دھرنا: کیا کھویا, کیا پایا ؟

دھرنا: کیا کھویا, کیا پایا ؟

اسپیشل فیچر

تحریر : محمد عامر خاکوانی کا تجزیہ


جمعہ کی شام اسلام آبادمیں جاری دھرنے کے خوشگوار اختتام نے جہاں ملک بھر کے عوام کی بے چینی اور اضطراب کو دور کر دیا ، وہاںاس غیرمعمولی اہم واقعے نے ہمارے سیاسی اور جمہوری نظام کو بھی کئی نئے سبق دیے ہیں۔ ہماری سیاسی جماعتیں لانگ مارچ اور دھرنے کے ہفتہ بھر کے تجربے سے بہت کچھ سیکھ سکتی ہیں۔پاکستان کے عوام، سیاسی اشرافیہ اور مقتدر قوتوں نے یہ بھی ثابت کر دیا ہے کہ ان میں کم عمر ہونے کے باوجود پختگی اور شعور موجود ہے، مشرق وسطیٰ میں عرب سپرنگ یا عرب بہار کے برعکس یہاں پرزیادہ سمجھداری اور ہوشمندی کے ساتھ معاملات سلجھائے گئے۔ حالات بظاہر بندگلی میں چلے جانے کی نشاندہی دے رہے تھے ، مگر اچانک ہی فریقین نے ہوشمندی کا مظاہرہ کیا اورخوبصورتی سے اس پورے قضیے کو نمٹا دیا۔ اس ایک ہفتے کے دوران مختلف سیاسی قوتوں، انٹیلی جنشیا، میڈیا اورمقتدر قوتوں نے کیا کیا کردار ادا کیا،اس کے نتیجے میں انہیں کیا ملا…، اس پر ایک نظر ڈالتے ہیں: علامہ طاہرالقادری کا کردار آغاز تحریک منہاج القرآن کے سربراہ علامہ طاہرالقادری سے کرتے ہیں۔ علامہ صاحب ایک معروف دینی سکالر اور خطیب ہونے کی شہرت رکھتے ہیں۔وہ اپنے بعض بیانات اور ماضی میں چند ایشوز پرموقف بدلتے رہنے کے باعث متنازع رہے ہیں۔ 80ء کی دہائی میں ان کی بشارتوں کے حوالے سے بیان کئے گئے بعض خواب اوراپنے اوپر قاتلانہ حملے کے دعوے کے حوالے سے لاہور ہائیکورٹ کے ٹریبونل کی رپورٹ ہمیشہ ان کے خلاف استعمال کی جاتی ہے۔پولیٹیکل سائنس کی اصطلاح میں وہ اچھے خاصے بوجھ(Baggage)کے ساتھ سیاست کی وادی خارزار میںسفر کر رہے تھے۔ چند برس قبل وہ جنرل پرویز مشرف کے دور میں اسمبلی کی رکنیت سے استعفا دے کر کینیڈا چلے گئے تھے، اس وقت کہا گیا کہ وہ اپنا زیادہ وقت علمی وتدریسی مشاغل کو دینا چاہتے ہیں۔ تین چار سال پہلے انہیں وہاں کی نیشنلٹی بھی مل گئی۔اس دوران علامہ صاحب سیاست سے قدرے دور رہے ،مگر ان کے پاکستان میں رابطے مسلسل قائم رہے، منہاج القرآن کا بڑا تعلیمی نیٹ ورک پچھلے چند برسوں میں بہت زیادہ بڑھا، یہ سب علامہ صاحب کی نگرانی میں ہوا۔ اس دوران ان کی تحریر کردہ کئی کتب بھی شائع ہوئیں، جن میں ترجمہ قرآن ’’عرفان القرآن‘‘، احادیث کا مجموعہ اور خودکش حملوں کے خلاف کئی سو صفحوں پر محیط ایک مبسوط فتویٰ قابل ذکر ہے۔ پاکستانی میڈیا لانگ مارچ کے دنوں میںقادری صاحب سے بار بار یہ کہتا رہا کہ آپ اچانک کیسے آ گئے؟ دراصل یہ ہمارے تجزیہ کاروں اور نیوز اینکرز کی روایتی لاعلمی اوربے خبری تھی۔ سیاست کو باریک بینی سے مانیٹر کرنے والے جانتے تھے کہ طاہرالقادری صاحب بتدریج سیاسی اعتبار سے فعال ہو رہے ہیں۔ سال ڈیڑھ پہلے سے لاہور کے بعض موٹر رکشوں کے پیچھے قادری صاحب کا یہ نعرہ نمودار ہوا،چہرے نہیں، نظام بدلو۔ نظام بدلو کے نام سے ایک ویب سائیٹ بھی بنا دی گئی تھی۔اس کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر قادری صاحب کے حامی اچانک ہی بہت متحرک ہوگئے تھے۔ نظام بدلنے اور قومی سیاست میں جوہری تبدیلیاں لانے کے حوالے سے قادری صاحب کی تقاریر کے ویڈیو کلپس اور تحریریں فیس بک پیجز پر لگائی جانے لگیں۔ رفتہ رفتہ یہ عمل بڑا تیز ہوگیا ۔ اس وقت بھی سوشل میڈیا پر دو تین سب سے متحرک گروپوں میں سے ایک تحریک منہاج القرآن ہے۔ تئیس دسمبر کے جلسے سے چار پانچ ماہ پہلے قادری صاحب نے لاہور کے تھنک ٹینک کونسل آف نیشنل افئیرز کے صحافیوں اور دانشوروں کو منہاج مرکز میں دعوت دی اور ویڈیو کانفرنس کے ذریعے انہیں بریفنگ دی، سوال جواب کا سیشن بھی ہوا۔ اس میں قادری صاحب نے بتایا کہ وہ پاکستان واپس آ رہے ہیں اور ایک بڑا جلسہ کریں گے۔ تاہم اخبار نویسوں نے قادری صاحب کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا۔پھر تئیس دسمبر کے جلسے کے لئے کمپین شروع ہوگئی، دسمبر کے اوائل میں میڈیا کو احساس ہوا کہ قادری صاحب کے حامی جس محنت سے مہم چلا رہے ہیں، وہ بڑا جلسہ کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ پھر ایسا ہی ہوا۔ قادری صاحب نے پہلے اپنے جلسے ، لانگ مارچ اور پھر چار پانچ دن کے دھرنے کے بعد اپنا امیج تبدیل کر لیا۔ ایک غیر اہم، مبالغہ آمیز تقاریر کرنے والے خطیب کے بجائے اب انہیں ایک اہم ، عوامی مقبولیت رکھنے والا طاقتور سیاستدان تصور کیا جائے گا۔ آئندہ میڈیا یا کوئی سیاسی جماعت انہیں Easy نہیں لے گی۔ ان کے کسی دعوے یا اعلان کو نظرانداز کرنا اب ممکن نہیں۔ بڑی مہارت اور دانشمندی سے انہوں نے اپنے پتے کھیلے اور اسلام آباد کے قلب میں پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔انہوں نے اپنے سیاسی حریفوں کو ایک طرح سے آئوٹ کلاس کر دیا۔ان کا اعتماد بھی دیدنی تھا، چودھری برادران کے پیچھے ہٹنے اور عین وقت پر ایم کیو ایم کے دغا دے جانے کے باوجود وہ اپنے پروگرام سے پیچھے نہیں ہٹے اور کامیابی حاصل کر لی۔ وہ ایک ایسے سیاستدان کے طور پر ابھرے ہیں، جن کی اب ہمارے سیاسی منظرنامے میں ایک خاص جگہ اور مستقبل ہے۔انہوں نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ وہ لاکھوں افراد کے لئے ایک روحانی رہنما کی حیثیت بھی رکھتے ہیں، ایسا لیڈر جس کے کہنے پر لوگ اپنے معصوم شیر خوار بچے ساتھ لے کر میدان میں کود سکتے ہیں۔ایک زمانے میں پیر پگارا کے حروں کو یہ حیثیت حاصل تھی۔ تحریک منہاج القرآن کا تاثر ایک خالصتاً علمی اور دعوتی تحریک کا تھا، اب اس نے یہ بھی ثابت کر دیا کہ ان کے پاس انتہائی منظم اور مشکل ترین حالات میں ڈسپلن قائم رکھنے والے کارکن موجود ہیں۔ ایسے کارکن جن پر کسی قسم کے پروپیگنڈہ کا کوئی اثر نہیںاور وہ رہنمائی کے لئے اپنے قائد کی جانب ہی دیکھتے ہیں۔ دھرنے کے سبق قادری صاحب کو بھی یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ خطابت اپنی جگہ ،مگر مطالبے وہی مانے جاتے ہیں جو حقیقت پسندانہ ہوں اور جن کی وسیع پیمانے پر پزیرائی ہوسکے۔انہوں نے اسلام آباد پہنچنے کے بعد شروع میںغیر حقیقی مطالبے کئے، حکومت اور وزرا کو سابق اور پارلیمنٹ کی تحلیل اورالیکشن کمیشن کی فوری تشکیل نو کا کہا۔ یہ مطالبے مانے جانے والے نہیں تھے ، شائد وہ دبائو بڑھانے کے لئے ایسا کر رہے تھے ، مگر ان کا زیادہ مثبت اثر نہیں ہوا۔ بعد میںانہوں نے دانشمندی سے اپنے پرانے اور حقیقی نکات پر توجہ دی اور کم وبیش تمام مطالبے منوا لئے۔ اگلے روز اگرچہ میڈیا کے ایک حصے نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ قادری صاحب کے مطالبے نہ مانے گئے ، مگرحقیقت اس کے برعکس تھی۔ علامہ طاہرالقادری کا اصل مطالبہ آئین کے آرٹیکل باسٹھ ، تریسٹھ کے امیدواروں پر اطلاق، سکروٹنی کی مدت میں توسیع اور عوامی نمائندگی ایکٹ کی شق 77تا 82 میں تبدیلی لانا تھا۔ الیکشن کمیشن کے اختیارات میں اضافہ کامطالبہ بھی اس وجہ سے تھا۔ یہ تمام باتیں مانی گئی ہیں، نگران وزیراعظم کے لئے بھی انہیں ایک سٹیک ہولڈر کے طور پر مان لیا گیا ہے۔ اگر اس معاہدے پر عمل درآمد ہوا تو بڑی حد تک بدنام اور کرپٹ امیدواروں کا صفایا ہوجائے گا۔اس لحاظ سے بڑی کامیابی کہی جا سکتی ہے۔تحریک منہاج القرآن کو یقیناً یہ اندازہ ہو گیا ہو گا کہ دھرنے کے آخری روز بارش کے باعث ان کے لئے آپشنز محدود ہوگئی تھیں، اس سے پہلے بعض اپوزیشن جماعتوں نے میاں نواز شریف کی قیادت میں مشترکہ اعلامیہ جا ری کر کے قادری صاحب اور ان کے حامیوں کو سیاسی طور پر تنہا کر دیا تھا۔ یوں لگ رہا تھا کہ وہ بند گلی میں چلے گئے ہیں، اگر حکومت دانشمندی سے کام نہ لیتی ، مذاکرات نہ کرتی اور محفوظ راستہ نہ دیتی توصورتحال خاصی مشکل ہو گئی تھی۔ سیاست میں واپسی کے راستے کھلے رکھنے چاہیں، قادری صاحب نے ایسا نہیں کیا، وہ انتہا پر چلے گئے تھے۔ تیونس، مصر اور یمن وغیر ہ میں عرب سپرنگ کی کامیابی کی ایک وجہ ان ممالک کے دارالحکومت کی خاص پوزیشن تھی۔ مصر میں تحریر اسکوائر پر جمع ہونے والے لاکھوں افراد قاہرہ کے رہائشی تھے، اگرچہ دوسرے شہروں سے بھی لوگ آئے ،مگر بنیادی طور پر وہ مظاہرے ان شہروں کے اپنی آبادی نے کئے تھے۔ یہی تیونس اور یمن میں ہوا۔ لیبیا اور شام میں صورتحال مختلف تھی، وہاں دارالحکومت میں اپوزیشن کی گرفت مضبوط نہیں تھی، اس لئے ان مظاہروں کا اس طرح اثر نہ ہوسکا۔ کوئٹہ میں ہزارہ کمیونٹی کا دھرنا بھی وہاں کے مقامی آبادی کا اجتماع تھا، جن کے لئے گھروں سے ساز وسامان لانا بھی آسان تھا اور لوگ اپنی پوزیشنیں بھی بدل سکتے تھے۔ ایک دو راتوں کے بعد ضرورت پڑنے پر چند گھنٹوں کے لئے اپنے گھروں میں سستایا جا سکتا تھا۔ قادری صاحب کے لانگ مارچ میں ایسی کوئی سہولت موجود نہیں تھی۔ اس کا تمام تر دارومدار شرکا کے عزم وایثار پر تھا۔ اگر چہ قادری صاحب خوش قسمتی سے اس بار کامیاب ہوئے ،مگر شرکا کا اس قدر سخت امتحان لینا رسک ہوتا ہے، اگر ایسی بارش دو دن پہلے ہوجاتی ، تب کیا ہوتا؟اس وقت تک تو دھرنے کا ٹیمپو بھی نہیں بنا تھا۔ حکومتی اتحادکی سیاسی کامیابی پیپلز پارٹی کی حکومت پر بہت سے حوالوں سے سخت تنقید کی جاتی ہے، جو یکسر بے وزن بھی نہیں، ایک بات مگر اس نے یہ ثابت کر دی ہے کہ وہ ایک سیاسی جماعت ہے اور سیاسی انداز سے سوچتی ہے۔ ایک وقت میں وفاقی حکومت سخت مشکلات کا شکار تھی، پنجاب حکومت لانگ مارچ کو پنڈی پہنچا کر سکون سے تماشا دیکھ رہی تھی،تمام تر دبائو مرکز پر تھا۔ اس مشکل وقت میں پیپلز پارٹی نے اپنے اتحادیوں کو ساتھ ملایا اوراعلیٰ سطحی وفد کے ذریعے مذاکرات کئے ،یوں ڈیڈلاک بھی ختم کیا اوراس معاہدے پر عمل درآمد کرا کر وہ الیکشن کے عمل کا شفاف بنانے کا کریڈٹ بھی لے سکتی ہے۔ پیپلز پارٹی نے اپنے سخت گیر سوچ رکھنے والوں کو سائیڈ پر کیا اور اس کے ثمرات بھی انہیں مل گئے۔ اگر خدانخواستہ تصادم ہوجاتا تو اس کے خوفناک نتائج نکلتے۔ لال مسجد کے سانحے کے اثرات سے ہم ابھی تک نہیں نکل سکے، ملک کسی اور ہولناک واقعہ کا متحمل نہیں ہوسکتا۔پیپلز پارٹی کا اصل امتحان لانگ مارچ ڈیکلئریشن پر عمل کرانا ہے۔ انہیں یہ سمجھنا ہوگا کہ صرف منہاج القرآن ہی نہیں بلکہ ملک بھر میں انتخابی اصلاحات کی خواہش موجود ہے۔ یہ اچھا موقعہ ہے کہ ہمارے سیاستدان جمہوری نظام کی تطہیر کریں، اس سے جمہوریت دشمن قوتوں کو شدید حوصلہ شکنی ہوگی۔ میڈیا اور تجزیہ کار اب یہ مان لینا چاہیے کہ میڈیا اور ہمارے تجزیہ کاروں نے علامہ طاہرالقادری کو انڈر اسٹیمیٹ کیا۔ وہ علامہ صاحب کے شخصی اثر اور قوت کا اندازہ نہ لگا سکے۔ میڈیا کے بیشتر حصے کو یقین تھا کہ لانگ مارچ ہو ہی نہیں سکے گا۔دھرنے کے دوران بھی کوریج کرتے ہوئے انہیں شرکا ء کے موڈکا اندازہ نہیں ہوسکا۔ کئی اینکر خواتین چیختی رہیں کہ آپ لوگوں کو سردی کیوں نہیں لگ رہی، بچے بیمار ہوجائیں گے وغیرہ وغیرہ۔ انہیںسمجھنا چاہیے تھا کہ لوگ کسی جذبے اور کمٹمنٹ کے ساتھ ہی یہاں تک آئے ہیں اور یہ یوں واپس نہیں جائیں گے۔ ہمارے اہل دانش اور تجزیہ کاروں نے سب سے اہم غلطی یہ کی کہ انہوں نے طاہرالقادری کی شخصیت کو بے رحمی سے نشانہ بنایا ،مگر ان کے ایجنڈے کو نظر انداز کر گئے۔ انہیں یہ ادراک نہ ہوسکا کہ انتخابی اصلاحات کرنا اور تبدیلی لانے کے ایجنڈے کی عوام میں زبردست کشش موجود ہے۔ قادری صاحب نے اس خلا میں قدم رکھا ،جو ہماری دوسری سیاسی جماعتیں پر کرنے میں ناکام رہیں۔ جیسا کہ شرکا کے انٹرویوز سے ظاہر بھی ہوا کہ ان میں تمام لوگ منہاج القرآن کے نہیں تھے، بہت سے لوگوں نے بتایا کہ وہ عمران خان کے ووٹر ہیں، بعض دوسری جماعتوں کے حامی بھی تھے۔ ایجنڈے پر زیادہ بات ہونا چاہیے تھی، وہ نہ ہوسکی اور تمسخر،پیروڈی،طنز وتشنیع ہمارے میڈیا پر حاوی رہے۔ یہی وجہ ہے کہ جمعہ کو دھرنے کی کامیابی کے بعد بہت سے اینکروں اور تجزیہ کاروں کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا ردعمل دیں۔ جن باتوں کا وہ مذاق اڑاتے رہے، وہ تقریباً سب مان لی گئیں۔ جہاں تک اسمبلیوں کی تحلیل اور الیکشن کمیشن کی فوری تشکیل کی بات تھی، یہ دبائو بڑھانے کا حربہ تھا، حقیقی مطالبہ نہیں تھا۔میڈیا اور انٹیلی جنشیا کو آنے والے دنوں میں زیادہ محتاط اور باریک بین ہونا پڑے گا۔ الیکشن میں اصلاحات کے عمل پر بھی نظر رکھنے کی ضرورت پڑے گی۔ مسلم لیگ ن مسلم لیگ ن نے بظاہر بڑی عقل مندی اور ہوشیاری سے چالیں چلیں۔ انہوں نے لانگ مارچ کو روکنے کی کوئی کوشش نہیں کی کہ اس کا رخ اسلام آباد کی جانب تھا۔ جب انہوں نے محسوس کیا کہ دھرنے میں خاصے لو گ آگئے ہیں اور یہ اجتماع خطرناک ثابت ہوسکتا ہے تووہ متحرک ہوئے۔ میاں صاحب نے کمال مہارت سے کئی اہم جماعتوںسے رابطے کئے۔ بلوچستان سے اچکزئی صاحب اور حاصل بزنجو کے ساتھ ساتھ مولانا فضل الرحمن اورجماعت اسلامی کو ساتھ ملا لینا ان کی بڑی کامیابی تھی۔ انہوں نے اپنے مشترکہ اعلامیہ سے علامہ طاہرالقادری کو بالکل تنہا کر دیا۔ یہ جمہوریت کے لئے اچھا شگون تھا کہ ہماری سیاسی جماعتیں ہر قسم کی تبدیلی کے لئے انتخابات کی جانب ہی دیکھنے لگی ہیں۔ میاں صاحب نے دانستہ یا نا دانستہ ایک بڑی غلطی یہ کی کہ انہوں نے قادری صاحب کو محفوظ راستہ نہیں دیا۔اے پی سی کے شرکا میں سے کسی نے یہ نہیں سوچا کہ اسلام آباد میںکئی روز سے ہزاروں افراد کا دھرنا جاری ہے۔دھرنے کے شرکا اور ان کے لیڈر قادری صاحب اتنا آگے جا چکے ہیں کہ ان کے لئے کچھ حاصل کئے بغیر واپس لوٹنا شرمندگی کے مترادف ہے۔ انہیں محفوظ راستہ دینا (Face saving)دینا ضروری تھا۔ دوسری صورت میں شرکاء فرسٹریٹ ہو کر تصادم کی طرف جا سکتے تھے، ایسا ہو جاتا تو پھر کچھ بھی نہ بچ پاتا۔ جس طرح کا اعلیٰ سطحی وفد حکومت نے مذاکرات کے لئے بھیجا، ویسا کام پہلے نواز شریف صاحب بھی کر سکتے تھے۔ اگر ایسا کرتے تو وہ محاورے کے مطابق میلہ لوٹ لیتے۔ انہوں نے ایسا نہیں کیا، شائد وہ اپنی مخالف وفاقی حکومت کو ٹف ٹائم دینا چاہتے تھے، مگر اختتام میں اس کا تمام تر نقصان انہیں ہی ہوا۔ ٹی وی چینلز پر ن لیگ کے رہنمائوں کی تلخی دیکھ کر انہیں پہنچنے والے دھچکے کی شدت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ ؟ ہمارے اہل دانش اور تجزیہ کاروں کو ہر ایشو میں اسٹیبلشمنٹ کا کردار دیکھنے کا رویہ بھی بدلنا ہوگا۔ یوں لگتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کا آسیب ان کی دانش کے گرد لپٹ گیا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کے حوالے سے ویسے بھی دو تین باتیں سمجھنی چاہیں۔ دنیا بھر میں اسٹیبلشمنٹ ہمیشہ پر و’’ سٹیٹس کو‘‘ ہوتی ہے۔ نظام بدلنے یا تبدیلی لانے کا نعرہ کبھی انہیں راس نہیں ہوتا۔ ایسا نعرہ لگانے والوں کو ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ قادری صاحب والے معاملے کو زیادہ غور سے دیکھنا چاہیے تھا۔ اگر اس میں اسٹیبلشمنٹ شامل ہوتی تو معروف اسٹیبلشمنٹ نواز جماعتیں اس سے دور نہ رہتیں اور وعدہ کر کے واپس نہ چلی جاتیں۔ جو مارچ یا دھرنا اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر کیا جاتا ہے ، اس کے تیور ہی الگ ہوتے ہیں، اس کے شرکا شروع ہی سے ڈنڈے لے کر چلتے ہیں اور تباہی ان کا مشن ہوتی ہے۔ ایسے جلوسوں میں لوگ خود اپنی خوشی سے اپنی بیویوں، بہنوں اور شیر خوار بچوں کو نہیں لاتے۔ پیسے خواہ جتنے ملیں، اولاد آدمی کو اپنی جان سے بھی زیادہ پیاری ہوتی ہے۔ اس دھرنے کے پرامن اختتام نے یہ ثابت کر دیا کہ اسٹیبلشمنٹ کی رٹ لگانے والے تجزیہ کاروں نے ٹھوکر کھائی، اصولاً تو انہیں اپنے قارئین اور ناظرین سے معذرت کرنی چاہیے، مگرافسوس کہ ہمارے ہاں ایسی اچھی روایتیں موجود نہیں۔ ویسے اس حوالے سے فورسز کا رویہ مثبت رہا۔ کورکمانڈرز کانفرنس کو بعض حلقوں نے معنی خیز نظروں سے دیکھا ،مگر آئی ایس پی آر نے بروقت وضاحت کر دی۔ ہماری مقتدرہ قوتوں کو یہ یاد رکھناچاہیے کہ سیاست صرف سیاستدانوں کے کھیلنے کا میدان ہے۔ عسکری قوتوںکو اپنے پروفیشنل فرائض ہی انجام دینے چاہیں۔ ایسا کرنا ہی ان کے وقاراور عزت میں اضافہ کرے گا۔ اس دھرنے کا پرامن انجام یہ ثابت کرتا ہے کہ ملک میں جمہوریت پنپ رہی ہے اورہمارا بظاہر کمزور جمہوری سسٹم اس قسم کے بڑے دھچکوں کو برداشت کرنے کی سکت اور قوت رکھتا ہے۔اس سے ہمارے سیاستدانوں اور جمہوری قوتوں نے خاصا کچھ سیکھا ہوگا۔ تحریک انصاف عمران خان اور ان کے بعض حامیوں کو ممکن ہے اب اندازہ ہو رہا ہو کہ انہوں نے ملنے والے ایک بڑے موقع سے فائدہ نہیں اٹھایا۔ تحریک انصاف میں لانگ مارچ کے حمایت میں ایک مضبوط لابی موجود تھی،ان کے کئی اہم سیاسی لیڈروں کا خیال تھا کہ ہمیں قادری صاحب کے ساتھ شامل ہونا چاہیے، ان کی جماعت کا سیاسی نیٹ ورک موجود نہیں ،ا س لئے سیاسی کامیابی کے تمام تر ثمرات تحریک انصاف کو پہنچیں گے۔ اس لابی کی بات نہیں مانی گئی، عمران خان اور ان کے بعض غیر سیاسی مگر پارٹی کے لئے تھنک ٹینک کا درجہ رکھنے والے لوگوں کی بات مانی گئی۔ تاہم عمران خان نے لانگ مارچ اور دھرنے پر تنقید بالکل نہیں کی، وہ اسے بڑی احیتاط سے دیکھتے رہے، جائزہ لیتے رہے ،مگر شامل نہیں ہوئے۔ ممکن ہے انہیں خطرہ ہو کہ یہ دھرنا کسی اور جانب جا سکتا ہے۔ انہوں نے اپنی تمام تر توجہ انتخابات کی جانب مبذول کی اور اس حوالے سے دبائو بڑھانے کی کوشش کی ،مگر تحریک انصاف کے بہت سے نوجوان کارکنوں کو اب یقیناً مایوسی ہو رہی ہوگی۔پی ٹی آئی نے اس معاملے میں اگرچہ کھویا بھی زیادہ نہیں۔ ان کے لئے انتخابات کے حوالے سے قادری صاحب کے ساتھ ہاتھ ملانے کی آپشن موجود ہے۔دیکھنا یہ ہے کہ تحریک انصاف آنے والے دنوں میں کیسے پتے چلتی ہے؟

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
مسجد صادق گڑھ پیلس

مسجد صادق گڑھ پیلس

مغل روایت اور عباسی وقار کی علامتریاستِ بہاولپور کے سنہرے دور کی یادگار عمارتوں میں صادق گڑھ پیلس کا نام نمایاں ہے مگر اس عظیم الشان محل کے مغربی گوشے میں واقع ایک چھوٹی سی پُر وقار مسجد اپنی خاموش عظمت کے ساتھ آج بھی تاریخ کی گواہی دیتی ہے۔1882ء سے 1895ء کے درمیان تعمیر ہونے والی یہ مسجد خاص طور پر عباسی شاہی خاندان، بالخصوص نواب امیر صادق محمد خان چہارم کے لیے بنائی گئی تھی جو 1866ء سے 1899ء تک تخت نشین رہے۔صادق گڑھ پیلس کا وسیع رقبہ تقریباً ایک ہزار میٹر شمالاً جنوباً اور 330 میٹرشرقاً غرباً پھیلا ہوا ہے۔ اس وسیع و عریض احاطے کے مقابلے میں مسجد کا حصہ بڑا مختصر ہے اور یہ مرکزی عمارت کے عین مغرب میں واقع ہے۔یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ عباسی دور کی کئی دیگر عمارتوں مثلاً قلعہ دراوڑ کی نسبت یہ مسجد آج بھی نسبتاً بہتر حالت میں ہے۔ وقت کی گرد ضرور چڑھی ہے مگر اس کا تاریخی وقار باقی ہے۔چونکہ یہ مسجد عوامی نہیں بلکہ شاہی خاندان کی نجی عبادت گاہ تھی اس لیے اس کی ساخت بھی سادہ مگر مزین ہے۔ یہ تین دروں والی مسجد ہے جس کے اوپر پیاز نما گنبد ایستادہ ہیں۔ اس مسجد کے نقشے میں مغلیہ دور کی دو مساجد کے اثرات نمایاں نظر آتے ہیں۔ پہلی ہے پشاور کی مہابت خاں مسجد، جس کے کنگرے دار محرابی دروازے، مربع نما داخلی پورٹل اور ابھار دار گنبد اس مسجد سے مشابہت رکھتے ہیں۔ دوسری ہے لاہور کی سنہری مسجد، جس کے بلند و بالا کونے دار مینار اس طرز کی یاد دلاتے ہیں۔یوں صادق گڑھ پیلس کی یہ مسجد مغل فنِ تعمیر کی بازگشت معلوم ہوتی ہے۔مغل روایت کا تسلسل اور عباسی شناختمغل سلطنت کے زوال کے باوجود اس کی تہذیبی و انتظامی روایت برصغیر کے مسلم ریاستوں کے لیے ایک مثالی نمونہ رہی۔ ممتاز مورخ کیتھرین بی ایشر کے مطابق اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں بھی مغل بادشاہت مسلم ثقافت کی علامت سمجھی جاتی تھی۔ ریاستِ بہاولپور کے عباسی حکمران چونکہ مابعد مغلیہ ریاستوں میں خوشحال اور بااثر شمار ہوتے تھے اس لیے ان کے لیے مغل طرزِ تعمیر سے وابستگی اختیار کرنا فطری امر تھا۔محلات کی تعمیر میں اگرچہ یورپی طرز اور جدید مواد کا استعمال دیکھا جاتا ہے مگر مساجد کی تعمیر میں ایک طرح کی روایت پسندی غالب رہتی ہے۔ عبادت گاہ کو عموماً کلاسیکی اسلوب ہی میں ڈھالا جاتا ہے تاکہ روحانی وقار برقرار رہے۔ صادق گڑھ کی مسجد بھی اسی روایت کی امین ہے۔ایک ایسا بصری اشارہ کہ عباسی خاندان نے مغلیہ عظمت سے اپنی نسبت جوڑی اور اپنے اقتدار کو اسی تسلسل میں دیکھا۔تاہم یہ مسجد مکمل طور پر کلاسیکی مغل انداز کی نقل نہیں۔ ممتاز ماہرِ تعمیرات ایبّا کوخ کے مطابق مغل عہد کے آخری دور میں آرائش کا انداز زیادہ شگفتہ، پھول دار اور ابھری ہوئی اشکال پر مشتمل ہو گیا تھا۔ اسی رجحان کی جھلک صادق گڑھ کی مسجد میں نمایاں ہے۔اولاً اس کی سجاوٹ زیادہ تر سٹکو (Stucco) یعنی پلستر کی تہوں پر مشتمل ہے، جو اینٹوں پر چڑھائی گئی ہیں۔ دوم، اندرونی اور بیرونی دیواروں پر رنگین فریسکو پینٹنگز موجود ہیں جن میں بیل بوٹے، خم دار شاخیں، سرو کے درخت اور نباتاتی نقوش نمایاں ہیں۔ یہ آرائش نہایت دلکش مگر کسی قدر پر تکلف معلوم ہوتی ہے۔مزید برآں، سامنے کے برآمدے کے ستون اور پلاسٹر اپنی بنیادوں پر پھیلتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں جس سے ان کی شکل گول اور ابھری ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ بعض ستونوں کی بنیادیں یوں تراشی گئی ہیں جیسے وہ زمین سے اگتے ہوئے پھول ہوں‘ایک شاعرانہ تاثر، جو مغل دور کے آخری مرحلے کی تزئینی نفاست کو ظاہر کرتا ہے۔وقت کی دستبرد اور مرمت کی ضرورتاگرچہ سٹکو آرائش دیدہ زیب ہوتی ہے مگر یہ پتھر کی نسبت زیادہ نازک اور جلد متاثر ہونے والی ہے۔ اسی باعث مسجد کے کارنس (Cornice) کا بڑا حصہ جو پتوں کی قطار جیسا دکھائی دیتا تھا اب تقریباً معدوم ہو چکا ہے۔ عمارت کے ماتھے کے فریسکو مدھم پڑ چکے ہیں اور داخلی دروازے کے اطراف کے پلاسٹر کے نچلے حصے جھڑ چکے ہیں۔تاہم مسجد کی مجموعی ساخت سلامت ہے اور اگر بروقت مرمت، صفائی اور تحفظ کا اہتمام کیا جائے تو اس کے تاریخی حسن کو بڑی حد تک بحال کیا جا سکتا ہے۔ یہ محض اینٹ اور پلستر کی عمارت نہیں بلکہ ایک عہد کی تہذیبی علامت ہے، جس کی بقا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔صادق گڑھ پیلس کی یہ چھوٹی سی مسجد اپنے حجم میں مختصر مگر معنی میں وسیع ہے۔ یہ عباسی ریاست کی خوشحالی، مغلیہ روایت سے وابستگی اور مذہبی سنجیدگی کی عکاس ہے۔ اس کی محرابوں میں تاریخ کی بازگشت سنائی دیتی ہے اور اس کے گنبدوں میں ماضی کی شان جھلکتی ہے۔وقت کی رفتار بے رحم سہی مگر سنجیدہ اقدامات کیے جائیں تو یہ مسجد آئندہ نسلوں کے لیے بھی اسی شان سے قائم رہ سکتی ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم اپنے ورثے کی قدر پہچاننے کو تیار ہیں؟

کم کارب یا کم چکنائی؟

کم کارب یا کم چکنائی؟

دل کی صحت کا اصل راز کچھ اور نکلادل کی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے برسوں سے ایک بحث جاری ہے کہ کیا کم کارب غذا بہتر ہے یا کم چکنائی والی خوراک؟ کبھی ماہرین کاربوہائیڈریٹس کو قصوروار ٹھہراتے ہیں تو کبھی چکنائی کو مگر حالیہ سائنسی تحقیق نے اس بحث کا رخ بدل دیا ہے۔ یہ تحقیق ہاورڈ یونیورسٹی کے ماہرین کی زیر نگرانی کی گئی جس میں تقریباً دو لاکھ مرد و خواتین کو لگ بھگ تیس برس تک فالو کیا گیا۔ تحقیق کا دائرہ کار وسیع تھا اور52 لاکھ ''person-years‘‘ سے زائد ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔ نتائج حیران کن تھے مگر سادہ بھی۔ اگر کم کارب یا کم چکنائی والی غذا صحت بخش اجزا پر مشتمل ہو تو وہ دل کے لیے فائدہ مند ہے لیکن اگر وہی غذا پراسیسڈ اور غیر معیاری اشیا پر مبنی ہو تو اس کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہوتا۔گویا اصل سوال یہ نہیں کہ آپ کتنے کارب لیتے ہیں بلکہ یہ ہے کہ وہ کارب کہاں سے آرہے ہیں۔ اسی طرح چکنائی کی مقدار سے زیادہ اہم اس کی نوعیت ہے۔تحقیق کے مطابق جن افراد نے سبزیاں، پھل، دالیں، ثابت اناج، گری دار میوے اور صحت بخش چکنائی استعمال کیں ان میں دل کی بیماریوں کا خطرہ نمایاں حد تک کم دیکھا گیا۔ ان افراد میں:اچھے کولیسٹرول (HDL) کی سطح بہتر رہی،جسم میں سوزش کے اشاریے کم رہے،کورونری ہارٹ ڈیزیز کا خطرہ کم ہوا۔اس کے برعکس وہ افراد جو بظاہر کم کارب یا کم چکنائی والی غذا لے رہے تھے مگر ان کی خوراک میں ریفائنڈ آٹا، میٹھے مشروبات، فاسٹ فوڈ اور ٹرانس فیٹس شامل تھیں انہیں دل کی صحت کے حوالے سے کوئی واضح فائدہ حاصل نہ ہوا۔یہ نتائج اس روایتی سوچ کو چیلنج کرتے ہیں کہ صرف کارب یا چکنائی کم کر دینا ہی کافی ہے۔کم کارب بمقابلہ کم چکنائیگزشتہ دہائیوں میں کم کارب ڈائیٹ اور کم چکنائی والی غذا کے حامیوں کے درمیان خاصی گرما گرمی رہی ہے۔ ایک گروہ کہتا ہے کہ کاربوہائیڈریٹس موٹاپے اور ذیابیطس کی جڑ ہیں جبکہ دوسرا گروہ چکنائی کو دل کا دشمن قرار دیتا ہے۔مگر اس تحقیق سے واضح ہوتا ہے کہ اگر کم کارب غذا میں سبزیاں، دالیں اور صحت بخش پروٹین شامل ہوں تو وہ مفید ہے اور اگر کم چکنائی والی غذا میں مکمل اناج اور قدرتی اجزا ہوں تو وہ بھی دل کے لیے بہتر ثابت ہوتی ہے۔ یعنی اصل مقابلہ کم کارب بمقابلہ کم چکنائی کا نہیں بلکہ معیاری خوراک بمقابلہ غیر معیاری خوراک کا ہے۔دل کی صحت کیلئے کوئی جادوئی فارمولا موجود نہیں۔ نہ مکمل کارب ترک کرنا ضروری ہے نہ ہر قسم کی چکنائی سے خوف زدہ ہونا۔ اصل حکمت یہ ہے کہ خوراک قدرتی، متوازن اور کم سے کم پراسیسڈ ہو۔یوں کہا جا سکتا ہے کہ صحت مند دل کا راستہ کچن سے ہو کر گزرتا ہے‘مگر اس شرط کے ساتھ کہ وہاں تازہ، سادہ اور معیاری اجزا استعمال ہوں۔

رمضان کے مشروب وپکوان:دال قیمے کے سموسے

رمضان کے مشروب وپکوان:دال قیمے کے سموسے

اجزاء:بھنا ہوا قیمہ ایک پیالی، مونگ کی دھلی دال آدھا پیالی، پیاز دو عدد درمیانی، سویا تین سے چار ڈنٹھل، ہری مرچیں تین سے چار عدد، سموسے کی پٹیاں حسب ضرورت، کوکنگ آئل حسب ضرورت۔ترکیب:دال کو دھو کر بیس سے پچیس منٹ کیلئے بھگو کر رکھ دیں۔ پھر اسے پانی سے نکال کر قیمے میں ڈالیں اور اچھی طرح بھون لیں۔ جب یہ مکسچر ٹھنڈا ہو جائے تو اس میں باریک کٹی ہوئی پیاز، نمک، باریک کٹی ہوئی ہری مرچیں اور سویا ڈال کر ملا لیں۔ سموسے کی پٹیوں سے تکونے سموسے بنا کر اس میں یہ مکسچر بھر دیں۔ آٹے کی لئی سے چپکا کر کوکنگ آئل میں سنہری فرائی کر لیں۔ ٹماٹر اور سیب کا جوس: وٹامنز اور آئرن کا مجموعہٹماٹر اور سیب کا جوس وٹامنز، آئرن اور فائبر سے بھرپور ہوتا ہے۔ اس جوس کو تیار کرنے کے لیے چھلے ہوئے سیب اور ٹماٹر کو پانی، لیموں کے قطرے اور شہد کے ساتھ بلینڈ کریں۔ یہ مشروب نہ صرف لذیذ ہوتا ہے بلکہ یہ جسم کو ضروری غذائیت بھی فراہم کرتا ہے۔

آج تم یاد بے حساب آئے!قوی خان ورسٹائل اداکار(2023-1942)

آج تم یاد بے حساب آئے!قوی خان ورسٹائل اداکار(2023-1942)

٭...محمد قوی خان 13 نومبر 1942ء کوشاہجہاں پور (ہندوستان) میں پیدا ہوئے۔٭... قیام پاکستان کے بعد ان کے والدین نے پشاور کو اپنا مسکن بنایا اور وہیں قوی خان نے گورنمنٹ ہائی سکول سے اور پھر ایڈورڈ کالج سے تعلیم حاصل کی۔ ٭...سکول اور کالج کے ڈراموں میں حصہ لیتے تھے جس کی وجہ سے ریڈیو سے رغبت ہوئی اور تھیٹر کی طرف مائل ہوئے۔٭... 1952میں فنی زندگی کا آغاز ریڈیو پاکستان پشاور سے بطور چائلڈ سٹارپروگرام ''ننھے میاں‘‘ سے کیا۔کئی سال تک اس پروگرام کے ساتھ وابستہ رہے۔٭... لاہور میں پاکستان ٹیلی ویژن کا آغاز ہوا تو انہیں اس کے پہلے ڈرامے ''نذرانہ‘‘ میں کام کرنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ براہ راست نشر ہونے والے اس ڈرامہ میں ان کے مقابل کنول نصیر نے مرکزی کردار نبھایا تھا۔٭...1964ء میں فلمی دنیا میں قدم رکھا اور فلم ''رواج‘‘ سے اپنے فلمی سفر کا آغاز کیا۔ 35سال تک فلموں میں کام کیا ان کے کریڈٹ پر 250فلمیں ہیں۔٭...زیادہ تر معاون کرداروں میں نظر آئے ، مثبت اور منفی کرداروں میں جلوہ گر ہوئے ، اولڈ ، ولن اور کامیڈین کے طور پر بھی کردار نبھائے لیکن کبھی سولو ہیرو نہیں آئے۔٭... تادمِ مرگ ٹیلی وژن سے وابستہ رہے، یہ عرصہ لگ بھگ سات دہائیوں پر مشتمل ہے۔٭... سب سے زیادہ شہرت 1980ء کی دہائی میں نشر ہونے والے ڈرامے ''اندھیرا اجالا‘‘ سے ملی۔٭...1985ء کے غیرجماعتی انتخابات میں حصہ لیا ، کامیاب نہ ہوسکے۔٭... 1990ء کی دہائی میں ایک ڈرامے کیلئے مرزا غالب کا کردار بھی نبھایا اوراسے امرکردیا۔٭... بطور پروڈیوسر 13فلمیں بنائیں،کچھ فلمیں ڈائریکٹ بھی کیں جن میں پاسبان، اور روشنی وغیرہ شامل ہیں۔٭...1980 ء میں حکومت پاکستان کی طرف سے انہیں ''صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی‘‘ جبکہ 2012ء میں ''ستارہ امتیاز‘‘ سے نوازا گیا۔٭...5 مارچ 2023ء کو کینیڈا میں 80 سال کی عمر میں سرطان سے انتقال ہوا۔ میڈوویل قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔قوی خان کی مقبول فلمیں: محبت زندگی ہے ، ٹائیگر گینگ ، سوسائٹی گرل، سرفروش ، کالے چور، آج اور کل ، صائمہ، بیگم جان ، ناگ منی، رانگ نمبر ، انٹرنیشنل لٹیرے، سر کٹا انسان ، پری، قائداعظم زندہ باد ، چراغ کہاں روشنی کہاں ، پازیب، مسٹربدھو‘، بے ایمان ، منجی کتھے ڈاہواں ، نیلام، روشنی ، پہچان ، وطن ،جوانی دیوانی ، چوری چوری، محبت مر نہیں سکتی ۔مقبول ڈرامے: لاکھوں میں تین، دہلیز، الف نون، دورِ جنوں، اندھیرا اُجالا، انگار وادی، اُڑان، آشیانہ، سسر اِن لا، لاہوری گیٹ، مٹھی بھر مٹی، منچلے، مشعل، بیٹیاں، داستان، میرے قاتل میرے دلدار، پھر چاند پہ دستک، زندگی دھوپ تم گھنا سایہ، جو چلے تو جان سے گزر گئے، دُرِ شہوار، کلموہی، دو قدم دور تھے، حیا کے دامن میں، یہ عشق، سہیلیاں، نظرِ بد، الف اللہ اور انسان، خانی، آنگن، پرچھائیں، میراث۔

آج کا دن

آج کا دن

جوزف سٹالن کی وفات5 مارچ 1953ء کو سوویت یونین کے رہنما جوزف سٹالن کا انتقال ہوا۔ وہ 1920ء کی دہائی کے وسط سے سوویت سیاست کے مرکز میں رہے اور 1924ء میں لینن کی وفات کے بعد اقتدار پر مکمل گرفت حاصل کر لی۔ سٹالن کے دورِ حکومت کو صنعتی ترقی، سخت مرکزی کنٹرول اور سیاسی جبر کے حوالے سے یاد کیا جاتا ہے۔ان کے دور میں سوویت یونین نے تیزی سے صنعتی ترقی کی، زراعت کو اجتماعی نظام کے تحت منظم کیا گیا اور ملک کو ایک بڑی فوجی طاقت میں تبدیل کیا گیا۔ دوسری جنگ عظیم میں نازی جرمنی کے خلاف سوویت فتح میں بھی ان کا کردار اہم تھا۔ چرچل کی فولٹن تقریر 5 مارچ 1946ء کو برطانوی رہنما ونسٹن چرچل نے امریکہ کی ریاست میسوری کے شہر فولٹن میں ویسٹ منسٹر کالج میں ایک تاریخی تقریر کی جسے آئرن کرٹن (IronCurtain) تقریر کہا جاتا ہے۔ اس خطاب میں انہوں نے کہا کہ یورپ پرآہنی پردہ گر چکا ہے جو مشرقی یورپ کو سوویت اثر و رسوخ میں لے جا رہا ہے۔چرچل کی اس تقریر کو سرد جنگ کے آغاز کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے امریکہ اور برطانیہ کے درمیان قریبی اتحاد کی ضرورت پر زور دیا تاکہ سوویت یونین کے پھیلتے ہوئے اثر کو روکا جا سکے۔ اس تقریر نے عالمی سیاست میں دو بلاکوں ،مغربی سرمایہ دارانہ اور مشرقی سوشلسٹ کی واضح تقسیم کو نمایاں کیا۔بوسٹن قتل عام5 مارچ 1967ء کو این بی اے کی تاریخ کے ایک بدنام زمانہ واقعے کو ''بوسٹن میساکر‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ واقعہ باسکٹ بال ٹیموں کے درمیان کھیلے جانے والے میچ کے دوران پیش آیا۔میچ کے دوران کھلاڑیوں میں سخت جھگڑا شروع ہوا جو ہاتھا پائی تک جا پہنچا۔ اس واقعے نے این بی اے انتظامیہ کو سخت قوانین نافذ کرنے پر مجبور کیا تاکہ کھیل کے دوران تشدد پر قابو پایا جا سکے۔یہ واقعہ اس بات کی مثال ہے کہ کھیلوں میں مسابقت بعض اوقات جذباتی شدت اختیار کر لیتی ہے۔ ٹائیپولو کی وفات5 مارچ 1770ء کو اٹلی کے مشہور مصور جیوانی باتیستا ٹائیپولو کا انتقال ہوا۔ وہ اٹھارویں صدی کے نمایاں طرز کے فنکار تھے۔ ان کی پینٹنگز اپنی روشنی، رنگوں کی چمک اور ڈرامائی انداز کے لیے مشہور ہیں۔ٹائیپولو نے اٹلی، جرمنی اور سپین میں اہم شاہی عمارتوں اور گرجا گھروں کی تزئین کی۔ ان کے فن پارے مذہبی اور اساطیری موضوعات پر مبنی ہوتے تھے اور ان میں آسمانی مناظر اور وسیع فریسکو پینٹنگز نمایاں تھیں۔ان کی وفات کے بعد بھی یورپی فنِ مصوری پر ان کا اثر برقرار رہا۔ 1956اولمپکس5 مارچ 1956ء کو اٹلی کے شہر کورٹینا ڈی امپیزو میں منعقد ہونے والے سرمائی اولمپکس کی اختتامی تقریب منعقد ہوئی۔ یہ سرمائی اولمپکس یورپ میں جنگِ عظیم دوم کے بعد ہونے والے کھیلوں کے اہم مقابلوں میں سے ایک تھے۔ان میں دنیا بھر سے کھلاڑیوں نے حصہ لیا اور یہ کھیل سرد جنگ کے ماحول میں بھی بین الاقوامی ہم آہنگی کی علامت بنے۔ اس اولمپکس میں پہلی بار ٹیلی ویژن نشریات کے ذریعے کھیلوں کو وسیع پیمانے پر دکھایا گیا جس سے عالمی کھیلوں کی مقبولیت میں اضافہ ہوا۔ سرمائی اولمپکس نے اٹلی کو ایک عالمی کھیلوں کے میزبان کے طور پر متعارف کرایا اور بعد ازاں بڑے عالمی ایونٹس کے انعقاد کی راہ ہموار کی۔

لودھی مسجد

لودھی مسجد

انتدائی اسلامی فن تعمیر کی نادریادگارضلع گوجر انوالہ کے تاریخی قصبے ایمن آباد میں واقع لودھی دور کی قدیم مسجد برصغیر میں اسلامی فنِ تعمیر کی ابتدائی روایت کی ایک نہایت اہم مثال ہے۔ یہ مسجد اپنی سادگی، قدامت اور منفرد تعمیراتی ساخت کے باعث تاریخی اور ثقافتی لحاظ سے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ ماہرینِ فنِ تعمیر کے مطابق اس مسجد کی تعمیر پندرہویں صدی کے آخر یا سولہویں صدی کے اوائل میں لودھی دور (1451ء تا 1525ء) کے دوران ہوئی، جس سے یہ پاکستان میں قائم قدیم ترین مساجد میں شمار ہوتی ہے۔ یہ ایک منزلہ مسجد ایمن آباد کے مشرقی حصے میں ایک چھوٹے حوض کے کنارے پر واقع ہے، جسے عہدِ جہانگیر سے منسوب کیا جاتا ہے۔ مسجد اور حوض کی باہمی قربت اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ مقام نہ صرف عبادت بلکہ سماجی و مذہبی سرگرمیوں کا بھی مرکز رہا ہوگا۔ قدیم اسلامی روایت کے مطابق عبادت گاہوں کو پانی کے ذخائر کے قریب تعمیر کرنا وضو اور طہارت کی سہولت کے لیے عام تھا۔ایمن آباد خود ایک قدیم تاریخی بستی ہے جہاں مختلف ادوار کی تہذیبی یادگاریں موجود رہی ہیں۔ اسی تسلسل میں لودھی دور کی یہ مسجد اس علاقے کی اسلامی تاریخ اور مذہبی روایت کا ایک اہم مظہر ہے۔لودھی دور سے نسبت معروف ماہرِ تعمیرات اور مؤرخ کامل خاں ممتاز کے مطابق اس مسجد کی تعمیرلودھی دور میں ہوئی۔ ان کی رائے میں مسجد کی اینٹوں کی ساخت، سادہ ڈیزائن اسے مغل دور سے پہلے کے فنِ تعمیر سے واضح طور پر جوڑتے ہیں۔ اسی بنیاد پر یہ مسجد پاکستان میں موجود قدیم ترین قائم مساجد میں سے ایک سمجھی جاتی ہے۔لودھی عہد کی تعمیرات عموماً سادگی، مضبوطی اور عملی ضرورتوں کو مدنظر رکھ کر کی جاتی تھیں جس کی جھلک اس مسجد کے مجموعی ڈھانچے میں نمایاں طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔یہ مسجد ایک مختصر اور سادہ یک منزلہ عمارت ہے جو پکی اینٹوں سے تعمیر کی گئی ہے۔ اس میں بھاری آرائش یا نقش و نگار کی بجائے مضبوط ساخت اور عبادتی افادیت کو ترجیح دی گئی ہے، جو لودھی دور کے فنِ تعمیر کی نمایاں خصوصیت ہے۔مسجد کی دیواریں پکی اینٹوں سے تیار کی گئی ہیں جن کی ترتیب اور چنائی نہایت متوازن ہے۔ اینٹوں کا یہ استعمال نہ صرف عمارت کو استحکام فراہم کرتا ہے بلکہ اس دور کی تعمیراتی مہارت کی بھی عکاسی کرتا ہے۔گنبد اور اندرونی ساخت مسجد کا مرکزی حصہ مربع شکل میں ہے جبکہ اس کے اوپر گول گنبد تعمیر کیا گیا ہے۔ مربع کمرے اور گول گنبد کے درمیان ربط قائم کرنے کے لیے جو تعمیراتی طریقہ اختیار کیا گیا وہ اس مسجد کی سب سے منفرد تعمیراتی خصوصیت ہے۔اس مقصد کے لیے کونی محرابیں اور معلق محرابی سہارادونوں کا بیک وقت استعمال کیا گیا ہے۔کونی محرابیں (Squinches) مربع کمرے کے کونوں کو سہارا دے کر گنبد کے لیے بنیاد فراہم کرتی ہیں جبکہ معلق محرابی سہارا (Pendentives) گنبد کے دائرہ نما ڈھانچے کو مربع بنیاد سے جوڑنے کا کام دیتے ہیں۔یہ تعمیراتی تکنیک اس بات کا ثبوت ہے کہ اُس دور کے معمار نہایت انجینئرنگ کی اعلیٰ مہارت رکھتے تھے اور پیچیدہ ساختی مسائل کو نہایت سادہ انداز میں حل کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ دونوں طریقوں کا بیک وقت استعمال برصغیر کی ابتدائی اسلامی تعمیرات میں ایک نادر مثال سمجھا جاتا ہے۔مسجد کے ساتھ واقع تالاب جسے عہدِ جہانگیر سے منسوب کیا جاتا ہے اس مقام کی تاریخی اہمیت کو مزید واضح کرتا ہے۔ حوض کی موجودگی سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ علاقہ طویل عرصے تک آباد اور فعال رہا۔ ممکن ہے کہ بعد کے ادوار میں اس حوض نے مسجد کی مذہبی اہمیت میں مزید اضافہ کیا ہو۔یہ مسجد ایک تاریخی یادگار عمارت کی حیثیت رکھتی ہے اور اس کی تعمیراتی خصوصیات ہمیں قبل از مغل اسلامی فنِ تعمیر کے ارتقائی مراحل کو سمجھنے میں مدد دیتی ہیں۔ایسی قدیم مساجد کے تحفظ اور سائنسی بحالی کی اشد ضرورت ہے تاکہ یہ قومی ثقافتی ورثہ آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ رہ سکے۔ باقاعدہ دستاویز سازی ، آثارِ قدیمہ کی تحقیق اور ماہرینِ تعمیرات کی نگرانی میں مرمتی کام اس کی بقا کے لیے ناگزیر ہیں۔اگر اس تاریخی مقام کو مناسب معلوماتی بورڈز، رہنمائی اور سیاحتی منصوبہ بندی کے ساتھ ترقی دی جائے تو یہ نہ صرف مقامی بلکہ بین الاقوامی سیاحت کے لیے بھی اہم مقام بن سکتا ہے۔ فنِ تعمیر، تاریخ اور آثارِ قدیمہ سے دلچسپی رکھنے والے محققین کے لیے یہ مسجد ایک قیمتی تحقیقی مطالعہ ثابت ہو سکتی ہے۔یہ مسجد نہ صرف لودھی دور کے فنِ تعمیر کی ایک نادر مثال ہے بلکہ پاکستان کے قدیم اسلامی ثقافتی ورثے کا ایک اہم حصہ بھی ہے۔ اس تاریخی یادگار کے مؤثر تحفظ، بحالی اور علمی مطالعے کے ذریعے ہم اپنی تہذیبی شناخت کو مزید مضبوط بنا سکتے ہیں اور آنے والی نسلوں کو اپنے شاندار ماضی سے جوڑے رکھ سکتے ہیں۔