دماغی صحت بھاری ورزش معاون
اسپیشل فیچر
صحت مند زندگی انسان کے لیے انمول نعمت ہے،ایک طرف دنیا کی تمام آسائشیں اورآرام اوردوسری طرف صحت نہ ہو تو زندگی خوشیوں سے خالی ہوجاتی ہے۔ انسان جب تک صحت مند وتندرست رہتا ہے اپنی زندگی کے خوشگوار لمحات سے محفوظ ہوتا ہے، اگر خدانخواستہ وہ بیمار ہو جائے تو ساری خوشیاں اور زندگی کی آسانیاں خاک میں مل جاتی ہیں کیونکہ بیماری کا اثر اس کی پوری زندگی پر پڑتا ہے۔ اسلئے صحت کوتندرست و مستحکم رکھنے کیلئے لوگ صاف صفائی، عمدہ کھانا وغیرہ پسندکرتے ہیں۔لوگ جسم کوبھی تندرست رکھنے کیلئے مختلف طرح کی تدابیر اختیار کرتے ہیں۔ جس طرح تندرست اورچست رہنے کیلئے ورزش ضروری ہے ،اسی طرح دماغی صحت کوبھی برقراررکھنے ورزش کرنا ضروری ہے۔اگر کسی کو مختلف دماغی و نفسیاتی مسائل خصوصاً اینگزائٹی (بے چینی) کا سامنا ہے، تو اس ضمن میں بھاری ورزشیں کرنا مفید ثابت ہوسکتا ہے۔ یہ دعویٰ کئی تحقیقات میں سامنے آیا ہے جن میں دیکھا گیا کہ وہ افراد جو مسلز بنانے والی بھاری بھرکم ورزشیں جیسے ویٹ لفٹنگ کرتے ہیں، وہ افراد اینگزائٹی کے مرض سے محفوظ رہتے ہیں۔آئر لینڈ میں کی جانے والی اس تحقیق میں بتایا گیا کہ باقاعدگی سے ورک آؤٹ کرنے والے افراد مختلف اقسام کے ذہنی و نفسیاتی مسائل سے دور رہتے ہیں۔ماہرین کا کہنا تھا کہ گو کہ ورزش نہ صرف جسمانی بلکہ دماغی اور نفسیاتی صحت پر بھی مفید اثرات مرتب کرتی ہے تاہم اس کا تعلق ہمیشہ سے ہلکی اقسام کی ورزش سے جوڑا جاتا رہا ہے جن میں سانس کی مشقیں بھی شامل ہیں۔ان کے مطابق ورک آؤٹ دراصل دماغ کی توجہ کا مرکز تبدیل کردیتا ہے اور وہ پریشان کن چیزوں کو چھوڑ کر سخت ورزش کی طرف مبذول ہوجاتا ہے۔ماہرین کا کہنا تھا کہ ورزش سے فائدہ اٹھانے کیلئے ضروری ہے کہ ورزش کے دوران ادھر ادھر کے بارے میں سوچنے کے بجائے دماغ کو بھی ورزش پر مرکوز رکھا جائے اور بھاری ورزش اس ضمن میں معاون ثابت ہوسکتی ہے کیونکہ محنت آپ کو دماغی اور جسمانی دونوں طور پر مشغول رکھے گی۔ اینگزائٹی کے علاج کیلئے مہنگی دوائیں کھانے کے بجائے ورک آؤٹ کرنا آسان علاج ہے۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ تندرستی ہزار نعمت ہے۔ اس کی قدر اور پورا احساس صحت مند لوگوں کو نہیں ہوتا، جو بیمار ہو جاتے ہیں یا کسی حادثہ کا شکار بن کر بستر پر درواز ہو جاتے ہیں وہی تندرستی کی اہمیت کو سمجھتے ہیں۔