نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- فراڈکیس،ملزمان کی پراپرٹیزسےپابندی ہٹانےکی درخواست مسترد
  • بریکنگ :- احتساب عدالت نےملزم نثارافضل کی درخواست خارج کردی
  • بریکنگ :- ملزمان پربرطانیہ میں 6 کروڑپاؤنڈکی خوردبرد کاالزام ہے،نیب
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

این اے 153 اور صنعت لوٹا سازی

ملتان کے تقریباً تمام سیاستدان اس عاجز سے شاکی اور نا خوش ہیں۔ مجھے یہ تسلیم کرنے میں رتی بھر تامل نہیں کہ اس کا باعث میں خود ہوں۔ جو کچھ میں ان کے بارے میں لکھتا ہوں اس کے بعد ان کا ناراض ہونا سمجھ میں آتا ہے۔ چند ایک سیاستدان بہر حال ابھی بھی ایسے ہیں جو مجھ سے ''بظاہر‘‘ ناراض نہیں ہیں کہ یہ بھی انہی کی وسیع القلبی اور درگزر کے طفیل ہے وگرنہ اس عاجز نے تو کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ ایک آدھ سیاستدان نے مجھے نا قابل اصلاح سمجھتے ہوئے مستقل معاف کر دیا ہے سو ان سے تعلقات کسی حد تک ٹھیک ہیں۔ چند ایک زودرنج ایسے ہیں کہ برسوں بول چال ہی بند رکھی۔ پھر اپنی ناراضگی کو لا حاصل سمجھتے ہوئے بول چال شروع کر دی۔ اپنا حال یہ ہے کہ کوئی ناراض ہو تو پریشانی نہیں ہوتی اور راضی ہو جائے تو حیرانی نہیں ہوتی۔
شجا عباد اور جلالپور پیر والہ کے سیاستدانوں کے بارے میں لکھتے ہوئے اور تو کوئی پریشانی نہیں ہوتی سوائے اس کے کہ آج کالم میں جو لکھیں صبح تک کچھ اور ہو چکا ہو تو شرمندگی محسوس ہوگی۔ عام قاری کو کیا پتہ کہ شجا عباد اور جلالپور کی سیاسی حرکیات دنیا کی انوکھی طرز کی ہیں۔ ویسے تو جھوٹ، منافقت اور دو نمبری ملکی سیاست کا جزو لاینفک بن چکی ہیں مگر شجا عباد اور جلالپور کی سیاست کو ان معاملات میں باقی ملکی سیاسی کلچر پر علیحدہ قسم کی فوقیت حاصل ہے۔
یہ بھی شجا عباد اور جلالپور کی سیاست کا کمال ہے کہ آج جلالپور کے حلقہ این اے153 کے ضمنی الیکشن میں کاغذات نامزدگی جمع کروانے کا آخری دن ہے (کالم چھپنے تک یہ دن گزر چکا ہو گا)۔ شجا عباد کا قومی اسمبلی کا حلقہ این اے 152 ہے جبکہ جلالپور کا قومی اسمبلی کا حلقہ این اے 153ہے۔ ان دونوں حلقوں میں تھوڑا سا علاقہ ان تحصیلوں کے علاوہ بھی ہے مگر بنیادی طور پر یہ دونوں حلقے علی الترتیب شجا عباد اور جلالپور کی تحصیلوں پر مشتمل ہیں۔ اب جلالپور پیر والہ کے حلقہ این اے 153 ملتان4- میں ضمنی انتخاب کی آمد آمد ہے۔ یہ حلقہ مسلم لیگ ن کے ایم این اے دیوان عاشق بخاری کی ڈگری جعلی ثابت ہونے کے باعث نا اہلی کے سبب خالی ہوا ہے۔ حال یہ ہے کہ آج کاغذات نامزدگی داخل کروانے کا آخری دن ہے اور مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی اپنا امید وار نامزد نہیں کر پا رہے۔ رانا قاسم نون کا پتہ نہیں چل رہا کہ وہ دراصل ہے کدھر؟ الیکشن 2013ء میں وہ پیپلز پارٹی کا امید وار تھا اور پی پی پی کی عبرتناک صفائی کے بعد نئی ابُھرنے والی سیاسی قوت یعنی پی ٹی آئی میں شامل ہو گیا۔ ابھی اس کی مسلم لیگ ن میں چور دروازے سے داخل ہونے کی کوششیں چل رہی تھیں کہ ہمسائیگی والے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 154 میں ضمنی الیکشن کا معرکہ آن پڑا۔ یہاں پی ٹی آئی کے جہانگیر ترین کی کامیابی نے رانا قاسم کو دوبارہ تھوڑا حوصلہ دیا اور اس کی مسلم لیگ ن میں جانے کی کوششوں کو معمولی سی بریک لگی مگر پھر اسے اندازہ ہوا کہ حلقہ این اے 154 میں جہانگیر ترین کی کامیابی کو پی ٹی آئی کی کامیابی سمجھنا شاید درست سیاسی تجزیہ نہیں کہ اس کامیابی میں زیادہ ہاتھ جہانگیر ترین کی دولت اور اس کے نہایت عمدہ استعمال کا ہے تو دوبارہ طبیعت پھسل گئی۔
میں ایک بات بھول گیا کہ بلدیاتی انتخابات میں جلالپور پیر والہ میں رانا قاسم نون کے حمایت یافتہ امیدواروں نے نمایاں کامیابی حاصل کی تا ہم بعد میں وہ سب لاہور جا کر نون لیگ کو پیارے ہو گئے۔ یہ رانا قاسم کیلئے ایک اور تازیانہ تھا۔ الیکشن 2013ء میں اسی حلقہ این اے 153 سے کامیاب مسلم لیگی امیدوار دیوان عاشق بخاری نے 94298 ووٹ حاصل کیے جبکہ رانا قاسم نون نے پیپلز پارٹی کی طرف سے 88593 ووٹ حاصل کیے۔ بعدازاں رانا قاسم نون نے دیوان عاشق کی جعلی ڈگری کی خلاف رٹ کر دی اور بالآخر اس کو لے بیٹھا۔
میں نے تھوڑا عرصہ پہلے اپنے ایک کالم میں لکھا کہ رانا قاسم نون مسلم لیگ ن میں جانے کی کوششوں میں مصروف ہے اور اس کی حتی الامکان خواہش یہی ہے کہ وہ مسلم لیگ ن کا ٹکٹ حاصل کر ے اور ایک آسان الیکشن لڑ کر کامیاب ہو جائے۔ میرے اس کالم پر پی ٹی آئی کے رہنما اسحاق خاکوانی کا فون آیا اور کہنے لگا کہ آپ کا تجزیہ اس بار درست معلوم نہیں ہوتا کہ وہ ہمارے ساتھ ہے اور پکا کھڑا ہے۔ میں نے کہا خاکوانی صاحب! آپ بھی یہیں ہیں اور میں بھی یہیں ہوں۔ گھوڑا بھی حاضر ہے اور میدان بھی۔ سب کچھ سامنے آ جائے گا۔ آپ کو ابھی تک شجا عباد اور جلالپور والوں کا اندازہ نہیں ہوا تو یہ عاجز کیا کہہ سکتا ہے؟۔
قارئین! میں آپ کو ذرا ان دونوں حلقوں میں الیکشن لڑنے والے امیدواروں کی پارٹیاں بدلنے کی تفصیل بتانا چاہتا ہوں تا کہ آپ کو اندازہ ہو کہ یہاں لوٹا بننے کی رفتار کیا ہے۔ 2008ء اور 2013ء کے قومی الیکشنوں میں صورتحال یہ رہی کہ کسی بھی امیدوار نے ان دونوں حلقوں میں ایک پارٹی سے دوسری بار الیکشن نہیں لڑا۔ پہلے حلقہ این اے 152 کا ذکر ہو جائے۔ اس حلقہ میں 2008ء کے الیکشن میں مسلم لیگ ن کی طرف سے سید اسد مرتضیٰ گیلانی (مرحوم) امیدوار تھا۔ اسد مرتضیٰ گیلانی سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کا بھائی تھا اور 2002ء کے الیکشن میں اسی حلقے سے پیپلز پارٹی کی طرف سے ایم این اے منتخب ہوا تھا۔ یعنی اس نے بھی لگاتار دو الیکشن ایک پارٹی سے نہیں لڑے تھے۔ پیپلز پارٹی کی طرف سے نواب لیاقت امیدوار تھا اور کامیاب ہوا نواب لیاقت 2002ء کے الیکشن میں ق لیگ کا امیدوار تھا۔ مسلم لیگ ق کی طرف سے سید مجاہد علی شاہ امیدوار تھا۔ ابراہیم خان آزاد امیدوار تھا۔ 
2013ء میں اسی حلقہ میں صورتحال یہ تھی کہ مسلم لیگ کا امیدوار سید جاوید علی شاہ تھا جو کامیاب ہوا۔ جاوید علی شاہ کا فرسٹ کزن مجاہد علی شاہ مسلم لیگ ق کی طرف سے گذشتہ الیکشن میں امیدوار تھا۔ جاوید علی شاہ خود سینیٹر تھا۔ ق لیگ کا خاتمہ ہو چکا تھا۔ پیپلز پارٹی کی طرف سے اس بار یوسف رضا گیلانی کے بھائی احمد مجتبیٰ گیلانی امیدوار تھے۔ گذشتہ الیکشن کا آزاد امیدوار ابراہیم خان اس بار پی ٹی آئی کا امیدوار تھا۔ یعنی2002ء ، 2008ء اور 2013ء میں ہر امیدوار دوسری پارٹی سے الیکشن لڑا۔
حلقہ این اے 153 کی تاریخ یہ ہے کہ 2013ء کے الیکشن میں مسلم لیگ ن کی طرف سے دیوان عاشق بخاری امیدوار تھا اور کامیاب ہوا۔ پیپلز پارٹی کی طرف سے رانا قاسم نون امیدوار تھا۔ پی ٹی آئی کی طرف سے سعید خورشید پنہوں امیدوار تھا۔ 2008ء میں مسلم لیگ ن کی طرف سے دیوان جعفر، پیپلز پارٹی کی طرف سے دیوان حیدر عباس، مسلم لیگ ق کی طرف سے دیوان عاشق اور رانا قاسم نون آزاد امیدوار تھے۔ 2002ء کے الیکشن میں بھی اسی قسم کی صورتحال تھی۔ امید ہے آپ سب اس گورکھ دھندے سے چکرا گئے ہونگے کہ معاملہ ہی ایسا الجھا ہوا اور کنفیوزہے۔ اگر اسے آسان کر کے دیکھیں تو صورتحال تب بھی آسانی سے سمجھ آنے والی نہیں ہے تا ہم میں ایک اور کوشش کر کے دیکھتا ہوں۔
حلقہ این اے 152 سے اسد مرتضی گیلانی 2002ء میں پیپلز پارٹی کا اور 2008ء میں مسلم لیگ ن کا امیدوار تھا۔ شجا عباد کے شاہ صاحبان 2013ء میں مسلم لیگ ن اور 2008ء میں مسلم لیگ ق کے امیدوار تھے۔ نواب لیاقت 2002ء میں مسلم لیگ ق کا اور اگلے الیکشن یعنی 2008ء میں پیپلز پارٹی کا امیدوار تھا۔ ابراہیم خان 2008ء میں آزاد اور 2013ء میں پی ٹی آئی کا امیدوار تھا۔
حلقہ این اے 153 سے 2002ء کے الیکشن میں رانا قاسم نون مسلم لیگ ق کا امیدوار تھا۔ 2008ء میں آزاد امیدوار تھا اور 2013ء میں پیپلز پارٹی کا امیدوار تھا۔ دیوان عاشق بخاری 2008ء میں مسلم لیگ ق کا اور 2013ء میں مسلم لیگ ن کا امیدوار تھا۔ گذشتہ تین انتخابات میں صرف جاوید علی شاہ دوبار یعنی 2002ء اور 2013ء میں ایک پارٹی سے الیکشن لڑا تا ہم 2008ء میں یہ مسلم لیگ ق کو پیارا ہو گیا۔ حلقہ این اے 153 سے دیوان جعفر دوبار لگا تار مسلم لیگ ن کا امیدوار تھا۔ یہ پورے علاقے کا واحد سیاستدان تھا جو گذشتہ تین انتخابات میں لگا تار دو انتخابات کسی ایک پارٹی کی طرف سے لڑا یہ دونوں حلقے اس سعادت سے محروم رہ جاتے اگر دیوان جعفر بخاری نہ ہوتا۔
غیب کا علم تو صرف اللہ کو ہے تا ہم آخری خبریں آنے تک صورتحال یہ ہے کہ شجاعباد جلالپور کے ایم این اے، ایم پی اے اور دیگر مسلم لیگی رہنماؤں جاوید علی شاہ، نغمہ مشتاق لانگ، مہدی عباس لنگاہ اور ملک سکندر بوسن کی تمام تر مخالفت کے باوجود مسلم لیگ ن نے رانا قاسم کو ٹکٹ جاری کرنے کا وعدہ کر لیا ہے۔ آج آخری دن ہے لہٰذا وہ کاغذات جمع کروانے میں مصروف ہے۔ کاغذات جمع کروا کر وہ لاہور چلا جائے گا جہاں وہ کل (یعنی آج) کسی نہ کسی ''میاں‘‘ کے ساتھ پریس کانفرنس کرے گا۔ دیوان عاشق کے بیٹے کو ضلع کونسل کا چیئرمین بنانے کا وعدہ کر کے کام چلایا جا رہا ہے۔ یہ وعدہ شجاعباد کے شاہ صاحبان کیلئے کسی خودکش حملے سے کم نہیں ہے۔
مجھے افسوس ہے کہ اسحاق خاکوانی کا سارا یقین مٹی ہو کر رہ گیا اور میرا اندازہ درست ثابت ہوا کہ رانا قاسم نون لیگ میں جا رہا ہے۔ میں فی الحال اپنے تعلقات کسی سے بھی مزید خراب نہیں کرنا چاہتا اس لیے صرف سید یوسف رضا گیلانی کا بیان ہی بیان کرنے پر اکتفا کروں گا۔ انہوں نے گزشتہ سے پیوستہ روز جلالپور پیروالہ میں پیپلز پارٹی کے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ''دیوان عاشق، جاوید علی شاہ اور رانا قاسم نون کسی کے وفادار نہیں‘‘۔ اب یہ حضرات جانیں اور سید یوسف رضا گیلانی جانیں۔ سانوں کیہہ؟

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں