نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- ای وی ایم کیخلاف اپوزیشن بےبنیادپروپیگنڈاکررہی ہے،شبلی فراز
  • بریکنگ :- کون سی مشین سلیکٹ کرنی ہےیہ الیکشن کمیشن کاکام ہے،شبلی فراز
  • بریکنگ :- ووٹنگ مشین توکوئی بھی ہوسکتی ہے،وفاقی وزیرسائنس وٹیکنالوجی
  • بریکنگ :- پرانےطریقہ کارکےبجائےٹیکنالوجی کواستعمال کرناچاہیے،شبلی فراز
  • بریکنگ :- قانون سازی پارلیمنٹ اورمشین کافیصلہ الیکشن کمیشن نےکرناہے،شبلی فراز
  • بریکنگ :- اپوزیشن ای وی ایم دیکھےبغیرتنقیدکررہی ہے،شبلی فراز
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

ترقی معکوس کا انوکھا پہلو

یہ ترقی معکوس کیا ہوتی ہے؟ میرے بیٹے نے مجھ سے سوال کیا۔ انگریزی سکولوں میں پڑھنے والے بچوں کا یہ المیہ ہے کہ اردو کا تھوڑا سا مشکل یا غیر معروف لفظ آ جائے تو ان کے ہاتھ پائوں پھول جاتے ہیں۔ میں نے اپنے بیٹے کو بتایا کہ جب میں تمہاری عمر کا تھا تو نسیم حجازی کے سارے ناول پڑھ چکا تھا۔ کرنل شفیق الرحمن سے لطف لے چکا تھا اور محلے کی آنہ لائبریری کی آدھی کتابیں ختم کر چکا تھا۔ وہ کہنے لگا: بابا جان! آپ کا بستہ چار کتابوں اور پانچ کاپیوں پر مشتمل تھا۔ میں اگر اپنا پورا کورس اکٹھا کروں تو چھوٹی ریڑھی کرنی پڑے گی۔ ٹھیک ہے آپ کی اردو مجھ سے بہت زیادہ اچھی ہے لیکن میری انگریزی... اتنا کہہ کر وہ چپ ہو گیا۔ میں نے کہا‘ ترقی معکوس کا مطلب ہے آگے جانے کے بجائے پیچھے جانا۔ میرا بیٹا پوچھنے لگا: آگے کے بجائے پیچھے جانے سے آپ کی کیا مراد ہے؟ کیا لاہور کے بجائے یعنی اوپر کی طرف جانے کے بجائے اگر ہم کراچی چلے جائیں تو یہ ترقی معکوس ہوگی؟ میں نے کہا برخوردار یہ آگے پیچھے والا معاملہ سفر کا نہیں۔ لاہور اور کراچی کا نہیں۔ اس سے مراد ہے بہتری کے بجائے خرابی‘ ترقی کے بجائے تنزلی کی طرف لوٹنا۔ میرا بیٹا کہنے لگا مثلاً؟ میں نے ایک منٹ سوچا پھر کہا جیسے یہ کہ آپ 2005ء میں ایم اے اسلامیات وغیرہ ہوں اور 2013ء میں آپ کی تعلیم ایم اے سے نیچے آ کر میٹرک ہو جائے۔ آپ 2005ء سے 2013ء تک آٹھ سال میں اپنی تعلیمی قابلیت بڑھانے کے بجائے چھ درجے نیچے آ جائیں۔ تو یہ ترقی معکوس کہلائے گی۔
میرا بیٹا کہنے لگا: یہ مثال کی حد تک تو بات ٹھیک لگتی ہے مگر بہرحال یہ مثال پریکٹیکل نہیں ہے۔ صرف زبانی حد تک تو آپ بیان کر سکتے ہیں مگر عملاً ایسا ممکن نہیں کہ آپ آٹھ سال بعد ایم اے سے میٹرک پر آ جائیں۔ اگلی کلاس میں جانے کے بجائے پچھلی کلاسوں میں آ جائیں۔ چلیں فیل ہو کر بھی بندہ اسی پرانی کلاس میں رہ جاتا ہے یہ تو نہیں کہ میں او لیول کے بعد اے لیول میں جانے کے بجائے دوبارہ پی ون میں چلا جائوں۔ میں نے پوچھا: یہ پی ون کیا ہوتی ہے؟ کہنے لگا: آپ لوگوں کے حساب سے چھٹی کلاس۔ میں نے کہا: برخوردار! میری مثال کوئی ہوائی کہانی نہیں ہے۔ یہ صرف کوئی زبانی کلامی والی سٹوری بھی نہیں۔ کافی سیاست دان اس مثال پر پورے اترتے ہیں۔ جب بی اے کی پابندی تھی تب یہ لوگ بی اے‘ ایم اے تھے۔ جونہی یہ پابندی ختم ہوئی اور جعلی ڈگریوں کے خلاف کارروائی وغیرہ شروع ہوئی ایسے تمام فنکار دوبارہ میٹرک مڈل ہو گئے یعنی ترقی معکوس ہو گئی۔
مثلاً اپنے ملتان میں حلقہ این اے 148 سے منتخب ہونے والے مخدوم شکن ایم این اے غفار ڈوگر۔ کہا جاتا ہے کہ موصوف نے 2005ء میں جب یونین کونسل 72 (ڈومرہ) ملتان سے یونین کونسل کے چیئرمین کے الیکشن میں حصہ لیا تو اپنی تعلیمی قابلیت ایم اے عربی/ اسلامیات لکھی۔ اپنی اس تعلیمی قابلیت کے دستاویزی ثبوت کے طور پر کئی دھانسو قسم کی سندات لگائیں۔ جب اس عاجز کی نظر ان سندوں پر پڑتی ہے تو اپنی کم علمی اور کم مائیگی کا احساس مزید بڑھ جاتا ہے۔ قبلہ ڈوگر صاحب نے شہادۃ العالمیہ فی العلوم العربیہ والاسلامیہ اور کشف الدرجات‘ الشہادۃ العالمیہ‘ کی جامعہ قاسمیہ ڈیرہ اسماعیل خان کی جاری کردہ آٹھ سندات تو اپنے کاغذات نامزدگی کے ساتھ لف کر رکھی تھیں۔ مجھے یقین ہے کہ اتنا بھاری بھر کم علمی بوجھ دیکھ کر ریٹرننگ آفیسر بھی ایک لمحے کے لیے ڈوگر صاحب کے تبحر علمی سے مرعوب ہو کر گنگ ہو گیا ہوگا۔ ان سندات کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان میں دوران تعلیم موصوف نے‘ صحیح بخاری‘ صحیح مسلم‘ سنن ابو دائود‘ جامع الترمذی‘ موطاء مع طحاوی‘ سنن مع شمائل‘ جلالین (تفسیر)‘ کتاب الآثار (حدیث)‘ سراجی (منطق)‘ دیوان حماسہ (عربی شاعری)‘ ہدایہ (فقہ)‘ شرح جامی (گرائمر)‘ معلم الانشاء (عربی زبان و ادب)‘ نور الانوار (اصول فقہ)‘ زادالطالبین‘ قدوری کامل (فقہی)‘ ہدایۃ النحو (نحو)‘ تیسیرالمنطق (منطق) اور دیگر درجن بھر اسی قسم کے نہایت ہی علمی اور دقیق مضامین پڑھ رکھے ہیں۔ یہ میری کم علمی اور نااہلی تھی کہ میں موصوف کے ان علمی درجات سے ناآگاہ رہا اور کئی بار ان کی شان اقدس میں گستاخی کا مرتکب ہوتا رہا۔ میں ذہنی طور پر اپنے آپ کو تقریباً تیار کر چکا تھا کہ انہیں ملوں اور ان سے اپنی سابق تمام گستاخیوں کی معافی مانگوں لیکن بھلا ہو ان کے 2013ء کے الیکشن کا کہ موصوف نے اپنی سابق تمام ڈگریوں سے خود ہی لاتعلقی کا اعلان کر دیا اور اپنی تعلیمی قابلیت میٹرک لکھ دی۔ مجھے پہلے تو یہ گمان گزرا کہ شاید ڈوگر صاحب درویش آدمی ہیں اور ان کا پیشہ بمطابق کاغذات نامزدگی ''دودھ فروشی‘‘ ہے اس لیے وہ اپنے علم کو صرف اس لیے مخفی رکھنا چاہتے ہیں کہ لوگ یہ نہ کہیں کہ جیسے ایک پرانا محاورہ ہے کہ ''پڑھیں فارسی بیچیں تیل‘‘ اسی طرح لوگ ان کے علم کی تحقیر کرتے ہوئے یہ نیامحاورہ نہ بنا دیں کہ ''پڑھیں عربی بیچیں دودھ‘‘ لہٰذا انہوں نے اپنی اعلیٰ تعلیم کو افشا کرنا مناسب نہیں سمجھا‘ لیکن معاملہ بالکل ہی مختلف نکل آیا۔
انہوں نے 2013ء میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 148 کے لیے کاغذات جمع کرواتے ہوئے اپنی تعلیمی قابلیت میٹرک جمع دینی تعلیم لکھی۔ میٹرک کا معاملہ یہ آن پڑا کہ شہادۃ العالمیہ کی میٹرک کی سند کو جو دراصل ''شہادۃ ثانوی العامہ‘‘ کہلاتی ہے کو دیگر تعلیمی بورڈز کے مساوی بنانے کے لیے آپ کو انگریزی‘ اردو اور مطالعہ پاکستان کا میٹرک کا امتحان پاس کرنا پڑتا ہے اور پھر آئی بی سی سی (انٹر بورڈ کمیٹی آف چیئرمین) آپ کو ایک Equivalance of Qualification کا سرٹیفکیٹ جاری کرتی ہے۔ اپنے ڈوگر صاحب نے آئی بی سی سی کی طرف سے تعلیمی برابری کا ایسا ہی ایک پروویژنل خط نمبر IBCC/12-02(12)/3296 مورخہ نو جنوری 2006ء پیش کردیا کہ انہوں نے انگریزی‘ اردو اور مطالعہ پاکستان کا امتحان بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ملتان سے پاس کر لیا ہے اور وہ میٹرک کے مساوی تعلیم کے حامل ہیں؛ تاہم آئی بی سی سی نے بعد میں ایک تردیدی خط نمبر IBCC/D.M/2006-1/4692 جاری کیا جس میں وضاحت تھی کہ آئی بی سی سی کی طرف سے جمع کروائے گئے سابق خطوط ہمارے جاری کردہ نہ تھے۔
ان تین مضامین کے پاس کرنے کے بعد آپ جب ان کے ساتھ ''شہادۃ ثانوی العامہ‘‘ کا سرٹیفکیٹ شامل کرتے ہیں تو آپ میٹرک کے مساوی تعلیم کے حقدار قرار پاتے ہیں لیکن اگر ''شہادۃ ثانوی العامہ‘‘ کی ڈگری ہی جعلی ہو تو ان بقیہ تین مضامین کی کوئی حیثیت نہیں رہ جاتی۔ مدرسہ عربیہ دارالعلوم الاسلامیہ ڈیرہ اسماعیل خان کے مہتمم نے اپنے خط میں تصدیق کی کہ ''ایک سند شہادۃ العالمیہ ہمارے مدرسے کی طرف سے جاری کی گئی ہے جس کا نمبر 7420 اور رجسٹریشن نمبر 3000 ہے اور رول نمبر 694 ہے۔ مذکورہ سند جعلی ہے ہمارے مدرسے نے یہ سند جاری نہیں کی ہے اور نہ ہی اس پر مہتمم کے صحیح دستخط ہیں۔ مدرسہ مذکورہ کا مہتمم مفتی عبدالحکیم ہے جبکہ سند پر نثار احمد کے دستخط ثبت ہیں۔ اسی طرح دیگر سندات بھی جعلی ہیں۔ ہمارے مدرسہ کی طرف سے جاری شدہ نہیں ہیں‘‘۔
ان سندات میں ایک اور بڑے مزے کی بات ہے۔ میٹرک کی سند نمبر 788 بتاتی ہے کہ قبلہ ڈوگر صاحب کو میٹرک کی سند 1997ء میں جاری کی گئی ہے۔ انٹرمیڈیٹ کی سند نمبر 945 اگلے ہی سال یعنی 1998ء میں جاری کی گئی ہے اور بی اے کی سند نمبر 795 پھر ایک سال بعد 1999ء میں اور ایم اے کی سند نمبر 7420 ایک ہی سال بعد 2000ء میں جاری کی گئی۔ موصوف نے میٹرک 1997ء میں کیا اور تین ہی سال میں یعنی 2000ء میں ایم اے کر لیا۔ یہ پھرتیاں ان کی قابلیت کے طفیل ہوئیں یا سند جاری کرنے والے کی حماقت کے طفیل۔ یہ عاجز تو ایسا نازک فیصلہ کرنے کا قطعاً اہل نہیں ہے۔
قبلہ ڈوگر صاحب (میں کیونکہ بذات خود پارٹی نہیں لہٰذا ان کی سندات کو آدھا سچ بھی مان لوں تو ان کی توقیر مجھ پر واجب ہے) نے اپنی میٹرک کو مزید مضبوط کرنے کی غرض سے 2006ء میں رول نمبر 793052 کے تحت بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن کراچی سے ایک بار پھر میٹرک پاس کر لیا۔ ان کی قابلیت کا اعتراف نہ کرنا بڑی زیادتی ہوگی۔ ڈوگر صاحب نے آٹھ سو پچاس میں سے پانچ سو چھیاسٹھ نمبر یعنی چھیاسٹھ فیصد سے زیادہ نمبر حاصل کر کے مجھ فقیر سے میٹرک میں زیادہ نمبر لیے۔
ڈوگر صاحب کا کیس تقریباً تقریباً اتنا ہی واضح ہے جتنا کہ اس عاجز کو عینک لگا کر تاروں بھری رات میں چودھویں کا چاند نظر آتا ہے اور گمان غالب ہے کہ ان کے خلاف کی گئی رٹ کا نتیجہ بھی وہی نکلے گا جو 2005ء میں الیکشن کمیشن آف پاکستان نے موصوف کو یونین کونسل کی چیئرمینی سے فارغ کر کے کیا تھا مگر اس ملک میں کچھ پتہ نہیں کہ کیا ہو جائے؟ سپریم کورٹ میں چیف جسٹس (ر) افتخار چودھری نے جمشید دستی کو (وہ بھی ایسی ہی علمی قسم کی سندات کا مالک ہے) بذات خود کہا کہ یا وہ ابھی استعفیٰ دے یا پھر ممکنہ سزا بھگتنے کے لیے تیار ہو جائے۔ جمشید دستی نے چیف جسٹس کے اس سوال پر کہ اس نے ایم اے عربی/ اسلامیات کے دوران کون سی قرآن مجید کی تفسیر پڑھی ہے تو عالم فاضل ایم این اے نے عدالت کو بتایا کہ اس نے حضرت نوح علیہ السلام کی لکھی ہوئی قرآن مجید کی تفسیر پڑھی۔ اس پر پہلے تو عدالت پر سکتہ طاری ہوا پھر غصہ آ گیا۔ خیر جمشید دستی نے قومی اسمبلی کی نشست سے استعفیٰ دے دیا۔ دوبارہ اسی سیٹ سے الیکشن لڑا۔ اس کے خلاف اسی چیف جسٹس کے پاس کیس لگا اور اسی چیف جسٹس نے‘ جس نے اس سے استعفیٰ لیا تھا صاف بری کردیا۔ موصوف تب سے ا ب تک دھڑلے سے اسمبلی انجوائے کر رہا ہے۔ توہین عدالت کے خوف نے بے شمار سچائیوں کو اپنے پائوں تلے دبا رکھا ہے۔ کیا خبر اس سچائی کے ساتھ بھی یہی کچھ ہو۔
میں خوش گمان آدمی ہوں۔ رجائیت میری طبیعت کا حصہ ہے اس لیے میرا خیال ہے ملتان کے حلقہ این اے 153ملتان III کے علاوہ حلقہ این اے 148 پر بھی ضمنی انتخاب ہوگا؛ تاہم نتیجہ حسب سابق والا ہی نکلے گا؛ تاہم افسوس کی بات یہ ہے کہ میرے بیٹے پر ابھی بھی ترقی معکوس کا مطلب واضح نہیں ہوا۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں