ادیبوں کی حیران کر دینے والی عجیب عادات!!!

ادیبوں کی حیران کر دینے والی عجیب عادات!!!

اسپیشل فیچر

تحریر : شاہد محمد شاہد


ادیبوں کی حیران کر دینے والی عجیب عادات کا انسان کے ساتھ بہت گہرا رشتہ ہے۔ ہر دور کا ادب اپنے عہد کا آ ئینہ ہوتا ہے۔ کامیاب ادیب اسی کو کہا جاتا ہے، جو اپنی تحریروں میں اپنے اردگرد پیش رونما ہونے والے واقعات، معاشرتی رویوں اور بدلتے رجحانات کی تہذیبی اقدار اور طرزِ زندگی میں ہونے والی تبدیلیوں کی بھرپور عکاسی کرسکے۔ شاید اسی لیے ادیب کو اپنے عہد کا حقیقی عکاس سمجھا جاتا ہے۔ ادیب اور قاری کا رشتہ اسی صورت میں مستحکم ہو سکتا ہے جب پڑھنے والے کو اس کی تحریروں میں اپنی زندگی کی تصویر نظر آئے اور وہ ان تحریروں کو اپنے دل کی آواز سمجھے۔وہ لوگ جو ادب سے لگائو رکھتے ہیں اور مطالعے سے جن کو خاص شغف ہے، وہ یقینا مشہور و معروف ادیبوں کی کتابوں کے بارے میں کچھ نہ کچھ جانتے ہیں، لیکن لکھتے وقت یہ بڑے ادیب جو عجیب و غریب طریقے اختیار کرتے ہیں، ان سے بہت کم لوگ واقف ہیں حالانکہ وہ نہایت دلچسپ ہیں۔ یہ ادیب لکھتے وقت نہایت منفرد اور دلچسپ انداز اختیار کرتے تھے اور عام قاری بھی یقینا جاننا چاہتا ہے کہ اس کا پسندیدہ ادیب کیسے اتنی منفرد و شاہکار تحریریں تخلیق کر ڈالتا ہے۔اس مضمون میں ہم چند ایسے ہی مشہور ادیبوں کے متعلق جاننے کی کوشش کریںگے ،جو بڑے انوکھے انداز سے اپنے ادبی شہ پارے تخلیق کرتے تھے۔٭اُردو کے مشہور اور منفرد افسانہ نگار سعادت حسن منٹو لکھتے وقت صوفے پر بیٹھ کر دونوں گھٹنے سکیڑ لیتے اور ایک چھوٹی سی پنسل سے لکھتے۔ افسانہ شروع کرنے سے پہلے وہ 786ضرور لکھتے تھے ،جو بسم اللہ الرحمن الرحیم کے ہم معنی سمجھا جاتا ہے۔٭اُردو کے مشہور افسانہ نگار اور ناول نگار کرشن چندر تنہائی میں کمرہ بند کرکے لکھتے تھے۔ ایک بار ان کی بیگم نے چپکے سے کمرے میں جھانک کر دیکھا۔ وہ بتاتی ہیں کہ کرشن چندر اردگرد سے بے خبر اپنے لکھنے کے پیڈ پر جھکے ہوئے تھے۔ اس لمحے ان کا چہرہ بہت گمبھیر، بھیانک اور اجنبی سا لگا، تیوریاں چڑھی ہوئی تھیں، ہونٹ بھینچے ہوئے تھے اور ان کے ہاتھ میں قلم خنجر کی طرح نظر آرہاتھا۔کچھ دیر بعد کرشن چندر کمرے سے نکلے اور سیدھے کھانے کی میز کی طرف آئے۔اس وقت ان کا چہرہ پُرسکون،تازہ اور بہت معصوم تھا۔٭اُردو کے منفرد اور ممتاز مزاح نگار شفیق الرحمن ہمیشہ کھڑے ہوکر لکھا کرتے تھے۔اسی طرح انگریزی کی ادیب کیرولین ویج وڈ کہتی تھیں کہ لکھتے ہوئے بعض اوقات ریڈیو سُننے سے انہیں خیالات مجتمع کرنے میں بڑی مدد ملتی ہے۔٭بچوں کے عظیم محسن حکیم محمد سعید عام طور پر رَف لکھتے وقت اشتہارات کے پچھلے حصے کا استعمال کرتے تھے۔ یہ اشتہارات مختلف اخبارات میں ہوتے تھے یا عموماً ایڈورٹائزنگ کے لیے لوگ ان کا استعمال کرتے تھے۔ حکیم صاحب کے بقول’’ یہ قوم ابھی اتنی امیر نہیں ہوئی کہ بہترین کاغذ کا استعمال کرسکے۔‘‘ حالانکہ حکیم صاحب کے پاس کسی چیز کی کمی نہ تھی، لیکن ان کی یہ بات اس قوم کو سادگی اور کفایت شعاری کا درس دیتی ضرور نظر آتی ہے۔٭فرانسیسی ناول نگار وکٹر ہیوگو کی یہ عادت تھی کہ وہ لکھتے وقت سیدھے کھڑے ہوجاتے اور لکھنے کے لیے اپنے کندھے جتنی اونچی میز (ڈیسک)استعمال کرتے۔ ونسٹن چرچل بھی ابتدا میں لکھتے وقت اسی قسم کا انداز اپناتے تھے۔٭انگریزی کے مشہور ادیب آسکروائلڈ تو سب سے بازی لے گئے۔ انہوں نے اپنا سالِ پیدائش1854ء کے بجائے 1856ء کر لیا تھا۔ مقصد یہ تھا کہ وہ لوگوں کے سامنے خود کو کم عمر ثابت کرسکیں۔٭فرانسیسی ناول نویس الیگزینڈر ڈومالکھتے وقت لیموں کے علاوہ اور کسی پھل کا مشروب نہیں پیتے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ الیگزینڈر ڈوما رسالوں کے لیے مضامین لکھتے وقت گلابی کاغذ، اپنی شاعری پیلے کاغذ اور ناول کے لیے نیلے رنگ کا کاغذ اِستعمال کرتے تھے۔آئرلینڈ کے مشہور ناول نگار جیمز جوائس نے اپنی تمام تحریریں بستر پر اْلٹے لیٹ کر لکھیں۔ ان کا کہنا تھا: ’’میں اس طریقے سے لکھتے ہوئے آرام محسوس کرتا ہوں۔‘‘کئی ادیب و شاعر لکھتے وقت سگریٹ کا استعمال کرتے تھے کیونکہ ان کے مطابق سگریٹ ان کے دماغ کو متحرک رکھتی ہے۔ حالانکہ اسی سگریٹ نوشی کی وجہ سے وہ مہلک بیماریوں میں مبتلا رہے۔میں ایک بُک سٹال پر کھڑا تھا۔اسی دوران ایک شخص سے مختلف ادیبوں کے حوالے سے بات چیت شروع ہوگئی۔ جب اسے پتا چلا کہ میں لکھتا ہوں، تو اس نے سگریٹ سُلگائی اور مجھے آفر کی۔ جب میں نے کہا بھائی صاحب میں سگریٹ نہیں پیتا، تو کہنے لگا: ’’حیرت ہے، آپ لکھتے ہیں، مگر سگریٹ نہیں پیتے‘‘اسی طرح بعض ادیب لکھتے ہوئے چائے پینے کے عادی ہوتے ہیں۔٭ مشہور ادیب ایڈگر رائس اپنی دلچسپ اورچونکادینے والی کہانیاںچائے کی بے شمار پیالیاں پی کر لکھتے تھے۔٭ فرانسیسی ادیب بالزاک چائے کے بجائے کافی پیتے تھے۔ وہ آدھی رات سے لے کر اگلے دن کی دوپہر تک لکھا کرتے تھے۔ اس دوران وہ کافی کی لاتعداد پیالیا ں پی جاتے۔ ایک دفعہ انہوں نے مذاقاً کہا تھا: ’’میں کافی کی دس ہزار پیالیاں پی کر مروں گا۔‘‘بعض ادیب ایسے بھی گزرے ہیں جو لکھنے کے دوران اپنے قریب سیب یا شہد رکھتے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ سیب یا شہد کی خوشبو سونگھنے سے ان کے خیالات کو تحریک ملتی تھی۔ایک زمانہ تھا، جب ادیب اتنے نازک مزاج ہوتے تھے کہ بلی کی میائوں میائوں اور مرغ کی ککڑوں کوں سے پریشان ہوجاتے اور ایک دم ان کے قلم رک جاتے۔ آپ اسے ملکہ وکٹوریہ کا دور کہہ سکتے ہیں، تاہم آج کے بیشتر ادیب لکھتے وقت اردگرد ہلکا پھلکا شور گوارا کرلیتے ہیں، شاید وہ شور کے عادی ہوگئے ہیں۔٭معروف ادیب جے بی پریسٹلے صرف کسی تحریر کو درست کرنے یا دستخط کرنے کے لیے پنسل استعمال کرتے تھے۔ اس کے برعکس لارڈ ڈیوڈ سسلی نے اپنی طویل سوانح عمری پنسل سے لکھی تھی۔٭اُردو کی مشہور افسانہ نگار، ڈراما نگار عصمت چغتائی اوندھی لیٹ کرلکھتی تھیں اور لکھتے ہوئے عموماً برف کی ڈلیاں چباتی جاتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈلیاں چپانے سے میرے ذہن میں نت نئے خیالات آتے ہیں۔٭مشہور انگریز ادیب جارج برنارڈشا ابتدا میں اس قدر شرمیلا تھا کہ وہ اپنے دوستوں کو ملنے سے بھی گھبراتا تھا۔ پھر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ وہ اپنے دور کا بہترین مقرر تھا۔٭انگریزی کے ادیب ڈیکسٹر اپنی تحریر میں کامے، فل سٹاپ اور ڈیش وغیرہ نہیں لگاتے تھے۔ وہ اپنی تحریر میں انگریزی لکھائی کے اس قاعدے کا بھی لحاظ نہیں رکھتے تھے کہ ہر نیا جملہ بڑے حروفِ تہجی سے شروع ہو۔ اس وجہ سے ان کی تحریر ایک طویل ترین جملہ لگتی تھی۔ ان کی کتاب کے ناشر نے ایک دفعہ پریشان ہوکر انہیں لکھا کہ اس میں نہ تو کاما ہے، نہ فل سٹاپ، میں کیا کروں؟ ڈیکسٹر کو تائو آگیا۔ انہوں نے کچھ کاغذوں پر بے شمار کامے، ڈیش، فل اسٹاپ وغیرہ لکھے اور انہیں ناشر کو اس نوٹ کے ساتھ روانہ کردیا کہ جہاں جہاں ضرورت ہو، وہ اس کاغذ سے کامے، ڈیش اور فل سٹاپ وغیرہ لے لے۔٭برطانیہ کے معروف ادیب کومپٹن میکنزی لکھتے وقت پسِ منظر میں کلاسیکی موسیقی کی دُھنیں سُنا کرتے تھے۔ میکنزی کا کہنا تھا کہ ایسی موسیقی اس کے خیالات کو توانائی بخشتی ہے۔اب توکمپیوٹر کا دورآگیا ہے، لیکن اگلے وقتوں میں تحریر صاف رکھنے کے لیے عموماً ٹائپ رائٹر استعمال کیا جاتاتھا۔ مشہور ادیب چارلس ڈکنز اس کااستعمال نہیں جانتے تھے، اس لیے ڈکنز کے ہاتھ کی لکھی ہوئی تحریریں پڑھنا بہت دشوار ہوتا تھا۔ ان کی تحریریں خاردار تاروں کی طرح الجھی ہوئی نظر آتیں۔ یقینا ڈکنز کی تحریروں نے ناشرین کو بڑا پریشان کیا ہوگا۔ چارلس ڈکنز کے بارے میں یہ پڑھ کر آپ یقینا حیران ہوں گے کہ اگر اس کے بستر کا رخ شمال کے بجائے مشرق یا مغرب کی طرف کر دیا جاتا، تو اسے نیند ہی نہیں آتی تھی۔ وہ تمام رات جاگ کر گزار دیتا، لیکن جب بستر کا رخ شمال کی طرف کردیا جاتا، تو وہ گہری نیند سو جاتا تھا۔سب سے عجیب عادات و حرکات ان ادیبوں کی تھیں ،جو خاص قسم کے ماحول میں خاص قِسم کا لباس پہن کر لکھتے تھے، مثلاً مشہور ادیب ڈیوما لکھتے ہوئے ایک اونچی لمبی ٹوپی، پھول دار جاپانی چوغے کے ساتھ پہنتے۔ وہ کہتے تھے:’’میرے آدھے خیالات اس ٹوپی کے اندر ہوتے ہیں اور آدھے اس چوغے میں، جو میں روحانی مناظر لکھتے وقت پہنتا ہوں‘‘۔٭مختصر افسانے کے بانی مشہور مصنف ایڈگرایلن پو کے متعلق کہا جاتاہے کہ وہ لکھتے وقت اکثر اپنی پالتوبلی کو کندھے پر بٹھا لیتا تھا۔٭…٭…٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
میتھ 2.0 ڈے

میتھ 2.0 ڈے

مستقبل کی معیشت،سائنسی ترقی کی بنیادہر سال 8 جولائی کو میتھ 2.0 ڈے (Math 2.0 Day) منایا جاتا ہے۔ یہ دن ریاضی اور جدید ٹیکنالوجی کے باہمی تعلق کو اجاگر کرنے کے لیے وقف ہے۔ اگرچہ یہ اقوام متحدہ کا منظور شدہ عالمی دن نہیں تاہم دنیا بھر میں تعلیمی ادارے، ریاضی دان، سائنسدان اور ٹیکنالوجی کے ماہرین اس موقع پر اس حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں کہ اکیسویں صدی کی ترقی میں ریاضی بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ اس دن کا آغاز 2009ء میں Math 2.0 Interest Groupکے قیام کی یاد میں کیا گیا، جس کا مقصد ریاضی کی تعلیم کو جدید ڈیجیٹل تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا تھا۔ریاضی: ہر جدید ایجاد کی بنیادآج کی دنیا میں مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence)، ڈیٹا سائنس، روبوٹکس، خلائی تحقیق، سائبر سکیورٹی، انجینئرنگ، مالیاتی نظام، موسمیاتی پیشگوئی ، طبی تحقیق غرض سائنس جس قسم کی بھی ہو، کسی شعبے کا ریاضی کے بغیر تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ سمارٹ فون، آن لائن بینکنگ، نیویگیشن سسٹم، ای کامرس، سرچ انجن اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم بھی پیچیدہ ریاضیاتی اصولوں پر کام کرتے ہیں۔ریاضی صرف اعداد و شمار کا علم نہیں بلکہ منطقی سوچ، تجزیہ، درست فیصلہ سازی اور مسائل کے حل کا فن بھی سکھاتی ہے۔ یہی صلاحیتیں آج کی عالمی معیشت میں سب سے زیادہ اہم سمجھی جاتی ہیں۔ اسی لیے ترقی یافتہ ممالک ابتدائی جماعتوں ہی سے بچوں میں ریاضیاتی سوچ پیدا کرنے پر خصوصی توجہ دیتے ہیں۔پاکستان میں ریاضی کے فروغ کی ضرورتپاکستان میں ریاضی کی تعلیم کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ہمارے ملک میں عموماً طالب علموں کی ریاضی کی قابلیت کمزور ہے اور بہت سے طلبہ ریاضی کو صرف امتحان پاس کرنے کی مجبوری سمجھتے ہیں ، اس کے عملی استعمال، منطقی پہلو اور سائنسی اہمیت پر نسبتاً کم توجہ دی جاتی ہے۔ رٹے پر مبنی تدریسی انداز، عملی سرگرمیوں کی کمی اور محدود وسائل اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بناتے ہیں۔وقت کا تقاضا ہے کہ نصاب کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے اور اساتذہ کی تربیت پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ ریاضی کو کمپیوٹر پروگرامنگ، مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، انجینئرنگ اور روزمرہ زندگی کی مثالوں کے ساتھ پڑھایا جائے ، طلبہ اس علم کو عملی زندگی سے جوڑ سکیں۔اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت کے لیے انہیں جدید تدریسی تکنیک، ڈیجیٹل ٹولز، انٹرایکٹو سافٹ ویئر اور مسئلہ حل کرنے پر مبنی تدریسی طریقوں سے روشناس کرایا جانا ضروری ہے۔ اسی طرح سکولوں اور کالجوں میں ریاضی کے مقابلوں، STEM سرگرمیوں، سائنس میلوں اور روبوٹکس کلبوں کا فروغ طلبہ میں دلچسپی پیدا کر سکتا ہے۔والدین کیا کردار ادا کر سکتے ہیں؟بچوں کی تعلیمی کامیابی میں والدین کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ ریاضی کے حوالے سے گھر کا ماحول بچے کے اعتماد پر براہ راست اثر انداز ہوتا ہے۔ اگر والدین خود ریاضی کو مشکل یا خوفناک مضمون قرار دیں تو بچے بھی یہی تاثر لیں گے ۔والدین کو چاہیے کہ بچوں کو سوال پوچھنے کی ترغیب دیں، غلطیوں پر تنقید کے بجائے رہنمائی کریں اور انہیں مسلسل مشق کی اہمیت سے آگاہ کرتے رہیں۔نیز خریداری، گھریلو بجٹ، وقت، فاصلے، کھیلوں کے سکور اور روزمرہ کے دیگر معاملات میں ریاضی کے استعمال کو بچوں کے سامنے اجاگر کرنا چاہیے تاکہ وہ محسوس کریں کہ ریاضی صرف کتابوں تک محدود نہیں بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں موجود ہے۔چھوٹے بچوں کے لیے عددی کھیل، منطقی پہیلیاں، تعمیراتی بلاکس اور ذہنی مشقیں ریاضیاتی سوچ کو مضبوط بنانے میں مؤثر کردار ادا کرتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بچوں کی حوصلہ افزائی کی جائے کہ وہ ریاضی کو محض امتحانی مضمون کے بجائے ایک دلچسپ ذہنی مشق کے طور پر دیکھیں۔علم پر مبنی معیشت کی جانب سفردنیا تیزی سے ڈیجیٹل معیشت کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں اعلیٰ مہارت رکھنے والے افراد کی طلب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ مصنوعی ذہانت، ڈیٹا اینالیٹکس، مشین لرننگ، فِن ٹیک اور جدید صنعتوں میں کامیابی کے لیے مضبوط ریاضیاتی بنیاد ناگزیر ہے۔ اگر ہم علم اور ٹیکنالوجی پر مبنی معیشت کی تشکیل چاہتے ہیں تو ریاضی کی تعلیم کو قومی ترجیحات میں شامل کرنا ہوگا۔ حکومت، سکولز، اساتذہ اور والدین کو مشترکہ حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے ایسا تعلیمی ماحول تشکیل دینا ہوگا جہاں تجزیاتی سوچ، تحقیق، اختراع اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت کو فروغ ملے۔میتھ 2.0 ڈے ہمیں یہی پیغام دیتا ہے کہ ریاضی صرف نمبروں کا علم نہیں بلکہ مستقبل کی معیشت، سائنسی ترقی اور قومی خوشحالی کی بنیاد ہے۔ اگر آج کے بچوں کی تعلیمی بنیاد کو ریاضی کی تعلیم اور جدید سائنسی سوچ فراہم کی جائے تو یہ کل پاکستان کو ٹیکنالوجی اور تحقیق کے میدان میں نئی بلندیوں تک لے جا ئیں گے۔

پاکستان دنیا کی بلند ترین چوٹیوں کا مسکن

پاکستان دنیا کی بلند ترین چوٹیوں کا مسکن

پاکستان کو قدرت نے ایسی جغرافیائی دولت سے نوازا ہے جو دنیا کے بہت کم ممالک کے حصے میں آئی ہے۔ ملک کے شمالی علاقہ جات میں قراقرم، ہمالیہ اور ہندوکش کے عظیم پہاڑی سلسلے نہ صرف بے مثال قدرتی حسن پیش کرتے ہیں بلکہ دنیا کی بلند ترین چوٹیوں اور قطبی علاقوں سے باہرگلیشیئرز کا سب سے بڑا مرکز ہیں۔ دنیا میں 8000 میٹر سے بلند صرف 14 چوٹیاں موجود ہیں، جنہیں ایٹ تھاوزنڈرز(Eight Thousanders) کہا جاتا ہے۔ ان میں سے پانچ پاکستان میں ہیں، جس کے باعث نیپال کے بعد پاکستان وہ واحد ملک ہے جہاں آٹھ ہزار میٹر سے بلند چوٹیوں کی دوسری سب سے بڑی تعداد موجود ہے۔کے ٹو (K2)کے ٹو پاکستان کی سب سے بلند اور دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی ہے۔ اس کی بلندی 8611 میٹر (28251 فٹ) ہے۔ یہ قراقرم کے سلسلے میں ضلع شگر، گلگت بلتستان میں پاکستان اور چین کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ اپنی انتہائی دشوار گزار چڑھائی، غیر متوقع موسمی تبدیلیوں اور شدید برفانی طوفانوں کی وجہ سے اسےSavage Mountain کہا جاتا ہے۔ 31 جولائی 1954ء کو اطالوی کوہ پیما اچیلے کمپاگنونی اور لینو لاچیڈیلی نے پہلی مرتبہ اس چوٹی کو سر کیا۔نانگا پربت نانگا پربت پاکستان کی دوسری اور دنیا کی نویں بلند ترین چوٹی ہے۔ اس کی بلندی 8126 میٹر (26660 فٹ) ہے۔ یہ ہمالیہ کے مغربی کنارے پر ضلع دیامر، گلگت بلتستان میں واقع ہے۔ ماضی میں متعدد ناکام مہمات اور ہلاکتوں کی وجہ سے اسے قاتل پہاڑ (Killer Mountain) کہا جاتا تھا۔ 1953ء میں آسٹریا کے ہرمن بوہل نے پہلی مرتبہ تنہا اس چوٹی کو سر کر کے کوہ پیمائی کی تاریخ میں ایک منفرد ریکارڈ قائم کیا۔ اس کے دامن میں واقع فیری میڈوز دنیا کے حسین ترین سیاحتی مقامات میں شمار ہوتا ہے۔گاشر برم ۔iگاشر برم۔i جسے ہڈن پیک بھی کہا جاتا ہے پاکستان کی تیسری اور دنیا کی گیارہویں بلند ترین چوٹی ہے۔ اس کی بلندی 8080 میٹر (26509 فٹ) ہے۔ یہ قراقرم کے سلسلے میں بلتورو گلیشیئر کے شمال مشرق میں پاکستان اور چین کی سرحد پر واقع ہے۔ اس چوٹی کی برفانی دیواریں اور دشوار راستے اسے انتہائی مشکل مہمات میں شمار کرتے ہیں۔ پہلی کامیاب مہم 1958ء میں امریکی کوہ پیماؤں نے مکمل کی۔براڈ پیک براڈ پیک پاکستان کی چوتھی اور دنیا کی بارہویں بلند ترین چوٹی ہے۔ اس کی بلندی 8051 میٹر (26414 فٹ) ہے۔ اس کا نام اس کی تقریباً ڈیڑھ کلومیٹر چوڑی برفانی چوٹی کی وجہ سے رکھا گیا۔ یہ کے ٹو سے تقریباً آٹھ کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے۔ 1957ء میں آسٹریا کے کوہ پیماؤں نے پہلی مرتبہ اسے سر کیا۔گاشر برم ۔iiگاشر برم ۔ii پاکستان کی پانچویں اور دنیا کی تیرہویں بلند ترین چوٹی ہے۔ اس کی بلندی 8035 میٹر (26362 فٹ) ہے۔ یہ بھی قراقرم کے سلسلے میں پاکستان اور چین کی سرحد پر واقع ہے۔ آٹھ ہزار میٹر بلند چوٹیوں میں اسے نسبتاً کم دشوار سمجھا جاتا ہے، اسی لیے ہر سال بڑی تعداد میں بین الاقوامی کوہ پیما اس کا رخ کرتے ہیں۔ پہلی کامیاب مہم 1956ء میں آسٹریا کے کوہ پیماؤں نے مکمل کی۔ملک عزیز میں صرف یہی پانچ عظیم چوٹیاں نہیں بلکہ 7000 میٹر سے بلند 108 اور 6000 میٹر سے بلند سینکڑوں چوٹیاں موجود ہیں۔ علاوہ ازیں ملک میں 7000 سے زائد گلیشیئر پائے جاتے ہیں جن میں بالتورو، بیافو، ہسپر، بتورا اور سیاچن نمایاں ہیں۔پولر علاقوں سے باہر یہ دنیا کے سب سے بڑے گلیشیئرز کا ذخیرہ ہے جو دریائے سندھ کے آبی نظام کو پانی فراہم کرتا ہے اور پاکستان کی زراعت، ماحولیات اور معیشت کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔حالیہ برسوں میں پاکستان عالمی کوہ پیمائی اور ماؤنٹین ٹورازم کا ایک نمایاں مرکز بن کر ابھرا ہے۔ ہر سال یورپ، امریکہ، جاپان، چین، جنوبی کوریا اور دیگر ممالک سے سینکڑوں کوہ پیما کے ٹو، نانگا پربت، براڈ پیک اور گاشر برم کی چوٹیوں کو سر کرنے کے لیے پاکستان آتے ہیں۔ اس سے مقامی معیشت، سیاحت اور روزگار کے مواقع میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ تاہم موسمیاتی تبدیلیاں برفانی علاقوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے اور گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے خطرات بڑھ رہے ہیں جس سے قدرتی ماحول، آبی وسائل اور پہاڑی آبادیوں کو خطرات لاحق ہیں۔ ان قدرتی ذخائر کے تحفظ، ذمہ دارانہ سیاحت کے فروغ اور سائنسی تحقیق میں سرمایہ کاری مستقبل کی اہم ضرورت ہے۔پاکستان کی فلک بوس چوٹیاں صرف جغرافیائی شناخت نہیں بلکہ قومی فخر، قدرتی ورثے اور عالمی سیاحتی امکانات کی علامت ہیں۔ اگر ان قدرتی وسائل کا تحفظ کیا جائے اور عالمی معیار کی سیاحتی سہولیات فراہم کی جائیں تو پاکستان ماؤنٹین ٹورازم میں دنیا کے ممتاز ترین مقامات میں اپنی مقام مزید مستحکم کر سکتا ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

واسکو ڈی گاما کی ہندوستان مہم 8 جولائی 1497ء کو پرتگالی ملاح واسکو ڈی گاما چار جہازوں کے ساتھ لزبن سے روانہ ہوا۔ اس مہم کا مقصد یورپ سے ہندوستان تک براہِ راست سمندری راستہ تلاش کرنا تھا۔ اس سے پہلے یورپی تاجر ایشیا سے تجارت کے لیے زمینی راستوں یا عرب تاجروں پر انحصار کرتے تھے، جس کی وجہ سے مصالحہ جات، ریشم اور دیگر قیمتی اشیاکی تجارت محدود اور مہنگی تھی۔واسکو ڈی گاما نے افریقہ کے جنوبی سرے کیپ آف گڈ ہوپ کا چکر لگایا اور تقریباً دس ماہ بعد ہندوستان کے ساحلی شہر کالیکٹ پہنچا۔ اس سفر نے عالمی تجارت کی تاریخ کا رخ بدل دیا۔ پرتگال نے بحرِ ہند میں اپنی تجارتی اور عسکری موجودگی مضبوط کی جس کے بعد برطانیہ، ہالینڈ اور فرانس سمیت دیگر یورپی طاقتیں بھی ایشیا میں داخل ہوئیں۔ جنگِ پولٹاوا میں روس کی فتح8 جولائی 1709ء کو عظیم شمالی جنگ (Great Northern War) کے دوران جنگِ پولٹاوا لڑی گئی جس میں روس کے بادشاہ پیٹر دی گریٹ نے سویڈن کے بادشاہ چارلس XII کو فیصلہ کن شکست دی۔سترہویں صدی میں سویڈن شمالی یورپ کی سب سے طاقتور سلطنت تھا لیکن پولٹاوا کی شکست کے بعد اس کی عسکری برتری ختم ہونا شروع ہوگئی۔ اس فتح کے بعد روس کو بحیرہ بالٹک تک مضبوط رسائی ملی اور سینٹ پیٹرزبرگ کی ترقی کی راہ ہموار ہوئی جو بعد میں روسی سلطنت کا دارالحکومت بنا۔اس جنگ نے یورپ کے سیاسی توازن کو تبدیل کر دیا۔ روس نہ صرف فوجی اعتبار سے مضبوط ہوا بلکہ سفارتی اور معاشی میدان میں بھی اس کا اثرورسوخ بڑھ گیا۔ کموڈور پیری کی جاپان آمد8 جولائی 1853ء کو امریکی بحریہ کے کموڈور میتھیو سی پیری اپنے جنگی جہازوں کے ساتھ جاپان کی ایڈو بے (موجودہ ٹوکیو بے) پہنچے۔ اس وقت جاپان تقریباً ڈھائی سو برس سے بیرونی دنیا سے الگ تھلگ رہنے کی پالیسی پر عمل کر رہا تھا۔پیری نے امریکی صدر کا خط جاپانی حکام کے حوالے کیا اور تجارتی و سفارتی تعلقات قائم کرنے کا مطالبہ کیا۔ جدید جنگی جہازوں کی موجودگی نے جاپانی حکومت پر دباؤ ڈالا جس کے نتیجے میں اگلے سال معاہدہ کھاناگاوا طے پایا۔ اس معاہدے نے جاپان کے دروازے مغربی دنیا کے لیے کھول دیے۔اس واقعے کے بعد جاپان میں جدید اصلاحات کا آغاز ہوا جو بعد میں میجی اصلاحات کی صورت میں سامنے آئیں۔ ورمونٹ میں غلامی کا خاتمہ8 جولائی 1777ء کو ورمونٹ جمہوریہ نے اپنا پہلا آئین منظور کیا جس میں غلامی کے خاتمے کی شق شامل تھی۔ اس وقت ورمونٹ ابھی امریکہ کی ریاست نہیں بنا تھا بلکہ ایک آزاد جمہوریہ تھا۔ یہ شمالی امریکہ کی پہلی آئینی دستاویزات میں شمار ہوتا ہے جس نے غلامی کو آئینی سطح پر مسترد کیا۔اس آئین میں غلامی کے خاتمے کے علاوہ عوامی تعلیم، مذہبی آزادی، شہری حقوق اور نمائندہ حکومت جیسے جدید اصول بھی شامل کیے گئے تھے۔اس اقدام نے بعد میں امریکہ میں غلامی کے خاتمے کی تحریک کو فکری بنیاد فراہم کی۔1791ء میں ورمونٹ امریکہ کی چودہویں ریاست بنا۔ شٹل پروگرام کا آخری مشن 8 جولائی 2011ء کو امریکی خلائی ادارے ناسا کے خلائی شٹل اٹلانٹس نے مشن STS-135کے ساتھ اپنی آخری پرواز کا آغاز کیا۔ یہ تقریباً تیس برس تک جاری رہنے والے امریکی سپیس شٹل پروگرام کا آخری مشن تھا۔1981ء میں شروع ہونے والے اس پروگرام کے دوران 135 کامیاب خلائی مشنز انجام دیے گئے۔ ان مشنز کے ذریعے متعدد مصنوعی سیارے خلا میں بھیجے گئے، بین الاقوامی خلائی سٹیشن کی تعمیر میں بنیادی کردار ادا کیا گیا اور سائنسی تحقیق کے بے شمار منصوبے مکمل ہوئے۔اٹلانٹس کی آخری پرواز کے بعد امریکہ نے چند برس تک اپنے خلابازوں کو روسی خلائی جہازوں کے ذریعے خلائی سٹیشن بھیجنا جاری رکھا۔

ورلڈ چاکلیٹ ڈے

ورلڈ چاکلیٹ ڈے

ذائقے، تاریخ اور تہذیب کا دلکش سفرہر سال 7 جولائی کو دنیا بھر میں چاکلیٹ ڈے منایا جاتا ہے۔ یہ دن چاکلیٹ کی دلچسپ تاریخ، اس کی ثقافتی اہمیت، معاشی کردار اور دنیا بھر میں اس کی غیر معمولی مقبولیت کو اجاگر کرنے کیلئے مخصوص ہے۔7 جولائی کو ورلڈ چاکلیٹ ڈے منانے کی روایت کے بارے میں مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ اس دن 1550ء میں چاکلیٹ یورپ میں متعارف ہوئی تھی ‘ تاہم چاکلیٹ کے عالمی دن کا انعقاد 2009 سے شروع ہوا اور اب یہ دنیا کے متعدد ممالک میں جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔ چاکلیٹ صرف ایک میٹھی غذا نہیں بلکہ خوشی، محبت، دوستی اور جشن کی علامت بھی بن چکی ہے۔قدیم تہذیبوں سے جدید دنیا تک چاکلیٹ کی کہانی ہزاروں سال پرانی ہے۔ اس کی ابتدا وسطی اور جنوبی امریکہ کی قدیم تہذیبوں خصوصاً مایا اور ازٹیک اقوام سے ہوئی۔ ان تہذیبوں میں کوکو کے درخت کو مقدس سمجھا جاتا تھا اور اس کے بیجوں سے ایک مشروب تیار کیا جاتا تھا جو مذہبی رسومات، شاہی تقریبات اور خصوصی مواقع پر استعمال ہوتا تھا۔ ازٹیک حکمران کوکو کے بیجوں کو اتنی اہمیت دیتے تھے کہ انہیں بطور کرنسی بھی استعمال کیا جاتا تھا۔پندرہویں اور سولہویں صدی میں یورپی مہم جو جب امریکہ پہنچے تو وہ کوکو کے بیج اپنے ساتھ یورپ لے گئے۔ ابتدا میں چاکلیٹ صرف شاہی خاندانوں اور امرا تک محدود تھی لیکن بعد میں اس میں چینی، دودھ اور مختلف ذائقے شامل کیے گئے جس سے یہ زیادہ خوش ذائقہ اور مقبول ہوگئی۔ انیسویں صدی میں صنعتی انقلاب نے چاکلیٹ کی تیاری کو آسان، تیز اور نسبتاً سستا بنا دیا جس کے بعد یہ عام لوگوں کی دسترس میں بھی آگئی۔آج چاکلیٹ دنیا کی سب سے زیادہ پسند کی جانے والی غذاؤں میں شامل ہے۔ بچوں سے لے کر بزرگوں تک ہر عمر کے افراد اسے شوق سے کھاتے ہیں۔ سالگرہ، شادی، عید، کرسمس اور دیگر خوشی کے مواقع پر چاکلیٹ بطور تحفہ پیش کرنا ایک خوبصورت روایت بن چکی ہے۔کوکو کی پیداوار میں مغربی افریقہ کے ممالک خصوصاً آئیوری کوسٹ اور گھانا قابل ذکر ہیں۔صحت کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ مناسب مقدار میں ڈارک چاکلیٹ کا استعمال اینٹی آکسیڈنٹس اور فلیونوئیڈز فراہم کرتا ہے جو دل کی صحت اور خون کی گردش کے لیے مفید ہوسکتے ہیں۔ تاہم چینی اور چکنائی سے بھرپور چاکلیٹ کا زیادہ استعمال موٹاپے، ذیابیطس اور دانتوں کے مسائل کا باعث بن سکتا ہے، اس لیے اعتدال ضروری ہے۔ چاکلیٹ ڈے کی تقریبات اور مقبولیتچاکلیٹ ڈے کے موقع پر مختلف ممالک میں چاکلیٹ فیسٹیول، نمائشیں، کوکنگ مقابلے اور خصوصی تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔ چاکلیٹ بنانے والی کمپنیاں نئی مصنوعات متعارف کراتی ہیں اور صارفین کے لیے خصوصی رعایتوں کا اعلان بھی کرتی ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی لوگ اپنی پسندیدہ چاکلیٹس، گھریلو ترکیبیں اور تصاویر شیئر کرکے اس دن کی خوشیوں میں شریک ہوتے ہیں۔پاکستان میں بھی چاکلیٹ کی مقبولیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ مقامی اور بین الاقوامی برانڈز کی مصنوعات ہر بڑے شہر میں آسانی سے دستیاب ہیں جبکہ بیکریوں، کیفیز اور گھروں میں چاکلیٹ سے تیار کردہ کیک، براونیز، ڈیزرٹس اور دیگر اشیا کی مانگ میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔خوشیوں کا عالمی ذائقہورلڈ چاکلیٹ ڈے صرف ایک میٹھی چیز سے لطف اندوز ہونے کا نام نہیں بلکہ یہ ہمیں اس طویل سفر کی بھی یاد دلاتا ہے جو کوکو کے ایک چھوٹے سے بیج نے قدیم امریکی تہذیبوں سے شروع کیا اور آج پوری دنیا کے کروڑوں لوگوں کی زندگیوں کا حصہ بن چکا ہے۔ یہ دن اس صنعت سے وابستہ لاکھوں کسانوں اور کارکنوں کی محنت کو خراجِ تحسین پیش کرنے، ذمہ دارانہ خریداری کی حوصلہ افزائی کرنے اور اعتدال کے ساتھ اس لذیذ نعمت سے لطف اندوز ہونے کا پیغام دیتا ہے۔ چاکلیٹ بلاشبہ ذائقے، خوشی، تہذیب اور انسانوں کو قریب لانے والی ایک ایسی مشترکہ زبان ہے جسے دنیا بھر میں یکساں محبت سے سمجھا جاتا ہے۔

لیبارٹری میں بلیک ہول کی نقل

لیبارٹری میں بلیک ہول کی نقل

کیا سائنس نے ایک نئی منزل عبور کر لی؟کائنات کے سب سے پراسرار اور طاقتور اجسام میں بلیک ہولز کو ہمیشہ ایک منفرد مقام حاصل رہا ہے۔ ان کی کششِ ثقل اتنی شدید ہوتی ہے کہ روشنی بھی ان سے فرار نہیں ہو سکتی۔ کئی دہائیوں تک بلیک ہول صرف نظریاتی طبیعیات اور فلکیات کا موضوع رہے لیکن اب سائنسدانوں نے لیبارٹری میں ایک ایسا تجربہ کیا ہے جس نے بلیک ہول کے رویے کو سمجھنے کی جانب ایک اہم پیش رفت کی ہے۔ جرمنی کی پیڈربورن یونیورسٹی کے ماہرین کی ایک ٹیم نے بلیک ہول کی ایک تجرباتی نقل تیار کی جس میں ایسے آثار دیکھے گئے جو معروف سائنسدان سٹیفن ہاکنگ کے پیش کردہ ''ہاکنگ ریڈی ایشن‘‘ اور بلیک ہول کے آہستہ آہستہ ختم ہونے کے تصور سے مطابقت رکھتے ہیں۔یہ خبر سامنے آنے کے بعد دنیا بھر میں یہ تاثر پیدا ہوا کہ سائنسدانوں نے لیبارٹری میں حقیقی بلیک ہول بنا لیا ہے حالانکہ حقیقت اس سے مختلف ہے۔ دراصل محققین نے ایک ایسا تجرباتی نظام تشکیل دیا جو بلیک ہول کی بعض طبیعی خصوصیات کی نقل کرتا ہے۔ اس نظام میں روشنی اور جدید آپٹیکل فائبر ٹیکنالوجی کی مدد سے ایسا ماحول پیدا کیا گیا جس میں روشنی کا رویہ بلیک ہول کے ایونٹ ہورائزن سے مشابہ ہو جاتا ہے۔بلیک ہول کیا ہے؟بلیک ہول خلا کا وہ خطہ ہے جہاں مادہ انتہائی کثافت کے ساتھ جمع ہو جاتا ہے۔ اس کی کششِ ثقل اس قدر طاقتور ہوتی ہے کہ کوئی بھی شے حتیٰ کہ روشنی بھی اس سے باہر نہیں نکل سکتی۔ بلیک ہول کی سرحد کو ایونٹ ہورائزن کہا جاتا ہے۔ اگر کوئی چیز اس حد کے اندر داخل ہو جائے تو اس کا واپس آنا ممکن نہیں رہتا۔طویل عرصے تک سائنسدانوں کا خیال تھا کہ بلیک ہول صرف مادے اور توانائی کو نگلتے ہیں مگر 1974ء میں برطانوی طبیعیات دان سٹیفن ہاکنگ نے ایک انقلابی نظریہ پیش کیا۔ ان کے مطابق کوانٹم طبیعیات کے قوانین کے تحت بلیک ہول مکمل طور پر سیاہ نہیں ہوتے بلکہ نہایت معمولی مقدار میں تابکاری خارج کرتے ہیں، جسے Hawking Radiationکہا جاتا ہے۔ اگر یہ عمل مسلسل جاری رہے تو انتہائی طویل مدت کے بعد بلیک ہول اپنی توانائی کھو کر مکمل طور پر ختم بھی ہو سکتے ہیں۔لیبارٹری میں کیا کیا گیا؟اس نئی تحقیق میں سائنسدانوں نے ایک حقیقی بلیک ہول بنانے کی کوشش نہیں کی بلکہ ایک ایسا تجرباتی ماڈل تیار کیا جس میں روشنی کی لہروں کو اس انداز سے کنٹرول کیا گیا کہ وہ بلیک ہول کے ایونٹ ہورائزن جیسا رویہ اختیار کریں۔تجربے کے دوران محققین نے دیکھا کہ یہ مصنوعی نظام بھی توانائی خارج کرتا ہے اور اس کے نتیجے میں خود اس نظام کی حالت میں معمولی تبدیلی آتی ہے۔ طبیعیات کی زبان میں اسے بیک ری ایکشن(Backreaction) کہا جاتا ہے۔ یہی وہ پہلو ہے جو اس تجربے کو منفرد بناتا ہے کیونکہ اس سے پہلے ہاکنگ ریڈی ایشن کے نظریے کے اس حصے کا براہِ راست تجرباتی مشاہدہ ممکن نہیں ہو سکا تھا۔اس تحقیق کی اہمیتیہ کامیابی اس لیے اہم ہے کہ حقیقی بلیک ہول تک پہنچ کر ان پر تجربات کرنا ممکن نہیں۔ ان کا مشاہدہ صرف دوربینوں اور فلکیاتی آلات کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔ اس کے برعکس لیبارٹری میں تیار کیے گئے ایسے اینالاگ نظام سائنسدانوں کو بلیک ہول کے نظریات کو عملی طور پر جانچنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔یہ تحقیق کوانٹم میکینکس اور آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت کے درمیان تعلق کو سمجھنے میں بھی مدد دے سکتی ہے۔ جدید طبیعیات کا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہ دونوں نظریات الگ الگ حالات میں تو انتہائی کامیاب ہیں لیکن انہیں ایک متحد نظریے میں یکجا کرنا اب تک ممکن نہیں ہو سکا۔ بلیک ہول اس مسئلے کو سمجھنے کے لیے بہترین قدرتی تجربہ گاہ سمجھے جاتے ہیں۔کیا حقیقی بلیک ہول بخارات بن جاتے ہیں؟سائنسی نظریے کے مطابق ہاں، لیکن یہ عمل ناقابلِ یقین حد تک سست ہوتا ہے۔ ایک ستارے کے انہدام سے بننے والے بلیک ہول کو مکمل طور پر ختم ہونے میں موجودہ کائنات کی عمر سے بھی کھربوں کھربوں گنا زیادہ وقت درکار ہوگا۔ اس لیے کسی حقیقی بلیک ہول کا بخارات بننا انسان شاید کبھی براہِ راست نہ دیکھ سکیں۔سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اس نوعیت کے مزید تجربات نہ صرف ہاکنگ ریڈی ایشن بلکہ بلیک ہول انفارمیشن پیراڈوکس جیسے پیچیدہ سوالات کو سمجھنے میں بھی مددگار ثابت ہوں گے۔ یہ وہ مسئلہ ہے جس نے کئی دہائیوں سے ماہرین فزک کو حیران کر رکھا ہے کہ اگر بلیک ہول بخارات بن کر ختم ہو جائے تو اس میں گرنے والے مادے کا کیا ہوتا ہے؟لیبارٹری میں بلیک ہول کی نقل تیار کرنے کا یہ تجربہ فلکیاتی طبیعیات اور کوانٹم سائنس کی دنیا میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ اگرچہ یہ حقیقی بلیک ہول نہیں تھا لیکن اس نے سٹیفن ہاکنگ کے تقریباً نصف صدی پرانے نظریات کو سمجھنے کے لیے ایک راہ ہموار کی ہے۔ یہ تحقیق اس بات کی یاد دہانی بھی کراتی ہے کہ سائنس میں بعض اوقات سب سے بڑی پیش رفت براہِ راست کائنات میں نہیں بلکہ ایک لیبارٹری کے محدود ماحول میں ہوتی ہے۔ مستقبل میں اسی نوعیت کے تجربات شاید ہمیں کائنات کے ان رازوں تک پہنچا دیں جو آج بھی انسانی فہم سے باہر ہیں۔

آج کا دن

آج کا دن

چین جاپان جنگ کا آغاز7 جولائی 1937ء کو بیجنگ کے قریب واقع مارکو پولو پل پر جاپانی اور چینی افواج کے درمیان ایک فوجی جھڑپ ہوئی جو بعد میں دوسری چین جاپان جنگ کا آغاز ثابت ہوئی۔ ابتدا میں یہ ایک محدود تصادم تھا لیکن چند ہی دنوں میں یہ ایک مکمل جنگ میں تبدیل ہوگیا جو 1945ء تک جاری رہی اور بعد ازاں دوسری جنگ عظیم کے ایشیائی محاذ کا اہم حصہ بن گئی۔اس جنگ میں کروڑوں چینی شہری متاثر ہوئے مورخین کے مطابق مارکو پولو پل کا واقعہ بیسویں صدی کے اہم ترین عسکری اور سیاسی واقعات میں شمار ہوتا ہے کیونکہ اس نے ایشیا میں ایک طویل اور تباہ کن جنگ کی بنیاد رکھی۔ ہوائی کا الحاق7 جولائی 1898ء کو امریکی صدر ولیم میک کنلے نے نیولینڈز ریزولوشن پر دستخط کیے جس کے ذریعے آزاد جمہوریہ ہوائی کو باضابطہ طور پر ریاستہائے متحدہ امریکہ میں شامل کر لیا گیا۔ اس سے چند سال قبل 1893ء میں ملکہ لیلی اوکالانی کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا تھا اور امریکی مفادات کے حامی افراد نے اقتدار سنبھال لیا تھا۔ہسپانوی۔امریکی جنگ کے دوران بحرالکاہل میں ہوائی کی تزویراتی اہمیت بڑھ گئی، جس کے باعث امریکی کانگریس نے اس کے الحاق کی منظوری دی۔ بعد ازاں پرل ہاربر امریکی بحریہ کا سب سے اہم اڈہ بن گیا جہاں 1941ء میں جاپانی حملے نے امریکہ کو دوسری جنگ عظیم میں شامل ہونے پر مجبور کیا۔ برائیونی معاہدہ 7 جولائی 1991ء کو کروشیا کے جزائر برائیونی میں ایک معاہدے پر دستخط ہوئے جس نے سلووینیا کی آزادی کے بعد شروع ہونے والی دس روزہ جنگ کا خاتمہ کیا۔ اس معاہدے میں سلووینیا، کروشیا، یوگوسلاویہ اور یورپی برادری کے نمائندوں نے شرکت کی۔معاہدے کے مطابق سلووینیا اور کروشیا نے اپنی آزادی کے اعلان پر تین ماہ تک عملدرآمد مؤخر کرنے پر اتفاق کیا تاہم عملی طور پر یہ سقوطِ یوگوسلاویہ کی شروعات ثابت ہوا۔ اگرچہ اس معاہدے نے سلووینیا میں فوری خونریزی روک دی لیکن بعد میں کروشیا اور بوسنیا میں شدید جنگیں شروع ہوگئیں جن میں لاکھوں افراد متاثر ہوئے۔ مریخ روور اپرچونیٹی7 جولائی 2003ء کو امریکی خلائی ادارے ناسا نے اپنے مشہور مریخی روور اپرچونیٹی (Opportunity) کو کامیابی کے ساتھ خلا میں روانہ کیا۔جنوری 2004ء میں مریخ پر کامیاب لینڈنگ کے بعد اس روور نے اپنی متوقع 90 روزہ مدت کے بجائے تقریباً پندرہ برس تک کام جاری رکھا جو خلائی تحقیق کی تاریخ کی غیر معمولی کامیابیوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس نے ہزاروں تصاویر اور سائنسی معلومات زمین پر بھیجیں جن سے معلوم ہوا کہ مریخ پر ماضی میں مائع پانی موجود تھا۔ اس دریافت نے مریخ پر زندگی کے امکانات سے متعلق تحقیق کو نئی جہت دی۔ 2018ء میں طوفان کے باعث اس سے رابطہ منقطع ہوگیا۔ لندن 7/7 حملے7 جولائی 2005ء کو لندن میں ٹرانسپورٹ سسٹم پر چار خودکش بم حملے کیے گئے۔ تین دھماکے زیرزمین ٹرینوں میں جبکہ چوتھا ایک ڈبل ڈیکر بس میں ہوا۔ ان حملوں میں 52 افراد ہلاک اور 700 سے زائد زخمی ہوئے ۔یہ برطانیہ کی جدید تاریخ کا بدترین دہشت گرد حملہ تھا۔ اس واقعے کے بعد برطانیہ نے انسدادِ دہشت گردی کے قوانین سخت کیے، انٹیلی جنس اداروں کے اختیارات میں اضافہ کیا اور عوامی مقامات کی سکیورٹی کو جدید خطوط پر استوار کیا۔ اس سانحے نے پوری دنیا میں شہری سلامتی، شدت پسندی کے انسداد اور بین الاقوامی تعاون پر نئی بحث چھیڑ دی۔