نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- کیادنیاافغانستان اورخطےکوچھوڑنےکی غلطی دہرائے گی؟معید یوسف
  • بریکنگ :- پاکستان نےہمیشہ افغان مذاکرات اورسیاسی تصفیے کی حمایت کی،معید یوسف
  • بریکنگ :- پاکستان افغانستان میں جنگ کی وجہ سے بری طرح متاثر ہوا، معید یوسف
  • بریکنگ :- ہمیں 80 ہزارسےزائدجانی نقصان اٹھانا پڑا،معید یوسف
  • بریکنگ :- ہمیں 150 بلین ڈالر سےزائد کا معاشی نقصان اٹھانا پڑا،معید یوسف
  • بریکنگ :- بھارت نے پاکستان کے خلاف جعلی بیانیہ بنایا، معید یوسف
  • بریکنگ :- بھارت نےافغان سرزمین کو پاکستان کیخلاف دہشتگردی کیلئےاستعمال کیا،معید یوسف
  • بریکنگ :- افغانستان کوانسانی بحران سےبچاناعالمی برادری کی ذمہ داری ہے،معید یوسف
  • بریکنگ :- عالمی برادری کو اپنی کوششوں کو مربوط کرنا چاہیئے،معید یوسف
  • بریکنگ :- عالمی برادری کو اتفاق رائے کےساتھ آگےبڑھناچاہیئے،معید یوسف
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

دوسرا ایڈونچر

شوکت فہمی میرا بہت عزیز دوست ہے بلکہ دوست کم اور چھوٹا بھائی زیادہ۔ دوست تو وہ کمال کا ہے ہی‘شاعر بہت غضب کا ہے اور ایسی خوبصورت غزل لکھتا ہے کہ پڑھ کر یا سن کر کئی دن تک طبیعت میں فرحت کا احساس رہتا ہے۔بے شمار شعر ایسے کہ پڑھ کر احساس ہوتا ہے کہ اردو شاعری کا مستقبل عموماً اور غزل کا مستقبل خصوصاً بے حد روشن ہے۔ کالم اس کی شاعری پر نہیں وگرنہ ایک دو غزلیں اور دس پندرہ شعر کالم میں سجا دیتا مگر آج صرف دو شعر ؎
یہ تیرا شہر بھی ہے شہر زلیخا جاناں
وہ پیمبر ہے جو دامن کو بچا لے جائے
ہم خوش تھے بڑے‘ رات گزر جانے پہ لیکن 
یہ دن تو وہی کل سا دوبارہ نکل آیا 
یہ دوسرا شعر اس نے گزشتہ الیکشن کے نتائج دیکھ کر لکھا تھا۔ وہ الیکشن سے پہلے کہتا تھا کہ اگر عمران خان جیت گیا تو وہ پاکستان آ جائے گا۔میں یہ بتانا بھول گیا ہوں کہ وہ نیو یارک میں رہتا ہے اور وہاں دو پٹرول پمپ جنہیں امریکہ میں گیس سٹیشن کہتے ہیں‘ چلاتا ہے۔وہ بظاہر امریکہ میں رہتا ہے مگر وہ وہاں کہاں رہتا ہے وہ تو ہمہ وقت پاکستان میں رہتا ہے۔ میرا مطلب ہے ہر دم وہ پاکستان آنے کی پلاننگ کرتا رہتا ہے۔میرے کئی دوست امریکہ میں رہتے ہیں اور بقول ان کے وہ خود امریکہ میں ہیں مگر ان کا دل پاکستان میں رہتا ہے‘ لیکن ایمانداری کی بات ہے کہ یہ بات کہنا اب تقریباً فیشن بن چکا ہے۔ جو دوست گزشتہ ایک عشرے سے پاکستان نہیں آئے وہ بھی یہی کہتے ہیں۔ جن کا اب پاکستان میں کچھ باقی نہیں بچا وہ بھی یہی کہتے ہیں۔ جو اپنی جائداد بیچ کر امریکہ میں گھر خرید چکے ہیں وہ بھی یہی بات دوہراتے ہیں اور جن کے بچوں نے کبھی نہ تو پاکستان کی شکل دیکھی اور نہ وہ پاکستان جانے کا نام سننا پسند کرتے ہیں وہ بھی یہی دعویٰ کرتے ہیں لیکن شوکت فہمی کی بات اور ہے۔ وہ صرف یہ بات کہتا ہی نہیں بلکہ مسلسل اس تگ و دو میں لگا ہوا ہے کہ وہ کسی طرح پاکستان آ جائے۔ بلکہ ایک بار تو آ بھی گیا تھا مگر اسے واپس امریکہ دھکیل دیا گیا۔تاہم اس نے پچھلے تجربے سے بھی کوئی سبق حاصل نہیں کیا۔
چند سال پہلے اس نے شیخو پورہ فیصل آباد روڈ پر ننکانہ صاحب والے موڑ کے نزدیک ایک سی این جی سٹیشن لگانے کی ٹھانی اور پاکستان آ گیا۔ڈیفنس میں گھر کرائے پر لے لیا اور فائلیں بغل میں دبا کر ضروری منظوریوں اور این او سی لینے کے چکروں میں پڑ گیا۔زمین خرید لی اور سرکاری دفتروں میں جوتیاں چٹخانی شروع کر دیں۔ وہ ان حالات سے نہ تو مایوس تھا اور نہ ہی امریکہ پلٹ پاکستانیوں کی طرح سسٹم پر لعنت ملامت کر رہا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ اس سب کچھ کے لیے ذہنی طور پر تیار ہو کر آیا تھا۔ اسے پاکستان میں رائج ان خرابیوں کا پہلے سے پورا ادراک تھا؛ لہٰذا اسے نہ کوئی تعجب ہے اور نہ حیرانی۔بہرحال وہ لگا رہا اور اس نے سی این جی سٹیشن کے لیے درکار چاروں این او سی حاصل کر لیے اور خریدی گئی زمین پر عمارت تعمیر کرنا شروع کر دی۔اسی دوران اس نے سی این جی سٹیشن کے لیے درکار مشینری کی درآمد کا آرڈر دے دیا۔لیکن اچانک ایک غیر متوقع مشکل آن پڑی۔شیخو پورہ فیصل آباد روڈ ایک کمپنی کے پاس ٹھیکے پر تھی انہوں نے آ کر سی این جی سٹیشن کی نو تعمیر شدہ عمارت کے سامنے سڑک پر ایک بڑی چوڑی خندق کھود دی ۔کمپنی کی انتظامیہ کا کہنا تھا کہ اس سٹیشن کے عین سامنے یوٹرن ہے اور قانوناً یو ٹرن کے دو سو گز دائیں یا بائیں طرف پٹرول پمپ یا سی این جی سٹیشن نہیں بن سکتا۔شوکت نے اب اس کمپنی کے دفتر کے چکر لگانے شروع کر دیے۔پہلے تو شوکت نے بزعم خود ''میرٹ‘‘ پر کیس لڑنا شروع کیا۔ اس کا کہنا تھا کہ مجھے یہ بات این او سی جاری کرنے سے پہلے بتائی جاتی۔اگر کوئی مسئلہ تھا تو این او سی ہی نہ دیا جاتا۔ مگر بات نہ بنی۔ اب شوکت نے اس کمپنی کو اسی سڑک پر یو ٹرن کے عین سامنے بنے ہوئے تین چار سی این جی سٹیشنز کی تصویریں پیش کر دیں کہ یہ سارے سٹیشن اس ضابطے کے خلاف بن بھی چکے ہیں اور چل بھی رہے ہیں۔ کمپنی کی انتظامیہ کا کہنا تھا کہ یہ دلیل اور ثبوت دینے سے آپ کا مسئلہ بہرحال حل نہیں ہو سکتا۔آپ کا کیس ان سی این جی سٹیشنز سے جڑا ہوا نہیں بلکہ ایک علیحدہ کیس ہے اور اس پر ہمارا فیصلہ حتمی اور آخری ہے۔ چارو ناچارشوکت نے اب ایک اور تجویز دی کہ وہ اس یوٹرن کو بند کرنے اور دوسو گز دور یوٹرن بنانے کا خرچہ دینے کے لیے تیار ہے۔سامنے بنا ہوا یوٹرن کوئی آسمانی حکم پر نہیں بنا کہ اس کی جگہ تبدیل نہ ہو سکے۔ مزید برآں یہ کہ ہائی وے پر بنا ہوا یہ یوٹرن اگر دو سو گز دائیں بائیں ہو جائے تو کوئی فرق نہیں پڑے گا لیکن کمپنی انتظامیہ نے جو ریٹائر فوجی افسروں پر مشتمل تھی کوئی بات ‘کوئی دلیل اور کوئی درمیانی حل قبول کرنے سے صاف انکار کر دیا۔
شوکت کو اب پریشانی شروع ہو گئی۔ میں لاہو آیا اور اس کے ساتھ اپنے ایک دوست کے پاس گیا۔ یہ دوست سینیٹر تھا اور حکومت کا مشیر بھی تھا۔ وہاں گئے تو ایک اور کہانی وہاں چل رہی تھی جو شوکت کے معاملے سے بھی کہیں دردناک تھی۔ ایک خاتون جو مشکل سے کسی عزت دار گھرانے کی اور گفتگو سے پڑھی لکھی لگتی تھی‘ خاموشی سے بیٹھی رو رہی تھی۔ ہمارے دوست سینیٹر نے اسے دلاسہ دیا‘ مسئلہ حل کرنے تو نہیں لیکن حتی المقدور مدد کی یقین دہانی کروائی۔ وہ خاتون آنسو پونچھتی ہوئی رخصت ہو گئی۔ ہمارا دوست بتانے لگا کہ اس خاتون کا خاوند نیب کے کیس میں جیل میں ہے ۔پلی بارگین کے لیے خاتون نے اپنا گھر فروخت کر دیا۔خریدار نے گھر لے لیا مگر پوری ادائیگی نہ کی اور رجسٹری کروا لی۔اس نے وہ گھر کسی اور کو فروخت کر دیا ہے۔خاوند جیل میں ہے‘گھر پر کسی اور نے قبضہ کر لیا ہے ۔زیر تعلیم بچے انگریزی سکولوں سے سرکاری سکولوں میں آ گئے ہیں۔ خود خاتون ایک پرائیویٹ نوکری کر رہی ہے۔ گھر بھی چلا گیا اور پیسے بھی نہیں ملے۔قبضہ گروپ گھر پر قابض ہے اور نیب والے پیسے مانگ رہے ہیں۔ میں پوری کوشش کر رہا ہوں مگر قبضہ کرنے والوں نے عدالت سے حکم امتناعی حاصل کر رکھا ہے۔کاغذات کے 
حساب سے خاتون کے پاس کچھ نہیں۔ میں پوری کوشش کر رہا ہوں مگر بات نہیں بن پا رہی۔ پھر دکھی ہو کر کہنے لگا۔ خالد! بھارت میں بھی ناانصافی ‘عدل سے محرومی اور خرابیاں ہیں لیکن وہاں یہ سب کچھ سرکاری سرپرستی میں نہیں ہوتا۔یہاں یہ چیزیں Institutionaliseہو گئی ہیں۔ سرکاری محکمے اپنی ذمہ داریوں سے فارغ ہو چکے ہیں۔ انصاف اور تحفظ فراہم کرنے والے اداروں کے کارپرداز ان زور آور کے ساتھ مل چکے ہیں اور غریب مظلوم کا کوئی پرسان نہیں ہے۔ ایک دو لمحے خاموش رہنے کے بعد وہ دوست کہنے لگا‘ اگر اگلے چند سال میں یہ نظام درست نہ ہوا اور حالات اسی سمت جاتے رہے جس طرف جا رہے ہیں‘ میں مرگیا اور آپ زندہ رہے اور یہ ملک قائم رہ گیا تو آپ میری قبر پر آ کر ''تھوک‘‘ دیجیے گا۔ دو چار دن بعد ہمارے سینیٹر دوست نے معذرت کر لی کہ وہ شوکت کا سی این جی سٹیشن والا معاملہ حل نہیں کروا سکا۔شوکت نے مشینری بیچ دی۔ عمارت وہیں کھڑی گل سڑ رہی ہے۔ مشینری بیچ کر اس پیسے سے لاہور ڈیفنس میں پلاٹ خرید لیا اب پچھلے دنوں وہاں مکان بنوانا شروع کر دیا ہے ۔ آج اس بات کو قریب چار سال گزر چکے ہیں اور حالات پہلے سے زیادہ خرابی کی طرف جا چکے ہیں۔
گزشتہ روز شوکت فہمی سے فون پر بات ہوئی تو وہ کہنے لگا کہ آپ آرمی کے کسی اچھے سکول میں داخلے کا بندوست کریں میں عنقریب پاکستان آ رہا ہوں۔ محض تین چار سال بعد شوکت پھر ایک ایڈونچر پر تیار ہے۔ اگر اس نے خود تجربے سے کچھ نہیں سیکھا تو بھلا میں اسے کیا مشورہ دے سکتا ہوں؟ یہ اس کا دوسرا ایڈونچر ہو گا۔ خدا نہ کرے کہ اس بار بھی اس کے ساتھ وہی ہو‘ جو پہلے ہوا تھا۔ 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں