آج تم یاد بے حساب آئے ناصر کاظمی: صاحب طرز شاعر (1972-1925ء)
اسپیشل فیچر
٭... 8دسمبر1925ء کو انبالہ (بھارت) میں پیدا ہوئے، اصل نام سید ناصر رضا کاظمی تھا۔
٭...ان کے والد سیّد محمد سلطان کاظمی فوج میں صوبے دار میجر تھے۔
٭... ابتدائی تعلیم انہوں نے انبالہ اور شملہ میں مکمل کی، پھر لاہور میں تعلیم حاصل کرتے رہے۔
٭... ناصر کاظمی نے 1940ء میں شعر کہنے شروع کیے۔ آغاز میں رومانی نظمیں لکھنا شروع کیں۔ اس کے بعد وہ غزل کی طرف آئے، جو بعد میں ان کا اصل میدان ٹھہری۔
٭... وہ آزادی کے بعد کسمپرسی کے عالم میں پاکستان پہنچے تھے۔
٭... ان کی شاعری میں عشق، محبت، درد، رنج اور انسانیت کے جذبات کو خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے۔
٭... وہ اپنی غزلوں کیلئے مشہور ہیں، لیکن ان کی نظمیں بھی بہت خوبصورت اور معنی خیز ہیں۔
٭... ناصرکاظمی صاحب طرز شاعر ہونے کے ساتھ ایک مدیر بھی تھے۔
٭...ان کی کتابوں میں شعری مجموعے ''برگ نے، دیوان، پہلی بارش، نشاط خواب، ''سُر کی چھایا‘‘ (منظوم ڈراما کتھا)، ''خشک چشمے کے کنارے‘‘ (نثر، مضامین، ریڈیو فیچرز، اداریے) اور ''ناصر کاظمی کی ڈائری‘‘ شامل ہیں۔
٭...ان کی شاعری کا اہم ترین وصف سادہ اور سلیس زبان کا استعمال ہے۔
٭... ان کی شاعری میں ہمیں درد، اُداسی اور مایوسی کے ساتھ خوشی، جذباتی محبت اور پھر کمال کی رجائیت بھی ملتی ہے۔
٭...2مارچ 1972ء کو ہمارا یہ شاعر عالم جاوداں کو سدھار گیا ۔
دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا
وہ تیری یاد تھی اب یاد آیا
٭......٭......٭
دائم آباد رہے گی دنیا
ہم نہ ہوں گے کوئی ہم سا ہوگا
٭......٭......٭
آج دیکھا ہے تجھ کو دیر کے بعد
آج کا دن گزر نہ جائے کہیں
٭......٭......٭
اے دوست ہم نے ترک محبت کے باوجود
محسوس کی ہے تیری ضرورت کبھی کبھی
٭......٭......٭
وہ کوئی دوست تھا اچھے دنوں کا
جو پچھلی رات سے یاد آ رہا ہے
٭......٭......٭
آرزو ہے کہ تو یہاں آئے
اور پھر عمر بھر نہ جائے کہیں
٭......٭......٭
وقت اچھا بھی آئے گا ناصر
غم نہ کر زندگی پڑی ہے ابھی
٭......٭......٭
بھری دنیا میں جی نہیں لگتا
جانے کس چیز کی کمی ہے ابھی
٭......٭......٭
ہمارے گھر کی دیواروں پہ ناصر
اداسی بال کھولے سو رہی ہے
٭......٭......٭