55 میٹر کا لذیذ شاہکارمیٹھاس، فن اور تخلیقی مہارت جب یکجا ہو جائیں تو ایک عام سی چیز بھی شاہکار کا روپ دھار لیتی ہے۔ چاکلیٹ سے تیار کیے گئے مجسمے اسی تخلیقی امتزاج کی دلکش مثال ہیں، جو نہ صرف ذائقے کی دنیا میں منفرد مقام رکھتے ہیں بلکہ فن مصوری اور مجسمہ سازی کو بھی ایک نئی جہت عطا کرتے ہیں۔ دنیا بھر میں ماہر شیفس اور چاکلیٹ آرٹسٹ محض چند بنیادی اجزاء کو استعمال کرتے ہوئے حیرت انگیز اشکال تخلیق کرتے ہیں، جو دیکھنے والوں کو مسحور کر دیتی ہیں۔مالٹا کے مشہور چاکلیٹ ساز اینڈریو فیروگیا نے دنیا کا سب سے طویل چاکلیٹ مجسمہ تیار کر کے اپنی تیسری گنیز ورلڈ ریکارڈ کامیابی حاصل کی ہے۔ یہ مجسمہ 55.27 میٹر لمبی قدیم طرز کی ٹرین پر مشتمل ہے، جو ایک اولمپک سوئمنگ پول کی لمبائی سے بھی زیادہ اور 747 جمبو جیٹ کے پروں کے پھیلاؤ کے قریب ہے۔ یہ لذیذ تخلیق ایک انجن اور 22 بوگیوں پر مشتمل ہے، جن میں سے ہر ایک کا وزن 160 کلوگرام تک ہے اور یہ مکمل طور پر چاکلیٹ سے تیار کی گئی ہیں۔اینڈریو فیروگیا نہ صرف ایک باصلاحیت چاکلیٹ آرٹسٹ ہیں جن کا کیریئر عمر بھر کی کلنری(culinary) خدمات پر محیط ہے، بلکہ وہ مالٹا کے انسٹی ٹیوٹ آف ٹورزم اسٹڈیز (ITS) میں کْلنری آرٹس اور چاکلیٹ میکنگ کے سینئر لیکچرر بھی ہیں۔ ITS ایک اعلیٰ تعلیمی ادارہ ہے جو مہمان نوازی، کْلنری آرٹس اور سیاحت کے شعبوں پر توجہ دیتا ہے۔ اینڈریو 2026ء تک تقریباً 29 برس سے اس ادارے میں تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اینڈریو نے کہاکہ اس ریکارڈ کے ذریعے میں اپنے ادارے، اپنے ملک اور اپنے خاندان کیلئے ایک یادگار ورثہ چھوڑنا چاہتا تھا۔یہ شاندار چاکلیٹ شاہکار اٹلی کے شہر میلان میں پیش کیا گیا، جو خوراک اور خوبصورتی کا حقیقی دارالحکومت سمجھا جاتا ہے۔ اینڈریو نے فخر کے ساتھ بتایا کہ وہ اور ان کی ٹیم گزشتہ ایک دہائی کے دوران گنیز ورلڈ ریکارڈ کے دو اعزازات پہلے ہی اپنے نام کر چکے ہیں۔ 2012ء میں، اینڈریو نے برسلز میں 34.05 میٹر طویل چاکلیٹ سے تیار کی گئی ماڈل ٹرین بنائی، جسے اس وقت دنیا کا سب سے طویل چاکلیٹ مجسمہ تسلیم کیا گیا۔دو سال بعد، انہوں نے شاندار مہارت کے ساتھ دبئی کے برج خلیفہ جو دنیا کی سب سے بلند عمارت ہے کا چاکلیٹ مجسمہ تیار کیا۔ یہ مجسمہ 13.52 میٹر بلند تھا اور اس وقت دنیا کا سب سے بلند چاکلیٹ مجسمہ بن گیا۔ بعد ازاں یہ مجسمہ دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ میں نصب کیا گیا۔اینڈریو نے بتایا کہ ایسا چاکلیٹ مجسمہ تیار کرنا ایک طویل اور محنت طلب عمل تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اور ان کی ٹیم تقریباً ایک سال اس کی تیاری میں صرف کرتے ہیں۔ تاہم، اصل تیاری میں چار ماہ لگے، جس دوران تفصیلی منصوبہ بندی اور ماڈلنگ کی گئی، اور یہ محنت بالآخر رنگ لے آئی۔اگست سے اینڈریو نے ہر ٹرین کے جزو کے مٹی کے ماڈلز تیار کرنا شروع کیے، جو بعد میں بڑی مقدار میں چاکلیٹ کے ٹکڑوں میں تبدیل ہوئے۔ تقریباً اکتوبر کے مہینے میں، اینڈریو نے بتایا کہ وہ ٹرین کے اصل بنیاد پر کام شروع کر چکے ہیں، اور ہر بوگی کو برگامو میں بڑے چاکلیٹ کے سلیبس سے بنایا گیا۔ آخر میں، تمام ٹکڑے چاکلیٹ بنانے والی ایک بڑی ٹیم کے ذریعے اکٹھے کیے گئے۔اینڈریو نے کہاکہ اگر میں حساب لگاؤں تو تقریباً 5ہزار ٹکڑے تھے، سب ہاتھ سے کاٹے گئے، اور صرف بوگیوں کیلئے تقریباً 180 پہیے استعمال ہوئے۔اس ریکارڈ شکن لمبائی کی وجہ سے ٹرین کو حرکت دینا بھی مشکل تھا۔ اینڈریو کے مطابق، پورے عمل میں سب سے مشکل مرحلہ اس کا نقل و حمل تھا۔یہ شاہکار نہ صرف چاکلیٹ سازی کی مہارت کا مظہر ہے بلکہ انسانی تخیل اور محنت کی شاندار مثال بھی پیش کرتا ہے۔ نفیس کاریگری سے تیار کی گئی اس دیوقامت ٹرین میں انجن سے لے کر بوگیوں تک ہر جزئیات کو حقیقت کے قریب تر انداز میں ڈھالا گیا، جس نے دیکھنے والوں کو حیرت میں مبتلا کر دیا۔ یہ تخلیق ثابت کرتی ہے کہ فن جب ذوق اور جدت سے ہم آہنگ ہو جائے تو عام چیز بھی عالمی اعزاز حاصل کر سکتی ہے۔