نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- نیویارک:ترک صدرطیب اردوان کااقوام متحدہ جنرل اسمبلی سےخطاب
  • بریکنگ :- ویکسین کوقوم پرستی سےجوڑناانسانیت کی توہین ہے،طیب اردوان
  • بریکنگ :- اب بھی لاکھوں لوگ کوروناوائرس سےدوچارہیں،طیب اردوان
  • بریکنگ :- 40 سال سےافغانستان کوتنہاچھوڑدیاگیا،ترک صدرطیب اردوان
  • بریکنگ :- افغانستان کوعالمی امداداوریکجہتی کی ضرورت ہے،طیب اردوان
  • بریکنگ :- ترکی افغانستان اوروہاں کےعوام کےساتھ کھڑارہےگا،طیب اردوان
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

کیا پلیٹ میں رکھ کر پیش کی گئی ٹکٹ ایسی ہوتی ہے؟

الیکشن میں اب تقریباً ایک ماہ اور ایک ہفتہ رہ گیا ہے اور صورتحال یہ ہے کہ ابھی ٹکٹوں کا معاملہ ہی طے ہونے میں نہیں آرہا۔ صرف پی ٹی آئی ہی نہیں مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی یعنی سارے بڑے فریق اسی صورتحال کا شکار ہیں۔ بیشتر حلقہ جات فائنل ہو چکے ہیں‘ مگر ابھی بہت سے حلقے ہیں‘ جن پر کسی نہ کسی کی ''گوٹی‘‘ پھنسی ہوئی ہے۔ شروع ملتان سے کرتے ہیں۔
ملتان کے قومی اسمبلی کے چھ حلقے ہیں۔ این اے 154 سے لیکر این اے 159 تک۔ این اے 154 پر مسلم لیگ (ن) نے اپنا امیدوار شہزاد مقبول بھٹہ فائنل کر لیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے پاس اب اور کوئی آپشن نہیں تھی۔ یہاں سے مسلم لیگ (ن) کا سابقہ رکن قومی اسمبلی حاجی سکندر حیات بوسن مسلم لیگ (ن) سے تو ''تلک‘‘ گیا ہے‘ تاہم ابھی تک کسی اور پارٹی میں باقاعدہ شامل نہیں ہوا‘ لیکن پکی خبر یہ ہے کہ وہ پی ٹی آئی کی طرف سے الیکشن لڑے گا۔ پی ٹی آئی نے بھی ملتان کی صرف یہ سیٹ ابھی تک انائونس نہیں کی۔ دیگر پانچ نشستوں پر پی ٹی آئی نے اپنے امیدواروں کا اعلان کر دیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) نے اپنے سابقہ ممبر صوبائی اسمبلی شہزاد مقبول بھٹہ کو ٹکٹ دیا ہے‘ جس کی گزشتہ پانچ سال سکندر بوسن یعنی اپنے اوپر والے ایم این اے سے ایک لمحہ نہیں بنی تھی‘ بلکہ صرف اس کی ہی کیا؟ مسلم لیگ کے تقریباً سارے ارکان قومی اسمبلی کی اپنے اپنے نیچے والے ممبر صوبائی اسمبلی سے نہیں بنی تھی۔ پہلے ذرا اس معاملے پر روشنی ڈال لیں۔ اب حلقوں کا ذکر ان کے پرانے نمبروں سے کروں گا۔
این اے 148 سے ایم این اے ملک غفار ڈوگر تھا۔ اس کے نیچے ملک مظہر عباس راں اور رائے منصب علی خان تھے۔ دودھ فروش ایم این اے (یہ میں خود سے نہیں لکھ رہا۔ اس کے گزشتہ الیکشن کے نامزدگی فارم کی فوٹو کاپی میرے پاس موجود ہے اس میں موصوف نے اپنا پیشہ یہی لکھا ہے یہ عاجز بھلا کیا کرسکتا ہے؟) غفار ڈوگر کے اپنے ایم پی اے ملک مظہر راں سے تعلقات انتہائی حد تک کشیدہ تھے۔شنید ہے کہ بول چال تک بند تھی۔ یہی حال اس کا اپنے نیچے دوسرے ایم پی اے پٹواریوں کے آئی جی (موصوف ایک زمانے میں پٹواری تھے اور لوگ بتاتے ہیں کہ بڑے پھنے خان پٹواری تھے۔ پٹواری کے پھنے خان ہونے سے کیا مراد ہے اس کی وضاحت کی ضرورت نہیں) رائے منصب علی خان سے تھا۔ این اے 149 اور این اے 150 یعنی شہر کی دونوں سیٹوں پر پی ٹی آئی کے ارکان قومی اسمبلی تھے۔
این اے 151 پر ملک سکندر بوسن ایم این اے تھا اور اس کے نیچے ایک سیٹ پر اس کا چھوٹا بھائی ملک شوکت بوسن ایم پی اے تھا اور دوسری سیٹ پی پی 198 پر شہزاد مقبول بھٹہ تھا۔ دونوں کے باہمی تعلقات انتہائی حد تک خراب تھے۔ بول چال تو ایک طرف رہی ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی اور بلدیاتی الیکشن میں باقاعدہ مخالفت رہی۔ این اے 152 شجاع آباد سے جاوید علی شاہ ایم این اے تھا اور اس کے تعلقات اپنے دونوں ایم پی اے حضرات رانا اعجاز نون اور رانا طاہر شبیر سے کافی حد تک خراب تھے اور یہی حال این اے 153 کے رکن قومی اسمبلی رانا قاسم نون کے اپنے ایم پی اے مہدی عباس لنگاہ کے ساتھ تھا۔ اب سکندر بوسن پی ٹی آئی میں جا رہا ہے۔ رانا قاسم پی ٹی آئی میں جا چکا ہے اور نئے حلقہ این اے 159 جلالپور سے پی ٹی آئی کا قومی اسمبلی کا امیدوار ہے۔ این اے 157 (نیا) سے غفار ڈوگر کا ایک ایم پی اے ملک مظہر راں پی ٹی آئی میں جا چکا ہے۔ رائے منصب علی خان کی پیپلزپارٹی سے بات چیت چل رہی ہے۔ یہاں سے گزشتہ الیکشن میں پیپلزپارٹی کی طرف سے ہارا ہوا امیدوار ڈاکٹر اختر ملک پی ٹی آئی کی طرف سے امیدوار ہے۔
شہزاد مقبول بھٹہ اب مسلم لیگ (ن) کی طرف سے سکندر بوسن والی سیٹ پر امیدوار قومی اسمبلی ہے اور حال یہ ہے کہ گزشتہ بلدیاتی انتخابات میں اس کا سگا بھائی اپنے گھر کی سیٹ سے چیئرمین یونین کونسل کا الیکشن ہار گیا تھا‘ بلکہ صرف بھائی پر ہی کیا موقوف‘ اس کا سارا پینل ہی برے طریقے سے ہار گیا تھا۔ اس کا بھائی اظہر مقبول بھٹہ‘ سکندر بوسن کے امیدوار ارشد میٹ سے ہارا تھا۔ اس سیٹ پر پیپلزپارٹی کی طرف سے عبدالقادر گیلانی الیکشن لڑ رہا ہے۔
این اے 155 اور 156 سے جو شہری حلقے ہیں مسلم لیگ (ن) کی طرف سے طارق رشید اور پی ٹی آئی کی طرف سے ملک عامر ڈوگر امیدوار ہیں یہ وہ حلقہ ہے‘ جہاں سے جاوید ہاشمی نے بھی کاغذات نامزدگی داخل کروا رکھے ہیں۔ محترم المقام‘ واجب الاحترام جناب جاوید ہاشمی سے ڈیڑھ ماہ پہلے ملاقات ہوئی تو میں نے ان کی ٹکٹ بارے شک کا اظہار کیا۔ انہوںنے بڑے یقین سے کہا کہ وہ مسلم لیگ (ن) سے ٹکٹ مانگیں گے نہیں‘ مسلم لیگ (ن) انہیں ٹکٹ پلیٹ میں رکھ کر پیش کرے گی۔ میں نے مورخہ 8 مئی 2018ء کے اپنے کالم ''اللہ خیر کرے‘‘ میں ان کا جملہ لکھا اور اپنا تبصرہ لکھا کہ ''اس عاجز کو یہ پلیٹ فی الحال نظر نہیں آرہی‘‘۔ سو اس عاجز کا اندازہ درست ثابت ہوا ہے اور حلقہ این اے 155 کا ٹکٹ طارق رشید کو مل گیا ہے‘ جو کافی ''ماٹھا‘‘ امیدوار ہے۔این اے 156 پر شاہ محمود کے خلاف پہلے مسلم لیگ (ن) کے سابقہ ایم این اے‘ ایم پی اے اور حالیہ سینیٹر رانا محمود الحسن کے چھوٹے بھائی اور مسلم لیگ (ن) کے شہر کے (غالباً) صدر رانا شاہد کو ٹکٹ دے دیا گیا تھا۔ اس ٹکٹ پر سارے شہر کو حیرت ہوئی تھی۔ موصوف ایسے امیدوار ہیں کہ خود اپنے آپ کو ہرانے کی بھر پور صلاحیت رکھتے ہیں اور اپنے جوڑوں میں خود ہی بیٹھنے کی تمام تر صلاحیتوں سے مالا مال ہے‘ تاہم اب سنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے شاہ محمود کو ملنے والی اس قدرتی مدد ‘یعنی رانا شاہد کا ٹکٹ واپس لے لیا ہے۔ شاید کسی نے تخت لاہور والوں کو بتا دیا ہوگا کہ موصوف شہر کے جھگڑوں والے نوے فیصد پلاٹوں پر قبضہ کرنے اور خرچہ پانی لے کر چھوڑنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ لہٰذا اب ٹکٹ عامر سعید انصاری کو دے دیا گیا ہے۔ اس تبدیلی سے شاہ محمود کے لئے تھوڑی مشکل مزید بڑھ گئی ہے‘ جو ان کے فنانسر (الیکشن کی حد تک) پاپڑ فروش کے علاوہ سابقہ صوبائی امیدوار رانا جبار اور میاں جمیل کی ناراضگی اور مخالفت کے باعث پیدا ہوئی ہے۔
این اے 155 پر طارق رشید مسلم لیگ (ن) کا امیدوار ہے اور این اے 158 پر جاوید علی شاہ۔ یہ وہ دو حلقے ہیں‘ جہاں سے جاوید ہاشمی صاحب نے کاغذات نامزدگی داخل کروائے تھے اور بقول‘ ان کے مسلم لیگ (ن) ان کو ٹکٹ پلیٹ میں رکھ کر پیش کرے گی‘ لیکن ہوا وہی جس کا مجھے ڈر تھا۔ میاں نواز شریف دل میں بغض رکھنے کے باوجود 'جپھی شپھی‘ ڈال لیتے ہیں‘ مگر میاں شہباز شریف ہاتھ بھی نہیں ملاتے۔ جاوید ہاشمی صاحب کے ساتھ بھی یہی ہوا ہے‘ تاہم شاہ جی کا خیال تھوڑا مختلف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پینل وہی بنے گا‘ جو تم نے کہا تھا۔ ایم این اے جاوید ہاشمی اور نیچے آصف رجوانہ اور احسان الدین قریشی۔ میں نے پوچھا : وہ کیسے؟ شاہ جی کہنے لگے: طارق رشید کے کاغذات نامزدگی پر بڑا سیریس اعتراض لگا ہے۔ اس نے 2008ء کے الیکشن میں اپنی تعلیمی قابلیت بی اے لکھی اور فارم میں یہ بھی لکھا کہ اس نے بی اے بلوچستان یونیورسٹی سے کیا ہے اور ایک حلفیہ بیان بھی ساتھ لگایا کہ ابھی ڈگری بنی نہیں جب بنے گی ‘پیش کر دوں گا۔ شاہ جی کہنے لگے: اسے کسی میرے جیسے آدمی نے کہہ دیا ہوگا کہ ڈگری لے دوں گا‘ جو بعد میں غائب ہوگیا ہوگا۔ اب موصوف نے اپنے کاغذات میں تعلیمی قابلیت انڈر میٹرک لکھ دی ہے۔ کیا عجب ترقی معکوس ہے؟ 2008ء میں موصوف بی اے تھا اور 2018ء میں اب انڈر میٹرک ہوگیا ہے۔
طارق رشید کو ٹکٹ دے کر راضی کر لیا اور اس کی نااہلی کے بعد جاوید ہاشمی صاحب کو ٹکٹ مل جائے گا۔ طارق رشیدسے بھی خوشی خوشی جان چھوٹ گئی اور ہاشمی صاحب کو بھی ٹکٹ مل گیا۔ اسے کہتے ہیں '' ایک پنتھ دو کاج‘‘ میں نے کہا: شاہ جی !ممکن ہے‘ آپ کا اندازہ درست ہو‘ لیکن کیا ایسی ٹکٹ کو پلیٹ میں رکھ کر پیش کی گئی ٹکٹ کہتے ہیں؟۔

 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں