نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- مشق شنگھائی تعاون تنظیم کےعلاقائی انسداددہشتگردی نظام کاحصہ ہے،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- مشق میں پیپلزلبریشن آرمی چین اورپاک فوج کےجوانوں کی شرکت
  • بریکنگ :- مشق کامقصدانسداددہشتگردی کارروائیوں میں مہارت کافروغ ہے،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- مشقوں میں تلاش اورمحاصرہ،ٹھکانوں پردہشتگردوں کےخاتمےکےآپریشن شامل
  • بریکنگ :- دوبدولڑائی اورزخمی جوانوں کی محفوظ منتقلی کےآپریشن شامل،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- جوانوں کی مشکل صورتحال سےنمٹنےکی صلاحیت بڑھاناہے
  • بریکنگ :- رکن ممالک کی اسپیشل فورسز،قانون نافذکرنیوالےاداروں کی صلاحیتیں بڑھاناہے
  • بریکنگ :- مشق کاپہلامرحلہ 26 سے 31 جولائی 2021 کودونوں ممالک میں ہواتھا
  • بریکنگ :- قومی انسداددہشتگردی سینٹرپبی میں مشترکہ انسداددہشتگردی مشق کاانعقاد
  • بریکنگ :- دوسرےمرحلےمیں مشق 2ہفتےپاکستان میں جاری رہےگی
  • بریکنگ :- میجرجنرل جاویددوست چانڈیوافتتاحی تقریب میں مہمان خصوصی تھے
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

اور ہم بھول گئے ہوں تجھے‘ ایسا بھی نہیں

اللہ جانے اسے کس طرح سے کوئی اندازہ ہو چکا تھا کہ اسے ہر چیز کی جلدی آن پڑی تھی۔ پہلے تو وہ ایسی نہ تھی۔ ڈاکٹر عنایت اللہ بھی ابھی اتنا پُرامید تھا کہ اس نے خاصے تیقن سے کہا کہ ابھی یہ کئی سال تک اپنی زندگی کی جنگ لڑ سکتی ہے۔ ڈاکٹر دُر صبیح ہر پندرہ روز بعد اس کا الٹراسائونڈ کرتا اور بڑے اطمینان سے بتاتا کہ سب چیزیں حسب سابق ہیں۔ معاملات کافی حد تک کنٹرول میں ہیں اور خاص طور پر جگر کا معاملہ گو کہ پریشان کن ضرور ہے مگر اس حد تک نہیں پہنچا کہ مایوس ہوا جائے۔ گزشتہ دو سال سے تو سب کچھ گویا اپنی جگہ پر رکا ہوا ہے۔ ابھی ہمارے پاس ''لیور ٹرانسپلانٹ‘‘ کا آپشن بھی موجو ہے تاہم ڈاکٹروں کے مطابق ابھی اس کے لیے ہمارے پاس کافی وقت موجود تھا۔ ڈاکٹر دُر صبیح اس آپشن پر اپنا کام کر رہا تھا اور معاملات بظاہر کنٹرول میں تھے لیکن اسے ہر کام کی بڑی جلدی پڑی ہوئی تھی۔ 
کومل کی منگنی، یونیورسٹی میں زیر تعلیم سارہ کا نکاح اور سب سے بڑھ کر اسے حج کرنے کی جلدی تھی۔ کہا کہ تھوڑا انتظار کر لو۔ تھوڑی طبیعت بہتر ہو جائے پھر چلی جانا مگر وہ کہنے لگی: انتظار کا وقت نہیں ہے‘ بس اسی سال جانا ہے۔ اور وہ چلی بھی گئی۔ واپسی پر طبیعت زیادہ خراب ہو گئی لیکن اسے اپنے کام نپٹانے کے علاوہ شاید اور کوئی کام ہی نہیں تھا۔ آخری دو سال تو بالکل ہی مختلف گزرے۔ جن باتوں پر اسے گرمی آتی تھی اب وہ ان پر مسکرا کر درگزر کرتی تھی۔ اسے زندگی بڑی عزیز تھی۔ ایک بار بڑے مزے کا واقعہ ہوا۔ سیلاب آیا ہوا تھا اور ہم سیلاب زدگان کے لیے کچھ ضرورت کی چیزیں لے کر شجاعباد کینال کے کنارے کنارے گاڑی چلاتے ہوئے سیلاب زدگان تک پہنچے۔ چیزیں ان کے حوالے کیں اور واپسی کے لیے گاڑی موڑنے کے لیے جونہی میں نے سٹیرنگ گھمایا‘ اس نے آگے پیچھے دیکھا اور گھبرا گئی۔ ایک طرف پورے زور و شور سے چلتی ہوئی شجاعباد کینال اور دوسری طرف نہر کے کنارے سے ٹکراتا ہوا سیلاب کا پانی۔ گاڑی موڑنے کے لیے صرف نہر کا کنارہ تھا۔ آگے پیچھے گاڑی کے کھسکنے کی نہ کوئی جگہ تھی اور نہ ہی گنجائش۔ اس نے مجھے روکتے ہوئے کہا کہ گاڑی کہیں آگے سے موڑ کر لے آتے ہیں۔ میں نے کہا: آگے کنارہ شاید اس سے بھی تنگ ہو گا اور یہ کہہ کر میں نے گاڑی کا موڑ کاٹا اور پھر گاڑی ریورس کی۔ ابھی یہ عمل دو تین بار دوہرایا تھا کہ اس نے کہا گاڑی روکیں۔ میں نے گاڑی روکی تو اس نے تینوں بیٹیوں کو بھی دروازہ کھول کر نیچے اتارا اور کہنے لگی: اب گاڑی موڑیں۔ میں نے گاڑی موڑ کر کھڑی کی۔ اس نے تینوں بیٹیوں کو گاڑی میں بٹھایا اور پھر خود بھی بیٹھ گئی۔ میں نے اس سے پوچھا: یہ کیا حرکت تھی؟ کہنے لگی آپ کو تو اپنی جان کی پروا نہیں لیکن مجھے اپنی اور اپنے بچوں کی جان کی پروا ضرور ہے۔ بھلا یہ جگہ تھی گاڑی ریورس کرنے کی؟ واپسی پر ہم سارا راستہ اس کا مذاق اڑاتے آئے۔ بعد میں بھی کبھی یاد آتا تو اسے چھیڑتے کہ مجھے اکیلا چھوڑ کر وہ بچوں سمیت گاڑی سے اتر گئی تھی۔ وہ اس واقعے پر ہمیشہ یہی کہتی کہ آپ کو تو پتہ ہی ہے کہ میں بزدل خاتون ہوں اور مجھے اپنی جان بڑی عزیز ہے۔ بھلا اس طرح گاڑی سے اتر جانے میں حیرانی کی کیا بات ہے۔میں اسے ہمیشہ جان پیاری ہونے کا کہہ کر چھیڑتا رہا مگر اس نے وہ دو سال اس بہادری اور جرأت کے ساتھ گزرے کہ میں سوچ کر حیران رہ جاتا ہوں۔ اگر مجھ پر وہ وقت آن پڑے تو شاید میں اس کا عشر عشیر بھی اس حوصلے سے نہ گزاروں جس حوصلے کا مظاہرہ اس نے کیا۔ 
اسے اسد کے بڑے ہونے کی بھی اچانک ہی جلدی آن پڑی تھی۔ ان دو برسوں کے دوران اس نے کئی بار اسد کو میرے ساتھ کھڑا کرکے دیکھا کہ وہ کب میرے جتنا ہوتا ہے۔ وہ میرے جتنا بھی ہوا اور مجھ سے اونچا بھی نکل گیا مگر یہ سب اس کے جانے کے بعد ہوا۔ جب میں گزشتہ ہفتے اسد کو اسلام آباد نسٹ میں چھوڑنے گیا تو میری بڑی عجیب کیفیت تھی۔ خوشی تھی کہ وہ ایک اچھے ادارے میں پڑھنے جا رہا ہے لیکن گھر کی اداسی سے زیادہ ملال یہ تھا کہ جس کو یہ دن دیکھنے کا شوق مجھ سے بھی سوا تھا وہی یہ دن نہیں دیکھ سکی۔ وہ تو کئی دن نہ دیکھ سکی۔ دونوں بیٹیوں کی رخصتی کا دن۔ کومل کا ریذیڈنسی میں داخلے کا دن۔ سارہ کے یونیورسٹی میں ٹاپ کرنے اور انعم کے یونیورسٹی میں پوزیشن لینے کا دن۔ اور بے شمار ایسے دن جن کا اسے انتظار تھا مگر وقت تو کسی کا انتظار نہیں کرتا۔ پہلے وہ خود گئی، پھر کومل چلی گئی اور اس کے بعد سارہ اور اب اسد بھی۔ دن بھلا کبھی رکتے ہیں؟
چھبیس سال چھ ماہ اور سترہ دن میں میں نے اسے صرف دو بار مایوس ہوتے دیکھا۔ ایک آغا خان ہسپتال کے برآمدے میں۔ مگر صرف چند لمحوں کے لیے۔ پھر اس نے اسی حوصلے کا مظاہرہ کیا جو اس کا خاصہ تھا اور ایک بار ہسپتال جانے سے تین چار دن پہلے۔ میرا مطلب ہے سترہ اکتوبر 2012ء سے تین چار دن پہلے۔ جب وہ آخری بار ہسپتال گئی۔ مجھے کہنے لگی روٹیاں لینے تنور پر چلتے ہیں۔ تنور پر جانا تو ایک بہانہ تھا، وہ صرف مجھ سے اکیلے میں باتیں کرنا چاہتی تھی۔ تنور سے جوس والے کے پاس، پھر جوس پیئے بغیر پیک کروانا اور گاڑی کے ڈیش بورڈ پر سر رکھ کر رونا۔ تھوڑی ہی دیر میں دوبارہ سنبھل گئی اور مجھ سے مستقبل کے بارے میں باتیں کرنے لگ گئی۔ باتیں بھی کب؟ ہدایتیں دینے لگ گئی۔ ایسا پہلی بار ہوا تھا۔ میرے لیے یہ سب بڑا حیران کن اور اس سے بڑھ کر پریشان کن تھا۔ تب تو اندازہ ہی نہ تھا کہ وہ محض سات آٹھ دن بعد ہمیں چھوڑ جائے گی۔ 
اس نے کوئی بات بھی تفصیل میں نہ کی۔ بس ایک ایک سطری ہدایت اور یاددہانی ۔ صرف بچوں کے بارے ہدایات اور میرے بارے پریشانی۔ کہنے لگی: مجھے پتا ہے آپ پر مشکل دن آنے والے ہیں‘ لیکن میں بھلا کیا کر سکتی ہوں؟ میں اسے آپ کے لیے آسان بنانا چاہتی ہوں مگر آپ مانیں تب ناں۔ جو بات اس نے دو بار کہی وہ یہ تھی کہ اب آپ بچوں کو باپ نہیں ماں بن کر دیکھئے گا۔ یہ کہنا اس کے لیے بھی شاید آسان نہ تھا مگر اسے نبھانا جتنا مشکل تھا اس کا مجھے بھی اس وقت اندازہ نہ تھا۔گھر واپسی پر وہ سیدھی بیڈ روم میں چلی گئی اور میں لائبریری میں ۔ سارہ میرے پاس آئی مگر کچھ کہے بنا واپس چلی گئی۔رات دیر سے میں بیڈ روم میں گیا، وہ جاگ رہی تھی۔آنکھیں سوجی ہوئی تھیں۔ ہم ایک دوسرے کو کچھ کہے بغیر سو گئے۔ بچوں کو ڈانٹے اب اتنا عرصہ ہو گیا ہے کہ اب انہیں ڈانٹنا بھی شاید بھول گیا ہوں۔ سارہ کبھی کبھی اسد یا انعم کے لیے لڑ پڑتی ہے۔ جواباً میں ہنسنا شروع کر دیتا ہوں۔ میں ایسا کب تھا؟ بعض اوقات بچے طعنہ مارتے ہیں کہ میں بالکل ہی بدل گیا ہوں‘ بلکہ اتنا بدل گیا ہوں کہ بعض اوقات لگتا ہے آپ کسی کو جواب دینا ہی بھول گئے ہیں۔ ہر بات کا ایک ہی جواب کہ ''چلو چھوڑو۔ جانے دو۔ ہمارا کیا جاتا ہے‘‘۔ اب بھلا اتنا بھی کیا کہ کسی کو ناجائز بات کا جواب بھی نہ دیا جائے؟ میں انہیں اس بات کا جواب بھی نہیں دیتا۔ 
ایک ہزار چار سو اکسٹھ دنوں میں‘ میں ہر رات سونے سے پہلے سب کو معاف کرکے سوتا ہوں۔ میرے جیسا شُتر کینہ اور ایسا؟ اس سارے عرصے میں صرف ایک ملال ہے جو جان سے چمٹا ہوا ہے۔ اس نے آخری دو سال ایسے گزارے کہ کیا کہوں؟ میں اس کے ہوتے ہوئے ایک دن بھی ویسا نہ بن سکا جیسا وہ چاہتی تھی اور جیسا میں اب ہوں۔ مجھ پر ہی کیا منحصر؟ گھر بھی تو اب ویسا نہیں رہا۔ بعض اوقات سارا گھر ہی ایک شخص سے بندھا ہوتا ہے لیکن کیا خبر کس شخص سے؟ اس کا پتا تو جانے کے بعد چلتا ہے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں