نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- ترک وزیرخارجہ سےعمران خان اورترک صدرملاقات بارےتبادلہ خیال ہوا،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- سعودی وزیرخارجہ سےبھی ملاقات ہوئی،وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- سعودی وزیرخارجہ کوافغانستان سےمتعلق پاکستانی نقطہ نظرپیش کیا،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- افغان صورتحال عالمی برادری کےلیےامتحان ہے،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- افغان صورتحال پرایک مربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- عالمی برادری مشکل گھڑی میں افغان عوام کی معاونت کرے،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- افغانستان میں معاشی بحران خطرناک ہوسکتاہے،وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- دنیاایک رخ دیکھ رہی ہے،وزیراعظم تقریرمیں دوسرارخ پیش کریں گے،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- وزیراعظم کاجنرل اسمبلی سےایک جامع خطاب ہوگا،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- جنرل اسمبلی اجلاس کےموقع پراہم رہنماؤں سےملاقاتیں ہوئیں،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- عالمی رہنماؤں سےافغانستان اورکشمیرسےمتعلق بات ہوئی،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- کشمیریوں کیساتھ اظہاریکجہتی پراوآئی سی رابطہ گروپ کےمشکورہیں،وزیرخارجہ
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

موجودہ حکومت اور ٹرک ڈرائیور

قریب تین عشرے ہونے کو ہیں۔ جامعہ زکریا کے طلبہ کا ٹور ہیڈ سدھنائی جا رہا تھا۔ پانچ چھ بسیں تھیں جن میں سے دو بسیں لڑکیوں کی تھیں اور چار بسیں لڑکوں کی تھیں۔ تب کو ایجوکیشن کے باوجود ٹور وغیرہ پر لڑکیوں کی بسیں علیحدہ ہوتی تھیں تاہم ایک شعبے کے طلبہ و طالبات ہونے کی صورت میں تیس پینتیس کی تعداد ہونے کی وجہ سے علیحدہ بس نہیں ہوتی تھی لیکن لڑکیوں کے لئے بس کا اگلا حصہ مخصوص ہوتا تھا‘ لڑکے ان مخصوص نشستوں کے بعد پیچھے والی سیٹوں پر بیٹھتے تھے۔ اسی طرح کلاس روم میں لڑکیاں ایک طرف بیٹھتی تھیں اور لڑکے دوسری طرف۔ کینٹین پر لڑکیوں کے ساتھ بیٹھنے والے لڑکوں کو مشکوک نظروں سے دیکھا جاتا تھا۔ لڑکیوں کو معاشرتی تقاضوں کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے ہر طرح کی آزادی تھی۔ صرف پی ٹی وی ہوتا تھا۔ چینلوں کی بھر مار نہیں تھی اور ان پر لبرل فاشسٹوں نے آزادی نسواں کے نام پر معاشرے کو باقاعدہ طور پر بے راہ روی کی طرف دھکیلنے کی مہم ابھی شروع نہیں کی تھی۔ بسیں ہیڈ سدھنائی کی طرف رواں دواں تھیں کہ اچانک ایک بس بند ہو گئی۔ یہ لڑکیوں کی بس تھی۔ باقی بسیں بھی رک گئیں۔ تجویز دی گئی کہ باقی بسیں منزل مقصود کی طرف روانہ ہو جائیں اور اس بس کی درستی کا اہتمام کیا جائے۔ ایک سمجھدار سے کنڈیکٹر کو کہا گیا کہ وہ ایک دو کلو میٹر واقع پل باگڑ کے اڈے سے کوئی مکینک پکڑ کر لائے تاکہ بس کو سٹارٹ کروایا جائے۔ بس کیونکہ لڑکیوں کی خراب ہوئی تھی اس لئے بقیہ تمام بسوں کے لڑکوں نے ’’اخلاقیات ‘‘ کے اعلیٰ اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے لڑکیوں کو اس طرح سڑک پر تنہا چھوڑ کر ہیڈ سدھنائی جانے سے انکار کر دیا۔ میں جامعہ کی ٹرانسپورٹ کمیٹی کا طلبہ کی طرف سے نمائندہ تھا۔ میں نے بھی طلبہ کو ٹور جاری رکھنے کا کہا مگر ایک بس کے طلبہ تو یہ بات ماننے پر بالکل تیار نہیں تھے کہ لڑکیاں خراب بس میں بیٹھی رہیں اور وہ پکنک منانے سدھنائی چلے جائیں۔ اسی اثناء میں ایک ٹرک نزدیک آ کر رک گیا۔ ڈرائیور نے کھڑکی سے سر نکال کر پوچھا کہ کیا معاملہ ہے؟ اسے بتایا کہ بس سٹارٹ نہیں ہو رہی۔ آدھی لڑکیاں بس میں تھیں اور آدھی باہر نکل کر کھڑی ہوئی تھیں۔ ٹرک ڈرائیور نے رنگ برنگے کپڑوں میں ملبوس کافی ساری لڑکیاں دیکھیں تو وہ بھی فوراً مدد پر تیار ہو گیا اور چھلانگ لگا کر نیچے آ گیا۔ نیچے آنے کے بعد اس نے خراب بس کے ڈرائیور کو سیٹ سے ہٹایا اور پوچھنے لگا کہ کیا معاملہ ہے اور کیا خرابی ہے۔ رشید ڈرائیور نے اسے بتایا کہ بس ایئر لاک ہو گئی ہے۔ ڈیزل بسوں میں کبھی کبھار ایسا ہوتا تھا کہ ڈیزل فلٹر میں ہوا کا بلبلہ آ جاتا تھا اور گاڑی سٹارٹ ہونے سے انکاری ہو جاتی تھی۔ اس روز بھی ایسی ہی صورتحال تھی ۔ٹرک ڈرائیور‘ جو کہ پٹھان تھا‘ یونیورسٹی کے بس ڈرائیور سے چابی لے کر سٹیئرنگ پر بیٹھا۔ ایک لمبا سلف مارا پھر دوسرا سلف مارا۔ گاڑی سٹارٹ نہ ہوئی۔ بس ڈرائیور نے اسے بتایا کہ بس ایئر لاک ہو گئی ہے۔ ٹرک ڈرائیور نے انکار میں سر ہلایا اور کہنے لگا۔ خوچہ!یہ ایئر لاک نہیں ہوئی۔ اس کا ہوا بند ہو گیا ہے۔ پھر اس نے اپنے کنڈیکٹر اور یونیورسٹی کی بس کے کنڈیکٹر کو ساتھ لگایا اور نیچے گھس کر انجن کی دو چار چیزیں کھول دیں۔ فیول فلٹر اتارا۔ ایک دو پائپ کھولے اور سب چیزیں ایک طرف ڈھیر کر دیں ۔ پھر کہنے لگا ڈیزل فلٹر ہے! جواب ملا کہ نہیں ہے۔ کہنے لگا فلٹر چاہئے۔ میں نے کہا کہ لڑکوں کی بس پر کنڈیکٹر جائے اور راستے میں پل باگڑ سے فلٹر لے کر کسی بس میں بیٹھ کر واپس آ جائے۔ لڑکوں نے لڑکیوں کو خراب بس میں چھوڑ کر جانے سے پھر انکار کر دیا۔ میں نے لڑکیوں کو کہا وہ لڑکوں والی بس میں بیٹھ کر ہیڈ سدھنائی روانہ ہو جائیں اور لڑکوں کو کہا کہ وہ اس خراب بس میں بیٹھ جائیں اور ٹھیک ہونے پر سدھنائی چلے جائیں۔ اب لڑکوں نے احتجاج کرنا چاہا مگر اسی دوران ہم نے لڑکیوں کو دوسری بس میں بٹھایا۔ ساتھ ایک عدد کنڈیکٹر کو بٹھایا اور بس روانہ کر دی۔ تھوڑی دیر بعد کنڈیکٹر فیول فلٹر لے کر آ گیا۔ ٹرک ڈرائیور بھی لڑکیوں کے چلے جانے پر خاصا رنجیدہ تھا اور اس کی ساری پھرتیاں رخصت ہو چکی تھیں۔ نہایت بددلی سے اس نے بس کے نیچے گھس کر فیول فلٹر لگایا اور باہر نکل کر اعلان کیا کہ اسے باقی چیزیں واپس لگانا نہیں آتیں لہٰذا کوئی مکینک بلایا جائے۔ یہ کہہ کر اس نے اپنے گریس اور کالک سے بھرے ہوئے ہاتھ ایک کپڑے سے صاف کئے‘ ٹرک پر بیٹھا‘ سلف مار کر اپنا ٹرک سٹارٹ کیا اور یہ جا وہ جا۔ اب ہم زمین پر پڑے ہوئے پائپوں اور پرزوں کے ساتھ سڑک پر کھڑے تھے۔ کنڈیکٹر کو دوبارہ پل باگڑ بھجوایا ۔ مکینک منگوایا۔ سامان کو دوبارہ فٹ کروایا اور آدھا دن گزرنے کے بعد سدھنائی پہنچ گئے۔ بعد میں کئی دفعہ اس بات کا تجربہ ہوا کہ لوگ چیز کھول تو لیتے ہیں مگر جوڑ نہیں سکتے۔ کام خراب تو کر سکتے ہیں مگر دوبارہ ٹھیک نہیں کر سکتے۔ معاملات کو بگاڑ تو سکتے ہیں مگر درست نہیں کر سکتے۔ پھر ان تجربات کے بعد یہ بات پلے باندھ لی کہ کوئی بھی چیز صرف اسی شخص سے کھلوائی جائے جسے واپس جوڑنا بھی آتا ہو۔ یہ فیصلہ اپنی حد تک تو درست بھی ہے اور قابل عمل بھی،لیکن وہاں کیا کیا جائے جہاں معاملات نہ اپنے بس میں ہوں اور نہ ہی اختیار میں۔ موجودہ حکومت کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ جس جس چیز کو بھی کھولا ہے واپس ان سے بند نہیں ہو رہی۔ جس چیز کو توڑا ہے ان سے واپس جڑ نہیں رہی اور جس معاملے کو بھی بگاڑا ہے ان سے واپس درست نہیں ہو رہا۔ ایچ ای سی کا چیئرمین فارغ تو کر دیا ہے لیکن نیا چیئرمین ان سے لگ نہیں رہا۔ پی آئی اے کا چیئرمین لگایا تو ایسا کہ جس کا تجربہ ایئر لائن کے بجائے تمباکو فیکٹری چلانے کا تھا لہٰذا سپریم کورٹ نے فارغ کر دیا۔ ملک میں بجلی کا بحران قابو میں نہیں آ رہا اور اس کو حل کرنے کے بجائے مزید بگاڑ ا جا رہا ہے۔ ملک میں بجلی کی نو عدد تقسیم کار کمپنیوں کے معاملات کو چلانے کے لئے قائم کردہ بورڈ آف ڈائریکٹرز کو قسط وار توڑا جا رہا ہے۔ لیکن صرف توڑا جا رہا ہے نئے بورڈ نہیں بنائے جا رہے۔ چودہ رکنی بورڈز کو توڑ کر سرکاری عہدیداروں پر مشتمل چار رکنی بورڈ بنائے جا رہے ہیں جن سے بورڈ میٹنگ اور فیصلوں کے لئے کورم ہی پورا نہیں ہوتا۔ فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو) کا بورڈ کئی ماہ پہلے توڑ دیا گیا ہے اور اس عرصے میں ان سے نیا بورڈ نہیں بن سکا۔ نتیجہ یہ نکلا ہے کہ سارے کام ٹھپ پڑے ہیں۔ مالی معاملات پر بریک لگ گیا ہے اور کسی قسم کی خریداری نہیں ہو سکتی۔ ضروری اور روز مرہ استعمال کی چیزیں ختم ہو چکی ہیں۔ سسٹم کو چلانے کے لئے درکار ضروری اور اہم چیزیں ناپید ہو گئی ہیں۔ حتیٰ کہ کھمبے، تاریں اور ٹرانسفارمرز تک کی قلت ہو رہی ہے مگر حکمران مزے کر رہے ہیں۔ گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (گیپکو) کا بھی یہی حال ہے۔ بورڈ توڑا جا چکا ہے‘ مگر بننے میں نہیں آ رہا۔ ملتان الیکٹرک پاور کمپنی (میپکو) کا بورڈ سالانہ جنرل میٹنگ سے محض چند گھنٹے پہلے توڑ دیا گیا ہے۔ اگر صرف دس گھنٹے بعد توڑا جاتا تو میپکو کے مالی معاملات پر لگنے والی بریک سے بچا جا سکتا تھا مگر کسی کو نہ تو فکر ہے اور نہ کسی چیز کی پروا۔ حکمرانوں کا حال بھی ٹرک ڈرائیور جیسا ہے جسے انجن کھولنا تو آتا تھا جوڑنا نہیں آتا تھا۔ ان کو ادارے برباد کرنا، چلتی ہوئی چیزیں توڑنا اور معاملات کو مزید خراب کرنا تو آتا ہے۔ جوڑنا، ٹھیک کرنا اور درست کرنا نہ تو انہیں آتا ہے اور نہ ہی شاید یہ ان کے بس کی بات ہے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں