نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- وفاقی وزیرعلی زیدی نےآئین کےآرٹیکل 140اےکاحصہ ٹویٹ کردیا
  • بریکنگ :- زرداری مافیاکابلدیاتی بل آئین کی روح کےبرعکس ہے،علی زیدی
  • بریکنگ :- مافیانے 14 سال سندھ میں لوٹ مارکےسواکچھ نہیں کیا،علی زیدی
  • بریکنگ :- جماعت اسلامی کوزرداری مافیانےدھوکادیاہے،وفاقی وزیرعلی زیدی
  • بریکنگ :- یہی وعدےوزیراعلیٰ نےٹرانسفارمیشن پلان کی میٹنگزمیں کیےتھے،علی زیدی
  • بریکنگ :- انہوں نےوعدےپرعمل کرنےکےبجائےکالاقانون متعارف کرادیا،علی زیدی
  • بریکنگ :- 27فروری کوہرصورت گھوٹکی سےکراچی مارچ کریں گے،علی زیدی
Coronavirus Updates
"ABA" (space) message & send to 7575

بوڑھا، جہاز اور چودھری کی چادر

فارسی زبان کے ایک محاورے میں کہتے ہیں، شنیدہ کے بود مانند دیدہ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سنا ہوا واقعہ یا سنی سنائی بات براہ راست آنکھوں سے دیکھے ہوئے منظر کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ عین اسی طرح سے بولا ہوا لفظ اور لکھا ہوا حرف ان دونوں کا بھی کوئی مقابلہ نہیں ہو سکتا۔ بولنا براہ راست زبان کھول کر ممکن ہے لیکن لکھنے کے لیے کبھی دل کا دروازہ، کبھی آنکھ کی کھڑکی کھول کر قلم پکڑنا پڑتا ہے۔ لکھنے والا شعر کہے، نظم لکھے یا نثر کی ناز برداریاں کرے، کبھی نہ کبھی اُس کا قلم سخت سردیوں کی ٹھٹھرتی ہوئی شاموں میں اداس ہو جاتا ہے۔
آئیے! دسمبر 2021ء کی مارگلہ ہلز کے دامن میں ٹھٹھرتی ہوئی شام سے نکل کر چودھری کے ڈیرے پر چلتے ہیں۔ سنا ہے وہاں چودھری کی سفید گھوڑی چوری ہو گئی ہے اور آج چور پکڑنے کے لیے بڑا کھوجی آیا ہوا ہے۔ پگڑی کا صافہ سر کے بجائے گلے میں لٹکائے، تائو والی مونچھیں نیچی کئے، چودھری حویلی کے ایک کو نے میں لگے برگد کے پرانے درخت کی طرف آ رہا ہے جہاں گائوں کے چار سرپنچ اس گھوڑی کا چور پکڑنے اور چوری کا مال برآمد کرنے کے لیے جمع ہیں۔ چودھری نے اپنے دونوں ہاتھوں میں بڑے ادب سے دادا کے زمانے کی چادر تھامی ہوئی ہے۔ گائوں میں مشہور ہے کہ اگر کوئی چور اس چادر کے نیچے سے گزرے تو اس کی چوری لازماً پکڑی جاتی ہے۔ تھوڑی دیر بعد چاروں معززین علاقہ نے چادر کے چاروں کونے پکڑ لیے اور اس کے نیچے ایک ایک کر کے سارے گائوں والوں کو گزرنے کا حکم دیا۔ لوگ چودھری کے دادا کی جادو اثر چور پکڑنے والی چادر کے نیچے سے گزرتے گئے مگر نہ جانے کیوں آج چادر خاموش تھی اس لیے چودھری کی حویلی میں چوری کرنے والے چور نہ پکڑے جا سکے۔ آخر ایسی ان ہونی آج کیوں ہوئی کہ وہ چادر جو تین نسلوں سے بڑے کھوجی کو چور پکڑوا دیتی تھی آج ایسا نہ کر سکی؟
اس سوال کا جواب اگر آپ جانتے ہیں تو اچھی بات ہے اور اگر آپ کو جواب کا نہیں پتہ تو پھر تھوڑا صبر کر لینے میں کوئی حرج نہیں۔ اتنی دیر میں نیشنل کرپشن پرسیپشن سروے کی طرف چلتے ہیں‘ جو اسی ہفتے جاری ہوا‘ جس کا مطلب یہ ہے کہ عزیز ہم وطنوں کے خیال میں قومی زندگی کے کس ادارے میں کرپشن کا زیادہ تاثر پایا جاتا ہے۔ پرائیویٹ سیکٹر کے اس سروے کا کہنا ہے کہ سرکاری سیکٹر میں کرپشن پرائیویٹ سیکٹر کی نسبت زیادہ ہے۔ جن شہریوں کی رائے کے Samples لیے گئے ان میں سے 41.4 فیصد نے پولیس ڈیپارٹمنٹ میں سب سے زیادہ کرپشن کا الزام لگایا۔ دوسرے نمبر پر نظام انصاف کی باری آئی، جس پہ 17.4 فیصد لوگوں نے کرپشن پرسیپشن کی رائے دی۔ دوسری جانب ٹرانسپیرنسی کے جاری کردہ اسی سروے کا کہنا ہے کہ این جے پالیسی میکنگ کمیٹی کے جوڈیشل سٹیٹسٹکس آف پاکستان برائے سال 2020ء کی رپورٹ کہتی ہے کہ ملک کی سپریم کورٹ میں 46698 مقدمات پینڈنگ ہیں۔ اسی سال کی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پاکستان کی ڈسٹرکٹ جوڈیشری کی عدالتوں میں 1772992 کیسز فیصلہ کیے جانے کے منتظر ہیں۔ یہ بھی ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ ان مقدمات میں ہر روز سینکڑوں کی تعداد میں نئے مقدمے دائر ہونے کی شکل میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ 2021ء کے این سی پی ایس سروے نے کچھ مزید انکشافات بھی کیے ہیں۔ مثال کے طور پر:
فرسٹ سیکٹر آف کرپشن: ملک کے طول و عرض میں بننے والی سڑکوں کے جو ٹھیکے دیئے جاتے ہیں‘ اُن کے بارے میں 59.8 فیصد لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ کرپشن کا بہت بڑا ذریعہ ہیں۔ شاید اسی لیے قومی احتساب بیورو، صوبائی اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ اور ایف آئی اے سمیت ہر جگہ بڑے بڑے با اختیار عہدے دار سڑکوں کے ٹھیکوں کے ذریعے بڑے بڑے کِک بیکس اور کرپشن کے مقدمات میں نامزد ملزم ہیں۔ کچھ کو سزا ہو چکی ہے کچھ دوسرے ممالک بھاگے ہوئے ہیں اور جو باقی رہ گئے ہیں وہ اپنے خلاف مقدمات کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
سیکنڈ سیکٹر آف کرپشن: یہ ایک حیران کن سیکٹر ہے لیکن اس کی کرپشن کے ثبوت کراچی میں کچرا کنڈی، گجر نالہ جبکہ ملک کے باقی ہر چھوٹے بڑے شہر میں اُبلتے ہوئے گٹر، ٹوٹی ہوئی سیوریج لائنیں، گندگی اور اس پر پلنے والے آوارہ کتوں کے جتھوں کی شکل میں موجود ہیں۔ یہ سیکٹر صفائی اور گاربیج اُٹھانے کا ذمہ دار ہے۔ 13.8 فیصد لوگ کہتے ہیں کہ اس سیکٹر میں کرپشن کی وجہ سے شہر گندگی کے ڈھیر میں تبدیل ہو رہے ہیں۔
تھرڈ سیکٹر آف کرپشن: یہ وہ سیکٹر ہے جسے ''لائف‘‘ بھی کہتے ہیں اور پانی تک رسائی کا وسیلہ بھی۔ اس سیکٹر میں کرپشن پرسیپشن کے بہت بڑے ثبوت شور مچاتے سڑکوں، گلیوں، محلوں میں دوڑتے نظر آتے ہیں۔ آپ اسے جن ناموں سے پہچانتے ہیں ان میں پانی کا ٹینکر مافیا، غیر قانونی ہائیڈرنٹ پمپ سٹیشن، آب رسانی کی سرکاری لائنوں کو توڑ کر پانی چوری کر کے بیچنے والا مافیا زیادہ مشہور ہے‘ لیکن اس کے بڑے مجرم ان سرکاری اداروں میں بیٹھتے ہیں جو اس سیکٹر کی کرپشن کے تنخواہ دار سہولت کار ہیں۔ یہ رائے این سی پی ایس 2021 کے 13.3 فیصد لوگوں نے دی ہے۔
فورتھ سیکٹر آف کرپشن: یہ سیکٹر شہر، قصبے، ٹائون، انڈسٹریل اسٹیٹ، کمرشل سینٹرز سے ہوتا ہوا دیہات تک پھیل چکا ہے۔ اس میں نکاسیٔ آب اور پبلک سروسز کی ایسی لمبی لسٹ شامل ہے جن تک رسائی کے لیے لوگوں کو کھلے عام اہل کاروں کی مٹھیاں گرم کرنا پڑتی ہیں۔ تازہ سروے میں 13.1 فیصد لوگوں نے اس بارے میں کھل کر بات کی۔
پاکستانیوں کی آبادی کے ایک بڑے حصے نے کووڈ 19 کی ہینڈلنگ کے دوران ریلیف کی کوششوں کو ٹرانسپیرنٹ قرار دیا۔ موجودہ سروے میں 89.1 فیصد پاکستانیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے مستحق شہریوں کیلئے حکومت کی کیش ٹرانسفر اور دوسری سکیموں کے دوران کسی سرکاری اہلکار کو رشوت کی کوئی رقم نہیں دی۔ آج کا سماج راج نیتی کے سفر پر کسی منزل کی طرف نظام کو دھکیل لے جانے میں مدد گار بن رہا ہے۔ اس بارے میں قومی آبادی کے قابل ذکر حصے یعنی 89.4 فیصد لوگوں نے یہ تاثر دیا کہ عوامی خدمات کی فراہمی میں تاخیر ہو یا سستی ہو تو پھر وہ رشوت دے کر کام کروا لیتے ہیں۔
چودھری کی چادر کے نیچے سے گزرنے والے چور کیوں نہ پکڑے جا سکے؟ اس طرف آتے آتے دھیان جائنٹ بحری جہاز کی طرف چلا گیا جو ہچکولے کھاتے کھاتے چمنی سے پھک پھک کرتا دھواں نکال رہا تھا۔ اچانک چمنی بند ہو گئی، دھواں رکا اور جہاز بھی کنارے آ لگا۔ (جاری)

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں