سکندرِاعظم کے 9 پوشیدہ حقائق

سکندرِاعظم کے 9 پوشیدہ حقائق

اسپیشل فیچر

تحریر : رضوان عطا


مقدونیہ کا بادشاہ اور فتوحات کے باعث چہاردانگ عالم میں شہرت پانے والا سکندرِاعظم جولائی 356 قبل مسیح کو پیدا ہوا۔ ایشیا اور شمال مشرقی افریقہ میں اس کی غیر معمولی عسکری مہمات نے دورِقدیم کی سب سے وسیع سلطنتوں میں سے ایک کو قائم کیا۔ اسے دنیا کے کامیاب ترین عسکری قائدین میں شمار کیا جاتا ہے۔ تخت سنبھالنے کے بعد اپنے باپ کے خواب کی تکمیل کرتے ہوئے اس نے ہخامنشی سلطنت (سلطنتِ فارس) پر پے در پے حملے کیے اور یہ سلسلہ تقریباً ایک دہائی تک جاری رہا ۔ اس نے فارسیوں کی طاقت کو ختم اور دارا سوم کو شکست سے دوچار کر دیا۔ برصغیر میں اس کا مقابلہ پارس سے اس علاقے میں ہوا جو اب پاکستان کا حصہ ہے۔ اس کی جنگی مہمات نے جہاں تباہیاں پھیلائیں وہیں دنیا کی مختلف ثقافتوں اور نظریات کو ایک دوسرے سے متعارف بھی کرایا۔ بابل کو وہ اپنا دارالحکومت بنانا چاہتا تھا لیکن یہیں موت نے اسے آ لیا اورجزیرہ نما عرب پر قبضے کا اس کا خواب ادھورا رہ گیا۔ سکندر کے بارے میں بہت سی ایسی اہم باتیں ہیں جو کم لوگ جانتے ہیں۔ ان میں سے چند کو ذیل میں پیش کیا جا رہا ہے۔ ماں شاہی خاندان سے تھی:سکندرِاعظم کی ماں کا نام اولمپیاس تھا۔ وہ مقدونیہ کے بادشاہ فلپ دوم کی چوتھی بیوی تھی۔ سکندر کی ماں مقدونی نہیں تھی اور دعویٰ یہی کیا جاتا ہے کہ وہ مولوشیائی بادشاہ کی بیٹی تھی۔یہ یونان میں اپیرس کے علاقے کا ایک قدیم قبیلہ تھا جس نے ایک سلطنت بھی قائم کر رکھی تھی۔ یہ بھی دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اس کے خاندان کا تعلق جنگ ٹروجن کے ہیرو ایکیلز سے تھا۔ سکندرِ اعظم کی پیدائش کے بعد اس کی ماں کو گویا خاتون اول کا درجہ مل گیا۔چونکہ سکندر کی ماں مقدونی نہیں تھی اس لیے یہ بحث چلتی رہتی تھی کہ وہ وراثتی اقتدار کا حق دار ہے یا نہیں اور اس کی وجہ سے ماں اور باپ کے مابین تناؤ بھی رہتا تھا۔اسی کش مکش نے اسے ظالم بنا دیا تھا۔ حال ہی میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں غیر ملکی مصنف نے لکھاہے کہ سکندر اعظم کی ماںکو بادشاہ کے محل میں اپنا مقام بنانے کے لئے بے انتہا محنت کرنا پڑی تھی۔ پہلے پہل دربار میں اسے بطور ملکہ کوئی ہی نہیں ملا تھا ۔محل کی دوسری ملکائوں کی طاقت اسے بے چین کئے رکھتی تھی۔ سکندر کی پیدائش کے بعد ہی اسے بادشاہ کے دربار میں پہلی ملکہ کی حیثیت حاصل ہوئی تھی ۔ بڑی وجہ یہ تھی کہ کسی نے بادشاہ کو کہا تھا کہ سکندر بہت خوش قسمت ہو گا اور یہ دنیا پر حکومت کرے گا ،اس لئے بادشاہ نے بھی سکندر کی تربیت میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی،اسے اچھی سے اچھی تربیت دلوائی۔ سکندر اور اپنی عزت دیکھ کر ملکہ بد دماغ ہو گئی اور انتقام لینے پر اتر آئی۔ اس نے جس کو بھی اپنا حریف سمجھا اسے راستے سے ہٹادیا۔طاقت کے نشے میں بد مست ہو کر اس نے ظلم کی انتہا کر دی تھی۔غیر ملکی مصنف کے مطابق یہی ظلم سکندر نے سیکھا۔ اچھی فوج اور مضبوط سلطنت ملی:سکندر کا باپ فلپ دوم موت سے قبل اپنی سلطنت اور فوج کو خاصی ترقی دے چکا تھا۔اپنی طاقت میں اضافے کے لیے اس نے سفارت کاری کے ساتھ فوجی اصلاحات بھی کیں۔ علاوہ ازیں اس نے اپنا اثرورسوخ بڑھانے کے لیے ازدواجی رشتے قائم کیے۔ اس کی بیویوں کی تعداد 7 کے قریب تھی۔ فلپ دوم نے پیادہ فوج میں ترتیب کی بنیاد رکھی جسے ’’مقدونی صف بندی‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس میں پیادہ فوج کا ایک حصہ قریب آکر متحد ہو جاتا ہے۔ ہر سپاہی کے پاس سارسا کہلانے والی 20 فٹ لمبی برچھی ہوتی ہے، جب سوار فوج پیادہ پر چڑھ دوڑنے کی کوشش کرتی تو یہ صف بندی ان کی رہ میں حائل ہو جاتی۔ ’’مقدونی صف بندی‘‘ نے یونان کی شہری ریاستوں اور تھیبس کو شکست دینے میں فلپ دوم کی بہت مدد کی۔ فلپ دوم نے یونانی ریاستوں کی ایک فیڈریشن بنانے کی کوشش کی تاکہ طاقت پا کر ہخامنشی سلطنت پر قبضہ کر سکے لیکن موت نے اسے آ لیا۔ فلپ دوم ہی نے مقدونی فوج کو وہ شاندارہیئت دی جو بعد میں سکندرِاعظم کے کام آئی۔ سکندر اعظم کے جرنیلوں میں سے ایک بطلیموس ( Ptolemy) نے مصر کی حکمرانی حاصل کی اور سکندر اعظم کے نام پر ایک نیا شہر سکندریہ تعمیر کیا اور اسکو ملک کا دارلحکومت بنایا۔اس کی وفات کے بعد اس کے بیٹے نے یہاں ایک تحقیق و تعلیم کا ایک عظیم و الشان ادارہ قائم کیا جسے ہم آجکل کی یونیورسٹیوں اور تحقیقی اداروں کی مانند قرار دے سکتے ہیں۔اسی سے متصل قدیم دور کی سب سے بڑی لائبریری بھی تعمیر کی گئی ،جہاں اہل علم کے لئے لاکھوں کتب کاذخیرہ موجود تھا۔ ارسطو نے پڑھایا: سکندر میں علوم بالخصوص فلسفے کا ذوق بہت تھا اور غالباً خطہ یونان کے ماحول کے علاوہ ارسطو کی صحبت اس کا سبب بنی۔ اس کے باپ نے سکندر کی تعلیم و تربیت کا خاص اہتمام کیا۔ اس دور کے رائج علوم مثلاً ریاضی، تاریخ، نیزہ بازی وغیرہ کی تعلیم اس مقدونی شہزادے کو دی گئی۔یونان کا معروف فلسفی ارسطو سکندر کو تقریباً16 برس کی عمر تک پڑھاتا رہا۔ فلسفے اور فلسفیوں سے رغب کا اظہار اس واقعے سے ہوتا ہے۔ روایات کے مطابق جب سکندرِ اعظم ابھی شہزادہ تھا، اس کے ذہن میں ناشائستہ اور مٹی کے مرتبان میں محوخواب رہنے والے فلسفی دیوجانس کلبی سے ملنے کا خیال آیا۔ ایک مقام پر سکندر کا اس سے سامنا ہوگیا، اس نے پوچھاکہ وہ اس کے لیے کیا کر سکتا ہے؟ اس پر دیوجانس نے جواب دیا ’’آگے سے ہٹ جاؤ، تم نے سورج کی روشنی کو روک رکھا ہے۔‘‘ اس ملاقات کا سکندرِاعظم پر اتنا اثر ہوا کہ اس نے کہا ’’اگر میں سکندر نہ ہوتا تو دیوجانس ہوتا۔‘‘ پسندیدہ ترین کتاب الیڈ تھی:ارسطو نے سکندر کو ہومر کی رزمیہ نظم الیڈ کی ایک نقل دی تھی جس کی شرح ارسطو نے خود لکھی تھی۔ سکندر ہومر کا مداح تک لیکن الیڈ اس کی پسندیدہ ترین کتاب تھی۔اپنی عسکری مہمات کے دوران وہ اسے اپنے ساتھ رکھتا۔ اس امر کی تصدیق یونانی سوانح نگار پلوٹارک کرتا ہے۔ اس کے مطابق وہ اسے عسکری علم و اقدار کا مثالی سفری خزانہ تصور کرتا تھا۔ بوسیفالوس محبوب گھوڑا تھا: بوسیفالوس غالباً دورِ عتیق کا سب سے مشہور گھوڑا تھا۔ یہ گھوڑا پارس کے ساتھ جنگ میں مارا گیا اورایک روایت کے مطابق جہلم کے نزدیک دفن ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ اس کی آنکھیں نیلی تھیں۔ سکندر کی سوانح میں پلو ٹارک بتاتا ہے کہ 10 برس کی عمر میں سکندر کے والد نے اسے ایک اعلیٰ گھوڑا دیا لیکن اسے سدھانا مشکل ہو رہا تھا۔ شہزادے نے محسوس کیا کہ گھوڑا اپنے سائے سے خوف کھا رہا ہے اور جلد اس بظاہر ضدی گھوڑے کو سدھانے میں کامیاب ہو گیا۔ اس پر فلپ دوم نے اپنے بیٹے پر فخر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’میرے بیٹے! مقدونیہ تمہارے لیے بہت چھوٹا ہے، تمہیں تمہارے عزم کے مطابق بڑی سلطنت کی جستجو کرنی ہے۔‘‘سکندر نے اس گھوڑے کو اپنے ساتھ رکھ لیا اور اسے بوسیفالس کانام دیا جس کا مطلب ہے ’’بیل کا سر‘‘۔ تخت پاتے ہی تشدد کا سہارا لیا:مقدونیہ میں صاحبانِ اقتدار کے قتل کی روایت خاصی پختہ تھی۔ 336 قبل مسیح میں فلپ دوم کو اس کے محافظین کے سربراہ نے قتل کر دیا۔ وہ ایک شادی کی تقریب میں شریک تھا۔مارنے والا خود بھی مارا گیا۔ سکندر کی وراثت اور تخت پر حق کی بحث برسوں سے جاری تھی کیونکہ ماں کی وجہ سے اسے نصف مقدونی خیال کیا جاتا تھا،البتہ اشرافیہ اور فوج نے 20 سالہ شہزادے کو فی الفور بادشاہ بنانے کا اعلان کر دیا۔ اپنے اقتدار کو مستحکم کرنے کے لیے سکندر کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ خود کو محفوظ بنانے کے لیے اس نے تخت کے تمام ممکنہ دعویداروں کا خاتمہ کر دیا جن اس کا کزن اور مقدونیہ کے دو شہزادے شامل تھے۔ فلپ دوم کی ایک بیوی اور اس کی بیٹی بھی قتل ہوئیں۔ اقتدار سنبھالتے ہی اس نے سرکش دھڑوں کو کچلنا شروع کر دیا اور آخر کار طاقت ور بادشاہ کے روپ میں سامنے آیا۔سلطنتِ فارس اور دارا سوم کو شکست دی: اس دور میں سلطنتِ فارس کو شکست دینا سپرپاور کو ہرانے کے مترادف تھا۔334 قبل مسیح میں وہ ایشیا کوچک داخل ہوا اور فارس کی فوج اس کے مقابل آئی۔ وہ دریائے گرانیکوس کے پار اس کی منتظر تھی۔اس میں لڑائی میں سکندر مرتے مرتے بچا۔ خونیں لڑائی میں مقدونیہ کا بادشاہ فاتح ٹھہرا۔ اس کے بعد سکندر کا مقابلہ دارسوم سے اسوس کے مقام پر ہوا جو موجودہ شام میں ہے۔ سکندر کی فوج دارا کے مقابلے میں خاصی کم تھی لیکن اس نے دارا کو بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ سکندر نے چند ہی برس بعد دارا کو دوبارہ شکست دی جس کے بعد دارا کو اسی کے ساتھیوں نے قتل کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی سلطنت فارس (ہخامنشی سلطنت) کو زوال آ گیااور سکندر فارس کا بادشاہ بن گیا۔ موت تاحال معمہ ہے: کہا جاتا ہے کہ 323 قبل مسیح میںعہدِجوانی میں وہ بخار کی لپیٹ میں آ یااور س کا انتقال دو ہفتے تک منائے جانے والے ایک بڑے جشن کے بعد بابل میں نبوخذنصر دوم کے محل میں ہوا۔ موت کے سبب کے بارے میں تاریخ دانوںمیں مختلف خیالات پائے جاتے ہیں۔ بعض کے مطابق اسے اس کے کسی قریبی نے زہر دیا۔تاریخ دانوں کو یہ بھی شبہ ہے کہ وہ جگر کے ناکارہ ہونے سے مرا۔ میدانِ جنگ میں کبھی شکست نہ کھائی:اگرچہ ’’مقدونی صف بندی‘‘ کی تخلیق کا سہرا فلپ دوم کے سرہے لیکن اسے انتہائی کامیابی سے استعمال اس کے بیٹے نے کیا۔ نوجوانی ہی میں اپنی سپاہ کی سرعت و تنددہی سے میدانِ جنگ میں قیادت کرنے پر اسے لشکر میں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ دستاویزی ثبوتوں کے مطابق 15 برس تک لڑائیاں کرنے کے باوجود وہ ایک لڑائی میں بھی نہ ہارا۔12سالہ دورِاقتدار میں سکندر اور اس کی فوج نے ہزاروں میل کا فاصلہ پیدل طے کیا۔ اس کی سلطنت یونان سے ہندوستان تک تھی،یہ 2 کروڑ مربع میل رقبہ بنتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
بیساکھی: زرعی ثقافت کا تہوار

بیساکھی: زرعی ثقافت کا تہوار

بیساکھی برصغیر کی ایک قدیم اور رنگا رنگ تہذیبی و مذہبی روایت ہے جو ہر سال اپریل کے وسط میں منائی جاتی ہے۔ یہ تہوار خاص طور پر پنجاب کے خطے میں نہایت جوش و خروش سے منایا جاتا ہے اور اس کی جڑیں زرعی، ثقافتی اور مذہبی روایات میں گہرائی تک پیوست ہیں۔ بیساکھی نہ صرف سکھ مذہب کے ماننے والوں کے لیے ایک اہم دن ہے بلکہ یہ کسانوں کے لیے بھی خوشی کا موقع ہوتا ہے کیونکہ اس دن ربیع کی فصل، خاص طور پر گندم کی کٹائی مکمل ہوتی ہے۔بیساکھی دراصل فصلوں کا تہوار ہے جو بہار کے موسم میں نئی پیداوار کی خوشی میں منایا جاتا ہے۔ بیساکھی کا لفظ دیسی مہینے بیساکھ سے نکلا ہے جسے نئے سال کے آغاز کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے۔ یوں یہ دن ایک نئے دور، نئی امیدوں اور خوشحالی کی علامت بن جاتا ہے۔بیساکھی کی اہمیت مختلف طبقات کے لیے مختلف ہے۔ کسانوں کے لیے یہ دن محنت کے صلے کے طور پر منایا جاتا ہے جب وہ اپنی فصل کاٹ کر اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں۔ یہ خوشی، شکرگزاری اور جشن کا موقع ہوتا ہے۔سکھ برادری کے لیے بیساکھی کی مذہبی اہمیت اور بھی زیادہ ہے۔ 1699ء میں اس دن سکھوں کے دسویں گرو، گرو گوبند سنگھ نے خالصہ پنتھ کی بنیاد رکھی تھی۔ اس واقعے نے سکھ مذہب کو ایک نئی شناخت اور قوت عطا کی۔ خالصہ پنتھ کے قیام کا مقصد سکھوں کو ایک منظم، باہمت اور خودمختار قوم بنانا تھا ۔تاریخی پس منظربیساکھی کی تاریخ صدیوں پرانی ہے اور اس کا تعلق قدیم ہندوستانی تہذیب سے ہے۔ ابتدا میں یہ ایک زرعی تہوار تھا مگر وقت کے ساتھ ساتھ اس میں مذہبی رنگ بھی شامل ہوتا گیا۔ سکھ تاریخ میں 1699ء کی بیساکھی کو ایک سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے جب آنند پور صاحب میں ایک عظیم اجتماع کے دوران گرو گوبند سنگھ نے پانچ پیاروں کو منتخب کیا اور خالصہ پنتھ کا اعلان کیا۔اس کے علاوہ بیساکھی کا دن برصغیر کی تاریخ میں ایک اور اہم واقعے سے بھی جڑا ہے۔ 1919ء میں اسی دن جلیانوالہ باغ میں قتل عام کا اندوہناک واقعہ پیش آیا جب برطانوی فوج نے نہتے مظاہرین پر فائرنگ کر کے سینکڑوں افراد کو شہید کر دیا۔ اس سانحے نے آزادی کی تحریک کو مزید تقویت دی اور بیساکھی کے دن کو ایک دردناک یادگار بھی بنا دیا۔ بیساکھی کی اہمیت کئی پہلوؤں پر مشتمل ہے۔یہ دن کسانوں کے لیے خوشی اور جشن کا موقع ہوتا ہے کیونکہ وہ اپنی محنت کا پھل حاصل کرتے ہیں۔ گندم کی سنہری فصلیں جب کھیتوں میں لہلہاتی ہیں تو یہ منظر خوشحالی کی علامت بن جاتا ہے۔ سکھ برادری کے لیے یہ دن نہایت مقدس ہے۔ گردواروں میں خصوصی دعائیں، کیرتن اور لنگر کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ لوگ روحانی سکون حاصل کرنے کے لیے عبادات میں مصروف رہتے ہیں۔ ثقافتی اہمیتبیساکھی پنجاب کی ثقافت کا آئینہ دار ہے۔ اس دن لوگ روایتی لباس پہنتے ہیں، بھنگڑا اور گِدا جیسے رقص کرتے ہیں اور لوک گیت گاتے ہیں۔ میلوں ٹھیلوں کا انعقاد ہوتا ہے جہاں مختلف کھیل، کھانے اور ثقافتی سرگرمیاں پیش کی جاتی ہیں۔آج کے دور میں بیساکھی کی ثقافتجدید دور میں بیساکھی کی ثقافت نے ایک عالمی شکل اختیار کر لی ہے۔ پاکستان،بھارت، برطانیہ، کینیڈا اور دیگر ممالک میں جہاں بھی پنجابی اور سکھ برادری آباد ہے وہاں یہ تہوار بھرپور طریقے سے منایا جاتا ہے۔پاکستان میں خاص طور پر ننکانہ صاحب اور حسن ابدال جیسے مقامات پر سکھ یاتری بڑی تعداد میں آتے ہیں اور اپنی مذہبی رسومات ادا کرتے ہیں۔ حکومت پاکستان کی جانب سے اس موقع پر خصوصی انتظامات کئے جاتے ہیں تاکہ زائرین کو سہولت فراہم کی جا سکے۔بیساکھی کے میلوں میں روایتی کھانے جیسے مکئی کی روٹی، سرسوں کا ساگ، لسی اور مٹھائیاں خاص طور پر پیش کی جاتی ہیں۔ نوجوان نسل اس تہوار کو اپنی ثقافت سے جڑنے کے ایک موقع کے طور پر دیکھتی ہے جبکہ بزرگ اس میں اپنی روایات کی جھلک محسوس کرتے ہیں۔سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل دور نے بھی بیساکھی کی تقریبات کو عالمی سطح پر نمایاں کر دیا ہے۔ لوگ اپنی خوشیوں، تصاویر اور ویڈیوز کے ذریعے اس تہوار کو دنیا بھر میں متعارف کراتے ہیں جس سے ثقافتی ہم آہنگی کو فروغ ملتا ہے۔بیساکھی ایک ایسا تہوار ہے جو صرف ایک دن کی خوشی نہیں بلکہ صدیوں پرانی روایت، محنت کی قدر، مذہبی عقیدت اور ثقافتی رنگینیوں کا مجموعہ ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ زندگی میں محنت، شکرگزاری اور اتحاد کتنے اہم ہیں۔ آج کے جدید دور میں بھی بیساکھی اپنی اصل روح کے ساتھ زندہ ہے اور مختلف ثقافتوں کو قریب لانے کا ذریعہ بن رہی ہے۔

کوانٹم کمپیوٹرز

کوانٹم کمپیوٹرز

کیا ہماری ڈیجیٹل سکیورٹی خطرے میں ہے؟سائنس اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک نئی بحث تیزی سے زور پکڑ رہی ہے کہ کوانٹم کمپیوٹرز کیاانکریپشن(Encryption) کو توقع سے کہیں زیادہ جلد توڑ سکتے ہیں؟ حالیہ سائنسی رپورٹس اور تحقیقاتی مضامین اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ وہ وقت جسے ماہرینQ-Day کہتے ہیں، ہماری توقع سے کہیں زیادہ قریب آ سکتا ہے۔موجودہ انکرپشن کیا ہے اور یہ کیسے کام کرتی ہے؟آج کی ڈیجیٹل دنیا،چاہے وہ بینکنگ ہو، سوشل میڈیا، ای میلز یا آن لائن خریداریزیادہ تر پبلک کی کرپٹوگرافی پر انحصار کرتی ہے۔ اس میں RSA اورElliptic curve جیسے طریقے شامل ہیں۔ ان کا بنیادی اصول یہ ہے کہ ایک پیچیدہ ریاضیاتی مسئلہ کو حل کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے خاص طور پر جب اعداد بہت بڑے ہوں۔روایتی کمپیوٹرز کے لیے ایسے مسائل کو حل کرنا عملی طور پر ناممکن ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی ہیکر کسی بینک کے سسٹم کو توڑنے کی کوشش کرے تو اسے اربوں سال لگ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اعتماد کے ساتھ آن لائن لین دین کرتے ہیں۔کوانٹم کمپیوٹرز کیوں مختلف ہیں؟کوانٹم کمپیوٹرز روایتی کمپیوٹرز سے بالکل مختلف اصولوں پر کام کرتے ہیں۔ عام کمپیوٹرز بِٹس استعمال کرتے ہیں جو یا تو 0 ہوتے ہیں یا 1۔ لیکن کوانٹم کمپیوٹرز کیوبٹس (Qubits) استعمال کرتے ہیں جو بیک وقت 0 اور 1 دونوں حالتوں میں ہو سکتے ہیں۔ اس خصوصیت کو سپرپوزیشن کہا جاتا ہے۔اس کے علاوہ کوانٹم کمپیوٹرز اینٹینگلمنٹ نامی خاصیت بھی رکھتے ہیں جس کے ذریعے مختلف کیوبٹس ایک دوسرے سے جڑے رہتے ہیں اور پیچیدہ حسابات کو بیک وقت انجام دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کچھ مخصوص مسائل کو انتہائی تیزی سے حل کر سکتے ہیں۔اصل خطرہ کہاں ہے؟کوانٹم کمپیوٹرز کی سب سے بڑی طاقتShor's algorithm جیسے الگورتھمز میں ہے جو بڑی عددی فیکٹرائزیشن کو بہت کم وقت میں حل کر سکتے ہیں۔ یہی وہ مسئلہ ہے جس پر موجودہ انکرپشن سسٹمز کی بنیاد ہے۔ماضی میں ماہرین کا خیال تھا کہ اس سطح کی طاقت حاصل کرنے کے لیے لاکھوں کیوبٹس درکار ہوں گے لیکن نئی تحقیق نے یہ اندازہ بدل دیا ہے۔ اب سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ممکن ہے کہ صرف 10,000 سے 100,000 کیوبٹس ہی کافی ہیں۔ یہ ایک بہت بڑی تبدیلی ہے کیونکہ اس کا مطلب ہے کہ کوانٹم کمپیوٹرز ہماری توقع سے کہیں پہلے اس قابل ہو سکتے ہیں۔Q-Day کیا ہے؟Q-Dayوہ دن، جب کوانٹم کمپیوٹرز موجودہ انکرپشن کو توڑنے کے قابل ہو جائیں گے۔ کچھ نئی پیش گوئیوں کے مطابق یہ دن 2029 ء سے 2032ء کے درمیان آ سکتا ہے۔اگر ایسا ہوا تو اس کے اثرات بہت وسیع ہوں گے۔اس سے بینکنگ سسٹمز خطرے میں پڑ سکتے ہیں،حکومتی اور فوجی راز افشا ہو سکتے ہیں کرپٹو کرنسی، جیسے بٹ کوائن کی سکیورٹی متاثر ہو سکتی ہے،انٹرنیٹ پر محفوظ مواصلات غیر محفوظ ہو سکتے ہیں۔Harvest now, decrypt later(HNDL)کا خطرہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہیکرز آج ہی انکرپٹڈ ڈیٹا کو چوری کر کے محفوظ کر سکتے ہیں اور جب کوانٹم کمپیوٹرز دستیاب ہوں گے تو اسے آسانی سے ڈی کرپٹ کر لیں گے۔یعنی آج جو معلومات محفوظ سمجھی جا رہی ہیں وہ مستقبل میں غیر محفوظ ہو سکتی ہیں۔ اس میں سرکاری دستاویزات، مالی ریکارڈز اور ذاتی ڈیٹا شامل ہو سکتا ہے۔کیا فوری خطرہ ہے؟فی الحال کوانٹم کمپیوٹرز ابھی اتنے طاقتور نہیں ہیں کہ عملی طور پر بڑے پیمانے پر انکرپشن کو توڑ سکیں۔ موجودہ کوانٹم مشینیں محدود صلاحیت رکھتی ہیں اور ان میں بہت سی تکنیکی رکاوٹیں موجود ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ترقی کی رفتار بہت تیز ہے۔ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اور حکومتیں اس میدان میں بھاری سرمایہ کاری کر رہی ہیں جس سے یہ پیش رفت تیزی سے ممکن ہو سکتی ہے۔حل کیا ہے؟خوش آئند بات یہ ہے کہ سائنسدان اس خطرے سے نمٹنے کے لیے پہلے ہی کام کر رہے ہیں۔ ایک نیا میدان Post-quantum cryptography(PQC)کے نام سے ابھر رہا ہے۔ اس میں ایسے انکرپشن سسٹمز تیار کیے جا رہے ہیں جو کوانٹم حملوں کے خلاف محفوظ ہوں۔امریکہ اور دیگر ممالک میں اس حوالے سے نئے سٹینڈرڈز بھی تیار کیے جا رہے ہیں تاکہ مستقبل میں ڈیجیٹل سکیورٹی کو برقرار رکھا جا سکے۔کوانٹم کمپیوٹرز بلاشبہ مستقبل کی ایک انقلابی ٹیکنالوجی ہیں لیکن ان کے ساتھ جڑے نئے خطرات بھی اپنی جگہ موجود ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ دنیا اس خطرے سے آگاہ ہو چکی ہے اور اس کے حل کے لیے اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔ تاہم وقت گزرتا جا رہا ہے اور اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو ہماری ڈیجیٹل دنیا کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔یوں کہا جا سکتا ہے کہ ہم ایک ایسے دور کے دہانے پر کھڑے ہیں جہاں سکیورٹی اور ٹیکنالوجی کے درمیان ایک نئی دوڑ شروع ہو چکی ہے اور اس دوڑ کا نتیجہ ہماری ڈیجیٹل زندگیوں کے مستقبل کا تعین کرے گا۔

آج کا دن

آج کا دن

میکڈونلڈز کی پہلی فرنچائز15 اپریل 1955ء کو رے کراک نے میکڈونڈلڈز کی پہلی فرنچائز امریکی ریاست الینوائے میں ڈیس پلینزمیں قائم کی۔ اگرچہ میکڈونلڈز کی بنیاد 1940ء میں رچرڈ اور مورس میکڈونلڈ نے رکھی تھی لیکن اس کی عالمی کامیابی کا سہرا رے کراک کے سر جاتا ہے۔رے کراک نے اس کاروباری ماڈل کو ایک منظم فرنچائز سسٹم میں تبدیل کیا۔ ان کی حکمت عملی میں تیز سروس، محدود مینو اور کم قیمتیں شامل تھیں۔ اس نے فاسٹ فوڈ انڈسٹری کی شکل بدل دی اور جدید کاروباری فرنچائزنگ ماڈل کو فروغ دیا۔اپالو 13 مشن کی واپسی15 اپریل 1970ء کو ناسا کا خلائی مشن اپالو 13 ایک بڑے حادثے سے بچتے ہوئے زمین کی طرف واپسی کے لیے اہم مرحلے میں داخل ہوا۔ یہ مشن 11 اپریل کو چاند کی طرف روانہ ہوا تھا مگر 13 اپریل کو ایک آکسیجن ٹینک میں دھماکے کے باعث شدید مسائل کا شکار ہو گیا۔خلاباز جم لوول، جیک سویگرٹ اور فریڈ ہائز نے انتہائی محدود وسائل میں اپنی جان بچانے کے لیے غیر معمولی ہمت اور ذہانت کا مظاہرہ کیا۔ اس واقعے کو خلائی تاریخ میں ناکامی میں کامیابی کی ایک بہترین مثال سمجھا جاتا ہے۔ ہلزبرو سٹیڈیم حادثہ15 اپریل 1989ء کو انگلینڈ کے شہر شیفلڈ میں واقع ہلز برو سٹیڈ یم میں ایک ہولناک حادثہ پیش آیا جس میں 96 فٹبال شائقین ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو گئے۔ حادثے کی بنیادی وجہ سٹیڈیم میں زیادہ ہجوم اور ناقص انتظامات تھے۔ پولیس نے شائقین کو ایک محدود حصے میں داخل ہونے کی اجازت دی جس سے شدید دباؤ پیدا ہوا اور لوگ ایک دوسرے کے نیچے دب گئے۔ اس سانحے نے برطانیہ میں کھیلوں کے میدانوں کی سکیورٹی پر سنجیدہ سوالات اٹھائے۔بعد ازاں یہ ثابت ہوا کہ حادثے کی ذمہ داری انتظامیہ اور پولیس کی غفلت تھی۔بوسٹن میراتھن دھماکے15 اپریل 2013 ء کو امریکہ کے شہر بوسٹن میں ہونے والی مشہوربوسٹن میراتھن کے اختتامی لمحات میں دو زور دار دھماکے ہوئے جنہوں نے دنیا بھر کو ہلا کر رکھ دیا۔ یہ دھماکے فِنش لائن کے قریب ہوئے جہاں سینکڑوں افراد موجود تھے، جن میں کھلاڑیوں کے اہلِ خانہ، شائقین اور میڈیا نمائندگان شامل تھے۔ان حملوں میں تین افراد ہلاک جبکہ 260 سے زائد زخمی ہوئے جن میں کئی افراد کے اعضا متاثر ہوئے۔ نوٹرے ڈیم کیتھیڈرل میں آگ15 اپریل 2019ء کو فرانس کے دارالحکومت پیرس میں واقع تاریخی گرجا گھر نوٹرے ڈیم کیتھیڈرل میں اچانک خوفناک آگ بھڑک اٹھی جس نے اس عظیم الشان عمارت کو شدید نقصان پہنچایا۔ یہ کیتھیڈرل 12ویں صدی میں تعمیر ہوا تھا اور یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل تھا۔آگ کے باعث عمارت کی چھت اور مینار گر کر تباہ ہو گئے تاہم فائر فائٹرز کی بروقت کارروائی سے مرکزی ڈھانچہ اور کئی قیمتی نوادرات محفوظ رہے۔ فرانسیسی حکومت نے فوری طور پر اس کی بحالی کا اعلان کیا اور دنیا بھر سے اس کے لیے اربوں یورو کے عطیات موصول ہوئے۔

ورلڈ کوانٹم ڈے: نئی سائنسی دنیا کی جھلک

ورلڈ کوانٹم ڈے: نئی سائنسی دنیا کی جھلک

ہر سال 14 اپریل کو دنیا بھر میں ورلڈ کوانٹم ڈے منایا جاتا ہے۔ اس دن کا انتخاب بھی سائنسی بنیاد پر کیا گیا ہے کیونکہ 4/14 (اپریل کی 14 تاریخ) دراصل مشہور طبیعیاتی پلانک کانسٹنٹ (Planck constant) کی علامتی نمائندگی کرتا ہے، جو کوانٹم فزکس کی بنیاد ہے۔ اس دن کا مقصد عوام میں کوانٹم سائنس کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا اور اس کے حیرت انگیز امکانات کو اجاگر کرنا ہے۔سادہ الفاظ میں کوانٹم سائنس مادے اور توانائی کے نہایت چھوٹے ذرات یعنی ایٹم اور ان سے بھی چھوٹے ذرات (جیسے الیکٹران، فوٹون وغیرہ) کے رویے کا مطالعہ ہے۔ ہماری روزمرہ زندگی میں جو قوانین کام کرتے ہیں جیسے کششِ ثقل یا حرکت کے اصول، وہ بڑی اشیاکے لیے درست ہیں مگر جب ہم انتہائی چھوٹے پیمانے پر جاتے ہیں تو وہاں فطرت کے قوانین بدل جاتے ہیں۔ یہی عجیب و غریب دنیا ''کوانٹم ورلڈ‘‘ کہلاتی ہے۔کوانٹم سائنس میں کئی ایسے تصورات ہیں جو عام عقل کے خلاف محسوس ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر سپرپوزیشن، جس کے مطابق ایک ذرہ بیک وقت ایک سے زیادہ حالتوں میں موجود ہو سکتا ہے، یعنی ایک الیکٹران ایک ہی وقت میں دو مختلف جگہوں پر ہو سکتا ہے، جب تک کہ ہم اس کا مشاہدہ نہ کریں۔اس طرح اینٹینگلمنٹ (Entanglement) بھی ایک حیران کن مظہر ہے جس میں دو ذرات آپس میں اس طرح جڑ جاتے ہیں کہ ایک ذرہ پر ہونے والی تبدیلی فوری طور پر دوسرے پر اثر انداز ہوتی ہے چاہے وہ کتنی ہی دور کیوں نہ ہو۔ اسے آئن سٹائن نےSpooky action at a distance کہا تھا۔اس طرح کوانٹم ٹنلنگ (Quantum Tunneling) کے تحت ذرات بعض اوقات ایسی رکاوٹوں کو عبور کر لیتے ہیں جنہیں کلاسیکی فزکس کے مطابق عبور کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ یہی اصول کئی جدید الیکٹرانک آلات میں استعمال ہوتا ہے۔کوانٹم سائنس کی اہمیتکوانٹم سائنس صرف نظریاتی نہیں بلکہ عملی دنیا میں بھی انتہائی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ درحقیقت ہماری جدید ٹیکنالوجی کی بنیاد ہی کوانٹم فزکس پر ہے۔آج کے کمپیوٹرز، موبائل فونز اور دیگر ڈیجیٹل آلات سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی پر مبنی ہیں جو کوانٹم اصولوں کے بغیر ممکن نہیں تھی۔لیزر ٹیکنالوجی جو سرجری، انٹرنیٹ کمیونیکیشن اور صنعتی کاموں میں استعمال ہوتی ہے، کوانٹم میکینکس کی دین ہے۔کوانٹم کمپیوٹنگ بھی ایک ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی ہے جو روایتی کمپیوٹرز سے کہیں زیادہ طاقتور ہو سکتی ہے۔ کوانٹم کمپیوٹرز پیچیدہ مسائل جیسے موسمیاتی تبدیلی، دواؤں کی دریافت اور مصنوعی ذہانت کے میدان میں انقلاب لا سکتے ہیں۔کوانٹم کمیونیکیشن اور سکیورٹیکوانٹم سائنس کا ایک اور اہم پہلو کوانٹم کمیونیکیشن ہے۔ اس میں معلومات کو اس انداز میں منتقل کیا جاتا ہے کہ اسے ہیک کرنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔ اس کی بنیاد کوانٹم اینٹینگلمنٹ اور دیگر اصولوں پر ہے۔ مستقبل میں یہ ٹیکنالوجی بینکنگ، دفاع اور ڈیٹا سکیورٹی کے نظام کو مزید محفوظ بنا سکتی ہے۔ورلڈ کوانٹم ڈے کی اہمیتاس دن کو منانے کا مقصد صرف سائنسدانوں تک محدود نہیں بلکہ عام لوگوں، طلبہ اور نوجوانوں کو اس میدان کی طرف راغب کرنا ہے۔ دنیا بھر میں اس دن سیمینارز، ورکشاپس اور تعلیمی پروگرامز منعقد کیے جاتے ہیں تاکہ کوانٹم سائنس کو عام فہم انداز میں سمجھایا جا سکے۔یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ سائنس کی دنیا میں ابھی بہت کچھ دریافت ہونا باقی ہے۔ کوانٹم سائنس نہ صرف ہمارے موجودہ علم کو چیلنج کرتی ہے بلکہ مستقبل کی ٹیکنالوجی کے دروازے بھی کھولتی ہے۔ کوانٹم سائنس بظاہر پیچیدہ ضرور ہے مگر اس کے اثرات ہماری روزمرہ زندگی میں واضح ہیں۔ ورلڈ کوانٹم ڈے ہمیں اس بات کا موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم اس حیرت انگیز دنیا کو سمجھیں اور اس کے امکانات پر غور کریں۔ آنے والے برسوں میں کوانٹم ٹیکنالوجی انسانیت کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی اور شاید وہ دن دور نہیں جب ہم ایسی ایجادات دیکھیں گے جو آج ہمیں صرف سائنس فکشن لگتی ہیں۔یوں کہا جا سکتا ہے کہ کوانٹم سائنس دراصل مستقبل کی سائنس ہے ایک ایسی دنیا جہاں ناممکن ممکن بن جاتا ہے۔ہمارے ملک میں بھی کوانٹم سائنس کے میدان میں تحقیق ہو رہی ہے، اگرچہ یہ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے۔ مختلف جامعات اور تحقیقی ادارے اس شعبے میں کام کر رہے ہیں۔ اگر حکومتی سطح پر مزید توجہ دی جائے تو پاکستان بھی اس جدید سائنسی دوڑ میں اپنا مقام بنا سکتا ہے۔

زمین کی گنجائش سے زیادہ آبادی؟

زمین کی گنجائش سے زیادہ آبادی؟

ایک نئی تحقیق کے تناظر میں عالمی حقیقتدنیا کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اس وقت یہ تعداد آٹھ ارب سے تجاوز کر چکی ہے۔ بظاہر یہ انسانی ترقی، طبی سہولیات اور زرعی پیداوار میں اضافے کی کامیابیوں کی علامت ہے مگر ایک نئی سائنسی تحقیق نے اس کامیابی کے پس منظر میں ایک تشویشناک سوال کھڑا کر دیا ہے: کیا زمین اتنی بڑی انسانی آبادی کو طویل عرصے تک سنبھالنے کی صلاحیت رکھتی ہے؟اس تحقیق کے مطابق انسانیت ممکنہ طور پر زمین کی Carrying capacityسے آگے نکل چکی ہے۔ اس اصطلاح سے مراد وہ حد ہے جس تک کوئی ماحولیاتی نظام اپنے وسائل کو برقرار رکھتے ہوئے جانداروں کو سہارا دے سکتا ہے۔ تحقیق میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ اگر انسانی آبادی کو پائیدار انداز میں، بہتر معیارِ زندگی کے ساتھ برقرار رکھنا ہو تو زمین کے لیے موزوں آبادی تقریباً ڈھائی ارب کے قریب ہونی چاہیے۔ اس کے برعکس موجودہ آبادی اس حد سے کہیں زیادہ ہے۔یہ دعویٰ بظاہر چونکا دینے والا ہے لیکن اس کے پس منظر میں موجود دلائل پر غور کرنا ضروری ہے۔ تحقیق کے مطابق ہم آج جس بڑی آبادی کو سنبھالنے میں کامیاب نظر آتے ہیں وہ درحقیقت قدرتی وسائل کے غیر متوازن استعمال کی بدولت ممکن ہوا ہے۔ خاص طور پر فوسل فیولز (تیل، گیس اور کوئلہ) پر انحصار، جدید زرعی طریقے اور صنعتی پیداوار نے وقتی طور پر وسائل میں اضافہ کیا مگر یہ سب پائیدار نہیں۔ زمین کے وسائل محدود ہیں اور ان کا بے دریغ استعمال مستقبل میں سنگین مسائل کو جنم دے سکتا ہے۔ عالمی آبادی میں اضافہ رکنے کے بجائے آئندہ دہائیوں میں مزید بڑھنے کا امکان ہے۔ اندازوں کے مطابق یہ تعداد 2060ء یا 2070ء کی دہائی تک 11 سے 12 ارب کے درمیان پہنچ سکتی ہے۔ اس صورتحال میں خوراک، پانی، توانائی اور رہائش جیسے بنیادی وسائل پر دباؤ کئی گنا بڑھ جائے گا۔تاہم اس بحث کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ گنجائش کوئی جامد یا قطعی عدد نہیں۔ انسان دیگر جانداروں کی طرح محض قدرتی حدود کا پابند نہیں بلکہ اپنی ٹیکنالوجی، معاشی نظام اور طرزِ زندگی کے ذریعے ان حدود کو بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مثال کے طور پر گرین انرجی کے ذرائع، پانی کے بہتر استعمال اور زرعی جدت کے ذریعے وسائل کی کارکردگی میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ اسی لیے بعض ماہرین اس بات سے اتفاق نہیں کرتے کہ زمین صرف ایک مخصوص تعداد تک ہی انسانوں کو سہارا دے سکتی ہے۔یہاں ایک اور اہم نکتہ بھی قابلِ غور ہے اور وہ یہ کہ مسئلہ صرف آبادی کی تعداد نہیں بلکہ وسائل کے استعمال کا انداز بھی ہے۔ دنیا کے امیر ممالک میں فی کس وسائل کا استعمال غریب ممالک کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے۔ اگر پوری دنیا اسی طرزِ زندگی کو اختیار کرے تو زمین پر دباؤ کہیں زیادہ بڑھ جائے گا۔ اس کے برعکس اگر وسائل کو منصفانہ اور محتاط انداز میں استعمال کیا جائے تو زیادہ آبادی کے باوجود بھی نظام کو متوازن رکھا جا سکتا ہے۔ماہرین ماحولیات کے مطابق انسانیت پہلے ہی ماحولیاتی حد سے تجاوز (Ecological overshoot) کی کیفیت میں داخل ہو چکی ہے جہاں ہم زمین کی سالانہ پیداوار سے زیادہ وسائل استعمال کر رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم مستقبل کے وسائل کو آج ہی خرچ کر رہے ہیں، جو آنے والی نسلوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔اس تناظر میں نئی تحقیق ہمیں ایک انتباہ دیتی ہے کہ اگر موجودہ رجحانات برقرار رہے تو زمین پر زندگی کے لیے حالات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی، پانی کی قلت، جنگلات کی کٹائی اور حیاتیاتی تنوع میں کمی جیسے مسائل اسی غیر متوازن نظام کا نتیجہ ہیں۔تاہم اس صورتحال کا حل صرف آبادی میں کمی نہیں بلکہ ایک جامع حکمتِ عملی ہے۔ اس میں پائیدار ترقی، قابلِ تجدید توانائی کا فروغ، وسائل کا محتاط استعمال اور عالمی سطح پر مساوی تقسیم شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ تعلیم اور شعور بیدار کرنا بھی انتہائی اہم ہے تاکہ لوگ اپنی روزمرہ زندگی میں ماحول دوست رویے اختیار کر سکیں۔ انسانیت ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ ہم نے اپنی ذہانت اور ٹیکنالوجی کے ذریعے بے مثال ترقی حاصل کی ہے، مگر اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی حدود کو پہچانیں۔ زمین ہمارے لیے ایک واحد گھر ہے اور اس کی حفاظت ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اگر ہم نے آج دانشمندی کا مظاہرہ نہ کیا تو آنے والی نسلوں کو اس کی بھاری قیمت چکانی پڑ سکتی ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

ٹائی ٹینک کا حادثہ14 اپریل 1912ء کی رات برطانوی بحری جہازٹائی ٹینک شمالی بحرِ اوقیانوس میں ایک برفانی تودے سے ٹکرا گیا۔ یہ جہاز اپنے پہلے ہی سفر پر ساؤتھمپٹن سے نیویارک جا رہا تھا۔14 اپریل کی رات جہاز ایک بڑے آئس برگ سے ٹکرا گیا۔ اگرچہ ٹکر معمولی محسوس ہوئی مگر اس نے جہاز کے نچلے حصے میں شگاف ڈال دیا جس سے پانی تیزی سے اندر داخل ہونے لگا۔ اس حادثے میں تقریباً 1500 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ ابراہم لنکن پر قاتلانہ حملہ14 اپریل 1865 کو امریکی صدر ابراہم لنکن کو واشنگٹن ڈی سی میں واقع فورڈ تھیٹر میں گولی مار دی گئی۔ لنکن امریکہ کے 16ویں صدر تھے اور انہوں نے امریکی خانہ جنگی کے دوران اتحاد کو برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔یہ حملہ جان ولکس بوتھ نامی ایک اداکار نے کیا جو جنوبی ریاستوں کا حامی تھا اور لنکن کی پالیسیوں سے اختلاف رکھتا تھا۔ لنکن اپنی اہلیہ کے ساتھ ایک ڈرامہ دیکھ رہے تھے جب بوتھ نے پیچھے سے آ کر ان کے سر میں گولی ماری۔ سپیس شٹل کولمبیا کی واپسی14 اپریل 1981ء کو کولمبیا سپیس شٹل نے اپنا پہلا کامیاب مشن مکمل کرتے ہوئے زمین پر واپسی کی۔ یہ مشن ناسا کے سپیس شٹل پروگرام کا آغاز تھا جس نے خلائی تحقیق میں ایک نئے دور کا آغاز کیا۔یہ مشن 12 اپریل کو لانچ کیا گیا تھا اور اس میں دو خلا باز شامل تھے۔ کولمبیا پہلا ایسا خلائی جہاز تھا جو دوبارہ استعمال کے قابل تھا، جس نے خلائی سفر کو زیادہ مؤثر اور کم خرچ بنانے میں مدد دی۔14 اپریل کو اس کی کامیاب لینڈنگ نے یہ ثابت کیا کہ سپیس شٹل پروگرام عملی طور پر کامیاب ہو سکتا ہے۔ اس کامیابی نے بعد میں ہونے والے درجنوں خلائی مشنز کی راہ ہموار کیانسانی جینوم منصوبہ14 اپریل 2003ء کو سائنس کی دنیا میں ایک تاریخی سنگِ میل عبور کیا گیا جب ہیومن جینوم پراجیکٹ کی کامیاب تکمیل کا باضابطہ اعلان کیا گیا۔ یہ منصوبہ 1990 ء میں شروع ہوا تھا اور اس کا مقصد انسانی ڈی این اے کے مکمل نقشے کو سمجھنا تھا۔ ہیومن جینوم پروجیکٹ کی تکمیل نے طب، حیاتیات اور جینیاتی تحقیق میں انقلاب برپا کر دیا۔ اس کے ذریعے سائنسدانوں کو یہ سمجھنے میں مدد ملی کہ انسانی جسم میں موجود جینز کیسے کام کرتے ہیں اور مختلف بیماریوں جیسے کینسر، ذیابیطس اور موروثی امراض کی وجوہات کیا ہیں۔اس کامیابی کے بعد بائیوٹیکنالوجی کے میدان میں تیزی سے ترقی ہوئی۔وبیسٹر ڈکشنری14اپریل 1828ء کو امریکی ماہرِ لسانیات نوح وبیسٹر نے اپنی مشہور ڈکشنری کا پہلا ایڈیشن شائع کیا جو امریکی انگریزی زبان کی تاریخ میں ایک سنگِ میل ثابت ہوا۔ویبسٹر کا مقصد ایک لغت مرتب کرنا ہی نہیں تھا بلکہ وہ امریکی انگریزی کو برطانوی اثر سے الگ ایک خودمختار شناخت دینا چاہتے تھے۔ اسی لیے انہوں نے کئی الفاظ کے سپیلنگ میں تبدیلیاں متعارف کروائیں۔یہ ڈکشنری نہ صرف زبان کے معیار کو متعین کرنے میں مددگار ثابت ہوئی بلکہ اس نے امریکی ثقافت اور تعلیمی نظام پر بھی گہرا اثر ڈالا۔ آج بھی ویبسٹر کا نام لغات کے حوالے سے ایک مستند حوالہ سمجھا جاتا ہے۔