ڈینگی سے بچائو

ڈینگی سے بچائو

اسپیشل فیچر

تحریر : فائزہ نذیر احمد


ہر سال موسم برسات میں وبائی امراض باعث تشویش ہوتے ہیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ گندے پانی‘ مچھر اور ناقص صفائی کے انتظامات کی وجہ سے ڈینگی کا مرض پھیلاتا ہے۔ کھڑے پانی سے مختلف بیماریاں ڈینگی ‘ دماغی بخار‘ چکن گنیا‘ ملیریا جیسے امراض خصوصاً چھوٹے بچوں کو متاثر کررہے ہیں۔ عموماً جون تا اکتوبر کے درمیان میں ملیریا متاثر کرتا ہے۔ایناملس مادہ مچھر کے کاٹنے کی وجہ سے ملیریا بیماری پھیلتی ہے۔تازے پانی کامچھر لوگوں کو کاٹ کر ڈینگی بخار میں مبتلا کرتا ہے اور وائرس کے ذریعہ دوسروں لوگوں میں بھی یہ مرض منتقل ہوتا ہے۔ اس مچھر کے کاٹنے کے بعد انسانی جسم میں 5 سے لے کر 8 علامتیں ظاہر ہوتی ہیں۔ کثرت سے بخار‘ سردرد‘ آنکھوں میں درد جو پلک کے جھپکنے کے دوران بھی ہوتا ہے‘ جوڑوں کا درد‘ پیاس کا شدت سے ہونا‘ جسم درد‘ جسم کے اوپر جلد پر خراش ہونا‘ بلڈ پریشر میں کمی واقع ہونا۔ان علامتوں میں کسی ایک علامت کے شکار ہوجائے تو فوری ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔٭مہلک مرض سے بچنے کے تدابیر : کلورین واٹر پیئں یا پھر پانی کو گرم کرکے پینا چاہئے۔ گرم غذا کا استعمال کریں۔گھر کے اطراف میں مکمل طریقہ سے صفائی کا اہتمام کرنا چاہئے۔ کھانے کی اشیاء کو ڈھانپ کر رکھنا چاہئے۔ غذا کو زیادہ مقدار میں بہت دنوں تک رکھنے سے پرہیز کرنا چاہئے۔ بازار میں کھلے عام فروخت ہونے والے برف سے بھی احتیاط برتیں۔ گھر کے پانی کی ٹینکی کو ڈھانپ کر رکھنا چاہئے اور اس کی صفائی وقتاً فوقتاً یا کم از کم 3 مہینہ میں ایک بار کرنا ضروری ہے۔ مچھروں سے محفوظ رہنے کے لئے مچھر دانی کا استعمال کرنا چاہئے اور مچھر کے مکان یا کمروں میں داخلہ روکنے کے لئے کھڑکیوں اور دروازوں پر جالیاں تنصیب کرنا چاہئے۔ ڈینگی مچھر صرف دن کے اوقات میں ہی ڈینگی وائرس پھیلاتا ہے جس کی وجہ سے ڈاکٹروں کا مشورہ ہے کہ دن کے اوقات میں مچھروں سے پوری طرح احتیاط لازمی ہے۔ ان احتیاطی تدابیر میں جسم کو مکمل محفوظ رکھنے کے لئے دن کے اوقات میں جوتے اور موزے کا استعمال مناسب ہے۔ مچھر سے بچنے کے لئے جسم کے کھلے حصہ پر ہاتھ پیر وغیرہ پرمرہم کے لگانے سے بھی مچھر کے نقصان سے محفوظ رکھا جاسکتا ہے۔ مچھر کے کاٹنے کے بعد جسم کے مختلف حصوں میں درد‘ بے چینی پائی جاتی ہے۔ اسی وقت فوری ڈاکٹر سے رجوع ہو کر علاج کروائیں‘ تاخیر سے صحت میں مزید خرابی پیدا ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ احتیاط کے طور پر اس موسم میں ایک دوسرے کے تولیہ کا استعمال نہ کریں۔ اس موسم میں تولیہ کو گرم پانی سے دھونے پر اس میں پیوست جراثیم ختم ہوجاتے ہیں۔ شہریوں میں احتیاطی تدابیر کے فوائد کے لئے شعور بیداری ضروری ہے تاکہ کسی بھی قسم کی بیماری سے محفوظ رکھا جاسکے۔٭ملیریا ویکسین تیار:ملیریا سے بچاؤ کی ویکسین تیار کرنے والے سائنسدانوں نے اپنے تجربات کے کچھ نتائج شائع کیے ہیں۔ یہ نتائج انتہائی حوصلہ افزا ہیں اور اس کی کامیابی کا تناسب بہت زیادہ ہے۔امریکی ریاست میری لینڈ کی ایک بائیوٹیک لیبارٹری میں سائنسدان مچھروں کو برقی شعاعوں سیگزار کر ان پیراسائٹس کو کمزور کرتے ہیں جس سے ملیریا پھیلتا ہے۔سائنسدان پھر ان کمزورپیراسائٹس کو انسانوں کے جسم میں داخل کرتے ہیں تاکہ انسان کا قوت معدافت کا نظام حرکت میں آئے اور مضبوط ہو۔سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ جتنے بھی رضاکاروں پر تجربہ کیا گیا ان میں سے اسی فیصد میں ملیریا کے خلاف قوت مدافعت پیدا ہوگئی۔البتہ سائنسدانوں کی ٹیم سربراہ نے کہا ہے کہ ابھی تک ہونے والے ٹرائل انتہائی محدود پیمانے کے ہیں اور اس ویکیسین کا بڑھانے پیمانے پر ٹرائل کرنے کی ضرورت ہے۔٭…٭…٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
عالمی یومِ جمہوریت

عالمی یومِ جمہوریت

 جمہوریت صرف ووٹ کا نام نہیں  ہر سال 15 ستمبر کو عالمی یومِ جمہوریت (International Day of Democracy) منایا جاتا ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا  ہے کہ جمہوریت محض انتخابات، سیاسی جماعتوں یا پارلیمنٹ کا نام نہیں بلکہ نظامِ حکمرانی کا ایک ایسا تصور ہے جس میں ریاست کے معاملات میں عوام کی رائے کو بنیادی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ اقتدار قانون کا پابند ہوتا ہے، اختلافِ رائے کو برداشت کیا جاتا ہے اور شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری سمجھا جاتا ہے۔جمہوریت کی بنیاد اس تصور پر قائم ہے کہ ریاست عوام کے لیے ہے اور اقتدار عوام کی مرضی اور رضامندی سے چلنا چاہیے۔ جمہوری نظام میں حکمران عوام کے سامنے جوابدہ ہوتے ہیں اور انہیں یہ اختیار مستقل طور پر حاصل نہیں ہوتا کہ وہ اپنی مرضی کو عوام پر مسلط کریں۔ انتخابات عوام کو یہ موقع فراہم کرتے ہیں کہ وہ اپنی پسند کے نمائندے منتخب کریں جبکہ آزاد عدلیہ، پارلیمنٹ، آزاد میڈیا، مضبوط بلدیاتی ادارے اور فعال سول سوسائٹی اس نظام کو توازن فراہم کرتے ہیں۔15 ستمبر کی تاریخ کیوں اہم ہے؟عالمی یومِ جمہوریت کی بنیاد 1997ء میں پڑی جب بین الپارلیمانی یونین (Inter-Parliamentary Union) نے جمہوریت کے عالمی اصولوں سے متعلق اعلامیہ منظور کیا۔ بعد ازاں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 8 نومبر 2007 ء کو ایک قرارداد کے ذریعے ہر سال 15 ستمبر کو عالمی یومِ جمہوریت منانے کا فیصلہ کیا۔ 15 ستمبر 2008ء کو یہ دن پہلی مرتبہ عالمی سطح پر منایا گیا۔اس دن کا مقصد دنیا کو یہ احساس دلانا ہے کہ جمہوریت کوئی ایسی منزل نہیں جسے ایک مرتبہ حاصل کر لینے کے بعد ہمیشہ کے لیے محفوظ سمجھ لیا جائے۔ جمہوری اداروں کو مسلسل مضبوط کرنا پڑتا ہے، شہری آزادیوں کا تحفظ کرنا پڑتا ہے اور اقتدار کے استعمال کو آئین اور قانون کے دائرے میں رکھنا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سال عالمی یومِ جمہوریت کسی نہ کسی اہم جمہوری قدر کی طرف عالمی توجہ مبذول کراتا ہے۔پاکستان کیلئے اہمیتپاکستان کیلئے جمہوریت کی اہمیت محض سیاسی نہیں بلکہ قومی استحکام سے بھی جڑی ہوئی ہے۔ پاکستان مختلف زبانوں، ثقافتوں اور سیاسی خیالات رکھنے والے کروڑوں شہریوں کا ملک ہے۔ ایسے متنوع معاشرے کو مستحکم رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہر شہری کو یہ یقین ہو کہ اس کی آواز سنی جا سکتی ہے، اس کے ووٹ کی قدر ہے اور اس کے بنیادی حقوق محفوظ ہیں۔پاکستان میں سیاسی عدم استحکام، حکومتوں کی قبل از وقت تبدیلی، اداروں کے درمیان کشمکش، انتخابی تنازعات اور سیاسی تقسیم نے جمہوری نظام کو کئی مرتبہ مشکلات سے دوچار کیا تاہم اس کے باوجود پاکستان میں جمہوریت کی خواہش کبھی ختم نہیں ہوئی۔لیکن یہاں ایک بنیادی سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ صرف انتخابات کا انعقاد ہی جمہوریت کی ضمانت ہے؟اس کا جواب نفی میں ہے۔ انتخابات جمہوریت کا ایک اہم ستون ضرور ہیں لیکن مکمل جمہوریت اس سے کہیں وسیع تصور ہے۔ اگر انتخابات تو ہوں لیکن سیاسی مخالفین کو پرامن سیاسی سرگرمی کا حق حاصل نہ ہو، اظہارِ رائے محدود ہو، ادارے کمزور ہوں، قانون سب کے لیے یکساں نہ ہو یا عوامی نمائندے اپنی ذمہ داریوں کے لیے جواب دہ نہ ہوں تو جمہوریت کا مقصد پورا نہیں ہوتا۔حقیقی جمہوریت میں اختلاف دشمنی نہیں ہوتا۔ حکومت اور اپوزیشن ریاستی نظام کے اہم حصے ہوتے ہیں۔ اپوزیشن کا کام صرف حکومت کی مخالفت کرنا نہیں بلکہ حکومتی پالیسیوں پر نظر رکھنا اور متبادل تجاویز پیش کرنا بھی ہے۔ اسی طرح حکومت کو بھی تنقید کو ریاست دشمنی یا ذاتی دشمنی کے بجائے جمہوری عمل کا لازمی حصہ سمجھنا چاہیے۔پاکستان میں جمہوریت کے استحکام کے لیے سیاسی جماعتوں کا کردار بھی انتہائی اہم ہے۔ جمہوری جماعتیں صرف انتخابات کے دوران فعال نہیں ہونی چاہئیں بلکہ ان کے اندر بھی جمہوری رویے فروغ پانے چاہئیں۔ قیادت کا انتخاب، پالیسی سازی، کارکنوں کی تربیت اور فیصلوں میں مشاورت ایسے عوامل ہیں جو سیاسی جماعتوں کو مضبوط بناتے ہیں۔ اگر سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوری کلچر کمزور ہو تو پارلیمانی جمہوریت بھی مضبوط بنیادوں پر استوار نہیں ہو سکتی۔اسی طرح مقامی حکومتیں جمہوریت کی نرسری کی حیثیت رکھتی ہیں۔ عام شہری کا ریاست سے سب سے براہِ راست تعلق اپنے محلے، یونین کونسل، شہر یا ضلع کے مسائل کے ذریعے ہوتا ہے۔ صاف پانی، صفائی، سڑکیں، نکاسی آب، صحت اور تعلیم جیسے بنیادی مسائل مقامی سطح پر بہتر طور پر حل کیے جا سکتے ہیں۔ بااختیار اور باقاعدگی سے منتخب بلدیاتی ادارے شہریوں کو عملی طور پر جمہوریت کا تجربہ فراہم کرتے ہیں۔پاکستان کے لیے اس دن کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ جمہوریت کو محض ایک سیاسی نعرہ بنانے کے بجائے ایک مستقل طرزِ حکمرانی اور معاشرتی رویے کے طور پر اپنانا ہوگا۔15ستمبر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جمہوریت صرف اقتدار حاصل کرنے کا طریقہ نہیں یہ اقتدار کو عوام کے سامنے جوابدہ رکھنے کا نظام ہے۔ پاکستان کا جمہوری مستقبل اسی وقت مضبوط ہوگا جب سیاسی اختلاف کو برداشت، آئین کو بالادست، قانون کو یکساں اور عوام کو ریاستی نظام کا حقیقی مرکز تسلیم کیا جائے۔

کوانٹم کمپیوٹرز

کوانٹم کمپیوٹرز

وہ کر دکھایا جو عام کمپیوٹر کیلئے ممکن نہیںکمپیوٹر کی دنیا میں کئی دہائیوں سے سائنسدان یہ پوچھتے آئے ہیں کہ کیا ایسی مشین بنائی جا سکتی ہے جو ایسے مسائل حل کر سکے جنہیں عام یعنی کلاسیکل کمپیوٹر مؤثر انداز میں حل نہ کر سکے؟ کوانٹم کمپیوٹنگ اسی سوال کا جواب تلاش کرنے والی ایک جدید ٹیکنالوجی ہے۔ ایک حالیہ تجربے میں سائنسدانوں نے کوانٹم کمپیوٹر کی ایسی صلاحیت کا عملی مظاہرہ کیا ہے جس نے اس شعبے میں ایک اہم پیش رفت کی بنیاد رکھ دی ہے۔کوانٹینوم کے محققین نے ایک خاص قسم کا حسابی مسئلہ تیار کیا جسے کَمپلیمنٹ سیمپلنگ کہا جاتا ہے۔ اس تجربے میں کوانٹم کمپیوٹر نے ایسی کارکردگی دکھائی جو کلاسیکل کمپیوٹر کے لیے مقرر کی گئی ریاضیاتی حد سے واضح طور پر بہتر تھی۔ اہم بات یہ ہے کہ یہاں کلاسیکل کمپیوٹر کی کمزوری صرف ایک اندازہ نہیں بلکہ ریاضیاتی طور پر ثابت شدہ تھی۔کَمپلیمنٹ سیمپلنگ کیا ہے؟اس تجربے کو سمجھنے کے لیے ایک سادہ مثال لیتے ہیں۔ فرض کریں ہمارے پاس نمبروں کا ایک بڑا مجموعہ ہے اور اس میں سے کچھ نمبروں کو ایک گروپ میں رکھا گیا ہے۔ اب ہمیں ایسے نمونے تلاش کرنے ہیں جو اس گروپ کے بجائے اس کے مخالف یا باقی ماندہ گروپ یعنی کَمپلیمنٹ سے تعلق رکھتے ہوں۔کلاسیکل کمپیوٹر کو یہ کام دستیاب معلومات کی بنیاد پر کرنا پڑتا ہے۔ جیسے جیسے مسئلے کا حجم بڑھتا ہے درست جواب تک پہنچنے کے لیے اسے زیادہ سے زیادہ معلومات اور حساب درکار ہوتا ہے۔ ایک خاص حد کے بعد یہ کام انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔کوانٹم کمپیوٹر یہاں ایک بالکل مختلف اصول استعمال کرتا ہے۔ کوانٹم کمپیوٹر کے بنیادی یونٹ کو ''کیوبٹ‘‘ کہا جاتا ہے۔ عام کمپیوٹر میں معلومات بٹس کی صورت میں ہوتی ہیں جبکہ کیوبٹ کو کوانٹم میکینکس کی بدولت ایک ہی وقت میں متعدد ممکنہ حالتوں کے امتزاج میں رکھا جا سکتا ہے۔ اسے سپرپوزیشن کہا جاتا ہے۔محققین نے اسی کوانٹم خاصیت کو استعمال کرتے ہوئے ایسا طریقہ اختیار کیا جس سے ایک مخصوص کوانٹم حالت کو اس کے کَمپلیمنٹ سے متعلق حالت میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح کوانٹم کمپیوٹر کو اس مسئلے میں ایسی برتری حاصل ہوتی ہے جو کلاسیکل طریقوں سے ممکن نہیں۔55 کیوبٹس والے کوانٹم کمپیوٹر کا تجربہیہ کامیابی صرف نظریاتی دعویٰ نہیں تھی۔ محققین نے اسے حقیقی کوانٹم ہارڈویئر پر آزمایا۔ تجربے میں کوانٹینوم کے ٹریپڈ آئن کوانٹم کمپیوٹرز استعمال کیے گئے اور مختلف سائز کے مسائل حل کیے گئے۔سب سے بڑے تجربات میں 55 کیوبٹس استعمال کیے گئے جبکہ مسئلے کا حجم 37 بٹس تک پہنچا۔ جیسے جیسے مسئلے کا حجم بڑھتا گیا کوانٹم طریقے اور بہترین ممکنہ کلاسیکل طریقے کے درمیان فرق بھی بہت تیزی سے بڑھتا گیا۔نظریاتی طور پر سب سے بڑے مسئلے میں دونوں طریقوں کی کارکردگی کے درمیان فرق تقریباً 137 ارب گنا تک پہنچ سکتا تھا، تاہم یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ کوانٹینوم کا کوانٹم کمپیوٹر عام طور پر کسی جدید سپر کمپیوٹر سے 137 ارب گنا تیز ہے۔یہ فرق صرف اسی مخصوص ریاضیاتی مسئلے کے حوالے سے ہے جسے تجربے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ عام حساب، انٹرنیٹ، ویڈیو، دفتری کام یا روزمرہ استعمال میں کلاسیکل کمپیوٹر اب بھی کہیں زیادہ عملی ہیں۔کیا کلاسیکل کمپیوٹرز کا دور ختم ہونے والا ہے؟اس تجربے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اب کلاسیکل کمپیوٹرز غیر ضروری ہو جائیں گے۔آج کا موبائل فون، لیپ ٹاپ، سرور اور سپر کمپیوٹر کروڑوں ایسے کام انتہائی مؤثر انداز میں انجام دیتے ہیں جن کے لیے کوانٹم کمپیوٹر کی ضرورت ہی نہیں۔ کوانٹم کمپیوٹر کا اصل مقصد کلاسیکل کمپیوٹر کی جگہ لینا نہیں بلکہ ایسے مخصوص مسائل حل کرنا ہے جہاں کوانٹم میکینکس کی خصوصیات حقیقی فائدہ فراہم کر سکیں۔مستقبل میں کوانٹم کمپیوٹرز سے دواؤں کی تیاری، نئے مواد کی دریافت، پیچیدہ کیمیائی نظاموں کی نقل، مالیاتی مسائل، بعض قسم کے آپٹیمائزیشن مسائل اور کرپٹوگرافی جیسے شعبوں میں اہم فوائد حاصل ہونے کی امید ہے،تاہم اس منزل تک پہنچنے کے لیے ابھی کئی مشکلات موجود ہیں۔ کوانٹم کیوبٹس بہت حساس ہوتے ہیں اور معمولی ماحولیاتی مداخلت بھی ان میں غلطی پیدا کر سکتی ہے۔ اسی لیے سائنسدان ایرر کریکشن یعنی غلطیوں کی اصلاح اور فالٹ ٹالرنٹ کوانٹم کمپیوٹنگ پر مسلسل کام کر رہے ہیں۔حالیہ تجربے کی اہمیت یہ ہے کہ اس نے یہ دکھایا ہے کہ کوانٹم کمپیوٹر محض ایک نظری تصور نہیں رہا۔ حقیقی ہارڈویئر پر ایک ایسے مسئلے میں کوانٹم مشین نے کلاسیکل طریقوں کی ثابت شدہ حد عبور کی ہے جو خاص طور پر اس مقصد کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔یہ ابھی کوانٹم کمپیوٹنگ کا آخری سنگِ میل نہیں بلکہ ایک اہم مرحلہ ہے۔ آنے والے برسوں میں اصل چیلنج یہ ہوگا کہ ایسی کوانٹم برتری کو مزید پیچیدہ اور حقیقی دنیا کے مسائل میں کیسے منتقل کیا جائے۔اگر سائنسدان غلطیوں اور محدود کیوبٹس کے مسائل پر قابو پانے میں کامیاب ہو گئے تو یہ تجربہ مستقبل کی ایک بہت بڑی کمپیوٹنگ انقلاب کی ابتدائی جھلک ثابت ہو سکتا ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

وسطی امریکہ کی آزادی15 ستمبر 1821ء کو گواٹے مالا سٹی میں سپین کی نوآبادیاتی حکومت سے آزادی کا اعلان کیا گیا۔ اٹھارہویں صدی کے اختتام اور انیسویں صدی کے آغاز میں لاطینی امریکہ میں آزادی کی تحریکیں زور پکڑ رہی تھیں۔ 15 ستمبر کو گواٹے مالا میں سیاسی، مذہبی اور انتظامی شخصیات کا اجلاس ہوا اور آزادی کے اعلان پر اتفاق کیا گیا۔آج بھی 15 ستمبر گواٹے مالا، ایل سلواڈور، ہونڈوراس، نکاراگوا اور کوسٹا ریکا میں آزادی کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس طرح 1821ء کا یہ واقعہ نہ صرف سپین کی نوآبادیاتی سلطنت کے خاتمے کا ایک اہم مرحلہ تھا بلکہ وسطی امریکہ کی جدید سیاسی شناخت کی بنیاد بھی بنا۔ ٹینک میدانِ جنگ میں 15 ستمبر 1916ء کو پہلی جنگِ عظیم کے دوران برطانیہ نے ٹینک میدان جنگ میں پہلی بارا ستعمال کئے۔ یہ واقعہ فرانس میں بیٹل آف فلیرز-کورسلیٹ کے دوران پیش آیا جو سومی کی بڑی جنگ کا حصہ تھی۔ پہلی جنگِ عظیم میں مغربی محاذ پر خندقوں کی جنگ نے فوجی کمانڈروں کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا تھا۔ دونوں جانب فوجیں خندقوں میں رہتی تھیں جبکہ درمیان میں کھلی زمین، خاردار تاریں، مشین گنیں اور توپ خانے موجود ہوتے۔ پیدل فوج کے لیے دشمن کی دفاعی لائن عبور کرنا انتہائی مشکل اور جان لیوا تھا۔ اسی مسئلے کا حل تلاش کرنے کے لیے برطانیہ میں ایک بکتر بند، زنجیری پہیوں پر چلنے والی گاڑی تیار کی گئی جسے بعد میں ٹینک کہا گیا۔پنسلین کی دریافت سکاٹش سائنسدان الیگزینڈر فلیمنگ نے 15 ستمبر 1928ء کو پینسلین کی دریافت کی جو طب کی دنیا میں ایک بہت بڑی کامیابی تھی۔ فلیمنگ نے دیکھا کہ ایک خاص قسم کی پھپھوندی کے اردگرد موجود بیکٹیریا ختم ہو رہے تھے۔پنسلین نے لاکھوں انسانوں کی جانیں بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس دوا کی مدد سے نمونیا، خون کے انفیکشن اور کئی خطرناک بیکٹیریائی بیماریوں کا علاج ممکن ہوا۔ دوسری جنگِ عظیم کے دوران پنسلین نے زخمی فوجیوں کے علاج میں بہت مدد کی۔الیگزینڈر فلیمنگ کی دریافت نے جدید طب میں ایک نئے دور کا آغاز کیا اور ان کی عظیم خدمت کی وجہ سے انہیں 1945ء میں نوبیل انعام دیا گیا۔ بیٹل آف برٹن ڈے15 ستمبر 1940ء دوسری جنگِ عظیم کے دوران برطانیہ اور نازی جرمنی کے درمیان جاری بیٹل آف برٹن کا ایک فیصلہ کن دن سمجھا جاتا ہے۔ اس دن جرمن فضائیہ نے لندن پر بڑے پیمانے پر حملے کیے جبکہ برطانوی فضائیہ نے بھرپور مزاحمت کی۔ اس دن لندن پر دن کے وقت دو بڑے فضائی حملے ہوئے ۔ جرمن قیادت یہ سمجھ رہی تھی کہ برطانوی فضائیہ شدید دباؤ میں ہے اور اس کی جنگی صلاحیت تقریباً ختم ہو چکی ہے لیکن 15 ستمبر کی مزاحمت نے اس اندازے کو غلط ثابت کیا۔ اس کے بعد جرمنی نے دن کے وقت بڑے پیمانے کی فضائی کارروائیوں میں تبدیلیاں شروع کیں اور برطانیہ پر حملے کی حکمت عملی تبدیل ہوئی۔یہ واقعہ دوسری جنگِ عظیم میں برطانیہ کی مزاحمت اور جرمنی کی جنگی حکمت عملی پر ایک اہم اثر ڈالنے والا دن ثابت ہوا۔ خروشیف کا دورۂ امریکہ 15 ستمبر 1959ء کو سوویت یونین کے رہنما نکیتا خروشیف امریکہ پہنچے۔ وہ امریکہ کا دورہ کرنے والے پہلے سوویت سربراہِ حکومت تھے۔ 1950ء کی دہائی میں سرد جنگ کے باعث دنیا ایٹمی جنگ کے خدشے سے دوچار تھی، ایسے ماحول میں دونوں سپر پاورز کے سربراہوں کی براہِ راست ملاقات غیر معمولی اہمیت رکھتی تھی۔اگرچہ اس دورے کے بعد بھی امریکہ روس اختلافات ختم نہیں ہوئے لیکن اس ملاقات نے یہ ثابت کیا کہ شدید نظریاتی اور فوجی کشیدگی کے باوجود دونوں سپر پاورز کے رہنما براہِ راست مذاکرات کر سکتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ 15 ستمبر 1959ء کو ہونے والا یہ دورہ سرد جنگ کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل سمجھا جاتا ہے۔

جدید گاڑیوں کو انوکھا خطرہ درپیش!

جدید گاڑیوں کو انوکھا خطرہ درپیش!

 شمسی سرگرمیاں گاڑیوں کے حساس الیکٹرانک نظام کو متاثر کرسکتی ہیں  جدید ٹیکنالوجی نے گاڑیوں کو پہلے سے کہیں زیادہ محفوظ، تیز رفتار اور خودکار بنا دیا ہے، لیکن اب ایک ایسا غیر متوقع خطرہ سامنے آیا ہے جس کا تعلق زمین سے نہیں بلکہ خلائی موسم سے ہے۔ سورج سے خارج ہونے والی شدید شمسی سرگرمیاں اور مقناطیسی طوفان جدید گاڑیوں میں موجود حساس الیکٹرانک نظام اور نیوی گیشن ٹیکنالوجی کو متاثر کرسکتے ہیں۔  ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ خلائی طوفان شدید نوعیت کے ہوں تو گاڑیوں کے نظام میں خلل پڑنے سے سڑکوں پر ہزاروں حادثات کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ اچانک آنے والا ایک شدید شمسی طوفان امریکا بھر کی سڑکوں پر افراتفری پیدا کرسکتا ہے، کیونکہ خودکار ڈرائیونگ کرنے والی گاڑیوں کے جی پی ایس نظام میں ایک ایسا خطرناک نقص سامنے آیا ہے جو جان لیوا حادثات کا سبب بن سکتا ہے۔ بوسٹن میں محققین کی ایک ٹیم نے پہلی مرتبہ تصدیق کی ہے کہ طاقتور شمسی شعلوں سے خارج ہونے والی توانائی زمین سے ٹکرانے کے نتیجے میں جی پی ایس کے ریڈیو سگنلز میں خلل پڑ سکتا ہے۔ خودکار گاڑیوں میں اس خلل کے باعث رہنمائی کرنے والے کمپیوٹرز کی نشاندہی میں 30 فٹ سے زیادہ کی غلطی پیدا ہو گئی۔ اس معمولی نظر آنے والے فرق کا مطلب ٹریفک کے دوران گاڑی کا غلط لین میں چلے جانا، سرخ بتی عبور کرنا یا کسی جان لیوا حادثے کا شکار ہونا ہوسکتا ہے۔تحقیق میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ خودکار زرعی مشینری بھی حالیہ شمسی طوفانوں سے متاثر ہوئی۔ یہ مشینیں فصلوں کی بوائی اور کٹائی کے دوران بالکل سیدھی لائنوں میں کام کرنے کیلئے جی پی ایس پر انحصار کرتی ہیں۔ شمسی طوفانوں کے باعث اس نظام میں خلل پڑنے سے تقریباً 50 کروڑ ڈالر کا نقصان ہوا۔سائنسدانوں کو عموماً ایک سے تین دن پہلے ممکنہ شمسی طوفان کی اطلاع مل جاتی ہے، تاہم وہ اب بھی قابلِ اعتماد طور پر یہ پیش گوئی نہیں کرسکتے کہ طوفان کتنا شدید ہوگا۔محققین کی ٹیم نے نومبر 2025ء میں آنے والے ایک طاقتور شمسی طوفان کے دوران جی پی ایس اور اسی نوعیت کے دیگر سیٹلائٹ نیوی گیشن سگنلز میں پیدا ہونے والی خرابیوں کا جائزہ لیا۔ تحقیق کے مطابق 12 نومبر کو طوفان کے شدید ترین مرحلے کے دوران جی پی ایس کی غلطیاں کئی گھنٹوں تک برقرار رہیں۔ یہ وہی وقت تھا جب امریکا کے مختلف علاقوں میں آسمان پر شفقِ قطبی (Aurora) کے مناظر بھی اپنے عروج پر دیکھے گئے۔شمسی سرگرمی کی اسی لہر نے مسافر طیاروں کو بھی متاثر کیا۔ تابکاری کے اچانک جھٹکوں سے بعض طیاروں کے آن بورڈ کمپیوٹرز میں خلل پڑا۔ اس واقعے کے بعد فضائی کمپنیوں کو ہزاروں طیاروں کے نظام کو اپ ڈیٹ کرنا پڑا۔اس تحقیق کی قیادت ایرو اسپیس کارپوریشن سے وابستہ خلائی طبیعیات دان اینڈاووک ییزینگاو (Endawoke Yizengaw) نے کی۔ محققین نے اپنے نتائج کو ''اہم پوزیشننگ غلطیاں‘‘ قرار دیا، جو امریکا کے براعظمی علاقوں میں درست زرعی نظام اور خودکار نقل و حمل کی صنعتوں میں خلل ڈالنے کیلئے کافی بڑی ہو سکتی ہیں۔دنیا بھر میں اس وقت تقریباً 10ہزار مکمل طور پر بغیر ڈرائیور کے چلنے والی گاڑیاں تجارتی بنیادوں پر استعمال ہورہی ہیں۔ ان میں امریکا کے مختلف شہروں میں چلنے والی ویمو روبو ٹیکسیاں بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ زوکس اور ٹیسلا کی روبوٹیکسی سروس کے چھوٹے بیڑے بھی موجود ہیں۔ اگرچہ یہ خودکار گاڑیاں راستہ تلاش کرنے کیلئے کیمروں، ریڈار اور تفصیلی نقشوں سے بھی مدد لیتی ہیں، تاہم سڑک پر اپنی درست پوزیشن معلوم کرنے کیلئے جی پی ایس پر انحصار کرتی ہیں۔ایک بڑا شمسی طوفان سورج سے توانائی کا ایک زبردست اخراج کرسکتا ہے، جو آئنوسفیئر میں خلل ڈالتا ہے۔ آئنوسفیئر زمین کی سطح سے تقریباً 50 سے 600 میل کی بلندی پر موجود برقی طور پر چارج شدہ فضا کی ایک تہہ ہے۔ جی پی ایس سگنلز کو اسی متاثرہ تہہ سے گزر کر زمین تک پہنچنا ہوتا ہے۔ شمسی طوفان کے باعث اس تہہ میں پیدا ہونے والی بے ترتیبی سے سگنلز میں ارتعاش پیدا ہوسکتا ہے، وہ قدرے تاخیر سے پہنچ سکتے ہیں یا ان کی طاقت کم ہوسکتی ہے۔ نتیجتاً گاڑی کا کمپیوٹر اس کی غلط جغرافیائی پوزیشن کا تعین کرسکتا ہے۔ سڑک پر 30 سے 33 فٹ کی پوزیشننگ غلطی امریکا کی بیشتر ڈرائیونگ لینز کی چوڑائی سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے۔ اس صورت حال سے گاڑی میں سوار مسافروں کو شدید خطرہ لاحق ہو سکتا ہے یا ڈرائیور کو خودکار نظام سے دوبارہ گاڑی کا کنٹرول سنبھالنے پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے۔شمسی سرگرمی کے 11 سالہ چکر کے دوران معمولی شمسی طوفان نسبتاً عام ہوتے ہیں۔ تاہم امریکا بھر میں جی پی ایس سگنلز کو متاثر کرنے کی حد تک طاقتور شمسی طوفان کم ہی آتے ہیں۔ تحقیقی جریدے''جیو فزیکل ریسرچ لیٹرز‘‘ میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں بتایا گیا کہ اسی نوعیت کا ایک جغرافیائی مقناطیسی طوفان مئی 2024ء میں بھی آیا تھا، جس کے نتیجے میں امریکا کے کسانوں کو شدید مشکلات اور بڑے پیمانے پر خلل کا سامنا کرنا پڑا۔شمسی تابکاری صرف جی پی ایس کمپیوٹرز کے نظام کو متاثر کرنے تک محدود نہیں۔ زمین سے ٹکرانے والے برقی چارج شدہ ذرات کے طاقتور اخراج سے ریڈیو مواصلاتی نظام بھی متاثر ہو سکتے ہیں، جبکہ شدید شمسی طوفان بجلی کے ٹرانسفارمرز اور پاور لائنز پر اضافی دباؤ ڈال کر انہیں اوورلوڈ کرسکتا ہے، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر بجلی کی بندش کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ماضی میں آنے والے شمسی طوفانوں نے دنیا بھر میں سیٹلائٹ مواصلاتی نظام میں بھی خلل ڈالا ہے، جن میں ایلون مسک کی اسٹارلنک انٹرنیٹ سروس میں پیدا ہونے والی بندشیں بھی شامل ہیں۔

خودکشی کا بڑھتا ہوا رجحان

خودکشی کا بڑھتا ہوا رجحان

خودکشی صرف ایک فرد کی موت کا واقعہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے موجود معاشرتی، نفسیاتی، خاندانی اور معاشی مسائل کی ایک پیچیدہ تصویر ہوتی ہے۔ جب کوئی انسان اپنی زندگی کے بارے میں انتہائی مایوس ہو جاتا ہے تو اس کیفیت کو صرف ایک لمحے کا فیصلہ قرار دینا مسئلے کی اصل نوعیت کو سمجھنے کیلئے کافی نہیں۔ عموماً اس کے پیچھے طویل عرصے سے جمع ہونے والا ذہنی دباؤ، تنہائی، گھریلو تنازعات، معاشی مشکلات، تعلیمی یا پیشہ ورانہ پریشانی اور مدد حاصل نہ کر پانے کی صورت حال شامل ہو سکتی ہے۔ اسی لیے پاکستان میں خودکشی کے مسئلے کو محض اعداد و شمار کے بجائے ایک اہم عوامی اور ذہنی صحت کے مسئلے کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔آج کے دور میں نوجوان نسل کے اندر خودکشی کے بڑھتے ہوئے رجحان نے پوری سوسائٹی، والدین اور ماہرین نفسیات کو شدید تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے۔ جو عمر جینے، خواب دیکھنے اور اپنے مستقبل کی بنیاد رکھنے کی ہوتی ہے، اسی عمر میں مایوسی اور ذہنی دباؤ کے بادل اس قدر گہرے ہو جاتے ہیں کہ کچھ نوجوان موت کو ہی اس کا واحد حل سمجھ بیٹھتے ہیں۔جدید دور کی تیز رفتار زندگی، سوشل میڈیا کے بے جا استعمال اور مجازی دنیا کی چمک دمک نے نوجوانوں کو حقیقی رشتوں اور خاندانی محفلوں سے دور کر دیا ہے۔ ہجوم میں گھیرے رہنے کے باوجود نوجوان اندر سے شدید تنہائی کا شکار ہیں۔ ہر وقت دوسروں کی فرضی اور مثالی زندگیوں سے اپنا مقابلہ کرنا، تعلیمی اداروں کا شدید مقابلہ بازی کا ماحول اور مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال ان کے ذہنوں پر ایک مستقل بوجھ بن جاتی ہے، جسے وہ تنہا برداشت کرنے کے قابل نہیں رہتے۔والدین اور اولاد کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج اس بحران کا ایک اور اہم سبب ہے۔ روزمرہ کی دوڑ دھوپ میں والدین کے پاس اتنی فرصت نہیں ہوتی کہ وہ اپنے بچوں کے دل کا حال جان سکیں۔ جب نوجوان اپنے جذبات، ناکامیوں یا اندرونی کشمکش کا اظہار گھر میں نہیں کر پاتے، تو وہ شدید فرسٹریشن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ گھر کا ماحول جہاں انہیں ڈانٹ ڈپٹ یا تنقید کا سامنا رہتا ہے، بچوں کو باہر کی دنیا کے سرد رووں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتا ہے۔موجودہ معاشرتی اور معاشی حالات نے نوجوانوں کے سامنے ایک اور بڑا پہاڑ کھڑا کر رکھا ہے۔ ڈگریاں حاصل کرنے کے بعد بھی مناسب روزگار کا نہ ملنا، مہنگائی کا طوفان اور اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کی مجبوری نوجوانوں میں احساسِ کمتری کو جنم دیتی ہے۔ وہ خود کو اپنے خاندان اور معاشرے پر بوجھ سمجھنے لگتے ہیں، جو آہستہ آہستہ ڈپریشن اور پھر اس انتہائی قدم کی طرف لے جاتا ہے۔اس ناسور پر قابو پانے کیلئے معاشرے کے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ تعلیمی اداروں اور میڈیا پر اس حوالے سے کھل کر بات ہونی چاہیے تاکہ ذہنی صحت سے جڑے مسائل کو تبصرہ یا عیب سمجھنے کے بجائے ایک قابلِ علاج بیماری سمجھا جائے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے دوست بنیں، ان کی بات کو بغیر کسی فیصلے یا طعنے کے سنیں اور انہیں یہ احساس دلائیں کہ ان کی زندگی کسی بھی کامیابی یا ناکامی سے بڑھ کر قیمتی ہے۔ پاکستان میں اس مسئلے کی شدت کا درست اندازہ لگانا خود ایک بڑا چیلنج ہے۔ ملک میں خودکشی کے واقعات کا ایسا مکمل قومی نظام موجود نہیں جس میں ہر واقعہ یکساں طریقے سے درج، تصدیق اور مرکزی سطح پر جمع کیا جاتا ہو۔ ایک تحقیقی جائزے کے مطابق پاکستان میں خودکشی کے سرکاری قومی اعداد و شمار موجود نہیں اور مختلف علاقوں میں پولیس، میڈیکو لیگل مراکز اور طبی اداروں کے ریکارڈ رکھنے کے طریقے ایک جیسے نہیں ہیں۔ بعض واقعات پولیس اسٹیشن میں درج ہونے کے باوجود مرکزی سطح تک نہیں پہنچتے۔یہی وجہ ہے کہ یہ سوال کہ ''پاکستان میں ہر سال پولیس اسٹیشنوں میں کتنے خودکشی کے کیس درج ہوتے ہیں؟‘‘ اس کا ایک مستند قومی عدد دینا ممکن نہیں۔کیونکہ خودکشی کے واقعات زیادہ تر پولیس میں رپورٹ نہیں ہوتے۔صنفی اعتبار سے بھی صورتحال یکساں نہیں ہے۔ پاکستان کے مجموعی دستیاب شواہد میں مردوں کے درمیان خودکشی سے ہونے والی اموات کی شرح عموماً خواتین سے زیادہ نظر آتی ہے۔خودکشی کے خطرے سے دوچار افراد میں صرف ایک خاص طبقہ شامل نہیں ہوتا۔ طالب علم، بے روزگار نوجوان، مالی مشکلات کا سامنا کرنے والے افراد، خاندانی تنازعات سے متاثرہ لوگ، گھریلو دباؤ برداشت کرنے والے افراد اور مختلف ذہنی صحت کے مسائل سے گزرنے والے افراد سب مدد کے محتاج ہو سکتے ہیں۔ کسی شخص کے مالی طور پر مضبوط یا کمزور ہونے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ ذہنی پریشانی سے محفوظ ہے۔ اسی طرح تعلیمی کامیابی بھی کسی فرد کو جذباتی مشکلات سے مکمل طور پر محفوظ نہیں کرتی۔خاندانی ماحول اس معاملے میں انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ گھر وہ جگہ ہونی چاہیے جہاں انسان اپنی پریشانی بیان کرتے ہوئے خود کو محفوظ محسوس کرے۔ اگر والدین ہر مسئلے کا جواب صرف ڈانٹ، سزا، طنز یا دوسروں سے موازنہ کی صورت میں دیں تو نوجوان اپنی اصل کیفیت چھپانا شروع کر سکتا ہے۔ اس کے برعکس نرم گفتگو، توجہ سے سننا، جذبات کو سنجیدگی سے لینا اور ضرورت پڑنے پر کسی ماہرِ نفسیات یا دوسرے قابلِ اعتماد بالغ فرد سے مدد لینا نوجوان کو تنہائی سے باہر آنے میں مدد دے سکتا ہے۔سوشل میڈیا نے بھی نوجوانوں کی ذہنی دنیا کو تبدیل کیا ہے۔ آن لائن دنیا میں لوگ عموماً اپنی زندگی کا بہترین حصہ دکھاتے ہیں، جس کے باعث دیکھنے والا اپنی حقیقی زندگی کا موازنہ دوسروں کی منتخب اور خوبصورت دکھائی دینے والی زندگی سے کرنے لگتا ہے۔ اس مسلسل موازنے سے بعض افراد میں ناکامی، محرومی اور کم اعتمادی کا احساس بڑھ سکتا ہے۔ تاہم سوشل میڈیا کو خودکشی کی واحد وجہ قرار دینا بھی درست نہیں، یہ مسئلہ کئی عوامل کے باہمی اثر سے پیدا ہوتا ہے۔پاکستان میں ایک اور اہم مسئلہ ذہنی صحت سے متعلق سماجی بدنامی ہے۔ بہت سے لوگ ذہنی پریشانی کو بیماری کے بجائے کمزوری سمجھتے ہیں۔ نتیجتاً وہ مدد لینے میں جھجھک محسوس کرتے ہیں۔ اس سوچ کو تبدیل کرنا ضروری ہے۔ جس طرح جسمانی بیماری کے لیے ڈاکٹر سے رجوع کرنا معمول کی بات ہے، اسی طرح مسلسل ذہنی دباؤ، شدید مایوسی یا جذباتی بحران کی صورت میں کسی قابلِ اعتماد ماہرِ نفسیات سے بات کرنا بھی معمول ہونا چاہیے۔

بوسنیا، عثمانی فتوحات کی یادگار سرزمین

بوسنیا، عثمانی فتوحات کی یادگار سرزمین

مشرقی یورپ کے نقشے پر واقع بوسنیا اپنی تاریخ، اسلامی تہذیب، قدرتی حسن اور جغرافیائی اہمیت کے باعث ایک منفرد ملک کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس خطے نے صدیوں کے دوران مختلف تہذیبوں اور سلطنتوں کے عروج و زوال کا مشاہدہ کیا، تاہم عثمانی ترکوں کی آمد نے بوسنیا کی تاریخ کا ایک نیا باب رقم کیا۔ 1398ء میں بوسنیا میں عثمانی ترکوں کی فتوحات کا آغاز ہوا۔ اس وقت خطے کی مختلف عیسائی ریاستیں متحد ہو کر بھی عثمانی لشکر کے مقابلے میں زیادہ دیر تک مزاحمت نہ کرسکیں۔ یوں بوسنیا کی عیسائی مملکت کے زوال کا آغاز ہوگیا اور بالآخر سلطان محمد فاتح کے عہد حکومت میں 1463ء میں بوسنیا کی فتوحات مکمل ہوئیں۔عثمانی فتوحات کے دوران بوسنیا کے مقامی باشندوں، خصوصاً لوگومل قبائل نے اہم کردار ادا کیا۔ عثمانی اقتدار کے قیام کے ساتھ ہی اسلام کی دعوت اور اسلامی تہذیب کے اثرات بھی اس خطے میں پھیلنے لگے۔ مقامی آبادی بڑی تعداد میں حلقہ بگوش اسلام ہونے لگی اور رفتہ رفتہ بوسنیا یورپ میں مسلم تہذیب کا ایک اہم مرکز بن گیا۔پاکستان میں تعینات رہنے والی بوسنیا کی پہلی سفیر محترمہ ساجدہ سلاجک کے مطابق، معروف صوفی بزرگ حضرت شہاب الدین سہروردیؒ بھی بوسنیا تشریف لے گئے تھے۔ ان کے بقول جب بوسنیا عثمانی سلطنت کا حصہ بنا تو بڑی تعداد میں لوگ اسلام میں داخل ہونے لگے۔ یہاں تک کہ ایک روایت کے مطابق ایک ہی روز 26 ہزار بوسنی باشندوں نے اسلام قبول کیا۔ یہ واقعات اس خطے میں اسلام کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی ایک اہم تاریخی جھلک پیش کرتے ہیں۔راقم کو بوسنیا کے سفر کے دوران حضرت محمد بہاؤالدین شاہ نقشبندؒ کے مزار پر حاضری کا موقع بھی ملا۔ یہ مزار بوسنیا کے دوسرے بڑے شہر موستار سے تقریباً دس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ مزار ایک مسجد سے ملحق اور پہاڑ کے دامن میں قائم ہے۔ مسجد کے بالکل نیچے سے دریائے بونا اپنے سفر کا آغاز کرتا ہے۔ یہ مقام بوسنیا کے قدرتی حسن، روحانی وابستگی اور اسلامی تاریخ کا خوبصورت امتزاج محسوس ہوتا ہے۔جغرافیائی اعتبار سے بوسنیا مشرقی یورپ میں واقع ہے۔ اس کے مشرق میں سربیا، شمال اور مغرب میں کروشیا جبکہ جنوب میں مونٹی نیگرو واقع ہے۔ بوسنیا کو بحیرہ ایڈریاٹک تک بھی رسائی حاصل ہے، اگرچہ اس کا ساحلی علاقہ نہایت مختصر ہے۔ ملک کا بیشتر حصہ سرسبز پہاڑوں، گھنے درختوں، دریاؤں اور قدرتی چشموں پر مشتمل ہے، جس کی وجہ سے یہاں کے مناظر انتہائی دلکش دکھائی دیتے ہیں۔بوسنیا قدرتی معدنی وسائل سے بھی مالا مال ہے۔ یہاں کوئلہ، لوہا، تانبا، جست، کرومائیٹ اور نمک کے ذخائر وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ دریاؤں کی فراوانی کے باعث پن بجلی بھی بڑی مقدار میں پیدا کی جاتی ہے۔ ملک کی معیشت میں ملازمت اور تجارت کے ساتھ ساتھ زراعت، ماہی گیری اور مویشی پالنے کا بھی اہم کردار ہے۔2008ء میں راقم کے قیام کے دوران حکومت پاکستان نے اپنے سفارت خانے کے ذریعے بوسنیا کے کاشتکاروں کو 225 چھوٹے زرعی ٹریکٹر تحفتاً فراہم کیے۔ اس اقدام سے دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات کے ساتھ ساتھ زرعی شعبے میں تعاون کو بھی فروغ ملا۔ بوسنیا کی زمین کا ایک بڑا حصہ چراگاہوں اور سرسبز مرغزاروں پر مشتمل ہے، جو مویشی پالنے کیلئے موزوں ماحول فراہم کرتے ہیں۔بوسنیا کی تاریخ میں عثمانی دور اور اسلام کا پھیلاؤ آج بھی اس ملک کی تہذیب، ثقافت، مساجد، مزارات اور طرزِ زندگی میں نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ سرسبز پہاڑوں، بہتے دریاؤں، تاریخی شہروں اور اسلامی آثار سے مزین یہ خطہ یورپ میں مسلمانوں کی تاریخ اور تہذیبی ورثے کی ایک خوبصورت علامت ہے۔