نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- ہمارامقابلہ مافیا سے ہے،وزیراطلاعات فوادچودھری
  • بریکنگ :- عمران خان سڑکوں کےنہیں،کرپشن کیخلاف تھے،فوادچودھری
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

دی ایمر سونینز کی تقریب اور ایک فارغ تقریر

گزشتہ دنوں جنوبی پنجاب کے دوسرے قدیم ترین اعلیٰ تعلیمی ادارے ایمرسن کالج کے سابق طلبہ کی ''الومینائی‘‘ کی سالانہ تقریب تھی۔ ''دی ایمرسونینز‘ کا قیام چند برس پہلے عمل میں آیا۔ ایمرسن کالج ملتان سے میرا تعلق دو نسلوں سے ہے۔ میرے والد مرحوم نے میٹرک پائیلٹ سیکنڈری سکول ملتان سے کیا اور ایمرسن کالج میں داخلہ لے لیا‘ وہاں سے بی اے آنرز کیا۔ قیام پاکستان کے بعد ہندو لائبریرین کے بھارت چلے جانے کے بعد لائبریرین کی خالی پوسٹ پر تب کے پرنسپل نے والد صاحب کی کتابوں سے دلچسپی کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنی صوابدید پر لائبریرین لگا دیا۔ تب والد صاحب محض بی اے پاس تھے اور لائبریرین کے لیے درکار ڈگری یا ڈپلومہ نہ رکھتے تھے۔ کیونکہ لائبریری سائنس میں ڈپلومہ یافتہ کوئی لائبریرین دستیاب نہ تھا اس لیے انہیں ''ان ٹرینڈ‘‘ ہی لائبریرین بنا دیا گیا۔ دو تین سال بعد وہ چھٹی لے کر لاہور گئے اور پنجاب یونیورسٹی سے ''ڈپلومہ ان لائبریری سائنس‘‘ لے کر آئے اور بعد ازاں غالباً 1975ء میں جب پنجاب یونیورسٹی میں ماسٹرز ان لائبریرین سائنس کی کلاسز کا آغاز ہوا تو وہ اس پہلی کلاس میں داخلہ لینے کے لیے پچاس سال کی عمر میں دوبارہ ریگولر طالب علم بن گئے۔
والد صاحب کا ایمرسن کالج سے تعلق قریب نصف صدی کا تھا۔ وہ وہیں گیارہویں جماعت میں داخل ہوئے، وہیں سے بی اے کیا اور پھر وہیں ملازم ہو گئے۔ وہ 1985ء میں وہاں سے ریٹائر ہوئے مگر حکومت نے پہلے ایک بار دو سال کی توسیع دی پھر دوبارہ دو سال کی توسیع دی۔ ان کو تیسری بار دو سال توسیع دینے کے لیے درخواست مانگی جو انہوں نے نہ دی کہ نہ وہ پہلے اس توسیع کے لیے درخواست گزار تھے اور نہ ہی اب بننا چاہتے تھے۔ وہ بطور لائبریرین تقریباً چوالیس سال اور بطور طالبعلم پانچ سال کے لگ بھگ ایمرسن کالج میں رہے۔ وہ ایمرسن کالج میں سب سے طویل عرصہ تک موجود رہے۔
میرے بڑے بھائی مرحوم بھی ایمرسن کالج سے فارغ التحصیل تھے اور میں نے بھی اسی کالج سے گریجوایشن کی۔ یہ ایک شاندار روایات کا حامل تعلیمی ادارہ تھا جو دیگر سرکاری اداروں کی طرح آہستہ آہستہ انحطاط اور ابتری کی طرف گامزن ہے۔ کبھی یہاں داخلہ لینے کے لیے سفارشیں ڈھونڈی جاتی تھیں۔ یہاں کے طلبہ بورڈ اور یونیورسٹی کی تقریباً تمام پوزیشنز حاصل کرتے تھے پھر یہاں بھی وہی کچھ ہوا جو باقی سب جگہ ہوا تاہم اب کچھ عرصے سے دوبارہ صورتحال میں کچھ بہتری پیدا ہو رہی ہے۔
ایمرسن کالج کا قیام 17 اپریل 1920ء کو عمل میں آیا۔ پہلے پہل اس کا نام ملتان کالج تھا تاہم 1933ء میں اسے گورنر پنجاب سرہربرٹ ولیم ایمرسن کے نام سے منسوب کر دیا گیا۔ اعلیٰ روایتوں کی امین اس علمی درسگاہ میں محترمہ فاطمہ جناح اور مشہور مورخ ٹائن بی کے علاوہ بے شمار مشاہیر کی آمد اس کی عظیم علمی روایات کا اعتراف تھا۔
یہ کالج ملتان شہر کے وسط میں چوک کچہری کے ایک طرف وسیع و عریض بلڈنگ میں قائم تھا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ طلبہ کی تعداد بڑھی تو یہ عمارت اس بوجھ کو اُٹھانے کے لیے ناکافی ٹھہری۔ 1963ء میں شہر کے آخری سرے پر بوسن روڈ پر اس کی نئی عمارت مکمل ہوئی اور یہ کالج وہاں شفٹ ہو گیا۔ وہاں منتقل ہوتے ہی اس کا نام خدا جانے کیسے صرف گورنمنٹ کالج رہ گیا اور بوسن روڈ کی نسبت سے یہ گورنمنٹ کالج بوسن روڈ کے نام سے جانا جانے لگا۔
میرا سکول اس کالج سے تقریباً متصل تھا۔ درمیان میں ایک پتلی سی سڑک تھی۔ میں گورنمنٹ ہائی سکول میں 1968ء میں داخل ہوا۔ چھٹی کے بعد میں اپنے سکول سے چند گز کے فاصلے پر موجود کالج لائبریری میں چلا جاتا اور وہاں سے والد صاحب کے ساتھ سکوٹر پر واپس گھر آ جاتا۔ میرا آنا جانا والد صاحب کے سکوٹر پر تھا۔ 1971ء میں مجھے والد صاحب کا پُرانا ریلے سائیکل مل گیا اور پھر میں نے اس سائیکل پر سکول اور بعدازاں کالج آنا جانا شروع کر دیا۔ تب اپنا ذاتی سائیکل ایک باقاعدہ عیاشی تھی۔ 1968ء میں جب میں سکول داخل ہوا تب یہ شہر کا آخری سرا تھا۔ سکول اور کالج کی حدود میں شہری کوے خال خال جب کہ مکمل سیاہ بڑے سائز کے پہاڑی کوے جنہیں ہم ''ڈھوڈرکاں‘‘ کہتے تھے باافراط نظر آتے تھے۔ آہستہ آہستہ ادھر آبادی بڑھتی گئی اور کوے غائب ہوتے گئے۔ عشرے ہو گئے اب یہ کوے کہیں نظر نہیں آتے۔
جب میں سکول میں تھا تب اس کے پرنسپل میاں محمود تھے ان کے بعد کیپٹن عبدالکریم آئے۔ جب میں کالج پہنچا تب اس کے پرنسپل کیپٹن عبدالکریم تھے پھر پروفیسر رفیع انور آئے۔ اس کے بعد ملک محمد یار آئے۔ تب پرنسپل کئی کئی سال رہتے تھے اور کالج کی صورت بناتے تھے پھر یوں ہوا کہ ہر ریٹائرمنٹ کے قریب پروفیسر پرنسپل بننے لگ گیا۔ ہر دو چار ماہ بعد نیا پرنسپل آنے لگ گیا کالج کا ستیاناس ہو گیا۔ مزید یہ ہوا کہ اساتذہ کی باہمی سیاست اور دھڑے بندی نے رہی سہی کسر بھی نکال دی۔ کالج کے پروفیسروں کی زیادہ توجہ پرائیویٹ اکیڈمیوں کی طرف ہو گئی۔ برسوں پہلے ایک طویل عرصے کے بعد کالج جانا ہوا۔ حالت دیکھ کر دل دکھی ہو گیا کہ کیا عظیم الشان درسگاہ تھی اور اس کا کیا حال ہو گیا ہے۔ 1975ء تک یہ پوسٹ گریجوایٹ کالج تھا پھر یونیورسٹی بننے کے ساتھ ہی یہاں ایم اے کی کلاسیں ختم ہو گئیں۔ چند سال ہوتے ہیں کہ اس کا نام دوبارہ ایمرسن کالج ہو گیا ہے۔ ایم اے کی کلاسیں شروع ہو گئی ہیں۔ بی ایس پروگرام بھی چل رہا ہے۔ میرٹ پر پرنسپل کا تقرر بھی ہوا ہے۔ چیزیں بہتری کی طرف گامزن ہیں مگر جتنی بربادی ہو چکی ہے اس کو پُرانی روایات کے برابر لاتے وقت لگے گا۔ حال یہ ہے کہ والد محترم 1989ء میں یہاں سے بطور لائبریرین ریٹائر ہوئے ان کے بعد ایک لائبریرین آیا اور اس کی ریٹائرمنٹ کے بعد جنوبی پنجاب کی دوسری بڑی لائبریری جس میں بے شمار نایاب کتابیں موجود ہیں گزشتہ پندرہ سولہ برس سے کسی باقاعدہ لائبریرین سے محروم ہے۔
صورتحال یہ ہے کہ عظیم علمی درسگاہ جس کے قیام کو چار سال بعد ایک صدی ہو جائے گی۔ آج اس کالج میں نو ہزار کے لگ بھگ طلبہ و طالبات زیرِ تعلیم ہیں لیکن حال یہ ہے کہ ابھی بے شمار طلبہ و طالبات داخلے کے خواہشمند ہیں مگر نہ سیٹوں کی گنجائش ہے اور نہ ہی عمارت میں۔ کلاس رومز کے لیے کم از کم پچیس کمرے درکار ہیں۔ اساتذہ اور دفاتر کے لیے بھی تقریباً اتنے مزید کمرے درکار ہیں۔ اساتذہ کی کمی کے باعث بعض جگہوں پر ''انٹرینز‘‘ سے کام چلایا جا رہا ہے۔ کلیریکل سٹاف نہ ہونے کے برابر ہے۔ صورتحال اس حد تک خراب ہے کہ کالج میں پانی کی باقاعدہ ٹینکی موجود نہیں۔ لوڈشیڈنگ میں جونہی بجلی جاتی ہے سارا کالج پانی سے محروم ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی ہر طرف زبوں حالی اور کسمپرسی کا عالم ہے۔ سارے پائپ لیک ہو رہے ہیں اور ساری الیکٹرک وائرنگ بوسیدہ ہو کر کہیں لٹکی ہوئی ہے اور کہیں ٹوٹی پڑی ہے۔ اتنے بڑے کالج میں کوئی وائس پرنسپل ہی موجود نہیں۔ لاتعداد مسائل ہیں اور کوئی شنوائی نہیں۔
درج بالا سارے مسائل سے مجھے ''دی ایمرسونینز‘‘ کے سالانہ پروگرام میں آگاہی ہوئی۔ میں ایک عرصے بعد ایمرسن کالج گیا اور ڈسپلن کے حوالے سے ایک عشرہ پہلے والی صورتحال میں کافی بہتری دیکھی مگر باقی کی صورتحال اسی طرح دگر گوں تھی۔ اس سالانہ فنکشن میں مہمانِ خصوصی گورنر پنجاب ملک محمد رفیق رجوانہ تھے جو اسی کالج کے فارغ التحصیل ہیں۔ الومینائی نے ان کو غالباً اس لیے مدعو کیا تھا کہ کالج کے پُرانے طالب علم ہونے کے ناتے بحیثیت گورنر وہ اس کالج کو کچھ دے جائیں گے مگر سب کی اُمیدوں پر اس وقت اوس پڑ گئی جب انہوں نے ملتان میں میٹرو پراجیکٹ اور دیگر حکومتی اقدامات کی تعریف کرنے کے بعد کالج کو وعدہ فردا پر ٹرخا کر اپنی تقریر کا اختتام کر دیا۔ تقریب کے سارے شرکا اس صورتحال سے بڑے شاکی نظر آئے۔
رات ایمرسونینز کے سالانہ ڈنر میں کسی نے پوچھا کہ گورنر صاحب نے کالج کو کیا دیا ہے؟ ایک شر پسند نے پیچھے سے آواز لگائی کہ وہ کالج کو ''گولی‘‘ دے گئے ہیں۔ امریکہ سے آئے ہوئے ایک دوست نے معاملہ ٹھنڈا کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگوں کو تو پتہ ہی ہے کہ آج کل گورنر صاحب کے پاس اختیارات ہی کتنے ہیں کہ وہ اپنی طرف سے ملتان کے کالج کے لیے کچھ اعلان فرماتے۔ ایک دوست نے دخل اندازی کرتے ہوئے کہا کہ بات اتنی سادہ نہیں جتنی تم بتا رہے ہو۔ گورنر صاحب نے تھوڑا عرصہ پہلے ہی ایف سی کالج لاہور کی تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی غالباً چھ کروڑ روپے کی گرانٹ کا اعلان کیا تھا۔ وہ ایک مشنری کالج ہے اور اب گورنمنٹ کی ملکیت بھی نہیں‘ ایمرسن کالج تو سرکار کا کالج ہے اور حکومتی اور امداد کا ترجیحاً مستحق ہے۔ امریکہ والا دوست کہنے لگا آپ میری بات کی تصدیق ہی کر رہے ہیں کہ گورنر کے پاس اپنی مادر علمی کو دینے کے لیے کچھ نہیں کہ وہ ملتان میں ہے‘ لاہور کی بات دوسری ہے‘ وہاں انہیں وزیر اعلیٰ نے خود کہا ہو گا کہ چھ کروڑ کا اعلان فرمائیں اور ملتان کی باری آئی تو اوپر سے شاید ابھی منظوری نہیں ہوئی ہو گی اسی لیے گورنر صاحب لاہور جا کر کچھ کرنے کا وعدہ فرما گئے ہیں۔ خادم اعلیٰ کی طرف سے کوئی اشارہ ملے گا تو وہ کچھ فرمائیں گے۔ بغیر اجازت وہ اعلان کیسے کرتے؟
ایک متحمل مزاج دوست کہنے لگا‘ جب یار لوگ تخت لاہور کو بُرا بھلا کہتے تھے تو مجھے بُرا لگتا تھا لیکن اب سمجھ آرہا ہے کہ اس پسماندہ علاقے کو لوگ بہرحال اس معاملے میں تخت لاہور کے بارے میں جن خیالات کا اظہار کرتے ہیں وہ درست ہیں اور اس نا انصافی کے خلاف آواز اُٹھانے والے اپنے موقف میں سو فیصد حق بجانب ہیں۔ جب تک لاہور اور ملتان کے معاملات کو ایک نظر سے نہیں دیکھا جائے گا نا انصافی اور عدم مساوات کے خلاف عوامی ردِ عمل آتا رہے گا۔ لاہور کا گورنمنٹ کالج یونیورسٹی بن گیا‘ ایف سی کالج خود مختار یونیورسٹی بن گئی ادھر جنوبی پنجاب کا سب سے بڑا تعلیمی ادارہ زبوں حالی کا شکار ہے اور کوئی اس کا والی وارث نہیں ہے۔ کیا ہمارا سرکار کے پیسے پر کوئی حق نہیں؟ کیا گورنر پنجاب اپنی مادر علمی کو خادم اعلیٰ کی اجازت کے بغیر ٹکہ بھی نہیں دے سکتا؟میرے پاس اپنے اس دوست کی باتوں کا کوئی شافی جواب نہیں سوائے اقرار کرنے کے۔!

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں