نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- ترک وزیرخارجہ سےعمران خان اورترک صدرملاقات بارےتبادلہ خیال ہوا،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- سعودی وزیرخارجہ سےبھی ملاقات ہوئی،وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- سعودی وزیرخارجہ کوافغانستان سےمتعلق پاکستانی نقطہ نظرپیش کیا،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- افغان صورتحال عالمی برادری کےلیےامتحان ہے،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- افغان صورتحال پرایک مربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- عالمی برادری مشکل گھڑی میں افغان عوام کی معاونت کرے،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- افغانستان میں معاشی بحران خطرناک ہوسکتاہے،وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- دنیاایک رخ دیکھ رہی ہے،وزیراعظم تقریرمیں دوسرارخ پیش کریں گے،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- وزیراعظم کاجنرل اسمبلی سےایک جامع خطاب ہوگا،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- جنرل اسمبلی اجلاس کےموقع پراہم رہنماؤں سےملاقاتیں ہوئیں،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- عالمی رہنماؤں سےافغانستان اورکشمیرسےمتعلق بات ہوئی،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- کشمیریوں کیساتھ اظہاریکجہتی پراوآئی سی رابطہ گروپ کےمشکورہیں،وزیرخارجہ
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

چوہدری بھکن کا کرکٹ سے استعفیٰ

آج صبح صبح چوہدری بھکن آ گیا۔ چوہدری سے بڑے دنوں بعد ملاقات ہوئی۔ کچھ میری سفری مصروفیات اور اوپر سے چوہدری کی سیاسی و غیر سیاسی خود ساختہ مصروفیات۔ کئی ماہ سے ملاقات ہی نہ ہو سکی تھی۔ آتے ہی کہنے لگا میں نے کرکٹ سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ میں نے حیرانی سے پوچھا چوہدری! کس چیز سے استعفیٰ دیا ہے؟ چوہدری کہنے لگا تم اس عرصے میں غالباً ''ڈورے‘‘ ہو گئے ہو۔ میں نے کہا چوہدری! ممکن ہے ایسا ہو گیا ہو تاہم تم سے پہلے اس بات کا انکشاف کسی نے نہیں کیا۔ لیکن اس میں حیرانی کی کوئی بات نہیں ‘کسی نہ کسی بات کا انکشاف تو کوئی نہ کوئی شخص کرتا ہی ہے۔ ممکن ہے وہ شخص تم ہی ہو جو مجھے بتا رہا ہے کہ میں ''ڈورا‘‘ (بہرہ) ہو گیا ہوں۔ تاہم کیا تم اپنی بات دوبارہ بتا سکتے ہو! چوہدری کہنے لگا میں کرکٹ سے مستعفی ہو گیا ہوں۔ میں نے کہا: چوہدری! تم نے زندگی بھر بیٹ بلے کو ہاتھ نہیں لگایا‘ اب تو تم سے ٹھیک چلابھی نہیں جاتا لیکن جب تم جوان تھے تب بھی تم نے الحمد للہ کوئی ایسی گیم نہیں کھیلی جس کا نام کسی جنٹری کی محفل میں لیا جا سکے۔ گلی ڈنڈا‘ پٹھو گرم اور باندر کلا وغیرہ کے علاوہ تم نے اور کیا کھیلا ہے؟ اور اب استعفیٰ کس چیز سے دیا ہے؟ 
چوہدری کہنے لگا‘ تمہاری ساری فضول گفتگو کا میرے پاس جواب تو موجود ہے مگر بدقسمتی سے وقت نہیں کہ ضائع کر سکوں۔ ملک کی عزت کا سوال ہے۔ ملکی وقار کا مسئلہ ہے۔ کسی نہ کسی کو تو اس شرمناک شکست کی ذمہ داری قبول کرنا تھی۔ کسی کو تو اس بدترین کارکردگی پر شرم آنا تھی۔ کسی کو تو اس عبرتناک ناکامی کی ذمہ داری اپنے کاندھوں پر اٹھانا تھی۔ کسی کو تو اس ذلت پر استعفیٰ دینا تھا۔ سو وہ میں نے دے دیا۔ اب شہر یار خان استعفیٰ دینے پر تیار نہیں۔ نجم سیٹھی نے پنکچر لگا کر عہدہ لیا ہے‘ وہ تو چھوڑنے سے رہا۔ شاید آفریدی کرکٹ میدان میں جتنا غیر مستقل مزاج ہے‘ کرکٹ نہ چھوڑنے کے بارے میں اتنا ہی مستقل مزاج ہے۔ وقار یونس اپنی جگہ عزت و آبرو سے عاری ایک کہانی ہے۔ اب بھلا کون استعفیٰ دے گا؟ ملکی عزت اور وقار کی خاطر یہ قربانی میں دے رہا ہوں۔ آپ لوگوں کو میرا احسان مند ہونا چاہیے کہ اجتماعی بے حسی‘ بے غیرتی‘ بے شرمی اور بے حیائی کے دور میں‘ میں یہ قربانی دے رہا ہوں۔ بھلے سے میں کرکٹ نہیں کھیلتا۔ یہ ٹھیک ہے کہ 
میں نے زندگی بھر کبھی کرکٹ کھیلی بھی نہیں لیکن اس کا کیا مطلب ہے کہ میں اب استعفیٰ بھی نہ دوں؟ ویسے نجم سیٹھی کو کتنی کرکٹ آتی ہے؟ اسے بھی کرکٹ اتنی ہی آتی ہوگی جتنی مجھے آتی ہے۔ میں گلی ڈنڈا کھیلتا رہا ہوں۔ گلی کو ''ٹُل‘‘ مار سکتا ہوں تو گیند کو بلا بھی مار ہی لوں گا۔ میں تو دراصل مستعفی ہونے کا رواج ڈالنا چاہتا ہوں۔ ساری بے غیرت کرکٹ بریگیڈ کو غیرت دلانا چاہتا ہوں۔ بے عزت لوگوں کو عزت کا مفہوم سمجھانا چاہتا ہوں۔ بے عزتی اور بے حیائی کے دور میں عزت اور حیا کا کلچر عام کرنا چاہتا ہوں۔ لوگوں کو‘ میرا مطلب ہے ڈھیٹ اور بے شرم لوگوں کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ استعفیٰ نامی کوئی چیز ہوتی ہے۔ میں ان بے حیائوں کو صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ایسے مواقع پر عزت اور شرافت کے کچھ تقاضے ہوتے ہیں۔ بے شرمی اور بے عزتی سے نکلنے کے باعزت راستے ہوتے ہیں۔ دنیا بھر میں اقوام یہ راستہ اختیار کرتی ہیں۔ ذمہ داران اپنا قصور مانتے ہیں۔ اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہیں۔ اپنی نااہلی پر شرمندہ ہوتے ہیں۔ اپنی بری کارکردگی پر خود احتسابی کرتے ہیں۔ اپنی ناکامیوں پر شرمندگی محسوس کرتے ہیں اور اس کے ازالے کے طور پر صرف قوم سے معافی مانگ کر ڈھٹائی اور بے حیائی سے اسی طرح چمٹے نہیں رہتے بلکہ از خود مستعفی ہو جاتے ہیں۔ کچھ شرم ہوتی ہے تھوڑی حیا ہوتی ہے۔
اب تم دیکھو ہماری کتنی بھد اڑی ہے؟ کتنی بے عزتی ہوئی ہے۔ کتنی عبرتناک شکست ہوئی ہے۔ ٹی ٹوئنٹی میں کتنے ذلیل و رسوا ہو کر فارغ ہوئے ہیں۔ ایک میچ جیتے ہیں اور تین ہار کر گھر آ گئے ہیں۔ سیمی فائنل تک کی شکل نہیں دیکھ سکے۔ اس سے پہلے ون ڈے میں بھی یہی ہوا تھا۔ مسلسل ہار رہے ہیں۔ لگاتار قوم کو بے عزت کروا رہے ہیں۔ تسلسل سے بری پرفارمنس دے رہے ہیں۔ ساری ٹیم صرف اور صرف شاہد آفریدی کی کارکردگی کی محتاج بنی پھرتی ہے اور شاہد آفریدی ہر میچ میں اسی طرح خالی واپس آتا ہے جیسے کھوٹا پیسہ واپس آتا ہے۔ اب تو شاہد آفریدی پر بننے والے لطیفوں نے سکھوں پر بننے والے لطیفوں کا ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ ادھر پاکستان کا میچ شروع ہوتا تھا ادھر ایس ایم ایس آتا تھا کہ ''پاکستان کے گردو نواح میں کرکٹ ٹیم کو گالیاں دینے کا وقت ہو گیا ہے‘‘۔ واٹس ایپ پر پیغام آتا ہے کہ ''شاہد آفریدی گھر کی دیوار پر لٹکی ہوئی وہ پرانی بندوق ہے جو ڈاکوئوں کے آنے پر تو کبھی نہیں چلتی مگر صفائی کے دوران اکثر چل جاتی ہے‘‘۔
شاہد آفریدی نے ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ میں جونہی بنگلہ دیش کے خلاف اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ایک میسج آیا ''شاہد آفریدی گھر میں رکھا ہوا وہ پرانا جنریٹر ہے جسے جب بھی بیچنے کا ارادہ کریں اسی روز سٹارٹ ہو جاتا ہے اور گھر والے اسے بیچنے کا ارادہ ایک بار پھر ترک کر دیتے ہیں‘‘۔ اب بھلا یہ کوئی بات ہے کہ ٹیم کی کارکردگی صفر سے بھی نیچے کی ہے اور کوئی ذمہ داری قبول نہیں کر رہا۔ وقار یونس کو ساری فکر اس بات کی ہے کہ اس کی رپورٹ کیسے لیک ہو گئی؛ حالانکہ اس کو رپورٹ کے لیک ہونے پر اس طرح حیرانی کا اظہار نہیں کرنا چاہیے تھا۔ اس کی رپورٹ بالکل اسی طرح لیک ہوئی ہے جیسے ناقص پیمپر لیک ہو جاتے ہیں۔ بندہ پوچھے تمہیں ہیڈ کوچ کے طور پر اپنی کارکردگی پر کوئی شرمندگی نہیں۔ تمہیں اپنی تیار کی گئی ٹیم کی پرفارمنس پر حیرانی نہیں۔ تمہیں اپنی ٹیم کی کارکردگی پر پریشانی نہیں مگر رپورٹ لیک ہونے پر بڑی پریشانی اور غصہ ہے۔
ادھر شاہد آفریدی کو دیکھیں‘ اس کا حال وہی ہے جیسا تم ایک شاعر کے بارے میں بتاتے تھے۔ مجھے اب اس کا نام یاد نہیں مگر تم بتاتے تھے کہ وہ مشاعرے میں تب تک اپنے شعر سناتا رہتا تھا جب تک اسے داد ملنی شروع نہ ہو جائے اور جب داد ملنا شروع ہو جاتی تھی تو وہ تب تک سناتا رہتا تھا جب تک دوبارہ ذلیل و رسوا نہ ہو جائے۔یہی حال اپنے شاہد آفریدی کا ہے۔ اللہ نے جتنی عزت اسے دی تھی بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتی ہے۔ عالم یہ تھا کہ جب شاہد آفریدی آئوٹ ہوتا تھا لوگ سٹیڈیم سے واپس گھروں کو چل پڑتے تھے اور ٹی وی پر میچ دیکھنے والے ٹی وی کے آگے سے اٹھ جاتے تھے۔ اب کیا ہوا؟ ایک ایس ایم ایس آیا ''پیشگی ریٹائرمنٹ مبارک؛ ایسے ہیرو کو جو نہ بکتا ہے‘ نہ جھکتا ہے اور نہ ''چلتا‘‘ ہے‘‘۔
اپنے نجم سیٹھی کو دیکھیں‘ ان کی چڑیا دنیا بھر کی خبریں دیتی ہے‘ بس کرکٹ کی ذلت و رسوائی بارے چڑیا خاموش ہے۔ چڑیا بڑے مشورے دیتی ہے‘ بس استعفے کا مشورہ نہیں دیتی۔ چڑیا بڑی عقل و دانشمندی کی خبریں لاتی ہے‘ عزت و آبرو بارے خاموش رہتی ہے۔ بندہ پوچھے بھلا تمہارا کرکٹ سے کیا تعلق ہے؟ چلیں بلوچ لبریشن آرمی کے بارے تو موصوف کو پتہ ہو گا کہ جوانی ان کے ساتھ گزاری ہے۔ را کے بارے میں ان کی صفائیوں کی سمجھ آتی ہے کہ اس کے تانے بانے دور تک جاتے ہیں‘ لیکن موصوف کو کرکٹ کے بارے کیا پتہ ہے؟ لیکن چمٹے ہوئے ہیں۔ پنکچروں والے معاملے سے پہلے کسی نے کبھی سوچا تھا کہ نجم سیٹھی صاحب کرکٹ کے ابا جی بن جائیں گے؟ کسی کے تصور میں تھا کہ کرکٹ بورڈ کی چیئرمینی پر فائز ہو جائیں گے؟ ان کا کرکٹ سے کیا لینا دینا؟ سیدھی سادی سیاسی رشوت ہے مگر موصوف اللہ کا دیا سب کچھ ہونے کے باوجود محض مزید پیسے اور اختیار کے لالچ میں مسلسل ''عزت افزائی‘‘ کے باوجود کرکٹ بورڈ سے چمٹے بیٹھے ہیں۔ دوسروں کو عزت‘ غیرت‘ حمیت اور اسی قسم کے دیگر اعلیٰ صفات پر بھاشن دینے والا خود صرف ان چار پیسوں کے لیے جس کی شاید اسے ضرورت بھی نہیں اس قسم کی ساری اعلیٰ صفات سے عاری منصب کو ''جپھا‘‘ مار کر بیٹھا ہے۔
آخر میں رہ گیا شہر یار خان۔ نواب خاندان سے تعلق رکھنے والا یہ حسبی نسبی نوابزادہ آخری عمر میں اپنی وہ بنی بنائی عزت خراب کرنے پر تلا ہوا ہے جو اللہ کے کرم کی وجہ سے ابھی لوگوں پر آشکار نہیں ہوئی تھی۔ نوابزادہ صاحب کی پیدائش ''قصر سلطانی ‘‘ بھوپال میں ہوئی۔ ان کے والد محمد سرور علی خان ریاست کوروائی کے فرمانروا تھے اور والدہ عابدہ سلطان بیگم صاحبہ جن کے القابات ثریا جہان اور نواب گوہر تاج تھے‘ بھوپال کے فرمانروا نواب حاجی حافظ سر محمد حمید اللہ خان کی صاحبزادی اور ان کی بڑی بیٹی ہونے کے حوالے سے ریاست بھوپال کی ولی عہد تھی۔ اس حساب سے شہر یار خان والد اور والدہ دونوں کی طرف سے جدی پشتی نواب اور حکمران خاندان سے ہیں۔ اللہ نے کیا تھا جو نہیں دیا؟ بچپن سونے کے چمچے سے کھانا کھاتے گزرا۔ جوانی فارن سروس کے مزے میں گزری۔ بائیسویں گریڈ میں بطور فارن سیکرٹری ریٹائر ہوئے۔ اب ماشا ء اللہ سے بیاسی سال کے ہیں۔ دنیا کے موج میلوں سے پوری طرح لطف اندوز ہو چکے ہیں۔ اس عمر میں اللہ اللہ کرنے کے بجائے بے عزت ہو کر ایسے عہدے سے چمٹے پڑے ہیں جو ان کے ماضی کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔ روپے پیسے کی کمی نہیں مگر ہوس ہے کہ ختم ہونے میں نہیں آ رہی۔ استعفیٰ دینے میں کیا حرج تھا؟ تھوڑی عزت بڑھ جاتی مگر عزت کی اس ملک میں کس کو فکر ہے؟
کبھی کسی نے استعفیٰ دیا ہے؟ ریلوے کے حادثے پر شیخ رشید نے کہا کہ بطور وزیر میں کیوں استعفیٰ دوں؟ میں کوئی ڈرائیور ہوں؟ پچاس ہزار لوگ دہشت گردی میں شہید ہو گئے۔کوئی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مستعفی نہیں ہوا۔ ہزاروں بھارتی ٹرانزٹ مسافر کراچی میں غائب ہو گئے‘ کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی نہ کسی نے استعفیٰ دیا۔ اب اس ملک میں سخت کھال والے بے حیائوں اور بے شرموں کا دور دورہ ہے‘ میں بارش کا پہلا قطرہ بن کر مستعفی ہو رہا ہوں تو اعتراض کرتے ہو کہ میں کس چیز سے استعفیٰ دے رہا ہوں؟ بھائی میں تو استعفیٰ کے رواج کا آغاز کرنا چاہتا ہوں۔ شاید کسی کو شرم آ جائے۔ کوئی عہدہ نہ سہی‘ تم میری نیت کو دیکھو۔ میرے عزم و ارادے کو دیکھو اور باقی بے شرموں کی ڈھٹائی کو دیکھو۔ اللہ تمہارا بھلا کرے‘ شاید کسی کو حیا آ جائے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں