نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- طالبان نےاقوام متحدہ جنرل اسمبلی اجلاس میں خطاب کےلیےنمائندگی مانگ لی،خبرایجنسی
  • بریکنگ :- طالبان نےجنرل اسمبلی خطاب کےلیےترجمان سہیل شاہین کوسفیرنامزد کردیا،خبرایجنسی
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

پرچہ، تلاشی اور دم دلاسہ

ہم جیسے چھوٹے شہروں میں پلنے بڑھنے والوں کا ایک ساختیاتی نقص یعنی Manufacturing Fault ہوتا ہے۔ یہ خرابی کیونکہ ہماری گھڑت میں ہی ہوتی ہے، اس لیے اس کی درستی کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں۔ عام طور پر ایسی مصنوعات بنانے والے اگر مہذب اور قانون کی چھتری تلے چلنے والے معاشرے میں ہیں تو وہ اپنی ایسی مصنوعات کو جن کی گھڑت ہی خرابی والی ہو، مارکیٹ سے واپس منگوا لیتے ہیں اور خریدار کو کم از کم اس کی پوری قیمت اور بسا اوقات ساتھ کچھ اضافی رقم بطور زرتلافی بھی ادا کرتے ہیں۔ لیکن انسانی تربیت میں خرابی کی صورت میں سارے کا سارا معاشرہ اپنی لا تعلقی کا اعلان کر کے فارغ ہو جاتا ہے۔
بات کہیں کی کہیں نکل گئی۔ ہم جیسے چھوٹے شہروں میں پروان چڑھنے والوں کا دیہاتی پن ساری عمر نہیں نکلتا۔ خود اعتمادی تو کسی نہ کسی طرح رگڑے کھا کر پیدا ہو جاتی ہے مگر چیزوں کو دیکھنے، سمجھنے اور ان کے نتائج اخذ کرنے میں جو اندر چھپا ہوا دیہاتی ہوتا ہے وہ بڑا خوار کرتا ہے۔ لیکن بعد میں پتا چلتا ہے کہ اندر بیٹھا ہوا یہ ان گھڑ دیہاتی صدیوں پُرانی زمینی روایات کے زیرِ اثر جو نتائج اخذ کرتا ہے وہ چار کتابیں پڑھ کر دانش بکھیرنے اور فلسفہ بگھارنے والے نو تعلیم یافتہ تجزیے کاروں سے کہیں زیادہ منطقی ہوتا ہے۔
کل ضیغم آیا اور آتے ہی پوچھنے لگا، تمہارا کیا خیال ہے؟ میں نے پوچھا کس بارے؟ کہنے لگا یہی جو معاملہ آج کل چل رہا ہے۔ سپریم کورٹ میں پاناما لیکس بارے۔ کیا تمہارے خیال میں عمران خان کو اس معاملے میں رسوائی اور پسپائی نہیں ہوئی؟ اتنا شور شرابا کیا، اسلام آباد بند کرنے کا ہوّا کھڑا کیا۔ سارے ملک کو عموماً اور پنجاب اور خیبرپختونخوا کو خصوصاً پریشانی میں مبتلا کیا اور آخر میں سپریم کورٹ میں کیس بھجوا کر ٹھس ہو گیا اور آخر کار ایک جلسہ کر کے عزت بچائی۔
میں نے کہا دراصل ہم جیسے چھوٹے شہروں میں پلنے بڑھنے والے ایسے معاملات کو اپنے صدیوں پُرانے دیہاتی کلچر کے تناظر سے دیکھتے ہیں اور زمین سے جڑے ہوئے یہ ان پڑھ لیکن لوک ذہانت یعنی Folk Wisdom سے مالا مال ان لوگوں کے صدیوں کے تجربات کا نچوڑ نتائج کی سطح پر جا کر کم ہی غلط ثابت ہوتا ہے اور ہمارے دیہاتوں میں اگر کوئی کمزور کسی چوہدری پر پرچہ کروانے میں کامیاب ہو جائے تو اسے قطع نظر اس پرچے کے نتائج کے، فاتح تصور کیا جاتا ہے۔ عموماً یہ پرچہ درج ہی نہیں ہوتا اور غریب تھک ہار کر اور صبر شکر کرکے بیٹھ جاتا ہے۔ مستقبل میں مزید جوتے کھاتا ہے اور پہلے تجربے کی بنیاد پر آئندہ کے لیے کسی پرچہ درج کروانے جیسی احمقانہ کوشش سے تائب ہو جاتا ہے۔ لیکن دوسری صورت میں، اگر وہ پرچہ کروانے میں کامیاب ہو جائے اور چوہدری کو تھانے جانے پر مجبور کر دے یا پولیس کو اس کی بیٹھک میں بٹھا کر ہی چوہدری کو جوابدہی کی سطح پر لے آئے تو یہ اس کی بڑی کامیابی سمجھی جاتی ہے اور ایسے پرچے کا کم از کم نتیجہ تو یہی نکلتا ہے۔ تھانیدار چوہدری کو کہتا ہے، چوہدری صاحب! زمانہ بڑا بدل گیا ہے۔ اب لوگ عدالتوں میں چلے جاتے ہیں اور پتا نہیں کہاں کیسا منصف بیٹھا ہو۔ آپ اس معاملے کو یہیں ختم کر لیں۔ کچھ دے دلا کر یا منت کر کے معاملہ ختم کر لیں۔ ابھی تک تو یہ بات ہمارے بس میں ہے بعد میں معاملہ بگڑ گیا تو میں آپ کی کوئی مدد نہیں کر سکوں گا۔ تب چوہدری زندگی میں پہلی بار اپنی سطح سے نیچے کے اس غریب کے ساتھ نہ چاہتے ہوئے بھی برابری کی بنیاد پر بات کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ یہاں تو مسئلہ بھی کسی چوہدری اور کمی کے درمیان نہیں۔ تلاشی کے پراسس کے شروع ہونے کا معاملہ ہی پھنسا ہوا تھا اور وزیراعظم صاحب اور ان کی ٹیم اِدھر اُدھر کے غچے دے کر جان چھڑوائے بیٹھی تھی۔ اب تلاشی کا عمل شروع تو ہوا ہے۔ رسیدوں کا معاملہ کسی فورم پر تو اُٹھا ہے۔ پارلیمنٹ والے تو ٹی او آرز ہی بنانے پر راضی نہیں تھے۔ پارلیمانی کمیٹی میں حکومتی نمائندے اور ان کے پے رول والے نام نہاد اپوزیشن کے نمائندے تو پروں پر پانی نہیں پڑنے دے رہے تھے۔ طلال چوہدری، دانیال عزیز، عابد شیر علی اور خواجگان اینڈ کمپنی رولا ڈال کر معاملے کو دائیں سے بائیں اور بائیں سے دائیں کرنے میں مصروف تھے۔ اسی سارے رولے میں دوسروں پر دھول اُڑا کر خود کو اس دھول میں چھپانے کی جو حکمت عملی گزشتہ کئی ماہ سے جاری تھی، وہ اب عدالت میں نہیں چلے گی۔ یہ عمران کی کامیابی کی ابتدا ہے کہ وہ پرچہ کروانے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ دیہاتوں میں پرچہ ہو جانے پر مدعی پارٹی کو جو اطمینان اور خوشی ہوتی ہے وہ غلط نہیں ہوتی۔ یہ خوشی اور اطمینان عشروں کے حقائق کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ پرچہ ہوتا ہے تو کچھ نہ کچھ ہونے کی اُمید ضرور پیدا ہوتی ہے۔ ویسے آپ لوگوں کو اچھرہ تھانے میں درج ہونے والی ایک ایف آئی آر تو یاد ہو گی۔ ایک بندہ اپنے والد کے قتل کی ایف آئی آر درج کروانے تھانے گیا۔ نامزد ملزم کا نام سن کر تھانیدار کی پتلون گیلی ہو گئی، مگر مدعی بضد تھا۔ معاملہ اوپر تک گیا اور طاقت کے نشے میں چور نامزد ملزم نے کہا کہ مدعی کی خواہش کے مطابق ایف آئی ار درج کر دی جائے۔ میرا کوئی کیا بگاڑ سکتا ہے۔ آگے کا سارا قصہ تمہیں معلوم ہی ہے۔ بس یاد رکھو، معاملہ ایف آئی آر سے شروع ہوتا ہے۔ پہلا قدم یہی پرچہ درج کروانا ہوتا ہے۔ پرچہ تھانے میں درج ہو یا عدالت میں، بات آگے تک جائے گی۔
طبلچی تو یہ ماننے پر تیار نہیں تھے کہ اس سلسلے میں وزیراعظم کا نام بھی لیا جا سکتا ہے کہ بچے خود مختار ہیں اور وزیراعظم کا کہیں نام نہیں ہے، نہ آف شور کمپنیوں میں نہ فلیٹوں کی ملکیت میں، لہٰذا وزیراعظم پر انگلی اُٹھانا ہی سرے سے غلط ہے۔ پھر دوسرا کام یہ کیا کہ دوسروں کی آف شور کمپنیوں کا اتنا شور مچایا کہ سارا معاملہ ہی گڈمڈ ہو گیا۔ اب عدالت میں جب میاں نواز شریف فیملی کی آف شور کمپنیوں اور جائداد کی بات ہو گی تو وہاں طلال چوہدری اینڈ کمپنی یہ نہیں کہہ سکے گی کہ عمران خان کی بھی آف شور کمپنی ہے۔ اس کی بہن بھی ایک کمپنی میں ڈائرکٹر ہے اور جہانگیر ترین بھی آف شور کمپنی کا مالک ہے۔ عدالت میں ہر شخص صرف اور صرف اپنے بارے میں جوابدہی کا پابند ہو گا اور اپنی صفائی دے گا نہ کہ دوسرے کو گھسیٹے گا۔ 
اب طبلچی جو مرضی کہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ سب کی ہوا اندر سے ڈھیلی ہو چکی ہے۔ اب عدالت حسین، حسن اور مریم بارے سوال کرے گی کہ ان کے پاس جائداد خریدنے کے لیے پیسے کہا سے آئے۔ اگر وہ خود مختار ہیں اور کاروبار کر رہے ہیں تو اس کاروبار کو شروع کرنے کی رقم کہاں سے آئی؟ کس نے دی؟ پاکستان سے باہر کیسے گئی؟ کاروبار اور اس میں ہونے والے نفع تو بہت بعد کی بات ہے، اصل سوال ''راس‘‘ کا ہے کہ راس کہاں سے آئی؟
اگر راس ابّا جی نے دی ہے تو کیا اس کا اس سال کی انکم ٹیکس گوشوارے میں کوئی ذکر ہے؟ عدالت میں زبان دانی اور زبان درازی کی نہ تو اجازت ہوگی اور نہ ہی جرأت۔ وہاں نہ کوئی عابد شیر علی ہو گا اور نہ دانیال عزیز۔ نہ خواجہ سعد رفیق ہو گا اور نہ ہی طلال چوہدری۔
شوکت گجر پوچھنے لگا کیا ایسا ممکن ہے کہ میاں صاحب اینڈ کمپنی یہ والا معاملہ بھی ہینڈل کر لے؟ شوکت گجر ہر روز دعا کر کے سوتا ہے کہ صبح اسے مسلم لیگ ن سے نجات کی خبر ملے۔ وہ پوچھنے لگا کہ کیا اس قوم کو اس بار انصاف مل سکے گا یا ہمیشہ کی طرح میاں نواز شریف اینڈ کمپنی اس بار بھی معاملہ کنٹرول کر لے گی۔ اس کے بعد اس نے چند ایسی باتیں کیں جو ضبط تحریر میں نہیں لائی جا سکتیں۔ اس نے فائدہ اُٹھانے والوں میں ایسے ایسے نام لیے کہ لکھتے ہوئے خود قلم کی ہمت جواب دے جائے۔ میں نے کہا تمہاری باتیں ٹھیک ہیں اور شبہات بھی کسی حد تک درست ہیں لیکن اب کی بار معاملہ اتنا آسان نہیں جتنا ماضی میں دی گئی مثالوں سے تم ثابت کرنا چاہ رہے ہو۔
میاں صاحب نے بظاہر بڑے بے لچک، بے وقوف اور دبنگ محمود خان اچکزئی کو بھی بڑی آسانی سے رام کر لیا۔ اس کی جو بھی قیمت تھی وہ میاں صاحب نے سرکار کی جیب سے ادا کر دی۔ بھائی گورنر بنایا، خرچہ سرکار کا۔ دوسرے بھائی کو وزیر منصوبہ بندی و ترقیات لگا دیا۔ بھتیجے کو کیسکو میں ڈائرکٹر لگا دیا۔ دوسرے بھتیجے کو گورنر ہاؤس میں ہی ڈپٹی ڈائرکٹر لگا دیا۔ دیگر سات آٹھ قریبی عزیزوں سمیت مستفید ہونے والے عزیز واقارب کی کل تعداد بشمول اپنے پندرہ کے لگ بھگ ہے۔ مولانا فضل الرحمن کشمیر کمیٹی کے چیئرمین ہیں اور کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم پر آواز اُٹھانے سے کہیں زیادہ قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں برسرپیکار پاک فوج کے خلاف ہیں۔ سرکار سے وزیر کی مراعات تو وہ ببانگ دہل لیتے ہیں، دیگر فوائد کی طویل فہرست ہے جو وہ ہر حکومت سے اپنا حق سمجھ کر وصول کرتے ہیں اور اب بھی کر رہے ہیں۔ رہ گئے سید خورشید علی شاہ تو وہ پاکستان کی تاریخ کے پہلے لیڈر آف دی اپوزیشن ہیں، جنہیں آپ معاوضے پر رکھا ہوا اپوزیشن لیڈر کہہ سکتے ہیں۔ سادہ لفظوں میں وہ نواز شریف حکومت کے اسی قسم کے اپوزیشن لیڈر ہیں جس طرح صنعتی اداروں میں مالکان کی ''پاکٹ یونین‘‘ ہوتی ہے۔یہ سارا معاملہ افراد کا تھا لیکن اداروں کا معاملہ اس لئے مختلف ہے کہ ادارے خواہ کتنے بھی گئے گزرے کیوں نہ ہوں انہیں اپنی آبرُو اور ساکھ کا کچھ نہ کچھ خیال بہر حال ہوتا ہے۔
دیہاتی زبان میں ''پرچہ ہو گیا ہے‘‘ اور اب تلاشی بھی ہوگی۔ اندر سے سب کی ہوا سرک چکی ہے، باہر کا دم دلاسہ جاری ہے۔ کوئی دن ہوتے ہیں کہ شاید صرف دلاسہ رہ جائے اور دم نکل جائے۔ تاہم میں اب بھی یہی کہوں گا، جمہوریت کو بہرحال کوئی خطرہ نہیں۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں