کے حوالے سے بیان کئے گئے بعض خواب اوراپنے اوپر قاتلانہ حملے کے دعوے کے حوالے سے لاہور ہائیکورٹ کے ٹریبونل کی رپورٹ ہمیشہ ان کے خلاف استعمال کی جاتی ہے۔پولیٹیکل سائنس کی اصطلاح میں وہ اچھے خاصے بوجھ(Baggage)کے ساتھ سیاست کی وادی خارزار میںسفر کر رہے تھے۔ چند برس قبل وہ جنرل پرویز مشرف کے دور میں اسمبلی کی رکنیت سے استعفا دے کر کینیڈا چلے گئے تھے، اس وقت کہا گیا کہ وہ اپنا زیادہ وقت علمی وتدریسی مشاغل کو دینا چاہتے ہیں۔ تین چار سال پہلے انہیں وہاں کی نیشنلٹی بھی مل گئی۔اس دوران علامہ صاحب سیاست سے قدرے دور رہے ،مگر ان کے پاکستان میں رابطے مسلسل قائم رہے، منہاج القرآن کا بڑا تعلیمی نیٹ ورک پچھلے چند برسوں میں بہت زیادہ بڑھا، یہ سب علامہ صاحب کی نگرانی میں ہوا۔ اس دوران ان کی تحریر کردہ کئی کتب بھی شائع ہوئیں، جن میں ترجمہ قرآن ’’عرفان القرآن‘‘، احادیث کا مجموعہ اور خودکش حملوں کے خلاف کئی سو صفحوں پر محیط ایک مبسوط فتویٰ قابل ذکر ہے۔ پاکستانی میڈیا لانگ مارچ کے دنوں میںقادری صاحب سے بار بار یہ کہتا رہا کہ آپ اچانک کیسے آ گئے؟ دراصل یہ ہمارے تجزیہ کاروں اور نیوز اینکرز کی روایتی لاعلمی اوربے خبری تھی۔ سیاست کو باریک بینی سے مانیٹر کرنے والے جانتے تھے کہ طاہرالقادری صاحب بتدریج سیاسی اعتبار سے فعال ہو رہے ہیں۔ سال ڈیڑھ پہلے سے لاہور کے بعض موٹر رکشوں کے پیچھے قادری صاحب کا یہ نعرہ نمودار ہوا،چہرے نہیں، نظام بدلو۔ نظام بدلو کے نام سے ایک ویب سائیٹ بھی بنا دی گئی تھی۔اس کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر قادری صاحب کے حامی اچانک ہی بہت متحرک ہوگئے تھے۔ نظام بدلنے اور قومی سیاست میں جوہری تبدیلیاں لانے کے حوالے سے قادری صاحب کی تقاریر کے ویڈیو کلپس اور تحریریں فیس بک پیجز پر لگائی جانے لگیں۔ رفتہ رفتہ یہ عمل بڑا تیز ہوگیا ۔ اس وقت بھی سوشل میڈیا پر دو تین سب سے متحرک گروپوں میں سے ایک تحریک منہاج القرآن ہے۔ تئیس دسمبر کے جلسے سے چار پانچ ماہ پہلے قادری صاحب نے لاہور کے تھنک ٹینک کونسل آف نیشنل افئیرز کے صحافیوں اور دانشوروں کو منہاج مرکز میں دعوت دی اور ویڈیو کانفرنس کے ذریعے انہیں بریفنگ دی، سوال جواب کا سیشن بھی ہوا۔ اس میں قادری صاحب نے بتایا کہ وہ پاکستان واپس آ رہے ہیں اور ایک بڑا جلسہ کریں گے۔ تاہم اخبار نویسوں نے قادری صاحب کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا۔پھر تئیس دسمبر کے جلسے کے لئے کمپین شروع ہوگئی، دسمبر کے اوائل میں میڈیا کو احساس ہوا کہ قادری صاحب کے حامی جس محنت سے مہم چلا رہے ہیں، وہ بڑا جلسہ کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ پھر ایسا ہی ہوا۔ قادری صاحب نے پہلے اپنے جلسے ، لانگ مارچ اور پھر چار پانچ دن کے دھرنے کے بعد اپنا امیج تبدیل کر لیا۔ ایک غیر اہم، مبالغہ آمیز تقاریر کرنے والے خطیب کے بجائے اب انہیں ایک اہم ، عوامی مقبولیت رکھنے والا طاقتور سیاستدان تصور کیا جائے گا۔ آئندہ میڈیا یا کوئی سیاسی جماعت انہیں Easy نہیں لے گی۔ ان کے کسی دعوے یا اعلان کو نظرانداز کرنا اب ممکن نہیں۔ بڑی مہارت اور دانشمندی سے انہوں نے اپنے پتے کھیلے اور اسلام آباد کے قلب میں پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔انہوں نے اپنے سیاسی حریفوں کو ایک طرح سے آئوٹ کلاس کر دیا۔ان کا اعتماد بھی دیدنی تھا، چودھری برادران کے پیچھے ہٹنے اور عین وقت پر ایم کیو ایم کے دغا دے جانے کے باوجود وہ اپنے پروگرام سے پیچھے نہیں ہٹے اور کامیابی حاصل کر لی۔ وہ ایک ایسے سیاستدان کے طور پر ابھرے ہیں، جن کی اب ہمارے سیاسی منظرنامے میں ایک خاص جگہ اور مستقبل ہے۔انہوں نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ وہ لاکھوں افراد کے لئے ایک روحانی رہنما کی حیثیت بھی رکھتے ہیں، ایسا لیڈر جس کے کہنے پر لوگ اپنے معصوم شیر خوار بچے ساتھ لے کر میدان میں کود سکتے ہیں۔ایک زمانے میں پیر پگارا کے حروں کو یہ حیثیت حاصل تھی۔ تحریک منہاج القرآن کا تاثر ایک خالصتاً علمی اور دعوتی تحریک کا تھا، اب اس نے یہ بھی ثابت کر دیا کہ ان کے پاس انتہائی منظم اور مشکل ترین حالات میں ڈسپلن قائم رکھنے والے کارکن موجود ہیں۔ ایسے کارکن جن پر کسی قسم کے پروپیگنڈہ کا کوئی اثر نہیںاور وہ رہنمائی کے لئے اپنے قائد کی جانب ہی دیکھتے ہیں۔ دھرنے کے سبق قادری صاحب کو بھی یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ خطابت اپنی جگہ ،مگر مطالبے وہی مانے جاتے ہیں جو حقیقت پسندانہ ہوں اور جن کی وسیع پیمانے پر پزیرائی ہوسکے۔انہوں نے اسلام آباد پہنچنے کے بعد شروع میںغیر حقیقی مطالبے کئے، حکومت اور وزرا کو سابق اور پارلیمنٹ کی تحلیل اورالیکشن کمیشن کی فوری تشکیل نو کا کہا۔ یہ مطالبے مانے جانے والے نہیں تھے ، شائد وہ دبائو بڑھانے کے لئے ایسا کر رہے تھے ، مگر ان کا زیادہ مثبت اثر نہیں ہوا۔ بعد میںانہوں نے دانشمندی سے اپنے پرانے اور حقیقی نکات پر توجہ دی اور کم وبیش تمام مطالبے منوا لئے۔ اگلے روز اگرچہ میڈیا کے ایک حصے نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ قادری صاحب کے مطالبے نہ مانے گئے ، مگرحقیقت اس کے برعکس تھی۔ علامہ طاہرالقادری کا اصل مطالبہ آئین کے آرٹیکل باسٹھ ، تریسٹھ کے امیدواروں پر اطلاق، سکروٹنی کی مدت میں توسیع اور عوامی نمائندگی ایکٹ کی شق 77تا 82 میں تبدیلی لانا تھا۔ الیکشن کمیشن کے اختیارات میں اضافہ کامطالبہ بھی اس وجہ سے تھا۔ یہ تمام باتیں مانی گئی ہیں، نگران وزیراعظم کے لئے بھی انہیں ایک سٹیک ہولڈر کے طور پر مان لیا گیا ہے۔ اگر اس معاہدے پر عمل درآمد ہوا تو بڑی حد تک بدنام اور کرپٹ امیدواروں کا صفایا ہوجائے گا۔اس لحاظ سے بڑی کامیابی کہی جا سکتی ہے۔تحریک منہاج القرآن کو یقیناً یہ اندازہ ہو گیا ہو گا کہ دھرنے کے آخری روز بارش کے باعث ان کے لئے آپشنز محدود ہوگئی تھیں، اس سے پہلے بعض اپوزیشن جماعتوں نے میاں نواز شریف کی قیادت میں مشترکہ اعلامیہ جا ری کر کے قادری صاحب اور ان کے حامیوں کو سیاسی طور پر تنہا کر دیا تھا۔ یوں لگ رہا تھا کہ وہ بند گلی میں چلے گئے ہیں، اگر حکومت دانشمندی سے کام نہ لیتی ، مذاکرات نہ کرتی اور محفوظ راستہ نہ دیتی توصورتحال خاصی مشکل ہو گئی تھی۔ سیاست میں واپسی کے راستے کھلے رکھنے چاہیں، قادری صاحب نے ایسا نہیں کیا، وہ انتہا پر چلے گئے تھے۔ تیونس، مصر اور یمن وغیر ہ میں عرب سپرنگ کی کامیابی کی ایک وجہ ان ممالک کے دارالحکومت کی خاص پوزیشن تھی۔ مصر میں تحریر اسکوائر پر جمع ہونے والے لاکھوں افراد قاہرہ کے رہائشی تھے، اگرچہ دوسرے شہروں سے بھی لوگ آئے ،مگر بنیادی طور پر وہ مظاہرے ان شہروں کے اپنی آبادی نے کئے تھے۔ یہی تیونس اور یمن میں ہوا۔ لیبیا اور شام میں صورتحال مختلف تھی، وہاں دارالحکومت میں اپوزیشن کی گرفت مضبوط نہیں تھی، اس لئے ان مظاہروں کا اس طرح اثر نہ ہوسکا۔ کوئٹہ میں ہزارہ کمیونٹی کا دھرنا بھی وہاں کے مقامی آبادی کا اجتماع تھا، جن کے لئے گھروں سے ساز وسامان لانا بھی آسان تھا اور لوگ اپنی پوزیشنیں بھی بدل سکتے تھے۔ ایک دو راتوں کے بعد ضرورت پڑنے پر چند گھنٹوں کے لئے اپنے گھروں میں سستایا جا سکتا تھا۔ قادری صاحب کے لانگ مارچ میں ایسی کوئی سہولت موجود نہیں تھی۔ اس کا تمام تر دارومدار شرکا کے عزم وایثار پر تھا۔ اگر چہ قادری صاحب خوش قسمتی سے اس بار کامیاب ہوئے ،مگر شرکا کا اس قدر سخت امتحان لینا رسک ہوتا ہے، اگر ایسی بارش دو دن پہلے ہوجاتی ، تب کیا ہوتا؟اس وقت تک تو دھرنے کا ٹیمپو بھی نہیں بنا تھا۔ حکومتی اتحادکی سیاسی کامیابی پیپلز پارٹی کی حکومت پر بہت سے حوالوں سے سخت تنقید کی جاتی ہے، جو یکسر بے وزن بھی نہیں، ایک بات مگر اس نے یہ ثابت کر دی ہے کہ وہ ایک سیاسی جماعت ہے اور سیاسی انداز سے سوچتی ہے۔ ایک وقت میں وفاقی حکومت سخت مشکلات کا شکار تھی، پنجاب حکومت لانگ مارچ کو پنڈی پہنچا کر سکون سے تماشا دیکھ رہی تھی،تمام تر دبائو مرکز پر تھا۔ اس مشکل وقت میں پیپلز پارٹی نے اپنے اتحادیوں کو ساتھ ملایا اوراعلیٰ سطحی وفد کے ذریعے مذاکرات کئے ،یوں ڈیڈلاک بھی ختم کیا اوراس معاہدے پر عمل درآمد کرا کر وہ الیکشن کے عمل کا شفاف بنانے کا کریڈٹ بھی لے سکتی ہے۔ پیپلز پارٹی نے اپنے سخت گیر سوچ رکھنے والوں کو سائیڈ پر کیا اور اس کے ثمرات بھی انہیں مل گئے۔ اگر خدانخواستہ تصادم ہوجاتا تو اس کے خوفناک نتائج نکلتے۔ لال مسجد کے سانحے کے اثرات سے ہم ابھی تک نہیں نکل سکے، ملک کسی اور ہولناک واقعہ کا متحمل نہیں ہوسکتا۔پیپلز پارٹی کا اصل امتحان لانگ مارچ ڈیکلئریشن پر عمل کرانا ہے۔ انہیں یہ سمجھنا ہوگا کہ صرف منہاج القرآن ہی نہیں بلکہ ملک بھر میں انتخابی اصلاحات کی خواہش موجود ہے۔ یہ اچھا موقعہ ہے کہ ہمارے سیاستدان جمہوری نظام کی تطہیر کریں، اس سے جمہوریت دشمن قوتوں کو شدید حوصلہ شکنی ہوگی۔ میڈیا اور تجزیہ کار اب یہ مان لینا چاہیے کہ میڈیا اور ہمارے تجزیہ کاروں نے علامہ طاہرالقادری کو انڈر اسٹیمیٹ کیا۔ وہ علامہ صاحب کے شخصی اثر اور قوت کا اندازہ نہ لگا سکے۔ میڈیا کے بیشتر حصے کو یقین تھا کہ لانگ مارچ ہو ہی نہیں سکے گا۔دھرنے کے دوران بھی کوریج کرتے ہوئے انہیں شرکا ء کے موڈکا اندازہ نہیں ہوسکا۔ کئی اینکر خواتین چیختی رہیں کہ آپ لوگوں کو سردی کیوں نہیں لگ رہی، بچے بیمار ہوجائیں گے وغیرہ وغیرہ۔ انہیںسمجھنا چاہیے تھا کہ لوگ کسی جذبے اور کمٹمنٹ کے ساتھ ہی یہاں تک آئے ہیں اور یہ یوں واپس نہیں جائیں گے۔ ہمارے اہل دانش اور تجزیہ کاروں نے سب سے اہم غلطی یہ کی کہ انہوں نے طاہرالقادری کی شخصیت کو بے رحمی سے نشانہ بنایا ،مگر ان کے ایجنڈے کو نظر انداز کر گئے۔ انہیں یہ ادراک نہ ہوسکا کہ انتخابی اصلاحات کرنا اور تبدیلی لانے کے ایجنڈے کی عوام میں زبردست کشش موجود ہے۔ قادری صاحب نے اس خلا میں قدم رکھا ،جو ہماری دوسری سیاسی جماعتیں پر کرنے میں ناکام رہیں۔ جیسا کہ شرکا کے انٹرویوز سے ظاہر بھی ہوا کہ ان میں تمام لوگ منہاج القرآن کے نہیں تھے، بہت سے لوگوں نے بتایا کہ وہ عمران خان کے ووٹر ہیں، بعض دوسری جماعتوں کے حامی بھی تھے۔ ایجنڈے پر زیادہ بات ہونا چاہیے تھی، وہ نہ ہوسکی اور تمسخر،پیروڈی،طنز وتشنیع ہمارے میڈیا پر حاوی رہے۔ یہی وجہ ہے کہ جمعہ کو دھرنے کی کامیابی کے بعد بہت سے اینکروں اور تجزیہ کاروں کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا ردعمل دیں۔ جن باتوں کا وہ مذاق اڑاتے رہے، وہ تقریباً سب مان لی گئیں۔ جہاں تک اسمبلیوں کی تحلیل اور الیکشن کمیشن کی فوری تشکیل کی بات تھی، یہ دبائو بڑھانے کا حربہ تھا، حقیقی مطالبہ نہیں تھا۔میڈیا اور انٹیلی جنشیا کو آنے والے دنوں میں زیادہ محتاط اور باریک بین ہونا پڑے گا۔ الیکشن میں اصلاحات کے عمل پر بھی نظر رکھنے کی ضرورت پڑے گی۔ مسلم لیگ ن مسلم لیگ ن نے بظاہر بڑی عقل مندی اور ہوشیاری سے چالیں چلیں۔ انہوں نے لانگ مارچ کو روکنے کی کوئی کوشش نہیں کی کہ اس کا رخ اسلام آباد کی جانب تھا۔ جب انہوں نے محسوس کیا کہ دھرنے میں خاصے لو گ آگئے ہیں اور یہ اجتماع خطرناک ثابت ہوسکتا ہے تووہ متحرک ہوئے۔ میاں صاحب نے کمال مہارت سے کئی اہم جماعتوںسے رابطے کئے۔ بلوچستان سے اچکزئی صاحب اور حاصل بزنجو کے ساتھ ساتھ مولانا فضل الرحمن اورجماعت اسلامی کو ساتھ ملا لینا ان کی بڑی کامیابی تھی۔ انہوں نے اپنے مشترکہ اعلامیہ سے علامہ طاہرالقادری کو بالکل تنہا کر دیا۔ یہ جمہوریت کے لئے اچھا شگون تھا کہ ہماری سیاسی جماعتیں ہر قسم کی تبدیلی کے لئے انتخابات کی جانب ہی دیکھنے لگی ہیں۔ میاں صاحب نے دانستہ یا نا دانستہ ایک بڑی غلطی یہ کی کہ انہوں نے قادری صاحب کو محفوظ راستہ نہیں دیا۔اے پی سی کے شرکا میں سے کسی نے یہ نہیں سوچا کہ اسلام آباد میںکئی روز سے ہزاروں افراد کا دھرنا جاری ہے۔دھرنے کے شرکا اور ان کے لیڈر قادری صاحب اتنا آگے جا چکے ہیں کہ ان کے لئے کچھ حاصل کئے بغیر واپس لوٹنا شرمندگی کے مترادف ہے۔ انہیں محفوظ راستہ دینا (Face saving)دینا ضروری تھا۔ دوسری صورت میں شرکاء فرسٹریٹ ہو کر تصادم کی طرف جا سکتے تھے، ایسا ہو جاتا تو پھر کچھ بھی نہ بچ پاتا۔ جس طرح کا اعلیٰ سطحی وفد حکومت نے مذاکرات کے لئے بھیجا، ویسا کام پہلے نواز شریف صاحب بھی کر سکتے تھے۔ اگر ایسا کرتے تو وہ محاورے کے مطابق میلہ لوٹ لیتے۔ انہوں نے ایسا نہیں کیا، شائد وہ اپنی مخالف وفاقی حکومت کو ٹف ٹائم دینا چاہتے تھے، مگر اختتام میں اس کا تمام تر نقصان انہیں ہی ہوا۔ ٹی وی چینلز پر ن لیگ کے رہنمائوں کی تلخی دیکھ کر انہیں پہنچنے والے دھچکے کی شدت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ ؟ ہمارے اہل دانش اور تجزیہ کاروں کو ہر ایشو میں اسٹیبلشمنٹ کا کردار دیکھنے کا رویہ بھی بدلنا ہوگا۔ یوں لگتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کا آسیب ان کی دانش کے گرد لپٹ گیا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کے حوالے سے ویسے بھی دو تین باتیں سمجھنی چاہیں۔ دنیا بھر میں اسٹیبلشمنٹ ہمیشہ پر و’’ سٹیٹس کو‘‘ ہوتی ہے۔ نظام بدلنے یا تبدیلی لانے کا نعرہ کبھی انہیں راس نہیں ہوتا۔ ایسا نعرہ لگانے والوں کو ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ قادری صاحب والے معاملے کو زیادہ غور سے دیکھنا چاہیے تھا۔ اگر اس میں اسٹیبلشمنٹ شامل ہوتی تو معروف اسٹیبلشمنٹ نواز جماعتیں اس سے دور نہ رہتیں اور وعدہ کر کے واپس نہ چلی جاتیں۔ جو مارچ یا دھرنا اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر کیا جاتا ہے ، اس کے تیور ہی الگ ہوتے ہیں، اس کے شرکا شروع ہی سے ڈنڈے لے کر چلتے ہیں اور تباہی ان کا مشن ہوتی ہے۔ ایسے جلوسوں میں لوگ خود اپنی خوشی سے اپنی بیویوں، بہنوں اور شیر خوار بچوں کو نہیں لاتے۔ پیسے خواہ جتنے ملیں، اولاد آدمی کو اپنی جان سے بھی زیادہ پیاری ہوتی ہے۔ اس دھرنے کے پرامن اختتام نے یہ ثابت کر دیا کہ اسٹیبلشمنٹ کی رٹ لگانے والے تجزیہ کاروں نے ٹھوکر کھائی، اصولاً تو انہیں اپنے قارئین اور ناظرین سے معذرت کرنی چاہیے، مگرافسوس کہ ہمارے ہاں ایسی اچھی روایتیں موجود نہیں۔ ویسے اس حوالے سے فورسز کا رویہ مثبت رہا۔ کورکمانڈرز کانفرنس کو بعض حلقوں نے معنی خیز نظروں سے دیکھا ،مگر آئی ایس پی آر نے بروقت وضاحت کر دی۔ ہماری مقتدرہ قوتوں کو یہ یاد رکھناچاہیے کہ سیاست صرف سیاستدانوں کے کھیلنے کا میدان ہے۔ عسکری قوتوںکو اپنے پروفیشنل فرائض ہی انجام دینے چاہیں۔ ایسا کرنا ہی ان کے وقاراور عزت میں اضافہ کرے گا۔ اس دھرنے کا پرامن انجام یہ ثابت کرتا ہے کہ ملک میں جمہوریت پنپ رہی ہے اورہمارا بظاہر کمزور جمہوری سسٹم اس قسم کے بڑے دھچکوں کو برداشت کرنے کی سکت اور قوت رکھتا ہے۔اس سے ہمارے سیاستدانوں اور جمہوری قوتوں نے خاصا کچھ سیکھا ہوگا۔ تحریک انصاف عمران خان اور ان کے بعض حامیوں کو ممکن ہے اب اندازہ ہو رہا ہو کہ انہوں نے ملنے والے ایک بڑے موقع سے فائدہ نہیں اٹھایا۔ تحریک انصاف میں لانگ مارچ کے حمایت میں ایک مضبوط لابی موجود تھی،ان کے کئی اہم سیاسی لیڈروں کا خیال تھا کہ ہمیں قادری صاحب کے ساتھ شامل ہونا چاہیے، ان کی جماعت کا سیاسی نیٹ ورک موجود نہیں ،ا س لئے سیاسی کامیابی کے تمام تر ثمرات تحریک انصاف کو پہنچیں گے۔ اس لابی کی بات نہیں مانی گئی، عمران خان اور ان کے بعض غیر سیاسی مگر پارٹی کے لئے تھنک ٹینک کا درجہ رکھنے والے لوگوں کی بات مانی گئی۔ تاہم عمران خان نے لانگ مارچ اور دھرنے پر تنقید بالکل نہیں کی، وہ اسے بڑی احیتاط سے دیکھتے رہے، جائزہ لیتے رہے ،مگر شامل نہیں ہوئے۔ ممکن ہے انہیں خطرہ ہو کہ یہ دھرنا کسی اور جانب جا سکتا ہے۔ انہوں نے اپنی تمام تر توجہ انتخابات کی جانب مبذول کی اور اس حوالے سے دبائو بڑھانے کی کوشش کی ،مگر تحریک انصاف کے بہت سے نوجوان کارکنوں کو اب یقیناً مایوسی ہو رہی ہوگی۔پی ٹی آئی نے اس معاملے میں اگرچہ کھویا بھی زیادہ نہیں۔ ان کے لئے انتخابات کے حوالے سے قادری صاحب کے ساتھ ہاتھ ملانے کی آپشن موجود ہے۔دیکھنا یہ ہے کہ تحریک انصاف آنے والے دنوں میں کیسے پتے چلتی ہے؟

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
فیراری کی نئی الیکٹرک کار ’’لوسے‘‘

فیراری کی نئی الیکٹرک کار ’’لوسے‘‘

ایپل کار کے خواب کی عملی جھلکدنیا کی آٹو موبائل صنعت ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں رفتار اور طاقت کے ساتھ ساتھ پائیداری، ذہانت اور ڈیزائن کی نفاست بھی فیصلہ کن اہمیت اختیار کر چکی ہے۔ اسی بدلتے ہوئے منظرنامے میں ''فیراری‘‘ (Ferrari) نے اپنی پہلی مکمل الیکٹرک سپورٹس کار متعارف کرانے کی تیاری کر لی ہے، جسے ''فیراری لوسے‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ''لوسے‘‘ یعنی روشنی اور بظاہر یہ نام محض علامتی نہیں بلکہ ایک نئے عہد کی علامت ہے، جہاں روایتی انجن کی گرج کے بجائے برقی طاقت کی خاموش رفتار مستقبل کی سمت متعین کرے گی۔دلچسپ امر یہ ہے کہ اس گاڑی کے ڈیزائن میں ٹیکنالوجی کی دنیا کی ایک عظیم شخصیت کا تخلیقی لمس شامل ہے۔ سر جونی آئیو ( Sir Jony Ive) جنہیں جدید صنعتی ڈیزائن کا معمار سمجھا جاتا ہے، اس منصوبے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ وہی ڈیزائنر جنہوں نے ''ایپل‘‘ (Apple) کی معروف مصنوعات کو نئی بصری شناخت دی اور سادگی کو جدت کا استعارہ بنا دیا۔ ان کی سوچ ہمیشہ اس اصول کے گرد گھومتی رہی ہے کہ بہترین ڈیزائن وہ ہے جو کم سے کم اجزا کے ساتھ زیادہ سے زیادہ فعالیت فراہم کرے۔ یہی فلسفہ اب ایک اطالوی سپر کار کی دنیا میں داخل ہو رہا ہے۔ طویل انتظار کے بعد متوقع ایپل کار اگرچہ حقیقت کا روپ نہ دھار سکی، تاہم ٹیکنالوجی کی دنیا کے اس خواب کا عکس اب فیراری (Ferrari) کی پہلی مکمل الیکٹرک سپورٹس کار ''فیراری لوسے‘‘ میں دکھائی دینے والا ہے۔ ڈیزائن میں ایپل کی جھلکاس شاندار گاڑی کے اندرونی ڈیزائن کے پیچھے وہی تخلیقی ذہن کارفرما ہے جس نے ''ایپل‘‘ (Apple) کی معروف مصنوعات کو نئی شناخت دی یعنی سر جانی آئیو ( Sir Jony Ive)۔ میک سے لے کر آئی فون تک، سادگی، نفاست اور فعالیت کو یکجا کرنا اُن کا امتیاز رہا ہے۔ یہی فلسفہ ''فیراری لوسے‘‘ کے کیبن میں بھی نمایاں ہے، جہاں ایلومینیم کے باریک تراشے گئے حصے اور شیشے کی نفیس تکمیل ایک پرتعیش فضا پیدا کرتے ہیں۔سر آئیو کے متعارف کردہ ''یونی باڈی‘‘ ڈیزائن کی یاد دلاتا ہوا اندرونی ڈھانچہ ایک مربوط، مضبوط اور ہم آہنگ تاثر دیتا ہے۔ کنٹرول پینل اور شفٹر میں استعمال ہونے والا مضبوط شیشہ جدید اسمارٹ فونز کی ٹیکنالوجی کی بازگشت سناتا ہے، جس سے گاڑی کا اندرونی حصہ مستقبل کی جھلک پیش کرتا ہے۔فعالیت اور تحفظ کا امتزاجفیراری کے مطابق گاڑی کے ہر جزو کو صارف کے تجربے اور فعالیت کو مدنظر رکھ کر ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اسپیڈومیٹر اور دیگر آلات پر مشتمل ڈیش بورڈ اسٹیئرنگ وہیل کے ساتھ مربوط ہے، تاکہ موڑ کاٹتے وقت بھی ڈرائیور کی نظر ہمیشہ اہم معلومات پر مرکوز رہے۔ بظاہر اینالاگ دکھائی دینے والے ڈسپلے درحقیقت باریک OLED اسکرینز ہیں جو شفاف اور روشن گرافکس فراہم کرتے ہیں۔دلچسپ امر یہ ہے کہ جہاں جدید الیکٹرک گاڑیاں بڑے ٹچ اسکرینز پر انحصار کرتی ہیں، وہیں ''فیراری لوسے‘‘ اس رجحان سے ہٹ کر متوازن راستہ اختیار کرتی ہے۔ ایک چھوٹا، آئی پیڈ نما ڈسپلے بال ساکٹ پر نصب ہے، جو ڈرائیور یا مسافر کی جانب جھکایا جا سکتا ہے۔ اسے پام ریسٹ کے ساتھ اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ ڈرائیور بغیر نگاہ ہٹائے کنٹرولز استعمال کر سکے۔ یوں ''کگنیٹو لوڈ‘‘ کم ہوتا ہے اور توجہ سڑک پر برقرار رہتی ہے۔حالیہ مطالعات نے بھی اشارہ کیا ہے کہ بڑے ٹچ اسکرین انٹرفیس ڈرائیونگ کے دوران توجہ منتشر کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔ اسی تناظر میں فیراری کا یہ فیصلہ نہ صرف ڈیزائن کا جرات مندانہ قدم ہے بلکہ ممکنہ طور پر حفاظتی اعتبار سے بھی اہم پیش رفت ہے۔فزیکل کنٹرولز کی واپسیسر آئیو کے ایپل دور میں بٹنوں کی کمی کو جدت کی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر ''فیراری لوسے‘‘ اس کے برعکس ایک نئی سمت دکھاتی ہے۔ اسٹیئرنگ وہیل اور کنٹرول پینل پر بڑے دھاتی ڈائلز، سوئچ اور بٹن نمایاں ہیں۔ حتیٰ کہ ریئر ویو مرر کے قریب اوور ہیڈ پینل میں فوگ لائٹس، ڈی مسٹرز اور لانچ کنٹرولز کیلئے علیحدہ سوئچ نصب ہیں۔ یہ سب کچھ ڈرائیونگ کے عملی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ترتیب دیا گیا ہے۔حتمی رونمائی کا انتظارفی الحال فیراری نے انجن، بیٹری کی گنجائش اور بیرونی ڈیزائن سے متعلق تفصیلات کو راز میں رکھا ہوا ہے۔ تاہم ابتدائی جھلک سے اندازہ ہوتا ہے کہ ''فیراری لوسے‘‘ محض ایک الیکٹرک گاڑی نہیں بلکہ ڈیزائن، ٹیکنالوجی اور کارکردگی کے امتزاج کی نئی تعریف ثابت ہو سکتی ہے۔موٹرنگ اور ایپل کے شائقین اب مئی کی متوقع رونمائی کے منتظر ہیں، جب یہ ''روشنی‘‘ واقعی سڑکوں پر اترے گی اور دیکھا جائے گا کہ کیا یہ خواب حقیقت سے بھی زیادہ دلکش ثابت ہوتا ہے۔

ہاؤس برپنگ: صحت مند گھریلو فضا کا سادہ مگر مؤثر طریقہ

ہاؤس برپنگ: صحت مند گھریلو فضا کا سادہ مگر مؤثر طریقہ

جدید دور میں جہاں گھروں کو ہر موسم میں بند رکھنا معمول بنتا جا رہا ہے، وہیں صحتِ عامہ سے متعلق نئے خدشات بھی جنم لے رہے ہیں۔ بند کمروں میں گردش کرتی ہوا جراثیم، وائرس اور مضر ذرات سے آلودہ ہو کر انسانی صحت پر منفی اثرات ڈال سکتی ہے۔ ایسے میں ''ہاؤس برپنگ‘‘ کا نیا رجحان توجہ حاصل کر رہا ہے، جس کے تحت لوگ باقاعدگی سے کھڑکیاں اور دروازے کھول کر گھروں کی فضا کو تازہ ہوا سے بدلتے ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ سائنس دانوں نے بھی اس سادہ مگر مؤثر عادت کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عمل واقعی گھروں میں موجود جراثیم سے بھرپور ہوا کو خارج کرنے اور صحت مند ماحول قائم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین اب صاف ستھری اور تازہ ہوا کو بہتر صحت کی بنیادی ضرورت قرار دے رہے ہیں۔''ہاؤس برپنگ‘‘ سوشل میڈیا پر تیزی سے مقبول ہونے والا نیا رجحان ہے، جس میں لوگ سردیوں کی شدید ٹھنڈ میں بھی اپنے گھروں کی کھڑکیاں پوری طرح کھول دیتے ہیں، اس امید کے ساتھ کہ جراثیم سے بھرپور ہوا کو باہر نکالا جا سکے۔ایک صارف نے کہاکہ مجھے نہیں معلوم آپ نے اس کے بارے میں سنا ہے یا نہیں، لیکن میں نے یہ ابھی ٹک ٹاک پر سیکھا ہے۔ آپ کو اپنے گھر کو ''برپ‘‘ کرنا چاہیے۔ ایک اور صارف نے زور دیتے ہوئے کہا کہ سردی کے باوجود گھر کی ''ہاؤس برپنگ‘‘ بے حد ضروری ہے۔جبکہ ایک صارف نے مذاقاً کہا کہ نئے لوگ اسے ''ہاؤس برپنگ‘‘ کہتے ہیں، میں تو اسے ''روزانہ گھر میں تازہ ہوا آنے دینا محض عام سی عقل کی بات‘‘ کہتا ہوں۔اس کے منفرد نام کی وجہ سے بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ''ہاؤس برپنگ‘‘ محض ایک فضول فیشن ہے، لیکن اب آئرلینڈ کی یونیورسٹی آف لیمریک میں شعبہ صحتِ عامہ کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر وکرم نیرنجن کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ واقعی مؤثر ہے۔ وہ گھر جہاں کبھی ''ہاؤس برپنگ‘‘ نہیں کی جاتی، وہاں اندرونی آلودگی کی سطح زیادہ اور سانس سے خارج ہونے والی ہوا کا اجتماع بڑھ جاتا ہے، خاص طور پر وائرس کے موسم میں۔انہوں نے مزید کہاکہ اپنے گھر کو درست وقت پر ایک مختصر ''اسپا بریک‘‘ دیں۔ کھڑکیاں کھول دیں، باسی ہوا کو باہر نکلنے دیں اور تازہ ہوا کو اندر آنے دیں۔ آپ کے پھیپھڑے، دماغ اور حتیٰ کہ آپ کے پالتو جانور بھی اس پر شکر گزار ہوں گے۔اگرچہ اس وقت ''ہاؤس برپنگ‘‘ ٹک ٹاک پر تیزی سے مقبول ہو رہی ہے، لیکن درحقیقت یہ عمل جرمنی میں برسوں سے رائج ہے۔وہاں اسے ''لوفٹن‘‘ (Lüften) یعنی ہوا کی تبدیلی، یا ''شٹوس لوفٹن‘‘ (Stoßlüften) یعنی جھٹکے سے ہواداری کہا جاتا ہے۔اس کا تصور نہایت سادہ ہے۔آپ چند منٹ کیلئے اپنے گھر کی کھڑکیاں اور دروازے پوری طرح کھول دیتے ہیں تاکہ تازہ ہوا تیزی سے اندر داخل ہو کر باسی اندرونی ہوا کی جگہ لے لے۔ڈاکٹر نیرنجن کے مطابق: گھروں کی اندرونی فضا میں غسل اور کھانا پکانے سے نمی، چولہوں اور موم بتیوں سے دھواں اور ذرات، صفائی کے اسپرے اور فرنیچر سے نکلنے والے کیمیکلز، اور انسانوں کے سانس سے خارج ہونے والے باریک ذرات اور وائرس جمع ہو جاتے ہیں۔انہوں نے وضاحت کی کہ جب گھر کو ''برپ‘‘ کیا جاتا ہے تو باہر کی تازہ ہوا کا اچانک بہاؤ اس مرکب کو پتلا کر دیتا ہے اور اس کا بڑا حصہ باہر دھکیل دیتا ہے۔تاہم، ہاؤس برپنگ کے فوائد آپ کے گھر کے محل وقوع کے لحاظ سے مختلف ہو سکتے ہیں۔مثال کے طور پر، اگر آپ کسی مصروف مرکزی سڑک یا موٹر وے کے قریب رہتے ہیں تو گھر کی ''ہاؤس برپنگ‘‘ الٹا آلودہ ہوا کو اندر لے آنے کا سبب بن سکتی ہے۔اس حوالے سے ڈاکٹر نیرنجن نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ مصروف اوقات میں سڑک کے کنارے واقع گھروں کی کھڑکیاں کھولنے سے گاڑیوں کے دھوئیں، ٹائروں اور بریک کی گرد کا ریلا اندر آ سکتا ہے، عین اس وقت جب ٹریفک کی آلودگی اپنی انتہا پر ہوتی ہے۔گھر کی ''ہاؤس برپنگ‘‘ کیلئے درست وقت کا انتخاب بھی نہایت اہم ہے۔اگر آپ کسی شہر میں رہتے ہیں تو بہتر یہی ہے کہ صبح اور شام کے اوقاتِ آمد و رفت (کمیوٹ ٹائم) سے گریز کریں، کیونکہ ان اوقات میں بیرونی فضائی آلودگی عموماً اپنی بلند ترین سطح پر ہوتی ہے۔ڈاکٹر نیرنجن نے مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ان اوقات کے علاوہ مختصر وقفوں کیلئے ''ہاؤس برپنگ‘‘ کرنایا بارش کے فوراً بعد، جب ہوا میں موجود کچھ ذرات عارضی طور پر دھل جاتے ہیںانفیکشن سے بچاؤ اور آلودگی سے نمائش کے درمیان بہتر توازن فراہم کر سکتا ہے۔اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ہاؤس برپنگ کا عمل صرف مختصر وقت کیلئے ہو، کیونکہ زیادہ دیر تک کھڑکیاں کھلی رکھنے سے گھر باقی دن کے لیے ٹھنڈا ہو سکتا ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

اینیک (ENIAC)کمپیوٹر 1946 ء میں آج کے روز دنیا کا پہلا ''اینیاک‘‘ (eniac)کمپیوٹر پنسلوینیا یونیورسٹی میں نمائش کیلئے پیش کیا گیا۔ اینیاک یعنی (Electronic Numerical Integrator and Computer) دنیا کا پہلا مکمل الیکٹرانک، جنرل پرپز ڈیجیٹل کمپیوٹر تھا۔یہ کمپیوٹر دوسری جنگ عظیم میں مذکورہ یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے دو ماہرین نے تیار کیا تھا اور اس کا وزن 30 ٹن تھا۔ دنیا کے اس پہلے کمپیوٹر کے پرزہ جات آج بھی واشنگٹن کے عجائب گھر میں موجود ہیں۔یو ٹیوب کی لانچنگ14فروری 2005ء کو ویڈیو شیئرنگ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ''یو ٹیوب‘‘ کو لانچ کیا گیا۔ جسے تین نوجوانوں اسٹیو چن، جاوید کریم اور چاڈ ہرلے نے ''پے پال‘‘ کی مدد سے تخلیق کیا تھا۔ اب یہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ''گوگل‘‘ کی ملکیت ہے اور ایک منٹ کے دوران اس پر دنیا بھر سے 100 گھنٹوں سے زائد کی ویڈیو اپ لوڈ کی جاتی ہیں۔ہر ماہ یوٹیوب پر 4 بلین سے زائد گھنٹوں کی ویڈیو دیکھی جاتی ہیں۔ ٹیلی فون پیٹنٹ ہوا1876ء میں آج کے روز مقبول ترین سائنسدان الیگزینڈر گراہم بیل نے اپنی اہم ایجاد ٹیلی فون کو پیٹنٹ کرایا۔ الیگزینڈر گراہم بیل وہ پہلا شخص تھا جسے ریاستہائے متحدہ نے ایک ایسے آلے کیلئے پیٹنٹ دیا تھا جس نے دوسرے آلے پر انسانی آواز کی واضح طور پر قابل فہم نقل تیار کی تھی۔یہ آلہ آج ترقی کی بیشمار منازل طے کرچکا ہے۔پولش سوویت جنگپولش سوویت جنگ کا آغاز 14 فروری 1919ء کو ہوا۔ یہ لڑائی 18 مارچ 1921ء تک جاری رہی۔ یہ پہلی عالمی جنگ اور روسی انقلاب کے بعد پولش اور سوویت فیڈریشن کے درمیان ان علاقوں پر لڑی گئی جو پہلے روس کے پاس تھے۔مرکزی طاقتوں کے خاتمے اورجنگ بندی کے بعدولادیمیر لینن نے بریسٹ،لیٹوسک کے معاہدوں کو منسوخ کردیا اور فوجوں کو مغرب میں منتقل کرنا شروع کر دیا۔ایوب خان صدر بنے 1960ء میں آج کے روز ایوب خان پاکستان کے صدر بنے۔انہوں نے 1961ء میںصدارتی طرز کا ایک آئین بنوایا۔ آئین مکمل ہونے کے بعد 1962ء میں عام انتخابات ہوئے اور مارشل لاء ختم کر دیا گیا ۔ وہ 9سال تک ملک کے صدر رہے، ان کے دور میں پاکستان نے بے پناہ ترقی کی ۔ انہوں نے 25 مارچ 1969ء کواپنے عہدے سے استعفیٰ دے کر اقتدار یحییٰ خان کے حوالے کر دیا۔بیروت میں بم دھماکا14 فروری 2005ء کو لبنان کے دارالحکومت بیروت میں ایک ہولناک بم دھماکے کے نتیجے میں سابق وزیراعظم رفیق حریری سمیت کم از کم 23 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ یہ دھماکا اس وقت ہوا جب حریری کا قافلہ شہر کے ایک مرکزی علاقے سے گزر رہا تھا۔ دھماکے کی شدت تقریباً ایک ہزار کلو گرام ٹی این ٹی کے برابر بتائی گئی، جس نے قافلے کو مکمل طور پر تباہ کر دیا اور آس پاس کے علاقے میں شدید نقصان پہنچایا۔ اس واقعے کے بعد ملک میں بڑے پیمانے پر احتجاج شروع ہو گئے۔

مصنوعی ذہانت کے بنائے گئے چہرے

مصنوعی ذہانت کے بنائے گئے چہرے

حقیقت اور فریب کے درمیان باریک لکیرمصنوعی ذہانت کی ترقی نے جہاں زندگی کے بے شمار شعبوں میں سہولتیں پیدا کی ہیں وہیں اس نے نئے اور پیچیدہ چیلنجز کو بھی جنم دیا ہے۔ خاص طور پر اے آئی کے ذریعے تیار کردہ انسانی چہرے اب اس قدر حقیقت سے قریب ہو چکے ہیں کہ عام آدمی کے لیے اصلی اور نقلی میں فرق کرنا نہایت مشکل ہو گیا ہے۔برطانوی ماہرین کی ایک ٹیم کی حالیہ سائنسی تحقیق کے مطابق یہ مصنوعی چہرے نہ صرف عام افراد کو دھوکہ دے رہے ہیں بلکہ چہرے پہچاننے کے ماہرین بھی اکثر انہیں اصلی سمجھ بیٹھتے ہیں۔یہ تحقیق جس پر ScienceAlert نے تفصیلی رپورٹ شائع کی ہے، اس بات کو واضح کرتی ہے کہ جدید اے آئی ماڈلز، بالخصوصStyleGAN جیسے سسٹمزانسانی چہروں کی ایسی تصاویر تیار کر رہے ہیں جو دیکھنے میں بالکل حقیقی محسوس ہوتی ہیں۔ جلد کی بناوٹ، آنکھوں کی چمک، بالوں کی ترتیب اور چہرے کے تاثرات اس قدر قدرتی ہوتے ہیں کہ انسانی دماغ انہیں بلا تامل اصل تسلیم کر لیتا ہے۔تحقیق میں شامل نتائج چونکا دینے والے ہیں۔ عام افراد، جنہیں چہرے پہچاننے کی معمول کی صلاحیت حاصل ہوتی ہے، اے آئی سے بنائے گئے چہروں کو صرف 31 فیصد مواقع پر ہی درست طور پر شناخت کر سکے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ شرح محض اندازے سے بھی کم ہے کیونکہ اگر کوئی شخص محض قیاس آرائی کرے تو اس کے درست ہونے کے امکانات 50 فیصد ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اے آئی کے بنائے گئے چہرے انسانی ذہن کو اس حد تک قائل کر لیتے ہیں کہ وہ حقیقت کے برعکس فیصلہ کر بیٹھتا ہے۔مزید حیران کن پہلو یہ ہے کہ وہ افراد جو ''سپر ریکگنائزرز‘‘ کہلاتے ہیں یعنی جو چہروں کو پہچاننے میں غیر معمولی مہارت رکھتے ہیں وہ بھی اس فریب سے مکمل طور پر محفوظ نہیں رہے۔ تحقیق کے مطابق یہ ماہرین بھی بغیر کسی تربیت کے صرف 41 فیصد مواقع پر ہی جعلی چہروں کو پہچان سکے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مسئلہ محض عام آگاہی یا ذہانت کا نہیں بلکہ خود ٹیکنالوجی کی غیر معمولی حقیقت پسندی کا ہے۔تاہم اس تحقیق کا سب سے اہم اور امید افزا پہلو یہ ہے کہ صرف پانچ منٹ کی مختصر تربیت افراد کی کارکردگی کو بہتر بنا سکتی ہے۔ محققین نے شرکاکو اے آئی تصاویر میں پائی جانے والی عام خامیوں اور نشانیوں سے آگاہ کیا جیسے غیر فطری بالوں کی لکیر، دانتوں کی غیر متوازن ساخت، کانوں کے زیورات کا غیر منطقی ہونا، یا جلد کی عجیب سی ہمواری۔ اس مختصر تربیت کے بعد عام افراد کی درست شناخت کی شرح 51 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ سپر ریکگنائزرز کی کارکردگی نمایاں طور پر بہتر ہو کر 64 فیصد تک جا پہنچی۔اگرچہ 51 فیصد کوئی غیر معمولی بات نہیں مگر یہ اس بات کا ثبوت ضرور ہے کہ انسانی آنکھ اور دماغ کو مناسب رہنمائی کی جائے تو وہ مصنوعی ذہانے کے فریب کو کسی حد تک پہچاننے کے قابل ہو سکتے ہیں۔ یہ نتائج اس خیال کو تقویت دیتے ہیں کہ ڈیجیٹل دور میں محض ٹیکنالوجی پر انحصار کافی نہیں بلکہ انسانی تربیت اور آگاہی بھی ناگزیر ہے۔اس مسئلے کی سنگینی اس وقت اور بڑھ جاتی ہے جب ہم اس کے عملی اثرات پر نظر ڈالتے ہیں۔ اے آئی سے بنائے گئے چہرے آج کل جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس، آن لائن فراڈ، ڈیپ فیک سکینڈلز اور شناختی جرائم میں عام استعمال ہو رہے ہیں۔ ایک ایسا چہرہ جو حقیقت میں کسی انسان کا وجود ہی نہیں رکھتا، اعتماد حاصل کر کے لوگوں کو مالی، سماجی اور نفسیاتی نقصان پہنچا سکتا ہے۔ صحافت، سیاست اور قومی سلامتی جیسے حساس شعبے بھی اس ٹیکنالوجی کے غلط استعمال سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ماہرین کے مطابق مستقبل میں اے آئی سے بنائی گئی تصاویر اور ویڈیوز مزید حقیقت پسندانہ ہوتی جائیں گی جس کے باعث محض انسانی مشاہدہ کافی نہیں رہے گا۔ اس لیے ضروری ہے کہ انسانی تربیت کو خود اے آئی پر مبنی ڈیٹیکشن ٹولز کے ساتھ جوڑا جائے۔ یعنی اے آئی کو ہی اے آئی کے فریب کو بے نقاب کرنے کے لیے استعمال کیا جائے، جبکہ انسان کو بنیادی نشانیوں اور تنقیدی سوچ سے لیس کیا جائے۔تحقیق میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ تربیت کے فوری اثرات تو مثبت ہیں مگر یہ واضح نہیں کہ یہ بہتری طویل مدت تک برقرار رہتی ہے یا نہیں۔ اس سے یہ سوال جنم لیتا ہے کہ کیا مستقل آگاہی پروگرامز، تعلیمی نصاب اور پیشہ ورانہ تربیت اس خلا کو پُر کر سکتی ہے؟ خاص طور پر صحافیوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے وابستہ افراد کے لیے یہ مہارت ناگزیر بنتی جا رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت کے بنائے گئے چہرے ہماری آنکھوں اور دماغ کے لیے ایک نیا امتحان ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی نہ مکمل طور پر خیر ہے اور نہ ہی مکمل طور پر شر، بلکہ اس کا دارومدار اس بات پر ہے کہ ہم اسے کس طرح سمجھتے اور استعمال کرتے ہیں۔ پانچ منٹ کی تربیت اگر ہماری آنکھیں کچھ حد تک کھول سکتی ہے، تو یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ علم، آگاہی اور تنقیدی سوچ ہی اس ڈیجیٹل فریب کے مقابلے میں ہماری اصل طاقت ہیں۔

خواتین،لڑکیاں اور سائنس

خواتین،لڑکیاں اور سائنس

عالمی دن کا مقصد اور اہمیت؟ہر سال 11 فروری کو دنیا بھر میں سائنس میں خواتین اور لڑکیوں کا بین الاقوامی دن منایا جاتا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی جانب سے متعین اس دن کا مقصد سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی(STEM ) کے شعبوں میں خواتین اور لڑکیوں کی شمولیت کا فروغ اور انہیں مساوی مواقع فراہم کرنا ہے ۔یہ دن اس بات پر زور دیتا ہے کہ خواتین نہ صرف سائنس کی ترقی میں حصہ لے سکتی ہیں بلکہ اختراعات اور نئی سوچ کے ذریعے معاشرتی اور قومی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں۔سائنس اور ٹیکنالوجی نے دنیا کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ چاہے وہ طب کے شعبے میں نئی ادویات ہوں، کمپیوٹر سائنس، ماحولیاتی تحقیق یا مصنوعی ذہانت، ہر شعبے میں خواتین کی شمولیت سے نئی اختراعات اور تخلیقی حل سامنے آتے ہیں۔تحقیق سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ جب کسی ٹیم میں صنفی تنوع ہوتا ہے تو مسائل کے حل میں نئے زاویے اور خیالات آتے ہیں۔ لیکن دنیا کے کئی حصوں میں خاص طور پر ترقی پذیر ممالک میں، خواتین اور لڑکیوں کو اب بھی STEM کے شعبوں میں محدود مواقع ملتے ہیں جس کی وجہ معاشرتی روایات، تعلیم میں عدم مساوات اور پیشہ ورانہ رکاوٹیں ہیں۔ خواتین سائنسدان، چیلنجز اور کامیابیاںپاکستان میں خواتین کی تعلیم اور سائنس میں شمولیت میں نمایاں بہتری آئی ہے لیکن اب بھی کئی رکاوٹیں موجود ہیں۔ شہروں میں یونیورسٹیز میں لڑکیوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے اور وہ فزکس، کیمسٹری، بائیالوجی، کمپیوٹر سائنس اور انجینئرنگ میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر رہی ہیں۔ پاکستان کی خواتین سائنسدانوں نے نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر تحقیق اور اختراعات میں اہم کردار ادا کیا ہے۔پاکستان میں خواتین سائنسدانوں کے لیے کئی اقدامات کیے جا رہے ہیں جیسا کہ خواتین کے لیے خصوصی تعلیمی وظائف،نجی یونیورسٹیز کے پروگرامز، STEM میں تربیت اور تحقیق کے مواقع،غیر سرکاری تنظیموں کی ورکشاپس، لڑکیوں میں سائنس میں دلچسپی پیدا کرنے کے لیے کیمپس اور سیمینارز۔ ان اقدامات کا مقصد لڑکیوں اور خواتین کو نہ صرف تعلیم کے مواقع فراہم کرنا ہے بلکہ انہیں اپنے کیریئر میں آگے بڑھنے کی ترغیب دینا بھی ہے۔موجودہ چیلنجزپاکستان میں اب بھی کئی مسائل خواتین کی سائنس میں شمولیت میں رکاوٹ ہیں۔ مثال کے طور پردیہی علاقوں میں لڑکیوں کی تعلیم محدود ہے، معاشرتی قدریں اور روایات خواتین کے پیشہ ورانہ کردار کو محدود کرتی ہیںSTEM شعبوں میں لڑکیوں کی نمائندگی ابھی بھی کم ہے ۔ان چیلنجز کا حل والدین اور معاشرے کی آگاہی، تعلیمی اصلاحات اور لڑکیوں کے لیے مواقع پیدا کرنا ہے۔عالمی دن کا پیغام اور اثرسائنس میں خواتین اور لڑکیوں کا بین الاقوامی دن کا مقصد نوجوان لڑکیوں میں اعتماد پیدا کرنا اور انہیں یہ باور کرانا ہے کہ وہ سائنس میں کامیاب ہو سکتی ہیں۔دنیا بھر میں ہر سال سیمینارز، ورکشاپس، نمائشیں اور پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں تاکہ لڑکیاں کامیاب خواتین سائنسدانوں سے سیکھ سکیں۔ پاکستان میں بھی کئی یونیورسٹیز اور تعلیمی ادارے اس دن کو مناتے ہیں اور طالبات کی کامیابیوں کو نمایاں کرتے ہیں۔پاکستان میں مستقبل کے مواقعپاکستان میں لڑکیوں کی تعلیم، تحقیقی مواقع اور STEM میں کیریئر بنانے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔اس مقصد کے لیے سکولوں اور کالجز میں خصوصی پروگرامز،سائنس میلے اور نمائشیں،نوجوان سائنسدانوں کے لیے انعامات اور سپورٹ سے سائنس میں نئے آئیڈیاز کی حوصلہ افزائی ہو گی اور مضبوط، ترقی یافتہ اور مساوی معاشرہ قائم کرنے میں مدد ملے گی۔ خواتین اور لڑکیاں سائنس میں نہ صرف حصہ دار ہیں بلکہ مستقبل کی تخلیق میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ پاکستان میں نوجوان لڑکیوں کو سپورٹ اور تربیت دے کر ہم ایک روشن، ترقی یافتہ اور مساوی معاشرہ قائم کر سکتے ہیں۔11 فروری ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ خواتین سائنسدانوں کی محنت اور کامیابیوں کو تسلیم کرنا اور آئندہ نسلوں کے لیے مواقع پیدا کرنا ضروری ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

نیلسن منڈیلا کی رہائی11 فروری 1990ء کو نیلسن منڈیلا 27 سال قید کے بعد رہا ہوئے۔ نیلسن منڈیلا جنوبی افریقہ میں نسل پرستانہ نظام کے خلاف جدوجہد کی علامت تھے۔ انہیں 1962ء میں گرفتار کیا گیا اور 1964ء میں عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ اس دوران وہ روبن آئی لینڈ سمیت مختلف جیلوں میں قید رہے۔منڈیلا کی قید کا مقصد اپارتھائیڈ مخالف تحریک کو دبانا تھا مگر وہ عالمی سطح پر مزاحمت، آزادی اور انسانی حقوق کی علامت بن گئے۔ دنیا بھر میں ان کی رہائی کے لیے مظاہرے ہوتے رہے اور اقوام متحدہ سمیت کئی عالمی اداروں نے جنوبی افریقہ پر دباؤ ڈالا۔نیلسن منڈیلاکی رہائی نے جنوبی افریقہ میں سیاسی مذاکرات کی راہ ہموار کی جس کے نتیجے میں اپارتھائیڈ کا خاتمہ ہوا۔ پوپ بینیڈکٹ شانزدہم کا استعفیٰ 11 فروری 2013 ء کوپوپ بینیڈکٹ شانزدہم نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا۔ وہ تقریباً 600 سال بعد استعفیٰ دینے والے پہلے پوپ تھے۔ ان سے قبل 1415 ء میں پوپ گریگوری دوازدہم نے یہ قدم اٹھایا تھا۔پوپ بینیڈکٹ شانزدہم نے استعفیٰ کی وجہ اپنی بڑھتی عمر اور جسمانی کمزوری کو قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جدید دنیا میں چرچ کی قیادت کے لیے جسمانی اور ذہنی طاقت درکار ہے جو اب ان میں باقی نہیں رہی۔یہ اعلان ویٹیکن میں ایک رسمی تقریب کے دوران لاطینی زبان میں کیا گیا۔ ویٹیکن سٹی کا قیام 11 فروری 1929ء کو لیٹرن معاہدہ پر دستخط ہوئے جس کے نتیجے میں ویٹیکن سٹی ایک آزاد خود مختار ریاست کے طور پر وجود میں آیا۔ یہ معاہدہ اٹلی کے آمر بینیٹو مسولینی اور کیتھولک چرچ کی نمائندگی کرنے والے پوپ پائیس کے درمیان طے پایا۔ اس معاہدے سے قبل ویٹیکن اور اطالوی حکومت کے درمیان شدید تنازع موجود تھا جو 1870ء میں اٹلی کے اتحاد کے بعد شروع ہوا۔ پوپ خود کو ''ویٹیکن کا قیدی‘‘ کہتے تھے اور اطالوی حکومت کو تسلیم نہیں کرتے تھے۔ لیٹرن معاہدے نے اس تنازع کا خاتمہ کر دیا۔اس معاہدے کے تحت ویٹیکن کو ایک آزاد ریاست تسلیم کیا گیا اور پوپ کو مکمل خود مختاری دی گئی ۔ تھامس ایڈیسن کی پیدائش11 فروری 1847ء کو امریکہ کے عظیم موجد تھامس ایڈیسن پیدا ہوئے۔ وہ تاریخ کے سب سے زیادہ اثر انگیز سائنسدانوں اور موجدوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ایڈیسن نے اپنی زندگی میں ایک ہزار سے زائد ایجادات پر پیٹنٹ حاصل کیے۔ ان کی ایجادات نے انسانی زندگی کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔ بجلی کے بلب نے رات کو دن میں بدل دیا اور صنعتی ترقی کو نئی رفتار دی۔ایڈیسن کو رسمی تعلیم بہت کم ملی مگر ان کی ماں نے گھر پر تعلیم دی اور ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دیا۔ وہ ناکامی کو سیکھنے کا ذریعہ سمجھتے تھے اور کہتے تھے کہ میں ناکام نہیں ہوا، میں نے صرف دس ہزار ایسے طریقے دریافت کیے جو کام نہیں کرتے۔ جاپان کا قومی یومِ تاسیس 11 فروری کو جاپان میں قومی یومِ تاسیس منایا جاتا ہے۔ جاپانی روایت کے مطابق اسی دن 660 قبل مسیح میں شہنشاہ جِمّو نے جاپان کی بنیاد رکھی۔ اگرچہ یہ واقعہ تاریخی کے بجائے اساطیری حیثیت رکھتا ہے مگر جاپانی قوم کیلئے اس کی علامتی اہمیت بہت زیادہ ہے۔یہ دن جاپانی شناخت، اتحاد اور ریاستی تسلسل کی علامت ہے۔ اس موقع پر سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم لہرایا جاتا ہے، تقریبات منعقد ہوتی ہیں اور جاپانی تاریخ پر مباحث کیے جاتے ہیں۔ شہنشاہی نظام کو جاپان کی تاریخ میں مرکزی حیثیت حاصل ہے، اور شہنشاہ جمو کو پہلا شہنشاہ مانا جاتا ہے۔