نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- کوئٹہ:بلوچستان اسمبلی کااجلاس آج شام 4 بجے ہوگا
  • بریکنگ :- اجلاس میں وزیراعلیٰ جام کمال کیخلاف تحریک عدم اعتمادپیش کی جائےگی
  • بریکنگ :- تحریک عدم اعتمادپربی اےپی کے14 ارکان کےدستخط ہیں
  • بریکنگ :- جام کمال کےدورمیں بدامنی،بےروزگاری اوراداروں کی کارکردگی متاثرہوئی،متن
Coronavirus Updates

غلط جھنڈا، ایجنڈا اور دھندہ

گزشتہ کالم میں امریکی جنرل Wesley Clark کے انتہائی نا قابلِ یقین انکشافات کا ذکر ہوا تھا اور یہ ذکر ''فالس فیلگ‘‘ کے عنوان کے تحت ہوا تھا۔ بہت لوگوں نے اس کو تسلیم کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا ہے۔ وہ اس میں حق بجانب ہیں کیونکہ یہ انکشافات اعتراف ہیں اس ظالمانہ طرزِ عمل کے‘ جو مغرب نے مسلمانوں کے خلاف محشر کی طرح برپا کیا ہوا ہے۔ اس سلسلے میں واضح کر دوں کہ یہ انکشافیہ اعترافات آپ کو بہ آسانی یو ٹیوب پر بھی مل جائیں گے اور انتہائی تفصیل سے ملیں گے۔ اس جنرل نے کمال دلیری سے کہا ہے کہ مجھے لگتا تھا کہ امریکا میں Policy Coupہو چکا ہے۔ مطلب امریکا میں ''پالیسی بغاوت‘‘ ہو چکی ہے اور امریکا میں فیصلہ سازی غلط(بغاو ت کرنے والے) ہاتھوں میں جا چکی ہے۔ جنرل کلارک اس سلسلے میں رمزفیلڈ، ڈک چینی اور دیگر لوگوں کا ذکر بھی کرتے ہیں۔ یہ فور سٹار جنرل مزید بتاتا ہے کہ امریکی پالیسی یہ تھی کہ پورے مڈل ایسٹ کو تباہ کر دیا جائے اور اس کے لیے پانچ سال کاہدف اس لیے رکھا گیا تھا تا کہ اگلی سپر پاور کے سامنے آنے سے پہلے وہ یہ تباہی بلا روک ٹوک کرسکیں۔ اسی کو امریکی نیو ورلڈ آرڈر کہا جاتا ہے۔
اب آپ کو لیے چلتے ہیں دنیا کے ایک اور فالس فلیگ کی طرف‘ جس میں مسلمانوں ہی کو ایک دھوکے، فریب، خوف اور ڈالر کی کشش سے دھکیلا گیا۔ یہ سلسلہ شروع ہوتا ہے دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے فوری بعد۔ یہ دور عالمی سطح پر سرد جنگ کے نام سے جانا جاتا ہے‘ جو امریکہ اور سوویت یونین کے مابین کمیونزم کے پھیلائو کو روکنے کے لیے لڑی گئی۔ روس کمیونزم کو پوری دنیا بالخصوص ترقی پذیر ممالک میں پھیلانا چاہتا تھا؛ چونکہ امریکی بلا ک زیادہ طاقتور، رقبے کے اعتبار سے بڑا اوربرطانوی استعماریت والے ممالک میں اپنے اثر ورسوخ کی وجہ سے بہت زیادہ مضبوط تھا‘ اس سرد جنگ کا پہلا مرکز یورپ تھا جس میں امریکی بلا ک زیادہ تر ممالک کو اپنے ساتھ ملانے میں کامیاب رہا جبکہ سوویت یونین کا ساتھ صرف چھ ممالک نے دیا۔ یورپ کے بعد اس نظریاتی جنگ کا مرکز ایشیا بنا۔ یہاں چین میں تو کمیونسٹ انقلاب 1949ء میں ہی آگیاتھا، شمالی کوریا بھی کمیونسٹ تھا؛ البتہ ویتنام میں جنگ شروع ہو گئی۔ اس کے بعد ٹارگٹ تھے مسلمان ممالک کہ ان کو امریکا کس طرح اپنی طرف کرے۔ اس کے لیے معلوم تاریخ اور دنیا کے پہلے اور سب سے بڑے جھوٹے جھنڈے (False Flag) بلکہ ایجنڈے کا سہارا لیا گیا اور مغرب نے مسلمان ممالک کو یہ باور کرانا شروع کر دیا کہ کمیونزم اسلام مخالف بلکہ کفر کا نظام ہے۔ اگرچہ کمیونزم کا بانی تمام مذاہب سے برگشتہ تھا اور اس کی بنیادی وجہ یورپ میں مذہب کے نام پر ہونے والا لوگوں کا استحصال تھا مگر اہم بحث یہ تھی کہ بحیثیت معاشی و سیاسی نظام‘ کمیونزم اور کیپٹل ازم میں سے اسلام کے زیادہ قریب تر کون سا نظام ہے۔ یہ بات اس وقت معاشیات کے مضمون میں خاص طور پر پوچھی جاتی تھی۔ آج ہم اسی موضوع پر بحث کرتے ہیں۔
کمیونزم کا سب سے بنیادی مقصد‘ جو ایک عقیدے کا سا درجہ رکھتا ہے‘ کچھ یوں ہے کہ ریاست کے تمام لوگوں میں معاشی برابری ہونا ضروری ہے یا کم از کم روٹی، کپڑا اور مکان ہر شخص کا بنیادی حق ہے۔ اس نظام کی اگلی اہم بات یہ ہے کہ غربت کی بنیادی وجہ وسائل کا کم ہونا نہیں بلکہ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ہے۔ اس نظام کا ماننا ہے کہ چیزیں بنانے کا مقصد لوگوں کی بھلائی ہونا چاہیے نہ کہ محض منافع کمانا۔ کمیونزم کا لفظ کمیونٹی سے ہے اور سوشل ازم کا لفظ سوسائٹی سے ہے؛ یعنی دونوں کا مقصد لوگ اور عوام ہیں۔ جب اس نظام کی بنیاد رکھنے والی کتاب داس کیپٹل(Das Kapital) لکھی گئی تھی تو اس کتاب نے واضح الفاظ میں دنیا میں معاشی تباہی کی وجہ سرمایہ دارانہ نظام کو قرار دیا تھا۔ اِس وقت امریکا کا چین کے ساتھ سب سے بڑا عناد چین کا ایک کمیونسٹ ملک ہونا ہے، کمیونزم کو اردو میں اشتراکیت کہا جاتا ہے جو اس نظام کے مجموعی یا مشترکہ ہونے کا اظہار ہے۔ واپس آتے ہیں کمیونزم کے خواص کی طرف‘ یہ نظام تمام معاشی منافع کی وجہ مزدور کی محنت کو قرار دیتا ہے، اور مزدور کو ہر شکل میں منافع میں حصہ دار ٹھہراتاہے بلکہ سرمایہ دارانہ نظام کا سب سے بڑا ظلم ا س طرح بیان کیا جاتا ہے کہ یہ مزدور کو صرف اتنا دیتا ہے کہ وہ زندہ رہ سکے تاکہ مزدوری کرتا رہے اور مزید مزدور پیدا کرکے پروان چڑھاسکے۔ اب اگر اسلام کے معاشی احکام کا جائزہ لیا جائے تو زکوٰۃ بنیادی ارکانِ دین کا درجہ رکھتی ہے، پھر کہا گیا کہ وہ مومن ہی نہیں کہ جو خود تو پیٹ بھر کر کھائے مگر اس کا پڑوسی بھوکا سوئے، سب سے اہم بات‘ جس میں اسلام کمیونزم کو کہیں پیچھے چھوڑ دیتا ہے‘ وہ یہ ہے کہ اگر کوئی شخص بھوک کی وجہ سے صرف اتنا چرالے کہ جس سے وہ اپنی بھوک مٹا سکے تو اس کو کوئی سزا نہیں دی جاسکتی۔ اسی طرح اسلام فضول خرچی، تعیشات، اور نمود نمائش سے سختی سے منع کرتا ہے۔ یہ تمام باتیں کسی بھی مسلمان کو ارتکازِ دولت سے روکتی ہیں۔ سادہ مگر واضح ترین الفاظ میں اسلام باہمی اور مجموعی فلاح کا نام ہے۔
اب آتے ہیں کمیونزم کے سیاسی ڈھانچنے کی طرف‘ یہاں ہم دیکھتے ہیں کہ یہ عین اسلامی طرز پر ایک سیاسی جماعت یا مجلس شوریٰ کی بنیاد پر چلتا ہے، ووٹوں کی کثرت کے بجائے کردار اورقابلیت کو دیکھتا ہے۔ ایک جماعت کے ممبران ہی اگلے سیاسی قائد کا انتخاب کرتے ہیں، یہاں ایک بات بہت اہم ہے‘ یہ نظام جنوبی ایشیا میں پائی جانے والی خاندانی وجمہوری آمریت کو کوئی موقع یا گنجائش فراہم نہیں کرتا۔ جماعت اسلامی کے اندرونی سیاسی نظام کو اگر آپ دیکھیں تو وہ بھی اسی سے ملتا جلتا ہے جہاں جماعت کے باقاعدہ ممبران ہی اگلے سربراہ کا انتخاب کرتے ہیں مگر آپ کمال دیکھیں امریکی پروپیگنڈا کاکہ جس نے دیگر جماعتوں کے ساتھ جماعت اسلامی کو بھی کمیونزم کے خلاف کر دیا تھا حالانکہ اُس وقت اِس جماعت کی سربراہی اس کے بانی کے ہاتھوں میں تھی۔ یہ وہی دور ہے جب پاکستان میں ''سبز ہے‘ سبز ہے ایشیا سبز ہے‘‘ کے نعرے گونجا کرتے تھے۔چونکہ کیپٹل ازم کا علامتی رنگ بھی سبز تھا‘اس لیے 'سبز‘ رنگ کو اسلام کے بجائے کیپٹل ازم کے تناظر میں دیکھا جاتا تھا۔ گزشتہ دنوں عجب سی مسکراہٹ اس وقت چہرے پر پھیل گئی جب چین کی بانی جماعت کی سو سالہ تقریبات میں جماعت اسلامی کے سربراہ نے نہ صرف اپنے خطاب کے ذریعے شرکت کی بلکہ چین کے موجودہ حکومتی اقدامات کی تعریف بھی کی۔ یہاں کمیونزم کے علمبردار چین کے سماجی پہلو کی طرف بھی ایک گہری نظر بھی ضروری ہے، جس کے تحت خاندانی نظام کو سرکاری سرپرستی میں قائم اور مستحکم رکھا جاتا ہے، اسی طرح چین والے ترقی یا ماڈرنائزیشن کے نام پر مغربیت یعنی Westernization کی مخالفت کرتے ہیں جبکہ وہ فیمنزم کی بے لگام بحث اور کردار کی ڈگر پر بھی نہیں چلتے۔ دنیا کی سب سے بڑی غربت کے خاتمے کا اعزاز بھی چین کو ہی حاصل ہے۔ حالیہ حکومت‘ جو پہلی حکومتوں کی طرح معاشی کمیونزم میں بہت ساری گنجائش اور ڈھیل دے چکی ہے‘اب پھر اپنے ملک کے امیر ترین لوگوں کو قائل اور مائل کر رہی ہے کہ Common Prosperity ہی چین کا اولین مقصد ہے۔ سادہ بات یہ ہے کہ غریب اور امیر کا فرق کم سے کم رکھا جائے۔ آخر میں ذکر علامہ اقبال کا‘ جنہوں نے اس بحث پر کچھ اس طرح تبصرہ کیا تھا کہ سوشل ازم میں کچھ بھی نیا نہیں‘ یہ عین اسلامی طرزاور سوچ ہے، انہوں نے سوشل ازم میں خدا کے تصور کی کمی سے ہٹ کر اسے عین اسلامی معاشی و سیاسی نظام قرار دیا تھا اور سب سے اہم بات یہ کہ وہ خود بھی کمیونزم کے بہت بڑے مداح اور مغربی طرزِ حکومت اور جمہوریت کے ناقد تھے۔ وہ مغرب کے سرمایہ دارانہ نظام اور معاشرتی نظام کے خلاف تھے۔ اس کے باوجود امریکا اور مغرب دیگر مسلم ملکوں کی طرح پاکستان میں تاریخ کا بہت بڑا False Flag آپریشن کرنے بلکہ اپنا دھندہ کرنے میں کامیاب رہے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں