نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- اسلام آباد:بھارتی ناظم الامورکی دفترخارجہ طلبی
  • بریکنگ :- پونچھ سیکٹرمیں بھارتی افواج کی حراست میں پاکستانی شہری ضیامصطفیٰ کے قتل پراحتجاج
  • بریکنگ :- پاکستانی قیدی کاجیل سےدورپراسرارقتل سنگین سوالات اٹھاتاہے،ترجمان دفترخارجہ
  • بریکنگ :- بھارت کاماورائےعدالت قتل کایہ پہلاواقعہ نہیں ہے،ترجمان دفترخارجہ
  • بریکنگ :- پاکستانی اورکشمیری قیدیوں کےماورائےعدالت قتل کی مذمت کرتےہیں،ترجمان
  • بریکنگ :- بھارت واقعہ کی شفاف تحقیقات کرکےانصاف کویقینی بنائے،ترجمان
  • بریکنگ :- بھارت پاکستانی قیدیوں کی رہائی یاوطن واپسی تک ان کی حفاظت یقینی بنائے،ترجمان
Coronavirus Updates

پانچواں موسم

آج کل پانچویں موسم کا نام اکتوبر کے اختتامی دنوں میں شروع ہونے والے ''دھند نما زہریلے دھویں‘‘ کو دیا جاتا ہے‘ جسے سموگ کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔ اس زہریلی دھند کا آغاز چند سال قبل ہوا تھا مگر اس سے پہلے ''پانچویں موسم‘‘ سے مراد انسان کے اندر کا موسم لیا جاتا تھا۔ اند رکے موسم سے مراد انسان کی ذہنی اور اندرونی کیفیات ہیں۔ اب تو بات آپ سمجھ ہی چکے ہوں گے کہ معاشی وسماجی حالات کو ایک طرف رکھتے ہوئے‘ آپ کیسا محسوس کر رہے ہیں۔ SAD: ویسے تو عرفِ عام میں اس سے مراد اداسی ہے، لیکن آج آپ کو اس کا پورا فلسفہ بتانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس لفظ کا حقیقی مطلب ہے Seasonal Affective Disorder۔ یہ لگ بھگ ایک ڈیڑھ مہینے کے دورانیے کا ایک خاص موسم ہے، جس میں لوگوں کا موڈ افسردہ ہو جاتا ہے۔ یہ دورانیہ اکتوبر میں شروع ہو کر سردی کے آغاز تک جاری رہتا ہے۔ یہ قدرت کی ایک عجیب تقسیم ہے کیونکہ اس کے بر عکس‘ مارچ کے آغاز پر ہر انسان کا موڈ خوشگوار ہو جاتا ہے۔ یہ سب باتیں صرف مشاہدے کی نہیں ہیں بلکہ میڈیکل سائنس کی تمام تر تحقیق سے ثابت شدہ حقائق ہیں۔ اداسی کے دنوں یعنی اکتوبر، میں پریشانی، اضطراب، ہیجان، مایوسی اور ناامیدی کی کیفیات انسان کو گھیر لیتی ہیں۔
دنیا کی سب سے زیادہ تیزی سے پھیلتی بیماریوں میں ذہنی اضطراب اور ہیجان کا عارضہ سرفہرست ہے۔ اس کی بڑی وجہ اس مرض کو دوسروں سے چھپانا اور اس کا علاج نہ کروانا ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں یہ مرض کس قدر سرایت کر چکا ہے‘ اس کا اندازہ آپ اس خبر سے لگا سکتے ہیں کہ صرف نوجوانوں میں ذہنی امراض، ہیجان اور اضطراب کی بیماریوں کی شرح 33فیصد سے تجاوز کر چکی ہے۔ اس کا صاف مطلب ہے کہ ہر تیسرا نوجوان اس مرض کا شکار ہے۔ اس مرض کا علاج جتنا جلد شروع کر دیا جائے‘ بیماری پر قابو پانا اتنا ہی آسان ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں چونکہ بد قسمتی سے ہر ذہنی بیماری کو پاگل پن سے تشبیہ دی جاتی ہے، اس لیے یہ رویہ ان امراض کو چھپانے کی بڑی وجہ ہے۔ ایسے ا مراض کی وجوہات بے شمار ہیں؛ کسی صدمے سے دو چار ہونا، کوئی نقصان ہو جانا، بے روزگاری، گھریلو لڑائی جھگڑے وغیرہ ذہنی امراض اور ہیجان کی سب کی بڑی اور اہم وجوہات ہیں۔ اس کے بعد کی وجوہات لوگوں کی اپنی پیدا کردہ بلکہ تصور کردہ ہیں۔ یہ ہمارا عمومی کلچر بن چکا ہے کہ جو کچھ موجود ہے‘ اس کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی معاشی حیثیت کو راتوں رات بڑھانے سے متعلق ہر وقت سوچتے رہنا، صرف ان لوگوں سے میل جول بڑھانا جن سے کوئی فائدہ اٹھایا جا سکے، دکھاوے کے کلچر کا حصہ بننا اور سب سے بڑھ کر‘ خوشی کو امیر ہونے سے تعبیر کرنا۔ اس مرض نما پیچیدگی کی وجہ سے انسانی دماغ میں سے مختلف کیمیکلز یا نمکیات کا اخراج ہوتا ہے۔ جب یہ اخراج کسی بھی وجہ سے ڈسٹرب ہو جائے تو کسی بھی فرد کی سوچ اور خیالات منتشر ہو جاتے ہیں۔ اس کے بعد وہ فرد دن یا رات کے کسی خاص وقت میں ایک مشکل کیفیت کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس کیفیت کی شدت شروع میں بہت کم ہوتی ہے اور وہ فرد تھوڑی سی ذاتی ہمت اور کوشش سے اس پر قابو پا سکتا ہے لیکن اگر اسے نظر انداز کر دیا جائے تو مرض بڑھتا رہتا ہے، پھر اس ذہنی تنائو کی شدت پر قابو پانے کے لیے کسی ماہرِ نفسیات سے مشورہ کر کے کچھ ایسے طریقے سیکھنا پڑتے ہیں جن سے اس کیفیت پر قابو پایا جا سکے۔ اس کے بعد ایک مرحلہ ایسا آتا ہے جب فرد کو کسی نہ کسی دوائی کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ یہ دوائی اس کے ذہن کے نمکیات کی ترکیب کو دوبارہ بیلنس کر دیتی ہے۔ کچھ ہی عرصے میں ایسے فرد کو افاقہ ہو جاتا ہے لیکن یہ علاج دیر پا ہوتا ہے، جیسے ہی مریض تھوڑا بہتر ہونے لگتا ہے، وہ دوائی کا استعمال ترک کر دیتا ہے، جس کی وجہ سے یہ مرض اسی شدت کے ساتھ واپس آجاتا ہے۔
اس مرض کے علاج کے لیے سب سے معتبر رائے کچھ اس طرح ہے کہ اس مرض کی دوائی بالکل اسی طرح جاری رکھی جائے جیسے، شوگر، دمہ یا بلڈ پریشر کی دوا مستقل طور پر کھائی جاتی ہے۔ اس کو آپ یوں بھی سمجھ سکتے ہیں کہ اگر کسی کو شوگر کا عارضہ لاحق ہو جائے اور اس مرض کا شکار ہونے والا بیماری کے ابتدائی مرحلے پر ہی دوا کھانا شروع کردے تو اس کا مرض دوا کی ہلکی مقدار سے ہی ٹھیک‘ مطلب کنٹرول رہے گا۔ اگر مریض مستقلاً دوا کھاتا رہے گا تو اس کو انسولین یا دوا کی زیادہ بھاری مقدار نہیں کھانا پڑے گی۔ اس کے بعد باری آتی ہے پرہیز کی‘ جس سے متعلق کہا گیا ہے کہ پرہیز علاج سے بہتر ہے۔ اب کہا جاتا ہے کہ یہ بہتر ہی نہیں‘ بہترین ہے۔ جس طرح ہر مرض میں کچھ پرہیز ہوتے ہیں جو مرض کے خلاف آپ کو دوائی سے بھی زیادہ فائدہ دیتے ہیں‘ اسی طرح ذہنی عوارض میں بھی کچھ پرہیز ہوتے ہیں۔ اس کی عام مثال شوگر کے مرض سے ہی لیتے ہیں کہ میٹھے سے گریز کے ساتھ اگر روزانہ پانچ کلومیٹر کی دوڑ نما سیر بھی کی جائے تو نہ صرف مرض کنٹرول میں رہتا ہے بلکہ مریض بھی چاق و چوبند اور تندرست رہتا ہے، اسی طرح نفسیاتی امراض میں بھی بہت سارے پرہیز ہیں جن کو میڈیکل سائنس نہ صرف مانتی ہے بلکہ ان پر دوائی سے بھی زیادہ زور دیتی ہے۔ اور اگر یہ پرہیز نہ کیے جائیں تو دوائی کی بھاری مقدار بھی فائدہ نہیں دیتی۔ ذہنی عوارض سے بچنے کیلئے اپنے طرزِ زندگی کو بدلنے بلکہ بہتر بنانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس میں سب سے پہلے بلا وجہ کی سوچوں یا زیادہ سوچنے کی عادت سے چھٹکارا پانا ہوتا ہے۔ اگر آپ کو سر چھپانے کی جگہ‘ مناسب لباس اور غذا دستیاب ہے تو آپ دنیا کے اربوں لوگوں سے بہتر ہیں، اس بات کو انجوائے کریں اور ربِ کریم کا شکر ادا کریں۔ اسی طرح اگر آپ کو شوگر، بلڈ پریشر اور دمہ جیسا کوئی مستقل مرض لاحق نہیں ہے تو آپ دنیا کے ستر فیصد لوگوں سے بہتر ہیں، اور اگر بالفرض ایسا کوئی مرض آپ کو لاحق ہے‘ تب بھی خدا کا شکر ادا کریں کہ آپ کسی بڑی مہلک بیماری کا شکار نہیں۔
اس کے بعد ذکر ایک ایسی ہلکی پھلکی عادت کا جس کو اپنانے سے آپ بہت سارے امراض سے بچ سکتے ہیں، اور یہ عادت ہے ورزش اور لمبی سیر۔ اس کے لیے کمرے کے اندر دوڑنے والی مشین (ٹریڈمل) کی مدد لینے کے بجائے کسی کھلے پارک یا گرائونڈ میں جائیں۔ ماہرین کے مطابق‘ اس سے آپ کی ذہنی کیفیت بہت مثبت اور بہتر ہو جاتی ہے۔ صاف ہوا، پرندوں کی آوازیں اور سب سے بڑھ کر سورج کی کرنیں آپ کی صحت پر براہ راست مثبت اثر ڈالتی ہیں۔ اس مرض کے کسی بھی دور یا کسی بھی کیفیت کی شکل میں فوری طور پر غسل کرنا انتہائی موثر ثابت ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں ایک انتہائی اہم بات یہ ہے کہ کسی بھی قسم کا نشہ بیماری کا علاج نہیں ہوتا ۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں ذہنی امراض میں سارا زور نشہ آور ادویات پر رکھا جاتا ہے حالانکہ اس کو Substance Abuse کہا جاتا ہے۔ اس روش کے اپنانے کو خود کشی کے سفر پر جانے کا پہلا مرحلہ بھی کہا جاتا ہے۔
واپس آتے ہیں پانچویں موسم کی طرف‘ جو انسان کے اندر اس کے خیالات، کشمکش، سوچوں کے دھارے، توقعات اور خدشات سے وجود پاتا ہے۔ اگر صرف خدشات کی بات کریں تو آپ کو حیرانی ہو گی کہ اتوار کی چھٹی کے بعد سوموار کو دفتر جانے کو بھی لوگ ایک ''خدشہ‘‘ سمجھ لیتے ہیں۔ یہ خدشہ اس قدر شدید ہو چکا ہے کہ پوری دنیا کا ڈیٹا بتاتا ہے کہ سب سے زیادہ ہارٹ اٹیک سوموار کے دن بالخصوص پیر کو صبح کے وقت ہوتے ہیں۔ اب آپ اگر دفتری امور اور اپنے ساتھ کام کرنے والوں سے توقعات وابستہ نہ کریں تو یقینا اس مشکل سے بچ سکتے ہیں۔مذکورہ تمام مسائل کا ایک ہی حل ہے؛ سادہ طرزِ زندگی اپنانا۔ آپ کا لباس، غذا، موبائل کا ماڈل ہو یا کوئی اور چیز‘ جس حد تک ہو سکے سادگی اپنائیں۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے ''It's very simple to be happy, but it is very difficult to be simple‘‘۔ اس پانچویں موسم پر قابو پانے کا اور کوئی حل نہیں ہے۔ اس کو قابو میں رکھیں وگرنہ یہ آپ کو قابو میں کر لے گا۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں