نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا آئی ایس آئی ہیڈکوارٹرزکا دورہ
  • بریکنگ :- آرمی چیف کوداخلی سیکیورٹی اور افغانستان صورتحال پر بریفنگ
  • بریکنگ :- آرمی چیف کاادارے کی کارکردگی پراطمینان کااظہار،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمیدنےآرمی چیف کااستقبال کیا
Coronavirus Updates

ایشیا کی ترقی میں حائل برہمن بھارت

دنیا میں برتری، سبقت اور حکومت پانے کے دو ہی طریقے پائے جاتے ہیں؛ ایک وہ حکمران ہیں‘ یا رہے ہیں جنہوں نے عسکری طاقت کے زور پر فتوحات حاصل کر کے اپنی سلطنتیں قائم کیں۔ اس طرح کے لوگوں کیلئے 'حکمران‘ کا لفظ استعمال ہوتا تھا کیونکہ ان کا حکم چلتا تھا۔ البتہ دوسری قسم یکسر مختلف اور دنیا کی خوبصورتی وترقی کی علامت ہے۔ اس قسم میں وہ اقوام یا لوگ آتے ہیں جنہوں نے دنیا کو علم ودانش کی مدد سے تسخیر کیا اور انہیں بہتری کے ساتھ آگے بڑھنے میں رہنمائی فراہم کی۔ چونکہ یہ لوگ اپنے علم اور ایجادات کے ذریعے دیگر دنیا پر فوقیت رکھتے تھے‘ اس لئے ان کو حکمران کے بجائے رہنما یعنی لیڈر کہا جاتا تھا۔ اس سلسلے کی سب سے پہلی طاقت اہلِ یونان کو مانا جاتا ہے جنہوں نے تقریباً آٹھ سو سے ایک ہزار سال تک دنیا میں اپنی قابلیت کا سکہ منوایا اور تقریباً تمام بنیادی و جدید علوم کی نہ صرف بنیاد رکھی بلکہ ان کو پروان بھی چڑھایا۔ ان علوم میںریاضی، فزکس، کیمسٹری،بائیولوجی، جغرافیہ، سیاسیات، فلسفہ، نفسیات، فنونِ لطیفہ سمیت دیگر مضامین شامل ہیں۔ اس بات بلکہ راز کو جاننے کا طریقہ بہت سادہ ہے کہ آپ تمام علوم کا نام لکھ کر ان کی وجۂ تسمیہ جاننے کی کوشش کریں‘ آپ کو پتا چلے گا کہ یہ نام کسی نہ کسی یونانی لفظ سے ماخوذ ہیں۔ اہلِ یونان کو اسی لیے یورپ والے اپنا حصہ مانتے ہوئے فخر محسوس کرتے ہیں حالانکہ یونان اپنی لوکیشن اور زبان کے اعتبار سے انڈو-یورپین گروپ کا حصہ ہے جبکہ دوسری طرف ترکی‘ جو ہر اعتبار سے یورپ کا حصہ ہے‘ کو کبھی بھی یورپ یا یورپی یونین کا حصہ نہیں مانا گیا۔ موضوع کی طرف بڑھتے ہیں‘ یونان اور رومن سلطنت کے زوال کے بعد دنیا پر 400 عیسوی میں ایک ایسا دور بھی آیا جب علم و دانش کا سلسلہ رک سا گیا تھا‘ تاریخ دان اس دور کو سیا ہ دور یعنی ڈارک ایجز کے نام سے یاد کرتے ہیں۔
اس کے بعد دنیا کی ترقی اور بہتری کا سارا کریڈٹ عرب کی صحرائی زمین کو جاتا ہے جہاں 571ء میں ایک ایسا منور منشور آیا جس نے دنیا کو ہر طرح کی پسماندگی سے نکالا۔ اس منشور نے پہلی دفعہ دنیا کے تمام انسانوں کو رنگ ونسل کی تمیز کے بغیر، اور ہر مرد و عورت کو‘ برابر قرار دیا۔ اسی طرح اس منشور نے ہر مرد وعورت پر علم کا حصول لازم قراردے کر علم و دانش کے رکے ہوئے سلسلے کو بحال کرنے کی بنیاد رکھی۔ اسی منور منشور کے تحت 712ء میں موجودہ عراق میں بیت الحکمت کے نام سے علم و تحقیق کا ایک پورا شہر آباد کیا گیا۔ اس شہر میں پوری دنیا کے سائنس دانوں اور مفکروں کو اکٹھا کیا گیا۔ ان اہلِ علم نے یونان والوں کے علم کو عربی زبان میں ترجمہ کرکے اس کو آگے بڑھانا شروع کیا۔ ان کی یہ کوشش کامیاب ہوئی اور اگلی چار سے پانچ صدیوں تک ان لوگوں نے دنیا پر اپنی حکمرانی ثبت کر دی۔ یہ علاقہ چونکہ مغربی ایشیا میں آتا ہے اور یہ تمام لوگ مسلمان تھے‘ اس لیے یہ کریڈت بھی انہی کے حصے میں آیا۔ ان لوگوں کی رہنمائی ماند پڑنے سے پہلے ہی یورپ جاگ اٹھا اور خود ساختہ تاویلات کے ماہر پادریوں کے تسلط سے آزادی حاصل کرتے ہوئے سوچ کی برتری پر عمل کرتے ہوئے علم و تحقیق کی جانب گامزن ہو گیا۔ اس دوران یورپ میں یونیورسٹیاں بنائی گئیں مگر ان درسگاہوں میں نصاب کے طور پر ایشیائی یعنی عرب مسلمانوں کی لکھی ہوئی کتابوں کو ہی پڑھایا گیا۔ یہاں ایک اور بڑی حقیقت کا ذکر بھی بہت ضروری ہے‘ وہ یہ کہ دنیا کی سب سے پہلی مسلمہ یونیورسٹی مراکو کے شہر فیض میں 895ء میں ایک مسلم خاتون فاطمہ بنت محمد الفہریہ قرشیہ نے بنائی تھی۔ بعد ازاں یورپ والوں نے علم و تحقیق کا ایک ایسا سلسلہ شروع کیا جو آج تک جاری و ساری ہے مگر یورپ والے اپنی علمی برتری کی وجہ سے رہنمائی کے بجائے حکمرانی زیادہ کرتے ہیں۔ ان کے اس حکمرانہ تعصب اور مصیبتوں کا سب سے زیادہ شکار ایشیا ہی ہے۔
پہلی عالمی جنگ تک سلطنت عثمانیہ کی شکل میں ایک مسلم سلطنت تو موجود تھی مگر یہ ایک عسکری طاقت ہی تھی جبکہ علم ودانش کا سلسلہ یہاں نہ ہونے کے برابر رہ گیا تھا۔ اس کے علاوہ جاپان بھی ایک بڑی طاقت تھا لیکن تاریخ نے کروٹ لی اور ایک نئے سماجی، معاشی اور سیاسی منشور کمیونزم کے تحت روس میں ایک انقلاب برپا ہو گیا۔ اس انقلاب نے تمام مغربی دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ دنیا میں پہلی دفعہ ایک امید جاگی تھی کہ شاید یہ انقلاب یورپی تسلط تلے دبے ممالک میں کالونیل دور کے خاتمے کا باعث بنے گا مگر ایسا نہ ہوسکا۔ اس کے بعد دوسری عالمی جنگ ہو گئی اور یورپ اس میں اپنی طاقت اور برتری کافی حد تک کھو بیٹھا جس کے نتیجے میں کالونیل دور یعنی نوآبادیاتی نظام کا خاتمہ ہوا اور پاکستان سمیت بیشتر ممالک کو آزادی نصیب ہوئی مگر ایشیا کے خلاف تعصب انگریزوں کے خون ہی نہیں ہڈیوں کے گودے میں بھی شامل تھا‘ اس لیے جاتے جاتے بھی وہ سب سے بڑے ملک یعنی ہندوستان میں ایسی ادھوری اور متشدد تقسیم کر کے گئے کہ تقسیم اور آزادی کے بعد بھی جنوبی ایشیا تضادات اور تنازعات کی زد میں ہی رہا۔ اس سلسلے کو بڑھاوا دینے میں برہمن سوچ کے تحت چلنے والا بھارت آج بھی پیش پیش ہے۔ آپ تھوڑا سا غور کریں تو آپ کو اندازہ ہو گا کہ صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ بنگلہ دیش، نیپال، بھوٹان، سری لنکا، مالدیپ سمیت خطے کے تمام ممالک بھارت کی علاقائی برتری کے خواب کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔ بات یہاں پر ختم نہیں ہوتی‘ بھارت کا کوئی ایسا پڑوسی ملک نہیں ہے جس کے ساتھ بھارت کے سرحدی تنازعات نہ چل رہے ہوں۔ تاحال بھارت چین کے ساتھ اپنے سب سے بڑے بارڈر پر سرحدی تنازعات حل کرنے کے بجائے جنگی صورت حال کا شکار ہے۔
چین وہ ایشیائی طاقت ہے جو 1949ء میں آزاد ہوا اور کافی عرصہ محض اپنی بقا کی جنگ لڑتا رہا۔ یہ وہ دور تھا جس میں ایشیا کی ایک طاقت روس یعنی سوویت یونین کی شکل میں یورپ کی برابری کا مقابلہ جاری رکھے ہوئے تھی مگر روس نے بھی اپنی علمی طاقت کے ذریعے پسماندہ ممالک کی رہنمائی کرنے کے بجائے ان پر حکمرانی کرنے کو ترجیح دی اور وہ اپنے حلیف ممالک میں ایک ضدی شکل کا کمیونزم پھیلانے میں اتنا مگن رہا کہ خود ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔ اس کے بعد چین کی شکل میں ایک اور ایشیائی طاقت ابھرنا شروع ہوئی او ر تقریباً 2010 ء سے چین امریکی و یورپی برتری اور حاکمیت کو چیلنج کر رہا ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ چین کی طاقت، برتری اور اثرو رسوخ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ چین کو تاحال روس کا ساتھ میسر ہے۔ امریکی حاکمیت کو سب سے بڑا اور تاریخی جھٹکا حال ہی میں افغانستان میں لگا ہے۔ چین طالبان کے ساتھ کس طرح تعاون اور رابطہ جاری رکھے ہوئے تھا‘ اس کا اندازہ طالبان کی طرف سے بار ہا چین کا نام ایک مسیحا کی طرح لینے سے صاف ظاہر ہو رہا ہے۔ طالبان کے رویے میں ایک انقلابی تبدیلی سے گمان ہوتا ہے کہ چین ان کی مدد کے ساتھ ان کی تربیت نما رہنمائی بھی کرتا رہا ہے۔ افغانستان کے ساتھ چین کے تعلقات گہرے ہونے سے ''چین مسلم بلاک‘‘ کی دستک محسوس کی جاسکتی ہے۔ واضح رہے کہ روس‘ امریکا سرد جنگ میں تقریباً تمام مسلم ممالک امریکی بلاک کا نہ صرف حصہ تھے بلکہ اس جنگ میں وہی بطور ایندھن استعمال بھی ہو رہے تھے۔ اس بار خوش نصیبی کی ایک بات یہ بھی ہے کہ طالبان کے ایران کے ساتھ تعلقات انتہائی موافق ہو چکے ہیں، اسی لئے افغانستان کے اندر طالبان کو کسی قسم کی فرقہ ورانہ مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑ رہا۔
اب بات کرتے ہیں احمق بھارت کی‘ جو دنیا کا آبادی کے اعتبار سے دوسرا بڑا ملک ہے مگر امریکا کے ہاتھوں بالکل ایک چابی والے کھلونے کی طرح استعمال ہو رہا ہے ۔ یہاں پر یہ واضح رہے کہ سوویت افغان جنگ میں پاکستان اس حد تک مجبور تھا کہ خدشہ تھا کہ افغانستان کے بعد اس کی باری نہ آ جائے مگر بھارت محض پاکستان دشمنی میں افغانستان میں ایک ایسی آگ بھڑکاتا رہا جس میں اس کے کئی بلین ڈالر جل گئے مگر اب بھی وہ باز نہیں آرہا اور تا حال چین کے خلاف استعمال ہو رہا ہے۔ تاریخ کے اس اہم موڑ پر‘ جب ایشیا دوبارہ دنیا میں مضبوط علاقے کے طور ابھر سکتا اور ابھر رہا ہے‘ بھارت اس کی راہ میں حائل ہو رہا ہے مگر لگتا ہے کہ بھارت کو اس کی کافی بھاری قیمت چکانا پڑے گی کیونکہ جو ممالک اپنی بساط سے بڑھ کر قدم پھیلاتے ہیں‘ بالآخر وہ خود ہی کئی حصوں میں تقسیم ہوکر رہ جاتے ہیں‘ بھارت کا انجام بھی کچھ ایسا ہی دکھائی دے رہا ہے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں