آج کا دن

آج کا دن

اسپیشل فیچر

تحریر :


سوئس نہرتنازع حل ہوا
1882ء میں برطانیہ نے مصر پر قبضہ کر کے نہر سوئس کو اپنے کنٹرل میں لے لیا تھا۔یہ عمل یورپی ممالک کیلئے بہت پریشان کن تھا جس کی وجہ سے یورپی ایوانوں میں بے چینی بڑھی اور صورتحال دن بدن خراب ہوتی چلی گئی۔ اس صورتحال کو قابو کرنے کیلئے 2مارچ 1988ء کو استنبول میں ایک کانفرنس کا انعقاد ہوا جس میں یورپی ممالک نے شرکت کی۔اس کانفرس کے اختتام پر یہ فیصلہ ہوا کہ تمام ممالک اس نہر کو بلا معاوضہ ایک گزرگاہ کے طور پر استعمال کریں گے۔
نیلسن منڈیلاکی فتح
02مارچ 1990ء کا دن افریقہ کی تاریخ میں بہت اہمیت رکھتا ہے کیونکہ اس روز افریقہ کے عظیم رہنما نیلسن منڈیلا نے افریقن نیشنل کانگریس کے صدر کا انتخاب جیتا تھااور وہ 1999ء تک اس عہدے پر فائز رہے۔1994ء میں نیلسن منڈیلا کو افریقی عوام نے اپنا صدر منتخب کیا۔ انہیں دنیا کے عظیم لیڈروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ نیلسن منڈیلا نے ساری زندگی، نسل پرستی، غربت، ظلم اور عدم مساواتی نظام کے خلاف اعلان جنگ کئے رکھا۔
انہوں نے افریقہ کے اس طبقے کے حقوق کی لڑائی لڑی جو کئی صدیوں سے ظلم و بربریت کا شکار تھا۔
بلوچ ثقافت کا عالمی دن
آج پاکستان سمیت دنیا بھر میں بلوچ ثقافت کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ کسی بھی قوم یا معاشرے میں موجود رسم و رواج اور اقدار کو ثقافت کہا جاتا ہے۔ بلوچوں میں بہادری اور شجاعت کا عنصر بھی پایا جاتا ہے اور ان کے رسم و رواج میں عرب کی رسومات بھی شامل ہیں۔ بلوچ ثقافت میں ان کے مخصوس لباس کو بھی بہت اہمیت حاصل ہے۔گھیرے والی شلوار، پگڑی اور چووٹ بلوچی ثقافت میں نمایاں حیثیت رکھتی ہیں۔بلوچی رقص بھی ان کی ثقافت کا اہم حصہ ہے کسی بھی خوشی کے موقع پر اس رقص کے بغیر تقریب کو ادھورا سمجھا جاتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
آج تم یاد بے حساب آئے ناصر کاظمی: صاحب طرز شاعر (1972-1925ء)

آج تم یاد بے حساب آئے ناصر کاظمی: صاحب طرز شاعر (1972-1925ء)

٭... 8دسمبر1925ء کو انبالہ (بھارت) میں پیدا ہوئے، اصل نام سید ناصر رضا کاظمی تھا۔٭...ان کے والد سیّد محمد سلطان کاظمی فوج میں صوبے دار میجر تھے۔٭... ابتدائی تعلیم انہوں نے انبالہ اور شملہ میں مکمل کی، پھر لاہور میں تعلیم حاصل کرتے رہے۔٭... ناصر کاظمی نے 1940ء میں شعر کہنے شروع کیے۔ آغاز میں رومانی نظمیں لکھنا شروع کیں۔ اس کے بعد وہ غزل کی طرف آئے، جو بعد میں ان کا اصل میدان ٹھہری۔ ٭... وہ آزادی کے بعد کسمپرسی کے عالم میں پاکستان پہنچے تھے۔٭... ان کی شاعری میں عشق، محبت، درد، رنج اور انسانیت کے جذبات کو خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے۔٭... وہ اپنی غزلوں کیلئے مشہور ہیں، لیکن ان کی نظمیں بھی بہت خوبصورت اور معنی خیز ہیں۔٭... ناصرکاظمی صاحب طرز شاعر ہونے کے ساتھ ایک مدیر بھی تھے۔ ٭...ان کی کتابوں میں شعری مجموعے ''برگ نے، دیوان، پہلی بارش، نشاط خواب، ''سُر کی چھایا‘‘ (منظوم ڈراما کتھا)، ''خشک چشمے کے کنارے‘‘ (نثر، مضامین، ریڈیو فیچرز، اداریے) اور ''ناصر کاظمی کی ڈائری‘‘ شامل ہیں۔ ٭...ان کی شاعری کا اہم ترین وصف سادہ اور سلیس زبان کا استعمال ہے۔٭... ان کی شاعری میں ہمیں درد، اُداسی اور مایوسی کے ساتھ خوشی، جذباتی محبت اور پھر کمال کی رجائیت بھی ملتی ہے۔ ٭...2مارچ 1972ء کو ہمارا یہ شاعر عالم جاوداں کو سدھار گیا ۔دل دھڑکنے کا سبب یاد آیاوہ تیری یاد تھی اب یاد آیا٭......٭......٭دائم آباد رہے گی دنیاہم نہ ہوں گے کوئی ہم سا ہوگا٭......٭......٭آج دیکھا ہے تجھ کو دیر کے بعدآج کا دن گزر نہ جائے کہیں٭......٭......٭اے دوست ہم نے ترک محبت کے باوجودمحسوس کی ہے تیری ضرورت کبھی کبھی٭......٭......٭وہ کوئی دوست تھا اچھے دنوں کاجو پچھلی رات سے یاد آ رہا ہے٭......٭......٭آرزو ہے کہ تو یہاں آئےاور پھر عمر بھر نہ جائے کہیں٭......٭......٭وقت اچھا بھی آئے گا ناصرغم نہ کر زندگی پڑی ہے ابھی٭......٭......٭بھری دنیا میں جی نہیں لگتاجانے کس چیز کی کمی ہے ابھی٭......٭......٭ہمارے گھر کی دیواروں پہ ناصراداسی بال کھولے سو رہی ہے٭......٭......٭

رمضان کے مشروب وپکوان: ہاٹ اینڈ کرسپی چکن

رمضان کے مشروب وپکوان: ہاٹ اینڈ کرسپی چکن

اجزاء : چکن دو کلو ، نمک ایک چائے کا چمچ ، کالی مرچ ایک کھانے کا چمچ ، مسٹرڈ پائوڈر دوچائے کے چمچ ، لیموں 2عدد (رس نکال لیں ) ، میدہ 4کھانے کے چمچ ، کارن فلاور ایک کھانے کا چمچ ، بیکنگ پائوڈر آدھاچائے کا چمچ ، دودھ چوتھائی کپ ، انڈے دوعدد ، چلی ساس دوکھانے کے چمچ ترکیب : سب سے پہلے مرغی کے ٹکڑوں کو اچھی طرح سے دھوکر صاف کرلیں پھر اسے ایک برتن میں رکھ کر اس میں نمک آدھا چائے کا چمچ، کالی مرچ دوچائے کے چمچ، مسٹرڈ پائوڈر، دو عدد لیموں کا رس ڈال کر اسے ملاکر دوگھنٹے کے لیے رکھ دیں۔ دوگھنٹے بعد چکن کے ٹکڑوں کو بھاپ دے کر ادھ کچا پکالیں (یادرہے کہ ٹانگ کے ٹکڑوں کو ذرا زیادہ بھاپ دینا تاکہ اندر سے کچے نہ رہیں ) پھر ایک برتن میں میدہ، کارن فلاور ایک کھانے کا چمچ، بیکنگ پائوڈر آدھا چائے کا چمچ، کالی مرچ آدھاچائے کا چمچ، کالی مرچ آدھا چائے کا چمچ ، اجینو موتو چوتھائی کپ، دودھ چوتھائی کپ، انڈے دوعدد، اورچلی ساس دوکھانے کے چمچ، ڈال کر اسے الیکٹرک ہیٹر کی مددسے مکس کرلیں اس کے بعد چکن کو اس میں ڈپ کریں پھر ایک گھنٹے کے لیے رکھ دیں۔ اب کارن فلیکس کو باریک پیس لیں اور میدے کے ساتھ ملا کر اسے مرغی پر کوٹ کرکے ڈیپ فرائی کرلیں اور خوبصورتی سے سجاکر گرم گرم پیش کریں۔ کیلے کا ملک شیک: پوٹاشیم اور وٹامنز کا خزانہکیلے پوٹاشیم، فائبر، وٹامن سی اور وٹامن بی 6 سے بھرپور ہوتے ہیں۔کیلے کا ملک شیک تیار کرنے کے لیے ایک سے دو کیلوں کو ایک کپ دودھ کے ساتھ بلینڈ کریں۔ یہ مشروب نہ صرف لذیذ ہوتا ہے بلکہ یہ جسم کو زبردست توانائی فراہم کرتا ہے اور اگلے دن روزہ رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

دنیا کی سب سے لمبی چاکلیٹ ٹرین

دنیا کی سب سے لمبی چاکلیٹ ٹرین

55 میٹر کا لذیذ شاہکارمیٹھاس، فن اور تخلیقی مہارت جب یکجا ہو جائیں تو ایک عام سی چیز بھی شاہکار کا روپ دھار لیتی ہے۔ چاکلیٹ سے تیار کیے گئے مجسمے اسی تخلیقی امتزاج کی دلکش مثال ہیں، جو نہ صرف ذائقے کی دنیا میں منفرد مقام رکھتے ہیں بلکہ فن مصوری اور مجسمہ سازی کو بھی ایک نئی جہت عطا کرتے ہیں۔ دنیا بھر میں ماہر شیفس اور چاکلیٹ آرٹسٹ محض چند بنیادی اجزاء کو استعمال کرتے ہوئے حیرت انگیز اشکال تخلیق کرتے ہیں، جو دیکھنے والوں کو مسحور کر دیتی ہیں۔مالٹا کے مشہور چاکلیٹ ساز اینڈریو فیروگیا نے دنیا کا سب سے طویل چاکلیٹ مجسمہ تیار کر کے اپنی تیسری گنیز ورلڈ ریکارڈ کامیابی حاصل کی ہے۔ یہ مجسمہ 55.27 میٹر لمبی قدیم طرز کی ٹرین پر مشتمل ہے، جو ایک اولمپک سوئمنگ پول کی لمبائی سے بھی زیادہ اور 747 جمبو جیٹ کے پروں کے پھیلاؤ کے قریب ہے۔ یہ لذیذ تخلیق ایک انجن اور 22 بوگیوں پر مشتمل ہے، جن میں سے ہر ایک کا وزن 160 کلوگرام تک ہے اور یہ مکمل طور پر چاکلیٹ سے تیار کی گئی ہیں۔اینڈریو فیروگیا نہ صرف ایک باصلاحیت چاکلیٹ آرٹسٹ ہیں جن کا کیریئر عمر بھر کی کلنری(culinary) خدمات پر محیط ہے، بلکہ وہ مالٹا کے انسٹی ٹیوٹ آف ٹورزم اسٹڈیز (ITS) میں کْلنری آرٹس اور چاکلیٹ میکنگ کے سینئر لیکچرر بھی ہیں۔ ITS ایک اعلیٰ تعلیمی ادارہ ہے جو مہمان نوازی، کْلنری آرٹس اور سیاحت کے شعبوں پر توجہ دیتا ہے۔ اینڈریو 2026ء تک تقریباً 29 برس سے اس ادارے میں تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اینڈریو نے کہاکہ اس ریکارڈ کے ذریعے میں اپنے ادارے، اپنے ملک اور اپنے خاندان کیلئے ایک یادگار ورثہ چھوڑنا چاہتا تھا۔یہ شاندار چاکلیٹ شاہکار اٹلی کے شہر میلان میں پیش کیا گیا، جو خوراک اور خوبصورتی کا حقیقی دارالحکومت سمجھا جاتا ہے۔ اینڈریو نے فخر کے ساتھ بتایا کہ وہ اور ان کی ٹیم گزشتہ ایک دہائی کے دوران گنیز ورلڈ ریکارڈ کے دو اعزازات پہلے ہی اپنے نام کر چکے ہیں۔ 2012ء میں، اینڈریو نے برسلز میں 34.05 میٹر طویل چاکلیٹ سے تیار کی گئی ماڈل ٹرین بنائی، جسے اس وقت دنیا کا سب سے طویل چاکلیٹ مجسمہ تسلیم کیا گیا۔دو سال بعد، انہوں نے شاندار مہارت کے ساتھ دبئی کے برج خلیفہ جو دنیا کی سب سے بلند عمارت ہے کا چاکلیٹ مجسمہ تیار کیا۔ یہ مجسمہ 13.52 میٹر بلند تھا اور اس وقت دنیا کا سب سے بلند چاکلیٹ مجسمہ بن گیا۔ بعد ازاں یہ مجسمہ دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ میں نصب کیا گیا۔اینڈریو نے بتایا کہ ایسا چاکلیٹ مجسمہ تیار کرنا ایک طویل اور محنت طلب عمل تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اور ان کی ٹیم تقریباً ایک سال اس کی تیاری میں صرف کرتے ہیں۔ تاہم، اصل تیاری میں چار ماہ لگے، جس دوران تفصیلی منصوبہ بندی اور ماڈلنگ کی گئی، اور یہ محنت بالآخر رنگ لے آئی۔اگست سے اینڈریو نے ہر ٹرین کے جزو کے مٹی کے ماڈلز تیار کرنا شروع کیے، جو بعد میں بڑی مقدار میں چاکلیٹ کے ٹکڑوں میں تبدیل ہوئے۔ تقریباً اکتوبر کے مہینے میں، اینڈریو نے بتایا کہ وہ ٹرین کے اصل بنیاد پر کام شروع کر چکے ہیں، اور ہر بوگی کو برگامو میں بڑے چاکلیٹ کے سلیبس سے بنایا گیا۔ آخر میں، تمام ٹکڑے چاکلیٹ بنانے والی ایک بڑی ٹیم کے ذریعے اکٹھے کیے گئے۔اینڈریو نے کہاکہ اگر میں حساب لگاؤں تو تقریباً 5ہزار ٹکڑے تھے، سب ہاتھ سے کاٹے گئے، اور صرف بوگیوں کیلئے تقریباً 180 پہیے استعمال ہوئے۔اس ریکارڈ شکن لمبائی کی وجہ سے ٹرین کو حرکت دینا بھی مشکل تھا۔ اینڈریو کے مطابق، پورے عمل میں سب سے مشکل مرحلہ اس کا نقل و حمل تھا۔یہ شاہکار نہ صرف چاکلیٹ سازی کی مہارت کا مظہر ہے بلکہ انسانی تخیل اور محنت کی شاندار مثال بھی پیش کرتا ہے۔ نفیس کاریگری سے تیار کی گئی اس دیوقامت ٹرین میں انجن سے لے کر بوگیوں تک ہر جزئیات کو حقیقت کے قریب تر انداز میں ڈھالا گیا، جس نے دیکھنے والوں کو حیرت میں مبتلا کر دیا۔ یہ تخلیق ثابت کرتی ہے کہ فن جب ذوق اور جدت سے ہم آہنگ ہو جائے تو عام چیز بھی عالمی اعزاز حاصل کر سکتی ہے۔

رمضان کے پکوان:میٹھے سموسے

رمضان کے پکوان:میٹھے سموسے

اجزا:میدہ آدھاکلو ،گھی دو چائے کے چمچ ،زیرہ ایک چائے کا چمچ ،ایک نمک چٹکی ترکیب: میدہ میں تمام اشیاء ملاکر پانی سے سخت گوندھ لیں اور ایک گھنٹے کے لیے رکھ دیں۔ بھرائی کے لیے : کھویا ایک پائو ، چینی آدھا کپ ، اخروٹ دوکھانے کے چمچ پسا ہوا ، سوجی ایک چائے کا چمچ ، کشمش حسب ضرورت ، پستہ دو بڑے چمچ (باریک پسا ہوا)، ان تمام اشیاء کو آپس میں مکس کرلیں۔ ترکیب : میدہ کے چھوٹے سائز کے پیڑے بنا کر باریک چپاتی بیل لیں۔ اب اس میں کھویا ڈال کر چپاتی کو موڑ کر ڈی کی شکل کے سموسے بنالیں اور تیز گرم گھی میں فرائی کریں۔ رمضان کے مہینے میں نمکین چیزیں کھانے کے بعد میٹھے سموسے مہمانوں کیلئے یقینا لطف کا باعث بنیں گے۔ بادام کا ملک شیک: غذائیت کا خزانہبادام کا ملک شیک تیار کرنے کے لیے 10 سے 12 باداموں کو رات بھر پانی میں بھگو دیں، پھر انہیں چھیل کر ایک کپ دودھ، ایک چمچ شہداور الائچی کے ساتھ بلینڈ کریں۔ یہ مشروب پروٹین، وٹامنز اور منرلز سے بھرپور ہوتا ہے، جو جسم کو طویل وقت تک توانائی فراہم کرتا ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

نپولین کی فرانس واپسییکم مارچ 1815ء کو یورپ کی سیاست میں ایک اہم موڑ اس وقت آیا جب فرانس کا سابق شہنشاہ نپولین بوناپارٹ جلاوطنی ختم کر کے جزیرہ ایلبا سے فرانس واپس لوٹا۔ انہیں 1814ء میں اتحادی افواج کی فتح کے بعد اقتدار سے دستبردار کر کے ایلبا بھیج دیا گیا تھا۔واپسی پر عوام اور فوج کے ایک بڑے حصے نے ان کا استقبال کیا اور وہ دوبارہ اقتدار سنبھالنے میں کامیاب ہوگئے۔چائنہ کی '' یونیورسل پوسٹل یونین میں شمولیتیکم مارچ 1914ء کو چائنہ نے ''یو نیورسل پوسٹل یونین‘‘ میں شمولیت اختیار کی۔ ''یونیورسل پوسٹل یونین‘‘ ایک بین الاقوامی ادارہ ہے جو دنیا بھر کے ممالک کے درمیان ڈاک کے نظام کو منظم اور مربوط بنانے کیلئے قائم کیا گیا تھا۔چارلی چیپلن کی نعش چوری 1978 ء میں مشہور مزاحیہ اداکار چارلی چیپلن کی نعش سوئٹزر لینڈ میں موجود ایک قبرستان سے چرا لی گئی۔ ان کی نعش کو ایک گروہ نے تاوان کیلئے چرایا تھا ۔کچھ ہفتے بعد چارلی چیپلن کی نعش جنیوا جھیل کی تہہ سے ملی اور اسے دوبارہ قبرستان میں دفنا دیا گیا۔چارلی چپلن کا انتقال 25 دسمبر 1977ء کو ہوا تھا۔دُنیا کا پہلا نیشنل پارک1872ء میں دنیا کے پہلے نیشنل پارک کا افتتاح کیا گیا۔ اس پارک کا نام ''ییلو سٹون‘‘ تھا۔ اس کا رقبہ 9ہزار مربع کلومیٹر ہے۔ یہ رقبے میں اتنا بڑا ہے کہ اس میں دنیا کے نصف گرم پانی کے چشموں کی تعداد بھی موجود ہے۔ اس کے علاوہ اس پارک میں 290سے زیادہ آبشاریں ہیں۔یہاں مچھلیوں، پرندوں ، ممالیہ اور رینگنے والے جانوروں کی سیکڑوں اقسام پائی جاتی ہیں۔بوسنیا کا اعلان آزادی1992ء میں بوسنیا نے آج کے دن آزادی کا اعلان کیا اور اور یکم مارچ کو بوسنیا میں یوم تاسیس منایا جاتا ہے۔بوسنیا یورپ میں موجود وہ ملک ہے جو پہلے یوگوسلاویہ کا حصہ ہوا کرتا تھا۔ یہ یورپ کے جنوب میں واقع ہے۔ بوسنیا کی تین اطراف سے کروشیا کے ساتھ سرحد ملتی ہے۔ بوسنیا کے پاس صرف 26 کلومیٹر کی سمندری پٹی ہے۔ مشرق میں سربیا اور جنوب میں مونٹینیگرو کے ساتھ سرحد ملتی ہے۔ '' صفر امتیازی دن‘‘''صفر امتیازی دن‘‘ (Zero Discrimination Day) ہر سال یکم مارچ کو اقوام متحدہ (UN) اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں کی جانب سے منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد اقوام متحدہ کے تمام ممبر ممالک میں قانون حکمرانی اور برابری کو فروغ دینا ہے۔ یہ دن سب سے پہلے یکم مارچ 2014ء کو منایا گیا تھا۔در اصل اس دن کا آغاز ''یو این ایڈز‘‘ کی طر ف سے ایچ آئی وی /ایڈزکے مریضوں کے ساتھ امتیازی سلوک کا مقابلہ کرنے کیلئے کیا گیا تھا۔

مسجد دائی انگہ:مغلیہ طرز تعمیر کا شاندار نمونہ

مسجد دائی انگہ:مغلیہ طرز تعمیر کا شاندار نمونہ

لاہور اپنی تاریخی مساجد، باغات اور مغلیہ طرزِ تعمیر کے دیگرحوالوں کے باعث برصغیر کا اہم ثقافتی مرکز رہا ہے۔ انہی تاریخی یادگاروں میں مسجد دائی انگہ ایک ایسی عمارت ہے جو اپنی دلکش ساخت، تاریخی اہمیت اور تزئینی حسن کے باوجود نسبتاً کم معروف ہے۔ یہ مسجد لاہور ریلوے اسٹیشن کے قریب واقع ہے اور مغلیہ عہد کی فنکارانہ روایت کا ایک قیمتی نمونہ سمجھی جاتی ہے۔تاریخی پس منظراس مسجد کی تعمیر سترہویں صدی میں مغل دور کے عروج کے زمانے میں ہوئی۔ اس کی تعمیر کا سال 1635ء بتایا جاتا ہے جبکہ بعض کتبوں کے مطابق اس کی تکمیل 1649ء کے قریب ہوئی۔ یہ مسجد مغل شہنشاہ شاہ جہاں کی دایہ (رضاعی ماں) دائی انگہ نے تعمیر کروائی جن کا اصل نام زیب النساتھا‘ جن کا اپنا مقبرہ یو ای ٹی لاہور کے پاس واقع ہے اور گلابی چوکی کے نام سے بھی معروف ہے ۔دائی انگہ مغل دربار کی بااثر خواتین میں شمار ہوتی تھیں اور شاہی خاندان کے ساتھ ان کا گہرا تعلق تھا۔ اس مسجد کی تعمیر اس بات کی علامت ہے کہ مغلیہ دور میں خواتین بھی مذہبی اور فلاحی تعمیرات میں اہم کردار ادا کرتی تھیں۔محلِ وقوع اور شہری اہمیتیہ مسجد لاہور کے تاریخی علاقے نولکھا کے قریب، لاہور ریلوے سٹیشن کے جنوب مشرق میں واقع ہے۔ ماضی میں یہ علاقہ مغل اشرافیہ اور درباری شخصیات کی رہائش گاہوں کے لیے مشہور تھا۔ وقت کے ساتھ شہری پھیلاؤ نے اس علاقے کی ساخت کو بدل دیا مگر مسجد آج بھی اپنی تاریخی حیثیت کے ساتھ قائم ہے۔شہر کے مصروف تجارتی اور ٹرانسپورٹ مرکز کے قریب واقع ہونے کے باوجود یہ مسجد ایک تاریخی سکون اور روحانیت کا احساس دیتی ہے، جو ماضی اور حال کے امتزاج کی خوبصورت مثال ہے۔مسجد دائی انگہ نے اپنی طویل تاریخ میں کئی ادوار دیکھے۔ مغل سلطنت کے زوال کے بعد سکھ دور میں اس مسجد کو بارود کے گودام کے طور پر استعمال کیا گیا۔ اس کے بعد برطانوی دور میں اس عمارت کی مذہبی حیثیت ختم کر کے اسے رہائش گاہ اور بعد ازاں ریلوے دفتر کے طور پر استعمال کیا گیا۔ انیسویں صدی کے آخر میں اس کی تاریخی اہمیت کو تسلیم کیا گیا اور بیسویں صدی کے آغاز میں اسے دوبارہ مسجد کے طور پر بحال کیا گیا۔ اس بحالی نے اس تاریخی عمارت کو اپنی اصل مذہبی شناخت واپس دلائی۔مغلیہ فن کا خوبصورت نمونہمسجد دائی انگہ کا بنیادی منصوبہ مغلیہ مساجد کے روایتی انداز کی عکاسی کرتا ہے۔ مسجد تین حصوں پر مشتمل ہے جن میں مرکزی حصہ سب سے نمایاں ہے۔ مرکزی گنبد بلند جبکہ اطراف کے گنبد نسبتاً چھوٹے ہیں جو توازن اور جمالیاتی حسن پیدا کرتے ہیں۔یہ ترتیب مغلیہ طرزِ تعمیر میں روحانی مرکزیت کی علامت سمجھی جاتی ہے جہاں مرکزی گنبد عبادت کے مقام کو نمایاں کرتا ہے۔مسجد کے سامنے ایک کشادہ صحن موجود تھا، جو اجتماعی عبادت اور مذہبی اجتماعات کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ صحن میں وضو کے لیے حوض کی موجودگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مسجد کو مکمل مذہبی تقاضوں کے مطابق ڈیزائن کیا گیا تھا۔کاشی کاری اور تزئینی حسنمسجد دائی انگہ کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کی شاندار کاشی کاری ہے۔ بیرونی دیواروں پر نیلے، زرد اور نارنجی رنگوں کی ٹائلوں کا استعمال مغلیہ فنِ تعمیر کے اعلیٰ جمالیاتی ذوق کی نمائندگی کرتا ہے۔پیش طاق (بلند مرکزی محرابی دروازہ) اور دیواروں پر کی گئی ٹائل موزیک آرائش اسے لاہور کی دیگر مغلیہ عمارتوں سے جوڑتی ہے۔ یہ آرائش فارسی اور مقامی فنون کے امتزاج کی بہترین مثال ہے۔ابتدائی دور میں مسجد کے اندرونی حصے میں خوبصورت فریسکو (دیواروں پر رنگین نقاشی) موجود تھی۔ وقت گزرنے، موسمی اثرات اور مرمت کے مختلف مراحل کے باعث اصل فریسکو کا بڑا حصہ متاثر ہوا اور بعد میں کچھ جگہوں پر ٹائلوں کا استعمال کیا گیا۔اندرونی محرابیں گہری اور نفیس انداز میں تعمیر کی گئی ہیں جبکہ دیواروں پر خطاطی کے آثار بھی ملتے ہیں، جو مغلیہ دور کی مذہبی آرائش کی روایت کی عکاسی کرتے ہیں۔مینار اور بیرونی خدوخالمسجد کے اگلے حصے کے دونوں کونوں پر چھوٹے مگر خوبصورت مینار قائم ہیں جن کی بنیاد مربع شکل میں ہے اور اوپر چھتری نما گنبد بنائے گئے ہیں۔ یہ خصوصیت مغلیہ طرزِ تعمیر کی نمایاں علامتوں میں سے ہے۔بیرونی سطح پر ٹائل ورک، محرابی دروازے اور متوازن ساخت اس مسجد کو فنِ تعمیر کے لحاظ سے نہایت اہم بناتے ہیں۔یہ مسجد ایک محفوظ تاریخی ورثہ سمجھی جاتی ہے مگر شہری آبادی میں اضافے، ماحولیاتی اثرات اور غیر پیشہ ورانہ مرمت نے اس کے اصل حسن کو جزوی طور پر متاثر کیا ہے۔ ماہرینِ آثارِ قدیمہ کے مطابق اس مسجد کی اصل کاشی کاری اور فریسکو آرائش کی سائنسی بنیادوں پر بحالی نہایت ضروری ہے۔مسجد دائی انگہ لاہور کی ان تاریخی یادگاروں میں شامل ہے جو اپنی خاموش عظمت میں صدیوں کی تاریخ سموئے ہوئے ہیں۔ ایک بااثر مغلیہ خاتون کی سرپرستی میں تعمیر ہونے والی یہ مسجد فنِ تعمیر، روحانیت اور ثقافتی ورثے کا حسین امتزاج پیش کرتی ہے۔اگر اس تاریخی مسجد کی مناسب دیکھ بھال اور مستند طرز پر بحالی کی جائے تو یہ نہ صرف سیاحتی بلکہ علمی اور تحقیقی لحاظ سے بھی لاہور کے اہم تاریخی مقامات میں نمایاں مقام حاصل کر سکتی ہے۔ یوں مسجد دائی انگہ محض ایک قدیم عمارت نہیں بلکہ ماضی کی شان و شوکت، فن اور مذہبی روایت کی ایک زندہ داستان ہے۔