نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- ترمیمی بل شوکت ترین نےایوان میں پیش کیا
  • بریکنگ :- حکومت ایک ووٹ سےبل منظورکرانےمیں کامیاب
  • بریکنگ :- حکومتی بنچزنے43،اپوزیشن نے42 ووٹ حاصل کیے
  • بریکنگ :- چیئرمین سینیٹ نےبھی بل کےحق میں ووٹ دیا
  • بریکنگ :- سینیٹردلاورخان گروپ کابھی بل کےحق میں ووٹ
  • بریکنگ :- سینیٹ میں اپوزیشن لیڈریوسف رضاگیلانی غیرحاضر
  • بریکنگ :- مسلم لیگ(ن)کے4 سینیٹرزاجلاس میں شریک نہیں تھے
  • بریکنگ :- مشاہدحسین علالت کےباعث اجلاس میں شریک نہیں ہوئے
  • بریکنگ :- سینیٹرنزہت صادق کی کینیڈاموجودگی کےباعث عدم شرکت
  • بریکنگ :- اےاین پی کےعمرفاروق بھی اٹھ کرچلےگئے
  • بریکنگ :- سینیٹرہلال الرحمان کوروناکےباعث شریک نہ ہوسکے
  • بریکنگ :- بی این پی مینگل کے2 سینیٹرزبھی ایوان سےغیرحاضرتھے
  • بریکنگ :- اسلام آباد:سینیٹ کااجلاس پیرتک ملتوی
  • بریکنگ :- سینیٹ اجلاس،اسٹیٹ بینک ترمیمی بل منظور
  • بریکنگ :- فاٹاسےسینیٹرہدایت اللہ بھی ایوان سےغیرحاضررہے
Coronavirus Updates

گریباں چاک

انسانی رویوں کی داستانیں تاریخ کے اوراق میں درج ہیں مگر افسوس کہ ہم تاریخ سے سبق نہیں سیکھتے۔ اگرانسانی تاریخ کا عمیق جائزہ لیا جائے تو انسان نے دنیا کو علم و فنون ، ادب، انجینئرنگ، طِب، معاشرت، معیشت، سیاست، تہذیب و تمدن کاایسا متنوع ورثہ عطا کیا کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں قوموں نے مختلف علم و فنون کی طرح ڈالی، جدید و قدیم کے امتزاج سے معاشرہ اور معاشرتی ادارے متعارف ہوئے۔ بنی نوع انسان نے آئین و قوانین بنا کر مہذب معاشروں کی بنیاد رکھی۔ یہ ہمارے اسلاف ہی تھے جنہوں نے جدید علوم متعارف کرائے۔ سقوطِ قرطبہ کے بعد دنیا دو حصوں میں تقسیم ہو گئی ، علومِ مشرق اور علومِ مغرب۔ الفارابی اور بو علی سینا سائنس، طبیعات ، کیمیا اور علمِ ریاضی و فلسفہ کے علمبردار بنے اور انہوں نے سائنس اور ٹیکنالوجی کو اولین ترجیح بنایا۔ تحقیقاتی کتب کا خزانہ سپین کی لائبریری سے سمیٹ لیا گیا اور مشرقی علوم و فنون میں امام غزالی اور ابن خلدون کے نظریات کو اپنی زندگیوں میں قابلِ تقلید بنا لیا گیا۔ دنیا ارتقا کے راستے پر گامزن رہی، معاشی اور اقتصادی نظام وجود میں آیا۔ انسان نے بھوک، بیماری، موسموں کی شدت اور باہمی اختلافات یہاں تک کہ عالمی جنگیں اور ایٹمی حملے تک سہے۔ ادوارِ زمانہ میں خوشی اور غم کا ایک حسین امتزاج رہا۔ آپسی تعلقات کی نوعیت بھی اسی طرح متاثر ہو تی رہی۔ ہم تاریخ کے دھارے پر سفر کرتے ہوئے موجودہ انتہائی ترقی یافتہ دور میں آن پہنچے ہیں جہاں سائنسی ایجادات اور دریافتیں بامِ عروج پر ہیں۔ ذرائع رسائل وابلاغ ترقی کی انتہا کو چھو رہے ہیں اور دنیا سمٹ کر موبائل فون کی چِپ میں آگئی ہے مگر یہ شاید انسان کی سرشت میں ہے کہ وہ حسد و رقابت جیسے منفی رجحان اور اثرات کو قابو کرنے میں اکثر توازن کھو دیتا ہے۔ جب معاشرہ اپنا توازن برقرار نہیں رکھ پاتا تو بے شمار مسائل میں گھِر جاتا ہے۔ ان مسائل میں بڑا مسئلہ علم و فہم کا فقدان اور صبر و تحمل جیسے اعلیٰ و ارفع اوصاف کاحامل نہ ہونا ہے۔ بدقسمتی سے عدم برداشت وہ زہرِ قاتل ہے جس نے پاکستانی معاشرے کی بنیادیں کھوکھلی کر دی ہیں۔ سوچ و فکر، نظریاتی اختلافات، فکری مباحثہ، دوسرے کی رائے کا احترام، مذہبی رواداری اور جہالت کے سبب پاکستان کے شہری اپنی معاشرتی زندگی میں عدم تحفظ اور انحطاط کا شکار ہو رہے ہیں۔
یہ ایک خوفناک رویہ ہے جو ہر جگہ موجود ہے۔ اہم بات یہ ہے‘ اسے تبدیل کیسے کیا جائے، اس کی شدت میں کمی کیسے لائی جائے، انتہا پسندانہ سوچ کو کس طرح اعتدال پسندی کی جانب موڑا جائے؟ جتنی بھی جسمانی بیماریاں ہیں ان کی علامات اور مختلف تحقیقاتی مراحل سے گزار کر تشخیص کی جاتی ہے مگر روحانی اور نفسیاتی مسائل معاشرتی رویوں اور گھریلو ماحول کے سبب جنم لیتے ہیں۔ پہلی چیز موروثیت ہے، پھر ماحول اور نا ہموار رویے، معاشرتی وطبقاتی کشمکش، غیر منصفانہ برتائو، اقتصادیات، تربیت کا فقدان ، خوف ، بھوک ، معاشی عدم مساوات اور دیگر بے شمار نامساعد حالات۔ بچہ ماں باپ سے سیکھتا ہے یا خاندان سے۔ اگر گھر میں اونچی آواز سے بات کرنے کا چلن ہو اور آداب کو ملحوظِ خاطر نہ رکھا جاتا ہو تو وہی بچہ جب معاشرے میں نکلے گا تو چیخ کر بات کرے گا کیونکہ اس نے ایسا ہی دیکھا اور یہی سیکھا ہے۔ سقراط کی درسگاہ کا پہلا اصول ہی برداشت تھا۔ ایک خاص حد تک آواز کو بلند کرنے کو برداشت کیا جا سکتا ہے مگر ہاتھ اور بات میں فرق کرنا ضروری ہے۔ اگر ماضی قریب میں وقوع پذیر ہونے والے واقعات کو ذہن میں لایا جائے تو موٹروے سانحے میں ملوث پسماندہ ذہن اور جہالت کے اندھیرے میں ڈوبے ہوئے سفاک درندے، مینارِ پاکستان والے واقعے میں‘ مشہور ہونے کی کوشش میں مصروف عقل و دانش سے عاری ٹک ٹاکر، کبھی مندر گرانے کی کوشش ، کہیں مسجد اور گوردوارے میں نامناسب فوٹوگرافی اور اب سیالکوٹ کا اندوہناک واقعہ‘ یہ ہمارے معاشرے کی چند قابلِ نفرت مثالیں ہیں جو اجتماعی معاشرتی کردار کو مسخ کرنے کا سبب بنی ہیں۔ اب بھی وقت ہے کہ سوچ کا دھارا تبدیل کرنے کا فکری عمل شروع کیا جائے اور بوسیدہ تعلیمی نظام کو بہتر بنیادوں پر استوار کرنے کیلئے عملی اقدامات کیے جائیں جو فہم و فراست ، فکراور مقصدِ حیات کو سمجھنے اور سیکھنے میں مددگار ہوں۔ یہ کوئی مشکل عمل نہیں۔ مذہبی رواداری اور اس کی عملی مثالیں بکثرت موجود ہیں۔
شیخ سعدی بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو بکر شبلی رحمۃ اللہ علیہ غلہ فروش کی دکان سے غلہ خرید کر لائے۔ گھر آکر دیکھا کہ ایک چیونٹی بھی ساتھ آگئی ہے۔ آپ کا دل بے قرار ہو گیا کہ میری وجہ سے یہ چیونٹی بے گھر ہو گئی ہے چنانچہ وہ چیونٹی کو پکڑ کر دکان پر چھوڑ آئے۔ مخلوقِ خدا کو تکلیف پہنچانا ، اذیت سے دوچار کرنا، کسی بھی مذہب اور معاشرے میں روا نہیں۔ اشفاق احمد فرماتے ہیں کہ عظیم ہیں وہ لوگ جو زندگی کے مشکل ترین لمحات میں کڑواہٹ کا مزہ چکھنے کے باوجود بھی خود کڑوے نہیں ہوتے۔ زندگی انہی لوگوں کی وجہ سے خوبصورت لگتی ہے۔ امریکا کے شہر بوسٹن کے مرکزی علاقے میں کثیر الچرچ آف سینٹ پال ہے۔ اس کی وجۂ شہرت اس کی تاریخ نہیں بلکہ وہ رشتہ ہے جو پچھلے بیس سالوں سے یہاں کے لوگوں نے آپس میں بنا رکھا ہے۔ یہاں کی مقامی یونیورسٹیوں کی مسلمان کمیونٹی کو باجماعت نماز کے لیے کوشش کے باوجود جگہ نہ مل سکی تو چرچ کے منتظمین سے رابطہ کیا گیا۔ انہوں نے بخوشی اس مطالبے کو مان لیا۔ خاص بات یہ کہ اس چرچ میں عبادت کیلئے بینچ فکس نہیں ہیں جیسے دیگر گرجا گھروں میں نصب ہوتے ہیں۔ مسلمان جب نماز کیلئے آئیں تو صفیں بچھا لیتے ہیں اور عیسائی جب آتے ہیں تو اپنی کرسیاں لگا کر عبادت کرتے ہیں۔ چرچ انتظامیہ نے یہ کہہ کر اجازت دی کہ ہم اور آپ ایک ہی اللہ کی عبادت کرتے ہیں تو کیوں نا دونوں کو اجازت ہو کہ رب کی عبادت کریں۔ اسی طرح چند برس پہلے برطانیہ کے شہر برمنگھم میں کچھ نوجوانوں نے مشہور برانڈز کے آئوٹ لیٹس پر کپڑے ، جوتے اور دیگر استعمال کی اشیا لوٹ لیں۔ وہ بچے لوٹا ہوا مال جب گھروں میں لے کر گئے تو والدین نے ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے تمام اشیا کو نسل کے حوالے کر دیں۔ بات یہاں ختم نہیں ہوئی، تھنک ٹینک سوچ بچار کر تا ہے کہ ایسا کیوں ہوا۔ برطانیہ کے نظامِ تعلیم، نصاب ، اساتذہ، معاشرتی سوچ اور عمل کے ساتھ ساتھ ملٹی نیشنل کمپنیوں کو بھی زیرِ بحث لایا جاتا ہے اور قیمتوں کو نیچے لانے کی ہدایت کی جاتی ہے تا کہ یہ اشیا ہر سطح کے معاشی درجے کے لوگوں کی قوتِ خرید میں آ سکیں اور اس طرح معاشرے کو مایوسی اور معاشی محرومی کے تصورات سے بچایا جا سکے۔
لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ اپنی اپنی ذمہ داری کو سمجھا اور محسوس کیا جائے۔ مسائل ہمارے پیدا کردہ ہیں تو حل بھی ہمارے پاس موجود ہے۔ ہر فرد کو اپنے آپ کوبدلنا کو ہے‘ دوسرے کو نہیں۔ جھوٹی اَنا، جھوٹے وقار، جھوٹی عزت، مرتبہ، حرص اور کرپشن سے معاشرے کھوکھلے ہوتے ہیں‘ انتہا پسندی، دراصل خود غرضی اور بے حسی کی علامت ہے۔ ذات اور پست خیالات سے ابھر کر باہر کی دنیا سے مطابقت رکھنے کیلئے معتدل ماحول اور متوازن سماج کو پروان چڑھانے کی ضرورت ہے۔ حکومت، سیاسی جماعتیں ، ذرائع ابلاغ، سوشل میڈیا اور مذہبی اور دینی گروپس کے ساتھ ساتھ والدین ، خاندان اور بین الاقوامی سطح پر ہم آہنگی پیدا کرنے کی شدت سے ضرورت ہے۔ تعلیم کے ساتھ تربیت کا ہونا بھی لازمی ہے۔ بچوں کی تربیت میں خاندانی روایات ، رکھ رکھائو، ایثار ، قربانی، خدمت، محبت، مہمان نوازی اور مدد جیسی روایات کو دوبارہ زندہ کرنا ہوگا۔ جدت پسندی کے ساتھ تربیت اور رواداری کا بھی درس دیا جائے گا تو شدت پسندی اور عدم برداشت کے رویوں میں بتدریج کمی واقع ہوتی جائے گی۔ یہ بھی ضروری ہے کہ ہم فکرِ اقبال سے رہنمائی حاصل کریں‘ایہ شعر ہمیں خصوصی طور پر اپنا گریباں چاک کرنے پر اکساتا ہے:
فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں؟

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں