دھرنا: کیا کھویا, کیا پایا ؟

دھرنا: کیا کھویا, کیا پایا ؟

اسپیشل فیچر

تحریر : محمد عامر خاکوانی کا تجزیہ


جمعہ کی شام اسلام آبادمیں جاری دھرنے کے خوشگوار اختتام نے جہاں ملک بھر کے عوام کی بے چینی اور اضطراب کو دور کر دیا ، وہاںاس غیرمعمولی اہم واقعے نے ہمارے سیاسی اور جمہوری نظام کو بھی کئی نئے سبق دیے ہیں۔ ہماری سیاسی جماعتیں لانگ مارچ اور دھرنے کے ہفتہ بھر کے تجربے سے بہت کچھ سیکھ سکتی ہیں۔پاکستان کے عوام، سیاسی اشرافیہ اور مقتدر قوتوں نے یہ بھی ثابت کر دیا ہے کہ ان میں کم عمر ہونے کے باوجود پختگی اور شعور موجود ہے، مشرق وسطیٰ میں عرب سپرنگ یا عرب بہار کے برعکس یہاں پرزیادہ سمجھداری اور ہوشمندی کے ساتھ معاملات سلجھائے گئے۔ حالات بظاہر بندگلی میں چلے جانے کی نشاندہی دے رہے تھے ، مگر اچانک ہی فریقین نے ہوشمندی کا مظاہرہ کیا اورخوبصورتی سے اس پورے قضیے کو نمٹا دیا۔ اس ایک ہفتے کے دوران مختلف سیاسی قوتوں، انٹیلی جنشیا، میڈیا اورمقتدر قوتوں نے کیا کیا کردار ادا کیا،اس کے نتیجے میں انہیں کیا ملا…، اس پر ایک نظر ڈالتے ہیں: علامہ طاہرالقادری کا کردار آغاز تحریک منہاج القرآن کے سربراہ علامہ طاہرالقادری سے کرتے ہیں۔ علامہ صاحب ایک معروف دینی سکالر اور خطیب ہونے کی شہرت رکھتے ہیں۔وہ اپنے بعض بیانات اور ماضی میں چند ایشوز پرموقف بدلتے رہنے کے باعث متنازع رہے ہیں۔ 80ء کی دہائی میں ان کی بشارتوں کے حوالے سے بیان کئے گئے بعض خواب اوراپنے اوپر قاتلانہ حملے کے دعوے کے حوالے سے لاہور ہائیکورٹ کے ٹریبونل کی رپورٹ ہمیشہ ان کے خلاف استعمال کی جاتی ہے۔پولیٹیکل سائنس کی اصطلاح میں وہ اچھے خاصے بوجھ(Baggage)کے ساتھ سیاست کی وادی خارزار میںسفر کر رہے تھے۔ چند برس قبل وہ جنرل پرویز مشرف کے دور میں اسمبلی کی رکنیت سے استعفا دے کر کینیڈا چلے گئے تھے، اس وقت کہا گیا کہ وہ اپنا زیادہ وقت علمی وتدریسی مشاغل کو دینا چاہتے ہیں۔ تین چار سال پہلے انہیں وہاں کی نیشنلٹی بھی مل گئی۔اس دوران علامہ صاحب سیاست سے قدرے دور رہے ،مگر ان کے پاکستان میں رابطے مسلسل قائم رہے، منہاج القرآن کا بڑا تعلیمی نیٹ ورک پچھلے چند برسوں میں بہت زیادہ بڑھا، یہ سب علامہ صاحب کی نگرانی میں ہوا۔ اس دوران ان کی تحریر کردہ کئی کتب بھی شائع ہوئیں، جن میں ترجمہ قرآن ’’عرفان القرآن‘‘، احادیث کا مجموعہ اور خودکش حملوں کے خلاف کئی سو صفحوں پر محیط ایک مبسوط فتویٰ قابل ذکر ہے۔ پاکستانی میڈیا لانگ مارچ کے دنوں میںقادری صاحب سے بار بار یہ کہتا رہا کہ آپ اچانک کیسے آ گئے؟ دراصل یہ ہمارے تجزیہ کاروں اور نیوز اینکرز کی روایتی لاعلمی اوربے خبری تھی۔ سیاست کو باریک بینی سے مانیٹر کرنے والے جانتے تھے کہ طاہرالقادری صاحب بتدریج سیاسی اعتبار سے فعال ہو رہے ہیں۔ سال ڈیڑھ پہلے سے لاہور کے بعض موٹر رکشوں کے پیچھے قادری صاحب کا یہ نعرہ نمودار ہوا،چہرے نہیں، نظام بدلو۔ نظام بدلو کے نام سے ایک ویب سائیٹ بھی بنا دی گئی تھی۔اس کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر قادری صاحب کے حامی اچانک ہی بہت متحرک ہوگئے تھے۔ نظام بدلنے اور قومی سیاست میں جوہری تبدیلیاں لانے کے حوالے سے قادری صاحب کی تقاریر کے ویڈیو کلپس اور تحریریں فیس بک پیجز پر لگائی جانے لگیں۔ رفتہ رفتہ یہ عمل بڑا تیز ہوگیا ۔ اس وقت بھی سوشل میڈیا پر دو تین سب سے متحرک گروپوں میں سے ایک تحریک منہاج القرآن ہے۔ تئیس دسمبر کے جلسے سے چار پانچ ماہ پہلے قادری صاحب نے لاہور کے تھنک ٹینک کونسل آف نیشنل افئیرز کے صحافیوں اور دانشوروں کو منہاج مرکز میں دعوت دی اور ویڈیو کانفرنس کے ذریعے انہیں بریفنگ دی، سوال جواب کا سیشن بھی ہوا۔ اس میں قادری صاحب نے بتایا کہ وہ پاکستان واپس آ رہے ہیں اور ایک بڑا جلسہ کریں گے۔ تاہم اخبار نویسوں نے قادری صاحب کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا۔پھر تئیس دسمبر کے جلسے کے لئے کمپین شروع ہوگئی، دسمبر کے اوائل میں میڈیا کو احساس ہوا کہ قادری صاحب کے حامی جس محنت سے مہم چلا رہے ہیں، وہ بڑا جلسہ کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ پھر ایسا ہی ہوا۔ قادری صاحب نے پہلے اپنے جلسے ، لانگ مارچ اور پھر چار پانچ دن کے دھرنے کے بعد اپنا امیج تبدیل کر لیا۔ ایک غیر اہم، مبالغہ آمیز تقاریر کرنے والے خطیب کے بجائے اب انہیں ایک اہم ، عوامی مقبولیت رکھنے والا طاقتور سیاستدان تصور کیا جائے گا۔ آئندہ میڈیا یا کوئی سیاسی جماعت انہیں Easy نہیں لے گی۔ ان کے کسی دعوے یا اعلان کو نظرانداز کرنا اب ممکن نہیں۔ بڑی مہارت اور دانشمندی سے انہوں نے اپنے پتے کھیلے اور اسلام آباد کے قلب میں پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔انہوں نے اپنے سیاسی حریفوں کو ایک طرح سے آئوٹ کلاس کر دیا۔ان کا اعتماد بھی دیدنی تھا، چودھری برادران کے پیچھے ہٹنے اور عین وقت پر ایم کیو ایم کے دغا دے جانے کے باوجود وہ اپنے پروگرام سے پیچھے نہیں ہٹے اور کامیابی حاصل کر لی۔ وہ ایک ایسے سیاستدان کے طور پر ابھرے ہیں، جن کی اب ہمارے سیاسی منظرنامے میں ایک خاص جگہ اور مستقبل ہے۔انہوں نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ وہ لاکھوں افراد کے لئے ایک روحانی رہنما کی حیثیت بھی رکھتے ہیں، ایسا لیڈر جس کے کہنے پر لوگ اپنے معصوم شیر خوار بچے ساتھ لے کر میدان میں کود سکتے ہیں۔ایک زمانے میں پیر پگارا کے حروں کو یہ حیثیت حاصل تھی۔ تحریک منہاج القرآن کا تاثر ایک خالصتاً علمی اور دعوتی تحریک کا تھا، اب اس نے یہ بھی ثابت کر دیا کہ ان کے پاس انتہائی منظم اور مشکل ترین حالات میں ڈسپلن قائم رکھنے والے کارکن موجود ہیں۔ ایسے کارکن جن پر کسی قسم کے پروپیگنڈہ کا کوئی اثر نہیںاور وہ رہنمائی کے لئے اپنے قائد کی جانب ہی دیکھتے ہیں۔ دھرنے کے سبق قادری صاحب کو بھی یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ خطابت اپنی جگہ ،مگر مطالبے وہی مانے جاتے ہیں جو حقیقت پسندانہ ہوں اور جن کی وسیع پیمانے پر پزیرائی ہوسکے۔انہوں نے اسلام آباد پہنچنے کے بعد شروع میںغیر حقیقی مطالبے کئے، حکومت اور وزرا کو سابق اور پارلیمنٹ کی تحلیل اورالیکشن کمیشن کی فوری تشکیل نو کا کہا۔ یہ مطالبے مانے جانے والے نہیں تھے ، شائد وہ دبائو بڑھانے کے لئے ایسا کر رہے تھے ، مگر ان کا زیادہ مثبت اثر نہیں ہوا۔ بعد میںانہوں نے دانشمندی سے اپنے پرانے اور حقیقی نکات پر توجہ دی اور کم وبیش تمام مطالبے منوا لئے۔ اگلے روز اگرچہ میڈیا کے ایک حصے نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ قادری صاحب کے مطالبے نہ مانے گئے ، مگرحقیقت اس کے برعکس تھی۔ علامہ طاہرالقادری کا اصل مطالبہ آئین کے آرٹیکل باسٹھ ، تریسٹھ کے امیدواروں پر اطلاق، سکروٹنی کی مدت میں توسیع اور عوامی نمائندگی ایکٹ کی شق 77تا 82 میں تبدیلی لانا تھا۔ الیکشن کمیشن کے اختیارات میں اضافہ کامطالبہ بھی اس وجہ سے تھا۔ یہ تمام باتیں مانی گئی ہیں، نگران وزیراعظم کے لئے بھی انہیں ایک سٹیک ہولڈر کے طور پر مان لیا گیا ہے۔ اگر اس معاہدے پر عمل درآمد ہوا تو بڑی حد تک بدنام اور کرپٹ امیدواروں کا صفایا ہوجائے گا۔اس لحاظ سے بڑی کامیابی کہی جا سکتی ہے۔تحریک منہاج القرآن کو یقیناً یہ اندازہ ہو گیا ہو گا کہ دھرنے کے آخری روز بارش کے باعث ان کے لئے آپشنز محدود ہوگئی تھیں، اس سے پہلے بعض اپوزیشن جماعتوں نے میاں نواز شریف کی قیادت میں مشترکہ اعلامیہ جا ری کر کے قادری صاحب اور ان کے حامیوں کو سیاسی طور پر تنہا کر دیا تھا۔ یوں لگ رہا تھا کہ وہ بند گلی میں چلے گئے ہیں، اگر حکومت دانشمندی سے کام نہ لیتی ، مذاکرات نہ کرتی اور محفوظ راستہ نہ دیتی توصورتحال خاصی مشکل ہو گئی تھی۔ سیاست میں واپسی کے راستے کھلے رکھنے چاہیں، قادری صاحب نے ایسا نہیں کیا، وہ انتہا پر چلے گئے تھے۔ تیونس، مصر اور یمن وغیر ہ میں عرب سپرنگ کی کامیابی کی ایک وجہ ان ممالک کے دارالحکومت کی خاص پوزیشن تھی۔ مصر میں تحریر اسکوائر پر جمع ہونے والے لاکھوں افراد قاہرہ کے رہائشی تھے، اگرچہ دوسرے شہروں سے بھی لوگ آئے ،مگر بنیادی طور پر وہ مظاہرے ان شہروں کے اپنی آبادی نے کئے تھے۔ یہی تیونس اور یمن میں ہوا۔ لیبیا اور شام میں صورتحال مختلف تھی، وہاں دارالحکومت میں اپوزیشن کی گرفت مضبوط نہیں تھی، اس لئے ان مظاہروں کا اس طرح اثر نہ ہوسکا۔ کوئٹہ میں ہزارہ کمیونٹی کا دھرنا بھی وہاں کے مقامی آبادی کا اجتماع تھا، جن کے لئے گھروں سے ساز وسامان لانا بھی آسان تھا اور لوگ اپنی پوزیشنیں بھی بدل سکتے تھے۔ ایک دو راتوں کے بعد ضرورت پڑنے پر چند گھنٹوں کے لئے اپنے گھروں میں سستایا جا سکتا تھا۔ قادری صاحب کے لانگ مارچ میں ایسی کوئی سہولت موجود نہیں تھی۔ اس کا تمام تر دارومدار شرکا کے عزم وایثار پر تھا۔ اگر چہ قادری صاحب خوش قسمتی سے اس بار کامیاب ہوئے ،مگر شرکا کا اس قدر سخت امتحان لینا رسک ہوتا ہے، اگر ایسی بارش دو دن پہلے ہوجاتی ، تب کیا ہوتا؟اس وقت تک تو دھرنے کا ٹیمپو بھی نہیں بنا تھا۔ حکومتی اتحادکی سیاسی کامیابی پیپلز پارٹی کی حکومت پر بہت سے حوالوں سے سخت تنقید کی جاتی ہے، جو یکسر بے وزن بھی نہیں، ایک بات مگر اس نے یہ ثابت کر دی ہے کہ وہ ایک سیاسی جماعت ہے اور سیاسی انداز سے سوچتی ہے۔ ایک وقت میں وفاقی حکومت سخت مشکلات کا شکار تھی، پنجاب حکومت لانگ مارچ کو پنڈی پہنچا کر سکون سے تماشا دیکھ رہی تھی،تمام تر دبائو مرکز پر تھا۔ اس مشکل وقت میں پیپلز پارٹی نے اپنے اتحادیوں کو ساتھ ملایا اوراعلیٰ سطحی وفد کے ذریعے مذاکرات کئے ،یوں ڈیڈلاک بھی ختم کیا اوراس معاہدے پر عمل درآمد کرا کر وہ الیکشن کے عمل کا شفاف بنانے کا کریڈٹ بھی لے سکتی ہے۔ پیپلز پارٹی نے اپنے سخت گیر سوچ رکھنے والوں کو سائیڈ پر کیا اور اس کے ثمرات بھی انہیں مل گئے۔ اگر خدانخواستہ تصادم ہوجاتا تو اس کے خوفناک نتائج نکلتے۔ لال مسجد کے سانحے کے اثرات سے ہم ابھی تک نہیں نکل سکے، ملک کسی اور ہولناک واقعہ کا متحمل نہیں ہوسکتا۔پیپلز پارٹی کا اصل امتحان لانگ مارچ ڈیکلئریشن پر عمل کرانا ہے۔ انہیں یہ سمجھنا ہوگا کہ صرف منہاج القرآن ہی نہیں بلکہ ملک بھر میں انتخابی اصلاحات کی خواہش موجود ہے۔ یہ اچھا موقعہ ہے کہ ہمارے سیاستدان جمہوری نظام کی تطہیر کریں، اس سے جمہوریت دشمن قوتوں کو شدید حوصلہ شکنی ہوگی۔ میڈیا اور تجزیہ کار اب یہ مان لینا چاہیے کہ میڈیا اور ہمارے تجزیہ کاروں نے علامہ طاہرالقادری کو انڈر اسٹیمیٹ کیا۔ وہ علامہ صاحب کے شخصی اثر اور قوت کا اندازہ نہ لگا سکے۔ میڈیا کے بیشتر حصے کو یقین تھا کہ لانگ مارچ ہو ہی نہیں سکے گا۔دھرنے کے دوران بھی کوریج کرتے ہوئے انہیں شرکا ء کے موڈکا اندازہ نہیں ہوسکا۔ کئی اینکر خواتین چیختی رہیں کہ آپ لوگوں کو سردی کیوں نہیں لگ رہی، بچے بیمار ہوجائیں گے وغیرہ وغیرہ۔ انہیںسمجھنا چاہیے تھا کہ لوگ کسی جذبے اور کمٹمنٹ کے ساتھ ہی یہاں تک آئے ہیں اور یہ یوں واپس نہیں جائیں گے۔ ہمارے اہل دانش اور تجزیہ کاروں نے سب سے اہم غلطی یہ کی کہ انہوں نے طاہرالقادری کی شخصیت کو بے رحمی سے نشانہ بنایا ،مگر ان کے ایجنڈے کو نظر انداز کر گئے۔ انہیں یہ ادراک نہ ہوسکا کہ انتخابی اصلاحات کرنا اور تبدیلی لانے کے ایجنڈے کی عوام میں زبردست کشش موجود ہے۔ قادری صاحب نے اس خلا میں قدم رکھا ،جو ہماری دوسری سیاسی جماعتیں پر کرنے میں ناکام رہیں۔ جیسا کہ شرکا کے انٹرویوز سے ظاہر بھی ہوا کہ ان میں تمام لوگ منہاج القرآن کے نہیں تھے، بہت سے لوگوں نے بتایا کہ وہ عمران خان کے ووٹر ہیں، بعض دوسری جماعتوں کے حامی بھی تھے۔ ایجنڈے پر زیادہ بات ہونا چاہیے تھی، وہ نہ ہوسکی اور تمسخر،پیروڈی،طنز وتشنیع ہمارے میڈیا پر حاوی رہے۔ یہی وجہ ہے کہ جمعہ کو دھرنے کی کامیابی کے بعد بہت سے اینکروں اور تجزیہ کاروں کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا ردعمل دیں۔ جن باتوں کا وہ مذاق اڑاتے رہے، وہ تقریباً سب مان لی گئیں۔ جہاں تک اسمبلیوں کی تحلیل اور الیکشن کمیشن کی فوری تشکیل کی بات تھی، یہ دبائو بڑھانے کا حربہ تھا، حقیقی مطالبہ نہیں تھا۔میڈیا اور انٹیلی جنشیا کو آنے والے دنوں میں زیادہ محتاط اور باریک بین ہونا پڑے گا۔ الیکشن میں اصلاحات کے عمل پر بھی نظر رکھنے کی ضرورت پڑے گی۔ مسلم لیگ ن مسلم لیگ ن نے بظاہر بڑی عقل مندی اور ہوشیاری سے چالیں چلیں۔ انہوں نے لانگ مارچ کو روکنے کی کوئی کوشش نہیں کی کہ اس کا رخ اسلام آباد کی جانب تھا۔ جب انہوں نے محسوس کیا کہ دھرنے میں خاصے لو گ آگئے ہیں اور یہ اجتماع خطرناک ثابت ہوسکتا ہے تووہ متحرک ہوئے۔ میاں صاحب نے کمال مہارت سے کئی اہم جماعتوںسے رابطے کئے۔ بلوچستان سے اچکزئی صاحب اور حاصل بزنجو کے ساتھ ساتھ مولانا فضل الرحمن اورجماعت اسلامی کو ساتھ ملا لینا ان کی بڑی کامیابی تھی۔ انہوں نے اپنے مشترکہ اعلامیہ سے علامہ طاہرالقادری کو بالکل تنہا کر دیا۔ یہ جمہوریت کے لئے اچھا شگون تھا کہ ہماری سیاسی جماعتیں ہر قسم کی تبدیلی کے لئے انتخابات کی جانب ہی دیکھنے لگی ہیں۔ میاں صاحب نے دانستہ یا نا دانستہ ایک بڑی غلطی یہ کی کہ انہوں نے قادری صاحب کو محفوظ راستہ نہیں دیا۔اے پی سی کے شرکا میں سے کسی نے یہ نہیں سوچا کہ اسلام آباد میںکئی روز سے ہزاروں افراد کا دھرنا جاری ہے۔دھرنے کے شرکا اور ان کے لیڈر قادری صاحب اتنا آگے جا چکے ہیں کہ ان کے لئے کچھ حاصل کئے بغیر واپس لوٹنا شرمندگی کے مترادف ہے۔ انہیں محفوظ راستہ دینا (Face saving)دینا ضروری تھا۔ دوسری صورت میں شرکاء فرسٹریٹ ہو کر تصادم کی طرف جا سکتے تھے، ایسا ہو جاتا تو پھر کچھ بھی نہ بچ پاتا۔ جس طرح کا اعلیٰ سطحی وفد حکومت نے مذاکرات کے لئے بھیجا، ویسا کام پہلے نواز شریف صاحب بھی کر سکتے تھے۔ اگر ایسا کرتے تو وہ محاورے کے مطابق میلہ لوٹ لیتے۔ انہوں نے ایسا نہیں کیا، شائد وہ اپنی مخالف وفاقی حکومت کو ٹف ٹائم دینا چاہتے تھے، مگر اختتام میں اس کا تمام تر نقصان انہیں ہی ہوا۔ ٹی وی چینلز پر ن لیگ کے رہنمائوں کی تلخی دیکھ کر انہیں پہنچنے والے دھچکے کی شدت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ ؟ ہمارے اہل دانش اور تجزیہ کاروں کو ہر ایشو میں اسٹیبلشمنٹ کا کردار دیکھنے کا رویہ بھی بدلنا ہوگا۔ یوں لگتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کا آسیب ان کی دانش کے گرد لپٹ گیا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کے حوالے سے ویسے بھی دو تین باتیں سمجھنی چاہیں۔ دنیا بھر میں اسٹیبلشمنٹ ہمیشہ پر و’’ سٹیٹس کو‘‘ ہوتی ہے۔ نظام بدلنے یا تبدیلی لانے کا نعرہ کبھی انہیں راس نہیں ہوتا۔ ایسا نعرہ لگانے والوں کو ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ قادری صاحب والے معاملے کو زیادہ غور سے دیکھنا چاہیے تھا۔ اگر اس میں اسٹیبلشمنٹ شامل ہوتی تو معروف اسٹیبلشمنٹ نواز جماعتیں اس سے دور نہ رہتیں اور وعدہ کر کے واپس نہ چلی جاتیں۔ جو مارچ یا دھرنا اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر کیا جاتا ہے ، اس کے تیور ہی الگ ہوتے ہیں، اس کے شرکا شروع ہی سے ڈنڈے لے کر چلتے ہیں اور تباہی ان کا مشن ہوتی ہے۔ ایسے جلوسوں میں لوگ خود اپنی خوشی سے اپنی بیویوں، بہنوں اور شیر خوار بچوں کو نہیں لاتے۔ پیسے خواہ جتنے ملیں، اولاد آدمی کو اپنی جان سے بھی زیادہ پیاری ہوتی ہے۔ اس دھرنے کے پرامن اختتام نے یہ ثابت کر دیا کہ اسٹیبلشمنٹ کی رٹ لگانے والے تجزیہ کاروں نے ٹھوکر کھائی، اصولاً تو انہیں اپنے قارئین اور ناظرین سے معذرت کرنی چاہیے، مگرافسوس کہ ہمارے ہاں ایسی اچھی روایتیں موجود نہیں۔ ویسے اس حوالے سے فورسز کا رویہ مثبت رہا۔ کورکمانڈرز کانفرنس کو بعض حلقوں نے معنی خیز نظروں سے دیکھا ،مگر آئی ایس پی آر نے بروقت وضاحت کر دی۔ ہماری مقتدرہ قوتوں کو یہ یاد رکھناچاہیے کہ سیاست صرف سیاستدانوں کے کھیلنے کا میدان ہے۔ عسکری قوتوںکو اپنے پروفیشنل فرائض ہی انجام دینے چاہیں۔ ایسا کرنا ہی ان کے وقاراور عزت میں اضافہ کرے گا۔ اس دھرنے کا پرامن انجام یہ ثابت کرتا ہے کہ ملک میں جمہوریت پنپ رہی ہے اورہمارا بظاہر کمزور جمہوری سسٹم اس قسم کے بڑے دھچکوں کو برداشت کرنے کی سکت اور قوت رکھتا ہے۔اس سے ہمارے سیاستدانوں اور جمہوری قوتوں نے خاصا کچھ سیکھا ہوگا۔ تحریک انصاف عمران خان اور ان کے بعض حامیوں کو ممکن ہے اب اندازہ ہو رہا ہو کہ انہوں نے ملنے والے ایک بڑے موقع سے فائدہ نہیں اٹھایا۔ تحریک انصاف میں لانگ مارچ کے حمایت میں ایک مضبوط لابی موجود تھی،ان کے کئی اہم سیاسی لیڈروں کا خیال تھا کہ ہمیں قادری صاحب کے ساتھ شامل ہونا چاہیے، ان کی جماعت کا سیاسی نیٹ ورک موجود نہیں ،ا س لئے سیاسی کامیابی کے تمام تر ثمرات تحریک انصاف کو پہنچیں گے۔ اس لابی کی بات نہیں مانی گئی، عمران خان اور ان کے بعض غیر سیاسی مگر پارٹی کے لئے تھنک ٹینک کا درجہ رکھنے والے لوگوں کی بات مانی گئی۔ تاہم عمران خان نے لانگ مارچ اور دھرنے پر تنقید بالکل نہیں کی، وہ اسے بڑی احیتاط سے دیکھتے رہے، جائزہ لیتے رہے ،مگر شامل نہیں ہوئے۔ ممکن ہے انہیں خطرہ ہو کہ یہ دھرنا کسی اور جانب جا سکتا ہے۔ انہوں نے اپنی تمام تر توجہ انتخابات کی جانب مبذول کی اور اس حوالے سے دبائو بڑھانے کی کوشش کی ،مگر تحریک انصاف کے بہت سے نوجوان کارکنوں کو اب یقیناً مایوسی ہو رہی ہوگی۔پی ٹی آئی نے اس معاملے میں اگرچہ کھویا بھی زیادہ نہیں۔ ان کے لئے انتخابات کے حوالے سے قادری صاحب کے ساتھ ہاتھ ملانے کی آپشن موجود ہے۔دیکھنا یہ ہے کہ تحریک انصاف آنے والے دنوں میں کیسے پتے چلتی ہے؟

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
’’AURA‘‘ پالتو جانوروں کا سمارٹ ساتھی

’’AURA‘‘ پالتو جانوروں کا سمارٹ ساتھی

جدید ٹیکنالوجی نے انسانی زندگی کو جس تیزی سے سہل بنایا ہے، اب اس کے اثرات پالتو جانوروں کی نگہداشت تک بھی پہنچ چکے ہیں۔ اگر آپ کو اس بات کی فکر رہتی ہے کہ گھر میں آپ کے پالتو جانور تنہا ہو جاتے ہیں تو سائنس دانوں نے آپ کی اس پریشانی کا حل ''اورا‘‘ (Aura) نامی ایک جدید روبوٹک پالتو بٹلر تیار کر کے نکال لیا ہے۔ جو مالکان کی غیر موجودگی میں جانوروں کو کھانا کھلانے، ان کے ساتھ کھیلنے اور ان کی مصروفیت برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ''اورا‘‘ ایک روبوٹک پالتو بٹلر ہے، جسے اس مقصد کیلئے تیار کیا گیا ہے کہ جب آپ دفتر میں مصروف ہوں تو یہ آپ کے پیارے جانوروں کا ساتھ دے سکے۔ اے آئی سروس فراہم کرنے والی کمپنی ''تویا‘‘ (Tuya) کی تیار کردہ یہ مسکراتی روبوٹک اسسٹنٹ گھر میں پہیوں کے ذریعے گھوم سکتی ہے، ویڈیو بنا سکتی ہے اور آپ کے پالتو جانوروں سے تعامل بھی کر سکتی ہے۔ڈیجیٹل مسکراہٹ، وائس ماڈیول اور اپنے چہرے سے ٹریٹس (خوراک) پھینکنے کی صلاحیت سے لیس ''اورا‘‘ دعویٰ کرتی ہے کہ وہ جانوروں کی گہری جذباتی ضروریات کو بھی پورا کرتی ہے۔ یہ سب کچھ اس ٹیکنالوجی کے باعث ممکن ہوتا ہے جسے تویا پالتو جانوروں کیلئے ''جذباتی مترجم‘‘ قرار دیتی ہے۔یہ روبوٹ رویّے اور آوازوں کے تجزیے کے ذریعے جانور کی جذباتی کیفیت کو درست طور پر سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بعد ازاں مالکان کو سمارٹ فون پر خودکار رپورٹس موصول ہوتی ہیں، جن میں بتایا جاتا ہے کہ ان کا پالتو جانور خوش، اداس، بے چین یا پُرجوش ہے۔ ''اورا‘‘ ایک خاندانی فوٹوگرافر کا کردار بھی ادا کر سکتی ہے اور آپ کی مصروفیت کے دوران خودکار طور پر آپ کے پالتو جانوروں کے یادگار لمحات محفوظ کر لیتی ہے۔لاس ویگاس میں منعقدہ کنزیومر الیکٹرانکس شو (CES) میں متعارف کرایا گیا ''اورا‘‘ ایک تین پہیوں والا روبوٹ ہے، جو کچھ اس طرح دکھائی دیتا ہے جیسے ایک آئی پیڈ کو ہیمسٹر وہیل کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہو۔ اس کا بڑا، چپٹا ''چہرہ‘‘ آنکھوں کے ایک جوڑے اور مسکراتے ہوئے منہ پر مشتمل ہے، جو اردگرد موجود لوگوں کو دیکھتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ دوسری جانب اس کا جسم اندر سے خالی ہے، بظاہر اس لیے کہ بلیاں اس کے اندر بیٹھ کر ادھر اُدھر گھوم سکیں۔ یہ ننھا روبوٹ گہرائی کا ادراک حاصل کرنے کیلئے دو کیمروں کا استعمال کرتا ہے اور خودکار طور پر گھر میں نقل و حرکت کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسی صلاحیت کی بدولت ''اورا‘‘ بغیر کسی چیز سے ٹکرائے گھر میں راستہ بنا لیتا ہے اور ضرورت پڑنے پر خود ہی اپنے چارجنگ ڈاک پر واپس پہنچ جاتا ہے۔البتہ گھبرائی ہوئی بلیوں کیلئے یہ خبر کچھ پریشان کن ہو سکتی ہے، کیونکہ کمپنی کے مطابق یہ روبوٹ پورے گھر میں آزادانہ گھومتا ہے اور خود ہی پالتو جانوروں کو تلاش کر کے ان سے تعامل کرتا ہے۔ تاہم ''اورا‘‘ کی اصل کشش اس کی وہ صلاحیت ہے جس کے تحت یہ بلیوں کے جذبات کو بہتر طور پر سمجھنے اور ان سے جذباتی سطح پر رابطہ قائم کرنے کا دعویٰ کرتا ہے۔ اگرچہ خودکار فیڈرز، کیمرے اور حتیٰ کہ ٹریٹس پھینکنے والے کھلونے پہلے ہی موجود ہیں، مگر تویا کا کہنا ہے کہ ان میں سے کوئی بھی پالتو جانور کی تنہائی کے احساس کو کم کرنے میں واقعی مددگار ثابت نہیں ہوتا۔اپنے متحرک چہرے اور اے آئی سے تقویت یافتہ صوتی تعامل کے ذریعے ''اورا‘‘ کو ایک ''ردِعمل دینے والا اور گرم جوش‘‘ ساتھی بنانے کیلئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ کمپنی نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ روبوٹ پالتو جانور سے جذباتی وابستگی کس طرح قائم کرے گا، تاہم اسے مختلف کھلونوں سے لیس کیا گیا ہے، جن میں لیزر پوائنٹر، ٹریٹس دینے والا آلہ اور ''فرضی پالتو جانوروں کی آوازیں‘‘ شامل ہیں۔ اپنے ''جذباتی مترجم‘‘ کی مدد سے تویا کا دعویٰ ہے کہ ''اورا‘‘ مالکان کو ان کے پالتو جانوروں کی خیریت سے باخبر رکھ سکے گا اور دلچسپ لمحات محفوظ بھی کرے گا۔''اورا‘‘ جانوروں کی حرکات و سکنات پر نظر رکھتا ہے، جن میں اچانک جوش و خروش، کھیل کود اور نیند کے لمحات شامل ہیں اور خود فیصلہ کرتا ہے کہ کون سے مناظر مالک کی جانب سے تصویر یا ویڈیو کیلئے موزوں ہیں۔کمپنی کے مطابق یہ خودکار طور پر مختصر ویڈیوز بھی تیار کر سکتا ہے تاکہ قیمتی یادوں کو محفوظ کیا جا سکے اور جذباتی رشتوں کو مضبوط بنایا جا سکے۔ کمپنی نے تاحال یہ نہیں بتایا کہ یہ روبوٹ کب تجارتی طور پر دستیاب ہوگا اور اس کی قیمت کیا ہوگی۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ یہ انوکھا پالتو بٹلر ان کے روبوٹک عزائم کی صرف ابتدا ہے۔ اس کے ذریعے مستقبل میں بزرگوں کی دیکھ بھال، گھریلو نگرانی اور خاندانی رابطے جیسے شعبوں میں مختلف ہارڈویئر شکلوں کے ساتھ نئی ایپلی کیشنز کی بنیاد رکھ رہی ہے۔مصروف طرزِ زندگی میں یہ ایجاد نہ صرف پالتو جانوروں کی بہتر دیکھ بھال کی امید دلاتی ہے بلکہ انسان اور مشین کے باہمی تعلق کے ایک نئے دور کی جھلک بھی پیش کرتی ہے۔

عراق کی وادی ٔ السلام: دنیا کا قدیم ترین قبرستان جس میں انبیا دفن ہیں

عراق کی وادی ٔ السلام: دنیا کا قدیم ترین قبرستان جس میں انبیا دفن ہیں

عراق کی سر زمین ہر پہلو سے قدم قدم پر عجائبات اور حیرتوں کا مجموعہ ہے مگر نجف و کربلا اور کوفہ و بغداد کی عظمت و اہمیت تاریخ میں بھی الگ ہے اور عظمت میں بھی اعلیٰ۔ بصرہ اور مدین کے علاقے بھی اپنے اندر مبارک لمس بھی رکھتے ہیں عشق کا ادراک بھی۔ چار لاکھ سینتیس ہزار بہتر مربع کلومیٹر پر پھیلی دجلہ و فرات سے سیراب ہوتی وادی عراق انبیا و ایما کرام کا مسکن رہی مگر ہماری حیرت دنیا کے قدیم ترین اور وسیع قبرستان وادیٔ السلام کو موضوع تحریر بنا رہی ہے۔نجف میں ہمارا دوسرا دن وادیٔ السلام قبرستان کے نام تھا۔ نبی خدا حضرت صالح علیہ السلام اور حضرت ہود علیہ السلام بھی اسی قبرستان میں دفن ہیں۔ انبیاء کی قبروں سے قبرستان کی قدامت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں رہتا کہ ہزاروں سال قبل کے زمانے اس مٹی کی تہہ میں پوشیدہ ہیں۔ طوفان نوح کے وقت بحر نجف سے اٹھتے طوفان میں جناب نوح علیہ السلام کی کشتی ہی واحد سہارا تھی جو زندگی کی ضامن بھی تھی اور بقا کا سبب بھی۔ جب اللہ تعالی نے حضرت نوح علیہ السلام کو حکم دیا تھا کہ اپنے بیٹے اور بیوی کو بھی کشتی میں بیٹھنے کی دعوت دو۔ باپ کے بلاوے کے باوجود جناب نوح علیہ السلام کا بیٹا اپنے باپ کی کشتی پر بیٹھنے کی بجائے وادیٔ جودی پر چڑھنے کو اپنی بقا سمجھ رہا تھا اور پھر طوفان کی لہریں سب کچھ بہا کر لے گئیں، وادیٔ جودی پر چڑھے ہوئے بیٹے کو بھی اور تمام سرکش لوگوں کو بھی۔ وادیٔ السلام کی راہداریوں میں چلتے ہوئے ہم نے دیکھا کہ بے شمار سرداب بنے ہیں اور زیر زمین قبریں ہیں جن پر نامور لوگوں کے نام والے کتبے لگے ہیں۔ جیسے جیسے ہم آگے بڑھتے گئے ہمیں اپنی حیاتی میں بے پناہ مقبول رہ چکے علماء ، ناقابل شکست سائنس دان، دنیا میں مطلق العنان حاکم اور قبیلوں کے سردار آسودہ خاک ملے۔ اپنی بے وقعتی اور زندگی کا عارضی پن جو ہمیں وادیٔ السلام میں محسوس ہوا ، کبھی نہیں ہوا۔ دو ہزار بیس میں شمار کئے گئے اعداد کے مطابق نو مربع کلومیٹر سے زائد رقبہ پر پھیلے قبرستان میں ساٹھ لاکھ سے زائد قبریں ہیں، جن میں ایران ، عراق ، شام ، لبنان ، پاکستان اور دیگر ممالک کے لوگ اس لئے دفن ہیں کہ یہاں پر دفن کی گئی میتوں بارے معتبر ہستیوں کے فرامین مسلمانوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں اور دنیا کے کسی بھی حصے میں فوت ہونے والے عقیدت مندوں کی وصیت کے مطابق ان کے لواحقین انہیں یہاں لا کر دفن کرتے ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے فرزند جناب اسحق علیہ السلام کے ساتھ اسی مقام پر رہائش رکھی۔ حضرت علیؓ نے فرمایا کہ ''زمین پر کوئی بھی مومن نہیں مرتا مگر یہ کہ اس کی روح وادیٔ السلام میں حاضر نہ ہو اور یہ جنت عدن کا ایک گوشہ ہے ‘‘۔ یہاں پر حضرت زین العابدین اور امام جعفر الصادق کا وہ مقام بھی ہے جہاں وہ عبادت کیلئے بیٹھا کرتے تھے۔گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کے مطابق یہ دنیا کا قدیم ترین اور سب سے بڑا قبرستان ہے جس میں انبیا ء، اولیاء ، مفکر ، سکالر اور مجتہد دفن ہیں۔ قبرستان کا حجم فٹ بال کے 17میدانوں کے برابر ہے۔ہم وادیٔ السلام قبرستان سے نکل کر حضرت علیؓ کے روضہ مبارک کی طرف آئے اور روضہ کے اندر مدفون حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت نوح علیہ السلام کے ساتھ ساتھ علما و محققین کی قبریں جو روضہ علیؓ کے اطراف میں تھیں انہیں بھی وادیٔ السلام میں شامل کرنے پر مجبور تھے کیونکہ حرم امام علی ؓ سے قبرستان کا فاصلہ زیادہ نہیں تھا اور نہ ہی وہ وادیٔ جودی دور تھی جس کی بلندی پر چڑھ کر جناب نوح علیہ السلام کا بیٹا طوفان سے بچ جانے کی بات کرتا تھا۔ نجف الاشرف میں عقیدت کے ساتھ ساتھ حیرت بھی ہمارے دامن گیر تھی۔ ایسی حیرت جو بارش کی منتظر تھی ، ایسی بارش جس میں در نجف ایسے نگینے ہمارے سامنے وادیٔ السلام کی مٹی سے نکل کر ہمارے ہاتھ آ سکیں۔

آج تم یاد بے حساب آئے! روحی بانو ٹی وی ڈرامے کے ایک عہد کا نام (2019-1951ء)

آج تم یاد بے حساب آئے! روحی بانو ٹی وی ڈرامے کے ایک عہد کا نام (2019-1951ء)

٭... 10اگست 1951ء میں بھارتی شہر ممبئی میں پیدا ہوئیں۔ ٭...وہ مشہوربھارتی طبلہ نواز استاد اللہ رکھا کی بیٹی تھیں ۔ والد کی دوسری شادی کے باعث ان کی والدہ بچوں کو لے کر پاکستان آگئیں۔ بھارتی طبلہ نواز استاد ذاکر علی ان کے سوتیلے بھائی تھے۔٭... انہوں نے گورنمنٹ کالج سے سائیکالوجی میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کر رکھی تھی۔ ٭...وہ جب گورنمنٹ کالج میں زیر تعلیم تھیں تب پہلی بار ٹی وی پر جلوہ گر ہوئیں، انہیں ایک کوئز شو میں مدعو کیا گیا تھا۔٭...روحی بانو نے 1970ء کے عشرے میں بیشمار ڈراموں میں یادگاری کردار نبھائے۔٭...اشفاق احمد کی مقبول ترین ڈرامہ سیریز ''ایک محبت سو افسانے‘‘ کے کھیل ''اشتباہ نظر‘‘ میں ان کی اداکاری کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔٭... ان کے ڈرامے صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں بالخصوص بھارت میں بہت پسند کئے جاتے تھے۔٭...صرف چھوٹی سکرین ہی نہیں بلکہ بڑی سکرین پر بھی روحی بانو نے اپنے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔٭... فلمی دنیا میں ان کا کریئر ڈبل اننگز پر مشتمل ہے۔ پہلی اننگز میں وہ فلمی ماحول میں ایڈجسٹ نہ ہو سکیں اور وہاں سے واپسی اختیار کر لی۔ ہیرے کی پہچان رکھنے والے جوہری انہیں دوبارہ فلمی صنعت میں لے آئے۔ اس اننگز میں انہوں نے کئی شاندار فلموں میں کام کیا۔٭... 1981ء میں انہیں ''پرائیڈ آف پرفارمنس‘‘ سے نوازا گیا۔٭...انہیں بہترین اداکاری پر پی ٹی وی ایوارڈ، نگار ایوارڈ، گریجویٹ ایوارڈ اور لکس سٹائل ایوارڈ(لائف ٹائم اچیومنٹ) بھی ملا۔٭... ان کی ذاتی زندگی دکھوں سے بھری پڑی ہے،دو بار شادی کے بندھن میں بندھیں مگر دونوں ہی بارخوشیوں سے محروم رہیں۔٭...2005ء میں ان کے اکلوتے بیٹے فرزند علی کو کسی نے قتل کر دیا۔ ٭...ان صدمات کے باعث وہ نفسیاتی مرض ''شیزو فرینیا‘‘ کا شکار ہو کر فائونٹین ہائوس جا پہنچیں۔انہیں گردوں کا عارضہ بھی لاحق تھا۔٭ زندگی کے آخری ایام میں وہ ترکی میں اپنے بھانجے کے پاس مقیم تھیں، 2019ء میں آج کے روز وہیں ان کا انتقال ہوا اور وہیں تدفین کی گئی۔مشہور ڈرامے٭...کانچ کا پل ٭...کرن کہانی ٭...زیرزبرپیش ٭...دروازہ ٭...زرد گلاب ٭ ... دھند٭ ... سراب ٭...قلعہ کہانی ٭...حیرت کدہ ٭...پکی حویلیمقبول فلمیںپالکی، امنگ (1975ء)، انسان اور فرشتہ، راستے کا پتھر، انوکھی، گونج اٹھی شہنائی (1976ء)،زندگی، خدا اور محبت ، دشمن کی تلاش (1978ء)، ضمیر (1980ء)،دل ایک کھلونا،کرن اور کلی، بڑا آدمی (1981ء)، کائنات (1983ء)، آ ج کا انسان (1984ء)، دشمن کی تلاش (1991ء)، سمجھوتہ (1995ء)

آج کا دن

آج کا دن

بین البراعظمی ٹیلی فون سروس کاآغازگراہم بیل کو ٹیلی فون کا موجد مانا جاتا ہے اور موجودہ دور کا مواصلاتی نظام بھی اسی ایجاد کی جدید شکل ہے۔ ابتدائی طور پر ٹیلی فون کا استعمال اور اس کی حدود انتہائی کم اور محدود تھیں۔ مختلف مراحل سے گزرنے کے بعد اس میں وقت کے ساتھ ساتھ جدت آتی گئی۔ 25جنوری 1915ء میں گراہم بیل نے نیویارک میں موجودگی کے دوران سان فرانسسکو میں بیٹھے اپنے ساتھی تھامس واٹسن سے ٹیلی فون پر بات کر کے بین البراعظمی ٹیلی فون سروس کا آغاز کیا۔ تھامس واٹسن کو ٹیلی فون کی ایجاد میں ایک اہم کردار تصور کیا جاتا ہے۔ آرمینیا ، کولمبیا زلزلہ''آرمینیا،کولمبیا زلزلہ‘‘25 جنوری 1999ء کو آیا۔ اس زلزلے کا مرکز کولمبیا کے جنوب مغرب میں 40 کلومیٹر مغرب کی جانب واقع تھا۔ زلزلے کے شدید جھٹکوں نے آرمینیا کو بہت زیادہ متاثر کیا جبکہ کولمبیا میں کاشت کرنے والے ایکسس ریجن، 18 قصبے، 28 دیہات اور کافی حد تک پیریر اور مانیزیلس متاثر ہوئے۔زلزلے کی شدت6.2ریکارڈ کی گئی اور یہ 16برسوں میں کولمبیا میں آنے والا سب سے تباہ کن زلزلہ تھا۔ اس زلزلے کے نتیجے میں تقریباً2ہزار افراد ہلاک اور 4ہزار زخمی ہوئے جبکہ لاپتہ ہونے والوں کی تعداد 3ہزار کے قریب تھی۔کلیمن ٹائن منصوبہ''کلیمن ٹائن‘‘ جسے ڈیپ سپیس پروگرام سائنس ایکسپیریمنٹ (DSPSE) کے نام سے بھی جانا جاتا ہے دراصل ایک بیلسٹک میزائل ڈیفنس آرگنائزیشن اور امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا کے درمیان ایک مشترکہ خلائی منصوبہ تھا۔ اس منصوبے کا آغاز 25 جنوری 1994ء کو کیا گیا۔ اس خلائی مشن کا مقصد سینسرز کی جانچ کرنا تھا۔خلائی جہاز میں ایسے آلات نصب کئے گئے تھے جن کی مدد سے چاند اور زمین کے قریب موجود خلائی ماحول کا جائزہ لیا جا سکے۔خلائی جہاز تکنیکی خرابی کی وجہ سے مطلوبہ نتائج فراہم کرنے میں ناکام رہا۔

53سال بعد چاند پر دوبارہ اترنے کی تیاری!

53سال بعد چاند پر دوبارہ اترنے کی تیاری!

ناسا کا اہم ترین خلائی مشن 6فروری کو روانہ ہو گاناسا نے53 سال بعد امریکی خلا بازوں کو دوبارہ چاند پر بھیجنے کے منصوبے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ مشن نہ صرف خلائی تحقیق کے نئے باب کا آغاز کرے گا بلکہ انسانی تاریخ میں چاند اور مستقبل کے بین السیاروی سفر کیلئے سنگ میل ثابت ہوگا۔ امریکی خلائی ایجنسی کے مطابق، یہ پروگرام جدید ٹیکنالوجی، جدید خلائی گاڑیوں اور انسانی صلاحیتوں کے امتزاج پر مبنی ہوگا تاکہ خلا باز بغیر کسی خطرے کے چاند کی سطح پر اتر سکیں اور سائنسی تحقیق کیلئے قیمتی ڈیٹا جمع کر سکیں۔ یہ تاریخی اقدام خلائی مقابلہ اور سائنس کی ترقی میں ایک اہم سنگ میل ہوگا۔''آرٹیمس II‘‘ جو 1972ء کے بعد چاند کا پہلا انسانی مشن ہوگا، 6 فروری کو روانہ ہوگا۔ ناسا کے حکام کے مطابق ''آرٹیمس II‘‘ کیلئے باضابطہ آغاز کی ونڈو 31 جنوری سے 14 فروری تک کھلی رہے گی، اور متعدد متبادل تاریخیں بھی منتخب کی گئی ہیں۔ یہ مشن ناسا کے خلا باز ریڈ ویزمین(Reid Wiseman) ، وکٹر گلوور(Victor Glover)، کرسٹینا کوچ (Christina Koch) اور کینیڈین اسپیس ایجنسی کے خلا باز جرمی ہینسن (Jeremy Hansen) کو لے کر چاند کے گرد 10 دن کا سفر کرے گا اور زمین پر واپس آئے گا۔ ''آرٹیمس II مشن‘‘ چاند کی سطح پر لینڈ نہیں کرے گا۔ آرٹیمس پروگرام میں پہلا قمری لینڈنگ ''آرٹیمس III‘‘ میں شیڈول ہے، جو فی الحال 2027ء میں ہونے کا امکان ہے۔ ''آرٹیمس II‘‘ کسی بھی دن لانچ نہیں ہو سکتا۔ وقت کا تعین زمین اور چاند کی پوزیشن، راکٹ کی کارکردگی اور فلوریڈا کے کینیڈی اسپیس سینٹر کے قریب موسم کو دیکھ کر کیا جائے گا۔ ممکنہ متبادل لانچ تاریخوں میں 7، 8، 10 اور 11 فروری شامل ہیں۔ اگر فروری میں کسی وجہ سے لانچ ممکن نہ ہوا تو ناسا نے مارچ اور اپریل کے ابتدائی دنوں کو بھی متبادل کے طور پر منتخب کیا ہے۔ ''آرٹیمس II‘‘ 53 سال بعد انسانی عملے والا پہلا مشن ہوگا جو کم زمین مدار سے آگے جائے گا۔جیسے ہی 6 فروری آئے گا، خلا باز کیپ کینیورل سے اورین اسپیس کرافٹ میں روانہ ہوں گے، جو ناسا کے طاقتور اسپیس لانچ سسٹم (SLS) راکٹ کے ذریعے لے جایا جائے گا۔ ابتدائی طور پر وہ زمین کے گرد چند چکر لگائیں گے تاکہ لائف سپورٹ آلات کی جانچ کی جا سکے، اور پھر چاند کی فلائی بائی کیلئے روانہ ہوں گے، یعنی قریب سے گزرنا لیکن چاند کی مدار میں نہ جانا اور نہ لینڈ کرنا۔ اسپیس کرافٹ چاند کی کشش ثقل کا استعمال کرتے ہوئے زمین کی طرف واپس آئے گا، جسے 'فری ریٹرن ٹریجیکٹری‘ (free-return trajectory)کہا جاتا ہے، یعنی اگر کوئی مسئلہ پیش آئے تو اضافی انجن کے بغیر محفوظ طور پر واپس آ سکتا ہے۔ مشن کا بنیادی مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ راکٹ، اسپیس کرافٹ اور تمام نظام انسانی عملے کے ساتھ بخوبی کام کرتے ہیں، تاکہ اگلے سال ''آرٹیمس III‘‘ کے لینڈنگ مشن کی راہ ہموار ہو سکے۔''SLS راکٹ‘‘ اور اورین اسپیس کرافٹ کو ناسا کے ویہکل اسمبلی بلڈنگ سے لانچ پیڈ 39B تک لے جایا جائے گا۔ یہ سفر تقریباً چار میل طویل ہے اور راکٹ کو لے جانے کیلئے ایک عظیم کیریئر ٹرانسپورٹر استعمال کیا جائے گا، جو مکمل ہونے میں تقریباً 12 گھنٹے لگ سکتے ہیں۔ پیڈ پر پہنچنے کے بعد ٹیمیں بجلی اور ایندھن کی لائنیں جوڑیں گی اور حتمی راکٹ ٹیسٹنگ کریں گی، اس کے بعد خلا باز فلائٹ کیلئے واک تھرو شروع کریں گے۔جب ''آرٹیمس II‘‘ لانچ پیڈ پر پہنچ جائے گا، تو ناسا کا عملہ ''ویٹ ڈریس ریہرسل‘‘ اور ''ٹینکنگ‘‘ کے طریقہ کار سے گزریں گے۔ اس دوران وہ SLS راکٹ میں7 لاکھ گیلن سے زیادہ انتہائی ٹھنڈا مائع ہائیڈروجن اور آکسیجن بھریں گے، جو راکٹ کو خلا میں پہنچانے کیلئے ایندھن کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ ناسا یہاں تک کہ فرضی لانچ کا کاؤنٹ ڈاؤن بھی کرے گا، ہولڈز اور ری اسٹارٹس کی مشق کرے گا اور پھر ایندھن کے ٹینکوں کو محفوظ طریقے سے خالی کرے گا جب تک کہ اصل لانچ کا وقت نہ آئے۔ یہ ریہرسل ناسا کے فیولنگ طریقہ کار کو جانچنے اور راکٹ کے ممکنہ مسائل، جیسے ٹینک یا والو میں لیک، کی نشاندہی کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اگر کوئی مسئلہ سامنے آتا ہے تو ناسا کو ممکنہ طور پر متعدد ریہرسل کرنی پڑیں گی اور لانچ میں تاخیر ہو سکتی ہے۔ستمبر 2025 میں سابق ناسا ایڈمنسٹریٹر شان ڈیفی نے اعلان کیا تھاکہ '' آرٹیمس II‘‘ مشن کے تقریباً ڈیڑھ سال بعد، ''آرٹیمس III‘‘ کے خلائی مشن کے ذریعے امریکی خلا باز چاند پر لینڈ کریں گے اور وہاں طویل المدتی انسانی موجودگی قائم کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چاند پر دوبارہ مشنز سے حاصل ہونے والا تجربہ مستقبل میں امریکی خلا بازوں کو مریخ پر اتارنے کی کوششوں میں مدد کرے گا۔

زیوس: اساطیری کردار

زیوس: اساطیری کردار

قدیم انسانی تاریخ میں کچھ تخلیقات ایسی ہیں جو محض پتھر، لکڑی یا دھات کا مجموعہ نہیں بلکہ وہ اپنے عہد کی فکری، مذہبی اور تہذیبی عظمت کی علامت بن جاتی ہیں۔ یونان کے شہر اولمپیا میں واقع زیوس کا عظیم الشان مجسمہ بھی ایسی ہی ایک لازوال تخلیق تھا جو قدیم دنیا کے سات عجائبات میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ مجسمہ نہ صرف فن مجسمہ سازی کا اعلیٰ ترین نمونہ تھا بلکہ یونانی مذہب، عقیدت اور ثقافت کی روح کو اپنے اندر سموئے ہوئے تھا۔یہ مجسمہ یونانیوں کی مذہبی عقیدت کا مرکز تھا بلکہ اس دور کی انجینئرنگ اور سنگ تراشی کا شاہکار بھی تھا۔ زیوس کا مجسمہ یونان کے شہر اولمپیا میں واقع زیوس کے مندر میں نصب کیا گیا تھا۔ اولمپیا وہ جگہ تھی جہاں ہر چار سال بعد مشہور اولمپک کھیل منعقد ہوتے تھے۔ یہ کھیل زیوس دیوتا کے اعزاز میں منعقد کیے جاتے تھے۔5 ویں صدی قبل مسیح تقریباً 435 قبل مسیح میں جب اولمپیا میں زیوس کا مندر تعمیر ہو چکا تو یونانیوں نے محسوس کیا کہ مندر کے اندر دیوتا کی موجودگی کا احساس دلانے کیلئے ایسا مجسمہ ہونا چاہیے جو اپنی ساخت اور ہیبت میں بے مثال ہو۔ اس عظیم کام کیلئے اس وقت کے مشہور ترین سنگ تراش فیڈیاس کا انتخاب کیا گیا۔فیڈیاس وہ فنکار تھا جس نے ایتھنز میں ایتھینا دیوی کا مجسمہ بھی تیار کیا تھا۔ اسے سونے اور ہاتھی دانت کے کام کا ماہر مانا جاتا تھا۔ اس نے اس مجسمے کو تیار کرنے کیلئے مندر کے قریب ہی ورکشاپ قائم کی، جس کے آثار آج بھی ماہرین آثارقدیمہ کو ملتے ہیں۔زیوس کا یہ مجسمہ تقریباً 40 فٹ یعنی 12 میٹر بلند تھا۔ قدیم مورخین لکھتے ہیں کہ اگر زیوس اپنی کرسی سے اٹھ کھڑا ہوتا تو وہ مندر کی چھت پھاڑ کر باہر نکل جاتا۔ یہ مجسمہ لکڑی کے ڈھانچے پر بنایا گیا تھا جس پر جسم کیلئے ہاتھی دانت کی تہیں چڑھائی گئی تھیں اور کپڑوں اور زیورات کیلئے خالص سونے کی چادریں استعمال کی گئی تھیں۔ زیوس کو عظیم الشان تخت پر بیٹھا ہوا دکھایا گیا تھا جو آبنوس، سونے اور قیمتی پتھروں سے مزین تھا۔ زیوس کے دائیں ہاتھ میں نائیکی فتح کی دیوی کا چھوٹا مجسمہ تھا، جبکہ بائیں ہاتھ میں شاہی عصا تھا جس کے اوپر ایک عقاب بیٹھا ہوا تھا۔ اس کے سر پر زیتون کی شاخوں کا تاج تھا اور اس کے سنہری لباس پر جانوروں اور پھولوں کے نقش و نگار بنے ہوئے تھے۔یونانیوں کیلئے یہ مجسمہ زمین پر دیوتا کی تجلی تھا۔ کہا جاتا ہے کہ جب فیڈیاس نے اپنا کام مکمل کیا تو اس نے زیوس سے دعا کی کہ وہ اپنی پسندیدگی کا اظہار کرے۔ روایات کے مطابق، اسی لمحے آسمان سے بجلی مندر کے فرش پر گری جسے خدا کی رضا مندی کی علامت سمجھا گیا۔زائرین دور دراز سے اس مجسمے کی زیارت کیلئے آتے تھے۔ اس کے سامنے کھڑے ہو کر لوگ سکون محسوس کرتے تھے۔ صدیاں گزرنے کے ساتھ ساتھ یونان کی قسمت بدلی۔ رومیوں کے غلبے اور عیسائیت کے پھیلاؤ کے بعد قدیم دیوتاؤں کی عبادت ختم ہونے لگی۔ پہلی صدی عیسوی میں رومی شہنشاہ کالیگولا نے اسے روم منتقل کرنے کی کوشش کی لیکن کہا جاتا ہے کہ جب اس کے کارندے مجسمے کے قریب پہنچے تو مجسمہ زور سے ہنسا جس سے دار توبہ ہو کر وہ بھاگ کھڑے ہوئے۔ چوتھی صدی عیسوی میں جب اولمپک کھیلوں پر پابندی لگی، تو ایک امیر تاجر اسے قسطنطنیہ موجودہ استنبول لے گیا۔ بدقسمتی سے، 475 عیسوی میں قسطنطنیہ کے محل میں لگنے والی آگ نے اس عظیم شاہکار کو ہمیشہ کیلئے ختم کر دیا۔ آج اس مجسمے کا کوئی حصہ موجود نہیں ہے۔ اگرچہ زیوس کا مجسمہ اب دنیا میں موجود نہیں، لیکن اس کا اثر فن تعمیر اور آرٹ پر آج بھی قائم ہے۔ اولمپیا میں ہونے والی کھدائیوں سے وہ ورکشاپ دریافت ہوئی جہاں فیڈیاس نے یہ مجسمہ بنایا تھا۔ وہاں سے کچھ اوزار اور سانچے بھی ملے ہیں، جو اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ یہ مجسمہ کتنا عظیم رہا ہوگا۔زیوس دیوتا کا مجسمہ انسانی تخلیقی صلاحیتوں کی انتہا تھا۔ اگرچہ وقت کی بے رحم موجوں نے اسے مٹا دیا لیکن تاریخ کے اوراق میں یہ آج بھی عظیم عجوبے کے طور پر زندہ ہے۔آج زیوس دیوتا کا عظیم الشان مجسمہ ہمارے سامنے موجود نہیں، مگر اس کا ذکر کتابوں، تاریخی حوالوں، قدیم سکّوں اور مصوری میں محفوظ ہے۔ ماہرین آثارقدیمہ نے اولمپیا میں فیڈیاس کی ورکشاپ کے آثار دریافت کیے ہیں، جن سے اس عظیم تخلیق کے بارے میں قیمتی معلومات ملتی ہیں۔ جدید دور میں اس مجسمے کی کئی تصوری تعمیرات (Reconstruction) بھی کی گئی ہیں تاکہ لوگ اس کی ہیبت اور حسن کا اندازہ لگا سکیں۔زیوس کا مجسمہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ انسان جب اپنے عقیدے، فن اور محنت کو یکجا کر دے تو وہ ایسی تخلیق کر سکتا ہے جو صدیوں بعد بھی یاد رکھی جائے۔ اگرچہ یہ مجسمہ مادی طور پر باقی نہیں رہا، مگر تاریخ کے صفحات میں اس کی عظمت ہمیشہ زندہ رہے گی۔ یوں زیوس دیوتا کا عظیم الشان مجسمہ صرف ایک گمشدہ عجوبہ نہیں بلکہ انسانی تخلیقی صلاحیت، عقیدت اور تہذیبی ورثے کی ایک روشن مثال ہے، جو آج بھی دنیا بھر کے مؤرخین، محققین اور قارئین کو اپنی طرف متوجہ کیے ہوئے ہے۔