نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- افغانستان کوعالمی امداداوریکجہتی کی ضرورت ہے،طیب اردوان
  • بریکنگ :- ترکی افغانستان اوروہاں کےعوام کےساتھ کھڑارہےگا،طیب اردوان
  • بریکنگ :- نیویارک:ترک صدرطیب اردوان کااقوام متحدہ جنرل اسمبلی سےخطاب
  • بریکنگ :- ویکسین کوقوم پرستی سےجوڑناانسانیت کی توہین ہے،طیب اردوان
  • بریکنگ :- اب بھی لاکھوں لوگ کوروناوائرس سےدوچارہیں،طیب اردوان
  • بریکنگ :- 40 سال سےافغانستان کوتنہاچھوڑدیاگیا،ترک صدرطیب اردوان
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

ارادے کی پختگی اور عزم صمیم

برصغیر پاک و ہند کے حکمرانوں پر نظر ڈالیں تو میاں شہبازشریف اپنی اولوالعزمی اور ارادے کی پختگی کے حوالے سے شیر شاہ سوری کے ہم پلہ دکھائی دیتے ہیں۔ ممکن ہے مجھ سے اندازے کی غلطی ہو گئی ہو اور میاں شہبازشریف شاید اس حوالے سے شیرشاہ سوری سے بھی زیادہ عزم صمیم کے مالک ہوں۔ اس کنفیوژن کی وجہ صرف اور صرف یہ ہے کہ میں نے شیرشاہ سوری کو بقائمی ہوش و حواس زندہ نہیں دیکھا جبکہ میاں صاحب کو برسوں سے دیکھنے کا شرف حاصل کر رہا ہوں۔ اس صورت میں میری طرح کوئی بھی شخص دو ایسے لوگوں کے درمیان انصاف کر ہی نہیں سکتا جس میں سے ایک کو اس نے اس کے تمام تر عزم‘ ارادے کی پختگی اور اپنے فیصلے پر ڈٹ جانے کے جذبے اور بار بار کے مظاہرے کے ساتھ مشاہدہ کیا ہو اور دوسرے کو محض تاریخ کے صفحات پر نظر دوڑا کر دیکھا ہو۔ تاریخ کیا ہے؟ تاریخ دان اسے بڑھا چڑھا بھی سکتا ہے لیکن آنکھوں دیکھی چیز کو جھٹلانا بڑا مشکل کام ہے۔
میاں شہباز شریف اپنے ارادے کے معاملے میں ملتان میں بننے والی میٹرو بس کے لیے تعمیر ہونے والے کنکریٹ کے ستونوں سے بھی زیادہ مضبوط ہیں کہ ان ستونوں کو تو کسی نہ کسی طریقے سے اکھاڑا یا ہٹایا جا سکتا ہے مگر میاں شہبازشریف کو ان کے ارادے سے دائیں بائیں کرنا اتنا مشکل بلکہ ناممکن ہے کہ آپ عقل و دانش کا دریا بھی بہا دیں تو انہیں اپنے ارادے سے‘ خواہ وہ کتنا ہی خام کیوں نہ ہو‘ ٹس سے مس نہیں کروایا جا سکتا۔ مجھے گمان ہے کہ مرحوم و مغفور شیر شاہ سوری اس قسم کے ارادے کی پختگی اور اولوالعزمی سے بہرحال محروم ہوگا۔
ہم اہل ملتان‘ پیٹ پیٹ کر تھک گئے کہ ہمارا مسئلہ فی الوقت میٹرو نہیں۔ ملتان اتنا بڑا شہر نہیں کہ اس کے لیے ماس ٹرانزٹ کا مسئلہ کھڑا ہو۔ ہم ملتان والوں کے لیے اس سے کہیں زیادہ اہم مسائل حل طلب ہیں۔ ہمارے پاس ہسپتال نہیں ہیں۔ گزشتہ باسٹھ سال سے اس پورے علاقے میں ایک نشتر ہسپتال ہی علاج معالجے کا آخری آسرا ہے۔ 1953ء میں جب ملتان شہر کی آبادی بمشکل چار پانچ لاکھ تھی تب بھی یہی ایک ہسپتال تھا جس میں گیارہ سو بیڈ تھے اور آج باسٹھ سال بعد جب شہر کی آبادی پچاس لاکھ سے زیادہ ہے یہی ایک ہسپتال ہے‘ ہاں یہ ترقی ضرور ہوئی ہے کہ اس گیارہ سو بیڈ والے ہسپتال کی اسی عمارت میں وارڈز اور برآمدوں میں مزید بیڈ گھسیڑ کر اس ہسپتال کے بیڈز کی تعداد اٹھارہ سو کردی گئی ہے۔ اب جا کر شہر میں نوازشریف ہسپتال بنا ہے جس میں بیڈز کی تعداد فی الوقت ساٹھ ہے یعنی آبادی میں اضافہ نو گنا ہوا ہے جبکہ مریضوں کے لیے بیڈز کی تعداد گیارہ سو سے بڑھ کر اٹھارہ سو ساٹھ ہوئی ہے۔ یہی حال دیگر شعبوں کا ہے۔ ہم لوگ صحت‘ تعلیم‘ صاف پانی اور تنگ و تاریک قدیم شہر کی سڑکوں کی کشادگی چاہتے تھے‘ جناب خادم اعلیٰ نے ہم پر میٹرو مسلط کردی ہے۔ ممکن ہے آٹھ دس سال بعد ہمیں یہ سہولت ضرور محسوس ہوتی مگر فی الوقت ہماری ضروریات اور ان کی ترجیحات بالکل اور تھیں اور ہمیں اس سے بالکل مختلف سہولتیں زبردستی دی جا رہی ہیں۔ ہمیں روٹی درکار ہے مگر تلے کا کھسہ دیا جا رہا ہے۔ ہمیں پہننے کے لیے کپڑے درکار ہیں مگر ہمیں زبردستی کپڑے دھونے والا صابن دیا جا رہا ہے‘ ہمیں سردی میں رضائی کی اشد ضرورت ہے مگر میاں صاحب بضد ہیں کہ آپ برف کے گولے گنڈے سے لطف اندوز ہوں۔
اس پر مجھے ایک واقعہ یاد آ گیا۔ ذوالفقار علی بھٹو کا زمانہ تھا اور پاکستان اور لیبیا کے درمیان بڑی گاڑھی چھن رہی تھی۔ انہی دنوں میں ہم نے نیشنل سٹیڈیم کا نام بدل کر قذافی سٹیڈیم رکھ دیا تھا۔ لیبیا میں پاکستانیوں کی کافی قدر تھی۔ پروفیسر صاحب بتا رہے تھے کہ ایک دن وہ ڈاک خانے گئے اور خط پر لگانے والی ٹکٹوں کے حصول کے لیے کھڑکی پر پہنچے تو وہاں ان کے آگے ایک سکھ کھڑا تھا اور بابو سے انڈیا خط بھیجنے کے لیے ٹکٹ مانگی۔ بابو نے اسے جواباً کہا کہ انڈیا نو گڈ‘ پاکستان گڈ یعنی انڈیا اچھا نہیں ہے‘ پاکستان اچھا ہے لہٰذا پاکستان کے لیے ٹکٹ لے لو۔ سکھ نے اسے کہا کہ مجھے خط انڈیا بھیجنا ہے پاکستان نہیں۔ مجھے انڈیا کے لیے ڈاک ٹکٹ چاہیے۔ بابو نے پھر اصرار کیا کہ وہ پاکستان کے لیے ٹکٹ لے لے‘ انڈیا ٹھیک نہیں ہے۔ یہ تکرار دو تین بار ہوئی تو سکھ پیچھے پلٹا‘ میری طرف دیکھ کر ہنسا اور کہنے لگا: سر جی! تسی ایمان نال دسو کہ ایہہ وڈا سکھ وے یا میں؟ (سر جی! آپ ایمان سے بتائیں کہ یہ بڑا سکھ ہے یا میں ہوں؟)
مجھے یقین ہے کہ میاں شہبازشریف نے کبھی اپنی آنکھوں سے کوئلے سے چلنے والا بجلی گھر نہیں دیکھا تبھی وہ یہ بجلی گھر قادرآباد (ساہیوال) میں لگا رہے ہیں۔ دنیا بھر میں کوئلے کے ذریعے پیدا کی جانے والی بجلی دنیا بھر میں پیدا ہونے والی بجلی کا اکتالیس فیصد ہے۔ قدرتی گیس سے اکیس فیصد‘ پانی سے سولہ فیصد‘ ایٹمی توانائی سے چودہ فیصد اور تیل سے محض چھ فیصد بجلی پیدا کی جا رہی ہے۔ ہمارے ہاں الٹ ہے‘ سب سے زیادہ بجلی تیل سے پیدا کی جا رہی ہے اور سب سے کم بجلی کوئلے سے پیدا کی جا رہی ہے۔ اب کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کا خیال میاں شہبازشریف کے دماغ میں سما تو گیا ہے لیکن وہ اپنی ارادے کی پختگی کی راہ میں آنے والے کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے طے شدہ قواعد و ضوابط کو بھی پائوں کی ٹھوکر پر رکھے ہوئے ہیں۔
دنیا بھر میں کوئلے کے ذریعے بجلی پیدا کرنے والے بجلی گھروں کو کوئلے کی فراہمی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اس کے حل کے لیے عموماً دو طریقے استعمال کیے جاتے ہیں۔ اول یہ کہ بجلی گھر وہاں لگائے جائیں جہاں سے کوئلہ نکالا جا رہا ہو‘ یعنی کوئلے کی کان پر۔ دوسرا یہ کہ بجلی گھر سمندر کے کنارے لگائے جائیں تاکہ درآمد شدہ کوئلہ بحری جہازوں کے ذریعے سمندر کے کنارے لگے ہوئے بجلی گھر کے ساتھ بنی ہوئی جیٹی پر لگے اور خودکار بیلٹ (Conveyor belt )کے ذریعے سیدھا سٹور تک پہنچا دیا جائے۔ اس حوالے سے گڈانی میں کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کا کول انرجی پارک کا منصوبہ قابل عمل تھا۔ اس منصوبے کے تحت چھ سو ساٹھ میگاواٹ کے دس بجلی گھر لگانا مقصود تھے یعنی کل چھ ہزار چھ سو میگاواٹ پر مشتمل کول انرجی پارک کا قیام۔ اس بجلی کی پرانے طریقے سے پاکستان بھر میں ترسیل یقینا ایک مشکل اور مہنگا کام تھا کہ اس کی ٹرانسمیشن لائنز کا خرچہ ہی اربوں روپے میں چلا جاتا۔ فی الوقت پاکستان میں سب سے بڑی ٹرانسمیشن لائن پانچ سو کے وی کی ہے جن پر بجلی کی ترسیل بڑی مختلف ہے۔ اگر یہ لائن سو کلو میٹر یا اس سے کم لمبائی کی ہے تو اس پر تین ہزار میگاواٹ بجلی کی ترسیل ممکن ہے ا ور اگر یہ لمبائی تین سو کلو میٹر یا اس سے زیادہ
ہے تو ترسیل ہونے والی بجلی کی مقدار بارہ سو سے پندرہ سو میگاواٹ تک ہو سکتی ہے۔ جبکہ نئی ٹیکنالوجی کی ڈی سی ٹرانسمیشن لائن جو صرف دو تاروں پر مشتمل ہوتی ہے چار ہزار سے ساڑھے چار ہزار میگاواٹ تک بجلی کی ترسیل کے لیے کافی ہے۔
گڈانی سے بجلی کی ترسیل کے لیے دو لائنز کا منصوبہ تھا۔ ایک گڈانی سے لاہور اور دوسرا گڈانی سے فیصل آباد تک۔ بڑا شور شرابا ہوا کہ ملک میں اندھیرے دور ہو جائیں گے لیکن ہوا کچھ بھی نہیں۔ دیگر ہوائی منصوبوں کی طرح یہ منصوبہ بھی چند دن بعد ہوا میں بکھر گیا۔ بہانہ یہ بنایا گیا کہ گڈانی سے لاہور اور فیصل آباد تک دو لائنیں بچھانے پر دو ارب ڈالر کا خرچہ آتا ہے۔ میاں شہبازشریف نے اس کا حل یہ نکالا کہ پنجاب میں کوئلے کے چھ بجلی گھروں کا اعلان فرما دیا۔ یہ بجلی گھر کرم داد قریشی ضلع مظفر گڑھ‘ بھکھی ضلع شیخوپورہ‘ ترنڈہ سوائے خان ضلع رحیم یار خان‘ بلوکی ضلع قصور‘ حویلی بہادر شاہ ضلع جھنگ اور قادر آباد ضلع ساہیوال میں لگیں گے۔ صورت حال یہ ہے کہ قادرآباد ساہیوال والے ایک پلانٹ کے سوا دیگر پانچ بجلی گھروں کا وہی بنا جو گڈانی کول پارک کا حشر ہوا تھا۔ خدا کا شکر ہے کہ یہ پانچ پلانٹ بوجوہ شروع ہی نہ ہو سکے وگرنہ بلا سوچے سمجھے بننے والے ان بجلی گھروں کی برکت سے نہ ریلوے چلتی نہ یہ بجلی گھر چلتے۔
اب لے دے کے قادر پور کا ایک منصوبہ زیر تکمیل ہے جو ساہیوال کے نزدیک ایک نہایت زرخیز اور آباد علاقے میں لگایا جا رہا ہے۔ یہ علاقہ کسی لحاظ سے کوئلے سے چلنے والے بجلی گھر کے لیے موزوں نہیں ہے۔ میں آپ کو پہلے ہی بتا چکا ہوں کہ میاں شہبازشریف نے شاید کوئلے کا کوئی بجلی گھر بذات خود چلتا ہوا نہیں دیکھا مگر تیرہ سو بیس میگاواٹ کے اس بجلی گھر کے بننے کی صرف اور صرف ایک وجہ ہے اور وہ میاں شہبازشریف کے ارادے کی پختگی ہے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں