دھرنا: کیا کھویا, کیا پایا ؟

دھرنا: کیا کھویا, کیا پایا ؟

اسپیشل فیچر

تحریر : محمد عامر خاکوانی کا تجزیہ


جمعہ کی شام اسلام آبادمیں جاری دھرنے کے خوشگوار اختتام نے جہاں ملک بھر کے عوام کی بے چینی اور اضطراب کو دور کر دیا ، وہاںاس غیرمعمولی اہم واقعے نے ہمارے سیاسی اور جمہوری نظام کو بھی کئی نئے سبق دیے ہیں۔ ہماری سیاسی جماعتیں لانگ مارچ اور دھرنے کے ہفتہ بھر کے تجربے سے بہت کچھ سیکھ سکتی ہیں۔پاکستان کے عوام، سیاسی اشرافیہ اور مقتدر قوتوں نے یہ بھی ثابت کر دیا ہے کہ ان میں کم عمر ہونے کے باوجود پختگی اور شعور موجود ہے، مشرق وسطیٰ میں عرب سپرنگ یا عرب بہار کے برعکس یہاں پرزیادہ سمجھداری اور ہوشمندی کے ساتھ معاملات سلجھائے گئے۔ حالات بظاہر بندگلی میں چلے جانے کی نشاندہی دے رہے تھے ، مگر اچانک ہی فریقین نے ہوشمندی کا مظاہرہ کیا اورخوبصورتی سے اس پورے قضیے کو نمٹا دیا۔ اس ایک ہفتے کے دوران مختلف سیاسی قوتوں، انٹیلی جنشیا، میڈیا اورمقتدر قوتوں نے کیا کیا کردار ادا کیا،اس کے نتیجے میں انہیں کیا ملا…، اس پر ایک نظر ڈالتے ہیں: علامہ طاہرالقادری کا کردار آغاز تحریک منہاج القرآن کے سربراہ علامہ طاہرالقادری سے کرتے ہیں۔ علامہ صاحب ایک معروف دینی سکالر اور خطیب ہونے کی شہرت رکھتے ہیں۔وہ اپنے بعض بیانات اور ماضی میں چند ایشوز پرموقف بدلتے رہنے کے باعث متنازع رہے ہیں۔ 80ء کی دہائی میں ان کی بشارتوں کے حوالے سے بیان کئے گئے بعض خواب اوراپنے اوپر قاتلانہ حملے کے دعوے کے حوالے سے لاہور ہائیکورٹ کے ٹریبونل کی رپورٹ ہمیشہ ان کے خلاف استعمال کی جاتی ہے۔پولیٹیکل سائنس کی اصطلاح میں وہ اچھے خاصے بوجھ(Baggage)کے ساتھ سیاست کی وادی خارزار میںسفر کر رہے تھے۔ چند برس قبل وہ جنرل پرویز مشرف کے دور میں اسمبلی کی رکنیت سے استعفا دے کر کینیڈا چلے گئے تھے، اس وقت کہا گیا کہ وہ اپنا زیادہ وقت علمی وتدریسی مشاغل کو دینا چاہتے ہیں۔ تین چار سال پہلے انہیں وہاں کی نیشنلٹی بھی مل گئی۔اس دوران علامہ صاحب سیاست سے قدرے دور رہے ،مگر ان کے پاکستان میں رابطے مسلسل قائم رہے، منہاج القرآن کا بڑا تعلیمی نیٹ ورک پچھلے چند برسوں میں بہت زیادہ بڑھا، یہ سب علامہ صاحب کی نگرانی میں ہوا۔ اس دوران ان کی تحریر کردہ کئی کتب بھی شائع ہوئیں، جن میں ترجمہ قرآن ’’عرفان القرآن‘‘، احادیث کا مجموعہ اور خودکش حملوں کے خلاف کئی سو صفحوں پر محیط ایک مبسوط فتویٰ قابل ذکر ہے۔ پاکستانی میڈیا لانگ مارچ کے دنوں میںقادری صاحب سے بار بار یہ کہتا رہا کہ آپ اچانک کیسے آ گئے؟ دراصل یہ ہمارے تجزیہ کاروں اور نیوز اینکرز کی روایتی لاعلمی اوربے خبری تھی۔ سیاست کو باریک بینی سے مانیٹر کرنے والے جانتے تھے کہ طاہرالقادری صاحب بتدریج سیاسی اعتبار سے فعال ہو رہے ہیں۔ سال ڈیڑھ پہلے سے لاہور کے بعض موٹر رکشوں کے پیچھے قادری صاحب کا یہ نعرہ نمودار ہوا،چہرے نہیں، نظام بدلو۔ نظام بدلو کے نام سے ایک ویب سائیٹ بھی بنا دی گئی تھی۔اس کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر قادری صاحب کے حامی اچانک ہی بہت متحرک ہوگئے تھے۔ نظام بدلنے اور قومی سیاست میں جوہری تبدیلیاں لانے کے حوالے سے قادری صاحب کی تقاریر کے ویڈیو کلپس اور تحریریں فیس بک پیجز پر لگائی جانے لگیں۔ رفتہ رفتہ یہ عمل بڑا تیز ہوگیا ۔ اس وقت بھی سوشل میڈیا پر دو تین سب سے متحرک گروپوں میں سے ایک تحریک منہاج القرآن ہے۔ تئیس دسمبر کے جلسے سے چار پانچ ماہ پہلے قادری صاحب نے لاہور کے تھنک ٹینک کونسل آف نیشنل افئیرز کے صحافیوں اور دانشوروں کو منہاج مرکز میں دعوت دی اور ویڈیو کانفرنس کے ذریعے انہیں بریفنگ دی، سوال جواب کا سیشن بھی ہوا۔ اس میں قادری صاحب نے بتایا کہ وہ پاکستان واپس آ رہے ہیں اور ایک بڑا جلسہ کریں گے۔ تاہم اخبار نویسوں نے قادری صاحب کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا۔پھر تئیس دسمبر کے جلسے کے لئے کمپین شروع ہوگئی، دسمبر کے اوائل میں میڈیا کو احساس ہوا کہ قادری صاحب کے حامی جس محنت سے مہم چلا رہے ہیں، وہ بڑا جلسہ کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ پھر ایسا ہی ہوا۔ قادری صاحب نے پہلے اپنے جلسے ، لانگ مارچ اور پھر چار پانچ دن کے دھرنے کے بعد اپنا امیج تبدیل کر لیا۔ ایک غیر اہم، مبالغہ آمیز تقاریر کرنے والے خطیب کے بجائے اب انہیں ایک اہم ، عوامی مقبولیت رکھنے والا طاقتور سیاستدان تصور کیا جائے گا۔ آئندہ میڈیا یا کوئی سیاسی جماعت انہیں Easy نہیں لے گی۔ ان کے کسی دعوے یا اعلان کو نظرانداز کرنا اب ممکن نہیں۔ بڑی مہارت اور دانشمندی سے انہوں نے اپنے پتے کھیلے اور اسلام آباد کے قلب میں پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔انہوں نے اپنے سیاسی حریفوں کو ایک طرح سے آئوٹ کلاس کر دیا۔ان کا اعتماد بھی دیدنی تھا، چودھری برادران کے پیچھے ہٹنے اور عین وقت پر ایم کیو ایم کے دغا دے جانے کے باوجود وہ اپنے پروگرام سے پیچھے نہیں ہٹے اور کامیابی حاصل کر لی۔ وہ ایک ایسے سیاستدان کے طور پر ابھرے ہیں، جن کی اب ہمارے سیاسی منظرنامے میں ایک خاص جگہ اور مستقبل ہے۔انہوں نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ وہ لاکھوں افراد کے لئے ایک روحانی رہنما کی حیثیت بھی رکھتے ہیں، ایسا لیڈر جس کے کہنے پر لوگ اپنے معصوم شیر خوار بچے ساتھ لے کر میدان میں کود سکتے ہیں۔ایک زمانے میں پیر پگارا کے حروں کو یہ حیثیت حاصل تھی۔ تحریک منہاج القرآن کا تاثر ایک خالصتاً علمی اور دعوتی تحریک کا تھا، اب اس نے یہ بھی ثابت کر دیا کہ ان کے پاس انتہائی منظم اور مشکل ترین حالات میں ڈسپلن قائم رکھنے والے کارکن موجود ہیں۔ ایسے کارکن جن پر کسی قسم کے پروپیگنڈہ کا کوئی اثر نہیںاور وہ رہنمائی کے لئے اپنے قائد کی جانب ہی دیکھتے ہیں۔ دھرنے کے سبق قادری صاحب کو بھی یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ خطابت اپنی جگہ ،مگر مطالبے وہی مانے جاتے ہیں جو حقیقت پسندانہ ہوں اور جن کی وسیع پیمانے پر پزیرائی ہوسکے۔انہوں نے اسلام آباد پہنچنے کے بعد شروع میںغیر حقیقی مطالبے کئے، حکومت اور وزرا کو سابق اور پارلیمنٹ کی تحلیل اورالیکشن کمیشن کی فوری تشکیل نو کا کہا۔ یہ مطالبے مانے جانے والے نہیں تھے ، شائد وہ دبائو بڑھانے کے لئے ایسا کر رہے تھے ، مگر ان کا زیادہ مثبت اثر نہیں ہوا۔ بعد میںانہوں نے دانشمندی سے اپنے پرانے اور حقیقی نکات پر توجہ دی اور کم وبیش تمام مطالبے منوا لئے۔ اگلے روز اگرچہ میڈیا کے ایک حصے نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ قادری صاحب کے مطالبے نہ مانے گئے ، مگرحقیقت اس کے برعکس تھی۔ علامہ طاہرالقادری کا اصل مطالبہ آئین کے آرٹیکل باسٹھ ، تریسٹھ کے امیدواروں پر اطلاق، سکروٹنی کی مدت میں توسیع اور عوامی نمائندگی ایکٹ کی شق 77تا 82 میں تبدیلی لانا تھا۔ الیکشن کمیشن کے اختیارات میں اضافہ کامطالبہ بھی اس وجہ سے تھا۔ یہ تمام باتیں مانی گئی ہیں، نگران وزیراعظم کے لئے بھی انہیں ایک سٹیک ہولڈر کے طور پر مان لیا گیا ہے۔ اگر اس معاہدے پر عمل درآمد ہوا تو بڑی حد تک بدنام اور کرپٹ امیدواروں کا صفایا ہوجائے گا۔اس لحاظ سے بڑی کامیابی کہی جا سکتی ہے۔تحریک منہاج القرآن کو یقیناً یہ اندازہ ہو گیا ہو گا کہ دھرنے کے آخری روز بارش کے باعث ان کے لئے آپشنز محدود ہوگئی تھیں، اس سے پہلے بعض اپوزیشن جماعتوں نے میاں نواز شریف کی قیادت میں مشترکہ اعلامیہ جا ری کر کے قادری صاحب اور ان کے حامیوں کو سیاسی طور پر تنہا کر دیا تھا۔ یوں لگ رہا تھا کہ وہ بند گلی میں چلے گئے ہیں، اگر حکومت دانشمندی سے کام نہ لیتی ، مذاکرات نہ کرتی اور محفوظ راستہ نہ دیتی توصورتحال خاصی مشکل ہو گئی تھی۔ سیاست میں واپسی کے راستے کھلے رکھنے چاہیں، قادری صاحب نے ایسا نہیں کیا، وہ انتہا پر چلے گئے تھے۔ تیونس، مصر اور یمن وغیر ہ میں عرب سپرنگ کی کامیابی کی ایک وجہ ان ممالک کے دارالحکومت کی خاص پوزیشن تھی۔ مصر میں تحریر اسکوائر پر جمع ہونے والے لاکھوں افراد قاہرہ کے رہائشی تھے، اگرچہ دوسرے شہروں سے بھی لوگ آئے ،مگر بنیادی طور پر وہ مظاہرے ان شہروں کے اپنی آبادی نے کئے تھے۔ یہی تیونس اور یمن میں ہوا۔ لیبیا اور شام میں صورتحال مختلف تھی، وہاں دارالحکومت میں اپوزیشن کی گرفت مضبوط نہیں تھی، اس لئے ان مظاہروں کا اس طرح اثر نہ ہوسکا۔ کوئٹہ میں ہزارہ کمیونٹی کا دھرنا بھی وہاں کے مقامی آبادی کا اجتماع تھا، جن کے لئے گھروں سے ساز وسامان لانا بھی آسان تھا اور لوگ اپنی پوزیشنیں بھی بدل سکتے تھے۔ ایک دو راتوں کے بعد ضرورت پڑنے پر چند گھنٹوں کے لئے اپنے گھروں میں سستایا جا سکتا تھا۔ قادری صاحب کے لانگ مارچ میں ایسی کوئی سہولت موجود نہیں تھی۔ اس کا تمام تر دارومدار شرکا کے عزم وایثار پر تھا۔ اگر چہ قادری صاحب خوش قسمتی سے اس بار کامیاب ہوئے ،مگر شرکا کا اس قدر سخت امتحان لینا رسک ہوتا ہے، اگر ایسی بارش دو دن پہلے ہوجاتی ، تب کیا ہوتا؟اس وقت تک تو دھرنے کا ٹیمپو بھی نہیں بنا تھا۔ حکومتی اتحادکی سیاسی کامیابی پیپلز پارٹی کی حکومت پر بہت سے حوالوں سے سخت تنقید کی جاتی ہے، جو یکسر بے وزن بھی نہیں، ایک بات مگر اس نے یہ ثابت کر دی ہے کہ وہ ایک سیاسی جماعت ہے اور سیاسی انداز سے سوچتی ہے۔ ایک وقت میں وفاقی حکومت سخت مشکلات کا شکار تھی، پنجاب حکومت لانگ مارچ کو پنڈی پہنچا کر سکون سے تماشا دیکھ رہی تھی،تمام تر دبائو مرکز پر تھا۔ اس مشکل وقت میں پیپلز پارٹی نے اپنے اتحادیوں کو ساتھ ملایا اوراعلیٰ سطحی وفد کے ذریعے مذاکرات کئے ،یوں ڈیڈلاک بھی ختم کیا اوراس معاہدے پر عمل درآمد کرا کر وہ الیکشن کے عمل کا شفاف بنانے کا کریڈٹ بھی لے سکتی ہے۔ پیپلز پارٹی نے اپنے سخت گیر سوچ رکھنے والوں کو سائیڈ پر کیا اور اس کے ثمرات بھی انہیں مل گئے۔ اگر خدانخواستہ تصادم ہوجاتا تو اس کے خوفناک نتائج نکلتے۔ لال مسجد کے سانحے کے اثرات سے ہم ابھی تک نہیں نکل سکے، ملک کسی اور ہولناک واقعہ کا متحمل نہیں ہوسکتا۔پیپلز پارٹی کا اصل امتحان لانگ مارچ ڈیکلئریشن پر عمل کرانا ہے۔ انہیں یہ سمجھنا ہوگا کہ صرف منہاج القرآن ہی نہیں بلکہ ملک بھر میں انتخابی اصلاحات کی خواہش موجود ہے۔ یہ اچھا موقعہ ہے کہ ہمارے سیاستدان جمہوری نظام کی تطہیر کریں، اس سے جمہوریت دشمن قوتوں کو شدید حوصلہ شکنی ہوگی۔ میڈیا اور تجزیہ کار اب یہ مان لینا چاہیے کہ میڈیا اور ہمارے تجزیہ کاروں نے علامہ طاہرالقادری کو انڈر اسٹیمیٹ کیا۔ وہ علامہ صاحب کے شخصی اثر اور قوت کا اندازہ نہ لگا سکے۔ میڈیا کے بیشتر حصے کو یقین تھا کہ لانگ مارچ ہو ہی نہیں سکے گا۔دھرنے کے دوران بھی کوریج کرتے ہوئے انہیں شرکا ء کے موڈکا اندازہ نہیں ہوسکا۔ کئی اینکر خواتین چیختی رہیں کہ آپ لوگوں کو سردی کیوں نہیں لگ رہی، بچے بیمار ہوجائیں گے وغیرہ وغیرہ۔ انہیںسمجھنا چاہیے تھا کہ لوگ کسی جذبے اور کمٹمنٹ کے ساتھ ہی یہاں تک آئے ہیں اور یہ یوں واپس نہیں جائیں گے۔ ہمارے اہل دانش اور تجزیہ کاروں نے سب سے اہم غلطی یہ کی کہ انہوں نے طاہرالقادری کی شخصیت کو بے رحمی سے نشانہ بنایا ،مگر ان کے ایجنڈے کو نظر انداز کر گئے۔ انہیں یہ ادراک نہ ہوسکا کہ انتخابی اصلاحات کرنا اور تبدیلی لانے کے ایجنڈے کی عوام میں زبردست کشش موجود ہے۔ قادری صاحب نے اس خلا میں قدم رکھا ،جو ہماری دوسری سیاسی جماعتیں پر کرنے میں ناکام رہیں۔ جیسا کہ شرکا کے انٹرویوز سے ظاہر بھی ہوا کہ ان میں تمام لوگ منہاج القرآن کے نہیں تھے، بہت سے لوگوں نے بتایا کہ وہ عمران خان کے ووٹر ہیں، بعض دوسری جماعتوں کے حامی بھی تھے۔ ایجنڈے پر زیادہ بات ہونا چاہیے تھی، وہ نہ ہوسکی اور تمسخر،پیروڈی،طنز وتشنیع ہمارے میڈیا پر حاوی رہے۔ یہی وجہ ہے کہ جمعہ کو دھرنے کی کامیابی کے بعد بہت سے اینکروں اور تجزیہ کاروں کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا ردعمل دیں۔ جن باتوں کا وہ مذاق اڑاتے رہے، وہ تقریباً سب مان لی گئیں۔ جہاں تک اسمبلیوں کی تحلیل اور الیکشن کمیشن کی فوری تشکیل کی بات تھی، یہ دبائو بڑھانے کا حربہ تھا، حقیقی مطالبہ نہیں تھا۔میڈیا اور انٹیلی جنشیا کو آنے والے دنوں میں زیادہ محتاط اور باریک بین ہونا پڑے گا۔ الیکشن میں اصلاحات کے عمل پر بھی نظر رکھنے کی ضرورت پڑے گی۔ مسلم لیگ ن مسلم لیگ ن نے بظاہر بڑی عقل مندی اور ہوشیاری سے چالیں چلیں۔ انہوں نے لانگ مارچ کو روکنے کی کوئی کوشش نہیں کی کہ اس کا رخ اسلام آباد کی جانب تھا۔ جب انہوں نے محسوس کیا کہ دھرنے میں خاصے لو گ آگئے ہیں اور یہ اجتماع خطرناک ثابت ہوسکتا ہے تووہ متحرک ہوئے۔ میاں صاحب نے کمال مہارت سے کئی اہم جماعتوںسے رابطے کئے۔ بلوچستان سے اچکزئی صاحب اور حاصل بزنجو کے ساتھ ساتھ مولانا فضل الرحمن اورجماعت اسلامی کو ساتھ ملا لینا ان کی بڑی کامیابی تھی۔ انہوں نے اپنے مشترکہ اعلامیہ سے علامہ طاہرالقادری کو بالکل تنہا کر دیا۔ یہ جمہوریت کے لئے اچھا شگون تھا کہ ہماری سیاسی جماعتیں ہر قسم کی تبدیلی کے لئے انتخابات کی جانب ہی دیکھنے لگی ہیں۔ میاں صاحب نے دانستہ یا نا دانستہ ایک بڑی غلطی یہ کی کہ انہوں نے قادری صاحب کو محفوظ راستہ نہیں دیا۔اے پی سی کے شرکا میں سے کسی نے یہ نہیں سوچا کہ اسلام آباد میںکئی روز سے ہزاروں افراد کا دھرنا جاری ہے۔دھرنے کے شرکا اور ان کے لیڈر قادری صاحب اتنا آگے جا چکے ہیں کہ ان کے لئے کچھ حاصل کئے بغیر واپس لوٹنا شرمندگی کے مترادف ہے۔ انہیں محفوظ راستہ دینا (Face saving)دینا ضروری تھا۔ دوسری صورت میں شرکاء فرسٹریٹ ہو کر تصادم کی طرف جا سکتے تھے، ایسا ہو جاتا تو پھر کچھ بھی نہ بچ پاتا۔ جس طرح کا اعلیٰ سطحی وفد حکومت نے مذاکرات کے لئے بھیجا، ویسا کام پہلے نواز شریف صاحب بھی کر سکتے تھے۔ اگر ایسا کرتے تو وہ محاورے کے مطابق میلہ لوٹ لیتے۔ انہوں نے ایسا نہیں کیا، شائد وہ اپنی مخالف وفاقی حکومت کو ٹف ٹائم دینا چاہتے تھے، مگر اختتام میں اس کا تمام تر نقصان انہیں ہی ہوا۔ ٹی وی چینلز پر ن لیگ کے رہنمائوں کی تلخی دیکھ کر انہیں پہنچنے والے دھچکے کی شدت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ ؟ ہمارے اہل دانش اور تجزیہ کاروں کو ہر ایشو میں اسٹیبلشمنٹ کا کردار دیکھنے کا رویہ بھی بدلنا ہوگا۔ یوں لگتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کا آسیب ان کی دانش کے گرد لپٹ گیا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کے حوالے سے ویسے بھی دو تین باتیں سمجھنی چاہیں۔ دنیا بھر میں اسٹیبلشمنٹ ہمیشہ پر و’’ سٹیٹس کو‘‘ ہوتی ہے۔ نظام بدلنے یا تبدیلی لانے کا نعرہ کبھی انہیں راس نہیں ہوتا۔ ایسا نعرہ لگانے والوں کو ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ قادری صاحب والے معاملے کو زیادہ غور سے دیکھنا چاہیے تھا۔ اگر اس میں اسٹیبلشمنٹ شامل ہوتی تو معروف اسٹیبلشمنٹ نواز جماعتیں اس سے دور نہ رہتیں اور وعدہ کر کے واپس نہ چلی جاتیں۔ جو مارچ یا دھرنا اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر کیا جاتا ہے ، اس کے تیور ہی الگ ہوتے ہیں، اس کے شرکا شروع ہی سے ڈنڈے لے کر چلتے ہیں اور تباہی ان کا مشن ہوتی ہے۔ ایسے جلوسوں میں لوگ خود اپنی خوشی سے اپنی بیویوں، بہنوں اور شیر خوار بچوں کو نہیں لاتے۔ پیسے خواہ جتنے ملیں، اولاد آدمی کو اپنی جان سے بھی زیادہ پیاری ہوتی ہے۔ اس دھرنے کے پرامن اختتام نے یہ ثابت کر دیا کہ اسٹیبلشمنٹ کی رٹ لگانے والے تجزیہ کاروں نے ٹھوکر کھائی، اصولاً تو انہیں اپنے قارئین اور ناظرین سے معذرت کرنی چاہیے، مگرافسوس کہ ہمارے ہاں ایسی اچھی روایتیں موجود نہیں۔ ویسے اس حوالے سے فورسز کا رویہ مثبت رہا۔ کورکمانڈرز کانفرنس کو بعض حلقوں نے معنی خیز نظروں سے دیکھا ،مگر آئی ایس پی آر نے بروقت وضاحت کر دی۔ ہماری مقتدرہ قوتوں کو یہ یاد رکھناچاہیے کہ سیاست صرف سیاستدانوں کے کھیلنے کا میدان ہے۔ عسکری قوتوںکو اپنے پروفیشنل فرائض ہی انجام دینے چاہیں۔ ایسا کرنا ہی ان کے وقاراور عزت میں اضافہ کرے گا۔ اس دھرنے کا پرامن انجام یہ ثابت کرتا ہے کہ ملک میں جمہوریت پنپ رہی ہے اورہمارا بظاہر کمزور جمہوری سسٹم اس قسم کے بڑے دھچکوں کو برداشت کرنے کی سکت اور قوت رکھتا ہے۔اس سے ہمارے سیاستدانوں اور جمہوری قوتوں نے خاصا کچھ سیکھا ہوگا۔ تحریک انصاف عمران خان اور ان کے بعض حامیوں کو ممکن ہے اب اندازہ ہو رہا ہو کہ انہوں نے ملنے والے ایک بڑے موقع سے فائدہ نہیں اٹھایا۔ تحریک انصاف میں لانگ مارچ کے حمایت میں ایک مضبوط لابی موجود تھی،ان کے کئی اہم سیاسی لیڈروں کا خیال تھا کہ ہمیں قادری صاحب کے ساتھ شامل ہونا چاہیے، ان کی جماعت کا سیاسی نیٹ ورک موجود نہیں ،ا س لئے سیاسی کامیابی کے تمام تر ثمرات تحریک انصاف کو پہنچیں گے۔ اس لابی کی بات نہیں مانی گئی، عمران خان اور ان کے بعض غیر سیاسی مگر پارٹی کے لئے تھنک ٹینک کا درجہ رکھنے والے لوگوں کی بات مانی گئی۔ تاہم عمران خان نے لانگ مارچ اور دھرنے پر تنقید بالکل نہیں کی، وہ اسے بڑی احیتاط سے دیکھتے رہے، جائزہ لیتے رہے ،مگر شامل نہیں ہوئے۔ ممکن ہے انہیں خطرہ ہو کہ یہ دھرنا کسی اور جانب جا سکتا ہے۔ انہوں نے اپنی تمام تر توجہ انتخابات کی جانب مبذول کی اور اس حوالے سے دبائو بڑھانے کی کوشش کی ،مگر تحریک انصاف کے بہت سے نوجوان کارکنوں کو اب یقیناً مایوسی ہو رہی ہوگی۔پی ٹی آئی نے اس معاملے میں اگرچہ کھویا بھی زیادہ نہیں۔ ان کے لئے انتخابات کے حوالے سے قادری صاحب کے ساتھ ہاتھ ملانے کی آپشن موجود ہے۔دیکھنا یہ ہے کہ تحریک انصاف آنے والے دنوں میں کیسے پتے چلتی ہے؟

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
MIT کا ننھا روبوٹ

MIT کا ننھا روبوٹ

کیڑے مکوڑوں کی طرح اڑنا سیکھ گیا روبوٹکس کا شعبہ تیزی سے ایسے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے جہاں مشینیں صرف انسانوں کے بنائے ہوئے ڈیزائن کی نقل نہیں کر رہیں بلکہ قدرت سے سیکھ کر اپنی صلاحیتیں بہتر بنا رہی ہیں۔ اس کی ایک دلچسپ مثال میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (MIT) کے انجینئرز کا تیار کردہ ایک انتہائی چھوٹا اڑنے والا روبوٹ ہے جس نے اب کیڑے مکوڑوں جیسی تیز اور پھرتیلی پرواز کا مظاہرہ کیا ہے۔یہ روبوٹ جسامت میں ایک جیلی بین کے قریب ہے اور اس کے پروں کا ڈیزائن بھی کیڑے کے پروں سے متاثر ہے۔ لیکن اصل حیرت اس کے حجم میں نہیں بلکہ اس کی پرواز کی صلاحیت میں ہے۔ MIT کے محققین نے مصنوعی ذہانت پر مبنی ایک نیا کنٹرول سسٹم تیار کیا ہے جس نے اس ننھے روبوٹ کو تیز رفتاری سے موڑنے، اچانک سمت تبدیل کرنے اور مسلسل قلابازیاں لگانے کے قابل بنا دیا ہے۔رفتار اور پھرتی میں غیر معمولی اضافہچھوٹے اڑنے والے روبوٹس کے سامنے ایک بڑا مسئلہ یہ رہا ہے کہ انہیں بہت تیزی سے حرکت دینا اور ساتھ ہی مستحکم رکھنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ جسامت جتنی کم ہوتی ہے ہوا کا معمولی زوراور جسم کی معمولی حرکت بھی روبوٹ کی پرواز پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہے۔MIT کی نئی تحقیق نے اس مسئلے کو بڑی حد تک حل کرنے کی کوشش کی ہے۔ تجربات میں روبوٹ کی رفتار پہلے کے بہترین مظاہروں کے مقابلے میں تقریباً 447 فیصد بڑھ گئی جبکہ اس کی acceleration یعنی رفتار پکڑنے کی صلاحیت میں تقریباً 255 فیصد اضافہ ہوا۔لیکن شاید سب سے حیران کن مظاہرہ اس کی قلابازیاں ہیں۔ یہ ننھا روبوٹ صرف 11 سیکنڈ میں مسلسل دس somersaults مکمل کرنے میں کامیاب رہا۔ اس دوران اگر ہوا کا جھونکا اسے راستے سے ہٹانے کی کوشش بھی کرتا رہا تو روبوٹ نے اپنی پرواز کو درست کیا اور مطلوبہ راستے کے قریب رہا۔ MIT کے مطابق تجربات میں یہ روبوٹ اپنے طے شدہ راستے سے عموماً صرف 4 سے 5 سینٹی میٹر تک ہی ہٹا۔یہ کارکردگی اس لیے اہم ہے کیونکہ حقیقی کیڑے، مثلاً بھونرا یا مکھی انتہائی تیزی سے اپنی پرواز کی سمت اور جسم کا زاویہ تبدیل کر سکتے ہیں۔ روایتی ڈرونز میں یہ صلاحیت نسبتاً محدود ہوتی ہے۔روبوٹ کے پر اور مصنوعی پٹھےیہ روبوٹ کسی عام کواڈ کاپٹر ڈرون کی طرح چار گھومتے ہوئے پروپیلرزاستعمال نہیں کرتا۔اس میں ایسے پر استعمال کیے گئے ہیں جو کیڑے کے پروں کی طرح تیزی سے پھڑپھڑاتے ہیں۔MIT کی ٹیم نے روبوٹ کے ایک زیادہ پائیدار ورژن میں نسبتاً بڑے پر استعمال کیے جنہیں نرم مصنوعی پٹھوں کے ذریعے حرکت دی جاتی ہے۔ یہ مصنوعی پٹھے انتہائی تیزی سے پروں کو حرکت دے سکتے ہیں جس سے روبوٹ کو فضا میں اٹھنے، آگے بڑھنے اور اچانک سمت تبدیل کرنے کی صلاحیت ملتی ہے۔تاہم صرف اچھے پر اور طاقتور مصنوعی پٹھے کافی نہیں تھے۔ روبوٹ کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ اسے کس لمحے کتنی طاقت لگانی ہے، کس سمت جھکنا ہے اور کب اپنی حرکت کو روکنا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں مصنوعی ذہانت نے اہم کردار ادا کیا۔اصل کمال اس کے AI دماغ کا ہےاس روبوٹ کی پرواز کا سب سے اہم حصہ اس کا نیا AIبیسڈ کنٹرولر ہے۔ پہلے روبوٹ کا کنٹرول سسٹم بڑی حد تک انسانوں کی جانب سے ہاتھ سے ٹیون کیا جاتا تھا۔ اس طریقے سے روبوٹ بنیادی پرواز تو کر سکتا تھا لیکن انتہائی تیز اور پیچیدہ حرکات کے لیے یہ کافی نہیں تھا۔MIT کے محققین نے ایک دو مرحلوں پر مشتمل نظام تیار کیا۔ پہلے مرحلے میں ایک طاقتورکنٹرولر روبوٹ کی حرکت کا اندازہ لگاتا اور پیچیدہ قلابازیوں کے لیے بہترین راستہ تلاش کرتا ہے۔ اس میں یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ روبوٹ کتنی قوت استعمال کر سکتا ہے تاکہ حرکت کے دوران وہ بے قابو نہ ہو جائے۔دوسرے مرحلے میں ڈیپ لرننگ استعمال کی گئی۔ سادہ الفاظ میں ایک طاقتور کنٹرولر پہلے مشکل حرکات کرنا سیکھتا ہے پھر AI اس کے طریقہ کار سے سیکھ کر ایک ایسا نسبتاً ہلکا اور تیز ماڈل تیار کرتی ہے جو حقیقی وقت میں روبوٹ کو کنٹرول کر سکے۔یہ طریقہ اس لیے ضروری تھا کیونکہ اتنے چھوٹے روبوٹ پر بہت زیادہ کمپیوٹیشنل طاقت دستیاب نہیں ہوتی۔ اگر ہر لمحے انتہائی پیچیدہ کیلکولیشنز کی جائیں تو روبوٹ کا نظام اتنی تیزی سے فیصلہ نہیں کر پائے گا جتنی تیزی سے اسے پرواز کے دوران ضرورت ہوتی ہے۔ AI نے اس پیچیدہ عمل کو نسبتاً تیز اور مؤثر بنا دیا۔مستقبل خودکار روبوٹس تکMIT کے محققین کے مطابق مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کے عملی استعمال کے امکانات بہت وسیع ہیں۔مثلاً کسی زلزلے کے بعد عمارتیں گرنے کی صورت میں بڑے ڈرونز یا ریسکیو مشینیں ملبے کے اندر موجود انتہائی تنگ جگہوں تک نہیں پہنچ سکتیں۔ ایک کیڑے جتنا چھوٹا روبوٹ ملبے کے درمیان موجود دراڑوں سے گزر کر ممکنہ طور پر زندہ افراد کی تلاش کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ روبوٹ گرتے ہوئے ملبے اور دوسری رکاوٹوں سے بچنے کے لیے اپنی سمت تیزی سے تبدیل بھی کر سکتا ہے۔مستقبل میں ایسے روبوٹس پر چھوٹے کیمرے اور سنسرز نصب کیے جا سکتے ہیں۔ اس سے وہ صرف پہلے سے طے شدہ راستے پر چلنے کے بجائے اپنے اردگرد کے ماحول کو محسوس کرکے خود فیصلہ کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں۔ MIT کی ٹیم خاص طور پر ایسے سنسرز کے استعمال پر کام کرنا چاہتی ہے جو روبوٹ کو بیرونی ماحول میں بغیر کسی بڑے موشن کیپچر سسٹم کے پرواز کرنے میں مدد دیں۔یہاں سے ایک اور دلچسپ امکان سامنے آتا ہے کہ اگر متعدد ایسے ننھے روبوٹس ایک دوسرے کے ساتھ رابطہ کرکے مشترکہ طور پر کام کرنا سیکھ جائیں تو وہ ایکrobotic swarm کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔ ایک روبوٹ کے بجائے درجنوں یا سینکڑوں چھوٹے روبوٹس کسی بڑے علاقے کی نگرانی، تلاش یا ماحولیاتی مشاہدے کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔موجودہ تجربات میں کنٹرولر بیرونی کمپیوٹر پر چلتا ہے جبکہ مستقبل کا اہم ہدف اتنی ہی مؤثر AI کو روبوٹ کے اپنے آن بورڈ کمپیوٹنگ نظام پر چلانا ہے۔

عالمی یومِ انسانی ہمدردی

عالمی یومِ انسانی ہمدردی

انسانیت کی حفاظت کا عالمی عہددنیا میں ایسے دن بھی آتے ہیں جو کسی جشن، فتح یا تاریخی کامیابی کی یاد نہیں دلاتے بلکہ انسان کو اس کی اپنی انسانیت یاد دلاتے ہیں۔ عالمی یومِ انسانی ہمدردی (World Humanitarian Day) بھی ایسا ہی دن ہے جو ہر سال 19 اگست کو منایا جاتا ہے۔ یہ دن ان لاکھوں انسانوں کے نام ہے جو جنگوں، قدرتی آفات، قحط، وباؤں، نقل مکانی اور دیگر بحرانوں سے متاثر ہوتے ہیں ،اور ان لوگوں کے نام بھی جو اپنی جان کی پروا کیے بغیر مصیبت زدہ لوگوں تک مدد پہنچانے کے لیے میدانِ عمل میں موجود رہتے ہیں۔ اس دن کا بنیادی مقصد انسانی خدمت کرنے والے کارکنوں کو خراجِ تحسین پیش کرنا اور بحرانوں میں گھرے لوگوں کی بقا، وقار اور فلاح کے لیے عالمی عزم کو مضبوط کرنا ہے۔ایک المیے سے جنم لینے والا دنعالمی یومِ انسانی ہمدردی کی تاریخ ایک المناک واقعے سے جڑی ہوئی ہے۔ 19 اگست 2003 ء کو عراق کے دارالحکومت بغداد میں اقوام متحدہ کے مرکزی دفتر، کینال ہوٹل، پر بم حملہ ہوا جس میں 22 افراد مارے گئے، ان میں اقوام متحدہ کے عراق میں خصوصی نمائندے سرجیو ویئرا ڈی میلو بھی شامل تھے۔ ایک سو سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ یہ حملہ نہ صرف اقوام متحدہ کے لیے ایک بڑا سانحہ تھا بلکہ دنیا بھر کے انسانی امدادی کارکنوں کے لیے بھی ایک ایسا لمحہ تھا جس نے ان کے کام کے خطرات کو نمایاں کر دیا۔اس سانحے کی یاد میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 2008ء میں قراردادکے ذریعے 19 اگست کو عالمی یومِ انسانی ہمدردی قرار دیا۔ انسانی ہمدردی محض کسی ضرورت مند کو چند روپے یا کھانے کا ایک پیکٹ دینے کا نام نہیں۔ یہ دراصل اس بنیادی انسانی اصول کا نام ہے کہ مصیبت میں مبتلا انسان کی مدد کی جائے خواہ اس کا تعلق کسی بھی ملک، مذہب، نسل، زبان یا سیاسی گروہ سے ہو۔ جنگ زدہ علاقے میں زخمی شخص کو طبی امداد دینا، سیلاب زدگان کو محفوظ مقام تک پہنچانا، بے گھر خاندانوں کو خوراک اور خیمے فراہم کرنا، بچوں کو تعلیم کے مواقع دینا اور وبا کے دوران لوگوں کو طبی سہولت پہنچانا،یہ سب انسانی خدمت کے مختلف روپ ہیں۔ خطرے میں امید قدرتی آفت یا جنگ کے دوران عام انسان عموماً محفوظ مقام تلاش کرتا ہے مگر انسانی امدادی کارکن اکثر اس کے برعکس خطرے کے مرکز کی طرف بڑھتے ہیں۔ ڈاکٹر، نرسیں، ریسکیو اہلکار، رضاکار، ڈرائیور، امدادی اداروں کے کارکن اور مقامی کمیونٹی کے افراد اپنی جان خطرے میں ڈال کر دوسروں کی زندگی بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔انسانی کارکن صرف خوراک اور پانی تقسیم نہیں کرتے وہ تباہ شدہ معاشروں کو دوبارہ کھڑا کرنے میں بھی کردار ادا کرتے ہیں۔ وہ بچوں کے لیے عارضی سکول قائم کرتے ہیں، بیماروں کا علاج کرتے ہیں، بے گھر افراد کو پناہ دیتے ہیں، خواتین اور بچوں کو تحفظ فراہم کرتے ہیں اور متاثرہ خاندانوں کو دوبارہ معمول کی زندگی کی طرف لانے میں مدد کرتے ہیں۔افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ دوسروں کی جان بچانے نکلتے ہیں وہ خود بھی محفوظ نہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق غزہ میں اسرائیلی حملوں میں اقوام متحدہ کے393 امدادی کارکن مارے گئے۔ اس دن کی اہمیت پہلے سے زیادہآج دنیا ایک ایسے دور سے گزر رہی ہے جہاں انسانی بحرانوں کی نوعیت زیادہ پیچیدہ ہوگئی ہے۔ جنگیں، سیاسی تنازعات، موسمیاتی تبدیلی، سیلاب، خشک سالی، قحط اور بڑے پیمانے پر نقل مکانی نے کروڑوں انسانوں کو غیر یقینی زندگی سے دوچار کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے 2026 ء کے جائزے کے مطابق دنیا بھر میں 239 ملین افراد کو انسانی امداد کی ضرورت ہے جبکہ عالمی انسانی نظام محدود وسائل کے باوجود تقریباً 135 ملین افراد تک امداد پہنچانے کا ہدف رکھتا ہے۔موسمیاتی تبدیلی نے بھی انسانی ہمدردی کی ضرورت میں اضافہ کیا ہے۔ سیلاب اور دیگر قدرتی آفات کے دوران امدادی کارکنوں اور رضاکاروں کا کردار اس حقیقت کی واضح مثال ہے کہ بحران کے وقت ریاستی اداروں کے ساتھ معاشرے کی اجتماعی قوت بھی انتہائی اہم ہوتی ہے۔انسانی ہمدردی صرف اداروں کی ذمہ داری نہیںعالمی یومِ انسانی ہمدردی ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ انسانیت کی خدمت صرف اقوام متحدہ، حکومتوں یا بڑے امدادی اداروں کی ذمہ داری نہیں۔ عام شہری بھی اپنے حصے کا کردار ادا کرسکتے ہیں۔ کسی ضرورت مند کی مدد، خون کا عطیہ، آفت زدہ لوگوں کے لیے امداد، کسی بے گھر خاندان کے لیے سہارا یا کسی پریشان انسان کے ساتھ ہمدردی،یہ سب انسانی خدمت کی صورتیں ہیں۔اصل سوال یہ نہیں کہ ہمارے پاس دوسروں کے لیے کتنا ہے اصل سوال یہ ہے کہ ہم اپنے پاس موجود وسائل میں سے کتنا بانٹنے کے لیے تیار ہیں۔انسانیت کو زندہ رکھنے کا عہدعالمی یومِ انسانی ہمدردی دراصل ایک آئینہ ہے جس میں دنیا اپنی ترجیحات دیکھ سکتی ہے۔ اگر ایک طرف انسان نے سائنس، ٹیکنالوجی اور ترقی کی حیرت انگیز منزلیں طے کی ہیں تو دوسری طرف کروڑوں انسان آج بھی جنگ، بھوک، بیماری اور بے گھری کا شکار ہیں۔ ترقی کا حقیقی معیار صرف بلند عمارتیں، جدید ٹیکنالوجی یا مضبوط معیشتیں نہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ معاشرہ اپنے کمزور ترین انسان کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے۔یہ دن ہمیں ان گمنام ہیروز کو یاد کرنے کا موقع دیتا ہے جو کسی تمغے یا شہرت کی خواہش کے بغیر دوسروں کی زندگی آسان بناتے ہیں۔ ان کی جدوجہد ہمیں یاد دلاتی ہے کہ انسانیت کسی سرحد، زبان یا قوم کی پابند نہیں۔19 اگست کا پیغام دراصل بہت سادہ ہے کہ مصیبت میں مبتلا انسان کو تنہا نہ چھوڑا جائے، انسانیت کی خدمت کرنے والوں کو نشانہ نہ بنایا جائے اور دنیا کو اس اصول پر قائم کیا جائے کہ ہر انسان کی جان، عزت اور وقار برابر اہمیت رکھتے ہیں۔کیونکہ جب دنیا کے کسی کونے میں ایک انسان دوسرے انسان کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو وہاں صرف ایک زندگی نہیں بچتی، انسانیت کا تصور بھی زندہ رہتا ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

ڈاگیریو ٹائپ فوٹوگرافی19 اگست 1839ء کو فرانسیسی موجد لوئی ژاک مانڈے ڈاگیریو کے تیار کردہ فوٹوگرافی کے طریقے، جسے ڈاگیریو ٹائپ (Daguerreotype) کہا جاتا ہے، کو عوام کے سامنے پیش کیا گیا۔ یہ اعلان فرانسیسی اکیڈمی آف سائنسز کے اجلاس میں ہوا۔ اس ایجاد کی اہمیت اس لیے غیر معمولی تھی کہ اس سے پہلے کسی منظر یا انسان کی شکل کو مستقل اور انتہائی تفصیل کے ساتھ محفوظ کرنا بہت مشکل تھا۔ ڈاگیریو ٹائپ میں چاندی سے ملمع شدہ تانبے کی پلیٹ استعمال کی جاتی تھی۔ اسے کیمیائی طریقے سے حساس بنایا جاتا، کیمرے میں رکھ کر روشنی کے سامنے لایا جاتا اور پھر کیمیائی عمل کے ذریعے تصویر ظاہر کی جاتی۔ نتیجہ ایک انتہائی باریک تفصیلات والی تصویر کی صورت میں سامنے آتا تھا۔ ڈاگیریو ٹائپ اگرچہ نسبتاً پیچیدہ، مہنگا تھا، لیکن اس نے جدید فوٹوگرافی کی بنیاد مضبوط کی۔ ڈائیپے پر اتحادی حملہ19 اگست 1942ء کو دوسری جنگِ عظیم کے دوران فرانس کے ساحلی شہر ڈائیپے (Dieppe) پر اتحادی افواج نے ایک بڑا بحری و زمینی حملہ کیا۔ اس فوجی کارروائی کو 'آپریشن جوبلی‘ کہا جاتا ہے۔ تقریباً چھ ہزار سے زائد اتحادی فوجی اس کارروائی میں شریک ہوئے جن میں تقریباً پانچ ہزار کینیڈین تھے۔ حملہ مختلف ساحلی مقامات پر کیا گیا۔ جرمن افواج نے بھرپور مزاحمت کی اور اتحادی فوجوں کے لیے واپسی بھی انتہائی مشکل ہو گئی۔ نتیجتاً یہ کارروائی اتحادیوں کے لیے ایک بڑی فوجی ناکامی ثابت ہوئی۔ تاہم اس کارروائی سے اتحادی کمانڈروں کو معلوم ہوا کہ مضبوط جرمن ساحلی دفاع کے خلاف براہِ راست حملے میں کن مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ بعد میں یہ تجربات 6 جون 1944ء کے نارمنڈی حملے کی منصوبہ بندی میں اہم ثابت ہوئے۔ محمد مصدق حکومت کا خاتمہ19 اگست 1953ء کو ایران میں وزیراعظم ڈاکٹر محمد مصدق کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا اور جنرل فضل اللہ زاہدی نے اقتدار سنبھال لیا۔ مصدق 1951ء میں وزیراعظم بنے تھے اور ان کی حکومت نے ایرانی تیل کی صنعت کو قومیانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس اقدام سے برطانیہ کے مفادات کو شدید نقصان پہنچا کیونکہ برطانوی کمپنی ایرانی تیل کی پیداوار اور تجارت میں مرکزی کردار رکھتی تھی۔بعد میں سامنے آنے والی امریکی سرکاری دستاویزات اس واقعے میں امریکی خفیہ ایجنسی CIA اور برطانوی کردار کی تصدیق کرتی ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ کے تاریخی دستاویزات میں واضح طور پر درج ہے کہ مصدق کو اقتدار سے ہٹانے کا عمل 19 اگست 1953ء کو کامیاب ہوا اور زاہدی کو وزیراعظم بنایا گیا۔ سپوتنک 5 کی لانچنگ19 اگست 1960ء کو سوویت یونین نے سپوتنک 5 خلا میں روانہ کیا۔ اس مشن میں دو کتے Belka اور Strelka، ایک خرگوش، 40 چوہے اور مختلف پودے اور حیاتیاتی نمونے شامل تھے۔اس مشن کی اصل اہمیت صرف جانوروں کو خلا میں بھیجنے میں نہیں تھی بلکہ انہیں محفوظ طریقے سے زمین پر واپس لانے میں تھی۔ اس سے پہلے مختلف ممالک خلا میں جانور بھیجنے کے تجربات کر چکے تھے مگر ہر مشن کامیاب نہیں ہوا تھا۔ سوویت سائنسدان یہ جاننا چاہتے تھے کہ ایک زندہ جسم خلائی سفر، راکٹ کے ارتعاش، بے وزنی اور دوبارہ زمین کی فضا میں داخل ہونے کے مراحل کو کس طرح برداشت کرتا ہے۔سپوتنک 5 نے زمین کے گرد چکر لگائے اور اگلے دن اس کا کیپسول واپس لایا گیا۔ Belka اور Strelka دونوں زندہ واپس آ گئے۔ Syncom 3کی لانچنگ 19 اگست 1964ء کو امریکہ نے Syncom 3 نامی سیٹلائٹ خلا میں روانہ کیا گیا اور بعد میں اسے خطِ استوا کے اوپر ایسی مدار میں پہنچایا گیا جہاں وہ زمین کے مقابلے میں تقریباً ساکن دکھائی دیتا تھا۔۔ یہ واقعہ جدید عالمی مواصلاتی نظام کی تاریخ میں انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔Syncom 3 نے جیو سٹیشنری کمیونی کیشن سیٹلائٹ کے تصور کو عملی طور پر مزید مضبوط کیا۔Syncom 3کی کامیابی کا ایک بہت مشہور عملی مظاہرہ 1964ء کے ٹوکیو اولمپکس کے دوران ہوا۔ ناسا کے تکنیکی ریکارڈ کے مطابق Syncom 3 کے ذریعے جاپان سے امریکہ تک اولمپک مقابلوں کی براہِ راست ٹیلی ویژن ترسیل میں مدد ملی۔ اسی سیٹلائٹ نے بحرالکاہل کے پار مسلسل مواصلاتی رابطے کے قیام میں بھی اہم کردار ادا کیا۔

سمندروں کا بڑھتا درجہ حرارت

سمندروں کا بڑھتا درجہ حرارت

نیا عالمی ریکارڈ ، نئے خطراتدنیا کے سمندر ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں جہاں ان کا درجہ حرارت ایک بار پھر تاریخ کی بلند ترین سطح تک پہنچنے کے قریب ہے۔سائنسی جریدے 'Nature‘ میں شائع ہونے والے ایک مضمون کے مطابق سمندری سطح کا غیر معمولی درجہ حرارت نہ صرف سمندری ماحولیاتی نظام کو شدید متاثر کر سکتا ہے بلکہ سمندر کی فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنے کی صلاحیت کو بھی کمزور کر سکتا ہے۔یہ صورتِ حال اس لیے زیادہ تشویشناک ہے کہ سمندر محض پانی کا ایک وسیع ذخیرہ نہیں بلکہ زمین کے موسمیاتی نظام کا ایک بنیادی ستون ہے۔ سمندر فضا میں موجود اضافی حرارت کا بڑا حصہ جذب کرتے ہیں اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کو بھی اپنے اندر محفوظ کرتے ہیں۔ لیکن اگر پانی مسلسل گرم ہوتا جائے تو یہ قدرتی نظام اپنی کارکردگی کھونا شروع کر سکتا ہے۔سمندر گرم کیوں ہو رہے ہیں؟سمندری درجہ حرارت میں اضافے کی بنیادی وجہ انسانی سرگرمیوں سے خارج ہونے والی گرین ہاؤس گیسیں ہیں۔ کوئلہ، تیل اور گیس جلانے سے فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دوسری حرارت روکنے والی گیسوں کی مقدار بڑھتی ہے۔ اس اضافی حرارت کا بہت بڑا حصہ سمندر جذب کر لیتے ہیں۔قدرتی موسمیاتی عوامل، خصوصاًEl Niño بھی بعض اوقات سمندری درجہ حرارت میں اچانک اضافہ کرتے ہیں۔ تاہم موجودہ صورتحال کو صرف قدرتی عوامل سے سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ طویل مدتی عالمی حدت نے سمندروں کے بنیادی درجہ حرارت کو پہلے ہی بلند کر دیا ہے جس کے اوپر قدرتی واقعات مزید گرمی کا اضافہ کر سکتے ہیں۔'Nature‘ کی رپورٹ میں جس نئے ریکارڈ کی نشاندہی کی گئی ہے وہ اسی بڑے رجحان کا حصہ ہے۔رپورٹ کے مطابق انتہائی گرم سمندری سطح سمندری حیات کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ سمندر کے کاربن جذب کرنے والے قدرتی نظام کو بھی کمزور کر سکتی ہے۔یہ خدشہ محض نظری نہیں سوئٹزرلینڈ کی یونیورسٹی ETH Zurich کے محقیقن اور ان کے ساتھیوں کی 2025 میں شائع ہونے والی تحقیق نے 2023ء کے ریکارڈ گرم سمندروں کا جائزہ لیا۔ محققین نے بتایا کہ سمندروں نے اس سال توقع کے مقابلے میں 10 فیصد کم کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کی جس سے بعض علاقوں میں سمندر سے فضا کی طرف کاربن ڈائی آکسائیڈکے اخراج میں اضافہ ہوا۔گرم سمندر کاربن جذب کرنے کی صلاحیت کیوں کھو سکتے ہیں؟سمندر انسانی پیدا کردہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کے خلاف قدرت کا ایک اہم دفاع ہیں۔ فضا میں موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ کا ایک حصہ سمندر جذب کر لیتا ہے لیکن گرم پانی ٹھنڈے پانی کے مقابلے میں گیسوں خصوصاً کاربن ڈائی آکسائیڈ کو کم مقدار میں اپنے اندر حل کر سکتا ہے۔یہ عمل ایک خطرناک موسمیاتی ری ایکشن پیدا کر سکتا ہے۔ اگر سمندر کم کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کریں تو فضا میں زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ رہ جائے گی جس س سے گرین ہاؤس اثر مزید مضبوط ہوگا۔ عالمی درجہ حرارت بڑھے گا اور سمندر مزید گرم ہو سکتے ہیں۔ یوں ایک ایسا چکر شروع ہو گا جو موسمیاتی تبدیلی کو مزید پیچیدہ بنا دے گا۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ 2023ء میں گرم سمندری سطح کے باوجود بعض قدرتی عوامل نے کاربن جذب کرنے کی صلاحیت میں کمی کے اثر کو کسی حد تک متوازن کیا تاہم محققین نے خبردار کیا کہ طویل مدتی حدت یا اس سے بھی زیادہ شدید سمندری درجہ حرارت کے واقعات میں لازمی نہیں کہ یہ قدرتی مزاحمت برقرار رہے۔مرجانی چٹانیں اور سمندری حیات کو بڑا خطرہسمندری گرمی کا ایک نمایاں اثرCoral reefsیعنی مرجانی چٹانوں پر پڑتا ہے۔ مرجان نسبتاً محدود درجہ حرارت کی حدود میں بہتر طور پر زندہ رہتے ہیں۔ جب پانی غیر معمولی حد تک گرم ہوتا ہے تو مرجان سفید پڑنے لگتے ہیں جسے کورل بلیچنگ کہا جاتا ہے۔ مرجانی چٹانیں ہزاروں سمندری جانداروں کو خوراک، پناہ اور افزائش کی جگہ فراہم کرتی ہیں اور ساحلی علاقوں کو لہروں سے تحفظ بھی دیتی ہیں۔ کیا کرنا چاہیے؟سائنسدانوں کے نزدیک سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ سمندر اس سال کتنا گرم ہوگا بلکہ یہ ہے کہ یہ گرمی مستقبل میں کتنی بار اور کتنی شدت سے واپس آئے گی؟میرین ہیٹ ویو گزشتہ دو دہائیوں میں تقریباً تمام سمندروں اور سمندری خطوں میں حیاتیاتی، ماحولیاتی اور معاشی تبدیلیوں کا سبب بنی ہیں۔ ان کے اثرات میں مچھلیوں کا نقصان، کورل ریفس کو نقصان اور بعض بڑے سمندری جانوروں کی اموات شامل ہیں۔ محققین کے مطابق طویل مدت میں ان خطرات کا بنیادی حل گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی ہے۔دنیا کو ایک طرف فوسل فیول کے استعمال اور گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں تیزی سے کمی لانا ہوگی جبکہ دوسری طرف سمندری محفوظ علاقوں، پائیدار ماہی گیری،مرجان کی بحالی اور سمندری مانیٹرنگ پر سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔سمندروں کا نیا درجہ حرارت ریکارڈ محض ایک عدد نہیں ہوگا یہ اس بات کا اشارہ ہوگا کہ زمین کا وہ قدرتی نظام جو صدیوں سے حرارت اور کاربن کو جذب کرکے انسانی تہذیب کو سہارا دیتا آیا ہے کس حد تک دباؤ میں آ چکا ہے۔ اگر سمندر اپنی حرارت اور کاربن جذب کرنے کی صلاحیت کھونے لگے تو موسمیاتی تبدیلی کی رفتار اور اس کے اثرات دونوں زیادہ خطرناک ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے سمندری حدت کو مستقبل کی ایک وارننگ سمجھنا چاہیے۔ جتنا زیادہ عالمی درجہ حرارت بڑھے گا سمندروں کے لیے ہماری غلطیوں کو برداشت کرنا اتنا ہی مشکل ہوتا جائے گا۔

لفٹ چھوڑیں سیڑھیاں چڑھیں

لفٹ چھوڑیں سیڑھیاں چڑھیں

معمولی سرگرمی ، بڑے فائدے لفٹ استعمال کریں یا سیڑھیاں چڑھیں، بظاہر یہ ایک چھوٹا فیصلہ ہے لیکن ایک نئی سائنسی تحقیق کے مطابق سیڑھیاں چڑھنے جیسی سادہ جسمانی سرگرمی دل کی صحت اور مجموعی زندگی پر نمایاں اثرات ڈال سکتی ہے۔ یونیورسٹی آف ایسٹ اینگلیا اورنارفوک این ناروک یونیورسٹی ہاسپٹل کے محققین کی ایک تحقیق میں چار لاکھ اسی ہزار سے زائد افراد کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا اور نتائج سے معلوم ہوا کہ باقاعدگی سے سیڑھیاں چڑھنے والے افراد میں دل کی بیماری سے موت اور مجموعی طور پر موت کا خطرہ کم تھا۔ یہ تحقیق اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ اس کے لیے کسی مہنگے جم، خصوصی آلات یا روزانہ طویل ورزش کی ضرورت نہیں۔ عام زندگی میں لفٹ کے بجائے سیڑھیوں کا انتخاب جسمانی سرگرمی میں اضافہ کرنے کا ایک آسان طریقہ بن سکتا ہے۔ تحقیق کرنے والی ٹیم نے تقریباً 1900 سٹڈیز کا جائزہ لینے کے بعد نو اعلیٰ معیار کی سٹڈیز کو تجزیے میں شامل کیا۔ ان مطالعات میں مجموعی طور پر 480,479 افراد شامل تھے اور شرکاکی عمریں تقریباً 35 سے 84 سال کے درمیان تھیں۔ ان افراد کو کئی سال تک فالو کیا گیا۔ تحقیق کے سب سے قابلِ توجہ نتائج میں سے ایک یہ تھا کہ جو لوگ باقاعدگی سے سیڑھیاں چڑھتے تھے ان میں سیڑھیاں کم چڑھنے والے افراد کے مقابلے میںcardiovascular disease سے موت کا خطرہ تقریباً 39 فیصد کم پایا گیا۔ اسی طرح کسی بھی وجہ سے موت کا خطرہ تقریباً 24 فیصد کم تھا۔ تحقیق میں یہ بھی دیکھا گیا کہ باقاعدگی سے سیڑھیاں چڑھنے والے افراد میں بعض اہم قلبی بیماریوں، مثلاًہارٹ اٹیک،سٹروک اور ہارٹ فیل ہونے کا خطرہ بھی کم تھا۔ سیڑھیاں اتنی مفید کیوں ہیں؟تحقیق کے مصنفین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ دل کے امراض دنیا بھر میں موت کی ایک بڑی وجہ ہیں۔محققین نے بتایا کہ دل کے امراض دنیا بھر میں اموات کی سب سے بڑی وجہ ہے اور ان کے کیسز کی تعداد میں 1990ء سے 2019ء کے درمیان لگ بھگ دوگنا اضافہ ہوا ہے۔ ان میں سے بہت سے خطرات صحت مند طرزِ زندگی کے ذریعے کم کیے جا سکتے ہیں۔ محقیقین کے مطابق سیڑھیاں چڑھنا روزمرہ زندگی میں جسمانی سرگرمی بڑھانے کا ایک عملی مگر طریقہ ہے، جسے اکثر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ تحقیق کی شریک کار ڈاکٹر سوفی پیڈک کے مطابق سیڑھیاں چڑھنے کی خاص خوبی یہ ہے کہ اسے الگ سے ورزش کا وقت نکالے بغیر گھر، دفتر یا باہر معمول کی زندگی میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مختصر دورانیے کی جسمانی سرگرمی بھی صحت کے لیے فائدہ مند ہو سکتی ہے۔ سیڑھیاں چڑھتے وقت جسم کے کئی بڑے عضلات بیک وقت کام کرتے ہیں اور دل کی دھڑکن تیز ہوتی ہے۔ اس طرح یہ سرگرمی مختصر وقت میں جسم میں نسبتاً زیادہ کارڈیو وسکولر ڈیمانڈ پیدا کرتی ہے۔روزانہ کتنی سیڑھیاں چڑھنی چاہئیں؟اس تحقیق کا ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ بعض مطالعات میں تقریباً چھ فلائٹس یعنی تقریباً 60 سے 70 سیڑھیوں کے برابر روزانہ چڑھنے پر نمایاں فائدہ دیکھا گیا، لیکن محققین نے واضح کیا ہے کہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ ہر شخص کے لیے روزانہ چھ فلائٹس ہی ضروری ہیں۔ تحقیق کا اصل پیغام یہ ہے کہ چھوٹی جسمانی ورزش بھی بے معنی نہیں ہوتی۔ اگر کسی عمارت میں لفٹ اور سیڑھی دونوں موجود ہوں اور صحت اور جسمانی صلاحیت اجازت دے تو سیڑھی کا استعمال روزمرہ ورزش کا ایک آسان ذریعہ بن سکتا ہے۔خاص طور پر ایسے افراد کے لیے جو جم جانے، دوڑنے یا طویل ورزش کے لیے وقت نہیں نکال پاتے۔ سیڑھیاں ان کے لیے قابلِ عمل راستہ فراہم کرتی ہیں۔ دن میں کئی مختصر مواقع پر چند منزلیں چڑھنا بھی مجموعی جسمانی سرگرمی میں شامل ہو سکتا ہے۔یہ تحقیق کیا سبق دیتی ہے؟اس تحقیق کا سب سے اہم سبق شاید یہ ہے کہ صحت مند زندگی کے لیے ہر سرگرمی کا باقاعدہ ورزش کے نام سے ہونا ضروری نہیں۔ صحت کے لیے ہمارے روزمرہ کے چھوٹے فیصلے بھی اہم ہو سکتے ہیں۔ لفٹ کے بجائے سیڑھی، گاڑی کے بجائے کچھ فاصلے تک پیدل چلنا یا مسلسل بیٹھنے کے بجائے درمیان میں اُٹھ کر چلنا،یہ سب مجموعی طور پر جسمانی سرگرمی بڑھانے کے طریقے ہیں۔ یہ تحقیق اس تصور کو تقویت دیتی ہے کہ دل کی صحت بہتر بنانے کے لیے جسمانی سرگرمی کو روزمرہ زندگی کا حصہ بنانا ضروری ہے۔ البتہ دل کی صحت صرف سیڑھیاں چڑھنے سے وابستہ نہیں صحت مند غذا، تمباکو نوشی سے پرہیز، مناسب وزن، بلڈ پریشر،کولیسٹرول اورزیابیطس سے بچنا بھی اہم عوامل ہیں۔ مگر ایک احتیاط بھی ضروری ہے۔ جن افراد کو جوڑوں کی شدید تکلیف ہے یا کوئی اہم طبی مسئلہ ہو ان کے لیے سیڑھیاں چڑھنا مناسب نہ بھی ہو سکتا ہے۔ ایسے افراد کو اپنی جسمانی حالت کے مطابق ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔

آج کا دن

آج کا دن

روآنُوک بستی کا معمہ18 اگست 1590ء کو شمالی امریکہ کی انگریزی نوآبادیاتی تاریخ کا ایک مشہور اور آج تک حل نہ ہونے والا واقعہ پیش آیا۔ انگریز مہم جُو اور روآنُوک بستی کا گورنر جان وائٹ تین سال کی طویل غیر حاضری کے بعد روآنُوک جزیرے پر واپس پہنچا تو وہاں آبادکاروں کا کوئی نشان موجود نہیں تھا۔ اس واقعے نے بعد میں ''گم شدہ روآنُوک بستی‘‘ کے نام سے ایک تاریخی معمے کو جنم دیا۔وائٹ 18 اگست 1590ء کو بستی کے مقام پر پہنچا اور وہاں نہ کوئی انسان ملا نہ کوئی واضح جنگی تباہی کے آثار البتہ ایک درخت پر ''کرو‘‘ اور قلعہ نما حفاظتی دیوار پر ''کروایٹون‘‘ کے الفاظ کندہ تھے۔ مورخین آج تک قطعی طور پر یہ نہیں بتا سکے کہ آبادکاروں کے ساتھ کیا ہوا۔ مریخ کا چاند دریافت18 اگست 1877ء کو امریکی ماہرِ فلکیات آساف ہال نے مریخ کے دوسرے چاند فوبوس کو دریافت کیا۔ یہ دریافت واشنگٹن ڈی سی میں واقع امریکی بحری رصدگاہ میں ہوئی۔ ناسا کے مطابق آساف ہال نے 1877ء میں مریخ کے دونوں چاند دریافت کیے؛ پہلے ڈیموس اور اس کے چند دن بعد فوبوس کو شناخت کیا۔فوبوس مریخ کا سب سے بڑا اور مریخ کے سب سے قریب گردش کرنے والا چاند ہے۔ اس کا مدار مریخ کی سطح سے تقریباًچھ ہزار کلومیٹر بلند ہے اور یہ تقریباً ساڑھے سات گھنٹے میں مریخ کے گرد ایک چکر مکمل کرتا ہے۔ بعد میں خلائی مشنز نے فوبوس اور ڈیموس کا تفصیلی مطالعہ کیا جس سے مریخ کے ماضی، اس کے چاندوں کی ساخت اور ان کے ارتقائی امکانات کو سمجھنے میں مدد ملی۔ کارل جاتھو کی پروازجرمن موجد اور انجینئر کارل جاتھو نے 18 اگست 1903ء کو جرمنی کے شہر ہنوور کے قریب اپنے تیار کردہ موٹر سے چلنے والے طیارے کو اڑانے کا تجربہ کیا۔ بعض روایات کے مطابق جاتھو نے کئی مختصر پروازیں کیں ۔واضح رہے رائٹ برادران نے 17 دسمبر 1903ء کو امریکہ کے علاقے کٹی ہاک میں اپنی مشہور پہلی کامیاب پرواز کی تھی یعنی جاتھو کے مبینہ تجربے کے تقریباً چار ماہ بعدتاہم جاتھو کو دنیا کا پہلا کامیاب ہواباز تسلیم کرنے پر مورخین میں اختلاف ہے۔ ان کی پرواز کے شواہد رائٹ برادران کے مقابلے میں کم واضح اور کم دستاویزی ہیں اسی وجہ سے عام طور پر رائٹ برادران کو پہلی باقاعدہ ہوائی پرواز کا کریڈٹ دیا جاتا ہے تاہم جاتھو کی کوششیں ہوابازی کی ابتدائی ترقی میں قابلِ ذکر ضرور ہیں۔امریکی خواتین کا حقِ رائے دہی 18 اگست 1920ء کو ریاست ٹینیسی نے امریکی آئین کی انیسویں ترمیم کی توثیق کرکے خواتین کے حقِ رائے دہی کی آئینی راہ ہموار کردی۔ ٹینیسی اس ترمیم کی توثیق کرنے والی 36ویں ریاست تھی اور اس وقت آئینی ترمیم کے لیے تین چوتھائی ریاستوں کی منظوری ضروری تھی۔خواتین کو ووٹ کا حق دلانے کی جدوجہد کئی دہائیوں پر محیط تھی۔ خواتین کی منظم حقِ رائے دہی کی تحریک 19ویں صدی کے وسط میں مضبوط ہوئی ۔ 18 اگست1920ء کو ترمیم کی ریاستی توثیق مکمل ہوئی جبکہ اسے امریکی آئین کا باقاعدہ حصہ قرار دینے کی وفاقی تصدیق 26 اگست کو وزیر خارجہ بین برج کولبی نے کی۔اس واقعے نے امریکی جمہوریت میں خواتین کی سیاسی شرکت کو آئینی بنیاد فراہم کی اور خواتین کے لیے قومی سطح پر سیاسی عمل میں شرکت کا راستہ کھولا۔ انڈونیشیا ، آئین کی منظوری 18اگست 1945ء کو انڈونیشیا کا آئین منظور کیا گیا، اس طرح آزادی کے اعلان کے فوراً بعد ملک کو ایک باقاعدہ سیاسی قیادت فراہم ہوگئی اور ایک قومی کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا تاکہ پارلیمانی اداروں کے باقاعدہ قیام تک صدر اور نائب صدر کے کام میں معاونت کی جا سکے۔ انڈونیشیا کے بنیادی ریاستی اصول جنہیں پنچ سیلا کہا جاتا ہے کی حتمی آئینی صورت بھی اسی مرحلے میں سامنے آئی۔ پنچ سیلا کی تشکیل طویل سیاسی اور فکری عمل کا نتیجہ تھی جس کی حتمی صورت 18 اگست 1945ء کو طے ہوئی۔یوں 18 اگست 1945ء محض آزادی کے اگلے دن کا ایک اجلاس نہیں تھا بلکہ نئی انڈونیشی ریاست کو عملی حکومتی شکل دینے کا بنیادی مرحلہ تھا۔