نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- پاکستان اسٹیل مل بحالی منصوبہ،12روزسےجاری روڈشوزکاسلسلہ اختتام پذیر
  • بریکنگ :- چین،کوریااورروس کی کمپنیوں کی روڈشوزمیں شرکت
  • بریکنگ :- متعددقومی وبین الاقوامی سرمایہ کاروں اورکنسورشیم کی شرکت
  • بریکنگ :- سرمایہ کاروں کااسٹیل مل بحالی منصوبےمیں دلچسپی کااظہار
  • بریکنگ :- پاکستان کاسب سےبڑاصنعتی یونٹ عرصےسےبندہے،محمدمیاں سومرو
  • بریکنگ :- ہماری حکومت نےاسٹیل مل کی بحالی کااصولی فیصلہ کیا،وفاقی وزیرنجکاری
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

مولا جٹ اور نوری نت

صرف گزشتہ دو دنوں میں موجودہ اور سابق ''وزیر داخلان‘‘ کی باہمی ''گھسن مُکی‘‘ کے باعث لائیو ٹی وی کوریج کے طفیل قوم کو دیکھنے کو جو ملا ہے وہ دیکھ کر دل کرتا ہے کہ بندہ باہر بیٹھے ہوئے دھرنے والوں میں شامل ہو جائے اور اس دھلی دھلائی نیک پروین پارلیمنٹ کے ''ہوا پتاس‘‘ ہو جانے تک وہیں بیٹھا رہے۔ دو چودھریوں کی انا کی جنگ نے اسمبلی کے صرف دو گھنٹوں میں جتنا گند ڈالا ہے اتنا گند تو بائیس دن سے اسلام آباد میں ہزاروں دھرنا کنندگان نے بھی نہیں ڈالا۔ ویسے بھی ان باہر والوں کا گند تو سی ڈے اے کے ٹرک اٹھا کر صاف کر دیں گے‘ دوسرا گند کون اٹھائے گا؟ 
چودھری بھکن کل سے بڑا خوش ہے۔ وہ جب بھی کوئی تماشا لگے‘ گند مچے‘ گھڑمس پڑے یا فساد فی الارض پیدا ہو‘ بڑا خوش ہوتا ہے۔ وہ اسے ''قومی موج میلہ‘‘ قرار دیتا ہے۔ بقول اس کے اس مہنگائی‘ بے روزگاری‘ خوف‘ دہشت‘ لاقانونیت‘ ناانصافی اور بے امنی کے دور میں یہی تو مفتے کا وہ رونق میلہ ہے جسے دیکھ کر بندہ تھوڑی دیر کے لیے اپنی تکلیفیں‘ مشکلیں اور مصیبتیں بھول جاتا ہے۔ چودھری کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن کے ساتھ ایک پنجابی محاورے جیسا سلوک ہو رہا ہے۔ ایک دوست نے چودھری سے پوچھا کہ وہ محاورہ کیا ہے تو چودھری کہنے لگا‘ محاورہ کوئی بہت زیادہ مہذب تو نہیں مگر خدا کا شکر ہے کہ واہیات نہیں ہے۔ زمین سے جڑی ہوئی زبانوں میں اکثر محاورے لکھے نہیں جا سکتے بس سینہ بہ سینہ چلتے ہوئے زندہ رہتے ہیں۔ ایک پنجابی محاورہ ہے کہ ''کھوتا کھوہ پیا تے اوہنوں کھسی کر لؤ‘‘ (اگر گدھا کنویں میں گرا ہو تو اسے خصی کر لیں) مسلم لیگ ن کے ساتھ بھی فی الوقت یہی ہو رہا ہے۔ چودھری نثار نے صرف ایک چٹکی بھری تھی اور اس پر بھی وزیراعظم نے اعتزاز احسن سے معافی مانگ لی۔ مقابلے کے امتحان میں نمایاں پوزیشن لینے والے‘ ملک کے نہایت نامور وکیل‘ اعلیٰ تعلیم یافتہ‘ دانشور‘ شاعرانہ ذوق کا عمدہ نمونہ‘ سیاسی رہنما‘ سابق وزیر باتدبیر‘ سینیٹر اور بردباری و تحمل کے علمبردار چودھری اعتزاز احسن کو ملک کے اس وزیراعظم کی معافی قبول کر لینی چاہیے تھی جو یہ کام بڑی مشکل سے کرتا ہے۔ مگر چودھری اعتزاز احسن کے اندر کا ''جٹ‘‘ مولا جٹ بن چکا تھا اور وہ نوری نت کی ٹانگ کاٹے بغیر راضی ہونے پر تیار ہی نہیں تھا۔ لہٰذا گزشتہ روز اسمبلی میں جو ہوا وہ ساری قوم نے دیکھا۔ کانوں کو ہاتھ لگائے اور پھر اندازہ لگایا کہ اسمبلی میں کیسے کیسے لوگ بیٹھے ہیں۔ ابھی تو تین سو بیالیس کے ایوان میں سے محض دو معززین نے ایک دوسرے کے کپڑے اتارے ہیں اگر دیگر شرفا کو‘ جو ان دو حضرات سے بھی زیادہ ''شریف اور معزز‘‘ ہیں یہ موقع ملے تو قوم کو اپنے نمائندوں کی حقیقت کا پتہ چل جائے۔ اسمبلی میں ''مولا جٹ اور نوری نت‘‘ کا کھڑاک دیکھ کر مجھے ایک پرانا واقعہ یاد آ گیا۔ 
ایک مرحوم کزن کو قلمی دوستی کا شوق تھا۔ اس کا برطانیہ میں ایک گورا قلمی دوست بن گیا۔ یہ ستر کی دہائی کا ذکر ہے۔ تب نوجوانوں میں قلمی دوستی بڑی پاپولر تھی۔ قلمی دوستی کے رسالے چھپتے تھے جن میں قلمی دوستی کے شوقین لوگوں کے پتے ہوتے تھے۔ میرے کزن نے بھی چار چھ لوگوں سے قلمی دوستی شروع کی جو دو تین سال بعد سکڑ کر ایک دوست تک محدود رہ گئی۔ یہ قلمی دوستی برسوں چلتی رہی۔ اگر میں غلطی نہیں کرتا تو اس گورے دوست کا نام فلپ اور آگے کچھ اور تھا لیکن اس کا ''نک نیم‘‘ (عرفیت) ''فِل‘‘ تھی۔ وہ اس قلمی دوستی کے تقریباً چھ سات سال بعد 1980ء میں پاکستان آیا اور میرے کزن کے پاس لاہور میں ٹھہرا۔ اسے لاہور کے تاریخی مقامات دکھائے گئے‘ گھمایا پھرایا گیا۔ لاہور کے روایتی کھانے کھلائے گئے اور اس کی پوری مہمانداری کی گئی۔ اسی دوران میں بھی لاہور آ گیا۔ رات اچانک فلم دیکھنے کا پروگرام بنا۔ اس کی فرمائش تھی کہ اسے کوئی لوکل فلم دکھائی جائے۔ یہاں لگنے والی انگریزی فلمیں وہ سال ڈیڑھ سال پہلے ہی د یکھ چکا تھا۔ ویسے بھی اس کا کہنا تھا کہ وہ یہاں کی مقامی فلم اور اس کے ذریعے یہاں کی ثقافت دیکھنا چاہتا ہے۔ رات ہم اسے 'مولا جٹ‘ فلم دکھانے کے لیے لے گئے۔ یہ اس کے لیے ایک انوکھا تجربہ تھا۔ ہاف ٹائم میں وہ مجھ سے پوچھنے لگا کہ اس فلم کا ہیرو کون ہے اور ولن کون ہے؟ بقول اس کے دونوں ایک جیسے ''غیر سمارٹ‘‘ ایک جیسے قانون شکن‘ ایک ہی جیسے آمادۂ فساد‘ ایک ہی طرح کے لڑاکے ہیں‘ اسے ان دونوں میں ہیرو والی کوئی بات نظر نہیں آ رہی تھی۔ بقول اس کے دونوں ہی ولن ٹائپ ہیں۔ اس کو واقعتاً پتہ نہیں چل رہا تھا کہ دونوں میں سے حق پر کون ہے اور غلط کون ہے۔ دونوں میں سے شریف کون ہے اور بدمعاش کون ہے۔ دونوں قتل پر قتل کر رہے ہیں۔ قانون شکنی کر رہے ہیں۔ فل بدمعاشی کر رہے ہیں۔ آخر ان میں کیا فرق ہے؟ میں نے کہا‘ ان دونوں میں سے جو شخص ہیروئن کو ''پٹانے‘‘ میں کامیاب ہو جائے گا اور ایک قتل زیادہ کرے گا وہ ہیرو ہوگا۔ ہمارے ہاں آخری قتل ہیرو کرتا ہے اور آخری مقتول ولن ہوتا ہے۔ کرتوت دونوں کے ایک جیسے ہوتے ہیں۔ جو مرد لڑکی کو پھنسانے اور بھگانے میں کامیاب ہو جائے وہ ہیرو اور ناکام والا ولن ہوتا ہے۔ فلم ختم ہوئی تو اس کی حیرانی اور پریشانی دیکھی نہیں جاتی تھی۔ 
اب صورتحال یہ ہے کہ قوم کی حیرانی اور پریشانی دیکھی نہیں جاتی کہ دونوں بظاہر معزز ارکان پارلیمنٹ و سینٹ ہیں۔ ایک دوسرے کے عورتوں کی طرح لتے لے رہے ہیں۔ ایک دوسرے کے گندے کپڑے پارلیمنٹ میں دھو رہے ہیں۔ قوم کو پپو پٹواری کا پتہ بھی چل رہا ہے اور جہانگیر تحصیلدار کا بھی۔ لینڈ مافیا کے وکیل کا بھی اور ایل پی جی کے کوٹے لینے والوں کا بھی۔ چودھری اعتزاز نے اپنے ایل پی جی کے کوٹے کے بارے میں وضاحت دی کہ ان کا کوٹہ ڈی ریگولیٹ ہو چکا ہے۔ ایک دوست کہنے لگا‘ پہلی بات تو یہ ہے کہ ان کے دو کوٹے ہیں۔ ایک 1989ء والا جو بے نظیر صاحبہ نے عطا کیا تھا اور دوسرا اقبال زیڈ احمد والا۔ دوسرا کوٹہ ڈی ریگولیٹ ہوا تھا‘ پہلا نہیں۔ ویسے بھی یہ کہنا کہ یہ کوٹہ ان کی بیگم کے نام پر ہے بددیانتی ہے۔ ان کی اہلیہ کی ذاتی کاروباری حیثیت کچھ بھی نہیں سوائے اس کے کہ وہ اعتزاز احسن کی اہلیہ ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے چودھری افتخار کی سربراہی میں ان تمام کوٹہ جات کو کینسل کردیا تھا مگر ابھی تک اس فیصلے پر عمل نہیں ہوا اور تمام ''متاثرین‘‘ نظرثانی میں چلے گئے۔ جہاں تک میرے علم کا تعلق ہے مجھے یہ پتہ ہے کہ نظرثانی میں حکم امتناعی نہیں ہوتا مگر تمام لوگوں کا کوٹہ ابھی تک برقرار ہے اور وہ اس سے منافع کما رہے ہیں۔ مجھے چودھری نثار علی خان سے رتی برابر ہمدردی نہیں مگر یہ بات طے ہے کہ چودھری اعتزاز احسن نے‘ جو ہمیشہ سے نہایت عقلمند اور سمجھداری سے لڑائی لڑتے ہیں‘ اس بار بھی بڑی سمجھداری سے حملہ آور ہوئے ہیں۔ موجودہ حالات میں بری طرح پھنسی ہوئی مسلم لیگ کے کنویں میں گرتے ہوئے گدھے کو معاف کر دینا اور بخش دینا چاہیے تھا۔ انہیں وزیراعظم نوازشریف 
اور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی معذرت اور خورشید شاہ کی چڑھائی کے بعد وسیع القلبی اور درگزر سے کام لینا چاہیے تھا مگر انہوں نے معاف کرنے یا بخشنے کے بجائے اس گدھے کے ساتھ وہی کیا جو پنجابی محاورے میں کیا جاتا ہے۔ 
اگر اسمبلی کی کارروائی اسی طرح براہ راست بلا سنسر عوام کو دکھائی جاتی رہی تو اللہ کے فضل سے سب معززین کی حقیقت کھل کر سامنے آ جائے گی اور اگلی بار اس اسمبلی میں بیٹھے ہوئے معززین کی اعلیٰ حرکات کے باعث باہر اکٹھا ہونے والا مجمع واقعتاً لاکھوں کی تعداد میں ہوگا۔ تب لوگ پارلیمنٹ کا صرف جنگلہ نہیں بلکہ بنیادیں اکھاڑ دیں گے۔ دونوں چودھریوں کو مبارک ہو کہ ان کی طبیعت کے ''چودھری پن‘‘ کے طفیل عام آدمی کو اسمبلی میں بیٹھے ہوئے شرفا کے اعلیٰ کردار‘ معززپن‘ شرافت اور ایمانداری سے آگاہی ہو رہی ہے اور یہ بھی پتہ چل رہا ہے کہ قوم کے کروڑوں روپے سے ہونے والے پارلیمنٹ کے اجلاس میں کس قسم کی گفتگو ہوتی ہے‘ کیا قومی مسائل زیر بحث آتے ہیں۔ عوام کی فلاح و بہبود پر کیا کام ہوتا ہے۔ ملک کو درپیش مسائل کو کس دردمندی سے حل کیا جاتا ہے۔ عوام کو درپیش مشکلات پر کیا گفتگو ہوتی ہے اور موجودہ نازک صورتحال پر ایک دوسرے کے اتحادی اور ایک دوسرے کو تحمل اور بردباری کا سبق دینے والے معزز پارلیمنٹیرینز کس حد تک ذاتیات پر اتر کر ایک معزز قومی فورم کا وقت برباد کرتے ہیں۔ کل جسٹس اطہر من اللہ نے پی سی بی کے آئین کے خلاف دائر درخواستیں خارج کرتے ہوئے ہر درخواست گزار کو دس لاکھ روپے جرمانہ کیا ہے۔ کیا عدالت کے پیسے سے چلنے والے ایوان کا سارا دن ضائع کرنے‘ ذاتی عناد پر مبنی طویل تقریر کرنے اور ''معزز‘‘ پارلیمنٹ کا سارا سیشن برباد کرنے پر اعتزاز احسن سے گزشتہ روز کے اجلاس پر ہونے والا قوم کا خرچہ وصول نہیں کیا جا سکتا؟ امید ہے کہیں سے کوئی جواب نہیں آئے گا۔ 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں