نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- پی ٹی آئی نے عوام کیساتھ بڑے وعدے کیےتھے،سراج الحق
  • بریکنگ :- پی ٹی آئی حکومت نے عوام سےکیاگیاایک وعدہ بھی پورانہیں کیا،سراج الحق
  • بریکنگ :- پی ٹی آئی حکومت نے ریاست مدینہ بنانےکاوعدہ کیا،سراج الحق
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

یکسوئی اور پختہ ارادہ شرط اول ہے

طالبان سے مذاکرات یا آپریشن؟ یہ بحث پچھلے کئی سال سے چل رہی ہے لیکن صرف بحث کی حد تک۔ نہ مذاکرات ہو رہے تھے نہ آپریشن۔ طالبان سے ہمدردی رکھنے والے مذاکرات کے حامی ہیں اور حقیقت پسند آپریشن کے۔ لیکن معاملہ یہ آن پڑا تھا کہ حکومت کی نہ تو کچھ کرنے کی نیت تھی اور نہ ارادہ۔ عمل کی طرف پہلا قدم نیت اور ارادہ ہے۔ گومگو اور انتظار کرو کی پالیسی نے حکومتی رٹ کو بالکل مذاق بنا کر رکھ دیا ہے۔ بے گناہ لوگ مر رہے ہیں۔ اے پی سی کا اعلامیہ‘ مذہبی جماعتوں کا موقف‘ مولانا فضل الرحمن اور سمیع الحق کے دعوے۔ سب لاحاصل اور بے مقصد ثابت ہوئے۔ عمران خان کا موقف اپنی قدرو قیمت کھو چکا ہے اور صفر جمع صفر سے رتی برابر زیادہ اہمیت کا حامل نہیں ہے۔ طالبان ہماری تو چھوڑیں مولانا فضل الرحمن کی‘ مولانا سمیع الحق کی‘ سید منور حسن کی اور عمران خان کی نہیں سنتے۔ اگر ان میں سے کسی کو اس بات کا دعویٰ ہے تو وہ مذاکرات کا بیڑہ اٹھائے اور ان پر عملدرآمد کی ضمانت دے۔ ضمانت کو چھوڑیں۔ وہ چار دن شمالی وزیرستان میں بیٹھ کر‘ کسی طالبان کمانڈر سے بات کر کے دکھا دے‘ یہ عاجز اس کی اہمیت‘ خلوص‘ طاقت اور اثرونفوذ کا قائل ہو جائے گا۔ مگر سب صرف بیانات دے رہے ہیں اور دکانداری چمکا رہے ہیں۔ سب کو اپنی حقیقی طاقت اور اوقات کا بخوبی علم ہے۔ 
کیا آپریشن سے وہ نتائج ملنے کی توقع ہے جس کی آپریشن کے حامی امید لگائے بیٹھے ہیں؟ کیا آپریشن اتنا آسان ہے جتنا ہم لوگ سمجھ رہے ہیں؟ ریگولر آرمی اور مقابل فریق کے طریقۂ جنگ میں اتنا فرق ہے کہ یہ ایک Battle Field کا معاملہ نہیں ہے۔ رہ گئی بات مذاکرات کی تو اس سلسلے میں صرف اتنا عرض کرنا ہے کہ مذاکرات میں مرضی اور منشاء کا معاہدہ تبھی ہوتا ہے جب ایک فریق۔ کم از کم ایک فریق۔ جنگ سے باعزت نجات چاہتا ہو۔ خاص طور پر ایسی صورتحال میں جب یہ بھی طے ہو کہ اس جنگ میں وہ کبھی جیت نہیں سکتا۔ ایسی صورت میں وہ جنگ سے پیچھے ہٹنے کا باعزت راستہ تلاش کرتا ہے اور مذاکرات اسے یہ راستہ دیتے ہیں مگر ادھر صورتحال مختلف ہے۔ حکومت اگر کمزوری دکھا کر مذاکرات کرتی ہے تو نہ صرف ریاست کی رٹ بلکہ بذاتِ خود ریاست کا وجود خطرے میں ہوگا اور فریق مخالف اپنی شرائط پر مذاکرات کو نتیجہ خیز بنانا چاہے گا‘ جو صرف اور صرف تباہی اور بربادی کا راستہ ہے۔ لیکن سچی بات یہ ہے کہ صرف آپریشن بھی اس سارے فساد کا حل نہیں ہے۔ پہلے ایک زوردار آپریشن اور پھر مذاکرات۔ اس مسئلے کا یہی حل ہے۔ صرف آپریشن والا معاملہ اس لیے قابل عمل نہیں کہ آپ یہ آپریشن لامحدود وقت تک جاری نہیں رکھ سکتے۔ ایک نہ ایک روز اس کا بیٹھ کر حل نکالنا ہوگا۔ لیکن اس کے لیے فریق ثانی کو مزید بیٹھنے کے لیے مجبور کرنا ہوگا۔ لیکن فریق ثانی کو مولانا سمیع الحق یا فضل الرحمن کے ذریعے میز پر بیٹھنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ فی الوقت صورت حال یہ ہے کہ طالبان مذاکرات کرنا ہی نہیں چاہتے۔ ان کی مذاکرات کی پیشکش اور شرائط ویسی ہیں جیسی کسی فاتح کی ہوتی ہیں۔ 
حکیم اللہ محسود کے بعد تو صورتحال یکسر تبدیل ہو چکی ہے۔ ملا ریڈیو یعنی فضل اللہ تو آیا ہی مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کے لیے ہے۔ طالبان کسی ایک تنظیم کا نام نہیں۔ یہ پچاس سے زائد تنظیموں پر مشتمل ایک فیڈریشن کا نام ہے۔ ہر تنظیم کا اپنا اپنا ایجنڈا ہے اور اپنا اپنا لائحہ عمل۔ اپنا اپنا ٹارگٹ ہے اور اپنا اپنا سپانسر۔ کسی کو 'را‘ کی مدد حاصل ہے تو کسی کو امریکہ کی۔ کسی کو دونوں کی اور کسی کو ان کے علاوہ کسی اور کی۔ شمالی وزیرستان اور قبائلی علاقہ ان تمام گروپوں کی مشترکہ چھائونی ہے‘ جہاں ہر فریق نے اپنے اپنے کیمپ بنا رکھے ہیں اور پورے پاکستان کو اپنا میدان جنگ۔ دوسری طرف فوج کے سامنے ایک عجیب و غریب میدان جنگ ہے‘ جس میں دشمن بھی ہیں اور بے گناہ لوگ بھی۔ غیر ملکی بھی اور پورے پاکستان سے مذہب کے نام پر اکٹھے کیے گئے جنونی بھی۔ خودکشی پر تیار۔ شیخ الجبل کے پیروکاروں کی طرح۔ قلعہ الموت کے جانثاروں کی مانند۔ حسن بن صباح کی جنت کے امیدوار۔ 
پاکستان میں امریکی عمل دخل اب نہ تو ا چنبھے کی بات ہے اور نہ ہی حیرانی کی۔ اس حقیقت کو عوام اور حکمران یکساں قبول کر چکے ہیں۔ پچھلے قصے دہرانا فضول ہے۔ شنید ہے کہ وزیراعظم میاں نوازشریف امریکہ بہادر سے تین وعدے کر چکے ہیں۔ شمالی وزیرستان میں آپریشن‘ بھارت سے دوستی اور ایٹمی طاقت کو بتدریج ایک خاص مقام تک پیچھے لانا۔ بھارت کے ساتھ تعلقات کو ہر حال میں آخری حد تک خوشگوار رکھنے کے لیے ان کی بے تابی صاف ظاہر ہے اور اب شمالی وزیرستان آپریشن۔ 
امریکہ پچھلے ایک عشرے سے شمالی وزیرستان آپریشن کے لیے ہمیں مجبور بھی کرتا رہا ہے اور زور بھی دیتا رہا ہے۔ جس کام کے لیے امریکہ زور دے رہا ہو وہ امریکی فائدے میں ہوگا نہ کہ پاکستان کے فائدے میں۔ پہلے جنرل پرویز مشرف اور بعد میں جنرل کیانی اس آپریشن سے انکار کرتے رہے۔ اس انکار کا خمیازہ کئی صورتوں میں ہمیں بھگتنا پڑا۔ وجہ صرف یہ تھی کہ یہ ایک نہ ختم ہونے والی جنگ کا آغاز تھا۔ ایک ایسی جنگ جس میں صرف پاکستان کا نقصان تھا‘ خواہ نتیجہ کچھ بھی نکلے۔ میدانِ جنگ میں لڑنے کی تربیت یافتہ فوج کو ایک ایسی جنگ میں دھکیلنے کی سازش جس کی انہیں تربیت ہی نہیں ہے۔ امریکہ اس طرح پاکستان کی فوج کو ایک ایسی لامتناہی جنگ میں مصروف کرنا چاہتا تھا جس کا نتیجہ بہت خوفناک ہے۔ فوج کی اندرون ملک مصروفیت۔ ریاست کی رٹ کی مزید بربادی۔ ریاست کے وسائل کی تباہی۔ معاشی بدحالی۔ ریاست کی مجموعی کمزوری۔ اس کے نتیجے میں خدانخواستہ خاکم بدہن‘ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو مکمل رول بیک کرنا۔ 
جس آپریشن کے لیے ہم پچھلے ایک عشرے سے امریکی دبائو برداشت کر رہے تھے مگر انکاری تھے‘ اب خود کرنے پر مجبور ہیں۔ ایک طرف دنیا کی پانچویں بڑی فوج ہے اور دوسری طرف مذہب کے نام پر لڑنے والوں کے لاتعداد گروہ۔ جن میں سے بیشتر غیر ملکی امداد اور آشیرباد کے حامل ہیں۔ را‘ موساد اور سی آئی اے کی مکمل مدد اور تعاون سے لیس۔ ایسے مواصلاتی ذرائع‘ سازو سامان اور اسلحہ سے مسلح‘ جو پاکستان میں نہ تو بنتا ہے اور نہ ہی میسر ہے۔ ایسے دشمنوں سے آراستہ جو افغانستان میں بیٹھ کر سارا معاملہ آپریٹ کر رہے ہیں۔ اب صورتحال یہ ہے کہ نہ آپریشن حل ہے اور نہ ہی اس سے مفر۔ ''ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظرِ فردا ہوں‘‘ والا معاملہ بھی نہیں چل سکتا کہ بات کہیں آگے نکل گئی ہے۔ بنوں اور آر اے بازار کا واقعہ۔ یکطرفہ امن کی کوششیں کبھی کامیاب نہیں ہوتیں۔ مولانا سمیع الحق کا فرمانا ہے کہ ''میری کاوشوں کا طالبان نے اگلے روز ہی مثبت جواب دیا تھا کہ حکومت نے آپریشن شروع کردیا‘‘۔ طالبان کی جانب سے مثبت جواب سے ان کی مراد غالباً بنوں میں ہونے والا بم دھماکہ تھا۔ 
وزیرستان آپریشن شروع کرنا کوئی خوش کن کام نہیں مگر موجودہ تناظر میں نہ کرنا اس سے بھی زیادہ خرابی کا باعث تھا جس کو ہم بھگت رہے ہیں۔ یہ آپریشن اگر لمبا ہو گیا تو امریکی مفاد میں جائے گا۔ وزیراعظم تو اس کی یقین دہانی کروا چکے ہیں لیکن یہ یقین دہانی امریکی مفاد میں ہے نہ پاکستان کے مفاد میں۔ یہ آپریشن ہمیں اپنے زمینی حقائق کو سامنے رکھ کر ڈیزائن کرنا ہوگا نہ کہ امریکی مفاد اور امریکہ بہادر سے کی گئی یقین دہانی کے مطابق۔ فیصلہ احتیاط کا متقاضی ہے مگر یکسوئی اور پختہ ارادہ شرط اول ہے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں