خراب موڈ کا مقابلہ کیسے کیا جائے ؟

خراب موڈ کا مقابلہ کیسے کیا جائے ؟

اسپیشل فیچر

تحریر :


ماہرین نفسیات کہتے ہیں کہ موڈ ایسا جذبہ ہے جو ہمارے ذہنوں پر طاری ہو کر ٹھہر جاتا ہے۔ گھنٹوں ، دنوں اور کبھی کبھی ہفتوں تک چھایا رہتا ہے۔ موڈ خوشگوار ہو تو کیا ہی بات ہے مگر جب اداسی ، پریشانی ، مایوسی یا سستی کا موڈ طاری رہے تو وہ اذیت بن جاتا ہے۔اس قسم کے موڈ سے نمٹنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اس کے بارے میں گفتگو کی جائے لیکن بسا اوقات یوں بھی ہوتا ہے کہ ہماری بات سننے والا کوئی نہیں ہوتا۔موڈ کا مقابلہ کرنے کے لیے آج کل بازار میں بہت سی دوائیں آگئی ہیں۔اس سلسلے میں سکون بخش دوائوں سے کام لیا جاتا ہے تاہم بہت سے لوگوں کو معلوم نہیں ہے کہ ماہرین نے ناگوار موڈز سے نجات دلانے کے لیے کئی ایسے طریقے دریافت کر رکھے ہیں جن میں دوائوں کی ضرورت نہیں پڑتی۔یہ طریقے دوائوں جیسے موثر ہیں۔ ان کا اضافی فائدہ یہ ہے کہ آپ دوائوں کے ناپسندیدہ اثرات سے محفوظ رہتے ہیں۔ یہ طریقے استعمال کرکے آپ دوائوں کے محتاج یا عادی ہوئے بغیر ناگوار موڈز سے چھٹکارا پاسکتے ہیں۔ لہذا آئندہ کبھی کوئی ناگوار موڈ طاری ہو تو ڈرگ سٹور کا رخ مت کریں بلکہ درج ذیل طریقوں میں سے کسی ایک کو آزما لیں۔ورزش : موڈ بدلنے والے ایسے تمام طریقوں میں سے بہترین ورزش ہے۔ برے موڈ پر قابو پانے کے لیے دنیا بھر میں بہت سے لوگ ورزش کا موثر طریقہ استعمال کرتے ہیں۔ کیتھرائن لانس نے ’’ صحت اور حسن کے لیے دوڑنا‘‘ کے عنوان سے ایک کتاب لکھی ہے۔وہ کہتی ہیںکہ ’’ اگر ورزش کو بوتل میں بند کرکے دکانوں پر فروخت کرنا ممکن ہوتا تو دنیا کی دکانیں ان بوتلوں سے بھر جاتیں۔‘‘لانس کی بات میں مبالغہ نہیں ہے۔ کئی محققین کا کہنا ہے کہ انسانی موڈز میں خوشگوار تبدیلیاں لانے کے لیے ورزش متعلقہ دوائیوں جیسی کارگر ثابت ہوتی ہے۔رنگوں سے کام لیں : نیویارک کی کلر سائیکالوجسٹ پٹریکا سرزبہ کہتی ہیں ’’ جس طرح وٹامنز بدن کو تقویت دیتے ہیں ، اسی طرح رنگ ذہن کے لیے قوت بخش ہیں۔ ‘‘ اس خاتون نے رنگوں کو مفید طور پر استعمال کرنے کے لیے چند مشورے بھی دئیے ہیں۔ جھنجلاہٹ اور غصے کے موڈ سے نجات پانے کے لیے سرخ رنگ سے دور رہنا ہی اچھا ہے۔اداسی ، مایوسی اور ناامیدی کی کیفیت کا مقابلہ کرنے کے لیے ان رنگوں کے کپڑے پہننے اور ان رنگوں کے ماحول سے دور رہیں جو آپ میں منفی احساسات پیدا کرتے ہیں۔مثال کے طور پر کالے اور گہرے نیلے رنگ عموما منفی موڈ کا باعث بنتے ہیں۔ لہذا ان کے بجائے چمک دار رنگ اپنائیں اور ایسے رنگ کے لباس پہنیں جو آپ کی طبیعت میںپھرتی پیدا کرتے ہیں۔موسیقی کو آزمائیں : دنیا جانتی ہے کہ موسیقی موڈ پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔آپ اس کو موڈ بدلنے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔اس کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے تو آپ طاری موڈ کے مطابق موسیقی سنیں اور پھر رفتہ رفتہ اپنے پسندیدہ موڈ سے مناسبت رکھنے والی موسیقی کی طرف بڑھیں۔گویا بات یوں ہوئی کہ اگر آپ پر اداسی طاری ہے تو پہلے اداسی والے گیت سنیں۔ بظاہر لگتا ہے کہ اس طرح اداسی کا غلبہ بڑھ جائے گا لیکن بہت سے ماہرین نفسیات کا دعویٰ ہے کہ تبدیلی کی طرف پہلا قدم یہی ہے۔ اب اگر آپ اداسی کی کیفیت سے نکل کر خوشی کا موڈ چاہتے ہیں تو دو تین اداس گیت یا دھنیں سن کر بتدریج مسرت انگیز موسیقی کی طرف رخ کریں۔ چند ہی لمحوں میں آپ پسندیدہ تبدیلی محسوس کرنے لگیں گے۔خوراک درست کریں : سائنس دانوں کو اس بارے میںکوئی شبہ نہیں رہا کہ فوڈ اور موڈ صرف صوتی اعتبار سے ایک دوسرے کے قریب نہیں ہیں بلکہ دونوں میں بہت گہرا تعلق بھی ہے۔اچھی خوراک بدن اور ذہن کو توانائی عطا کرتی ہے۔ ان کی کام کرنے کی صلاحیت بڑھاتی ہے اور انسان کو چاق وچوبند رکھتی ہے مگر یہاںایک بات خاص طور پر نوٹ کرلیں۔ وہ یہ کہ ہم لوگ اچھی خوراک سے مراد مہنگی اور بوجھل خوراک لیتے ہیں۔ یہ تصور سراسر غلط ہے کیونکہ مرغن غذائیں کسی طور بھی ذہن و جسم کے لیے مفید نہیں ہیں۔ اچھی خوراک سے مراد صاف ستھری اور ہلکی پھلکی غذا ہے جس میں تازہ پھل ، سبزیاں اور سفید گوشت شامل ہے۔روشن ماحول میںرہیں : امریکا کے ذہنی صحت کے قومی انسٹی ٹیوٹ کے تجربوں سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ بعض لوگ موسم سرما میںایک قسم کی مایوسی کی کیفیت میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ اس کو آپ ’’ موسمی خرابی‘‘ کا نام دے سکتے ہیں۔ یہ خرابی دراصل روشنی کی کمی کے باعث پیدا ہوتی ہے۔ سردیوں کے دن گرما کے دنوں کے مقابلے میں کم روشن ہوتے ہیں اور یہ بات بعض حساس افراد میں یاس انگیز جذبوں کو پروان چڑھاتی ہے۔ جب موسم انگڑائی لیتا ہے اور روشن دن لوٹ آتے ہیں تو ان کی یہ کیفیت خودبخود ختم ہو جاتی ہے۔اس خرابی کا نشانہ بننے والوں کے لیے بہترین علاج یہ ہے کہ وہ سردی کے مہینوں میں زیادہ وقت چاردیواری سے باہر گزارہ کریں۔ اپنے کمروں میں زیادہ روشنی کا انتظام کریں اور ایسے دوسرے طریقے بھی اختیار کریں جن سے ان کا ماحول روشن رہے۔خواب : نیند بھی کیا خوب شے ہے وہ ہمیں تھکاوٹ سے نجات دلاتی ہے ، موسم خوشگوار نہ ہوتو نیند وقتی طور پر ہمیں اس سے بے خبر کر دیتی ہے۔ اس طرح وہ ناگوار موڈز سے نجات دلانے کا وسیلہ بھی ہے۔ نیند ہمیں ذہنی علاج کے ایک پرانے طریقے سے فائدہ اٹھانے کا موقع بھی دیتی ہے۔یہ طریقہ خوابوں کا ہے۔ اب بہت سے ماہرین اس بات سے متفق ہو چکے ہیں کہ خواب ، چاہے ہم کو یاد رہیں نہ رہیں ، وہ موڈ بدلنے والے واقعات کو قبول کرنے میں ہماری مدد کرتے ہیں۔اس طرح وہ ناگوار موڈ کو بدل دیتے ہیں۔سوچ مثبت رکھیں: لوگ عموما اس وقت مایوسی اور یاس کا شکار ہوتے ہیں جب ان کی سوچ کے انداز منفی اور غیر صحت مند ہوں۔ اکثر اوقات منفی ذہنی کیفیات سوچ بچار کے لیے لچک اور غیر حقیقت پسند طریقوں کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔امریکا کی شمالی الپنائس یونیورسٹی میںتنائو اور ڈپریشن کا شکار ہونیوالے کالج کے طلبا کے ایک گروپ کا مطالعہ کیا گیا۔ اس مطالعے سے معلوم ہوا کہ جو طلبا اپنی موجود ہ حالت اور مستقبل کا کوئی ہلکا پھلکا پہلو تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کی کیفیت دوسروں سے بہتر ہوتی چلی جاتی ہے۔اس لئے اپنے آپ پر ،اپنی حالت پر رونے سے گریز کرنا چاہئے۔ ماہرین اس امر پر اتفاق کرتے ہیں کہ آپ مثبت انداز میں سوچنے لگیں تو پھر واقعی خود کو خوش باش محسوس کرنے لگیں گے۔ جو آپ کا زندگی پر حق بھی ہے۔٭…٭…٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
چاند سکڑ رہا ہے!

چاند سکڑ رہا ہے!

چاند کی سطح میں تبدیلیاں، مستقبل کیلئے خطرے کی گھنٹیاگر آپ رات کو آسمان کی طرف دیکھیں اور محسوس کریں کہ چاند کچھ چھوٹا نظر آ رہا ہے تو آپ غلط نہیں ہیں۔ سائنس دانوں کی تازہ تحقیق نے ایک چونکا دینے والا انکشاف کیا ہے کہ چاند بتدریج سکڑ رہا ہے، جس کے نتیجے میں اس کی سطح پر ایک ہزار سے زائد نئی دراڑیں نمودار ہو چکی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ دراڑیں دراصل چاند کے اندرونی حصے کے ٹھنڈا ہونے اور سکڑنے کا نتیجہ ہیں، جس سے اس کی بیرونی پرت میں دباؤ پیدا ہوتا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکہ سمیت کئی ممالک چاند پر دوبارہ انسانی مشنز بھیجنے کی تیاری کر رہے ہیں۔نیشنل ایئر اینڈ اسپیس میوزیم کے سینٹر فار ارتھ اینڈ پلینیٹری اسٹڈیز کے سائنس دانوں نے چاند کی سطح پر ایک ہزار سے زائد ایسی دراڑیں دریافت کی ہیں جو پہلے نامعلوم تھیں۔ماہرین کے مطابق یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ چاند سکڑ رہا ہے اور اپنی ساخت کو دوبارہ ترتیب دے رہا ہے۔تشویشناک امر یہ ہے کہ ان نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ مستقبل میں چاند کی سطح پر جانے یا وہاں رہنے والے خلا نورد تباہ کن قمری زلزلوں کے خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں۔ مطالعے کے مرکزی مصنف کول نائپیور نے کہاکہ ہم قمری سائنس اور تحقیق کے ایک نہایت سنسنی خیز دور میں داخل ہو چکے ہیں۔آنے والے قمری تحقیقی پروگرام، جیسے آرٹیمس، ہمیں چاند کے بارے میں بے شمار نئی معلومات فراہم کریں گے۔قمری ارضیات اور زلزلہ جاتی سرگرمیوں کی بہتر سمجھ بوجھ ان اور مستقبل کے مشنز کی حفاظت اور سائنسی کامیابی کیلئے براہِ راست فائدہ مند ثابت ہوگی۔2010ء سے سائنس دان یہ جانتے ہیں کہ چاند بتدریج سکڑ رہا ہے، کیونکہ اس کا اندرونی حصہ ٹھنڈا ہو رہا ہے اور اس کی سطح سمٹ رہی ہے۔ اس سکڑاؤ کے نتیجے میں قمری بلند علاقوں (لُونر ہائی لینڈز) میں مخصوص زمینی ساختیں پیدا ہوئیں، جنہیں ''لوبیٹ اسکارپس‘‘(lobate scarps) کہا جاتا ہے۔یہ ساختیں اس وقت بنتی ہیں جب چاند کی پرت دباؤ کا شکار ہوتی ہے اور پیدا ہونے والی قوتیں مادّے کو فالٹ لائن کے ساتھ ساتھ اوپر اور قریبی پرت پر دھکیل دیتی ہیں، جس سے ایک ابھرا ہوا کنارہ وجود میں آتا ہے۔تاہم اپنی نئی تحقیق میں محققین نے ایک مختلف علاقے، جسے لونر ماریا(lunar maria) کہا جاتا ہے،یعنی چاند کی سطح پر پھیلے وسیع اور تاریک میدان میں عجیب و غریب دراڑیں دریافت کیں۔ انہوں نے ان دراڑوں کو ''سمال ماری رِجز‘‘ (SMRs) کا نام دیا ہے۔مطالعے کے مرکزی محقق نائپیور (Nypaver) نے کہا کہ اپولو دور سے ہم قمری بلند علاقوں میں لوبیٹ اسکارپس کی کثرت سے واقف ہیں، لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ سائنس دانوں نے قمری ماریا میں بھی اسی نوعیت کی ساختوں کی وسیع موجودگی کو دستاویزی شکل دی ہے۔یہ تحقیق ہمیں چاند پر حالیہ زمینی حرکات (ٹیکٹونزم) کے بارے میں عالمی سطح پر مکمل تناظر فراہم کرتی ہے، جس سے اس کے اندرونی ڈھانچے، حرارتی اور زلزلہ جاتی تاریخ، اور مستقبل میں ممکنہ قمری زلزلوں کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملے گی۔نئی تحقیق میں ٹیم نے 1,114 اسمال ماری رِجز دریافت کیں، جس سے چاند پر اب تک دریافت شدہ ایسی ساختوں کی مجموعی تعداد 2,634 ہو گئی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ عمل لاکھوں برسوں سے جاری ہے، تاہم نئی دریافت شدہ دراڑیں مستقبل کے خلائی مشنز، خصوصاً چاند کے جنوبی قطب پر منصوبہ بند سرگرمیوں کیلئے خطرات پیدا کر سکتی ہیں۔ زمین کے برعکس چاند پر زلزلوں جیسی حرکات زیادہ دیر تک جاری رہ سکتی ہیں، جو کسی بھی انسانی یا روبوٹک مشن کیلئے چیلنج بن سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خلائی ادارے، بالخصوص ناسا، ان جغرافیائی تبدیلیوں کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ آئندہ مشنز کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔

رمضان کے پکوان:ڈیٹس پائی

رمضان کے پکوان:ڈیٹس پائی

تیاری کا وقت :بیس سے پچیس منٹ بیکنگ کا وقت : بیس سے پچیس منٹ تعداد : دس سے بارہ عدد اجزاء :میدہ دوپیالی ، کھجوریں 200گرا م ، نمک چٹکی بھر ، بیکنگ پائوڈر دوچائے کے چمچ ،پسی ہوئی چینی دوکھانے کے چمچ ، مکھن یا مارجرین ایک کھانے کا چمچ ، ترکیب : بناسپتی گھی کو کانٹے کی مددسے ہلکا سا پھینٹ لیں اور فریج میں رکھ کر ٹھنڈا کرلیں۔ میدہ میں بیکنگ پائوڈر ڈال کر چھان لیں پھر اس میں نمک اوربناسپتی گھی ڈال کر دوکانٹوں کی مدد سے ملالیں۔ درمیان میں حسب ضرورت ٹھنڈا یخ پانی ایک ایک چمچ کرکے ڈالتے جائیں تاکہ وہ گندھے ہوئے آٹے کی شکل میں آجائے۔ خیال رہے کہ یہ سارا عمل ٹھنڈی جگہ پر کریں اور اس آٹے کو دس منٹ کیلئے فریج میں رکھ دیں۔ پھر اس کی روٹی بیل لیں اور کٹر کی مددسے گول پور یوں کی طرح کاٹ لیں ۔مفن پین کو ہلکا سا چکنا کرکے اس میں خشک میدہ چھڑک لیں اور ہرپوری کو احتیاط سے ایک ایک سانچے میں لگالیں۔ کانٹے سے تھوڑے تھوڑے فاصلے پر سوراخ کردیں تاکہ بیک ہوتے ہوئے پھولنے نہ پائے۔ اوون کو 180Cپربیس منٹ پہلے گرم کرکے اس سانچے کو اس میں رکھیں اور بیس سے پچیس منٹ کیلئے بیک کرلیں۔ گولڈن برائون ہونے پر اوون سے نکال کر ٹھنڈا کرلیں۔ فلنگ بنانے کیلئے : کھجوروں کو صاف دھوکر ان کے بیج نکال لیں اور ان کو ہلکی آنچ پر پکنے رکھ دیں، پانچ سے سات منٹ پکانے کے بعد اس میں ایک کا چمچ مارجرین یا مکھن اور چینی ڈال کر چولہے سے اتارلیں ۔چمچ سے کچلتے ہوئے ٹھنڈا کرلیں اور ہرپائی شیل میں ایک ایک کھانے کا چمچ ڈال دیں۔ اس خوبصورت اور مزیدار ڈش کوآج کل مہمانوں کو بنا کر پیش کریں۔

آج کا دن

آج کا دن

'' آپریشن رد الفساد‘‘ کا آغاز22فروری2017ء کو ملک بھر میں ''آپریشن رد الفساد‘‘ شروع کیا گیا۔ جس کا مقصد دہشت گردوں کا بلا امتیاز خاتمہ کرنا تھا۔ اس آپریشن کے نتیجہ میں کراچی کی روشنیاں بحال ہوئیں۔ سکیورٹی فورسز اور انٹیلی جینس اداروں کی طرف سے چار لاکھ سے زائد کارروائیاں کی گئیں جن میں چار سو زائد دہشت گرد جہنم واصل اور سیکڑوں گرفتار ہوئے جبکہ ڈیڑھ ہزار سے زائد شدت پسندوں نے ہتھیار ڈالے۔دہشت گردوں کے 400 سے زائد مذموم منصوبے ناکام بنائے گئے۔سوچنے کا عالمی دنہر سال 22 فروری کو دنیا بھر میں ''ورلڈ تھنکنگ ڈے‘‘ یعنی ''سوچنے کا عالمی دن‘‘ منایا جاتا ہے۔ یہ دن منانے کا آغاز 1926ء میں چوتھی گرل گائیڈ بین الاقوامی کانفرنس کے دوران امریکہ میں ہواتھا۔ اِس کانفرنس میں موجود لوگوں نے فیصلہ کیا کہ ایک خاص دن ہونا چاہیے جب گرل گائیڈز اور اسکاؤٹس پوری دنیا میں ایک دوسرے کا شکریہ ادا کرسکیں اور ایک دوسرے کو سراہا جاسکے ۔ امریکہ نے فلوریڈاخریدا22جنوری1819 ء کو ریاستہائے متحدہ امریکہ اور سپین کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا، جسے ''ایڈمز،اونس معاہدہ‘‘ یا ''ٹرانس کانٹی نینٹل ٹریٹی‘‘ اور ''فلوریڈا پرچیز ٹریٹی‘‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ اس معاہدے کے تحت سپین کی جانب سے فلوریڈا کو امریکہ کے حوالے کیا گیا ۔اس معاہدے سے دونوں ممالک کے درمیان ایک مستقل سرحدی تنازع حل ہو گیا۔ ''فلوریڈا معاہدے ‘‘کو امریکی سفارتکاری کی فتح کے طور پر بھی یاد کیا جاتا ہے۔

کنگفوروبوٹس

کنگفوروبوٹس

مصنوعی ذہانت کا نیا شاہکار دنیا تیزی سے ایک ایسے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں مشینیں صرف احکامات پر عمل کرنے تک محدود نہیں رہیں بلکہ انسانی حرکات و سکنات کی نقل بھی حیران کن مہارت سے کرنے لگی ہیں۔ حال ہی میں چین میں تیار کیے گئے انسانی شکل کے روبوٹس نے کنگفو کے پیچیدہ کرتب دکھا کر ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ یہ روبوٹس نہ صرف ککس اور قلابازیاں لگاتے ہیں بلکہ ننچک جیسے روایتی ہتھیار کے ساتھ مہارت کا مظاہرہ بھی کرتے ہیں۔''سی سی ٹی وی اسپرنگ فیسٹیول گالا‘‘ میں درجنوں روبوٹس نے اسٹیج پر اپنے کرتب پیش کیے۔سرخ واسکٹ پہنے کنگفو روبوٹس ککس، قلابازیاں اور حتیٰ کہ ننچک، تلواریں اور چھڑیاں استعمال کرتے ہوئے مہارت کے کرتب دکھاتے رہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ جرات مندانہ مظاہرہ انسانی بچوں کے ساتھ پیش کیا گیا۔ روبوٹس بنانے والی معروف کمپنی ''یونٹری‘‘ کی جانب سے شو کی شائع کردہ شاندار ویڈیوز کو سوشل میڈیا پر بھرپور پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔یوٹیوب پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک مداح نے لکھا: پانچ سال قبل یہ سب سائنس فکشن ہوتا۔ ایک اور نے کہا:اگر میں یہ براہِ راست یونٹری روبوٹکس کے چینل سے نہ دیکھ رہا ہوتا، تو کہتا یہ AI ہے۔ چین میں ہونے والے اس گالا میں انسانی خصوصیات کے حامل روبوٹس بنانے والی چار کمپنیوں یونٹری روبوٹکس، گالبوٹ، نوئٹکس اور میجک لیب کے تیار کردہ روبوٹس نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ یونٹری کے درجنوں روبوٹس ''جی ون‘‘(G1)اسٹیج پر آئے، جو یونٹری کے بقول ''مَنکی کنگ کے ہتھیاروں‘‘ سے لیس تھے۔ لڑائی کے مناظر میں تکنیکی طور پر ایک منفرد سیکوئنس بھی شامل تھا، جس میں ''نشے میں مارشل آرٹس‘‘ کے انداز کی ڈگمگاتی حرکتوں اور پیچھے گرنے کے کرتب کی نقل کی گئی۔اس خاص سیکوئنس سے ''یونٹری ‘‘ نے متعدد روبوٹس کی ہم آہنگی اور فالٹ ریکوری کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا یعنی روبوٹ گرنے کے بعد خود اٹھ سکتا ہے۔یونٹری نے اپنے یوٹیوب ویڈیو کی تفصیل میں بتایاکہ درجنوں ''جی ون‘‘ روبوٹس نے دنیا کی پہلی مکمل خودمختار ہیومنائیڈ روبوٹ کنگفو پرفارمنس انجام دی، جس میں تیز حرکات شامل تھیں۔ ان روبوٹس نے کئی عالمی ریکارڈ قائم کیے۔ ''جی ون‘‘ ہیومنائیڈ روبوٹ کا وزن 35 کلوگرام (77 پاؤنڈ)، قد 1.32 میٹر (4.33 فٹ) اور جوڑوں میں 23 ڈگری کی آزادی ہے، جو اسے اوسط انسانی جسم سے زیادہ حرکت پذیر بناتی ہے۔ اپنے سادہ چہرے کے پیچھے، یہ روبوٹ ایک جدید سسٹم چھپا کر رکھتا ہے، جس میں 3D LiDAR سینسر اور ڈیپتھ سینسنگ کیمرا شامل ہیں۔ یہ خصوصیات اسے دنیا کے سب سے جدید کمرشل دستیاب ہیومنائیڈ روبوٹس میں سے ایک بناتی ہیں۔گزشتہ سال کے گالا میں، 16 یونٹری روبوٹس نے ایک نسبتاً سادہ روٹین پیش کی تھی، جس میں وہ رومال گھما رہے تھے اور رقص کر رہے تھے۔ ٹیکنالوجی کنسلٹنسی کمپنی Stieler کے ایشیاء میں منیجنگ ڈائریکٹر اور روبوٹکس و آٹومیشن کے سربراہ جورج اسٹیلر کے مطابق یہ تبدیلی صرف ایک سال میں ہوئی اوراس کے بعد ان روبوٹس کی پرفارمنس میں یہ فرق حیران کن ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ روبوٹس کی متاثر کن موشن کنٹرول یونٹری کے اس مقصد کو ظاہر کرتی ہے کہ وہ روبوٹ کے ''دماغ‘‘ یعنی AI سے چلنے والا سافٹ ویئر تیار کرنے پر توجہ دے رہا ہے، جو انہیں نفیس حرکی کام انجام دینے کے قابل بناتا ہے اور یہ حقیقی دنیا کی فیکٹری سیٹنگز میں استعمال ہو سکتے ہیں۔گزشتہ سال کی نسبت اس سال کی بہتری کو یوٹیوب پر بھی کئی ناظرین نے نوٹ کیا۔یونٹری کے ہیومنائیڈ روبوٹس پہلے بھی اپنی عجیب و غریب حرکتوں کی وجہ سے وائرل ہو چکے ہیں۔گزشتہ سال، چینی روبوٹکس فرم نے اپنی ٹیکنالوجی کا مظاہرہ کرنے کیلئے دنیا کا پہلا ہیومنائیڈ روبوٹ باکسنگ ٹورنامنٹ منعقد کیا تھا۔ ایک وائرل کلپ میں، دو حقیقی سائز کے روبوٹس، جنہوں نے باکسنگ گلوز اور حفاظتی ہیڈ گیئر پہنے ہوئے تھے، رنگ میں ایک دوسرے سے لڑتے ہیں جبکہ ایک انسانی ریفری انہیں دیکھ رہا ہوتا ہے۔ اگرچہ لڑتے ہوئے روبوٹس کچھ ککس اور پنچ لگا پائے، لیکن اکثر انہیں اپنا مخالف تلاش کرنے اور اپنی پوزیشن برقرار رکھنے میں دشواری پیش آئی۔یہ مظاہرہ مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے میدان میں غیر معمولی پیش رفت کی علامت ہے، جو مستقبل میں صنعت، تعلیم اور تفریح سمیت کئی شعبوں میں انقلابی تبدیلیاں لا سکتی ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ حفاظتی اور اخلاقی سوالات بھی جنم لے رہے ہیں کہ کیا انسان اور مشین کا یہ قرب مستقبل میں کسی نئے چیلنج کا پیش خیمہ تو نہیں؟

اپنی زبان، اپنی پہچان

اپنی زبان، اپنی پہچان

21 فروری کودنیا بھر میں مادری زبان کا عالمی دن منایا جاتا ہےانسان کی پہلی پہچان اس کی مادری زبان ہوتی ہے۔ یہی وہ زبان ہے جس میں بچہ اپنی ماں کی لوری سنتا ہے، جذبات کا اظہار سیکھتا ہے اور اپنے گردوپیش کی دنیا کو سمجھنے لگتا ہے۔ مادری زبان نہ صرف ابلاغ کا ذریعہ ہے بلکہ تہذیب، تاریخ اور اجتماعی شعور کی امین بھی ہے۔ کسی بھی قوم کی فکری بالیدگی اور ثقافتی استحکام کا دارومدار اس بات پر ہوتا ہے کہ وہ اپنی زبان سے کس قدر وابستگی رکھتی ہے۔عالمی سطح پر21فروری کو یونیسکو (UNESCO) کے تحت عالمی یومِ مادری زبان منایا جاتا ہے، جس کا مقصد لسانی تنوع کا تحفظ اور مقامی زبانوں کو فروغ دینا ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ مادری زبان محض بول چال کا وسیلہ نہیں بلکہ ہماری شناخت، روایت اور فکری آزادی کی بنیاد ہے۔مادری زبان کی اہمیت کو اُجاگر کرنے کیلئے عالمی ادارہ یونیسکو نے 1999ء میں 21 فروری کو مادری زبان کاعالمی دن قرار دیاتھا،جو پوری دنیا میں منایا جاتاہے۔ عوام میں مادری زبانوں کی اہمیت اورافادیت کا شعور اُجاگر کرنے کیلئے مختلف تنظیمیں تقریبات کا اہتمام کرتی ہیں،واک اور بینر ڈسپلے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔بہت ساری زبانیں دم توڑ رہی ہیں۔جب تک حکومت، اخبارات، جرائد و رسائل اور خاص کر الیکٹرانک میڈیا مادری زبانوں کے تحفظ کیلئے بھر پور حصہ نہیں لیں گے، اس دن کو منانے کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا ۔کثیر لسانی تعلیم میں نوجوانوں کی آواز:2026ء کا موضوعحالیہ برسوں میں لسانی منظرنامے میں گہری تبدیلیاں آئی ہیں، جنہیں بڑھتی ہوئی ہجرت، تیز رفتار تکنیکی ترقی اور کثیر لسانیت کے ادراکی، سماجی اور معاشی فوائد کے بڑھتے ہوئے اعتراف نے شکل دی ہے۔ آج کثیر لسانیت کو صرف ایک سماجی حقیقت ہی نہیں بلکہ ایک بنیادی انسانی خصوصیت اور ایک مؤثر تعلیمی طریقہ کار کے طور پر بھی تسلیم کیا جا رہا ہے۔ نوجوان اس ارتقا میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ وہ زبانوں کے تحفظ اور احیا کیلئے آواز بلند کرتے ہیں، ڈیجیٹل مواد تخلیق کرتے ہیں اور ٹیکنالوجی کے ذریعے لسانی تنوع کو زیادہ نمایاں اور باوقار بناتے ہیں۔ یہ کوششیں زبان، شناخت، تعلیم، فلاح و بہبود اور سماجی شرکت کے درمیان گہرے تعلق کو مضبوط کرتی ہیں اور ایسے تعلیمی نظام کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہیں جو طلبہ کی زبانوں کو تسلیم اور سہارا دے۔اس کے ساتھ ساتھ نمایاں چیلنجز بھی موجود ہیں، کیونکہ دنیا بھر میں اب بھی 40 فیصد طلبہ کو اس زبان میں تعلیم میسر نہیں جسے وہ بہتر طور پر سمجھتے ہیں، اور اس صورتحال سے مقامی، مہاجر اور اقلیتی نوجوان سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ اس خلا کو پُر کرنے کیلئے ایسی تعلیمی پالیسیوں اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے جو کثیر لسانی تعلیم کو اپنی بنیاد بنائیں، تاکہ شمولیت، مساوات اور مؤثر تعلیم کو فروغ دیا جا سکے۔ ٹھوس اقدامات کو آگے بڑھا کر، کامیاب تجربات کو شیئر کر کے اور نوجوانوں، اساتذہ اور پالیسی سازوں کے درمیان مکالمے کو فروغ دے کر عالمی اقدامات ایسے مواقع فراہم کرتے ہیں جہاں خیالات کا تبادلہ ہو اور ایسے حل تلاش کیے جائیں جو دنیا بھر کے اسکولوں اور معاشروں میں لسانی تنوع کو مضبوط کریں۔ دنیا میں سب سے زیادہ 860 مادری زبانیں نیوگنی میں بولی جاتی ہیں۔انڈونیشیا میں 742، نائیجیریا میں 516،بھارت میں425،امریکہ 311،آسٹریلیا میں 275 اور چین میں241 زبانیں بولی جاتی ہیں ۔ دنیا بھر میں تقریباً کل 6912 زبانیں بولی جاتی ہیں۔آبادی کے لحاظ سے سب سے زیادہ بولی جانے والی والی زبان چینی ہے ۔دوسرے نمبر پر ( اُردو یا ہندی) ہے۔ تیسرا نمبر انگلش کو حاصل ہے ۔اس کے بعد ہسپانوی ،عربی ،بنگالی زبان وغیرہ کا نمبر آتا ہے ۔پنجابی 11 او ر (صرف) اُردو، بولی جانے والی زبانوں میں 19 ویں نمبر پر ہے ۔مادری زبان کا عالمی دن، جس کا اعلان پہلے یونیسکو نے کیا اور بعد ازاں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اسے منظور کیا، شمولیت کے فروغ اور پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول میں زبانوں کے کردار کو اجاگر کرتا ہے۔ کثیر لسانی تعلیم نہ صرف جامع معاشروں کے قیام میں مدد دیتی ہے بلکہ غیر غالب، اقلیتی اور مقامی زبانوں کے تحفظ میں بھی معاون ثابت ہوتی ہے۔ یہ سب کیلئے مساوی تعلیمی رسائی اور تاحیات سیکھنے کے مواقع کے حصول کی ایک بنیادی ستون ہے۔

رمضان کے پکوان:نیپالی رول

رمضان کے پکوان:نیپالی رول

اجزاء : مرغی 250 گرام (صرف گوشت)، آلو (درمیانہ سائز) ایک عدد، انڈا ایک عدد پیاز (چھوٹی ) ایک عدد، ڈبل روٹی کے سلائس (بڑے ) چھ عدد، کالی مرچ پاؤڈر آدھا ٹی سپون، مکھن ایک ٹیبل سپون، ہرا دھنیا، پو دینہ اور مرچ آدھا کپ، نمک حسب ذائقہ،آئل تلنے کیلئے۔ترکیب: مرغی، انڈے اور آلو ابال لیں۔ گوشت کے باریک ریشے کر لیں۔ انڈے اور آلو کو کچل کر گوشت میں شامل کر دیں۔ چوکور پیاز، ہرا دھنیا اور ہری مرچ و پو دینہ بھی گوشت میں ملا دیں۔ اب اس میں مکھن، کالی مرچ اور نمک شامل کر کے اچھی طرح ملائیں۔ سلائس کو ہلکا گیلا کر کے تھوڑا سا پھیلا لیں۔ بنا ہوا مصالحہ حسب انداز درمیان میں رکھ کر رول کی شکل میں بنا لیں۔ ایک گھنٹہ فریج میں رکھ کر آئل میں فرائی کر یں اور جاذب کاغذ پر رکھیں۔قیمے کے سموسے اجزاء: قیمہ 250 گرام، میدہ 500 گرام، میٹھا سوڈا 2 چٹکی، اناردانہ تھوڑا سا، گھی 90 گرام، ہری مرچ چار عدد، ہرا دھنیا ،نمک حسب ضرورت۔ترکیب:میدے کو گھی میں گوندھیں اور اس میں نمک اور سوڈا ملا دیں اور تھوڑا سا پانی بھی ملائیں مگر میدہ سخت ہونا چاہیے۔ اس کے پیڑے بنا کر بیلن سے بیل کر چھوٹی چھوٹی روٹیاں بنا لیں اور ان کو درمیان سے کاٹ لیں پھر ان کو دوہرا کر کے ان میں قیمہ بھر لیں۔ یہ سموسوں کی شکل کے بن جائیں گے۔ انہیں گھی میں تل لیں اور تناول فرمائیں۔