پاکستانی کنگلا پن اور اُس میں عیاشیاں یہ ایسی فنکاری ہے کہ دیکھ کر دل خوش ہو جاتا ہے۔ لیکن اس موضوع پر آنے سے پہلے ضروری ہے کہ اووَل آفس میں صدر ٹرمپ اور صدر زیلنسکی کے بارے میں کچھ کہا جائے۔ دو سربراہانِ مملکت کے درمیان ایسا مکالمہ اور وہ بھی ٹی وی کیمروں کے سامنے کبھی دیکھنے میں نہیں آیا۔ نائب صدر جے ڈی وینس نے زیلنسکی کو کچھ ہیری تو دی لیکن یوکرین کے صدر کو اپنے اوپر کچھ کنٹرول کرنا چاہیے تھا۔ اکڑ تب دکھانی چاہیے جب آپ اس پوزیشن میں ہوں۔ یوکرین کا سب سے بڑا سپورٹر امریکہ ہے اور اُس سے سرعام پنگا لینا عقل مندی کے زمرے میں نہیں آتا۔ واشنگٹن میں یوکرین کی ایمبیسڈر ایک خاتون ہیں اور جب یہ مکالمہ چل رہا تھا اُس نے اپنا سر دونوں ہاتھوں میں پکڑ لیا۔ اور پکڑتی بھی کیوں نہ کیونکہ امریکی حمایت اور امداد کے بغیر یوکرین کیلئے روس کے خلاف برسرِپیکار رہنا مشکل ہو جاتا ہے‘ لیکن زیلنسکی اپنے آپ کو کنٹرول نہ کرسکا اور اس کیلئے نہ صرف اُسے بلکہ اُس کی قوم کو شاید بھاری قیمت چکانی پڑے۔
بہت سارے لوگ بھول جاتے ہیں کہ گو یوکرین پر حملہ روس نے کیا لیکن اُس کے پیچھے کچھ عوامل تھے۔ صدر ولادیمیرپوتن کا بڑا مدعا ایک ہی تھا کہ یوکرین مغربی کیمپ میں نہ جائے اور روس کیلئے خطرہ نہ بنے۔ لیکن یوکرین کی بیشتر قیادت کو یہ بات سمجھنے میں مشکل پیش آئی اور ایک عرصے تک یوکرین ایسے اقدامات کرتا رہا جن سے روس کو فکر لاحق ہوتی رہی۔ اُس وقت کے امریکی حکام بھی یوکرین کو اکساتے رہے۔ پہلے تو ایک روس کے قریب یوکرینی صدر تھے جن کو عوامی شورشرابے کے ذریعے ہٹایا گیا اورپھر جب زیلنسکی صدر بنا تو روس کے احساسات کو بالائے طاق رکھ کر وہ یورپی بلاک کے قریب جانے کا آرزو مند رہا۔ یوکرین کا نیٹو میں جانا احمق پن کی انتہا ہے لیکن زیلنسکی ایسی باتیں کرتا رہا۔ روسی حملہ کسی خلا میں نہ ہوا بلکہ ان سب عوامل کو سامنے رکھ کر ایک لحاظ سے ولادیمیر پوتن یوکرین کے حملے پر مجبور ہوا۔ اور جب حملہ ہو گیا امریکی اور یورپی ممالک یوکرین کی امداد کو دوڑے اس خیال سے کہ روس کو ہزیمت پہنچانے کا یہ بہترین موقع ہے۔
ٹرمپ کی سوچ مختلف ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اول تو یہ جنگ ہونی نہیں چاہیے تھی اور دوم یوکرین کے معاملات امریکہ کا مسئلہ نہیں ہیں۔ اُن کی نظر میں امریکہ کو بڑا چیلنج چین سے ہے اور امریکی توانائیاں اُس چیلنج سے نمٹنے کیلئے صرف ہونی چاہئیں۔ امریکی اسٹیبلشمنٹ کو یہ بات بڑی دیر بعد سمجھ آ رہی ہے۔ بہرحال زیلنسکی کی اکڑ نے معاملات کو ایک نیا رخ دے دیا ہے۔ اب امریکی اپنا ہاتھ یوکرین سے زیادہ کھینچ لیں گے اور اس سے جو کمی پیدا ہوگی یورپ کی صلاحیت نہیں ہے کہ اُسے پورا کر سکے۔ اب دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے۔
ہم ان تمام معاملات سے دور ہیں۔ البتہ باجوہ صاحب کے جو بیش بہا اور اَن گنت کمالات ہیں اُن میں سے ایک یہ بھی تھا کہ عمران خان کے مؤقف کے برعکس انہوں نے ایک بیان داغ دیا تھا کہ روس قصوروار ہے کہ اُس نے یوکرین پر حملہ کیا ہے۔ یہی ہمارا ایک پرابلم ہے اور بہت بڑا پرابلم ہے کہ جن کا کام اصل میں کچھ اور ہوتا ہے وہ ہر بات میں ہاتھ ڈالتے رہتے ہیں۔ باجوہ صاحب کا کیا کام تھا ایسا بیان دینا لیکن بادشاہ لوگ ہیں اور ایسا کرتے رہتے ہیں۔ کبھی سوچتا ہوں کہ باجوہ ریٹائرمنٹ کے دن کیسے گزار رہا ہوگا۔ اچھا بھلا دبئی جیسے مقامات کے سیر سپاٹے کرتا تھا لیکن بیڑا غرق ہو اُس افغانی باشندے کا جس نے کسی فرانسیسی شہر میں آڑے ہاتھوں لیا۔ اُس بدتمیز نے ہمارے قومی سپوت کے ساتھ وہ کیا کہ اُس کے بعد سیروتفریح کی کوئی فوٹو عوام کو دیکھنا نصیب نہیں ہوئی۔ اسے ایک قومی بدقسمتی ہی کہا جاسکتا ہے۔
ذاتی طور پر میرا ایک حساب اب تک بقایا ہے۔ مجھ پر جو لاہور میں چڑھائی ہوئی تھی اُس کی وجہ یہ تھی کہ گریڈ انیس کے ایک افسر‘ جنہوں نے آتے ہی یہ نوید سنائی کہ اُن کی ترقی گریڈ بیس میں ہونے والی ہے‘ یہ پیغام لے کر آئے کہ باجوہ صاحب پر ہاتھ ہولا رکھا جائے۔ ہم کون سا ہتھوڑا چلا رہے تھے جو ہم سے یہ ڈیمانڈ کی گئی لیکن وقت نازک تھا کیونکہ باجوہ صاحب کی ایکسٹینشن ختم ہو رہی تھی اور وہ متمنی تھے کہ کچھ اور اُ ن کی توسیع ہو جائے۔ اپنا یہ قصور ضرور تھا کہ ایک تقریر میں کہہ بیٹھے کہ توسیع کے عمل سے اجتناب کرنا چاہیے۔ بس یہی اسلام آباد میں کہا تھا اور دوسری شام ہی لاہور میں یہ واقعہ پیش آ گیا۔ کہیں ملے تو پوچھوں گا تو سہی کہ ایسا کیوں کیا گیا۔ یا سسر صاحب کہیں مل گئے تو اُن سے پوچھوں گا کہ حضور ہمیں تو کہا گیا تھا کہ ہاتھ ہولا رکھیں اور خود اپنا ہاتھ روک نہ سکے۔ ایک دو بار سسر صاحب سے یاد اللہ ہوئی تھی اور اُن کی میزبانی کی تعریف بھی کی۔ اب دیکھتے ہیں وقت نے وفا کی تو کب ملاقات ہوتی ہے۔
بہرحال بات تو کرنا چاہتے تھے کنگلوں کی عیاشیوں کی۔ یہ جو وزیروں کی ایک کھیپ بنائی گئی ہے اس سے دل خوش ہو گیا اور ہنسی نہ رکی۔ ملکی کنگلا پن تو ایک طرف رہا لیکن داد دینی پڑتی ہے ہمارے خمیر کو کہ ہمارے تماشے نہیں رکتے۔ کون کون وزیر بنے ہیں اس بات کو جانے دیجئے لیکن اس بات پر بے حد خوشی ہوئی ہے کہ تنظیم سازی کے ماہر طلال چوہدری کو بالآخر کابینہ میں لے لیا گیاہے۔ دیرآید درست آید۔ شریف زادوں کی ایک بات ماننی پڑے گی کہ جن کو اپنا بندہ سمجھتے ہیں اُن کا خیال بھی رکھتے ہیں۔ کابینہ کی وہ تعداد ہو گئی ہے کہ اچھے بھلے جہاز میں فِٹ نہ آئیں لیکن یہاں ایسی باتیں ہی جچتی ہیں۔چادر دیکھ کر یہاں کون پاؤں پھیلاتا ہے؟حالات نے تو ایساہی رہنا ہے اور بہتری کا انتظار کیا جائے تو یہاں کچھ کام ہی نہ ہو۔
کابینہ کی توسیع کے ساتھ ساتھ حکومتی کارناموں کی تشہیر کا مسئلہ بھی سامنے آ رہا ہے۔ اس پر کہا تو بہت کچھ جاسکتا ہے لیکن ہم سب سمجھتے ہیں کہ اس پر احتیاط سے بات کرنی چاہیے۔ البتہ ایک چیز سامنے ہونی چاہیے کہ جسے انگریزی میں اوور کِل (overkill) کہتے ہیں وہ کاؤنٹر پروڈکٹو ہوتی ہے۔ تشہیر میں رنگ استعمال ہو تو ہلکا رنگ ہونا چاہیے نہیں تو پڑھنے والے کا ردِعمل کچھ اور ہی ہو جاتا ہے۔ اپنے زمانے میں ایوب خان نے تشہیری مہمات شروع کی تھیں‘ ذوالفقارعلی بھٹو نے بھی یہی کام کیا ۔ پوچھا جاسکتا کہ ایسا کرنے سے اُنہیں فائدہ کتنا پہنچا اور الٹا اثر کتنا پڑا۔ جتنا کہا ہے اسی کو بہت سمجھنا چاہیے۔ بہرحال ایک بات ہے کہ جو حکومت میں بیٹھے ہیں قسمت کے دھنی ہیں۔ انتخابات میں ووٹروں نے ان کے ساتھ کیا کیا وہ سب کے سامنے ہے۔ لیکن یہاں جو جادو چلتا ہے اُس کی وجہ سے جن کا حشر ہوا وہ جیت گئے اورجنہیں اصل ووٹ پڑے وہ مختلف قسم کے پرچے بھگت رہے ہیں۔ اس جادو کا دفاع کرنے والے بڑے مزے کی بات کرتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ پاکستانی انتخابات میں دھاندلی تو ہمیشہ سے ہوتی رہی ہے، اس بار کچھ زیادہ ہی ہوگئی۔ ہم جیسوں نے یہ سارا ماجرا نزدیک سے دیکھا۔ ہم سے پوچھا جائے کہ کیا کچھ ہوا تھا۔
اور جو ابو ظہبی کے ولی عہد آئے وہ بھی کیا آئے۔ جس طرح سے ہمارے تمام حکمران اُن کے دائیں بائیں تھے وہ ہمارے لازوال کشکول کا کمال ہے۔