دھرنا: کیا کھویا, کیا پایا ؟

دھرنا: کیا کھویا, کیا پایا ؟

اسپیشل فیچر

تحریر : محمد عامر خاکوانی کا تجزیہ


جمعہ کی شام اسلام آبادمیں جاری دھرنے کے خوشگوار اختتام نے جہاں ملک بھر کے عوام کی بے چینی اور اضطراب کو دور کر دیا ، وہاںاس غیرمعمولی اہم واقعے نے ہمارے سیاسی اور جمہوری نظام کو بھی کئی نئے سبق دیے ہیں۔ ہماری سیاسی جماعتیں لانگ مارچ اور دھرنے کے ہفتہ بھر کے تجربے سے بہت کچھ سیکھ سکتی ہیں۔پاکستان کے عوام، سیاسی اشرافیہ اور مقتدر قوتوں نے یہ بھی ثابت کر دیا ہے کہ ان میں کم عمر ہونے کے باوجود پختگی اور شعور موجود ہے، مشرق وسطیٰ میں عرب سپرنگ یا عرب بہار کے برعکس یہاں پرزیادہ سمجھداری اور ہوشمندی کے ساتھ معاملات سلجھائے گئے۔ حالات بظاہر بندگلی میں چلے جانے کی نشاندہی دے رہے تھے ، مگر اچانک ہی فریقین نے ہوشمندی کا مظاہرہ کیا اورخوبصورتی سے اس پورے قضیے کو نمٹا دیا۔ اس ایک ہفتے کے دوران مختلف سیاسی قوتوں، انٹیلی جنشیا، میڈیا اورمقتدر قوتوں نے کیا کیا کردار ادا کیا،اس کے نتیجے میں انہیں کیا ملا…، اس پر ایک نظر ڈالتے ہیں: علامہ طاہرالقادری کا کردار آغاز تحریک منہاج القرآن کے سربراہ علامہ طاہرالقادری سے کرتے ہیں۔ علامہ صاحب ایک معروف دینی سکالر اور خطیب ہونے کی شہرت رکھتے ہیں۔وہ اپنے بعض بیانات اور ماضی میں چند ایشوز پرموقف بدلتے رہنے کے باعث متنازع رہے ہیں۔ 80ء کی دہائی میں ان کی بشارتوں کے حوالے سے بیان کئے گئے بعض خواب اوراپنے اوپر قاتلانہ حملے کے دعوے کے حوالے سے لاہور ہائیکورٹ کے ٹریبونل کی رپورٹ ہمیشہ ان کے خلاف استعمال کی جاتی ہے۔پولیٹیکل سائنس کی اصطلاح میں وہ اچھے خاصے بوجھ(Baggage)کے ساتھ سیاست کی وادی خارزار میںسفر کر رہے تھے۔ چند برس قبل وہ جنرل پرویز مشرف کے دور میں اسمبلی کی رکنیت سے استعفا دے کر کینیڈا چلے گئے تھے، اس وقت کہا گیا کہ وہ اپنا زیادہ وقت علمی وتدریسی مشاغل کو دینا چاہتے ہیں۔ تین چار سال پہلے انہیں وہاں کی نیشنلٹی بھی مل گئی۔اس دوران علامہ صاحب سیاست سے قدرے دور رہے ،مگر ان کے پاکستان میں رابطے مسلسل قائم رہے، منہاج القرآن کا بڑا تعلیمی نیٹ ورک پچھلے چند برسوں میں بہت زیادہ بڑھا، یہ سب علامہ صاحب کی نگرانی میں ہوا۔ اس دوران ان کی تحریر کردہ کئی کتب بھی شائع ہوئیں، جن میں ترجمہ قرآن ’’عرفان القرآن‘‘، احادیث کا مجموعہ اور خودکش حملوں کے خلاف کئی سو صفحوں پر محیط ایک مبسوط فتویٰ قابل ذکر ہے۔ پاکستانی میڈیا لانگ مارچ کے دنوں میںقادری صاحب سے بار بار یہ کہتا رہا کہ آپ اچانک کیسے آ گئے؟ دراصل یہ ہمارے تجزیہ کاروں اور نیوز اینکرز کی روایتی لاعلمی اوربے خبری تھی۔ سیاست کو باریک بینی سے مانیٹر کرنے والے جانتے تھے کہ طاہرالقادری صاحب بتدریج سیاسی اعتبار سے فعال ہو رہے ہیں۔ سال ڈیڑھ پہلے سے لاہور کے بعض موٹر رکشوں کے پیچھے قادری صاحب کا یہ نعرہ نمودار ہوا،چہرے نہیں، نظام بدلو۔ نظام بدلو کے نام سے ایک ویب سائیٹ بھی بنا دی گئی تھی۔اس کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر قادری صاحب کے حامی اچانک ہی بہت متحرک ہوگئے تھے۔ نظام بدلنے اور قومی سیاست میں جوہری تبدیلیاں لانے کے حوالے سے قادری صاحب کی تقاریر کے ویڈیو کلپس اور تحریریں فیس بک پیجز پر لگائی جانے لگیں۔ رفتہ رفتہ یہ عمل بڑا تیز ہوگیا ۔ اس وقت بھی سوشل میڈیا پر دو تین سب سے متحرک گروپوں میں سے ایک تحریک منہاج القرآن ہے۔ تئیس دسمبر کے جلسے سے چار پانچ ماہ پہلے قادری صاحب نے لاہور کے تھنک ٹینک کونسل آف نیشنل افئیرز کے صحافیوں اور دانشوروں کو منہاج مرکز میں دعوت دی اور ویڈیو کانفرنس کے ذریعے انہیں بریفنگ دی، سوال جواب کا سیشن بھی ہوا۔ اس میں قادری صاحب نے بتایا کہ وہ پاکستان واپس آ رہے ہیں اور ایک بڑا جلسہ کریں گے۔ تاہم اخبار نویسوں نے قادری صاحب کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا۔پھر تئیس دسمبر کے جلسے کے لئے کمپین شروع ہوگئی، دسمبر کے اوائل میں میڈیا کو احساس ہوا کہ قادری صاحب کے حامی جس محنت سے مہم چلا رہے ہیں، وہ بڑا جلسہ کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ پھر ایسا ہی ہوا۔ قادری صاحب نے پہلے اپنے جلسے ، لانگ مارچ اور پھر چار پانچ دن کے دھرنے کے بعد اپنا امیج تبدیل کر لیا۔ ایک غیر اہم، مبالغہ آمیز تقاریر کرنے والے خطیب کے بجائے اب انہیں ایک اہم ، عوامی مقبولیت رکھنے والا طاقتور سیاستدان تصور کیا جائے گا۔ آئندہ میڈیا یا کوئی سیاسی جماعت انہیں Easy نہیں لے گی۔ ان کے کسی دعوے یا اعلان کو نظرانداز کرنا اب ممکن نہیں۔ بڑی مہارت اور دانشمندی سے انہوں نے اپنے پتے کھیلے اور اسلام آباد کے قلب میں پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔انہوں نے اپنے سیاسی حریفوں کو ایک طرح سے آئوٹ کلاس کر دیا۔ان کا اعتماد بھی دیدنی تھا، چودھری برادران کے پیچھے ہٹنے اور عین وقت پر ایم کیو ایم کے دغا دے جانے کے باوجود وہ اپنے پروگرام سے پیچھے نہیں ہٹے اور کامیابی حاصل کر لی۔ وہ ایک ایسے سیاستدان کے طور پر ابھرے ہیں، جن کی اب ہمارے سیاسی منظرنامے میں ایک خاص جگہ اور مستقبل ہے۔انہوں نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ وہ لاکھوں افراد کے لئے ایک روحانی رہنما کی حیثیت بھی رکھتے ہیں، ایسا لیڈر جس کے کہنے پر لوگ اپنے معصوم شیر خوار بچے ساتھ لے کر میدان میں کود سکتے ہیں۔ایک زمانے میں پیر پگارا کے حروں کو یہ حیثیت حاصل تھی۔ تحریک منہاج القرآن کا تاثر ایک خالصتاً علمی اور دعوتی تحریک کا تھا، اب اس نے یہ بھی ثابت کر دیا کہ ان کے پاس انتہائی منظم اور مشکل ترین حالات میں ڈسپلن قائم رکھنے والے کارکن موجود ہیں۔ ایسے کارکن جن پر کسی قسم کے پروپیگنڈہ کا کوئی اثر نہیںاور وہ رہنمائی کے لئے اپنے قائد کی جانب ہی دیکھتے ہیں۔ دھرنے کے سبق قادری صاحب کو بھی یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ خطابت اپنی جگہ ،مگر مطالبے وہی مانے جاتے ہیں جو حقیقت پسندانہ ہوں اور جن کی وسیع پیمانے پر پزیرائی ہوسکے۔انہوں نے اسلام آباد پہنچنے کے بعد شروع میںغیر حقیقی مطالبے کئے، حکومت اور وزرا کو سابق اور پارلیمنٹ کی تحلیل اورالیکشن کمیشن کی فوری تشکیل نو کا کہا۔ یہ مطالبے مانے جانے والے نہیں تھے ، شائد وہ دبائو بڑھانے کے لئے ایسا کر رہے تھے ، مگر ان کا زیادہ مثبت اثر نہیں ہوا۔ بعد میںانہوں نے دانشمندی سے اپنے پرانے اور حقیقی نکات پر توجہ دی اور کم وبیش تمام مطالبے منوا لئے۔ اگلے روز اگرچہ میڈیا کے ایک حصے نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ قادری صاحب کے مطالبے نہ مانے گئے ، مگرحقیقت اس کے برعکس تھی۔ علامہ طاہرالقادری کا اصل مطالبہ آئین کے آرٹیکل باسٹھ ، تریسٹھ کے امیدواروں پر اطلاق، سکروٹنی کی مدت میں توسیع اور عوامی نمائندگی ایکٹ کی شق 77تا 82 میں تبدیلی لانا تھا۔ الیکشن کمیشن کے اختیارات میں اضافہ کامطالبہ بھی اس وجہ سے تھا۔ یہ تمام باتیں مانی گئی ہیں، نگران وزیراعظم کے لئے بھی انہیں ایک سٹیک ہولڈر کے طور پر مان لیا گیا ہے۔ اگر اس معاہدے پر عمل درآمد ہوا تو بڑی حد تک بدنام اور کرپٹ امیدواروں کا صفایا ہوجائے گا۔اس لحاظ سے بڑی کامیابی کہی جا سکتی ہے۔تحریک منہاج القرآن کو یقیناً یہ اندازہ ہو گیا ہو گا کہ دھرنے کے آخری روز بارش کے باعث ان کے لئے آپشنز محدود ہوگئی تھیں، اس سے پہلے بعض اپوزیشن جماعتوں نے میاں نواز شریف کی قیادت میں مشترکہ اعلامیہ جا ری کر کے قادری صاحب اور ان کے حامیوں کو سیاسی طور پر تنہا کر دیا تھا۔ یوں لگ رہا تھا کہ وہ بند گلی میں چلے گئے ہیں، اگر حکومت دانشمندی سے کام نہ لیتی ، مذاکرات نہ کرتی اور محفوظ راستہ نہ دیتی توصورتحال خاصی مشکل ہو گئی تھی۔ سیاست میں واپسی کے راستے کھلے رکھنے چاہیں، قادری صاحب نے ایسا نہیں کیا، وہ انتہا پر چلے گئے تھے۔ تیونس، مصر اور یمن وغیر ہ میں عرب سپرنگ کی کامیابی کی ایک وجہ ان ممالک کے دارالحکومت کی خاص پوزیشن تھی۔ مصر میں تحریر اسکوائر پر جمع ہونے والے لاکھوں افراد قاہرہ کے رہائشی تھے، اگرچہ دوسرے شہروں سے بھی لوگ آئے ،مگر بنیادی طور پر وہ مظاہرے ان شہروں کے اپنی آبادی نے کئے تھے۔ یہی تیونس اور یمن میں ہوا۔ لیبیا اور شام میں صورتحال مختلف تھی، وہاں دارالحکومت میں اپوزیشن کی گرفت مضبوط نہیں تھی، اس لئے ان مظاہروں کا اس طرح اثر نہ ہوسکا۔ کوئٹہ میں ہزارہ کمیونٹی کا دھرنا بھی وہاں کے مقامی آبادی کا اجتماع تھا، جن کے لئے گھروں سے ساز وسامان لانا بھی آسان تھا اور لوگ اپنی پوزیشنیں بھی بدل سکتے تھے۔ ایک دو راتوں کے بعد ضرورت پڑنے پر چند گھنٹوں کے لئے اپنے گھروں میں سستایا جا سکتا تھا۔ قادری صاحب کے لانگ مارچ میں ایسی کوئی سہولت موجود نہیں تھی۔ اس کا تمام تر دارومدار شرکا کے عزم وایثار پر تھا۔ اگر چہ قادری صاحب خوش قسمتی سے اس بار کامیاب ہوئے ،مگر شرکا کا اس قدر سخت امتحان لینا رسک ہوتا ہے، اگر ایسی بارش دو دن پہلے ہوجاتی ، تب کیا ہوتا؟اس وقت تک تو دھرنے کا ٹیمپو بھی نہیں بنا تھا۔ حکومتی اتحادکی سیاسی کامیابی پیپلز پارٹی کی حکومت پر بہت سے حوالوں سے سخت تنقید کی جاتی ہے، جو یکسر بے وزن بھی نہیں، ایک بات مگر اس نے یہ ثابت کر دی ہے کہ وہ ایک سیاسی جماعت ہے اور سیاسی انداز سے سوچتی ہے۔ ایک وقت میں وفاقی حکومت سخت مشکلات کا شکار تھی، پنجاب حکومت لانگ مارچ کو پنڈی پہنچا کر سکون سے تماشا دیکھ رہی تھی،تمام تر دبائو مرکز پر تھا۔ اس مشکل وقت میں پیپلز پارٹی نے اپنے اتحادیوں کو ساتھ ملایا اوراعلیٰ سطحی وفد کے ذریعے مذاکرات کئے ،یوں ڈیڈلاک بھی ختم کیا اوراس معاہدے پر عمل درآمد کرا کر وہ الیکشن کے عمل کا شفاف بنانے کا کریڈٹ بھی لے سکتی ہے۔ پیپلز پارٹی نے اپنے سخت گیر سوچ رکھنے والوں کو سائیڈ پر کیا اور اس کے ثمرات بھی انہیں مل گئے۔ اگر خدانخواستہ تصادم ہوجاتا تو اس کے خوفناک نتائج نکلتے۔ لال مسجد کے سانحے کے اثرات سے ہم ابھی تک نہیں نکل سکے، ملک کسی اور ہولناک واقعہ کا متحمل نہیں ہوسکتا۔پیپلز پارٹی کا اصل امتحان لانگ مارچ ڈیکلئریشن پر عمل کرانا ہے۔ انہیں یہ سمجھنا ہوگا کہ صرف منہاج القرآن ہی نہیں بلکہ ملک بھر میں انتخابی اصلاحات کی خواہش موجود ہے۔ یہ اچھا موقعہ ہے کہ ہمارے سیاستدان جمہوری نظام کی تطہیر کریں، اس سے جمہوریت دشمن قوتوں کو شدید حوصلہ شکنی ہوگی۔ میڈیا اور تجزیہ کار اب یہ مان لینا چاہیے کہ میڈیا اور ہمارے تجزیہ کاروں نے علامہ طاہرالقادری کو انڈر اسٹیمیٹ کیا۔ وہ علامہ صاحب کے شخصی اثر اور قوت کا اندازہ نہ لگا سکے۔ میڈیا کے بیشتر حصے کو یقین تھا کہ لانگ مارچ ہو ہی نہیں سکے گا۔دھرنے کے دوران بھی کوریج کرتے ہوئے انہیں شرکا ء کے موڈکا اندازہ نہیں ہوسکا۔ کئی اینکر خواتین چیختی رہیں کہ آپ لوگوں کو سردی کیوں نہیں لگ رہی، بچے بیمار ہوجائیں گے وغیرہ وغیرہ۔ انہیںسمجھنا چاہیے تھا کہ لوگ کسی جذبے اور کمٹمنٹ کے ساتھ ہی یہاں تک آئے ہیں اور یہ یوں واپس نہیں جائیں گے۔ ہمارے اہل دانش اور تجزیہ کاروں نے سب سے اہم غلطی یہ کی کہ انہوں نے طاہرالقادری کی شخصیت کو بے رحمی سے نشانہ بنایا ،مگر ان کے ایجنڈے کو نظر انداز کر گئے۔ انہیں یہ ادراک نہ ہوسکا کہ انتخابی اصلاحات کرنا اور تبدیلی لانے کے ایجنڈے کی عوام میں زبردست کشش موجود ہے۔ قادری صاحب نے اس خلا میں قدم رکھا ،جو ہماری دوسری سیاسی جماعتیں پر کرنے میں ناکام رہیں۔ جیسا کہ شرکا کے انٹرویوز سے ظاہر بھی ہوا کہ ان میں تمام لوگ منہاج القرآن کے نہیں تھے، بہت سے لوگوں نے بتایا کہ وہ عمران خان کے ووٹر ہیں، بعض دوسری جماعتوں کے حامی بھی تھے۔ ایجنڈے پر زیادہ بات ہونا چاہیے تھی، وہ نہ ہوسکی اور تمسخر،پیروڈی،طنز وتشنیع ہمارے میڈیا پر حاوی رہے۔ یہی وجہ ہے کہ جمعہ کو دھرنے کی کامیابی کے بعد بہت سے اینکروں اور تجزیہ کاروں کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا ردعمل دیں۔ جن باتوں کا وہ مذاق اڑاتے رہے، وہ تقریباً سب مان لی گئیں۔ جہاں تک اسمبلیوں کی تحلیل اور الیکشن کمیشن کی فوری تشکیل کی بات تھی، یہ دبائو بڑھانے کا حربہ تھا، حقیقی مطالبہ نہیں تھا۔میڈیا اور انٹیلی جنشیا کو آنے والے دنوں میں زیادہ محتاط اور باریک بین ہونا پڑے گا۔ الیکشن میں اصلاحات کے عمل پر بھی نظر رکھنے کی ضرورت پڑے گی۔ مسلم لیگ ن مسلم لیگ ن نے بظاہر بڑی عقل مندی اور ہوشیاری سے چالیں چلیں۔ انہوں نے لانگ مارچ کو روکنے کی کوئی کوشش نہیں کی کہ اس کا رخ اسلام آباد کی جانب تھا۔ جب انہوں نے محسوس کیا کہ دھرنے میں خاصے لو گ آگئے ہیں اور یہ اجتماع خطرناک ثابت ہوسکتا ہے تووہ متحرک ہوئے۔ میاں صاحب نے کمال مہارت سے کئی اہم جماعتوںسے رابطے کئے۔ بلوچستان سے اچکزئی صاحب اور حاصل بزنجو کے ساتھ ساتھ مولانا فضل الرحمن اورجماعت اسلامی کو ساتھ ملا لینا ان کی بڑی کامیابی تھی۔ انہوں نے اپنے مشترکہ اعلامیہ سے علامہ طاہرالقادری کو بالکل تنہا کر دیا۔ یہ جمہوریت کے لئے اچھا شگون تھا کہ ہماری سیاسی جماعتیں ہر قسم کی تبدیلی کے لئے انتخابات کی جانب ہی دیکھنے لگی ہیں۔ میاں صاحب نے دانستہ یا نا دانستہ ایک بڑی غلطی یہ کی کہ انہوں نے قادری صاحب کو محفوظ راستہ نہیں دیا۔اے پی سی کے شرکا میں سے کسی نے یہ نہیں سوچا کہ اسلام آباد میںکئی روز سے ہزاروں افراد کا دھرنا جاری ہے۔دھرنے کے شرکا اور ان کے لیڈر قادری صاحب اتنا آگے جا چکے ہیں کہ ان کے لئے کچھ حاصل کئے بغیر واپس لوٹنا شرمندگی کے مترادف ہے۔ انہیں محفوظ راستہ دینا (Face saving)دینا ضروری تھا۔ دوسری صورت میں شرکاء فرسٹریٹ ہو کر تصادم کی طرف جا سکتے تھے، ایسا ہو جاتا تو پھر کچھ بھی نہ بچ پاتا۔ جس طرح کا اعلیٰ سطحی وفد حکومت نے مذاکرات کے لئے بھیجا، ویسا کام پہلے نواز شریف صاحب بھی کر سکتے تھے۔ اگر ایسا کرتے تو وہ محاورے کے مطابق میلہ لوٹ لیتے۔ انہوں نے ایسا نہیں کیا، شائد وہ اپنی مخالف وفاقی حکومت کو ٹف ٹائم دینا چاہتے تھے، مگر اختتام میں اس کا تمام تر نقصان انہیں ہی ہوا۔ ٹی وی چینلز پر ن لیگ کے رہنمائوں کی تلخی دیکھ کر انہیں پہنچنے والے دھچکے کی شدت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ ؟ ہمارے اہل دانش اور تجزیہ کاروں کو ہر ایشو میں اسٹیبلشمنٹ کا کردار دیکھنے کا رویہ بھی بدلنا ہوگا۔ یوں لگتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کا آسیب ان کی دانش کے گرد لپٹ گیا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کے حوالے سے ویسے بھی دو تین باتیں سمجھنی چاہیں۔ دنیا بھر میں اسٹیبلشمنٹ ہمیشہ پر و’’ سٹیٹس کو‘‘ ہوتی ہے۔ نظام بدلنے یا تبدیلی لانے کا نعرہ کبھی انہیں راس نہیں ہوتا۔ ایسا نعرہ لگانے والوں کو ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ قادری صاحب والے معاملے کو زیادہ غور سے دیکھنا چاہیے تھا۔ اگر اس میں اسٹیبلشمنٹ شامل ہوتی تو معروف اسٹیبلشمنٹ نواز جماعتیں اس سے دور نہ رہتیں اور وعدہ کر کے واپس نہ چلی جاتیں۔ جو مارچ یا دھرنا اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر کیا جاتا ہے ، اس کے تیور ہی الگ ہوتے ہیں، اس کے شرکا شروع ہی سے ڈنڈے لے کر چلتے ہیں اور تباہی ان کا مشن ہوتی ہے۔ ایسے جلوسوں میں لوگ خود اپنی خوشی سے اپنی بیویوں، بہنوں اور شیر خوار بچوں کو نہیں لاتے۔ پیسے خواہ جتنے ملیں، اولاد آدمی کو اپنی جان سے بھی زیادہ پیاری ہوتی ہے۔ اس دھرنے کے پرامن اختتام نے یہ ثابت کر دیا کہ اسٹیبلشمنٹ کی رٹ لگانے والے تجزیہ کاروں نے ٹھوکر کھائی، اصولاً تو انہیں اپنے قارئین اور ناظرین سے معذرت کرنی چاہیے، مگرافسوس کہ ہمارے ہاں ایسی اچھی روایتیں موجود نہیں۔ ویسے اس حوالے سے فورسز کا رویہ مثبت رہا۔ کورکمانڈرز کانفرنس کو بعض حلقوں نے معنی خیز نظروں سے دیکھا ،مگر آئی ایس پی آر نے بروقت وضاحت کر دی۔ ہماری مقتدرہ قوتوں کو یہ یاد رکھناچاہیے کہ سیاست صرف سیاستدانوں کے کھیلنے کا میدان ہے۔ عسکری قوتوںکو اپنے پروفیشنل فرائض ہی انجام دینے چاہیں۔ ایسا کرنا ہی ان کے وقاراور عزت میں اضافہ کرے گا۔ اس دھرنے کا پرامن انجام یہ ثابت کرتا ہے کہ ملک میں جمہوریت پنپ رہی ہے اورہمارا بظاہر کمزور جمہوری سسٹم اس قسم کے بڑے دھچکوں کو برداشت کرنے کی سکت اور قوت رکھتا ہے۔اس سے ہمارے سیاستدانوں اور جمہوری قوتوں نے خاصا کچھ سیکھا ہوگا۔ تحریک انصاف عمران خان اور ان کے بعض حامیوں کو ممکن ہے اب اندازہ ہو رہا ہو کہ انہوں نے ملنے والے ایک بڑے موقع سے فائدہ نہیں اٹھایا۔ تحریک انصاف میں لانگ مارچ کے حمایت میں ایک مضبوط لابی موجود تھی،ان کے کئی اہم سیاسی لیڈروں کا خیال تھا کہ ہمیں قادری صاحب کے ساتھ شامل ہونا چاہیے، ان کی جماعت کا سیاسی نیٹ ورک موجود نہیں ،ا س لئے سیاسی کامیابی کے تمام تر ثمرات تحریک انصاف کو پہنچیں گے۔ اس لابی کی بات نہیں مانی گئی، عمران خان اور ان کے بعض غیر سیاسی مگر پارٹی کے لئے تھنک ٹینک کا درجہ رکھنے والے لوگوں کی بات مانی گئی۔ تاہم عمران خان نے لانگ مارچ اور دھرنے پر تنقید بالکل نہیں کی، وہ اسے بڑی احیتاط سے دیکھتے رہے، جائزہ لیتے رہے ،مگر شامل نہیں ہوئے۔ ممکن ہے انہیں خطرہ ہو کہ یہ دھرنا کسی اور جانب جا سکتا ہے۔ انہوں نے اپنی تمام تر توجہ انتخابات کی جانب مبذول کی اور اس حوالے سے دبائو بڑھانے کی کوشش کی ،مگر تحریک انصاف کے بہت سے نوجوان کارکنوں کو اب یقیناً مایوسی ہو رہی ہوگی۔پی ٹی آئی نے اس معاملے میں اگرچہ کھویا بھی زیادہ نہیں۔ ان کے لئے انتخابات کے حوالے سے قادری صاحب کے ساتھ ہاتھ ملانے کی آپشن موجود ہے۔دیکھنا یہ ہے کہ تحریک انصاف آنے والے دنوں میں کیسے پتے چلتی ہے؟

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
جوؤں کی دوا، سرطان کا خطرہ؟

جوؤں کی دوا، سرطان کا خطرہ؟

سر کی جوئیں ایک عام مسئلہ ہیں، خصوصاً بچوں میں اور ان سے نجات کیلئے مختلف شیمپو، لوشن اور دیگر ادویات استعمال کی جاتی ہیں۔ تاہم ایک مقبول جوؤں کے علاج میں شامل کیمیکل کے حوالے سے سائنسدانوں نے ممکنہ صحت کے خطرات پر تشویش ظاہر کی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کیمیکل کی بعض خصوصیات اور ہارمونز پر اس کے ممکنہ اثرات ایسے خدشات کو جنم دیتے ہیں کہ طویل یا بار بار استعمال کی صورت میں چھاتی کے سرطان کے خطرے سے کوئی تعلق ہو سکتا ہے۔ اگرچہ اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے، تاہم یہ معاملہ والدین اور صارفین کیلئے ادویات کے اجزا اور محفوظ استعمال کے بارے میں محتاط رہنے کی اہمیت اجاگر کرتا ہے۔ محققین نے خبردار کیا ہے کہ بچوں میں سر کی جوؤں کے علاج کیلئے استعمال ہونے والی ایک مقبول دوا میں شامل کیمیکلز، جسے چھ ماہ تک کی عمر کے بچوں میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، چھاتی کے سرطان کے خطرے میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔یہ انتباہ ایک وسیع پیمانے پر کی جانے والی تحقیق کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں معلوم ہوا کہ کاسمیٹکس اور خوراک کی پیکنگ میں موجود سینکڑوں کیمیکلز سے انسانی جسم کا واسطہ سرطان لاحق ہونے سے کئی سال یا حتیٰ کہ کئی دہائیاں پہلے ہی پڑنا شروع ہو سکتا ہے۔ان کیمیکلز میں ''ملا تھیون‘‘ (Malathion) بھی شامل ہے، جو سر کی جوؤں کے علاج کیلئے استعمال ہونے والی دواکا فعال جزو ہے۔تحقیق میں جن دیگر ممکنہ طور پر نقصان دہ کیمیکلز کی نشاندہی کی گئی ہے، ان میں ''بسفینول اے‘‘ (BPA) بھی شامل ہے، جو مشروبات کے کین اور دکانوں کی خریداری کی رسیدوں میں استعمال ہوتا ہے۔ اسی طرح میتھائل پیرا بین (Methylparaben) بھی ان کیمیکلز میں شامل ہے، جو موئسچرائزرز، شیمپو اور ڈیوڈرنٹس میں بطور حفاظتی جزو استعمال کیا جاتا ہے۔تحقیق کی سربراہ مصنفہ جینیفر کے نے کہا کہ لوگ اپنی پوری زندگی مختلف ذرائع سے سینکڑوں کیمیکلز کے اثرات کا سامنا کرتے ہیں اور یہ اثرات وقت کے ساتھ جمع ہوتے رہتے ہیں۔چھاتی کا سرطان لاحق ہونے میں کئی سال لگ سکتے ہیں، اس لیے زندگی کے ابتدائی مراحل میں ممکنہ طور پر نقصان دہ کیمیکلز سے exposure کم کرنا سرطان سے بچاؤ کا ایک اہم حصہ ہے۔ تحقیق کے نتائج''انوائرمنٹل ہیلتھ پرسپیکٹیوز‘‘ (Environmental Health Perspectives) نامی جریدے میں شائع ہوئے ہیں۔ یہ نتائج ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب کم عمر خواتین میں چھاتی کے سرطان کے کیسز میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران 20 سے 49 سال کی عمر کی خواتین میں چھاتی کے سرطان کے کیسز میں تقریباً 10 فیصد اضافہ ہوا ہے۔نمائش کے سب سے بڑے ذرائع کا تعین کرنے کیلئے محققین نے امریکی حکومت کے ایک درجن سے زائد ڈیٹا بیسز کا تجزیہ کیا، جن میں کیمیکلز کے استعمال، آلودگی کی سطح اور انسانی جسم کو ان کیمیکلز سے لاحق ہونے والی نمائش سے متعلق معلومات شامل تھیں۔ محققین نے 900 سے زائد ایسے کیمیکلز پر توجہ مرکوز کی جنہیں پہلے ہی ممکنہ طور پر چھاتی کے سرطان سے منسلک قرار دیا جا چکا ہے۔ ان میں ایسے مادے بھی شامل تھے جو ہارمونز کے نظام میں خلل ڈال سکتے ہیں یا جانوروں میں چھاتی کے غدود کی رسولیاں پیدا کرنے کا سبب بننے کے شواہد رکھتے ہیں۔تحقیق میں معلوم ہوا کہ ان میں سے سینکڑوں کیمیکلز اب بھی روزمرہ استعمال کی اشیا میں شامل ہیں، جن میں تعمیراتی سامان اور طبی آلات بھی شامل ہیں۔ ان کیمیکلز میں بینزین (Benzene) بھی شامل ہے، جس کا انسانوں کو عموماً گاڑیوں کے دھوئیں اور سگریٹ کے دھوئیں کے ذریعے سامنا ہوتا ہے۔ اسی طرح اسٹائرین (Styrene) بھی شامل ہے، جو بعض ٹیک اوے کافی کے کپوں اور کھانے کے ڈبوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ محققین نے بسفینول اے (BPA) کی بھی نشاندہی کی، جو بعض دوبارہ استعمال ہونے والے پلاسٹک کے کھانے کے برتنوں، مشروبات کے کین کی اندرونی تہہ اور خریداری کی رسیدوں میں استعمال ہوتا ہے۔ برطانیہ میں اس خدشے کے پیش نظر کہ یہ کیمیکل بوتل کے مواد میں شامل ہو سکتا ہے، 2011ء میں بچوں کی دودھ کی بوتلوں میں BPA کے استعمال پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔یورپی کمیشن نے دسمبر 2024ء میں مزید سخت اقدام کرتے ہوئے خوراک کے ساتھ براہِ راست رابطے میں آنے والے مواد میں BPA کے استعمال پر پابندی عائد کر دی۔ تاہم برطانیہ نے تاحال اس کی پیروی نہیں کی۔محققین نے DEHP نامی کیمیکل کی بھی نشاندہی کی، جو پلاسٹک کو نرم بنانے کیلئے استعمال ہوتا ہے اور اب بھی بعض طبی آلات میں پایا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ میتھائل پیرا بین (Methylparaben) بھی قابلِ توجہ قرار دیا گیا، جو موئسچرائزرز، شیمپو اور ڈیوڈرنٹس کی مدتِ استعمال بڑھانے کیلئے بطور حفاظتی مادہ استعمال کیا جاتا ہے۔پیرا بینز جسم میں ایسٹروجن کے اثرات کی نقل کر سکتے ہیں، جو اس لیے اہم بات ہے کہ یہ ہارمون چھاتی کے سرطان کی بعض اقسام کے خلیوں کی افزائش کو تحریک دے سکتا ہے۔تاہم، تحقیق میں جن بعض کیڑے مار ادویات (Pesticides) کی نشاندہی کی گئی ہے، انہیں کئی ممالک میں زرعی استعمال کیلئے منظوری حاصل نہیں ہے۔سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ تحقیق کے نتائج ممکنہ طور پر ضابطہ سازی میں موجود ایک ''نظر انداز کیے گئے پہلو‘‘ کو سامنے لاتے ہیں، کیونکہ حفاظتی جائزوں میں اکثر کیمیکلز کو الگ الگ دیکھا جاتا ہے، جبکہ روزمرہ زندگی میں لوگوں کو ایک ہی وقت میں مختلف کیمیکلز کے مرکب کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ڈاکٹر کے نے کہا کہ چھاتی کا سرطان لاحق ہونے میں کئی سال لگ سکتے ہیں، اس لیے مختلف ذرائع سے لوگوں کے کیڑے مار ادویات کے اثرات کا سراغ لگانا اور انہیں کم کرنا سرطان سے بچاؤ کا ایک اہم حصہ ہے۔چھاتی کے سرطان کی کوئی ایک وجہ نہیں ہے، اور اس تحقیق سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ جن کیمیکلز کی نشاندہی کی گئی ہے، ان میں سے کسی ایک کے اثرات سے لازماً چھاتی کا سرطان لاحق ہو جائے گا۔ تاہم، کئی ایسے عوامل پہلے ہی معلوم ہیں جو اس بیماری کے خطرے میں اضافہ کر سکتے ہیں، جن میں عمر بڑھنا اور خاندان میں اس بیماری کی موجودگی شامل ہیں۔اس کے علاوہ شراب نوشی، تمباکو نوشی، زیادہ وزن، چھاتی کے بافتوں کا زیادہ کثیف ہونا، بشمول ہارمون ریپلیسمنٹ تھراپی کے ذریعے ہارمونز کا استعمال، بھی چھاتی کے سرطان کے خطرے سے منسلک ہیں۔

حساب سے باہر

حساب سے باہر

ہم نے اپنے عہد میں ہر چیز کا حساب سیکھ لیا ہے؛ سوائے اس قیمت کے جو حساب رکھنے کی عادت ہم سے وصول کرتی ہے۔روپے کا مصرف پوچھا جاتا ہے، عمر کا نہیں۔ کاروبار میں ڈوبی ہوئی رقم مدتوں یاد رہتی ہے، کاروبار بچاتے ہوئے جو آدمی اپنے اندر ڈوب گیا، اس کا ذکر کسی گوشوارے میں نہیں آتا۔ بازار کی مندی پر ہمیں تشویش ہوتی ہے، اپنی طبیعت کی مندی کو ہم مصروفیت کہہ کر ٹال دیتے ہیں۔رفتہ رفتہ مصروفیت اتنی معتبر ہو جاتی ہے کہ اس کے سامنے ہر شکایت بے محل معلوم ہونے لگتی ہے۔باپ کچھ کہنا چاہتا ہے، مگر بیٹے کی میٹنگ ہے۔ بچہ اپنی ڈرائنگ دکھانا چاہتا ہے، مگر باپ فون پر ہے۔ بیوی کئی دن سے ایک بات مناسب وقت کے انتظار میں رکھے ہوئے ہے۔ گھر میں سب کے پاس گھڑیاں ہیں مناسب وقت کسی کے پاس نہیں۔اور جس شخص کے پاس وقت نہیں، وہ یہ سب کچھ انہی لوگوں کیلئے کر رہا ہے۔''میں تمہارے لیے ہی تو کما رہا ہوں‘‘۔اس جملے کے بعد گھر میں بہت سی باتیں کہی نہیں جا سکتیں۔ روٹی کی ضرورت اپنی جگہ قائم رہتی ہے، مگر ساتھ بیٹھ کر کھانے کی خواہش شرمندہ ہو جاتی ہے۔رزق کی مشقت کا انکار کون کرے؟ فیس کی آخری تاریخ فلسفہ نہیں سنتی۔ دوا فروش کو مریض سے محبت کا یقین دلا کر دوا نہیں لی جا سکتی۔ تنگ دستی میں آدمی کی نیند ہی نہیں، بعض اوقات اس کا لہجہ بھی گروی ہو جاتا ہے۔ اس لیے آسودہ کرسی پر بیٹھ کر تھکے ہوئے آدمی کو قناعت کا درس دینا آسان ہے، اس کے مہینے کے آخری چار دن گزارنا مشکل۔مگر کمائی کی اس ناگزیریت میں ایک سوال پھر بھی باقی رہتا ہے: ضرورت پوری ہونے کے بعد بھی ضرورت کا لہجہ کیوں باقی رہتا ہے؟ہم میں سے بعض لوگ مدت ہوئی محتاجی سے نکل آئے، مگر محرومی سے نہیں نکلے۔ اب انہیں روٹی کی کمی نہیں ستاتی، یہ بات ستاتی ہے کہ دوسرے کی میز پر کیا رکھا ہے۔ وہ اپنے گھر میں رہتے ہیں، لیکن اپنی آسودگی کا پتہ پڑوسی سے پوچھتے ہیں۔حساب کی ایک اور باریکی ہے۔ آدمی جب دینے لگتا ہے تو کبھی کبھی اس کے اندر ایک نادیدہ منشی بیٹھ جاتا ہے۔ وہ رقم ہی نہیں لکھتا، لہجے بھی درج کرتا ہے۔ کس نے کتنا شکریہ ادا کیا، کس نے کتنی بار فون کیا، کس نے محفل میں ہمارا ذکر کس انداز سے کیا۔محبت کے حساب میں اکثر خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب ہم اپنی قربانی کو دوسرے کی اطاعت کی دلیل بنا لیتے ہیں۔ پھر محبوب کی الگ رائے بے وفائی معلوم ہوتی ہے اور اولاد کا اپنا راستہ ناشکری۔ ہم رشتے کو بچانے نکلتے ہیں، مگر راستے میں اس کی گنجائش چھین لیتے ہیں۔اپنا حساب دیکھنے کے لیے صرف یادداشت کافی نہیں؛ انصاف بھی چاہیے۔ ورنہ ہمیں اپنی دی ہوئی رقم تو یاد رہے گی، دوسرے کی بچائی ہوئی عزت نہیں۔ اپنا انتظار یاد رہے گا، کسی اور کی وہ خاموشی نہیں جس نے ہماری بات کا پردہ رکھا تھا۔

پینانگ برج

پینانگ برج

سمندر پر انجینئرنگ کا شاہکارملائیشیا کے جزیرے پینانگ کو ملک کے مغربی ساحلی علاقے سے ملانے والا پینانگ برج محض ایک پل نہیں بلکہ جدید انجینئرنگ، معاشی ترقی اور انسانی عزم کی ایک شاندار علامت ہے۔ آبنائے پینانگ کے نیلگوں پانیوں پر پھیلا یہ پل جزیرہ پینانگ کے شہر جیلگور کو آبنائے کے دوسری جانب واقع پرائی سے ملاتا ہے۔ تقریباً 13.5 کلومیٹر طویل یہ پل اپنے قیام کے وقت ایک غیر معمولی انجینئرنگ منصوبہ تھا۔ پینانگ جزیرہ طویل عرصے تک ملائیشیا کے مرکزی علاقے سے بنیادی طور پر کشتیوں اور فیری سروس کے ذریعے منسلک تھا۔ آبادی میں اضافے، صنعتی سرگرمیوں کے فروغ اور تجارت کے بڑھتے ہوئے حجم نے ایک مستقل زمینی رابطے کی ضرورت پیدا کی۔ 1970ء کی دہائی میں جزیرے کو سرزمین سے ملانے کیلئے پل کی تعمیر کا تصور سنجیدگی سے آگے بڑھایا گیا۔بالآخر 1982ء میں پل کی تعمیر کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ تقریباً ساڑھے تین سال کی محنت کے بعد یہ عظیم منصوبہ مکمل ہوا اور 14 ستمبر 1985ء کو ٹریفک کیلئے کھول دیا گیا۔ تعمیر پر اس وقت تقریباً 800 ملین ملائیشین رنگٹ خرچ ہوئے۔ 13.5 کلومیٹر طویل شاہکارپینانگ برج کی مجموعی لمبائی تقریباً 13.5 کلومیٹر ہے، جس میں تقریباً 8.4 کلومیٹر حصہ پانی کے اوپر قائم ہے۔ پل کا مرکزی حصہ کیبل اسٹیڈ ڈیزائن پر مشتمل ہے، جس میں مضبوط ٹاورز اور کیبلز پل کے مرکزی حصے کو سہارا دیتے ہیں۔ اس کا مرکزی اسپین تقریباً 225 میٹر ہے جبکہ پل کے نیچے پانی کی سطح سے مناسب بلندی رکھی گئی ہے تاکہ بحری جہازوں کی آمدورفت متاثر نہ ہو۔ اس پل کا ڈیزائن اس لحاظ سے بھی اہم تھا کہ اسے مستقبل میں ٹریفک کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے مطابق وسیع کرنے کی گنجائش کے ساتھ تیار کیا گیا تھا۔ ابتدائی دور میں پل کے مختلف حصوں پر لینز کی تعداد کم تھی، تاہم بعد میں اسے وسیع کیا گیا اور پل کو چھ لینز پر مشتمل بنا دیا گیا۔ ترقی کی نئی راہیںپینانگ برج نے جزیرے اور زمین کے درمیان سفر کو نمایاں طور پر آسان بنایا۔ اس سے پہلے فیری سروس پر انحصار کرنے والے مسافروں اور تجارتی گاڑیوں کو اب ایک مستقل اور تیز رفتار راستہ میسر آ گیا۔ پل کے ذریعے پینانگ کے صنعتی علاقوں، شہری مراکز، بندرگاہوں اور دیگر تجارتی مقامات کے درمیان رابطہ مضبوط ہوا۔ ماہرین کے مطابق اس پل نے پینانگ کی صنعتی اور سیاحتی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ بڑھتی ہوئی ٹریفک اور توسیعوقت گزرنے کے ساتھ پینانگ برج پر گاڑیوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوا۔ پل کی تعمیر کے وقت جس ٹریفک کا اندازہ لگایا گیا تھا، بعد کے برسوں میں اس سے کہیں زیادہ گاڑیاں اس راستے کو استعمال کرنے لگیں۔ نتیجتاً پل کی گنجائش بڑھانے کی ضرورت محسوس ہوئی۔2008ء کے دوران پل کو وسیع کرنے کا کام شروع کیا گیا اور 2009ء تک اسے مکمل کر لیا گیا۔ اس توسیع کے بعد پل پر ہر سمت تین لینز فراہم کی گئیں، جس سے ٹریفک کے بہاؤ کو بہتر بنانے میں مدد ملی۔دوسرے پینانگ برج کی ضرورتپینانگ کی معاشی سرگرمیوں میں اضافے اور پہلے پل پر ٹریفک کے دباؤ کے باعث بعد میں ایک دوسرے پل کی تعمیر کا منصوبہ بنایا گیا۔ سلطان عبدالحلیم معظم شاہ برج کے نام سے دوسرا پینانگ برج 24 کلومیٹر طویل ہے اور اس کا بڑا حصہ سمندر کے اوپر واقع ہے۔ اسے 2014ء میں کھولا گیا۔ اس نئے پل کا بنیادی مقصد پہلے پینانگ برج پر ٹریفک کا دباؤ کم کرناتھا۔ سیاحت اور خوبصورتی کا مرکزپینانگ برج صرف مسافروں اور تجارتی گاڑیوں کیلئے اہم راستہ نہیں بلکہ سیاحوں کیلئے بھی ایک دلکش منظر پیش کرتا ہے۔ دن کے وقت سمندر کے نیلے پانی، دور تک پھیلا پل اور پس منظر میں پینانگ جزیرے کا منظر ایک خوبصورت تصویر پیش کرتا ہے، جبکہ رات کے وقت روشنیوں سے سجا پل مزید دلکش دکھائی دیتا ہے۔یہ پل پینانگ کے پوسٹ کارڈز، سیاحتی تصاویر اور مختلف تشہیری مواد میں نمایاں نظر آتا ہے۔انجینئرنگ کی کامیابیپینانگ برج کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اسے اپنے دور میں ایک نمایاں انجینئرنگ کامیابی قرار دیا گیا۔ ملائیشیا کے تعمیراتی شعبے کیلئے بھی یہ منصوبہ ایک اہم تجربہ ثابت ہوا۔آج پینانگ برج کو محض ایک سڑک یا شاہراہ کے طور پر نہیں دیکھا جاتا۔ یہ انسانی عزم، جدید انجینئرنگ اور معاشی ترقی کے باہمی تعلق کی علامت بن چکا ہے۔ سمندر کے سینے پر پھیلا یہ پل اس بات کا ثبوت ہے کہ جب ترقی کا وژن، انجینئرنگ کی مہارت اور قومی ضرورت ایک جگہ جمع ہو جائیں تو ایک ایسا شاہکار وجود میں آتا ہے جو کئی دہائیوں تک آنے والی نسلوں کیلئے راستے کھولتا رہتا ہے۔پینانگ برج کی تعمیراتی تفصیل1970ء سیبیرانگ پِرائی کو پینانگ جزیرے سے ملانے والے پل کی تعمیر کا خیال وزیراعظم عبدالرزاق حسین اور پینانگ کے وزیراعلیٰ لم چونگ یو نے پیش کیا۔23جولائی 1971ءوزیر تعمیرات سامی ویلو نے اعلان کیا کہ پینانگ برج کی تعمیر سان فرانسسکو کے گولڈن گیٹ برج کے طرز پر اسٹیل کے بجائے کیبلز سے منسلک کنکریٹ گرڈرز کے ذریعے کی جائے گی نہ کہ سڈنی ہاربر برج کے انداز میں بنائے جانے والے اسٹیل کے محرابی ڈھانچے کی طرز پر۔ وزیراعظم مہاتیر محمد نے اپنی پہلی کابینہ کے اجلاس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اس منصوبے کیلئے ایک ٹھیکیدار کا انتخاب کرلیا ہے، تاہم انہوں نے ٹھیکیدار کا نام بتانے سے گریز کیا۔1982ءپینانگ برج کی تعمیر کا باضابطہ آغاز ہوا۔3اگست1985ءوزیراعظم مہاتیر محمد نے پینانگ برج کا باضابطہ افتتاح کیا۔14ستمبر1985ءپینانگ برج کو باضابطہ طور پر ٹریفک کے لیے کھولا گیا۔ 

طنز و مزاح:کرسی

طنز و مزاح:کرسی

کرسی اورانسان میں اس لیے چولی دامن کا ساتھ ہے کہ کرسی میں چار پائے ہوتے ہیں۔ انسان بھی چوپایہ ہے۔ اس مماثلت کی وجہ سے انسان کی بہت سی فضیلتیں کرسی میں بھی پائی جاتی ہیں۔ مثلاً آدمی تنگ دل سے سنگ دل تک ہو جاتا ہے، جبکہ کرسی کے سرے سے دل ہی نہیں ہوتا۔ انسان میں وفا کا بھی مادّہ ہے، لیکن کرسی اس کوچے سے آشنا تک نہیں۔کرسیاں بھانت بھانت کی ہوتی ہیں۔ جن میں سب سے متاثر کن کرسی حجام کی ہوتی ہے۔ یہ بالکل لائبریرین کی کرسی کی طرح بلند و بالا ہوتی ہے جس تک پہنچنے کیلئے انتظار یہ کرسی پر بیٹھنا ہوتا ہے۔ حجام کی کرسی بڑی شاندار ہوتی ہے، بالکل کسی راجہ مہاراجہ کی کرسی کی پیروڈی معلوم ہوتی ہے، جس پر شان سے ٹیک لگا کر بیٹھتے ہی حجام کی ڈبل قینچی چلنے لگتی ہے۔ ایک اس کے ہاتھ کی، دوسری زبان کی۔ اس کرسی کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ حجامت کے ساتھ ساتھ آٹے دال کا بھائو بھی معلوم ہوتا رہتا ہے۔ زمانے نے آپ کے ساتھ جو بھی سلوک کیا ہو، یا اس وقت پر جو بھی گزر رہی ہو۔ اس پر آپ حجام کے آئینے میں مسکرا بھی سکتے ہیں۔حجامت کے بعد رہی سہی کسر ڈاکٹر کے یہاں نکل جاتی ہے۔ سب سے اہم کرسی وہ ہوتی ہے جو ڈاکٹر کے سامنے رکھی ہوتی ہے۔ یہ فاصلہ مریضوں اور تیمار داروں کو درمیانی کرسیوں کی مدد سے کھسک کھسک کر طے کرنا ہوتا ہے۔کہا جاتا ہے کہ اگر ڈاکٹرکی کرسی کسی کو زندہ اٹھادے تو اسے وکیل کی کرسی کا سامنا کرنا ہوتا ہے۔ اس سے زیادہ دائوں پیچ کی کرسی ابھی تک دریافت نہیں ہو سکی ہے۔ اسی لیے اونٹ کی طرح اس کی کوئی کل سیدھی نہیں ہوتی۔ کسی بھی کچہری میں کسی درخت یا ٹین کے سائے میں یہ زمانے کا چھپر اٹھائے رہتی ہے۔ ایسی کرسی پر شاید یتیم خانے ہی میں نظرآئے۔ جس پر تعجب اس لیے نہ کرنا چاہیے کہ یتیم خانے اور یتیم، زیادہ تر وکیل ہی بناتے ہیں۔ اس کرسی پر زمانے کے ان جنّات کا ستایا ہوا موکل بھی بیٹھ سکتا ہے۔ مثل مشہور ہے کہ وکیل سے ہارے کو پھانسی کی کرسی پر ہی پناہ ملتی ہے۔پھانسی کی کرسی آٹومیٹک ہوتی ہے۔ ایک ہی جھٹکے میں اپنے نشیں کو پار لگا دیتی ہے۔ یہ اتنی شان دار ہوتی ہے کہ پھر گورکن کو کسی کرسی کے استعمال کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ کرسی تو وہ اس پر بھی استعمال کرتا مگر ابھی ہمارے یہاں گورکن کی کرسی ایجاد نہیں ہوئی۔ یورپی گورکن مردے کو ٹھکانے لگانے تک میں کرسی کا استعمال کرلیتے ہیں، لیکن کرسی برآمد نہیں کرتے۔ غیر ملکی مبادلہ زر کی اگر کمی نہ ہوتی تو یہاں بھی بذریعہ کرسی تدفین کی صورت پیدا ہوچکی ہوتی۔دنیامیں شورگورکن کا نہیں افسر کی کرسی کا ہے۔ افسری والی کرسی تک آدمی گھسٹ گھِسٹ کر پہنچتاہے لیکن اگر آدمی خاندانی ہے تو اس پر کود کر یا چھین کر بھی بیٹھ سکتا ہے۔ ایگزیکٹو چیئر افسر کے عہدے اور سائزکے مطابق ہوتی ہے۔ ہوم سکریٹری اور تھانیدار کی کرسی میں وہی فرق ہوتا ہے جو شیر اور بلی میں ہے۔ چوہوں کیلئے بلی بھی شیر ہے مگر شیرتو شیر کیلئے بھی شیر ہی ہوتا ہے۔ انتہائی غیر محفوظ کرسیاں وزیروں کی ہوتی ہیں۔ بالکل دندان ساز اور کھٹمل والی کرسی کی طرح۔ دندان سازکی کرسی پر بیٹھنے کا مطلب ہی بتیسی سے ہاتھ دھو لینا ہوتا ہے۔ یہ کارروائی قسطوں میں بھی ممکن ہے۔

آج تم یاد بے حساب آئے!امید فاضلی:اردو کے ممتاز شاعر (2005-1923ء)

آج تم یاد بے حساب آئے!امید فاضلی:اردو کے ممتاز شاعر (2005-1923ء)

٭... 17 نومبر 1923ء کو ڈبائی، ضلع بلند شہر(ہندوستان) میں پیدا ہوئے۔٭... نام ارشاد احمد فاضلی اور تخلّص اُمید تھا۔٭... ابتدائی تعلیم ڈبائی اور میرٹھ سے حاصل کی اور پھر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے گریجویشن کیا۔٭... 1944ء میں وہ کنٹرولر آف ملٹری اکائونٹس سے وابستہ ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد کراچی میں سکونت اختیار کی اور اسی محکمے سے وابستہ رہے۔ا٭...ان کی غزلیات کا پہلا مجموعہ ''دریا آخر دریا‘‘ کے نام سے اشاعت پذیر ہوا، جسے 1979ء میں بہترین شعری مجموعے کا ''آدم جی ادبی انعام‘‘ دیا گیا۔٭...ان کے مرثیوں کا مجموعہ ''سر نینوا‘‘، نعتوں کا مجموعہ ''میرے آقا‘‘، منقبت کا ''مناقب‘‘ اور قومی شاعری پر مشتمل کلام ''پاکستان زندہ باد‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔ ٭...نعتیہ مجموعہ کلام پر بھی انھیں ''رائٹرز گلڈ‘‘ سے نوازا گیا۔ ٭...28 اور29 ستمبر 2005ء کی درمیانی شب ان کا کراچی میں انتقال ہوا۔حجاب اٹھے ہیں لیکن وہ رو بہ رو تو نہیںشریکِ عشق کہیں کوئی آرزو تو نہیں٭٭٭گر قیامت یہ نہیں ہے تو قیامت کیا ہےشہر جلتا رہا اور لوگ نہ گھر سے نکلے٭٭٭اے دوپہر کی دھوپ بتا کیا جواب دوںدیوار پوچھتی ہے کہ سایہ کدھر گیا٭٭٭

آج کا دن

آج کا دن

سمندری طوفان ایان28ستمبر 2022ء میں سمندری طوفان ''ایان‘‘ امریکی ریاست فلوریڈا کے علاقے کایو کوسٹا اسٹیٹ پارک سے کیٹیگری چار کے شدید سمندری طوفان کی حیثیت سے ٹکرایا۔ اس تباہ کن طوفان کے نتیجے میں 169 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ مجموعی طور پر تقریباً 113 ارب ڈالر کا مالی نقصان ہوا۔ یہ طوفان گزشتہ 89برس کے دوران ریاست میں آنے والا سب سے مہلک سمندری طوفان بھی قرار دیا گیا۔ انڈونیشیا میں زلزلہ28 ستمبر 2018ء کو انڈونیشیا کے جزیرے سولاویسی میں 7.5 شدت کا شدید زلزلہ آیا، جس کے نتیجے میں ایک بڑے پیمانے پر سونامی بھی پیدا ہوئی۔ قدرتی آفت نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی اور 4,340 افراد جاں بحق جبکہ 10,679 زخمی ہوئے۔ زلزلے اور اس کے بعد آنے والی سونامی کے باعث متعدد علاقے متاثر ہوئے اور لوگوں کو جانی و مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔''فالکن 1‘‘ کا کارنامہ2008ء میں آج کے روز ''فالکن 1‘‘نے تاریخ رقم کرتے ہوئے دنیا کے پہلے ایسے نجی طور پر تیار کردہ مائع ایندھن والے راکٹ کا اعزاز حاصل کیا، جس نے زمین سے لانچ ہو کر کامیابی کے ساتھ پے لوڈ کو مدار میں پہنچایا۔ یہ کامیابی نجی خلائی تحقیق اور تجارتی خلائی پروازوں کے شعبے میں اہم سنگ میل ثابت ہوئی۔اس کامیابی نے نجی کمپنیوں کیلئے خلائی مشنز کی راہ ہموار کی۔ جنوبی آسٹریلیا کا بلیک آؤٹ28ستمبر2016ء کوجنوبی آسٹریلیا میں بجلی کا ایک بڑا بریک ڈاؤن ہوا، جس کے باعث ریاست کے مختلف علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی۔ بعض علاقوں میں یہ تعطل تین روز تک جاری رہا۔ اس واقعے نے روزمرہ زندگی، کاروباری سرگرمیوں اور دیگر ضروری خدمات کو متاثر کیا اور اسے جنوبی آسٹریلیا کی تاریخ میں بجلی کے بڑے تعطل کے واقعات میں شمار کیا گیا۔نیپال میں فضائی حادثہ 1992ء میں آج کے روز پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی پرواز 268 نیپال میں ایک پہاڑی سے ٹکرا کر تباہ ہوگئی۔ یہ طیارہ کھٹمنڈو کے قریب لینڈنگ کیلئے پرواز کر رہا تھا کہ پہاڑی علاقے میں حادثے کا شکار ہو گیا۔ اس المناک سانحے کے نتیجے میں طیارے میں سوار تمام 167 مسافر اور عملے کے ارکان جاں بحق ہوگئے۔ حادثے نے پاکستان اور نیپال سمیت دنیا بھر میں فضائی سفر کے تحفظ سے متعلق تشویش پیدا کی۔ یہ پی آئی اے کی تاریخ کے المناک حادثات میں شامل ہے۔فلڈ لائٹس میں پہلا فٹ بال میچ1892ء میں 28 ستمبر کو امریکی فٹ بال کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل اس وقت قائم ہوا جب وائیومنگ سیمینری اور مینسفیلڈ اسٹیٹ نارمل کے درمیان کھیلے گئے مقابلے کے دوران پہلی مرتبہ رات کے وقت امریکی فٹ بال کا میچ منعقد کیا گیا۔ یہ میچ مصنوعی روشنی میں کھیلا گیا، جس نے کھیلوں کے انعقاد کے انداز میں ایک نئی جہت متعارف کرائی۔ بعد ازاں رات کے میچ عام ہوتے گئے اور جدید کھیلوں میں فلڈ لائٹس کا استعمال معمول بن گیا۔