دھرنا: کیا کھویا, کیا پایا ؟

دھرنا: کیا کھویا, کیا پایا ؟

اسپیشل فیچر

تحریر : محمد عامر خاکوانی کا تجزیہ


جمعہ کی شام اسلام آبادمیں جاری دھرنے کے خوشگوار اختتام نے جہاں ملک بھر کے عوام کی بے چینی اور اضطراب کو دور کر دیا ، وہاںاس غیرمعمولی اہم واقعے نے ہمارے سیاسی اور جمہوری نظام کو بھی کئی نئے سبق دیے ہیں۔ ہماری سیاسی جماعتیں لانگ مارچ اور دھرنے کے ہفتہ بھر کے تجربے سے بہت کچھ سیکھ سکتی ہیں۔پاکستان کے عوام، سیاسی اشرافیہ اور مقتدر قوتوں نے یہ بھی ثابت کر دیا ہے کہ ان میں کم عمر ہونے کے باوجود پختگی اور شعور موجود ہے، مشرق وسطیٰ میں عرب سپرنگ یا عرب بہار کے برعکس یہاں پرزیادہ سمجھداری اور ہوشمندی کے ساتھ معاملات سلجھائے گئے۔ حالات بظاہر بندگلی میں چلے جانے کی نشاندہی دے رہے تھے ، مگر اچانک ہی فریقین نے ہوشمندی کا مظاہرہ کیا اورخوبصورتی سے اس پورے قضیے کو نمٹا دیا۔ اس ایک ہفتے کے دوران مختلف سیاسی قوتوں، انٹیلی جنشیا، میڈیا اورمقتدر قوتوں نے کیا کیا کردار ادا کیا،اس کے نتیجے میں انہیں کیا ملا…، اس پر ایک نظر ڈالتے ہیں: علامہ طاہرالقادری کا کردار آغاز تحریک منہاج القرآن کے سربراہ علامہ طاہرالقادری سے کرتے ہیں۔ علامہ صاحب ایک معروف دینی سکالر اور خطیب ہونے کی شہرت رکھتے ہیں۔وہ اپنے بعض بیانات اور ماضی میں چند ایشوز پرموقف بدلتے رہنے کے باعث متنازع رہے ہیں۔ 80ء کی دہائی میں ان کی بشارتوں کے حوالے سے بیان کئے گئے بعض خواب اوراپنے اوپر قاتلانہ حملے کے دعوے کے حوالے سے لاہور ہائیکورٹ کے ٹریبونل کی رپورٹ ہمیشہ ان کے خلاف استعمال کی جاتی ہے۔پولیٹیکل سائنس کی اصطلاح میں وہ اچھے خاصے بوجھ(Baggage)کے ساتھ سیاست کی وادی خارزار میںسفر کر رہے تھے۔ چند برس قبل وہ جنرل پرویز مشرف کے دور میں اسمبلی کی رکنیت سے استعفا دے کر کینیڈا چلے گئے تھے، اس وقت کہا گیا کہ وہ اپنا زیادہ وقت علمی وتدریسی مشاغل کو دینا چاہتے ہیں۔ تین چار سال پہلے انہیں وہاں کی نیشنلٹی بھی مل گئی۔اس دوران علامہ صاحب سیاست سے قدرے دور رہے ،مگر ان کے پاکستان میں رابطے مسلسل قائم رہے، منہاج القرآن کا بڑا تعلیمی نیٹ ورک پچھلے چند برسوں میں بہت زیادہ بڑھا، یہ سب علامہ صاحب کی نگرانی میں ہوا۔ اس دوران ان کی تحریر کردہ کئی کتب بھی شائع ہوئیں، جن میں ترجمہ قرآن ’’عرفان القرآن‘‘، احادیث کا مجموعہ اور خودکش حملوں کے خلاف کئی سو صفحوں پر محیط ایک مبسوط فتویٰ قابل ذکر ہے۔ پاکستانی میڈیا لانگ مارچ کے دنوں میںقادری صاحب سے بار بار یہ کہتا رہا کہ آپ اچانک کیسے آ گئے؟ دراصل یہ ہمارے تجزیہ کاروں اور نیوز اینکرز کی روایتی لاعلمی اوربے خبری تھی۔ سیاست کو باریک بینی سے مانیٹر کرنے والے جانتے تھے کہ طاہرالقادری صاحب بتدریج سیاسی اعتبار سے فعال ہو رہے ہیں۔ سال ڈیڑھ پہلے سے لاہور کے بعض موٹر رکشوں کے پیچھے قادری صاحب کا یہ نعرہ نمودار ہوا،چہرے نہیں، نظام بدلو۔ نظام بدلو کے نام سے ایک ویب سائیٹ بھی بنا دی گئی تھی۔اس کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر قادری صاحب کے حامی اچانک ہی بہت متحرک ہوگئے تھے۔ نظام بدلنے اور قومی سیاست میں جوہری تبدیلیاں لانے کے حوالے سے قادری صاحب کی تقاریر کے ویڈیو کلپس اور تحریریں فیس بک پیجز پر لگائی جانے لگیں۔ رفتہ رفتہ یہ عمل بڑا تیز ہوگیا ۔ اس وقت بھی سوشل میڈیا پر دو تین سب سے متحرک گروپوں میں سے ایک تحریک منہاج القرآن ہے۔ تئیس دسمبر کے جلسے سے چار پانچ ماہ پہلے قادری صاحب نے لاہور کے تھنک ٹینک کونسل آف نیشنل افئیرز کے صحافیوں اور دانشوروں کو منہاج مرکز میں دعوت دی اور ویڈیو کانفرنس کے ذریعے انہیں بریفنگ دی، سوال جواب کا سیشن بھی ہوا۔ اس میں قادری صاحب نے بتایا کہ وہ پاکستان واپس آ رہے ہیں اور ایک بڑا جلسہ کریں گے۔ تاہم اخبار نویسوں نے قادری صاحب کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا۔پھر تئیس دسمبر کے جلسے کے لئے کمپین شروع ہوگئی، دسمبر کے اوائل میں میڈیا کو احساس ہوا کہ قادری صاحب کے حامی جس محنت سے مہم چلا رہے ہیں، وہ بڑا جلسہ کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ پھر ایسا ہی ہوا۔ قادری صاحب نے پہلے اپنے جلسے ، لانگ مارچ اور پھر چار پانچ دن کے دھرنے کے بعد اپنا امیج تبدیل کر لیا۔ ایک غیر اہم، مبالغہ آمیز تقاریر کرنے والے خطیب کے بجائے اب انہیں ایک اہم ، عوامی مقبولیت رکھنے والا طاقتور سیاستدان تصور کیا جائے گا۔ آئندہ میڈیا یا کوئی سیاسی جماعت انہیں Easy نہیں لے گی۔ ان کے کسی دعوے یا اعلان کو نظرانداز کرنا اب ممکن نہیں۔ بڑی مہارت اور دانشمندی سے انہوں نے اپنے پتے کھیلے اور اسلام آباد کے قلب میں پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔انہوں نے اپنے سیاسی حریفوں کو ایک طرح سے آئوٹ کلاس کر دیا۔ان کا اعتماد بھی دیدنی تھا، چودھری برادران کے پیچھے ہٹنے اور عین وقت پر ایم کیو ایم کے دغا دے جانے کے باوجود وہ اپنے پروگرام سے پیچھے نہیں ہٹے اور کامیابی حاصل کر لی۔ وہ ایک ایسے سیاستدان کے طور پر ابھرے ہیں، جن کی اب ہمارے سیاسی منظرنامے میں ایک خاص جگہ اور مستقبل ہے۔انہوں نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ وہ لاکھوں افراد کے لئے ایک روحانی رہنما کی حیثیت بھی رکھتے ہیں، ایسا لیڈر جس کے کہنے پر لوگ اپنے معصوم شیر خوار بچے ساتھ لے کر میدان میں کود سکتے ہیں۔ایک زمانے میں پیر پگارا کے حروں کو یہ حیثیت حاصل تھی۔ تحریک منہاج القرآن کا تاثر ایک خالصتاً علمی اور دعوتی تحریک کا تھا، اب اس نے یہ بھی ثابت کر دیا کہ ان کے پاس انتہائی منظم اور مشکل ترین حالات میں ڈسپلن قائم رکھنے والے کارکن موجود ہیں۔ ایسے کارکن جن پر کسی قسم کے پروپیگنڈہ کا کوئی اثر نہیںاور وہ رہنمائی کے لئے اپنے قائد کی جانب ہی دیکھتے ہیں۔ دھرنے کے سبق قادری صاحب کو بھی یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ خطابت اپنی جگہ ،مگر مطالبے وہی مانے جاتے ہیں جو حقیقت پسندانہ ہوں اور جن کی وسیع پیمانے پر پزیرائی ہوسکے۔انہوں نے اسلام آباد پہنچنے کے بعد شروع میںغیر حقیقی مطالبے کئے، حکومت اور وزرا کو سابق اور پارلیمنٹ کی تحلیل اورالیکشن کمیشن کی فوری تشکیل نو کا کہا۔ یہ مطالبے مانے جانے والے نہیں تھے ، شائد وہ دبائو بڑھانے کے لئے ایسا کر رہے تھے ، مگر ان کا زیادہ مثبت اثر نہیں ہوا۔ بعد میںانہوں نے دانشمندی سے اپنے پرانے اور حقیقی نکات پر توجہ دی اور کم وبیش تمام مطالبے منوا لئے۔ اگلے روز اگرچہ میڈیا کے ایک حصے نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ قادری صاحب کے مطالبے نہ مانے گئے ، مگرحقیقت اس کے برعکس تھی۔ علامہ طاہرالقادری کا اصل مطالبہ آئین کے آرٹیکل باسٹھ ، تریسٹھ کے امیدواروں پر اطلاق، سکروٹنی کی مدت میں توسیع اور عوامی نمائندگی ایکٹ کی شق 77تا 82 میں تبدیلی لانا تھا۔ الیکشن کمیشن کے اختیارات میں اضافہ کامطالبہ بھی اس وجہ سے تھا۔ یہ تمام باتیں مانی گئی ہیں، نگران وزیراعظم کے لئے بھی انہیں ایک سٹیک ہولڈر کے طور پر مان لیا گیا ہے۔ اگر اس معاہدے پر عمل درآمد ہوا تو بڑی حد تک بدنام اور کرپٹ امیدواروں کا صفایا ہوجائے گا۔اس لحاظ سے بڑی کامیابی کہی جا سکتی ہے۔تحریک منہاج القرآن کو یقیناً یہ اندازہ ہو گیا ہو گا کہ دھرنے کے آخری روز بارش کے باعث ان کے لئے آپشنز محدود ہوگئی تھیں، اس سے پہلے بعض اپوزیشن جماعتوں نے میاں نواز شریف کی قیادت میں مشترکہ اعلامیہ جا ری کر کے قادری صاحب اور ان کے حامیوں کو سیاسی طور پر تنہا کر دیا تھا۔ یوں لگ رہا تھا کہ وہ بند گلی میں چلے گئے ہیں، اگر حکومت دانشمندی سے کام نہ لیتی ، مذاکرات نہ کرتی اور محفوظ راستہ نہ دیتی توصورتحال خاصی مشکل ہو گئی تھی۔ سیاست میں واپسی کے راستے کھلے رکھنے چاہیں، قادری صاحب نے ایسا نہیں کیا، وہ انتہا پر چلے گئے تھے۔ تیونس، مصر اور یمن وغیر ہ میں عرب سپرنگ کی کامیابی کی ایک وجہ ان ممالک کے دارالحکومت کی خاص پوزیشن تھی۔ مصر میں تحریر اسکوائر پر جمع ہونے والے لاکھوں افراد قاہرہ کے رہائشی تھے، اگرچہ دوسرے شہروں سے بھی لوگ آئے ،مگر بنیادی طور پر وہ مظاہرے ان شہروں کے اپنی آبادی نے کئے تھے۔ یہی تیونس اور یمن میں ہوا۔ لیبیا اور شام میں صورتحال مختلف تھی، وہاں دارالحکومت میں اپوزیشن کی گرفت مضبوط نہیں تھی، اس لئے ان مظاہروں کا اس طرح اثر نہ ہوسکا۔ کوئٹہ میں ہزارہ کمیونٹی کا دھرنا بھی وہاں کے مقامی آبادی کا اجتماع تھا، جن کے لئے گھروں سے ساز وسامان لانا بھی آسان تھا اور لوگ اپنی پوزیشنیں بھی بدل سکتے تھے۔ ایک دو راتوں کے بعد ضرورت پڑنے پر چند گھنٹوں کے لئے اپنے گھروں میں سستایا جا سکتا تھا۔ قادری صاحب کے لانگ مارچ میں ایسی کوئی سہولت موجود نہیں تھی۔ اس کا تمام تر دارومدار شرکا کے عزم وایثار پر تھا۔ اگر چہ قادری صاحب خوش قسمتی سے اس بار کامیاب ہوئے ،مگر شرکا کا اس قدر سخت امتحان لینا رسک ہوتا ہے، اگر ایسی بارش دو دن پہلے ہوجاتی ، تب کیا ہوتا؟اس وقت تک تو دھرنے کا ٹیمپو بھی نہیں بنا تھا۔ حکومتی اتحادکی سیاسی کامیابی پیپلز پارٹی کی حکومت پر بہت سے حوالوں سے سخت تنقید کی جاتی ہے، جو یکسر بے وزن بھی نہیں، ایک بات مگر اس نے یہ ثابت کر دی ہے کہ وہ ایک سیاسی جماعت ہے اور سیاسی انداز سے سوچتی ہے۔ ایک وقت میں وفاقی حکومت سخت مشکلات کا شکار تھی، پنجاب حکومت لانگ مارچ کو پنڈی پہنچا کر سکون سے تماشا دیکھ رہی تھی،تمام تر دبائو مرکز پر تھا۔ اس مشکل وقت میں پیپلز پارٹی نے اپنے اتحادیوں کو ساتھ ملایا اوراعلیٰ سطحی وفد کے ذریعے مذاکرات کئے ،یوں ڈیڈلاک بھی ختم کیا اوراس معاہدے پر عمل درآمد کرا کر وہ الیکشن کے عمل کا شفاف بنانے کا کریڈٹ بھی لے سکتی ہے۔ پیپلز پارٹی نے اپنے سخت گیر سوچ رکھنے والوں کو سائیڈ پر کیا اور اس کے ثمرات بھی انہیں مل گئے۔ اگر خدانخواستہ تصادم ہوجاتا تو اس کے خوفناک نتائج نکلتے۔ لال مسجد کے سانحے کے اثرات سے ہم ابھی تک نہیں نکل سکے، ملک کسی اور ہولناک واقعہ کا متحمل نہیں ہوسکتا۔پیپلز پارٹی کا اصل امتحان لانگ مارچ ڈیکلئریشن پر عمل کرانا ہے۔ انہیں یہ سمجھنا ہوگا کہ صرف منہاج القرآن ہی نہیں بلکہ ملک بھر میں انتخابی اصلاحات کی خواہش موجود ہے۔ یہ اچھا موقعہ ہے کہ ہمارے سیاستدان جمہوری نظام کی تطہیر کریں، اس سے جمہوریت دشمن قوتوں کو شدید حوصلہ شکنی ہوگی۔ میڈیا اور تجزیہ کار اب یہ مان لینا چاہیے کہ میڈیا اور ہمارے تجزیہ کاروں نے علامہ طاہرالقادری کو انڈر اسٹیمیٹ کیا۔ وہ علامہ صاحب کے شخصی اثر اور قوت کا اندازہ نہ لگا سکے۔ میڈیا کے بیشتر حصے کو یقین تھا کہ لانگ مارچ ہو ہی نہیں سکے گا۔دھرنے کے دوران بھی کوریج کرتے ہوئے انہیں شرکا ء کے موڈکا اندازہ نہیں ہوسکا۔ کئی اینکر خواتین چیختی رہیں کہ آپ لوگوں کو سردی کیوں نہیں لگ رہی، بچے بیمار ہوجائیں گے وغیرہ وغیرہ۔ انہیںسمجھنا چاہیے تھا کہ لوگ کسی جذبے اور کمٹمنٹ کے ساتھ ہی یہاں تک آئے ہیں اور یہ یوں واپس نہیں جائیں گے۔ ہمارے اہل دانش اور تجزیہ کاروں نے سب سے اہم غلطی یہ کی کہ انہوں نے طاہرالقادری کی شخصیت کو بے رحمی سے نشانہ بنایا ،مگر ان کے ایجنڈے کو نظر انداز کر گئے۔ انہیں یہ ادراک نہ ہوسکا کہ انتخابی اصلاحات کرنا اور تبدیلی لانے کے ایجنڈے کی عوام میں زبردست کشش موجود ہے۔ قادری صاحب نے اس خلا میں قدم رکھا ،جو ہماری دوسری سیاسی جماعتیں پر کرنے میں ناکام رہیں۔ جیسا کہ شرکا کے انٹرویوز سے ظاہر بھی ہوا کہ ان میں تمام لوگ منہاج القرآن کے نہیں تھے، بہت سے لوگوں نے بتایا کہ وہ عمران خان کے ووٹر ہیں، بعض دوسری جماعتوں کے حامی بھی تھے۔ ایجنڈے پر زیادہ بات ہونا چاہیے تھی، وہ نہ ہوسکی اور تمسخر،پیروڈی،طنز وتشنیع ہمارے میڈیا پر حاوی رہے۔ یہی وجہ ہے کہ جمعہ کو دھرنے کی کامیابی کے بعد بہت سے اینکروں اور تجزیہ کاروں کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا ردعمل دیں۔ جن باتوں کا وہ مذاق اڑاتے رہے، وہ تقریباً سب مان لی گئیں۔ جہاں تک اسمبلیوں کی تحلیل اور الیکشن کمیشن کی فوری تشکیل کی بات تھی، یہ دبائو بڑھانے کا حربہ تھا، حقیقی مطالبہ نہیں تھا۔میڈیا اور انٹیلی جنشیا کو آنے والے دنوں میں زیادہ محتاط اور باریک بین ہونا پڑے گا۔ الیکشن میں اصلاحات کے عمل پر بھی نظر رکھنے کی ضرورت پڑے گی۔ مسلم لیگ ن مسلم لیگ ن نے بظاہر بڑی عقل مندی اور ہوشیاری سے چالیں چلیں۔ انہوں نے لانگ مارچ کو روکنے کی کوئی کوشش نہیں کی کہ اس کا رخ اسلام آباد کی جانب تھا۔ جب انہوں نے محسوس کیا کہ دھرنے میں خاصے لو گ آگئے ہیں اور یہ اجتماع خطرناک ثابت ہوسکتا ہے تووہ متحرک ہوئے۔ میاں صاحب نے کمال مہارت سے کئی اہم جماعتوںسے رابطے کئے۔ بلوچستان سے اچکزئی صاحب اور حاصل بزنجو کے ساتھ ساتھ مولانا فضل الرحمن اورجماعت اسلامی کو ساتھ ملا لینا ان کی بڑی کامیابی تھی۔ انہوں نے اپنے مشترکہ اعلامیہ سے علامہ طاہرالقادری کو بالکل تنہا کر دیا۔ یہ جمہوریت کے لئے اچھا شگون تھا کہ ہماری سیاسی جماعتیں ہر قسم کی تبدیلی کے لئے انتخابات کی جانب ہی دیکھنے لگی ہیں۔ میاں صاحب نے دانستہ یا نا دانستہ ایک بڑی غلطی یہ کی کہ انہوں نے قادری صاحب کو محفوظ راستہ نہیں دیا۔اے پی سی کے شرکا میں سے کسی نے یہ نہیں سوچا کہ اسلام آباد میںکئی روز سے ہزاروں افراد کا دھرنا جاری ہے۔دھرنے کے شرکا اور ان کے لیڈر قادری صاحب اتنا آگے جا چکے ہیں کہ ان کے لئے کچھ حاصل کئے بغیر واپس لوٹنا شرمندگی کے مترادف ہے۔ انہیں محفوظ راستہ دینا (Face saving)دینا ضروری تھا۔ دوسری صورت میں شرکاء فرسٹریٹ ہو کر تصادم کی طرف جا سکتے تھے، ایسا ہو جاتا تو پھر کچھ بھی نہ بچ پاتا۔ جس طرح کا اعلیٰ سطحی وفد حکومت نے مذاکرات کے لئے بھیجا، ویسا کام پہلے نواز شریف صاحب بھی کر سکتے تھے۔ اگر ایسا کرتے تو وہ محاورے کے مطابق میلہ لوٹ لیتے۔ انہوں نے ایسا نہیں کیا، شائد وہ اپنی مخالف وفاقی حکومت کو ٹف ٹائم دینا چاہتے تھے، مگر اختتام میں اس کا تمام تر نقصان انہیں ہی ہوا۔ ٹی وی چینلز پر ن لیگ کے رہنمائوں کی تلخی دیکھ کر انہیں پہنچنے والے دھچکے کی شدت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ ؟ ہمارے اہل دانش اور تجزیہ کاروں کو ہر ایشو میں اسٹیبلشمنٹ کا کردار دیکھنے کا رویہ بھی بدلنا ہوگا۔ یوں لگتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کا آسیب ان کی دانش کے گرد لپٹ گیا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کے حوالے سے ویسے بھی دو تین باتیں سمجھنی چاہیں۔ دنیا بھر میں اسٹیبلشمنٹ ہمیشہ پر و’’ سٹیٹس کو‘‘ ہوتی ہے۔ نظام بدلنے یا تبدیلی لانے کا نعرہ کبھی انہیں راس نہیں ہوتا۔ ایسا نعرہ لگانے والوں کو ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ قادری صاحب والے معاملے کو زیادہ غور سے دیکھنا چاہیے تھا۔ اگر اس میں اسٹیبلشمنٹ شامل ہوتی تو معروف اسٹیبلشمنٹ نواز جماعتیں اس سے دور نہ رہتیں اور وعدہ کر کے واپس نہ چلی جاتیں۔ جو مارچ یا دھرنا اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر کیا جاتا ہے ، اس کے تیور ہی الگ ہوتے ہیں، اس کے شرکا شروع ہی سے ڈنڈے لے کر چلتے ہیں اور تباہی ان کا مشن ہوتی ہے۔ ایسے جلوسوں میں لوگ خود اپنی خوشی سے اپنی بیویوں، بہنوں اور شیر خوار بچوں کو نہیں لاتے۔ پیسے خواہ جتنے ملیں، اولاد آدمی کو اپنی جان سے بھی زیادہ پیاری ہوتی ہے۔ اس دھرنے کے پرامن اختتام نے یہ ثابت کر دیا کہ اسٹیبلشمنٹ کی رٹ لگانے والے تجزیہ کاروں نے ٹھوکر کھائی، اصولاً تو انہیں اپنے قارئین اور ناظرین سے معذرت کرنی چاہیے، مگرافسوس کہ ہمارے ہاں ایسی اچھی روایتیں موجود نہیں۔ ویسے اس حوالے سے فورسز کا رویہ مثبت رہا۔ کورکمانڈرز کانفرنس کو بعض حلقوں نے معنی خیز نظروں سے دیکھا ،مگر آئی ایس پی آر نے بروقت وضاحت کر دی۔ ہماری مقتدرہ قوتوں کو یہ یاد رکھناچاہیے کہ سیاست صرف سیاستدانوں کے کھیلنے کا میدان ہے۔ عسکری قوتوںکو اپنے پروفیشنل فرائض ہی انجام دینے چاہیں۔ ایسا کرنا ہی ان کے وقاراور عزت میں اضافہ کرے گا۔ اس دھرنے کا پرامن انجام یہ ثابت کرتا ہے کہ ملک میں جمہوریت پنپ رہی ہے اورہمارا بظاہر کمزور جمہوری سسٹم اس قسم کے بڑے دھچکوں کو برداشت کرنے کی سکت اور قوت رکھتا ہے۔اس سے ہمارے سیاستدانوں اور جمہوری قوتوں نے خاصا کچھ سیکھا ہوگا۔ تحریک انصاف عمران خان اور ان کے بعض حامیوں کو ممکن ہے اب اندازہ ہو رہا ہو کہ انہوں نے ملنے والے ایک بڑے موقع سے فائدہ نہیں اٹھایا۔ تحریک انصاف میں لانگ مارچ کے حمایت میں ایک مضبوط لابی موجود تھی،ان کے کئی اہم سیاسی لیڈروں کا خیال تھا کہ ہمیں قادری صاحب کے ساتھ شامل ہونا چاہیے، ان کی جماعت کا سیاسی نیٹ ورک موجود نہیں ،ا س لئے سیاسی کامیابی کے تمام تر ثمرات تحریک انصاف کو پہنچیں گے۔ اس لابی کی بات نہیں مانی گئی، عمران خان اور ان کے بعض غیر سیاسی مگر پارٹی کے لئے تھنک ٹینک کا درجہ رکھنے والے لوگوں کی بات مانی گئی۔ تاہم عمران خان نے لانگ مارچ اور دھرنے پر تنقید بالکل نہیں کی، وہ اسے بڑی احیتاط سے دیکھتے رہے، جائزہ لیتے رہے ،مگر شامل نہیں ہوئے۔ ممکن ہے انہیں خطرہ ہو کہ یہ دھرنا کسی اور جانب جا سکتا ہے۔ انہوں نے اپنی تمام تر توجہ انتخابات کی جانب مبذول کی اور اس حوالے سے دبائو بڑھانے کی کوشش کی ،مگر تحریک انصاف کے بہت سے نوجوان کارکنوں کو اب یقیناً مایوسی ہو رہی ہوگی۔پی ٹی آئی نے اس معاملے میں اگرچہ کھویا بھی زیادہ نہیں۔ ان کے لئے انتخابات کے حوالے سے قادری صاحب کے ساتھ ہاتھ ملانے کی آپشن موجود ہے۔دیکھنا یہ ہے کہ تحریک انصاف آنے والے دنوں میں کیسے پتے چلتی ہے؟

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
عالمی یومِ خواندگی

عالمی یومِ خواندگی

پاکستان میں تعلیم کی روشنی کہاں تک؟ہر سال 8 ستمبر کو عالمی یومِ خواندگی (International Literacy Day) منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد دنیا کو یہ یاد دلانا ہے کہ پڑھنے لکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت محض ایک تعلیمی ہنر نہیں بلکہ ایک بنیادی انسانی حق ہے۔ یونیسکو کے مطابق خواندگی انسان کو اپنے حقوق سمجھنے، بہتر فیصلے کرنے، معاشی مواقع حاصل کرنے اور معاشرے میں مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل بناتی ہے۔ عالمی یومِ خواندگی کا آغاز 1967ء میں ہوا اور رواں سال اس دن کی 60ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔اس سال دنیا بھر میں خواندگی کو بدلتے ہوئے ڈیجیٹل دور کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت کو بھی اجاگر کیا جا رہا ہے۔ آج صرف حروف پڑھ لینا کافی نہیں بلکہ انسان کے لیے معلومات کو سمجھنا، درست اور غلط خبر میں فرق کرنا، ڈیجیٹل ذرائع کا ذمہ دارانہ استعمال اور بنیادی حساب کتاب جاننا بھی ضروری ہو چکا ہے۔ پاکستان میں خواندگی کی صورتحالپاکستان کے لیے عالمی یومِ خواندگی محض ایک رسمی دن نہیں بلکہ ایک اہم قومی یاد دہانی ہے۔ ملک نے گزشتہ برسوں میں خواندگی کے میدان میں کچھ پیش رفت ضرور کی ہے تاہم مجموعی صورتحال اب بھی حالات تشویش کا باعث ہیں۔پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس کی رپورٹ کے مطابق 10 سال یا اس سے زیادہ عمر کی آبادی میں پاکستان کی شرحِ خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ مردوں میں شرحِ خواندگی 73 فیصد جبکہ خواتین میں 54 فیصد ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ تعلیمی مواقع میں صنفی فرق اب بھی واضح ہے۔شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان بھی نمایاں فرق موجود ہے۔ شہری علاقوں میں شرحِ خواندگی 74 فیصد جبکہ دیہی علاقوں میں 55 فیصد ہے۔ خواتین کے معاملے میں یہ فرق مزید نمایاں ہو جاتا ہے۔ شہری خواتین میں خواندگی 68 فیصد ہے جبکہ دیہی خواتین میں یہ شرح تقریباً 44 فیصد ہے۔صوبائی سطح پر بھی صورتحال یکساں نہیں۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق پنجاب تقریباً 68 فیصد شرحِ خواندگی کے ساتھ سب سے آگے ہے، سندھ اور خیبر پختونخوا تقریباً 58 فیصد کے قریب ہیں جبکہ بلوچستان تقریباً 49 فیصد کے ساتھ سب سے پیچھے ہے۔لڑکیوں کی تعلیم اور دیہی علاقوں کے چیلنجزپاکستان میں خواندگی کے فروغ کی سب سے بڑی ضرورت دیہی علاقوں اور خصوصاً لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے محسوس ہوتی ہے۔ غربت، سکولوں کا دور ہونا، محفوظ سفری سہولیات کی کمی، اساتذہ کی کمی، کمزور تعلیمی انفراسٹرکچر اور بعض علاقوں میں سماجی رکاوٹیں بچوں کو تعلیم سے دور رکھنے کی اہم وجوہات ہیں۔لڑکیوں کی تعلیم پر توجہ دینا صرف صنفی مساوات کا معاملہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کی ترقی کا مسئلہ ہے۔ ایک تعلیم یافتہ ماں اپنے بچوں کی صحت، صفائی، تعلیم اور مستقبل کے بارے میں زیادہ بہتر فیصلے کر سکتی ہے اس لیے خواتین کی خواندگی میں اضافہ اگلی نسل کی تعلیم پر بھی براہِ راست اثر انداز ہوتا ہے۔پاکستان میں سکول سے باہر بچوں کی تعداد بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ اکنامک سروے 2025-26 ء کے مطابق پانچ سے 16 سال کی عمر کے سکول سے باہر بچوں کا تناسب 2023 ء کے 38 فیصد سے کم ہو کر 2025ء میں 28 فیصد رہ گیا۔تاہم یہ صورتحال اب بھی تشویش کا باعث ہے کہ ملک میں مجموعی طور پر ڈھائی کروڑ بچے اب بھی سکولوں سے باہر ہیں اور اس حوالے سے عالمی سطح پر پاکستان دوسرے نمبر پر ہے۔اس لیے صرف نئے سکول بنانے، بچوں کو سکول تک لانے، انہیں سکول میں برقرار رکھنے اور معیاری تعلیم فراہم کرنے کا کڑا چیلنج درپیش ہے۔خواندگی کی نئی توجیہاتموجودہ دور میں خواندگی کا تصور روایتی پڑھنے لکھنے سے کہیں آگے بڑھ چکا ہے۔ ایک شخص اگر اپنا نام لکھ سکتا ہے لیکن کسی بینک فارم، دوا کی ہدایت، سرکاری دستاویز یا آن لائن معلومات کو سمجھنے سے قاصر ہے تو اس کی عملی خواندگی محدود ہے۔پاکستان جیسے ملک میں صحت، مالیات اور ڈیجیٹل خواندگی پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔ موبائل فون اور انٹرنیٹ کے بڑھتے ہوئے استعمال نے معلومات تک رسائی آسان تو کی ہے لیکن غلط معلومات، جعلی خبروں اور آن لائن فراڈ کے خطرات بھی بڑھا دیے ہیں لہٰذا نئی نسل کو یہ سکھانا بھی ضروری ہے کہ وہ معلومات حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی صحت اور درستگی کو جانچ سکے۔ کیا کرنا ہوگا؟پاکستان میں خواندگی بڑھانے کے لیے سب سے پہلے تعلیم کو قومی ترجیح بنانا ہوگا۔ حکومت کو سرکاری سکولوں کے معیار، اساتذہ کی تربیت، نصاب، بنیادی سہولیات اور سکولوں تک رسائی پر مسلسل سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔دیہی علاقوں میں بالخصوص لڑکیوں کے لیے قریبی سکول، محفوظ ٹرانسپورٹ، وظائف اور والدین کی حوصلہ افزائی مؤثر اقدامات ثابت ہو سکتے ہیں۔ جو بچے کسی وجہ سے رسمی سکول کا حصہ نہیں بن سکے ان کے لیے بالغ خواندگی مراکز، غیر رسمی تعلیم اور کمیونٹی لرننگ پروگراموں کو مضبوط بنانا بھی ضروری ہے۔ عالمی یومِ خواندگی ہمیں یہ سوچنے کا موقع فراہم کرتا ہے کہ پاکستان میں تعلیم کے میدان میں پیش رفت کو تیز کیسے کیا جائے۔ایک ایسا پاکستان جہاں ہر بچہ سکول جائے، ہر نوجوان کو معیاری تعلیم اور ہنر حاصل کرنے کا موقع ملے، ہر عورت پڑھ لکھ سکے اور ہر شہری جدید معلومات کو سمجھ کر اپنے فیصلے کر سکے، صرف ایک تعلیمی خواب نہیں بلکہ مضبوط، خوشحال اور بااختیار معاشرے کی بنیاد ہے۔

زمین کی گہرائیوں کے اسرار

زمین کی گہرائیوں کے اسرار

مصنوعی ذہانت نے اندرونی دنیا کا نیا نقشہ کیسے بنایاہم جس زمین پر رہتے ہیں اس کا بڑا حصہ آج بھی انسان کے لیے ایک راز ہے۔ ہم نے سمندروں کی تہہ، بلند ترین پہاڑوں اور خلا کے دور دراز حصوں تک تحقیق کی ہے لیکن زمین کے اندر چند ہزار کلومیٹر کی گہرائی میں موجود دنیا تک براہِ راست پہنچنا اب بھی ہماری ٹیکنالوجی کی پہنچ سے باہر ہے۔ سائنسدان زمین کے اندرونی حصے کو سمجھنے کے لیے زلزلوں سے پیدا ہونے والی لہروں کا سہارا لیتے ہیں کیونکہ یہ لہریں زمین کے مختلف طبقات سے گزرتے ہوئے اپنے راستے اور رفتار میں تبدیلی پیدا کرتی ہیں۔اب چینی سائنسدانوں کی ایک نئی تحقیق نے زمین کے انتہائی گہرے حصے کے بارے میں اہم معلومات فراہم کی ہیں۔ محققین نے مصنوعی ذہانت اور مشین لرننگ کی مدد سے 1990ء سے 2024ء کے دوران دنیا بھر میں ریکارڈ کیے گئے بیس لاکھ سے زائد زلزلوں کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا۔ اس تجزیے کے دوران تقریباً ایک لاکھ 75 ہزار ایسے انتہائی کمزور زلزلہ سگنلز شناخت کیے گئے جنہیں ''PKP precursors‘‘ کہا جاتا ہے۔ ان سگنلز کی مدد سے زمین کے مینٹل اور کور کے درمیان موجود خطے میں چھ ایسی ممکنہ ساختوں کی نشاندہی ہوئی ہے جنہیں پہلے اس انداز میں دستاویزی شکل نہیں دی گئی تھی۔زمین کے اندر 2,900 کلومیٹر کی گہرائی میں کیا ہو رہا ہے؟زمین کی اندرونی ساخت کئی بڑے حصوں پر مشتمل ہے۔ بیرونی پرت یا کرسٹ، مینٹل، مائع بیرونی کور اور ٹھوس اندرونی کور۔ نئی تحقیق کا مرکز زمین کے مینٹل اور بیرونی کور کے درمیان واقع وہ انتہائی گہرا علاقہ ہے جو سطح سے تقریباً 2900 کلومیٹر نیچے ہے۔یہ وہ مقام ہے جہاں ٹھوس مینٹل کے نیچے انتہائی گرم اور مائع دھاتی بیرونی کور موجود ہے۔ یہاں درجہ حرارت اور دباؤ اس قدر شدید ہوتاہے کہ سطح زمین پر پائی جانے والی چٹانیں ان حالات میں بالکل مختلف خصوصیات اختیار کرسکتی ہیں۔ جب زلزلے کی لہریں ان سے گزرتی ہیں تو ان کی سمت اور رفتارمیں تبدیلی آتی ہے۔ یہ تبدیلیاں محققین کو زمین کے اندر چھپی ساختوں کا سراغ فراہم کرتی ہیں۔مصنوعی ذہانت کا استعمالاس تحقیق کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اتنے بڑے ڈیٹا سیٹ کا تجزیہ روایتی طریقوں سے کرنا انتہائی مشکل تھا۔ PKP precursorsانتہائی کمزور ہوتے ہیں اور انہیں الگ شناخت کرنامحنت طلب کام ہے۔اسی مسئلے کو حل کرنے کے لیے محققین نے مشین لرننگ کا استعمال کیا۔ الگورتھم کو لاکھوں زلزلہ جاتی لہروں کا تجزیہ کرنے کے لیے تربیت دی گئی تاکہ وہ ان انتہائی کمزور سگنلز کو شناخت کرسکے۔ محققین نے مصنوعی ذہانت کے نتائج کی جانچ اور تصحیح بھی کی جس سے نظام کو مزید بہتر بنایا گیا۔نتیجہ حیران کن تھا۔ الگورتھم نے تقریباً 175,000 اعلیٰ معیار کےPKP precursors سگنلز شناخت کیے جو سابقہ مطالعات میں مجموعی طور پر شناخت کیے گئے سگنلز سے تقریباً دس گنا زیادہ ہیں۔ اس وسیع ڈیٹا سے سائنسدان زمین کے نچلے مینٹل اور کور کے قریب موجود غیر معمولی علاقوں کا پہلے سے کہیں زیادہ جامع نقشہ بنانے میں کامیاب ہوئے۔اس نئے نقشے کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ ماضی میں زمین کے اندر موجود یہ غیر معمولی علاقے الگ الگ، چھوٹے ٹکڑوں کی شکل میں دکھائی دیتے تھے۔ نئے ڈیٹا سے اشارہ ملتا ہے کہ ان میں سے بعض ممکنہ طور پر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے وسیع علاقوں یا مسلسل پٹیوں کی شکل اختیار کرسکتے ہیں۔ یہ قدیم براعظموں یا سمندری تہہ کے ٹکڑے ہیں؟محققین کے مطابق یہ ساختیں مختلف ارضیاتی عملوں کا نتیجہ ہوسکتی ہیں۔ ایک اہم امکان زمین کی ٹیکٹونک پلیٹس سے متعلق ہے کہ جب ایک سمندری ٹیکٹونک پلیٹ دوسری پلیٹ کے نیچے دھنس جاتی ہے تو اسے subduction کہا جاتا ہے۔ اس عمل میں سمندری پرت، تلچھٹ اور دیگر مادّہ لاکھوں سال کے دوران زمین کے اندر بہت زیادہ گہرائی تک پہنچ سکتا ہے۔ انتہائی دباؤ اور درجہ حرارت کے باعث یہ مادہ کیمیائی اور معدنیاتی طور پر تبدیل ہوسکتا ہے اور اردگرد کے مینٹل سے مختلف خصوصیات اختیار کرسکتا ہے۔زمین کے اندرونی رازوں کی طرف ایک قدمیہ دریافت اس لیے بھی اہم ہے کہ انسان زمین کے اندر چند ہزار کلومیٹر گہرائی تک براہِ راست مشاہدہ نہیں کرسکتا۔ اس کے باوجود زلزلوں کی لہریں ہمیں ایک طرح کا قدرتی سکین فراہم کرتی ہیں۔ ہر زلزلہ زمین کے اندر سے گزرنے والی بے شمار لہروں کے ذریعے اس کے اندرونی ڈھانچے کے بارے میں معلومات چھوڑ جاتا ہے۔مصنوعی ذہانت نے اب ان بے شمار کمزور سگنلز کو ایک ساتھ سمجھنے کی صلاحیت میں بڑا اضافہ کردیا ہے۔ تقریباًایک لاکھ 75ہزار PKP precursors کی شناخت اور چھ نئے ممکنہ علاقوں کا سامنے آنا اس بات کی مثال ہے کہ بڑے پیمانے پر ڈیٹا اور جدید کمپیوٹنگ زمین کے اربوں سال پرانے رازوں کو سمجھنے میں مدد دے سکتی ہے۔ ان ساختوں کی اصل نوعیت جاننے کے لیے مزید تحقیق ضروری ہے۔ زمین کے اندرونی حصے کا نقشہ جتنا بہتر ہوگا سائنسدان اتنا ہی بہتر انداز میں سمجھ سکیں گے کہ ہمارے سیارے کی موجودہ ساخت کیسے بنی، ٹیکٹونک پلیٹیں کروڑوں سال کے دوران کہاں گئیں، زمین کے مینٹل میں مادہ کس طرح گردش کرتا ہے اور سطح پر نظر آنے والی ارضیاتی سرگرمیوں کے پیچھے کون سے گہرے عوامل کارفرما ہیں۔

آج کا دن

آج کا دن

مائیکل اینجلو کے شاہکار کی رونمائی 8 ستمبر 1504ء کو اٹلی کے شہر فلورنس میں عظیم اطالوی فن کار مائیکل اینجلو کا مشہور مجسمہ ''ڈیوڈ‘‘ پہلی مرتبہ عوام کے سامنے پیش کیا گیا۔ یہ مجسمہ سنگِ مرمر کے ایک ہی بڑے ٹکڑے سے تراشا گیا تھا جسے اس سے پہلے دوسرے فن کار مشکل سمجھ کر چھوڑ چکے تھے۔اصل منصوبہ یہ تھا کہ مجسمے کو فلورنس کے گرجا گھر کی عمارت کے ایک بلند حصے پر دیگر مجسموں کے ساتھ نصب کیا جائے لیکن شہر کے حکام اور فنکاروں پر مشتمل ایک کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ اتنا شاندار مجسمہ ایسی جگہ رکھا جائے جہاں عوام اسے قریب سے دیکھ سکیں؛ چنانچہ اسے فلورنس کے مشہور چوک پیاتسا دَلا سینیوریا میں نصب کیا گیا۔بعد میں اصل مجسمے کو محفوظ رکھنے کے لیے اسے فلورنس کی اکیڈیمیا گیلری میں منتقل کر دیا گیا جبکہ اس کی نقل پیاتسا دَلا سینیوریا میں نصب ہے۔ سینٹ آگسٹین کی بنیاد 8 ستمبر 1565ء کو ہسپانوی مہم جُو پیڈرو مینیندیز دے آویلیس نے موجودہ امریکی ریاست فلوریڈا میں سینٹ آگسٹین شہر کی بنیاد رکھی۔پیڈرو مینیندیز کو سپین کے بادشاہ فلپ دوم نے فلوریڈا میں ہسپانوی مفادات کے تحفظ کی ذمہ داری دی تھی۔ اُس وقت فرانس کے کچھ آباد کار بھی فلوریڈا کے علاقے میں موجود تھے اور انہوں نے وہاں اپنی بستی قائم کر رکھی تھی۔ سپین کو خدشہ تھا کہ فرانسیسی آباد کار شمالی امریکہ کے اس حصے میں مستقل قدم جما سکتے ہیں۔ مینیدیز اپنی مہم کے ساتھ فلوریڈا پہنچا اور 8 ستمبر کو وہاں اترنے کے بعد ایک مذہبی تقریب منعقد کی اور اس موقع پر نئی بستی کی بنیاد رکھی گئی۔ بعد میں یہ علاقہ برطانیہ اور پھر امریکہ کے زیرِ اقتدار آیالیکن سینٹ آگسٹین اپنی تاریخی شناخت برقرار رکھنے میں کامیاب رہا۔ اٹلی کی جنگ بندی8 ستمبر 1943ء دوسری جنگِ عظیم کی تاریخ کا ایک فیصلہ کن دن تھا۔ اسی روز اٹلی اور اتحادی طاقتوں کے درمیان جنگ بندی کا اعلان کیا گیا۔ اٹلی اس سے پہلے جرمنی اور جاپان کے ساتھ محوری طاقتوں کے اتحاد میں شامل تھا لیکن 1943ء میں جنگ کی صورتحال تیزی سے تبدیل ہوگئی۔اتحادی افواج نے جولائی 1943ء میں سسلی پر حملہ کیا۔ اس شکست کے بعد اٹلی میں فاشسٹ حکومت کے خلاف شدید سیاسی دباؤ پیدا ہوا۔ بینیٹو مسولینی کو اقتدار سے ہٹا دیا گیا اور ایک نئی حکومت قائم ہوئی جس نے اتحادی طاقتوں کے ساتھ خفیہ مذاکرات شروع کیے۔3 ستمبر 1943ء کو سسلی کے قصبے کاسیبیلے میں جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط کیے گئے۔ لینن گراڈ کا محاصرہ8 ستمبر 1941ء کو دوسری جنگِ عظیم کے دوران جرمن افواج نے سوویت شہر لینن گراڈ، جسے آج سینٹ پیٹرزبرگ کہا جاتا ہے، کا محاصرہ شروع کیا۔ یہ انسانی تاریخ کے طویل ترین اور انتہائی تباہ کن فوجی محاصروں میں سے ایک تھا۔لینن گراڈ سوویت یونین کا ایک اہم صنعتی، ثقافتی اور سیاسی مرکز تھا۔ محاصرے کے دوران خوراک، ایندھن اور طبی سامان کی شدید قلت پیدا ہوگئی۔ خاص طور پر 1941ء اور 1942ء کی سخت سردیوں میں حالات انتہائی سنگین ہوگئے۔ بہت سے لوگ بھوک، سردی، بیماری اور مسلسل بمباری کے باعث ہلاک ہوئے۔اس کے باوجود شہر نے جرمن افواج کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے۔محاصرہ تقریباً 872 دن جاری رہا اور جنوری 1944ء میں سوویت افواج نے اسے توڑنے میں کامیابی حاصل کی۔ رچرڈ نکسن کو معافی 8 ستمبر 1974ء کو امریکی صدر جیرالڈ فورڈ نے سابق امریکی صدر رچرڈ نکسن کو مکمل اور غیر مشروط صدارتی معافی دے دی۔ یہ واقعہ جدید امریکی سیاسی تاریخ کے انتہائی متنازع واقعات میں شمار ہوتا ہے اور اس کا تعلق واٹرگیٹ سکینڈل سے تھا۔واٹرگیٹ سکینڈل امریکی سیاست کا ایک بڑا بحران تھا۔ اس سکینڈل کے نتیجے میں نکسن پر سیاسی دباؤ مسلسل بڑھتا گیا۔ امریکی کانگریس میں ان کے خلاف مواخذے کی کارروائی آگے بڑھ رہی تھی۔ بالآخر 9 اگست 1974ء کو رچرڈ نکسن نے امریکی صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ ان کے استعفے کے بعد نائب صدر جیرالڈ فورڈ نے صدر کا منصب سنبھال لیا۔

اے آئی کیمرے والا ٹوتھ برش

اے آئی کیمرے والا ٹوتھ برش

ڈائیسن کی جدید پیشرفتدانتوں کی صفائی کیلئے استعمال ہونے والا عام ٹوتھ برش اب مصنوعی ذہانت کی جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ ہو کر ایک اسمارٹ ڈیوائس کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ معروف ٹیکنالوجی کمپنی ڈائیسن نے یہ برش متعارف کرایا ہے، جس میں اے آئی سے لیس کیمرا نصب ہے۔ یہ جدید ٹوتھ برش دانتوں اور مسوڑھوں کی صفائی کا جائزہ لینے کے ساتھ صارف کو بہتر برشنگ کیلئے رہنمائی فراہم کرنے کیلئے تیار کیا گیا ہے۔ تاہم اس کی420 پاؤنڈ قیمت نے اسے عام ٹوتھ برش کے مقابلے میں خاصا مہنگا بنا دیا ہے۔ برطانوی کمپنی ڈائیسن اپنے اعلیٰ معیار کے ویکیوم کلینرز کیلئے مشہور ہے، تاہم گزشتہ کچھ عرصے سے اس نے ذاتی نگہداشت کی مصنوعات کے شعبے میں بھی نمایاں پیش رفت کی ہے۔ کمپنی پہلے ہی ہیئر ڈرائیر، ہیئر اسٹریٹنرز، ہاتھ میں پکڑے جانے والے پنکھے اور ایئر پیوریفائر جیسی مصنوعات مارکیٹ میں پیش کرچکی ہے۔ اب ڈائیسن نے ''کیمرہ جیٹ‘‘ کے ذریعے ڈینٹل مصنوعات کی مارکیٹ میں قدم رکھا ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ دانت صاف کرنے کا ''بالکل نیا طریقہ‘‘ ہے، جس میں دانتوں کی صفائی اور فلاسنگ کے عمل کو ایک ہی ڈیوائس کے ذریعے انجام دینے کی کوشش کی گئی ہے۔اس ٹوتھ برش کی سب سے نمایاں خصوصیت اس میں نصب کیمرا ہے، جو مصنوعی ذہانت کی مدد سے دانتوں کے درمیان موجود انتہائی باریک خلا کی نشاندہی کرتا ہے۔ جیسے ہی ڈیوائس کسی خلا کا سراغ لگاتی ہے، وہاں منہ صاف کرنے والے محلول کی ایک انتہائی باریک دھار پہنچائی جاتی ہے۔ ڈائیسن کا کہنا ہے کہ اس طریقے سے منہ کے ان حصوں کی صفائی بھی ممکن ہوتی ہے جہاں عام برش کی رسائی مشکل ہوتی ہے اور یہ عمل فلاسنگ جیسا کام کرتا ہے۔کمپنی کے مطابق اس ٹوتھ برش کی تیاری میں چھ سال لگے ہیں اور یہ مارکیٹ میں دستیاب معروف پریمیم الیکٹرک ٹوتھ برشز کے مقابلے میں 69 فیصد تک زیادہ پلاک ختم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ڈائیسن کے بانی اور چیف انجینئر سر جیمز ڈائیسن کا کہنا ہے کہ کمپنی کی تحقیق سے معلوم ہوا کہ لوگ عموماً ان مقامات کی صفائی نظرانداز کردیتے ہیں جہاں پلاک زیادہ بنتا ہے، یعنی دانتوں کے درمیان موجود خلا۔ ان کے مطابق کمپنی نے تین بنیادی مسائل حل کرنے کی کوشش کی، دانتوں کے درمیان موجود خلا کو دیکھنا، وہاں سے پلاک ختم کرنا اور برشنگ کے مجموعی عمل کو مزید مؤثر بنانا۔سر جیمز ڈائیسن کے مطابق کیمرے، مشین لرننگ، انتہائی درست سیال ٹیکنالوجی، جدید برشنگ ٹیکنالوجی، کنیکٹیویٹی اور وائی فائی کو یکجا کرکے ڈائیسن کیمرہ جیٹ منہ کی صحت برقرار رکھنے کا ایک بالکل نیا طریقہ پیش کرتا ہے۔تاہم 420 پاؤنڈ کی قیمت نے اس نئی ایجاد کو خاصی مہنگی مصنوعات بنا دیا ہے۔ اس کے علاوہ صارفین کو دو متبادل برش ہیڈز کیلئے مزید 25 پاؤنڈ جبکہ ڈائیسن کے تیار کردہ غیر جھاگ دار ٹوتھ پیسٹ اور ماؤتھ رِنس کیلئے 8.49 پاؤنڈ اضافی ادا کرنا ہوں گے۔اگرچہ بہت سے لوگ ایک ٹوتھ برش پر 420 پاؤنڈ خرچ کرنے سے گریز کرسکتے ہیں، لیکن قیمتوں کے حوالے سے ڈائیسن کی مصنوعات پہلے بھی توجہ کا مرکز بنتی رہی ہیں۔ اس سے قبل کمپنی نے 820 پاؤنڈ مالیت کے ہیڈ فونز بھی متعارف کرائے تھے، جن میں ہوا صاف کرنے کا ایک غیر معمولی نظام نصب کیا گیا تھا۔زیادہ تر دندان ساز روزانہ دانتوں کو فلاس کرنے کی تجویز دیتے ہیں، تاہم تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ عملی طور پر برطانیہ کے صرف 10 فیصد افراد روزانہ فلاسنگ کرتے ہیں۔ فلاسنگ کو آسان بنانے کیلئے ڈائیسن نے اپنا ٹوتھ برش تیار کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس منصوبے کو مکمل کرنے میں 661 انجینئرز کی ٹیم کو چھ سال لگے۔ ٹوتھ برش میں نصب کیمرا مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے دانت صاف کرتے وقت ہر سیکنڈ میں 28 براہِ راست تصاویر اسکین کرتا ہے۔ جیسے ہی دانتوں کے درمیان کسی خلا کی نشاندہی ہوتی ہے، تقریباً فوری طور پر، یعنی صرف 0.1 سیکنڈ کے اندر، ایک مخروطی شکل کی باریک دھار فعال ہوجاتی ہے، جو اس خلا میں ماؤتھ رِنس اسپرے کرتی ہے۔ تاہم ڈائیسن کے مطابق زیادہ تر واٹر فلاسرز میں سوئی نما دھار استعمال ہوتی ہے، جو دانتوں پر جمی ہوئی ضدی پلاک کو مؤثر طریقے سے ہٹانے میں مشکلات کا سامنا کرتی ہے۔کمپنی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ڈائیسن کے تیار کردہ مصنوعی پلاک پر جب اس قسم کی دھار کا تجربہ کیا گیا تو اس نے پلاک میں سوراخ تو کردیا، لیکن اس کی چپچپاہٹ پر قابو پانے اور اسے مکمل طور پر ہٹانے میں ناکام رہی۔اس کے برعکس ڈائیسن کی مخروطی دھار ایک منفرد، وسیع مخروطی شکل کا اسپرے استعمال کرتی ہے۔ اس کا وسیع پھیلاؤ ایک ہی وقت میں زیادہ حصے کو صاف کرتے ہوئے پلاک کو ہٹا دیتا ہے، جبکہ اسے نسبتاً کم دباؤ پر استعمال کرنے کیلئے تیار کیا گیا ہے تاکہ مسوڑھوں اور دانتوں کی بیرونی تہہ (اینامل) پر زیادہ نرمی سے اثر پڑے۔ماؤتھ رِنس ایک خصوصی 'اینٹی گریوٹی ٹینک‘ میں محفوظ رہتا ہے، جو ٹوتھ برش کو کسی بھی زاویے پر رکھنے کے باوجود مسلسل ماؤتھ رِنس کی دھار خارج کرتا رہتا ہے۔ڈائیسن کے مطابق، ''ہمارا اینٹی گریوٹی ٹینک اس انداز میں تیار کیا گیا ہے کہ اس میں ہوا کے خلاکو ختم کیا جاسکے اور ڈیوائس کو خالی فائر کرنے سے روکا جا سکے۔یہ خصوصیت خاص طور پر دانتوں کے پچھلے حصے کی صفائی کے دوران اہم ہے، کیونکہ اس وقت ڈیوائس عموماً افقی پوزیشن میں ہوتی ہے‘‘۔ جب ماؤتھ رِنس کم ہونے لگتا ہے تو ٹوتھ برش کو اس کے ڈاکنگ اسٹیشن پر رکھتے ہی یہ خودکار طور پر دوبارہ بھر جاتا ہے۔ یہی ڈاکنگ اسٹیشن ٹوتھ برش کو چارج کرنے کا کام بھی انجام دیتا ہے۔جہاں تک برش ہیڈ کا تعلق ہے، سر جیمز ڈائیسن نے اس میں دوہری برسلز پر مشتمل ڈیزائن استعمال کیا ہے، جس میں دو مختلف اقسام کے برسلز شامل ہیں۔اندرونی برسلز قدرے سخت ہیں اور دانتوں پر موجود داغ دھبے دور کرنے میں مدد دیتے ہیں، جبکہ بیرونی برسلز نرم رکھے گئے ہیں تاکہ مسوڑھوں پر تکلیف یا خراش پیدا نہ ہو۔ لائیو ویونگ کا آپشن آپ مائی ڈائیسن ایپ کے ذریعے لائیو ویونگ کا آپشن منتخب کرسکتے ہیں، جس سے آپ اپنے منہ کے اندر کی براہِ راست ویڈیو دیکھ سکیں گے۔ ایپ پر صارفین کو رہنمائی کے ساتھ دانتوں کی صفائی، طریقہ استعمال کی ویڈیوز، برشنگ اور فلاسنگ سے متعلق معلومات، صفائی کے احاطے کی نقشہ بندی اور ذاتی نوعیت کی رہنمائی بھی دستیاب ہوگی۔

سڈنی میراتھن 2026ء، ریکارڈز کی بہار

سڈنی میراتھن 2026ء، ریکارڈز کی بہار

''میراتھن کی دنیا کا ساتواں عجوبہ‘‘سڈنی میراتھن 2026ء نے دوڑ کے شائقین کو نہ صرف شاندار کھیل کا نظارہ فراہم کیا بلکہ متعدد نئے ریکارڈز کے باعث تاریخ کا حصہ بھی بن گئی۔ آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں ہونے والی اس عالمی سطح کی دوڑ میں ہزاروں ایتھلیٹس نے شرکت کی، جبکہ ایتھوپیا کے اَدی سو گوبینا نے 2 گھنٹے 4 منٹ 42 سیکنڈ میں دوڑ مکمل کرکے نیا کورس ریکارڈ قائم کیا۔ اس کے ساتھ خواتین کی دوڑ میں کینیا کی پیرس جیپچیرنے کامیابی حاصل کی، جبکہ مختلف کیٹیگریز میں بھی نمایاں ریکارڈز قائم ہوئے۔ مجموعی طور پر سڈنی میراتھن 2026ء نے ثابت کردیا کہ یہ مقابلہ اب صرف ایک میراتھن نہیں بلکہ دنیا کے ممتاز ترین رننگ ایونٹس میں اپنی جگہ مضبوط کرچکا ہے۔مسلسل تیسرے سال گنیز ورلڈ ریکارڈز نے سڈنی میراتھن میں غیر معمولی کارنامے انجام دینے والے ریکارڈ ساز رنرز کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ یہ دن طویل فاصلے کی دوڑ کے تازہ ترین ایڈیشن کا موقع تھا، جبکہ سڈنی نے دنیا کی سات ایبٹ ورلڈ میراتھن میجرز میں شامل ہونے کی دوسری سالگرہ بھی منائی۔ دنیا کے 140 سے زائد ممالک سے تعلق رکھنے والے کھیلوں کے نامور کھلاڑی اور شوقیہ رنرز آسٹریلیا کے اس شہر میں جمع ہوئے تاکہ اپنی جسمانی برداشت اور صلاحیتوں کو آزما سکیں۔ اس مقابلے کو ''میراتھن کی دنیا کا ساتواں عجوبہ‘‘ بھی قرار دیا جاتا ہے۔گنیز ورلڈ ریکارڈز کے ایڈجوڈی کیٹر برائن سوبل بھی موقع پر موجود تھے۔ انہوں نے میراتھن کے دوران قائم یا توڑے جانے والے ریکارڈز کی باضابطہ تصدیق کی۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے ان تمام رنرز کی حوصلہ افزائی اور حوصلہ بلند کیا جنہوں نے اپنی دوڑ کو ایک اضافی چیلنج کے ذریعے مزید یادگار اور غیر معمولی بنانے کا فیصلہ کیا۔برائن نے کہا کہ کینسر کے علاج کے چیلنجز پر قابو پانے، ماحولیاتی مسائل کے بارے میں شعور اجاگر کرنے یا غیر روایتی لباس میں میراتھن میں حصہ لینے جیسے مختلف کارناموں کے ذریعے ان رنرز نے ثابت کردیا ہے کہ ریکارڈ قائم کرنا کس قدر خاص اور غیر معمولی تجربہ ہوسکتا ہے۔ ان کامیابیوں کا مشاہدہ کرنا اور یہ دیکھنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے کہ یہ رنرز گنیز ورلڈ ریکارڈز کے تاریخی صفحات میں اپنے لیے جگہ بنانے میں کامیاب ہوئے۔سڈنی میراتھن 2026ء کے اختتام پر ریکارڈ قائم کرنے کی چھ کوششوں میں سے تمام چھ کامیاب رہیں۔40 ہزار سے زائد ایتھلیٹس شمالی سڈنی کی ملر اسٹریٹ پر جمع ہوئے، جہاں میراتھن کا آغاز صبح 6 بج کر 15 منٹ پر ہوا۔ رنرز 42.195 کلومیٹر طویل میراتھن کورس مکمل کرنے کیلئے تیار تھے۔ ان کا مقصد میڈل کے ساتھ گنیز ورلڈ ریکارڈز کا اعزاز اپنے نام کرنا تھا۔ فنِش لائن عبور کرنے والا پہلا رنر آسٹریلوی ایتھلیٹ اور سابق پیشہ ور سائیکلسٹ ٹوبی فلر تھا۔غیر معمولی عزم، استقامت اور متاثر کن جسمانی قوت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹوبی فلر نے ملٹی پل مائیلوما کے مرض میں مبتلا مرد کی جانب سے تیز ترین میراتھن مکمل کرنے کا ریکارڈ قائم کیا۔ انہوں نے یہ فاصلہ 3 گھنٹے، 18 منٹ اور 1 سیکنڈ میں طے کیا۔ ٹوبی کو 23 برس کی عمر میں ملٹی پل مائیلوما کی تشخیص ہوئی تھی۔ یہ ہڈیوں میں موجود پلازما خلیوں کو متاثر کرنے والی ایک ناقابلِ علاج قسم کی کینسر کی بیماری ہے۔ وہ گزشتہ پانچ برس سے اس بیماری کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ ٹوبی تسلیم کرتے ہیں کہ بیماری کی وجہ سے مستقل بنیادوں پر تربیت کرنا مشکل ہے، تاہم انہوں نے کبھی کوشش ترک نہیں کی اوردوڑ جاری رکھی۔ ٹوبی نے آج یہ ریکارڈ قائم کرکے ایک منفرد مثال قائم کر دی۔ ان کا مقصد کینسر کے ساتھ زندگی گزارنے والے دوسرے افراد کو یہ پیغام دینا ہے کہ وہ اپنی بیماری کے باوجود اپنے خوابوں کے حصول کی جدوجہد جاری رکھیں۔برسبین سے تعلق رکھنے والے ایتھلیٹ کینٹ اوہوری نے دن کا دوسرا ریکارڈ اپنے نام کیا۔ انہوں نے بیئر کین کا لباس پہن کر تیز ترین میراتھن مکمل کرنے کا ریکارڈ قائم کیا۔ کینٹ نے یہ دوڑ 3 گھنٹے، 28 منٹ اور 27 سیکنڈ میں مکمل کی۔کینٹ اوہوری اپنی غیر معمولی ایتھلیٹک صلاحیتوں اور کھیلوں و صحت مند طرزِ زندگی کے فوائد اجاگر کرنے کے مشن کے باعث اس سے قبل بھی خبروں کی زینت بن چکے ہیں۔ اس مرتبہ انہوں نے سڈنی کے مشہور اوپیرا ہاؤس کے سامنے فنش لائن عبور کی تو وہ نارنجی اور سفید رنگ کے بیئر کین کے لباس میں ملبوس تھے۔ کینٹ برسبین میں قائم معروف رننگ کمیونٹی ری باؤنڈ کلب کے بانی ہیں، جو رنرز، ٹرائیتھلیٹس اور کھیلوں سے وابستہ افراد کیلئے ایک کمیونٹی ہے۔دن کی ایک اور نمایاں کامیابی فل برینٹ کی تھی، جو سڈنی سے تعلق رکھنے والے ڈیجیٹل اور کمیونیکیشنز کے ماہر ہیں۔ انہوں نے کچھوے کا روپ دھارتے ہوئے رینگنے والے جانور کے لباس میں تیز ترین میراتھن مکمل کرنے (مرد) کا نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا۔ فل برینٹ نے دلکش سبز رنگ کا کچھوے کا لباس پہن کر میراتھن 3 گھنٹے، 45 منٹ اور 52 سیکنڈ میں مکمل کی۔ سڈنی میراتھن کے ریکارڈ ہولڈرزٹوبی فلرملٹی پل مائیلوما کے مرض میں مبتلا مرد کی جانب سے تیز ترین میراتھن کا ریکارڈ قائم کیا گیا،انہوں نے مطلوبہ فاصلہ 3 گھنٹے 18 منٹ 1 سیکنڈمیں طے کیا۔کینٹ اوہوری بیئر کین کے لباس میں تیز ترین میراتھن مکمل کرنے والا مرد،انہوں نے مطلوبہ فاصلہ 3 گھنٹے 28 منٹ 27 سیکنڈمیں طے کیا۔کرس فائیویجسم کے اندر نصب ذیلی جلدی ڈیفبریلیٹر کے ساتھ تیز ترین میراتھن مکمل کرنے والا مرد، فاصلہ3 گھنٹے 36 منٹ 27 سیکنڈمیں طے کیا۔فل برینٹرینگنے والے جانور کے لباس میں تیز ترین میراتھن مکمل کرنے والا مرد، 3 گھنٹے 45 منٹ 52 سیکنڈمیں فاصلہ کیا۔ربیکا جوئنر اسکاؤٹ یونیفارم میں تیز ترین میراتھن مکمل کرنے والی خاتون، 3 گھنٹے 55 منٹ 37 سیکنڈمیں فاصلہ مکمل کیا۔نلہاری بھنڈاری روایتی بھوٹانی لباس میں تیز ترین میراتھن مکمل کرنے والا مرد ، 4 گھنٹے 7 منٹ 6 سیکنڈمیں مطلوبہ فاصلہ طے کیا۔

آج کا دن

آج کا دن

چین میں ہلاکت خیز زلزلہ5ستمبر 2022ء کو چین کے صوبہ سیچوان میں 6.8 شدت کا شدید زلزلہ آیا، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔ زلزلے کے جھٹکوں سے متعدد عمارتیں منہدم ہوئیں، سڑکوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا جبکہ کئی علاقوں میں معمولاتِ زندگی متاثر ہوئے۔ اس قدرتی آفت کے باعث کم از کم 93 افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ 25 افراد لاپتا ہوگئے۔ '' ڈسکوری‘‘ کا پہلا خلائی سفر1984ء میں آج کے روز اسپیس شٹل ڈسکوری نے اپنا پہلا خلائی مشن ''ایس ٹی ایس 41ڈی‘‘ مکمل کیا اور کامیابی سے زمین پر واپس آئی۔ یہ ڈسکوری کا اوّلین خلائی سفر تھا، جس کے دوران خلائی شٹل نے مختلف سائنسی اور تکنیکی سرگرمیاں انجام دیں۔ مشن کی کامیاب تکمیل کے بعد اس کی بحفاظت واپسی خلائی تحقیق اور قابلِ استعمال خلائی شٹل ٹیکنالوجی کی ترقی میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوئی۔پین ایم فلائٹ 73 ہائی جیک5ستمبر 1986ء کو بھارت سے پاکستان آنے والی ''پین ایم فلائٹ 73‘‘ کو کراچی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہائی جیک کر لیا گیا۔ طیارے میں عملے سمیت 358 افراد سوار تھے۔ ہائی جیکنگ کے دوران مسافروں اور عملے کو کئی گھنٹوں تک یرغمال بنائے رکھا گیا۔ یہ واقعہ پاکستان کی تاریخ میں پیش آنے والے اہم اور المناک فضائی واقعات میں شمار ہوتا ہے، جس نے عالمی سطح پر بھی توجہ حاصل کی۔سری لنکا میں قتل عام5 ستمبر 1990ء کو سری لنکن خانہ جنگی کے دوران ایک نہایت افسوس ناک واقعہ پیش آیا۔ سری لنکن فوج کے اہلکاروں نے ایسٹرن یونیورسٹی قتل عام کے دوران 158 شہریوں کو ہلاک کر دیا۔ یہ واقعہ ملک میں جاری طویل خانہ جنگی کے دوران ہونے والی سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں شمار ہوتا ہے۔ترکی : اسلحہ خانے میں دھماکہ 5 ستمبر 2012 ء کو افون کاراحسار، ترکی میں اسلحہ خانے میں دھماکہ ہوا۔ ترک مسلح افواج کے مطابق حادثے میں 25 فوجی ہلاک اور تین شہری زخمی ہوئے۔دھماکے کے بعد علاقے میں آگ لگ گئی۔ آگ بجھانے کے بعد دو نان کمیشنڈ افسران، دو اسپیشل سارجنٹس اور 21 پرائیویٹ گارڈز کو مردہ حالت میں نکالا گیا۔ اس حادثے کی بعد کئی تحقیقاتی کمیشن بنائے گئے۔محمد علی کا اولمپک طلائی تمغہ 1960ء میں آج کے روز امریکا کے عظیم باکسر محمد علی، جو اس وقت کیسیئس کلے کے نام سے جانے جاتے تھے، نے روم میں منعقدہ اولمپک کھیلوں میں لائٹ ہیوی ویٹ باکسنگ مقابلے میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے طلائی تمغہ جیتا۔ بعد ازاں وہ دنیا کے عظیم ترین باکسرز میں شمار ہوئے۔