نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- لاہور:شہر کے مختلف علاقوں میں بارش
  • بریکنگ :- لاہور:شہر کے مختلف علاقوں میں بارش
  • بریکنگ :- لاہور:شہر کے مختلف علاقوں میں بارش
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

ہماری حماقتیں اور مغرب کا جھوٹ اور منافقت

پیرس میں ہونے والے سانحے کے بعد امریکہ میں رہنے والے مسلمان بشمول پاکستانیوں کے ایک بار پھر خوف و ہراس کا شکار ہیں۔ ایسا ہر واقعہ مغرب اور امریکہ وغیرہ میں رہنے والے مسلمانوں کے لیے ایک نئی آزمائش اور مشکلات لے کر آتا ہے۔ سارا مغربی میڈیا آج کل عموماً اور امریکی خصوصی طور پر ''اینٹی اسلام‘‘ مہم پر جڑا ہوا ہے۔ ہر بات کی تان اس سرے پر ٹوٹتی ہے کہ مسلمان عالمی امن کے لیے خطرہ ہیں۔ یہ بات آہستہ آہستہ اب ختم ہوتی جا رہی ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت امن پسند ہے اور داعش وغیرہ کے نظریات سے بالکل مختلف نظریہ رکھتی ہے۔ خاموش اکثریت تو الیکشن میں سامنے نہیں آتی اس مشکل وقت میں کہاں نظر آئے گی۔
اگر سو لڑکوں کی کلاس میں چھ لڑکے بھی بدتمیز اور بدمعاش ہوں اور ہر آنے والے استاد کو تنگ کریں تو اس کلاس کے بارے میں عمومی نظریہ یہی ہو گا کہ یہ کلاس بدتمیز اور بدتہذیب طلبہ پر مشتمل ہے۔ باقی شریف‘ خاموش اور پڑھنے والے چورانوے لڑکے کسی شمار قطار یا گنتی میں نہیں آتے۔ صرف چھ لفنگے طالب علم ساری کلاس کی شرافت کو ملیامیٹ کرنے کے لیے کافی ہیں۔ چورانوے طلبہ پر مشتمل خاموش اکثریت ان چھ لڑکوں کے ہاتھوں یرغمال بن جاتی ہے۔ یہی چھ لڑکے ساری کلاس کے رویے کے نمائندے تصور ہوتے ہیں اور ان کی حرکتوں کا خمیازہ باقی ساری کلاس بھگتتی ہے اور بدنام ہوتی ہے۔ مسلمانوں کی خاموش اکثریت کا یہی حال ہے۔
اب کسی کے ماتھے پر تو لکھا ہوا نہیں ہے کہ یہ مسلمان پرامن ہے اور یہ بذریعہ بارود دنیا کو اپنی مرضی پر چلانا چاہتا ہے۔ خواب و خیال کی دنیا میں بسنے والے نام نہاد مجاہدین اسلام کو نہ تو مسلمانوں کی مجموعی طاقت کا اندازہ ہے اور نہ ہی مغرب اور امریکہ کی مضبوطی کا...میں یہ بات کسی احساس کمتری کے جذبے کے تحت نہیں لکھ رہا بلکہ وہ حقیقت بیان کر رہا ہوں جو مجھے نظر آتی ہے۔ فرانس جیسے ہزار واقعات بھی ہو جائیں تو اس کا اتنا نقصان مغرب کو نہیں ہو گا جتنا ان واقعات کی فخریہ ذمہ داری قبول کرنے والوں کا خیال ہے بلکہ اس سے کہیں زیادہ نقصان ان کا ہو گا جو بغیر تیاری اور طاقت کے دنیا کو اپنی مرضی کے مطابق بدلنا چاہتے ہیں۔ مسلمانوں نے دنیا کی امامت تب کی تھی جب وہ علم و ہنر میں بھی دنیا کے رہبر تھے۔ آج ہم تنزلی کے آخری درجے پر کھڑے ہیں اور تعلیم سے لے کر حربی طاقت تک‘ ہر معاملے میں کمترین صلاحیتوں کے ساتھ خوش فہمیوں کی حشر سامانیوں میں دنیا پر راج کرنے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ 
امریکہ کی وسعت‘ ترقی‘ اقتصادی حالت اور سارا نظام دیکھنے کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ دنیا کہاں پہنچ گئی ہے اور ہم وہیں کھڑے نعرے مار رہے ہیں۔ ایسے نعرے جن کی حقیقت کچھ بھی نہیں۔ مجھے بعض پڑھے لکھے دوستوں کی سوچ پر حیرانی ہوتی ہے جب وہ یہ کہتے ہیں کہ افغانستان امریکہ کا قبرستان ثابت ہو گا۔ اب تک افغانستان میں مرنے والے مسلمانوں کی صحیح تعداد تو شاید کسی کو معلوم بھی نہیں کہ مسلمانوں کو نہ اس بات کی فرصت ہے اور نہ ہی توفیق کہ وہ ان اعداد و شمار کو ہی جمع کر سکیں؛ تاہم ایک محتاط اندازے کے مطابق نائن الیون کے بعد صرف افغانستان میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ تھوڑا عرصہ پہلے واشنگٹن امریکہ سے تعلق رکھنے اورامن کا نوبل انعام حاصل کرنے والے ڈاکٹروں پر مشتمل ایک ورکنگ گروپ نے جس کا نام ''فزیشنز فار سوشل رسپانس ایبلٹی‘‘ نے اپنی ستانوے صفحات پر مشتمل ایک ریسرچ رپورٹ میں لکھا ہے کہ نائن الیون کے بعد افغانستان‘ عراق اور پاکستان میں امریکی جارحیت کے نتیجے میں اب تک کم از کم تیرہ لاکھ لوگ جاں بحق ہو چکے ہیں تاہم یہ تعداد بیس لاکھ بھی ہو سکتی ہے۔ اس گروپ نے امریکی جارحیت کو ''کائونٹر ٹیرر ازم انٹرونشن‘‘ کا نام دیا ہے۔ یہ شاید اس سلسلے میں پہلی کاوش ہے جس کے تحت ان ممالک میں جاں بحق ہونے والے مسلمانوں کی تعداد کو ریکارڈ کرنے کی سعی کی گئی ہے۔ جواباً اب تک افغانستان میں اتحادی افواج کے کل تین ہزار چار سو چھیاسی فوجی مارے گئے ہیں اور عراق میں مرنے والے اتحادی فوجیوں کی تعداد 4809 ہے۔ افغانستان میں مرنے والے امریکیوں کی تعداد 2356 ہے اور عراق میں مرنے والے امریکیوں کی تعداد 4491 ہے۔ اس تعداد کو جمع کریں تو کل 6852 بنتی ہے۔ عراق میں مرنے والے 4491 امریکی فوجیوں کے مقابلے میں 
عراق میں جاں بحق ہونے والے عراقیوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ''اوپنیئن ریسرچ بزنس پول‘‘ OPINION RESEARCH BUSINESS POLL کے سروے کے مطابق عراق میں مارچ 2003ء سے اگست 2007 ء تک مرنے والوں کی تعداد دس لاکھ تینتیس ہزار کے لگ بھگ تھی‘ آپ صرف اسی سے اندازہ لگا لیں کہ اس جنگ میں مرنے اور مارنے کی نسبت کیا تھی۔ اسی سے پتہ چل سکتا ہے کہ باہمی جنگی توازن کس حد تک غیر متوازن بلکہ کوئی مقابلہ ہی نہیں۔
میرے ایک پڑھے لکھے دوست کا کہنا ہے کہ دراصل امریکی اصل جانی نقصان نہیں بتا رہے۔ امریکیوں نے اپنے ہزاروں مرنے والے فوجیوں کی لاشیں سردخانوں میں رکھی ہوئی ہیں اور وہ انہیں بعد میں ظاہر کریں گے۔ میرے اس دوست کو اندازہ نہیں کہ بے ایمان اور جھوٹا امریکی میڈیا اپنے جھوٹ اور بے ایمانی کی ساری صلاحیتیں امریکی مفاد اور ہمارے نقصان کے لیے صرف کرتا ہے مگر امریکی عوام کے معاملے میں جھوٹ کا رسک نہیں لیتا۔ اسی طرح امریکی حکومت بھی ان لاشوں کو چھپا نہیں سکتی کہ وہاں ایسا کرنا ممکن ہی نہیں۔ ایسا روس کے لئے تو ممکن تھا کہ جہاں سارا میڈیا سرکاری کنٹرول میں تھا اور حکومت عوام کو کبھی سچ نہیں بتاتی تھی تاوقتیکہ روس کا مکمل دھڑن تختہ ہو گیا۔ امریکہ میں اگر امریکی حکومت زیادہ اموات کا بتاتی تو اسے بھی مسلمانوں کے خلاف استعمال کر لیا جاتا اور امریکی اقدامات کو مزید جواز اور تقویت پہنچائی جا سکتی تھی۔ تاہم یہ افواہیں صرف دل کے بہلانے کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ یہی حال امریکی معیشت کا ہے۔ بہت سے خوش فہموں کا خیال ہے کہ امریکہ بھی اسی طرح افغان جنگ میں اقتصادی طور پر برباد ہو کر حصے بخرے ہو جائے گا جس طرح روس ہوا ہے۔ دراصل ایسی خوش فہمیوں میں مبتلا لوگوں کو امریکی معیشت کی گہرائی اور وسعت کا اندازہ نہیں۔ امریکہ کے لیے افغان جنگ میں خرچ ہونے والی سات کھرب اور عراق میں خرچ ہونے والی آٹھ کھرب ڈالر سے زائد رقم اتنی نہیں کہ اس سے امریکی معیشت میں ڈھنگ کا ڈنٹ بھی پڑے۔ امریکہ نے 2001ء کے بعد ساری جنگوں پر کل سولہ کھرب ڈالر خرچ کیے ہیں اور مشرق وسطیٰ سے مختلف حیلوں بہانوں سے اس رقم کا کافی حصہ وصول کر لیا ہے۔
فرانس میں ہونے والے واقعے کا دکھ اپنی جگہ مگر اس میں بھی مغربی میڈیا کا یکطرفہ پراپیگنڈہ اپنی مثال آپ ہے۔ گذشتہ سات روز سے امریکی میڈیا مسلسل مسلمانوں کا ٹرائل کر رہا ہے اور ایک تجزیہ نگار خاتون کہہ رہی تھی کہ مشرق وسطیٰ میں سعودی عرب امریکہ کا نمبر ون اتحادی ہے مگر اب اس نوعیت کے تعلقات پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ اس واقعے کے بعد امریکی مسلمانوں میں ایک بار پھر عدم تحفظ بڑھ گیا ہے کہ امریکی میڈیا مسلسل مسلمانوں کو من حیث القوم دہشت گرد قرار دینے پر لگا ہوا ہے اور اسکی وجہ بھی ہے کہ امریکی میڈیا پر مکمل یہودی کنٹرول ہے اور سارا معاملہ بالکل یکطرفہ چل رہا ہے۔ بات سیدھی ہے کہ مسلمان فی الوقت ہر معاملے میں صفر پر کھڑے ہیں۔ وہ تعلیم ہو‘ معیشت ہو‘ اقتصادی پالیسیاں ہوں‘ میڈیا کنٹرول ہو‘ دفاعی طاقت ہو‘ علم و ہنر ہو یا اور دنیاوی معاملات...اب صرف خالی خولی جہادی نعروں سے تو کچھ نہیں ہو سکتا سوائے اپنے نقصان کے‘ اور وہی کچھ ہو رہا ہے۔
عالم یہ ہے کہ اب لٹے پٹے شامی‘ عراقی اور مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک سے ہجرت کرنے والوں کو کوئی یورپی ملک اپنی سرحدوں کے اندر نہیں آنے دے گا جبکہ کوئی عرب ملک ان کو پناہ نہیں دے رہا...نہ وہ اپنے ملک میں رہ سکتے ہیں اور نہ ہی ہمسایہ مسلم ممالک ان کو پناہ دے رہے ہیں‘ لے دے کر یورپ میں بمشکل جگہ بن پائی تھی اور اس دروازے کو بھی بند کرنے کی سعی کی جا رہی ہے۔ یورپ اور امریکہ میں رہنے والے کروڑوں مسلمانوں کی زندگی مشکل کی جا رہی ہے اور ایک ایسی غیر متوازن جنگ کا در کھولا جا رہا ہے جس میں سوائے نقصان کے اور کچھ حاصل وصول نہیں۔
ایمانداری کی بات ہے کہ خواہ اپنے فائدے کی غرض سے ہی سہی...اپنی افرادی کمی پوری کرنے کی غرض سے ہی سہی، مگر یورپ اور امریکہ آج بھی ترک وطن کرنے والے مسلمانوں کو قبول کر رہا ہے جبکہ نام نہاد امہ کے سرخیل مسلم ممالک میں سے ایک بھی ان کو قبول کرنے پر تیار نہیں۔ فرانس میں مسلمانوں کی تعداد پینتالیس لاکھ سے زائد‘ جرمنی میں یہ تعداد اڑتالیس لاکھ کے لگ بھگ‘ برطانیہ میں تیس لاکھ‘ اٹلی میں بائیس لاکھ‘ بلغاریہ اور ہالینڈ میں دس لاکھ ہے اور یہ تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ 1990ء میں یورپ میں مسلمانوں کی شرح چار فیصد تھی جبکہ 2010ء میں یہ شرح چھ فیصد ہوگئی ہے۔ بڑھنے والی شرح فیصد مسلمانوں میں زیادہ شرح پیدائش کے باعث ہے مگر ہر سال یورپ میں لاکھوں مسلمان تارکین وطن بھی مسلسل آ رہے ہیں۔
ہم کسی بات میں اگر مگر کریں تو کہا جاتا ہے کہ ''یہ اگر مگر‘‘ سارا کام خراب کرتا ہے مگر کیا موازنہ کرنا‘ سوال اٹھانا ایک کام کو غلط مانتے ہوئے ناانصافی اور بے ایمانی کی نشاندہی کرنا جرم ہے؟ اگر ایسا ہے تو پھر بے شک ہم مجرم ہی سہی مگر کیا یورپ اور امریکہ نے عراق‘ افغانستان‘ پاکستان اور فلسطین میں شہید ہونے والے بے گناہوں کے بارے میں کبھی اس شدت سے آواز اٹھائی ہے؟ کیا فیس بُک پر ہمارے پاکستانی بھائیوں نے بھی کبھی خود کو پاکستانی‘ عراقی‘ افغانی یا فلسطینی پرچم میں لپیٹا ہے؟ آرمی پبلک سکول کے واقعے پر امریکہ نے سات دن مسلسل کہرام مچایا ہے؟ اب بالکل سمجھ نہیں آتا کہ کیا کہیں؟...یہ ناانصافی جلتی پر مزید تیل ڈالنے کا کام کر رہی ہے۔ اسرائیل کے منظم اور حکومتی مظالم پر خاموشی اور مسلمانوں کے ایسے گروہوں کے نام پر مسلسل منفی پروپیگنڈہ جن سے مسلمان اکثریت خود لاتعلقی کا اظہار کرتی ہے، ایسے مزید واقعات کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ میں اس سارے معاملے پر جواز گھڑ کر اسے حق بجانب ثابت نہیں کر رہا، صرف نشاندہی کر رہا ہوں۔ ہم حماقتیں کر رہے ہیں اور دوسری طرف جھوٹ اور منافقت کا زور ہے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں