جانثار اختر: یہ زندگی تو کوئی بددعا لگے ہے مجھے

جانثار اختر:  یہ زندگی تو کوئی بددعا لگے ہے مجھے

اسپیشل فیچر

تحریر : عبدالحفیظ ظفر


جس طرح قتیل شفائی ،تنویر نقوی اور سیف الدین سیف کی شہرت صرف فلمی گیتوں کی وجہ سے ہی نہیں بلکہ وہ غزل اور نظم کے بھی بہت عمدہ شاعر تھے ۔اسی طرح جانثار اختر نے بھی فلمی شاعری کے علاوہ غزل اور نظم میں اپنا ایک منفرد مقام بنایا۔انہوں نے فلمی گیت نگاری بہت بعد میں شروع کی اور اس سے پہلے ہی وہ ایک غزل گو اور نظم کی حیثیت سے اپنے نام کا ڈنکا بجا چکے تھے۔18فروری 1914کو گوالیار (بھارت) میں پیدا ہونے والے جانثار اختر کو بیسویں صدی کا ایک اہم بھارتی شاعر تسلیم کیا جاتا ہے۔وہ ترقی پسندتحریک کے رکن تھے۔اگر یہ کہا جائے کہ جانثار اختر کو شاعری ورثے میں میں ملی تھی،تو بے جا نہ ہو گا۔ ان کے والد مظفر خیر آبادی اور تایا بسمل خیر آبادی دونوں شاعر تھے۔میٹرک کرنے کے بعد جانثار اختر نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔وہاں سے انہوں نے بی اے آنرز اور ایم اے کی ڈگریاں لیں۔ابھی وہ پی ایچ ڈی کی تیاری کر رہے تھے کہ گھریلو حالات کی وجہ سے انہیں گوالیار واپس آنا پڑا۔اس کے بعد انہوں نے وکٹوریہ کالج گوالیار میں اردو کے لیکچرر کی حیثیت سے پڑھانا شروع کر دیا۔1943ء میں ان کی شادی معروف شاعر مجاز لکھنوی کی ہمشیرہ صفیہ سراج الحق سے ہو گئی۔ان کے دو بیٹے جاوید اختر اور سلمان اختر 1945ء اور 1946ء میں پیدا ہوئے ۔آزادی کے بعد گوالیار میں فسادات پھوٹ پڑے تو جانثار اختر بھوپال منتقل ہو گئے ۔بھوپال میں انہوں نے حمیدیہ کالج میں اردو اور فارسی کے شعبے سنبھال لیے۔بعد میں ان کی اہلیہ صفیہ بھی حمیدیہ کالج سے وابستہ ہو گئیں۔جلد ہی دونوں میاں بیوی تحریک ترقی پسند مصنفین میں شامل ہو گئے۔ جانثار اختر کو اس تحریک کا صدر بنا دیا گیا۔ 1949ء میں انہوں نے نوکری سے استعفیٰ دے دیا اور ممبئی چلے گئے ۔ممبئی آنے کے ان کے دو مقاصد تھے ایک فلمی گیت لکھنا اور دوسرا اپنے شعری مجموعوں کی اشاعت۔ممبئی میں ان کی ملاقات ملک راج آنند کرشن چندر ،راجندر سنگھ بیدی اور عصمت چغتائی جیسے ترقی پسند ادیبوں سے ہوئی۔1953ء میں ان کی اہلیہ صفیہ انتقال کر گئیں۔صفیہ کے جانثار اختر کے نام خطوط کے مجموعے سب سے پہلے 1955میں شائع ہوئے۔ ہندی میں ان خطوط کا ترجمہ پروفیسر اصغر وجاہت نے کیا۔خطوط کے یہ مجموعے ’’حرف آشنا‘‘اور ’’زیر لب‘‘ کے نام سے شائع کئے گئے۔ستمبر 1956ء میں جانثار اختر نے خدیجہ طلعت سے شادی کر لی۔اس میں کوئی شک نہیں کہ جانثار اختر کی شاعری میں بائیں بازو کے نظریات ملتے ہیں۔ان کی شاعری میں جہاں معروضی صداقتوں کا برملا اظہار ملتا ہے،وہاں ان کے اشعار میں رومانیت بھی بڑے منفرد انداز میں ملتی ہے۔ کہیں کہیں مایوسی اور ناامیدی کی پرچھائیاں بھی ملتی ہیں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان کی غزلوں میں جو رومانیت ہے وہ ان کی گھریلو زندگی کے حوالوں سے بھری پڑی ہے۔ان کی غزلوں میں جو مختلف رنگ ملتے ہیں وہ ان کے مندرجہ ذیل اشعار میں بآسانی ڈھونڈے جا سکتے ہیں:ہر ایک روح میں اک غم چھپا لگا ہے مجھےیہ زندگی تو کوئی بددعا لگے ہے مجھےمیں جب بھی اس کے خیالوں میں کھو سا جاتا ہوںوہ خود بھی بات کرے تو برا لگے ہے مجھےجب لگے زخم تو قاتل کو دعا دی جائےہے یہی رسم تو یہ رسم اٹھا دی جائےہم سے بھاگا نہ کرو دور غزالوں کی طرحہم نے چاہا ہے تمہیں چاہنے والوں کی طرح خود بخود نیند سی آنکھوں میں گھلی جاتی ہےمہکی مہکی ہے شب غم ترے بالوں کی طرح رہی ہیں داد طلب ان کی شوخیاں ہم سےادا شناس بہت ہیں مگر کہاں ہم سےاشعار میرے یوں تو زمانے کے لیے ہیںکچھ شعر فقط ان کو سنانے کے لیے ہیںجانثار اختر کے شعری مجموعوں میں ’’نظرتباں‘‘، ’’سلاسل‘‘،’’جاوداں‘‘،’’پچھلی پہر‘‘،’’گھر آنگن‘‘،اور ’’خاک دل‘‘ شامل ہیں۔’’خاک دل‘‘پر انہیں 1976میں ساہتیا اکیڈمی ایوارڈ ملا۔جانثار اختر نے مجموعی طور پر 151فلمی گیت لکھے۔ انہوں نے زیادہ تر سی رام چندر،اوپی نیر اور خیام جسے سنگیت کاروں کے ساتھ کام کیا۔اے آر کاردار کی فلم ’’یاسمین‘‘ کے نغمات سے انہیں شہرت ملی۔گورودت کی فلم ’’سی آئی ڈی‘‘کے نغمات بہت مقبول ہوئے اور یہ جانثار اختر کا کمال تھا۔اس کے علاوہ ان کی مشہور فلموں میں ’’رستم سہراب‘‘،’’پریم پربت‘‘،’’شنکر حسین ‘‘اور رضیہ سلطان شامل ہیں۔ انہوں نے 1967میں بہو بیگم کے نام سے فلم بنائی اس فلم کا سکرپٹ بھی انہوں نے خود لکھا تھا۔ان کے چند اعلیٰ فلمی نغمات کا ذکر ذیل میں کیا جا رہا ہے۔1۔آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارہ ہو گیا(سی آئی ڈی)2۔آ جا رہے میرے دلبر آ جا(نوری)3۔چوری چوری کوئی آئے(نوری)4۔کہیں ایک معصوم نازک سی لڑکی(شنکر حسین)5۔غریب جان کے ہم کو نہ تم دغا دینا(چھومنتر)6۔پیا پیا(باپ رے باپ)7۔آپ یوں فاصلوں سے(شنکر حسین)8۔اے دل ناداں(رضیہ سلطان)1976ء میں وہ رضیہ سلطان کے نغمات لکھ رہے تھے کہ فرشتہ اجل آن پہنچا۔یوں رضیہ سلطان ان کی آخری فلم ثابت ہوئی۔جانثار اختر کے بڑے بیٹے جاوید اختر نے بھی شعرو ادب کے میدان میں بڑا نام کمایا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے بھارت کی کئی مشہور فلموں کے سکرپٹ اور مکالمے بھی لکھے جانثار اختر کی ادبی خدمات کو ہرگز نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اردو ادب کی تاریخ میں ان کا نام جگمگاتا رہے گا۔٭…٭…٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
حسن دوئم مسجد

حسن دوئم مسجد

بحراوقیانوس کے کنارے اسلامی عظمت کی علامتمراکش کے شہر کیسا بلانکا ( Casablanca) میں واقع''حسن دوئم مسجد‘‘اسلامی فنِ تعمیر، روحانیت اور قومی شناخت کا ایک درخشاں استعارہ ہے۔ یہ عظیم الشان مسجد 1993ء میں مکمل ہوئی اور اسے مراکش کے فرمانرواحسن دوئم کے نام سے منسوب کیا گیا، جنہوں نے اس کی تعمیر کا آغاز کیا اور اسے جدید مراکش کی علامت بنانے کا عزم ظاہر کیا۔ بحرِ اوقیانوس کے کنارے تعمیر کی گئی یہ مسجد نہ صرف عبادت گاہ ہے بلکہ فن، تاریخ اور انجینئرنگ کا ایسا سنگم ہے جس نے دنیا بھر کے سیاحوں اور معماروں کو متاثر کیا ہے۔حسن دوئم مسجد کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کا فلک بوس مینار ہے جو تقریباً 210 میٹر بلند ہے اور اسے دنیا کے بلند ترین میناروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ رات کے وقت اس مینار سے سبز لیزر روشنی قبلہ رخ فضا میں چمکتی ہے جو ایک دلکش منظر پیش کرتی ہے۔ یہ منظر اس پیغام کی علامت ہے کہ اسلام روشنی، رہنمائی اور امن کا دین ہے۔ مسجد کی تعمیر میں مراکشی ہنرمندوں نے روایتی نقش و نگار، خطاطی، سنگِ مرمر کی تراش خراش اور لکڑی کی نفیس کندہ کاری کا بھرپور مظاہرہ کیا ہے، جس سے یہ عمارت ایک جیتا جاگتا عجائب گھر معلوم ہوتی ہے۔مسجد کا مرکزی ہال وسیع و عریض ہے جہاں بیک وقت تقریباً 25 ہزار نمازی نماز ادا کرسکتے ہیں، جبکہ بیرونی صحن اور احاطے سمیت مجموعی طور پر ایک لاکھ پانچ ہزار افراد کی گنجائش موجود ہے۔ فرش پر بچھے خوبصورت قالین، دیواروں پر قرآنی آیات کی خطاطی اور چھت پر دیدہ زیب نقش و نگار روح کو تازگی بخشتے ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ مرکزی ہال کی چھت کا ایک حصہ متحرک (ریٹریکٹ ایبل) ہے جو ضرورت پڑنے پر کھولا جاسکتا ہے، یوں کھلے آسمان تلے عبادت کا سماں پیدا ہوجاتا ہے۔ یہ جدید ٹیکنالوجی اور روایتی فنِ تعمیر کا حسین امتزاج ہے۔بحرِ اوقیانوس کے کنارے اس مسجد کی تعمیر ایک انجینئرنگ چیلنج بھی تھی۔ عمارت کا کچھ حصہ سمندر کے اوپر تعمیر کیا گیا ہے، جس کے لیے مضبوط بنیادیں اور خصوصی حفاظتی اقدامات کیے گئے۔ اس انتخاب کے پیچھے ایک روحانی تصور بھی کارفرما تھا کہ ‘‘خدا کا عرش پانی پر ہے''، چنانچہ مسجد کو پانی کے قریب تعمیر کرکے اس تصور کی علامتی تعبیر پیش کی گئی۔ سمندر کی لہروں کی آواز اور ٹھنڈی ہوا عبادت گزاروں کے لیے سکون اور خشوع کا ماحول پیدا کرتی ہے۔حسن دوم مسجد صرف عبادت تک محدود نہیں؛ یہاں ایک وسیع کتب خانہ، مدرسہ، میوزیم اور وضو کے لیے جدید سہولیات بھی موجود ہیں۔ زیرِ زمین وضو خانہ سنگِ مرمر کے فواروں اور نفیس ستونوں سے مزین ہے جو مراکشی جمالیات کا شاہکار ہے۔ مسجد میں جدید ساؤنڈ سسٹم اور ماحولیاتی کنٹرول کا انتظام بھی کیا گیا ہے تاکہ بڑے اجتماعات میں بھی نظم و ضبط برقرار رہے۔ اس کے علاوہ یہاں رہنمائی کے لیے تربیت یافتہ گائیڈز دستیاب ہوتے ہیں جو سیاحوں کو عمارت کی تاریخ اور فنِ تعمیر سے آگاہ کرتے ہیں۔اس عظیم منصوبے کی تکمیل میں ہزاروں کاریگروں، انجینئروں اور مزدوروں نے حصہ لیا۔ مقامی ہنر کو فروغ دینے اور قومی یکجہتی کو اجاگر کرنے کے لیے زیادہ تر کام مراکشی ماہرین کے سپرد کیا گیا۔ یوں یہ مسجد نہ صرف مذہبی علامت بنی بلکہ قومی فخر اور اجتماعی محنت کی مثال بھی ٹھہری۔ تعمیر کے دوران استعمال ہونے والا اعلیٰ معیار کا سنگِ مرمر، دیودار کی لکڑی اور نفیس موزائیک ٹائلز مراکش کی ثقافتی وراثت کی جھلک پیش کرتے ہیں۔بین الاقوامی سطح پر حسن دوم مسجد مراکش کی شناخت کا اہم جزو بن چکی ہے۔ دنیا بھر سے آنے والے سیاح اس کی شاندار ساخت، سمندر سے جڑے منظر اور روحانی فضا سے متاثر ہوتے ہیں۔ یہ مسجد بین المذاہب ہم آہنگی اور ثقافتی مکالمے کا بھی ذریعہ ہے، کیونکہ غیر مسلم سیاحوں کو مخصوص اوقات میں اندرونی حصوں کی سیر کی اجازت دی جاتی ہے۔ اس طرح یہ عمارت نہ صرف عبادت کا مرکز ہے بلکہ تہذیبی تبادلے کا پل بھی ہے۔مختصراً، حسن دوم مسجد جدید دور میں اسلامی فنِ تعمیر کی ایک درخشاں مثال ہے جس نے روایت اور جدت کو یکجا کیا۔ بحرِ اوقیانوس کے کنارے یہ عظیم عمارت مراکش کی روح، تاریخ اور فنکارانہ مہارت کی آئینہ دار ہے۔

کان:عظیم نعمت کی صحت کا خیال بھی رکھیں!

کان:عظیم نعمت کی صحت کا خیال بھی رکھیں!

دنیا بھر میں 3مارچ کو کان کے امراض کا عالمی دن منایا جاتاہے اللہ تعالیٰ کی عطاء کردہ عظیم نعمتوں میں سے ایک نعمت کان بھی ہے ۔حواس خمسہ یعنی ہاتھ ،ناک،آنکھ،زبان اور کان میں سے کان بہت اہمیت کا حامل ہے ۔ہمارے دماغ کو ملنے والے تمام پیغامات، اطلاعات، معلومات کا تقریباً23 فیصد حصہ کانوں کے ذریعے ہم تک پہنچتا ہے ۔سب سے پہلے آواز کی لہریں کان کے بیرونی حصہ میں داخل ہو کر اس حصے کی نالی سے گزر کر پردہ سے ٹکراتی ہیں، پھر یہ کان میں وسطی حصے میں موجود ہڈیوں سے باری باری ٹکراتی ہیں ۔آواز کی لہریں سماعت کے عضو، گانٹھ یا گرہ سے ٹکراتی ہوئی دماغ تک پہنچتی ہیں۔وہاں دماغ انہیں ڈی کوڈ کرتے ہوئے ،معنی، دیتا ہے کہ یہ آواز کس طرف یا سمت سے؟ کس چیز کی آواز ہے؟ اس آواز کا مطلب کیا ہے؟ معنی کیا ہے؟ کان ایک حسی عضو ہے جو آوازسنتا ہے اور یہ نہ صرف آواز کو سنتا ہے بلکہ جسم کو متوازن حالت میں رکھنے میں بھی بڑا کام سرانجام دیتا ہے۔ ہر جاندار کے دو کان ہوتے ہیں، ایک دائیں طرف ایک بائیں طرف اس سے آواز کی سمت اور ماخذ کا علم آسانی سے ہو جاتا ہے ۔انسانی کان تین حصوں پر مشتمل ہوتا ہے، جس میں بیرونی کان ، درمیانی کان اور کان کا اندرونی حصہ شامل ہیں، کان کا وہ حصہ جو باہر نظر آتا ہے، بیرونی کان کہلاتا ہے ۔ بیرونی کان سے ایک سوراخ اندر کی طرف جاتے ہوئے کان کو ایک ایئر ڈرم سے جوڑتا ہے ،ایئر ڈرم کا پچھلے والا حصہ درمیانی کان کہلاتا ہے۔ ایئر ڈرم کے بعد کان میں ایک جھلی دار معدہ ہوتا ہے ،جو سیپ کی صورت میں ہوتا ہے ،اسے اندرونی کان کہتے ہیں۔پاکستان سمیت دنیا بھر میں کان کے امراض کا عالمی دن3مارچ کو منایا جاتا ہے۔تین مارچ کو یہ دن منانے کی وجہ تسمیہ بھی یہی ہے کہ تین کا ہندسہ کان کے مشابہہ ہے ۔اس دن کو منانے کا مقصد لوگوں کو کان کی اہمیت اور سماعت کی بیماریوں سے آگاہ رکھنا ہے ۔اس دن نامورماہرین امراض کان اور پروفیسرز، ڈاکٹر ز عوام کو کان کے امراض کے بارے آگاہی فراہم کرتے ہیں ۔جدید طرز زندگی نے ناک ، کان گلے کے امراض میں بے تحاشہ اضافہ کیا ہے ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بے تحاشا شور شرابا،دھماکے ، ہیڈ فونز اور ہینڈ فری کا بے جا استعمال۔ رکشہ،بسوں کے پریشر ہارن،اونچی آواز کی موسیقی،کام کی جگہ مشینوں اور لوگوں کا شور و غوغا،ریڈیو ،ٹی وی کا شور ۔ کان اور سماعت کے مختلف امراض کے اسباب میں شامل ہیں۔ اسلامی ا صولوں کے مطابق غذا چبا کر کھانا ، آہستہ سے کھانا، پیٹ بھر کر نہ کھانا، پانی تین وقفوں سے پینا اور کھانے پینے میں اعتدال سے کام لینا یہ سب باتیں نہ صرف ناک، کان اور گلے بلکہ دیگر امراض سے بھی بچاتی ہیں۔کان کے اندر پانی چلے جانے ، کان میں میل جمع ہو کر گیلا ہوجانے یا سوکھ جانے ، کان میں پھوڑا پھنسی یا گھاؤ ہونے کے سبب کان میں شدید درد، یکایک بہت تیز درد، ٹیس مارتا ہوا درد ، ناقابل برداشت درد ہوتاہے۔ کان میں دردکسی بھی سبب سے ہوجلد سے جلد اپنے قریبی ڈاکٹر سے رجوع کرنا چائیے۔

رمضان کے مشروب وپکوان: لیموں اور پودینے کا شربت

رمضان کے مشروب وپکوان: لیموں اور پودینے کا شربت

اجزاء: سوڈا واٹر ، ایک بوتل۔کٹی ہوئی کالی مرچ ،ایک چٹکی۔برف، ایک پیالی۔پودینے کی پتیاں، ایک پیالی۔براؤن چینی ، ایک کھانے کا چمچ۔کالا نمک ،آدھا چائے کا چمچ۔لیموں کا رس ،چار کھانے کے چمچ۔پودینے کے پتے سجانے کے لیے۔ترکیب:بلینڈر میں تمام اجزا یکجان کرلیں، اسے گلاسوں میں ڈالیں اور پودینے کے پتوں سے سجا کر پیش کریںاسپیشل کباباجزاء:آئل حسب ضرورت، پیاز100گرام، دودھ تین چمچ بڑے، انڈے چھ عدد، کنول کی جڑیں400گرام، ادرک10گرام، لہسن 10گرام، پودینہ چند پتے، کالی مرچیں حسب منشاء، نمک حسب ذائقہ، ہری مرچیں تین عدد، ڈبل روٹی کا چورا ایک پیالی، ہرا دھنیا حسب منشاء، دار چینی ایک ٹکڑا، لونگ چار عدد، انار دانہ ایک چھوٹا چمچ، الائچی تین عدد، لیموں دو عدد، آلو 400گرام، ٹماٹر تین عدد۔ترکیب:سب سے پہلے لہسن، پیاز اور ادرک کو چھیل کر باریک کاٹ لیں۔ اس بعد کنول کی جڑوں کو چھیل کر ان کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کریں اور ایک برتن میں ڈال کر ان کے ساتھ نمک، مرچ، لہسن اور ادرک کو شامل کریں۔ پھر اس میں پانی ڈال کر چولہے پر رکھیں۔ اور اُبالیں الائچی، لونگ، انار دانہ اور دار چینی کو ملا کر باریک پیس لیں۔ جب کنول کی جڑیں اُبل جائیں تو برتن کو آگ سے نیچے اتار کر ٹھنڈا کریں۔ اس کے بعد ایک برتن میں تھوڑا سا آئل گرام کریں اس میں پیاز کاٹ کر رکھا ہوا ڈالیں اور ہلکا سرخ کریں۔ پھر اس میں پودینہ اور ہرا دھنیا کاٹ کر ڈالیں جب کنول کی جڑیں ٹھنڈی ہو جائیں۔ تو برتن سے نکال کر ایک سِل پر باریک پیس لیں۔ اب یہ پسی ہوئی کنول کی جڑیں بھی پیاز والے برتن میں ڈال کر ملائیں۔ اور آگ سے نیچے اتار لیں۔ اس کے ساتھ ہی ایک پیالی میں انڈے توڑ کر ڈالیں۔ اس میں کالی مرچیں پیس کر اور نمک ملائیں خوب اچھی طرح پھینٹ لینے کے بعد کول کی جڑوں والے مصالحے کے ہاتھوں سے کباب بنائیں اور انڈوں میں ڈبو کر رکھیں۔ ایک فرائی پان میں آئل کو گرام کریں اور اس میں یہ کباب ڈال کر تلتے جائیں جب تل جائیں تو نکال کر سکی ڈش میں رکھیں اور ارد گرد ابلے ہوئے آلو کے کٹلس ٹماٹر اور اُبلے ہوئے مٹر رکھ کر گرم گرم کھانے کیلئے پیش کریں۔

آج تم یاد بے حساب آئے!اورنگزیب عالمگیر عظم مغل بادشاہ (1707-1618ء)

آج تم یاد بے حساب آئے!اورنگزیب عالمگیر عظم مغل بادشاہ (1707-1618ء)

٭...مغل بادشاہ اورنگزیب تین نومبر 1618 میں پیدا ہوئے۔ اس وقت ان کے دادا جہانگیر ہندوستان کے حکمراں تھے۔٭... عالمگیر شاہجہاں کی تیسری اولاد تھے اور ممتاز محل ان کی ماں تھیں۔٭... اورنگزیب عالمگیر نے قرآن حفظ کیا اور اسلامی علوم کے علاوہ ترکی ادب کی تعلیم بھی حاصل کی۔٭... وہ ایک ماہر خطاط بھی تھے۔ انھوں نے گھڑ سواری، تیراندازی اور فنونِ سپہ گری بھی سیکھے۔٭... دوسرے مغل بادشاہوں کی طرح اورنگزیب بھی بچپن سے ہی ہندوی میں فراٹے کے ساتھ گفتگو کرتے تھے۔٭...سترہ برس کی عمر میں انھیں دکن کا صوبیدار مقرر کردیا گیا۔ اس منصب پر رہتے ہوئے کئی بغاوتوں کو فرو کرنے والے عالمگیر نے چند علاقے بھی فتح کیے۔٭...ہندوستان کے تختِ شاہی پر محی الدّین اورنگزیب کے لقب سے متمکن ہوئے۔ ان کے والد شاہجہان نے ان کو عالمگیر کا خطاب دیا۔ ٭... اقتدار میں آکر اورنگزیب عالمگیر نے ہندوؤں اور مسلمانوں میں رائج کئی فضول رسموں کا خاتمہ کیا ۔٭... کھانے پینے کی مختلف اجناس سے محصول ختم کرکے رعایا کی خوشنودی حاصل کی۔٭... اکثر مؤرخین نے بادشاہ کو پرہیز گار، مدبر اور اعلیٰ درجے کا منتظم لکھا ہے۔٭... ان کے بارے میں یہ بھی مشہور ہے کہ وہ قرآن مجید لکھ کر اور ٹوپیاں سی کر گزارہ کرتے تھے۔٭...وہ فارسی کے اچھے مضمون نویس تھے جن کے خطوط رقعاتِ عالمگیر کے نام سے مرتب ہوئے۔٭... ہندوستان کی اسلامی تاریخ میں اس مغل بادشاہ کی کتاب فتاویٰ عالمگیری کو بھی خاص اہمیت اور شہرت حاصل ہے۔٭...اورنگزیب عالمگیر کا دورِ حکومت 49 سال پر محیط ہے اور ان کے دور میں پہلی بار تقریباً پورا برصغیر مغلیہ سلطنت کا حصّہ بن گیا تھا۔٭... احمد نگر میں بیماری کے باعث 3 مارچ 1707ء کو اس فانی دنیا کو خیرباد کہا۔

آج کا دن

آج کا دن

دولت عثمانیہ امن معاہدہ1877ء سے 1878ء تک جاری رہنے والی روس عثمانی جنگ میں ترکوں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ دولت عثمانیہ سے معاہدہ امن کیلئے 3 مارچ 1878ء کو استنبول میں ایک اجلاس ہوا جس کی رو سے رومانیہ، مونٹی نیگرو اور سربیا نے آزادی حاصل کی جبکہ بلغاریہ کو نیم خود مختاری کا درجہ دے دیا گیا۔ اس جنگ کے ہرجانے کے طور پر قارس، ارداخان ،باتوم اور مشرقی بایزید کے علاقے روس کو دے دیئے گئے۔سعودی عرب میں تیل کی دریافت3مارچ 1938 ء کو سعودی عرب میں تیل دریافت ہوا۔ امریکہ نے سب سے پہلے دمام کے تیل کے کنویں نمبر 7 سے تجارتی مقدار میں دریافت کیا تھا جو آج کل ظہران ہے۔ 1923ء میں ابن سعود نے نیوزی لینڈ کی کمپنی سے تیل کی تلاش کا معاہدہ کیا۔ نیوزی لینڈ کے انجینئر میجر فرینک ہومز کو یقین تھا کہ پورے خطے میں بہت زیادہ تیل موجود ہے۔ تیل نکالنے میں کامیابی 1938ء میں امریکی کمپنی کو حاصل ہوئی۔خطرناک فضائی حادثہ ترکش ایئر لائنز کی ''پرواز 981‘‘ استنبول ہوائی اڈے سے لندن کے ہیتھرو ہوائی اڈے کیلئے طے شدہ پرواز تھی جو 3 مارچ 1974ء کو پیرس کے قریب گر کر تباہ ہو گئی۔ اس میں سوار تمام 335 مسافر اور عملے کے 11 افراد ہلاک ہو گئے۔ اس حادثے کو Ermenonville ہوائی تباہی کے نام سے بھی جانا جاتا تھا۔ ''پرواز 981‘‘ 27 مارچ 1977 تک ہوا بازی کی تاریخ کا سب سے مہلک طیارہ حادثہ تھا، جب دو بوئنگ 747 کے تصادم میں 583 افراد ہلاک ہوئے۔ سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملہ2009ء میں آج کے روز لاہور ٹیسٹ کے تیسرے دن میچ سے قبل لبرٹی چوک میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر دہشت گردوں نے حملہ کیا۔صبح آٹھ بج کر چالیس منٹ پر 12 نامعلوم مسلح دہشت گردوں نے سری لنکا کی کرکٹ ٹیم کے کارواں کی بس کو قذافی اسٹیڈیم لاہور کے نزدیک دہشت گردی کا نشانہ بنایا۔ سری لنکن کرکٹر پاکستان کرکٹ ٹیم کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میچ کی تیسرے دن کے کھیل کیلئے قذافی اسٹیڈیم جا رہے تھے۔ اس حملے میں سری لنکن چھ ارکان زخمی اور پاکستانی پانچ سپاہی ہلاک ہوئے۔

آج تم یاد بے حساب آئے ناصر کاظمی: صاحب طرز شاعر (1972-1925ء)

آج تم یاد بے حساب آئے ناصر کاظمی: صاحب طرز شاعر (1972-1925ء)

٭... 8دسمبر1925ء کو انبالہ (بھارت) میں پیدا ہوئے، اصل نام سید ناصر رضا کاظمی تھا۔٭...ان کے والد سیّد محمد سلطان کاظمی فوج میں صوبے دار میجر تھے۔٭... ابتدائی تعلیم انہوں نے انبالہ اور شملہ میں مکمل کی، پھر لاہور میں تعلیم حاصل کرتے رہے۔٭... ناصر کاظمی نے 1940ء میں شعر کہنے شروع کیے۔ آغاز میں رومانی نظمیں لکھنا شروع کیں۔ اس کے بعد وہ غزل کی طرف آئے، جو بعد میں ان کا اصل میدان ٹھہری۔ ٭... وہ آزادی کے بعد کسمپرسی کے عالم میں پاکستان پہنچے تھے۔٭... ان کی شاعری میں عشق، محبت، درد، رنج اور انسانیت کے جذبات کو خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے۔٭... وہ اپنی غزلوں کیلئے مشہور ہیں، لیکن ان کی نظمیں بھی بہت خوبصورت اور معنی خیز ہیں۔٭... ناصرکاظمی صاحب طرز شاعر ہونے کے ساتھ ایک مدیر بھی تھے۔ ٭...ان کی کتابوں میں شعری مجموعے ''برگ نے، دیوان، پہلی بارش، نشاط خواب، ''سُر کی چھایا‘‘ (منظوم ڈراما کتھا)، ''خشک چشمے کے کنارے‘‘ (نثر، مضامین، ریڈیو فیچرز، اداریے) اور ''ناصر کاظمی کی ڈائری‘‘ شامل ہیں۔ ٭...ان کی شاعری کا اہم ترین وصف سادہ اور سلیس زبان کا استعمال ہے۔٭... ان کی شاعری میں ہمیں درد، اُداسی اور مایوسی کے ساتھ خوشی، جذباتی محبت اور پھر کمال کی رجائیت بھی ملتی ہے۔ ٭...2مارچ 1972ء کو ہمارا یہ شاعر عالم جاوداں کو سدھار گیا ۔دل دھڑکنے کا سبب یاد آیاوہ تیری یاد تھی اب یاد آیا٭......٭......٭دائم آباد رہے گی دنیاہم نہ ہوں گے کوئی ہم سا ہوگا٭......٭......٭آج دیکھا ہے تجھ کو دیر کے بعدآج کا دن گزر نہ جائے کہیں٭......٭......٭اے دوست ہم نے ترک محبت کے باوجودمحسوس کی ہے تیری ضرورت کبھی کبھی٭......٭......٭وہ کوئی دوست تھا اچھے دنوں کاجو پچھلی رات سے یاد آ رہا ہے٭......٭......٭آرزو ہے کہ تو یہاں آئےاور پھر عمر بھر نہ جائے کہیں٭......٭......٭وقت اچھا بھی آئے گا ناصرغم نہ کر زندگی پڑی ہے ابھی٭......٭......٭بھری دنیا میں جی نہیں لگتاجانے کس چیز کی کمی ہے ابھی٭......٭......٭ہمارے گھر کی دیواروں پہ ناصراداسی بال کھولے سو رہی ہے٭......٭......٭