نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- عالمی رہنماؤں سےافغانستان اورکشمیرسےمتعلق بات ہوئی،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- کشمیریوں کیساتھ اظہاریکجہتی پراوآئی سی رابطہ گروپ کےمشکورہیں،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- ترک وزیرخارجہ سےعمران خان اورترک صدرملاقات بارےتبادلہ خیال ہوا،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- سعودی وزیرخارجہ سےبھی ملاقات ہوئی،وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- سعودی وزیرخارجہ کوافغانستان سےمتعلق پاکستانی نقطہ نظرپیش کیا،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- افغان صورتحال عالمی برادری کےلیےامتحان ہے،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- افغان صورتحال پرایک مربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- عالمی برادری مشکل گھڑی میں افغان عوام کی معاونت کرے،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- افغانستان میں معاشی بحران خطرناک ہوسکتاہے،وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- دنیاایک رخ دیکھ رہی ہے،وزیراعظم تقریرمیں دوسرارخ پیش کریں گے،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- وزیراعظم کاجنرل اسمبلی سےایک جامع خطاب ہوگا،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- جنرل اسمبلی اجلاس کےموقع پراہم رہنماؤں سےملاقاتیں ہوئیں،شاہ محمودقریشی
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

عقل سے کشیدہ تعلقات

میں گزشتہ دو دن سے سیالکوٹ میں ہوں لیکن یہ تو کوئی خبر والی بات نہیں۔ خبر والی بات تو یہ بھی نہیں کہ ان دو دنوں میں سے ایک دن میں اپنی مرضی سے یہاں رہا ہوں اور کل سے میں یہاں پھنسا ہوا ہوں۔ یعنی ایک دن برضا و رغبت اور ایک دن اپنی منشا کے بالکل برعکس یہاں ہوں۔ ظاہر ہے میں حکمرانوں کا صنعتکار دوست تو ہوں نہیں کہ میرے لیے کوئی ہیلی کاپٹر بھجوایا جاتا اور سڑکوں پر رکھے کنٹینروں کی موجودگی میں سیالکوٹ سے نکلنا ناممکنات کے قریب قریب کا کام بن چکا ہے۔ تھوڑی دیر پہلے تک میں غصے میں بھی تھا اور پریشانی میں بھی‘ مگر ہوٹل کے کمرے میں رکھے ٹی وی پر خبریں سننے کے بعد مجھے اپنی مصیبت بڑی چھوٹی لگنے لگ گئی ہے۔ مجھے اس بری صورتحال میں بھی ایک لطیفہ یاد آ گیا ہے۔ 
ایک شخص نے اپنا پرس کھولا تو اس میں ایک ٹرانسپیرنٹ خانے میں اس کی بیوی کی تصویر لگی ہوئی تھی۔ ساتھ بیٹھا ہوا دوست یہ تصویر دیکھ کر بڑا متاثر ہوا اور کہنے لگا میں تمہاری محبت سے بڑا حیران ہوا ہوں۔ میں نے تمہاری شکل میں پہلا شوہر دیکھا ہے جو اپنی بیوی کی فوٹو کو اس طرح ہر وقت اپنے ساتھ رکھتا ہے۔ وہ شخص کہنے لگا‘ میں نے یہ تصویر اس لیے اپنے پرس میں رکھی ہوئی ہے کہ یہ میری ہر مشکل صورتحال میں مدد کرتی ہے۔ مجھے مشکل کا احساس کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ اس کا دوست مزید متاثر ہو کر پوچھنے لگا کہ وہ کیسے؟ وہ شخص بولا۔ مجھ پر جب بھی کوئی مصیبت یا مشکل آتی ہے‘ میں اپنی بیوی کی تصویر پرس سے نکالتا ہوں اور اس پر نظر ڈالتا ہوں۔ پھر خود کو تسلی دیتے ہوئے کہتا ہوں۔ ولیم! تمہاری موجودہ مصیبت بہرحال اس (بیوی کی تصویر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) مصیبت کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔ 
میرے ساتھ بھی یہی ہوا ہے۔ جب میں نے خبر سنی کہ دریائے جہلم کا پل بند ہونے سے ہزاروں لوگ رات سے سڑک پر پھنسے ہوئے ہیں تو ایئرکنڈیشنڈ ہوٹل کے کمرے میں بڑی راحت محسوس ہوئی۔ جب سنا کہ راستوں میں گھنٹوں سے پھنسے ہوئے لوگوں کو کھانے پینے کی شدید قلت کا سامنا ہے تو لسی پیتے ہوئے خیر خوشی تو کیا ہوتی ان مجبوروں کے لیے دل میں ملال ہوا اور شاندار لسی کا ذائقہ تلخ ہو گیا اور جب یہ پتہ چلا کہ پانچ دولہے اپنی باراتوں سمیت راستے میں پھنسے ہوئے ہیں تو ملتان نہ پہنچنے کا غصہ تقریباً ہوا ہو گیا ہے۔ مجھے صاف ستھرے اور ٹھنڈے کمرے میں محض اس بات کی پریشانی کہ راستے بند ہیں اور میں ملتان جانے سے قاصر ہوں اب بہت چھوٹے درجے کی پریشانی لگ رہی ہے کہ اس وقت پنجاب کی سڑکوں پر‘ موٹروے پر‘ چھوٹے چھوٹے راستوں پر رکھے ہوئے کنٹینرز کی وجہ سے سینکڑوں نہیں‘ ہزاروں لوگ گھنٹوں سے پھنسے ہوئے ہیں‘ بے یقینی کا شکار ہیں اور عورتوں‘ بچوں کے ہمراہ بے یارو مددگار کھلے آسمان تلے حکمرانوں کو بددعائیں دے رہے ہیں۔ نوے فیصد لوگ سڑک پر شوقیہ نہیں مجبوراً آتے ہیں۔ ان میں بیمار بھی ہیں اور ضعیف بھی۔ عورتیں بھی ہیں اور بچے بھی۔ ٹریفک اس طرح پھنسی ہوئی ہے کہ نہ لوگ آگے جانے کے قابل ہیں اور نہ واپس پلٹ سکتے ہیں۔ محض ایک شخص سے ڈر کر لاکھوں لوگوں کو مصیبت و ابتلا میں مبتلا کردیا گیا ہے۔ یہ مکمل اور کھلی انتظامی ناکامی ہے۔ ماڈل ٹائون سانحہ کے بعد ایک دوسری قسم کی ناکامی۔ ایمانداری کی بات تو یہ ہے کہ اخلاقاً حکمران اپنا حق حکمرانی خود اپنی نظر میں صفر کر چکے ہیں۔ اب ان کا حکمرانی کرنا ان کے اپنے اخلاقی دیوالیہ پن کے علاوہ اور کچھ نہیں کہ انہوں نے عام آدمی کو اس کے بنیادی حقوق کو سلب کر کے اور اس کے جان مال کی حفاظت میں مکمل ناکامی سے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ان میں غیر معمولی حالات سے نپٹنے کی رتی برابر صلاحیت نہیں ہے۔ 
میری مشکلات کا آغاز تو سات تاریخ کی شام کو ہی ہو گیا تھا مگر ایمانداری کی بات ہے کہ ملتان سے نکلتے ہوئے یہ اندازہ ہی نہیں تھا کہ حالات اتنے احمقانہ طریقے سے ہینڈل کیے جائیں گے۔ شام تقریباً سات بجے لاہور سے تقریباً دس بارہ کلو میٹر پہلے ملتان روڈ پر پولیس کا ناکہ لگا ہوا تھا۔ بس کو پولیس نے روکا اور ایک سپاہی بادشاہ بس کے اندر آ گیا۔ اس نے ڈرائیور سے پوچھا ''بس میں قادری کا کوئی بندہ تو نہیں؟‘‘ ڈرائیور نے نہایت ہی اعتماد سے جواب دیا کہ ''کوئی نہیں‘‘۔ سپاہی اپنی ڈیوٹی ادا کر کے نیچے اتر گیا۔ میرا ماتھا اس وقت بھی نہ ٹھنکا۔ میرے نزدیک یہ کوئی خطرے کی نہیں بلکہ حماقت بھری حرکت تھی۔ ساری بس نے اس کو انجوائے کیا۔ سپاہی نے بس ڈرائیور کے بیان پر اتنی پھرتی اور تیقن کے ساتھ اعتماد کیا کہ ایسا محسوس ہوا جیسے ڈرائیور کسی خفیہ ایجنسی کا کوئی بڑا ہی قابل اعتماد کارندہ تھا جس نے پوری بس کے مسافروں کی سیاسی وابستگیوں کا ریکارڈ مرتب کر رکھا تھا اور اس نے اس سپاہی کو اس مرتب کردہ ریکارڈ کو مدنظر رکھتے ہوئے نہایت ہی ذمہ داری سے آفیشل سٹیٹمنٹ دی ہے اور سپاہی نے اس پر اعتماد کرتے ہوئے بس کو جانے کی اجازت دے دی ہے۔ بس اڈے پر میں نے ڈرائیور سے اس کے اعتماد اور یقین کی وجہ دریافت کی تو اس نے مسکراتے ہوئے کہا سر جی! اس نے مجھ سے پوچھا تھا کہ بس میں قادری کا کوئی بندہ ہے۔ تو میں نے جواب دیا کہ کوئی نہیں۔ سچی بات تو یہ ہے کہ بس میں اللہ کے بندے تھے۔ قادری کے بندے تو نہیں تھے۔ میں نے کون سا جھوٹ بولا ہے؟ 
لاہور میں فیصل ٹائون جانا ایک مرحلہ تھا۔ بس ٹرمینل سے چھ سات ٹیکسی والوں نے تو فیصل ٹائون کا نام سن کر ہی انکار کردیا۔ بالآخر ایک رکشے والے کو مجھ پر ترس آ گیا۔ لیکن اس ترس کے دوران بھی اس نے مجھ سے عام دنوں سے دگنا کرایہ طلب کیا۔ وہ ایسی ایسی گلیوں سے گزرا کہ جن کی پہلے کبھی شکل نہ دیکھی تھی۔ سات آٹھ منٹ کا سفر بیس پچیس منٹ میں اختتام پذیر ہوا۔ کئی بار وہ واپس مڑا اور کئی بار نئی گلی میں داخل ہوا۔ بمشکل اس نے مجھے میری منزل مقصود پر پہنچایا۔ اگلی صبح لاہور سے پسرور روانگی تھی۔ پسرور میں مشاعرہ تھا۔ ایمن آباد موڑ تک سفر بخیریت گزرا۔ ایمن آباد اور پسرور کے درمیان ایک چھوٹا سا قصبہ دھرم کوٹ تھا جہاں سے ایک سڑک سیالکوٹ اور دوسری پسرور جاتی تھی۔ چوک میں ٹرالر کھڑے تھے۔ ٹریفک پھنسی ہوئی تھی اور دو چار کانسٹیبل بمعہ ایک اے ایس آئی ٹریفک کو مزید پھنسانے میں مصروف تھے۔ ہر 
طرف ٹریفک بند تھی۔ نہ کوئی سیالکوٹ یا پسرور سے لاہور کی جانب جا سکتا تھا اور نہ جی ٹی روڈ کی طرف جانے والوں کو راستہ مل رہا تھا۔ برا حال تھا۔ میں نے کانسٹیبل سے پوچھا آپ لوگ کیا کر رہے ہیں؟ وہ کہنے لگا‘ راستہ کھلوا رہا ہوں۔ میں نے کہا‘ آپ یہ ٹرالر ہٹوا دیں تو راستہ کھل جائے گا۔ کانسٹیبل کہنے لگا‘ سر جی! میں ٹرالر تو نہیں ہٹوا سکتا۔ یہ تو ہم نے تھوڑی دیر پہلے خود لگوائے ہیں۔ میں نے پوچھا‘ ان کو ہٹائے بغیر راستہ کیسے کھل سکتا ہے؟ کانسٹیبل کہنے لگا‘ جناب عالی! آپ دیکھ نہیں رہے‘ یہ سائڈ پر ہم نے تھوڑی سی جگہ چھوڑ رکھی ہے۔ آپ ادھر سے گاڑی گزار لیں۔ میں نے کہا۔ بادشاہو! آپ کہہ تو ٹھیک رہے ہیں مگر سڑک پر دونوں طرف آنے جانے والی گاڑیاں بالکل آمنے سامنے ہیں اور موٹر سائیکل کے گزرنے کا راستہ بھی نہیں ہے‘ گاڑی کہاں سے گزرے گی؟ وہ بولا۔ آپ کہتے تو ٹھیک ہیں مگر آپ یہ بتائیں میں کیا کروں؟ میں نے کہا‘ آپ یہ کریں کہ کسی طرح یہ سائڈ والی ویگن کو ایک طرف کروا کر راستہ بنائیں۔ اور وہ سائڈ پر آم کھاتے ہوئے تین کانسٹیبلوں کی ڈیوٹی لگائیں کہ پیچھے سے آنے والی ٹریفک کو پیچھے ہی روک لیں۔ دو قطاریں بنوائیں اور باری باری دونوں طرف کی ٹریفک گزروائیں۔ میں نے اور کانسٹیبلوں نے تقریباً پون گھنٹے میں ٹریفک سیدھی کروائی اور پسرور پہنچ گیا۔ اب کل سے بیٹھا سوچ رہا ہوں کہ ملتان کیسے جائوں؟ کسی نے بتایا ہے کہ دھرم کوٹ میں کھڑے ٹرالروں کو مزید اتنا آگے پیچھے کر دیا گیا ہے کہ ایک گاڑی کے گزرنے کی جگہ بھی باقی نہیں بچی۔ اللہ تعالیٰ حکمرانوں کو عقل سلیم عطا کرے۔ سیالکوٹ بیٹھ کر یہ عاجز صرف دعا کر سکتا ہے؛ تاہم حکمرانی اور عقل کے تعلقات ہمارے ہاں ایک عرصے سے کشیدہ ہیں۔ 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں