پاکستان دنیا کی بلند ترین چوٹیوں کا مسکن
اسپیشل فیچر
پاکستان کو قدرت نے ایسی جغرافیائی دولت سے نوازا ہے جو دنیا کے بہت کم ممالک کے حصے میں آئی ہے۔ ملک کے شمالی علاقہ جات میں قراقرم، ہمالیہ اور ہندوکش کے عظیم پہاڑی سلسلے نہ صرف بے مثال قدرتی حسن پیش کرتے ہیں بلکہ دنیا کی بلند ترین چوٹیوں اور قطبی علاقوں سے باہرگلیشیئرز کا سب سے بڑا مرکز ہیں۔ دنیا میں 8000 میٹر سے بلند صرف 14 چوٹیاں موجود ہیں، جنہیں ایٹ تھاوزنڈرز(Eight Thousanders) کہا جاتا ہے۔ ان میں سے پانچ پاکستان میں ہیں، جس کے باعث نیپال کے بعد پاکستان وہ واحد ملک ہے جہاں آٹھ ہزار میٹر سے بلند چوٹیوں کی دوسری سب سے بڑی تعداد موجود ہے۔
کے ٹو (K2)
کے ٹو پاکستان کی سب سے بلند اور دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی ہے۔ اس کی بلندی 8611 میٹر (28251 فٹ) ہے۔ یہ قراقرم کے سلسلے میں ضلع شگر، گلگت بلتستان میں پاکستان اور چین کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ اپنی انتہائی دشوار گزار چڑھائی، غیر متوقع موسمی تبدیلیوں اور شدید برفانی طوفانوں کی وجہ سے اسےSavage Mountain کہا جاتا ہے۔ 31 جولائی 1954ء کو اطالوی کوہ پیما اچیلے کمپاگنونی اور لینو لاچیڈیلی نے پہلی مرتبہ اس چوٹی کو سر کیا۔
نانگا پربت
نانگا پربت پاکستان کی دوسری اور دنیا کی نویں بلند ترین چوٹی ہے۔ اس کی بلندی 8126 میٹر (26660 فٹ) ہے۔ یہ ہمالیہ کے مغربی کنارے پر ضلع دیامر، گلگت بلتستان میں واقع ہے۔ ماضی میں متعدد ناکام مہمات اور ہلاکتوں کی وجہ سے اسے قاتل پہاڑ (Killer Mountain) کہا جاتا تھا۔ 1953ء میں آسٹریا کے ہرمن بوہل نے پہلی مرتبہ تنہا اس چوٹی کو سر کر کے کوہ پیمائی کی تاریخ میں ایک منفرد ریکارڈ قائم کیا۔ اس کے دامن میں واقع فیری میڈوز دنیا کے حسین ترین سیاحتی مقامات میں شمار ہوتا ہے۔
گاشر برم ۔i
گاشر برم۔i جسے ہڈن پیک بھی کہا جاتا ہے پاکستان کی تیسری اور دنیا کی گیارہویں بلند ترین چوٹی ہے۔ اس کی بلندی 8080 میٹر (26509 فٹ) ہے۔ یہ قراقرم کے سلسلے میں بلتورو گلیشیئر کے شمال مشرق میں پاکستان اور چین کی سرحد پر واقع ہے۔ اس چوٹی کی برفانی دیواریں اور دشوار راستے اسے انتہائی مشکل مہمات میں شمار کرتے ہیں۔ پہلی کامیاب مہم 1958ء میں امریکی کوہ پیماؤں نے مکمل کی۔
براڈ پیک
براڈ پیک پاکستان کی چوتھی اور دنیا کی بارہویں بلند ترین چوٹی ہے۔ اس کی بلندی 8051 میٹر (26414 فٹ) ہے۔ اس کا نام اس کی تقریباً ڈیڑھ کلومیٹر چوڑی برفانی چوٹی کی وجہ سے رکھا گیا۔ یہ کے ٹو سے تقریباً آٹھ کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے۔ 1957ء میں آسٹریا کے کوہ پیماؤں نے پہلی مرتبہ اسے سر کیا۔
گاشر برم ۔ii
گاشر برم ۔ii پاکستان کی پانچویں اور دنیا کی تیرہویں بلند ترین چوٹی ہے۔ اس کی بلندی 8035 میٹر (26362 فٹ) ہے۔ یہ بھی قراقرم کے سلسلے میں پاکستان اور چین کی سرحد پر واقع ہے۔ آٹھ ہزار میٹر بلند چوٹیوں میں اسے نسبتاً کم دشوار سمجھا جاتا ہے، اسی لیے ہر سال بڑی تعداد میں بین الاقوامی کوہ پیما اس کا رخ کرتے ہیں۔ پہلی کامیاب مہم 1956ء میں آسٹریا کے کوہ پیماؤں نے مکمل کی۔
ملک عزیز میں صرف یہی پانچ عظیم چوٹیاں نہیں بلکہ 7000 میٹر سے بلند 108 اور 6000 میٹر سے بلند سینکڑوں چوٹیاں موجود ہیں۔ علاوہ ازیں ملک میں 7000 سے زائد گلیشیئر پائے جاتے ہیں جن میں بالتورو، بیافو، ہسپر، بتورا اور سیاچن نمایاں ہیں۔پولر علاقوں سے باہر یہ دنیا کے سب سے بڑے گلیشیئرز کا ذخیرہ ہے جو دریائے سندھ کے آبی نظام کو پانی فراہم کرتا ہے اور پاکستان کی زراعت، ماحولیات اور معیشت کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔حالیہ برسوں میں پاکستان عالمی کوہ پیمائی اور ماؤنٹین ٹورازم کا ایک نمایاں مرکز بن کر ابھرا ہے۔ ہر سال یورپ، امریکہ، جاپان، چین، جنوبی کوریا اور دیگر ممالک سے سینکڑوں کوہ پیما کے ٹو، نانگا پربت، براڈ پیک اور گاشر برم کی چوٹیوں کو سر کرنے کے لیے پاکستان آتے ہیں۔ اس سے مقامی معیشت، سیاحت اور روزگار کے مواقع میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ تاہم موسمیاتی تبدیلیاں برفانی علاقوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے اور گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے خطرات بڑھ رہے ہیں جس سے قدرتی ماحول، آبی وسائل اور پہاڑی آبادیوں کو خطرات لاحق ہیں۔ ان قدرتی ذخائر کے تحفظ، ذمہ دارانہ سیاحت کے فروغ اور سائنسی تحقیق میں سرمایہ کاری مستقبل کی اہم ضرورت ہے۔پاکستان کی فلک بوس چوٹیاں صرف جغرافیائی شناخت نہیں بلکہ قومی فخر، قدرتی ورثے اور عالمی سیاحتی امکانات کی علامت ہیں۔ اگر ان قدرتی وسائل کا تحفظ کیا جائے اور عالمی معیار کی سیاحتی سہولیات فراہم کی جائیں تو پاکستان ماؤنٹین ٹورازم میں دنیا کے ممتاز ترین مقامات میں اپنی مقام مزید مستحکم کر سکتا ہے۔