نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- نیویارک:شاہ محمودقریشی کی پاکستان ہاؤس آمد،نادراڈیسک کاافتتاح کردیا
  • بریکنگ :- تقریب میں شہریارآفریدی،مستقل مندوب منیراکرم،سفیراسدمجیدبھی موجود
  • بریکنگ :- وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی کا نیویارک میں پاکستانی کمیونٹی سے خطاب
  • بریکنگ :- نادراڈیسک کےقیام پر چیئرمین نادرا کےشکرگزارہیں،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- نادراڈیسک کےقیام سے اوورسیز پاکستانیوں کوفائدہ ہوگا،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- وزیراعظم بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کےمسائل سے آگاہ ہیں،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- وزیراعظم چاہتےہیں کہ اوورسیز پاکستانیوں کوتمام سہولتیں فراہم کی جائیں،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- اوورسیز پاکستانیوں نے تاریخی ترسیلات زرملک میں بھیجیں،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- اوورسیز نے29.4بلین ڈالرکی ترسیلات وطن بھیجیں،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- ملک کوجب بھی ضرورت پڑی اووسیز نےبھرپورساتھ دیا،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- اوورسیز پاکستانیوں کی سہولت کےلیےایک پورٹل بھی لانچ کردیاگیاہے،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- ہمیشہ سفارتکاروں کواوورسیز پاکستانیوں سےاخلاق سےپیش آنےکی ہدایت کی ہے،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- ہم چاہتے ہیں جب بھی پاکستانی یہاں آئیں انہیں کوئی مشکل نہ پیش آئے،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- اوورسیز پاکستانی ہمارے ملک کاسرمایہ ہیں،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کوہرممکن سہولتوں کی فراہمی جاری رہےگی،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- اوورسیز پاکستانیوں کوجب بھی یاد کیاگیاانہوں نےبھرپورساتھ دیا،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- اوورسیز پاکستانی ہرشعبےمیں تعاون کرتےہیں،شاہ محمودقریشی
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

تنہائی‘صحیح سمت‘ شفیق الرحمان اور قبلہ سرتاج عزیز

شفیق الرحمان میرے ''آل ٹائم‘‘ پسندیدہ لکھنے والوں میں شامل ہیں۔ مشتاق یوسفی صاحب کو پڑھنا تو بعد میں شروع کیا۔ شفیق الرحمن کو لڑکپن ہی میں پڑھنا بلکہ حفظ کرنا شروع کر دیا اور یہ محبت آج بھی قائم ہے۔ معمولی سا جیب خرچ ملتا تھا جس میں ابن صفی بھی خریدنا ہوتا تھا۔ حرم گیٹ کے اندر ایک دکان سے ٹکٹیں خریدنی ہوتی تھیں۔ داستان امیر حمزہ کی نئی جلد لینا ہوتی تھی اور روز مرہ کے دیگر اخراجات بھی۔ جیب خرچ مہینے کے ابتدائی آٹھ دس دن میں ہی ختم ہو جاتا۔ پھر اس کے بعد والدہ کی طرف سے چھوٹی موٹی''سبسڈی‘‘ سے کام چلتا۔ بھائی طارق مرحوم تھوڑی بہت مالی امداد فراہم کرتے کہ وہ خود تقریباً اسی صورتحال کا شکار ہوتے تھے مگر انہیں کم از کم کتابیں نہیں خریدنا ہوتی تھیں۔ البتہ میری خریدی گئی کتابوں کو بعض اوقات مجھ سے پہلے پڑھ لیتے تھے لیکن کام چل جاتا تھا۔ کتابیں خریدنے کے لیے بڑی بہن مرحومہ بھی مالی امداد فراہم کرتیں۔ وہ اپنے جیب خرچ میں سے بچت کر کے کچھ نہ کچھ پیسے ضرور پس انداز کر لیتی تھیں، انہیں پتا تھا کہ میرا جیب خرچ بہرحال کتابوں کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔
آہستہ آہستہ میرے پاس شفیق الرحمان کا پورا سیٹ جمع ہو گیا۔ مختلف اوقات میں خریدے گئے اس سیٹ کی ہر کتاب ہی تقریباً نئے ایڈیشن اور نئے گیٹ اپ والی تھی۔ تب کتاب سستی ہوتی تھی مگر جیب میں پیسے اس سے بھی کم ہوتے تھے۔ لیکن تب ضروریات زندگی کا پھیلائو بہت کم تھا۔ باہر کھانے کا رواج تو ایک طرف، گمان تک نہ تھا۔ تب زیادہ خرچہ کتابیں خریدنے پر ہوتا تھا۔ حالانکہ تب محلے میں قائم ''آنہ لائبریری‘‘ سے استفادہ بھی مکمل طور پر جاری و ساری تھا مگر اپنی ذاتی کتاب خریدنے کا چسکا ایسا تھا کہ سارا مہینہ تنگ و خوار کیے رکھتا۔ باہر والے کمرے کی خالی الماری میں لائبریری تھی اور یہ گھر کی دوسری الماری تھی جس کو تالا لگا ہوتا تھا۔ گھر میں داخل ہوتے ہی پہلا کمرہ خاصا غیر محفوظ تھا کہ ہر آنے والا اسی کمرے سے گزر کر گھر میں داخل ہوتا تھا۔ یہ کمرہ عملی طور پر ڈیوڑھی کے فرائض سرانجام دیتا تھا، اسی لیے اس میں کوئی بھی رہنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ یہ الماری بھی کسی کے زیر استعمال نہ تھی، لہٰذا یہ ہاتھ لگ گئی تھی وگرنہ گھر میں سب سے چھوٹا ہونے کی وجہ سے ایک پوری اور ذاتی الماری کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا کہ گھر میں ہم چاروں بہن بھائیوں کو بہرحال چار الماریاں تو ہرگز میسر نہ تھیں۔ ابن صفی کی عمران سیریز اور کرنل فریدی کی کتابیں، داستان امیر حمزہ، عمرو عیار کی فیروز سنز کی چھپی ہوئی قسط وار کتابیں، نسیم حجازی اور شفیق الرحمٰن۔ ابن صفی کی کتابیں حرم گیٹ کے باہر والے بکسٹال سے خریدی جاتیں کہ وہاں نئی کتاب کے آتے ہی گتے پر ہاتھ سے لکھا ہوا نوٹس دھاگے سے باندھ کر لٹکا دیا جاتا اور ہم ایک دو دن میں ہی نئی کتاب خرید کر گھر لے آتے۔ ہم دونوں بھائی باری باری یہ کتاب پڑھتے اور پھر میں اسے اپنی الماری میں بند کر دیتا۔ یہ الماری لائبریری قرار دی جا چکی تھی۔
شفیق الرحمان اور دیگر مصنفین کی کتابیں چچا عمر خان سے پاکستان بک سنٹر سے خریدی جاتیں۔ بعد میں چچا عمر خان نے گھنٹہ گھر والی یہ دکان جس میں وہ حصہ دار تھے، چھوڑ دی اور کینٹ میں اپنی ذاتی دکان کاروان بک سنٹر کھول لی۔ ان کے شفٹ ہوتے ہی ہمارا مرکز خریداری بھی کینٹ شفٹ ہو گیا۔ تب داستان امیر حمزہ اور عمرو عیار کی سیریز کی کتاب اڑھائی روپے میں ملتی تھی مگر چچا عمر خان ڈیڑھ روپے میں دیتے تھے۔ اپنے گھر واقع چوک شہیداں سے کینٹ سائیکل پر جا کر یہ خریداری کی جاتی کہ فی کتاب ایک روپے کی بچت میں اتنی کشش تھی کہ بعض اوقات گرمیوں کی دوپہر میں کارواں بک سنٹر تک جاتے جاتے ''پسین و پسین ‘‘ ہو جاتے مگر کتاب خرید کر ہی واپس آتے۔
قارئین! میں معذرت چاہتا ہوں کہ بات شروع ہوئی شفیق الرحمن سے اور کہیں کی کہیں چلی گئی۔ میں نے آپ کو بتایا کہ میں نے شفیق الرحمان کو تقریباً حفظ کر رکھا تھا۔ آج بھی شفیق الرحمن سے یہ محبت قائم ہے؛ تاہم اب یادداشت بہت زیادہ ساتھ نہیں دیتی لیکن ایسا بھی نہیں کہ شفیق الرحمان بالکل ہی یاد سے محو ہو گیا ہو۔ پچھلے دنوں سنگ میل پر گیا تو دیکھا کہ شفیق الرحمن کا پورا سیٹ نئے گیٹ اپ میں اور جلد والی کتابوں کی صورت میں پڑا ہوا ہے۔ دل اس رنگین اور خوبصورت سیٹ کو دیکھ کر مچل گیا اور باوجود اس کے کہ گھر میں شفیق الرحمان کا پورا سیٹ موجود تھا، میں نے یہ سیٹ اٹھا لیا۔ گھر میں پڑا ہوا سیٹ مختلف اقسام کی چھپائی اور ایڈیشنز پر مشتمل تھا اور ہر کتاب مختلف شکل کی ہے۔ یہ سیٹ مجھے بہت عزیز ہے کہ اس سے میری لڑکپن کی یادیں وابستہ ہیں۔ میں یہ نیا سیٹ اٹھا کر کائونٹر پر گیا تو دور سے برادر عزیز افضال نے دیکھ لیا اور کائونٹر پر آ کر ناراض ہو گیا۔ کہنے لگا :آپ مجھ سے مل کر رخصت ہونے کے بہانے یہاں کائونٹر پر آ کر کتابیں خرید رہے ہیں؟ ملازم کو کہنے لگا کہ یہ سیٹ باہر ان کی گاڑی میں رکھوا دو۔ میں نے حجت کی تو کہنے لگا آپ اسے چھوڑ جائیں میں ملتان آپ کے گھر بھجوا دونگا۔ بادل نخواستہ سیٹ اٹھایا اور لا کر ملتان اپنی لائبریری میں اس طرح رکھا کہ پرانا سیٹ بھی ساتھ ہی پڑا ہے۔
یادیں کمبخت عجیب چیز ہیں۔ بات ختم کرنا چاہیں تو ختم ہونے کے بجائے کسی اور طرف نکل جاتی ہے۔ شفیق الرحمن اب بھی کافی یاد ہے۔ ایک جگہ شفیق الرحمان نے دو بچوں کی باہمی لڑائی کا نقشہ کھینچا ہے۔ ان دونوں بچوں میں عمر کا فرق تھا اور ایک بچہ چھوٹا اور دوسرا بڑا تھا۔ اس لڑائی میں بڑے بچے نے چھوٹے بچے کی خوب پھینٹی لگائی اور دھلائی کی۔ چھوٹا بچہ تھوڑی دیر اس پٹائی پر روتا رہا اور تھوڑی دیر بعد آنسو صاف کر کے ڈینگیں مارنے لگ گیا اور لڑائی کی منظر کشی کرتے ہوئے بتا رہا تھا کہ پہلے میں نے اپنا پیٹ بڑے بچے کے سر پر پوری طاقت سے مارا اور جب اپنا کان اس کے منہ میں گھسیڑا تو پھر آپ مت پوچھیں کہ کیا ہوا۔ دراصل یہ دو سطریں مجھے کل کے اخبار میں اپنے سرتاج عزیز صاحب کا بیان دیکھ کر یاد آ گئیں ہیں۔
سرتاج عزیز صاحب کا فرمانا ہے کہ پاکستان تنہائی کا شکار نہیں بلکہ صحیح سمت میں کھڑا ہے۔ یہ بیان بھی اسی چھوٹے بچے کی ڈینگوں جیسا ہے جس کے پیٹ پر بڑے بچے نے ٹکر ماری اور پھر اس کے کان پر کاٹ لیا مگر چھوٹا بچہ بعد میں اس ساری صورتحال کو یوں بیان کر رہا تھا کہ پہلے اس نے اپنا پیٹ بڑے بچے کے سر پر پوری طاقت سے مارا اور پھر اپنا کان اس کے منہ میں گھسیڑ دیا تو پھر آپ مت پوچھیں کہ کیا ہوا۔ افغانستان سے تعلقات اس حد تک خراب ہیں کہ ہر چوتھے دن بارڈر بند ہو جاتا ہے۔ بھارت نے افغانستان کی خارجہ پالیسی کو تقریباً 
اغوا کر لیا ہے۔ اشرف غنی اور مودی کی زبان میں سوائے ہندی اور پشتو کے اور کوئی فرق نہیں۔ افغانستان روزانہ ہم پر افغانستان میں مداخلت کے بیان دیتا نہیں تھکتا۔ افغانستان میں چودہ بھارتی قونصل خانے ہمہ وقت پاکستان کے خلاف مصروف کار ہیں۔ افغانستان سو فیصد بھارتی اثرونفوذ میں ہے اور تحریک طالبان پاکستان کے امیر فضل اللہ کو اپنی سرزمین پر پناہ بھی دیے بیٹھا ہے اور پاکستان کے خلاف کارروائیوں کے لیے سہولیات بھی دے رہا ہے۔ یہ صرف ایک ہمسائے کی بات ہے۔ گوادر کے مسئلہ پر ایران چاہ بہار کی صورت میں ایک مقابل بندرگاہ کے معاملے میں پوری طرح سرگرم ہے اور گوادر پراجیکٹ اور سی پیک کے خلاف‘ امریکہ بھارت گٹھ جوڑ میں مکمل شریک کار ہے۔ کلبھوشن کو فراہم کی جانے والی ایرانی سہولتیں بھی اس کی گواہ ہیں اور کل پنجگور کے قریب ایران سے ہونے والی گولہ باری بھی اسی صورتحال کی عکاسی کرتی ہے۔ ایران کا سارا جھکائو ہمارے دشمن ملک بھارت کی طرف ہے۔
امریکہ کی پالیسی اب سو فیصد ہمارے خلاف ہے۔ نہ امریکہ ہمیں دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کی امدادی رقم دے رہا ہے اور نہ ہی اس جنگ میں ہماری قربانیوں کا اعتراف کر رہا ہے بلکہ ہر چوتھے دن ہمیں دہشت گردی پھیلانے والا اور حقانی گروپ کا حامی قرار دے دیتا ہے۔ اب منافقت اور مصلحت کو بالائے طاق رکھ کر امریکہ نے گزشتہ سے پیوستہ روز بھارت سے اس کے اڈوں کے باہمی استعمال کا جو معاہدہ کیا‘ ظاہر ہے وہ چین کے ساتھ ساتھ پاکستان کے خلاف بھی امریکہ بھارت دفاعی گٹھ جوڑ ہے۔ گلگت بلتستان کے مسئلہ پر بھارت نے ایک اور شوشا چھوڑ رکھا ہے اور کشمیر کے مسئلہ پر امریکہ بھارت کا ہم نوا ہے کہ کشمیر کو بین الاقوامی تنازعے کے بجائے بھارت کا اندرونی معاملہ قرار دینا پاکستانی موقف کی مخالفت اور بھارتی نقطہ نظر کی تائید ہے۔ ہمارے روایتی دوستوں کا بھی تھوڑا ذکر ہو جائے۔ سارے خلیجی ممالک بھارت میں پاکستان سے کہیں زیادہ سرمایہ کاری بھی کر رہے ہیں اور بھارتی باشندوں کو اپنے اپنے ملک میں پاکستانی ورکروں پر ترجیح دے رہے ہیں۔ دبئی وغیرہ میں بینکوں سے لے کر کاروباری اداروں اور پرائیویٹ سیکٹر سے لے کر ملٹی نیشنل کمپنیوں تک ہر طرف بھارتی چھائے ہوئے ہیں اور اب پاکستانی کسی اہم پوسٹ پر خال خال ہی نظر آتے ہیں۔ تھوڑا عرصہ پہلے متحدہ عرب امارات نے یمن میں فوج نہ بھیجنے کے مسئلے پر ہمارے بارے میں جس رویے کا اظہار کیا اور اسی سال مارچ میں نیشنل انوسٹمنٹ اینڈ انفراسٹرکچر فنڈ کے تحت بھارت میں طویل مدتی پچھتر ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا جو اعلان کیا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔
پاکستان میں ہونے والی مختلف ممالک کی پراکسی وار نے ہمارا سارا امن و امان برباد کر دیا اور ملک تباہ حال ہو گیا۔ اس پراکسی وار میں جہاں اور بہت سے ممالک شامل ہیں ایک عرب ملک بھی ایک بڑا فریق ہے۔ اس پراکسی وار میں اس کی فنڈنگ کا سارا رخ اپنی مرضی کے مدارس کی جانب تو رہا‘ مگر کشمیر کے مسئلہ پر زبانی جمع خرچ کے علاوہ اس نے ہمارے لیے کچھ نہیں کیا۔ دو تین ماہ بیشتر مسلمانوں کے قاتل اور کشمیریوں کے خون سے رنگے ہوئے دامن والے مودی کوجس طرح اس ملک میں پروٹوکول دیا گیا اور اعلیٰ ترین سول ایوارڈ سے نوازا گیا وہ ہماری تنہائی کو واضح کرنے کے لیے کافی ہے۔ پوری دنیا میں سوائے چین اور ترکی کے کوئی ملک ہمارے ساتھ نہیں۔ ہمارے ہمسائے بھارت‘ ایران اور افغانستان ہمارے خلاف یکسو ہیں۔ عالمی طاقتوں میں امریکہ اور برطانیہ ہمارے خلاف سازشوں میں مکمل شریک ہیں۔ سارے عرب اور خلیجی ممالک کی پہلی ترجیح بھارت ہے‘ پاکستان نہیں۔ دیگر ممالک کی اس سارے منظر نامے میں کوئی اہمیت ہی نہیں اور سرتاج عزیز کا کہنا ہے کہ ہم تنہائی کا شکار نہیں اور پاکستان صحیح سمت کھڑا ہے۔
کوئی ہے جو بتائے کہ تنہائی اور کیا ہوتی ہے اور صحیح سمت کسے کہتے ہیں؟ 
وضاحت: مورخہ 27 اگست کے کالم میں‘ میں نے لکھا کہ الطاف حسین کی تقریر کے مسئلہ پر وزیر اعظم نواز شریف‘ وزیر اطلاعات پرویز رشید‘ خواجہ آصف‘ عابد شیر علی اور خواجہ سعد رفیق خاموش رہے۔ میں اس وقت اٹلی میں تھا اور رات گئے تک میرے علم میں مندرجہ بالا اصحاب کی کوئی وضاحت نہ تھی۔ اس دوران مسلسل سفر کے باعث حالات سے مکمل آگاہی نہ رہی اور پہلے دو اصحاب کے بارے تازہ ترین صورتحال سے آگاہ نہ ہو سکا۔ کالم جا چکا تھا‘ تب میاں نواز شریف اور پرویز رشید کے بیانات بھی نظر سے گزرے اور حکومتی ترجمان کی وضاحت بھی۔ سفر وسیلہء ظفر ہونے کے ساتھ تازہ صورتحال سے محروم بھی کر دیتا ہے۔ 
ہر دو اصحاب کے بیانات بارے اس کالم کے حوالے سے تازہ صورتحال سے لاعلمی کا ملبہ اگر سفر پر ڈال بھی دیا جائے تو بہرحال ذمہ دار میں ہی ٹھہرتا ہوں۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں