نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- ترک وزیرخارجہ سےعمران خان اورترک صدرملاقات بارےتبادلہ خیال ہوا،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- جنرل اسمبلی اجلاس کےموقع پراہم رہنماؤں سےملاقاتیں ہوئیں،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- عالمی رہنماؤں سےافغانستان اورکشمیرسےمتعلق بات ہوئی،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- کشمیریوں کیساتھ اظہاریکجہتی پراوآئی سی رابطہ گروپ کےمشکورہیں،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- سعودی وزیرخارجہ سےبھی ملاقات ہوئی،وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- سعودی وزیرخارجہ کوافغانستان سےمتعلق پاکستانی نقطہ نظرپیش کیا،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- افغان صورتحال عالمی برادری کےلیےامتحان ہے،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- افغان صورتحال پرایک مربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- عالمی برادری مشکل گھڑی میں افغان عوام کی معاونت کرے،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- افغانستان میں معاشی بحران خطرناک ہوسکتاہے،وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- دنیاایک رخ دیکھ رہی ہے،وزیراعظم تقریرمیں دوسرارخ پیش کریں گے،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- وزیراعظم کاجنرل اسمبلی سےایک جامع خطاب ہوگا،شاہ محمودقریشی
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

مجیب الرحمن سے موازنہ کرنے والے تاجر حکمران

بندہ اقتدار میں ہو تو ایک عجیب طرح کا خمار ہوتا ہے اور اقتدار سے علیحدہ ہو جائے تو اس خمار سے بالکل متضاد قسم کی ایک اور کیفیت طاری ہو جاتی ہے جسے فی الحال مثال دینے کے لیے میرے پاس کوئی مناسب لفظ موجود نہیں کیونکہ جو لفظ موجود ہے وہ مناسب نہیں ہے۔ انہیں آئین‘ قانون اور اخلاقیات کا لحاظ نہ ہو‘ اس عاجز کو تو بہرحال ضرور ہے کہ وہ جو کچھ بھی ہیں‘ آخر اس ملک کے سابق وزیراعظم ہیں۔
میاں نوازشریف کے مزے ہیں۔ وہ بیک وقت اقتدار میں بھی ہیں اور اپوزیشن میں بھی۔ کٹھ پتلی وزیراعظم سمیت ہر وزیر مشیر ان کے در دولت پر حاضری دیتا ہے۔ احکامات لیتا ہے۔ اس پر عمل کرتا ہے اور انہیں رپورٹ پیش کرتا ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کے مستعفی ہونے کا فیصلہ میاں نوازشریف کرتے ہیں اور زہری صاحب استعفیٰ پیش کر دیتے ہیں۔ وہ اس وقت بادشاہ نہ سہی مگر فی الوقت بادشاہ گر بھی ہیں اور ''ڈی فیکٹو‘‘ بادشاہ بھی۔ لیکن جلسوں‘ جلوسوں میں وہ جس قسم کی تقاریر فرما رہے ہیں وہ ایک خالص اپوزیشن رہنما کی تقاریر ہیں۔ وہ اس طرح مسلسل رو پیٹ رہے ہیں جیسے ان سے وزارت عظمیٰ نہیں چھنی‘ ان کی پوری پارٹی سے حکومت چھین لی گئی ہے۔ وہ ملکی اداروں کے خلاف اس شدت سے اپنے دلی بغض کا اظہار کر رہے ہیں جیسے یہ ادارے پاکستان کے نہیں بھارت کے ہیں (ویسے وہ بھارت کے اداروں کے خلاف اپنے دورِ اقتدار میں کبھی نہیں بولے تھے کہ بھارت سے ہر قیمت پر تعلقات بڑھانا ان کے اقتدار کا ایجنڈا نمبر ون تھا) ڈھکے چھپے الفاظ سے کہیں آگے جا کر ملکی سلامتی کے ادارے کے خلاف سازش کا الزام لگانا اور عدلیہ کے خلاف بغیر کسی لگی لپٹی یا اشارہ کنایہ کے بغیر‘ بالکل کھلم کھلا تنقید‘ تقاریر اور الزامات۔ ان کی وزارت عظمیٰ سے چھٹی ہونے کے بعد کسی تقریر سے یہ نہیں لگتا کہ وہ حکمران پارٹی کے نااہل ہونے والے سربراہ ہیں۔ ایسا بالکل محسوس نہیں ہوتا کہ موجودہ وزیراعظم ان کا ذاتی انتخاب ہیں اور ایسا شائبہ بھی ہوتا کہ موجودہ ساری کابینہ مع مشیر انہی کے منتخب کردہ ہیں اور وزیراعظم ہائوس میں بھی ابھی تک ساری بیورو کریسی انہی کے زمانے والی ہے اور ابھی تک انہی کے ہی تابع ہے احکامات بھی انہی سے لے رہی ہے اور عمل بھی انہی پر ہی کر رہی ہے۔
عجیب صورتحال ہے کہ حکومت کے مزے بھی لے رہے ہیں اور اپوزیشن کا لطف بھی۔ پہلے بطور وزیراعظم‘ جاتی امرا کو اپنا کیمپ آفس قرار دے کر سارا سرکاری پروٹوکول‘ خرچہ اور ازقسم سہولیات سے لطف اندوز ہو رہے تھے اب وہی سارا کچھ برادرِخورد میاں شہبازشریف وزیراعلیٰ پنجاب کے نام پر انجوائے کر رہے ہیں۔ البتہ صرف ایک خرچہ بڑھ گیا ہے اور وہ ہے وکلاء کی فیس۔ قریب پانچ سو ارب کے اثاثوں کے مالک میاں نوازشریف کو چار دن پلّے سے وکلاء کی فیس دینا پڑی ہے تو ''باں باں‘‘ ہو گئی ہے۔ ان کی ''چیکیں‘‘ نکل گئی ہیں۔ اس سے پہلے یہ ہوتا تھا کہ سارے ذاتی مقدمات بھی سرکاری کھاتے سے ادائیگیوں کے ذریعے چلتے تھے اور اٹارنی جنرل کے موجود ہونے کے باوجود سرکاری خرچے پر مہنگے مہنگے وکیل کئے جاتے تھے لیکن کیونکہ ان کی ساری ادائیگی سرکاری خزانے سے یعنی غریب عوام کے ٹیکسوں سے کی جاتی تھی اس لیے ان کو کبھی محسوس نہیں ہوئی تھی۔ جونہی یہ ادائیگی پلے سے کرنی پڑی ہے (اس عاجز کو اب بھی شبہ ہے کہ وہ یہ ادائیگی پلے سے کر رہے ہوںگے۔ وہ اب بھی کوئی نہ کوئی ''جگاڑ‘‘ لگا کر کسی نہ کسی طریقے سے ہمارے ٹیکس کے پیسوں کو ہی استعمال کر رہے ہوںگے) تاہم اگر وہ یہ خرچہ کر بھی رہے ہیں اور اسی خرچے پر ان کو رونا آ رہا ہے تو انہیں اس بات کا احساس ہونا چاہیے کہ ان کے‘ قریب گزشتہ تیس سال کے عرصے میں وقفے وقفے والے اقتدار کے دوران اس سارے نظام میں غریب آدمی کے ساتھ کیا سلوک ہوا ہو گا؟ بطور حکمران یہ ان کی ڈیوٹی تھی کہ وہ عام آدمی کی سہولت کے لیے کچھ کرتے۔ بطور قائدایوان قانون ساز اسمبلی اس سلسلے میں تمام تر قانون سازی ان کی ذمہ داری تھی نہ کہ یہ بھی عدلیہ پر الزام دھر دیا جائے۔ یہ بات درست ہے کہ اس ملک کا عدالتی نظام ابھی تک نوآبادیاتی طرز پر ہی چل رہا ہے لیکن اسے بدلنا خود عدلیہ کی نہیں مقننہ کی ذمہ داری ہے کہ عدلیہ کا کام عدالتی نظام چلانا ہے بنانا نہیں۔ عدالتی نظام کی تشکیل اور اس کی ساری نگرانی قانون ساز ادارے اور حکومت کے کندھوں پر ہے۔ اس سلسلے میں اگر کوئی ناکامی یا کوتاہی ہوئی ہے تو حکومت اس سے اپنے آپ کو کسی طور بری الذمہ قرار نہیں دے سکتی۔
میاں نوازشریف کی حکومت پر گرفت کا یہ عالم ہے کہ ابھی تک وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اپنے آپ کو اصلی وزیراعظم ثابت کرنا تو ایک طرف‘ خود کہلانے کے بھی جرأت نہیں کر پا رہے۔ وہ ابھی تک میاں نوازشریف کو ہی اصلی اور جائز حکمران قرار دے رہے ہیں۔ اگرچہ وہ اس سلسلے میں توہین عدالت سے تو خوفزدہ نہیں لیکن خود کو میاں نوازشریف کے ہوتے ہوئے اصلی وزیراعظم قرار دینے سے ڈرتے ہیں کہ کہیں میاں نوازشریف کے احکامات کا مکمل پابند ایوان ان کو اٹھا کر باہر نہ پھینک دے اور کوئی نیا وزیراعظم نہ منتخب کر لے۔ اُن کا فرمانا ہے کہ میں میاں نوازشریف کی نااہلی کے فیصلے کو ردی کی ٹوکری میں پھینکتا ہوں۔
ایمانداری کی بات ہے کہ کسی زمانے میں اس قسم کی جملے بازی کو باقاعدہ توہین عدالت سمجھا بھی جاتا تھا اور یہ تھی بھی۔ لیکن اب شاید صورتحال مختلف ہے۔ میری کئی قانون دان حضرات سے گفتگو ہوئی جن کا تعلق کسی جماعت سے نہ تھا اور کم از کم پی ٹی آئی سے تو ہرگز نہیں تھا۔ میں ان سے جہانگیر ترین کی نااہلی بارے سوال کیا تو ان کا جواب تھا کہ ''ان کے خیال میں یہ نااہلی نہیں بنتی تھی لیکن اس نااہلی کے بغیر شاید عمران خان کو بری کرنا موجودہ تناظر میں ممکن نہ رہا تھا‘‘ یعنی جہانگیر ترین عمران کی بریت کے کھاتے میں رگڑا گیا۔ یہ مسلسل دبائو کا نتیجہ تھا اور اب بھی صورتحال یہی ہے۔ میاں نوازشریف اپنی نااہلی کے بعد پنجے جھاڑ کر عدلیہ کے پیچھے پڑ گئے ہیں۔ وہ اب اس بات پر آ گئے ہیں کہ ان کو تاعمر نااہل تو کر دیا گیا ہے اب عدلیہ ان کا اور کیا کر لے گی؟ بندہ اقتدار میں موجود ہو تو اسے یہ ڈر رہتا ہے کہ وہ نااہل نہ ہو جائے لیکن جب وہ نااہل ہی ہو جائے تو بھلا اور کیا ڈر رہ جاتا ہے؟ رہ گئی بات اندر کرنے کی تو اس کا شاید زمانہ لد گیا ہے۔
عدلیہ کی توہین اور بے توقیری کے بعد اب میاں نوازشریف باقاعدہ دھمکانے پر آ گئے ہیں اور موجودہ صورتحال کو مشرقی پاکستان اور مجیب الرحمان کی صورتحال سے تشبیہ دینے پر آ گئے ہیں۔ کیا غلط فہمی ہے؟ کبھی وہ خود کو بھٹو کا ہم پلہ تصور کرتے ہیں اور کبھی اپنا موازنہ شیخ مجیب الرحمان سے کرتے ہیں۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی وجوہات شیخ مجیب الرحمان کی آئین کی دفعہ باسٹھ تریسٹھ کے تحت نااہلی نہیں تھی بلکہ اکثریتی پارٹی کو اقتدار منتقل کرنے سے انکار تھا۔ بلکہ اس سے زیادہ مجیب کے ان چھ نکات کو ماننے سے انکار تھا جن کی بنیاد پر اس نے مشرقی پاکستان میں کھڑکی توڑ فتح حاصل کی تھی۔ مجیب الرحمان نے ان چھ نکات کی بنیاد پر الیکشن لڑا اور پاکستان کی کل تین سو قومی نشستوں اور مشرقی پاکستان کی 162 نشستوں میں سے اکیلے ایک سو ساٹھ نشستیں حاصل کر کے قومی اسمبلی میں حکومت کے لیے درکار 151 نشستوں کی حد عبور کر لی لیکن اُسے حکومت بنانے کی دعوت دینے کے بجائے ڈھاکہ میں ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں جانے والوں کی ٹانگیں توڑنے کی دھمکیاں دی گئیں۔ باقی سب تاریخ کا حصہ ہے لیکن اس وقت بھی بنگالیوں کا بنیادی مسئلہ مشرقی پاکستان کے ساتھ وسائل کی تقسیم میں ہونے والی ناانصافی تھی اور اس کا زیادہ ملبہ پنجاب اور پنجابیوں پر ڈالا گیا تھا۔ ماشاء اللہ میاں نوازشریف کے پاس ایسا کوئی الزام نہیں کہ وہ اور ان کا برادر خورد پاکستان کے اور خاص طور پر پنجاب کے وسائل پر گزشتہ بتیس سال سے کسی تاجر حکمران کی طرح بیٹھے ہوئے ہیں۔ ان کے پاس مجیب الرحمن سے موازنے کے لیے کیا چیز ہے؟ کل تک کا غدار آج صرف اقتدار سے نااہلی کے سبب نہ صرف محب وطن ہو گیا بلکہ قابل تقلید بھی!!

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں