نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- ترک وزیرخارجہ سےعمران خان اورترک صدرملاقات بارےتبادلہ خیال ہوا،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- جنرل اسمبلی اجلاس کےموقع پراہم رہنماؤں سےملاقاتیں ہوئیں،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- عالمی رہنماؤں سےافغانستان اورکشمیرسےمتعلق بات ہوئی،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- کشمیریوں کیساتھ اظہاریکجہتی پراوآئی سی رابطہ گروپ کےمشکورہیں،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- سعودی وزیرخارجہ سےبھی ملاقات ہوئی،وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- سعودی وزیرخارجہ کوافغانستان سےمتعلق پاکستانی نقطہ نظرپیش کیا،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- افغان صورتحال عالمی برادری کےلیےامتحان ہے،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- افغان صورتحال پرایک مربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- عالمی برادری مشکل گھڑی میں افغان عوام کی معاونت کرے،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- افغانستان میں معاشی بحران خطرناک ہوسکتاہے،وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- دنیاایک رخ دیکھ رہی ہے،وزیراعظم تقریرمیں دوسرارخ پیش کریں گے،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- وزیراعظم کاجنرل اسمبلی سےایک جامع خطاب ہوگا،شاہ محمودقریشی
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

آگے کی اللہ جانے

ہم گورے کی غلامی سے نکل کر آزاد ہو چکے ہیں؛ تاہم حقیقت یہ ہے کہ گورے کی غلامی سے نکل کر کالے کے پنجۂ استبداد میں جکڑی ہوئی اس آزادی کے سفر میں ہمارے لیے فرق یہ آیا ہے کہ غلامی کے دور میں گورا لندن سے یہاں آ کر حکومت کرتا تھا اور اب آزادی کے دور میں ہمارا کالا حاکم یہاں سے لندن جا کر حکومت چلاتا ہے۔
ایک دوست سے بات ہوئی تو کہنے لگا: اس میں پریشانی کی کیا بات ہے؟ میں نے کہا: پریشانی کیوں نہ ہو گی؟ وزیر اعظم غیر معینہ مدت کے لیے باہر تشریف لے جا چکے ہیں، وزیر داخلہ بھی ان کے پیچھے پیچھے عازم لندن ہو چکے ہیں۔ وزیر اعظم کی ساری غیر سرکاری ذمہ داریاں جناب اسحاق ڈار کے کندھوں پر ہیں۔ سوائے وزیر اعظم کے اختیارات کے باقی سب کچھ ان کے پاس ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کے پاس کچھ بھی نہیں کہ وزیر اعظم کے منصب کو آئینی طور پر اور کوئی شخص استعمال ہی نہیں کر سکتا۔ میرا دوست ہنسا اور کہنے لگا: آپ خواہ مخواہ پریشان ہو رہے ہیں۔ اس ملک میں سب کچھ چلتا ہے۔ پیپلز پارٹی کے وزیر دبئی سے وزارت چلاتے رہے ہیں۔ فائلیں دوبئی جاتی تھیں اور دستخط ہو کر آجاتی تھیں۔ اب بھی یہ سسٹم چل سکتا ہے اور گمان غالب ہے کہ ایسے ہی چلے گا۔ باقی رہ گئی بات حکومتی معاملات کی تو عزیزم! تمہارا کیا خیال ہے یہ سسٹم وزیر اعظم چلاتا ہے؟ اور وہ بھی میاں نواز شریف صاحب جیسا وزیر اعظم؟ جس کی کام کرنے کی استعداد محدود تر ہی نہیں بلکہ محدود ترین ہے۔ بات سننے کا، گفتگو کو ہضم کرنے کا ہر شخص کا ایک انتہائی وقت ہوتا ہے۔ یہ ہر شخص کا مختلف ہوتا ہے۔ کسی کا یہ دورانیہ پانچ منٹ کا ہوتا ہے اور کسی کا ایک گھنٹے کا۔ اس کو آپ اس شخص کا ''پیمانہ ارتکاز‘‘ یعنی Concentration Level کہہ سکتے ہیں۔ اس کے بعد اس شخص کے دماغ کی بتیاں بجھ جاتی ہیں اور سوچنے سمجھنے کی کھڑکیاں بند ہو جاتی ہیں۔ اپنے میاں صاحب کا یہ پیمانہ ارتکاز چند منٹ کا ہے۔ اس کے بعد وہ اس موضوع پر اپنا ارتکاز جاری نہیں رکھ سکتے۔ یہ خداداد صلاحیت ہے جو انہیں ودیعت ہوئی ہے۔ اس میں ان کا ذاتی کارنامہ کوئی نہیں۔ اللہ کی دین ہے۔ وہ کوئی لمبا چوڑا فائل ورک کرنا تو درکنار‘ زیادہ فائلیں پڑھ بھی نہیں سکتے۔ انہی پر کیا موقوف؟ یہ صلاحیت تو اپنے گیلانی صاحب میں بھی نہیں تھی۔ راجہ پرویز اشرف بھی الاّماشااللہ تھے۔ یہ سارا کام ویسے بھی وزیر اعظم جیسی اعلیٰ ہستی کا نہیں‘ یہ کلرکوں اور بابوؤں کا کام ہے۔ ہر حکمران اپنے اعتبار کے بندے لاتا ہے اور انہیں یہ ذمہ داری سونپ دیتا ہے۔ کبھی دور تھا کہ حکمران اچھے بیوروکریٹ کو یہ ذمہ داریاں سونپتے تھے۔ ملک فیروز خان نون کا واقعہ تو الطاف گوہر نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ ایک دفعہ بیگم فیروز خان نون کی موجودگی میں انہوں نے کوئی فائل ملک فیروز خان نون کو پیش کی۔ فیروز خان نون کی بیگم انگریز تھیں اور ان کی زندگی میں بڑی دخیل تھیں‘ لیکن سرکاری معاملات میں ان کی دخل اندازی کو رتی برابر پذیرائی نہیں دی جاتی تھی۔ الطاف گوہر نے اپنا لکھا ہوا نوٹ سنایا۔ لیڈی فیروز خان نون نے یہ نوٹ سن کر اپنی رائے دی اور کہا کہ یہ ایسا ہونا چاہئے۔ ملک فیروز خان نون نے الطاف گوہر کی طرف دیکھا اور کہنے لگے: ''بکن دے سو‘‘۔ (اسے بکنے دو) اب معاملہ مختلف ہے۔
وزیر اعظم گیلانی کے دور میں ان کا سارا سٹاف ان کے سارے خاندان کی فرمائشوں اور خواہشات کی تکمیل میں جتا ہوا تھا۔ ان کا سارا دفتری نظام اور ''ذاتی نظام‘‘ میرا مطلب ہے ان کے سارے فرمائشی کام ایک AUTO سسٹم پر چلتے تھے۔ سارا دفتر تب نرگس سیٹھی چلاتی تھی۔ دوچار پروفیشنل اور بیبے افسر اس سارے ''گھڑمس‘‘ سے اتنے گھبرائے کہ وزیر اعظم سیکرٹریٹ چھوڑ کر بھاگ گئے کہ اس نظام میں ان کے لیے فٹ ہونا مشکل ہی نہیں ناممکن تھا۔ وہ پروفیشنل طریقے سے کام کرنے کے عادی تھے اور وہاں سارا نظام فرد واحد چلا رہا تھا۔ بیوی، بھائی، بیٹے، بیٹی، بہن، بہنوئی، بھتیجے، بھانجے غرض جتنے رشتے بھی 'ب‘‘ سے شروع ہوتے تھے وہاں دخیل تھے اور ان سب کو حتیٰ الامکان خوش رکھنا بھی مقصود تھا۔ اوپر سے انویسٹر بھی مسلط تھے اور سپانسر بھی چھائے ہوئے تھے۔ بھلا کوئی پروفیشنل افسر کام کیسے چلا سکتا تھا؟ تب سارا سیکرٹریٹ نرگس سیٹھی چلاتی تھیں۔ اب فواد حسن فواد چلاتا ہے۔ وزیر اعظم تب بھی اپنے ذاتی کاموں میں مصروف ہوتا تھا اور اب بھی۔ نظام حکومت نہ پہلے وزیر اعظم چلاتا تھا اور نہ ہی اب چلا رہا ہے۔ سو میرے عزیز! کسی کے لندن جانے پر کام میں حرج کا کوئی امکان نہیں۔ ہاں مورال ضرور ڈاؤن ہے لیکن گمان غالب ہے کہ یہ گرا ہوا مورال دو چار دن میں اوپر اٹھا لیا جائے گا مگر دوبارہ دھڑام سے گرنے کے امکانات خاصے روشن ہیں۔
شفیق سے بڑے دن سے بات نہیں ہوئی تھی۔ اسے پرسوں فون کیا۔ میرا ارادہ تھا کہ اس سے امریکی انتخابات بارے گفتگو ہو گی اور کچھ تازہ صورتحال کا پتہ چلے گا کہ وہ امریکی سیاست کا کیڑا ہے اور سارا دن پاکستانی ٹی وی چینل دیکھنے اور امریکی سیاست پر غور و فکر کرنے کے علاوہ اس کے پاس اور کوئی زیادہ کام ہے ہی نہیں۔ روزانہ علی الصبح اٹھ کر ٹی وی کے سامنے بیٹھ جاتا ہے۔ امریکی نقشے کے مطابق بنے ہوئے گھر کا کچن لاؤنج کے ساتھ جڑا ہوا ہے اور درمیان میں کوئی دیوار یا پارٹیشن نہیں ہے۔ پہلے گھر تھوڑا چھوٹا تھا (موجودہ گھر کے مقابلے میں) اور لاؤنج اور کچن تقریباً ایسے ہی تھے کہ گویا ایک بڑا کمرہ ہو۔ اب کچن اور لاؤنج کے درمیان ایک بڑی کھانے کی میز حائل ہے لیکن یہ میز بھی رکاوٹ نہیں بنتی‘ لہٰذا کچن سے ٹی دیکھنا اتنا ہی آسان ہے جتنا لاؤنج میں بیٹھ کر۔ ناشتہ وہ خود بناتا ہے کہ اس وقت سارا گھر ابھی اٹھنے کی تیاریاں کر رہا ہوتا ہے۔ وہ نہایت سستی اور کاہلی سے ناشتہ بناتا ہے۔ اتنی کاہلی سے کہ اس دوران ثمینہ دفتر چلی جاتی ہے اور حمزہ تیار ہو کر آجاتا ہے۔ شفیق حمزہ کو سکول چھوڑ کر واپس گھر آجاتا ہے اور ٹی وی کے سامنے بیٹھ جاتا ہے۔ ایک دو گھنٹے پاکستانی اور امریکی ٹی وی وغیرہ دیکھ کر فارغ ہوتا ہے تو اپنے سٹورز کی طرف چل پڑتا ہے۔ پچاس میل کے دائرے میں بکھرے ہوئے پانچ چھ سٹورز میں سے دو سٹورز کا چکر لگاتا ہے۔ دس سے پندرہ بیس منٹ حد آدھ گھنٹہ ایک سٹور پر لگاتا ہے اور واپس گھر کو چل پڑتا ہے۔ حمزہ کو سکول سے واپس لاتا ہے اور پھر ٹی وی کے سامنے بیٹھ جاتا ہے۔
میں نے پوچھا کہ امریکی الیکشن کی کیا صورت ہے؟ ڈونلڈ ٹرمپ کا کیا بننا ہے؟ ہلیری کی کیا پوزیشن ہے؟ ہنس کر کہنے لگا ہمارے الیکشن میں ابھی بڑا وقت پڑا ہے۔ ابھی تو امیدواروں کا نام فائنل نہیں ہوا۔ یہ سب ابھی کافی دن چلے گا۔ اس کو چھوڑو۔ یہ بتاؤ آپ کے ہاں کیا ہو رہا ہے؟ میں نے کہا: تم خود دیکھ رہے ہو کہ کیا ہو رہا ہے۔ کہنے لگا: لیکن یہ ہوا کیسے؟ میں نے کہا: ہر آدمی سمجھتا ہے کہ وہ بڑا سمجھدار ہے۔ اس کی گرفت نہیں ہو سکتی۔ وہ ثبوت مٹا چکا ہے لیکن ایسا ہوتا نہیں۔ شفیق کہنے لگا: لگتا ہے اس بار میاں صاحب واقعی مصیبت میں پھنس گئے ہیں‘ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا انہیں اندازہ نہیں تھا کہ ایسا ہو سکتا ہے؟ میں نے کہا کہ دراصل میاں صاحب آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل والی کہاوت کی آفاقیت کے قائل تھے۔ ان کا خیال تھا کہ حسین سعودی عرب ہے اور حسن برطانیہ میں ہے‘ ملکی سیاست میں ان کا کوئی عمل دخل نہیں ہے اور لوگوں کی نظروں میں بھی نہیں ہیں۔ براہ راست سودوں میں بھی ملوث نہیں ہیں اور پاکستان میں لوگوں سے براہ راست لین دین کا بھی کوئی منظر نہیں ہے۔ بھلا اس صورتحال میں ان کا نام کہاں آئے گا؟ ان پر کون بات کرے گا؟ اب اس کے مقابلے میں دیکھو‘ حمزہ شہباز کا نام بہت سے لوگوں کی زبان پر ہے۔ ثبوت نہ ہوں مگر زبان خلق تو خدائی نقارہ بجا رہی ہے۔ بڑی کہانیاں ہیں اور بڑے قصے ہیں‘ لیکن حسین اور حسن نواز شریف کا تو کہیں کوئی ذکر ہی نہیں تھا۔ کبھی کبھار غیر ملکی دوروں میں دونوں یا ایک برخوردار کی شرکت پر ایک آدھ سوال اٹھتا تھا مگر پھر بات ٹھنڈی ہو جاتی تھی۔ کوئی براہ راست متاثر نہیں ہو رہا تھا اور کوئی افواہ بھی نہیں تھی۔ ایسے میں آپ نہایت مطمئن ہوتے ہیں۔ دنیا بھر کے لوگ آف شور کمپنیاں بنائے پھر رہے تھے‘ ان کی کمپنیوں بارے کوئی علیحدہ رولا نہیں تھا۔ 
بات باہر نہیں آئی تھی اور بظاہر اس کا امکان بھی نہیں تھا‘ بلکہ امکان کیا گمان تک نہیں تھا کہ بات اتنی پھیل جائے گی۔ وہ تو برا ہو ہیکر کا جس نے سارا ڈیٹا ہیک کر لیا اور اخبار کے پاس لے کر پہنچ گیا۔ ڈیڑھ کروڑ سے زائد دستاویزات میں سے ابھی پہلی قسط ریلیز ہوئی ہے اور میاں صاحب کی بدقسمتی کہ اس پہلی قسط میں ہی پھنس گئے ہیں۔
انہیں دو اور بڑی تسلیاں تھیں۔ پہلی یہ کہ ان کی پیپلز پارٹی سے پوری مفاہمت تھی اور آپس میں بڑی انڈرسٹینڈنگ تھی کہ کچھ بھی ہو جائے جمہوریت کے نام پر سب کچھ معاف ہے۔ جمہوریت کا تمبو اتنا پھیلا لیا گیا تھا کہ اس کے نیچے کرپشن وغیرہ بھی چھپ کر رہ گئی تھی۔ انجمن امداد باہمی کے سنہری اصولوں کو جس طرح سے مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے استعمال کیا تھا اس کے ہوتے ہوئے میاں صاحب کو کم از کم اپنے موجودہ دور حکومت میں زرداری صاحب کی جانب سے کسی خطرے کا امکان نہیں تھا۔ دوسری تسلی یہ تھی کہ عمران خان کا مقبولیت کا گراف بہرحال کم ہوا ہے۔ میاں صاحب کا اپنا گراف بے شک بہتر نہ ہو مگر بہت سے لوگ عمران خان کے دھرنے سے لے کر بعد والے بے شمار اقدامات، بیانات اور حرکات سے مایوس ضرور ہوئے ہیں۔ یہ میاں صاحب کے لیے بالواسطہ فائدے والی بات تھی اور وہ اس صورتحال میں بظاہر بڑے کمفرٹیبل تھے کہ اچانک پانامہ لیکس نے سارا سکون لیک کر دیا۔
شفیق پوچھنے لگا اب کیا ہو گا؟ تمہارا کیا خیال ہے؟ میں نے کہا: میرے پاس نہ تو چڑیا ہے اور نہ ہی کوئی اور خفیہ یا معتبر سورس؛ تاہم میاں صاحب کی خوش قسمتی، جو عرصہ دراز سے ان کا ساتھ دے رہی تھی اب تھک گئی ہے۔ وہ ہر بار اپنی خوش نصیبی کے باعث بحرانوں بے بچ نکلتے تھے اور شاید ان کو غلط فہمی ہو چکی تھی کہ وہ ان بحرانوں سے اپنی عقلمندی اور سمجھداری سے بچ نکلتے ہیں؛ حالانکہ وہ اپنے مخالفین کی حماقتوں، بے وقوفیوں اور غلطیوں کے باعث سرخرو قرار پاتے تھے۔ اب کی بار مشکل لگتا ہے۔ بہرحال میرا اندازہ ہے کہ جمہوریت کو تو فی الوقت براہ راست کوئی خطرہ نہیں لیکن میاں صاحب کی ذات میں اور جمہوریت میں بڑا فرق ہے اور جمہوریت کا مستقبل بہرحال محفوظ نظر آرہا ہے۔ آگے کی اللہ جانے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں