نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- وزیراعظم عمران خان عمرہ کی سعادت کےلیے بیت اللہ شریف پہنچ گئے
  • بریکنگ :- وزیراعظم عمران خان کیلئےخانہ کعبہ کادروازہ خصوصی طور پرکھولاجائے گا
Coronavirus Updates

شفاف انتخابات کا خواب

جمہوریت انسانی سوچ کی معراج ہے جبکہ آسمانی ہدایت بھی یہی ہے کہ وأمرھم شوریٰ بینھم کہ اُن کے امور باہمی صلاح مشورے سے طے پاتے ہیں۔ جمہوریت کوئی خود رو پودا نہیں‘ اس کی بڑی نگہداشت اور پرداخت کرنا پڑتی ہے۔ اس پودے کو اپنے جوبن پر پہنچنے میں کہیں صدیاں اور کئی ممالک میں دہائیاں لگی ہیں۔ جمہوریت ایک مجموعی سوچ اور اجتماعی دانش کا نام ہے جبکہ انسان بنیادی طور پر انانیت پسند اور ''ون مین شو‘‘ کا دلدادہ واقع ہوا ہے لہٰذا جمہوریت کے حصار میں آنے کے بعد بھی ان جمہوری ملکوں نے انسانی جبلت میں موجود انانیت پسندی کو نظم و ضبط کا پابند بنانے کی خاطر ایسے ادارے قائم کیے کہ جو حکمران کو بھی قانونی ڈسپلن کا پابند بناتے ہیں۔ ان اداروں میں پارلیمنٹ‘ آزاد اور نڈر عدلیہ اور غیرجانبدار میڈیا شامل ہیں۔ یورپ اور امریکہ جیسے ملکوں میں جمہوریت کو پروان چڑھانے میں منصفانہ و آزادانہ انتخابات سرفہرست ہیں۔
ہم ابھی تک سات دہائیوں سے آزادانہ الیکشن کو یقینی نہیں بنا سکے۔ ہر انتخاب کے بارے میں طرح طرح کے شکوک و شبہات کا اظہار کیا جاتا ہے۔ پی ٹی آئی کی حکومت اپنے دورِ اقتدار کے چوتھے سال میں داخل ہوچکی ہے اور ساتھ ہی ساتھ یہ افواہیں بھی عروج پر ہیں کہ حکومت قبل از وقت انتخابات کروانا چاہتی ہے۔ اگر حکومت کی یہ خواہش ہے تو بڑی حیران کن خواہش ہے کیونکہ ان تین سالوں میں تحریک انصاف کی حکومت اکثر اشیائے صرف اور بجلی‘ گیس جیسی خدمات کی قیمتیں آسمان پر لے جاکر لوگوں کو مایوسی کی اتھاہ گہرائیوں میں گرا چکی ہے۔ تحریک انصاف کی سہ سالہ کارکردگی کے غیرجانبدارانہ جائزے کے مطابق اقتصادی شعبے کے چند جزوی مثبت اشاریوں کے علاوہ باقی ہرشعبے کی کارکردگی جناب عمران خان کے انتخابی وعدوں کے بالکل الٹ ہے۔
ایک طرف قبل از وقت انتخابات کی افواہیں ہیں تو دوسری طرف حکومت ایک نہیں دو دو پنڈورا باکسز کھول کر انتخابات کے انعقاد کو ہی مشکوک بنا رہی ہے۔ ہر دس برس کے بعد مردم شماری ہوتی ہے۔ 2017ء کی مردم شماری دس برس کے بعد نہیں انیس برس کے بعد ہوئی تھی۔ اب حکومت کا کہنا ہے کہ سندھ کی ایم کیو ایم جیسی بعض علاقائی جماعتیں اس مردم شماری کے نتائج کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کررہی ہیں‘ لہٰذا 2023ء کے انتخابات سے پہلے حکمران جماعت قبل ازوقت مردم شماری کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس ارادے کا بروقت پایۂ تکمیل تک پہنچنا بظاہر ممکن نظر نہیں آتا۔ بالفرض ایسا ہو بھی گیا تو اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ نئی مردم شماری کے نتائج کو سبھی پارٹیاں تسلیم کر لیں گی۔ پی ٹی آئی کی حکومت الیکٹرانک مشینوں کے ذریعے 2023ء کے انتخابات کا انعقاد بھی چاہتی ہے۔ حکومت ان مشینوں کو شفاف الیکشن کی ضمانت قرار دیتی ہے جبکہ اپوزیشن مشینی انتخاب کو لارج سکیل دھاندلی کا الیکٹرانک منصوبہ قرار دے رہی ہے۔ حکومت نے اپوزیشن کو اعتماد میں لینے کی اتنی ہی کوشش کی ہے جتنی پنجابی محاورے میں گونگلوئوں سے مٹی جھاڑنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ الیکٹرانک ووٹنگ سے موجودہ حکومت کی جذباتی وابستگی دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے پی ٹی آئی کی امیدوں کا انحصار اور دارومدار مشینوں پر ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں بھی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی جناب شبلی فراز نے مختلف پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے سینیٹروں کو الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کی کارکردگی کے بارے میں قائل کرنے کی کوشش کی مگر وزیر سائنس کے پاس اپوزیشن کے تیکھے سوالوں کا شافی و کافی جواب نہ تھا۔ اپوزیشن سینیٹروں نے کہا کہ الیکٹرانک مشینوں میں کسی ووٹر کی شناخت کرنے کا کوئی پروگرام نہیں اور نہ ہی مشینوں پر بیلٹ پیپر کو خفیہ رکھنے کا کوئی طریقہ ہے‘ نیز اہم سوال یہ ہے کہ یہ مشینیں کس کی تحویل میں ہوں گی؟
7 ستمبر کو الیکشن کمیشن آف پاکستان نے الیکٹرانک ووٹنگ کے طریقہ کار پر 37 اعتراضات اٹھائے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے اس بارے میں ایک جامع رپورٹ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں جمع کروائی ہے۔ کمیشن کی رپورٹ کے مطابق الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے دھاندلی رک سکتی ہے اور نہ ہی ووٹر کی شناخت خفیہ رہے گی۔ انتخابی ادارے کی جامع رپورٹ میں لکھا ہے کہ 4 لاکھ مشینوں پر کم از کم 150 ارب روپے خرچ ہوں گے۔ اتنا زرکثیر صرف کرنے کے باوجود الیکشن کی شفافیت اور ساکھ مشکوک رہے گی۔ کمیشن نے یہ بھی کہا کہ الیکٹرانک مشینوں کو بآسانی ہیک بھی کیا جا سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایک ہی روز میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی تمام نشستوں پر الیکشن نہیں کروائے جا سکتے۔جہاں تک پاکستان کے زمینی حقائق کا تعلق ہے تو 2018ء میں الیکٹرانک ذرائع سے ہر حلقے کا انتخابی رزلٹ الیکشن کمیشن کو ارسال کرنے کا آر ٹی ایس نظام بری طرح ناکام ہوگیا تھا۔ حکومت ایک بٹن دبا کر سارے انتخابی حلقوں میں الیکٹرانک مشینوں سے الیکشن کروانے کا پروگرام رکھتی ہے اور اسے بزور نافذ کرنے پر اصرار کر رہی ہے۔ بھارت میں الیکٹرانک مشینوں کے ذریعے ووٹنگ کروانے پر 22 برس لگے ہیں۔ وہاں الیکٹرانک ووٹنگ کا آغاز محض چند حلقوں سے ہوا تھا۔ آہستہ آہستہ حکومت اور اپوزیشن کے مابین اعتمادِ باہمی سے الیکٹرانک حلقوں کی تعداد بڑھتی گئی۔ 22 سال کے بعد لوک سبھا کا الیکشن الیکٹرانک مشینوں کے ذریعے ہوا۔
یقینا الیکٹرانک مشینوں کے ذریعے ووٹنگ کروانے میں کئی فنی و عملی پیچیدگیاں حائل ہیں؛ تاہم مشینوں کے استعمال میں حکومت اور اپوزیشن کے مابین اعتماد کا فقدان سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ جناب وزیر اعظم اپوزیشن کے ساتھ بیٹھنا پسند نہیں کرتے۔ اپوزیشن کی تمام جماعتیں بالخصوص مسلم لیگ (ن) سمجھتی ہے کہ 2018ء کے انتخابات میں دھاندلی کی گئی اور مسلم لیگ (ن) کی جیتی ہوئی سیٹیں پی ٹی آئی کی جھولی میں ڈال دی گئیں۔ مسلم لیگ (ن) اس سلسلے میں ضمنی انتخابات کی مثالیں دیتی ہے کہ ڈسکہ کی قومی اسمبلی کی سیٹ پر ہونے والے الیکشن میں حکومت نے دھاندلی کا پرانا طریقہ کار اختیار کیا مگر جب اس کی دھاندلی پکڑی گئی اور دوبارہ آزادانہ الیکشن منعقد ہوا تو مسلم لیگ (ن) جیت گئی۔ اب تک پاکستان میں انتخابات کے غیرشفاف ہونے کا سبب عوام کو بھی معلوم ہے اور خواص کو بھی۔ جس روز حکومتی پارٹی اور اپوزیشن جماعتیں صدقِ دل سے خدا کو حاضر ناظر مان کر یہ معاہدہ کر لیں گی کہ ہم صرف اور صرف ووٹ کی قوت سے جیتیں گے اور کسی اور ذریعۂ کامیابی کو کام میں نہیں لائیں گے اس روز سے پاکستان میں منصفانہ انتخابات کا انعقاد شروع ہو جائے گا۔
جہاں تک اوورسیز پاکستانیوں کی الیکشن میں شمولیت کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں بعض انتہائی قابل عمل تجاویز ہیں جن پر حکومت اور اپوزیشن دونوں کو غورکرنا چاہئے۔ اس وقت سعودی عرب میں تقریباً 26 لاکھ اوورسیز پاکستانی ہیں جبکہ متحدہ عرب امارات میں 15 لاکھ‘ برطانیہ ملا کر سارے یورپ میں 22 لاکھ‘ صرف برطانیہ میں 11 لاکھ اور امریکہ میں تقریباً 6 لاکھ ہیں۔ میری تجویز یہ ہے کہ سعودی عرب اور عرب امارات میں کام کرنیوالے 41 لاکھ پاکستانیوں کیلئے قومی اسمبلی کی 4 سیٹیں جبکہ برطانیہ کیلئے ایک سیٹ‘ باقی یورپی ممالک کیلئے ایک اور امریکہ کیلئے ایک سیٹ مخصوص کی جائے۔ یوں اوورسیز پاکستانیوں کیلئے قومی اسمبلی میں کل 7 سیٹیں بڑھا دی جائیں۔ اس طرح سے یہ لوگ اسمبلی میں آکر زبانِ غیر سے نہیں خود اپنے مسائل پیش کریں گے اور انہیں حل کروائیں گے۔
شفاف انتخابات کا خواب اسی وقت شرمندۂ تعبیر ہو گا جب ہمارے سارے سیاست دان صدقِ دل سے ایسا کرنے کا عہد کرلیں گے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں