نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےمیں کوروناکےمزید 1780 کیس رپورٹ،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں کورونامریضوں کی تعداد 12 لاکھ 38 ہزار 668 ہوگئی
  • بریکنگ :- ملک میں کوروناکےایکٹوکیسزکی تعداد 50 ہزار 690 ہے،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں 24 گھنٹےکےدوران کوروناسےمزید 42 اموات
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں کوروناسےجاں بحق افرادکی تعداد 27 ہزار 566 ہوگئی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےکےدوران 44 ہزار 712 کوروناٹیسٹ کیےگئے،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں ایک کروڑ 91 لاکھ 91 ہزار 787 کوروناٹیسٹ کیےجاچکے
  • بریکنگ :- کوروناسےمتاثر 4199 مریضوں کی حالت تشویشناک،این سی اوسی
  • بریکنگ :- پنجاب 4 لاکھ 28 ہزار 394،سندھ میں 4 لاکھ 55 ہزار 65 کیسز،این سی اوسی
  • بریکنگ :- خیبرپختونخواایک لاکھ 73 ہزار 23،بلوچستان میں 32 ہزار 849 کیس رپورٹ
  • بریکنگ :- اسلام آبادایک لاکھ 5 ہزار 21،گلگت بلتستان میں 10 ہزار 296 کیسز
  • بریکنگ :- آزادکشمیرمیں کورونامریضوں کی تعداد 34 ہزار 20 ہوگئی،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک میں کورونامثبت کیسزکی شرح 3.98 فیصدرہی،این سی اوسی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےمیں کوروناکے 3090 مریض صحت یاب،این سی اوسی
  • بریکنگ :- کوروناسےصحت یاب افرادکی مجموعی تعداد 11 لاکھ 60 ہزار 412 ہوگئی
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

تیسرا سوال

میرے محبوب لیڈر عمران خان نے 1983ء میں پاکستان کرکٹ کے کپتان کی حیثیت سے اپنی ساکھ بنانے اور دھاک بٹھانے کی خاطر اپنے محسن‘ مربی اور کسی حد اتالیق اپنے کزن ماجد جہانگیر خان کی پاکستان کرکٹ ٹیم سے چھٹی کروا دی تھی۔ اب انہوں نے اپنی ساکھ کو بہتر کرنے کیلئے اپنے محسن و مربی جہانگیر ترین کی چھٹی کروا دی ہے۔ 1983ء سے 2020ء تک ان سینتیس سال میں فرق صرف اتنا ہے کہ تب انہوں نے یہ سب کچھ ساکھ بنانے کیلئے کیا تھا۔ اب‘ انہوں نے یہ سب کچھ اپنی (گرتی ہوئی) ساکھ بچانے کیلئے کیا ہے‘ تاہم ان دونوں واقعات میں قدرِ مشترک یہ ہے کہ ہر دو قربان شدہ حضرات ان کے محسن بھی تھے اور ''جہانگیر‘‘ ان کے نام کا حصہ بھی تھا۔
کیا یہ سبسڈی نامی ''آفت‘‘ اس ملک کی شوگر انڈسٹری پر پہلی بار نازل ہوئی ہے؟ کیا جہانگیر ترین اس مالِ مفت کے مزے لوٹنے والے پہلے شخص ہیں؟ کیا سبسڈی لینا کوئی خلافِ قانون حرکت ہے؟ ان سب سوالوں کا جواب ''نہیں‘‘ میں ہے۔ تو پھر یہ سارا ہنگامہ کس بات پر برپا ہے؟ ہنگامہ بھی ایسا کہ ایک بار تو اس نے کورونا وائرس کو بھی پیچھے چھوڑ دیا تھا۔ شوگر پر سبسڈی ایک عرصے سے جاری و ساری ہے اور اس سے مستفید ہونے والوں میں سب شامل ہیں۔ یعنی محمود و ایاز ایک ہی صف میں کھڑے ہوئے ہیں اور کسی کو بھی اس سے استثنا حاصل نہیں‘ تاہم موجودہ سبسڈی سکینڈل اس لحاظ سے تھوڑا مختلف ہے کہ اس سکینڈل کا سارا ملبہ فی الحال جہانگیر ترین پر گرا ہے ‘جو نا صرف حکومتی پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں ‘بلکہ ایک لحاظ سے وزیر اعظم کے نمبر ٹو سمجھے جاتے تھے۔ پونے دو سال سے زیادہ عرصہ حکومت چلانے کے باوجود کرپشن فری پاکستان کی دعویدار تحریکِ انصاف کی حکومت بالعموم اور پاکستان کے وزیراعظم عمران خان بالخصوص کرپشن کے خاتمے میں مکمل طورپر ناکام رہنے کے بعد اپنی برباد شدہ ساکھ کو بحال کرنے کیلئے کسی بڑے واقعے کے منتظر تھے۔ سو ‘یہ بڑا واقعہ سبسڈی سکینڈل کی صورت میں ہمارے سامنے ہے اور حکومتی ساکھ کی بحالی کیلئے کرپشن کے خلاف جنگ میں مارا جانے والا واحد مقتول بھی ہمارے ہے۔
معاملہ تین ارب روپے کی سبسڈ ی کا ہے‘ جوپنجاب کی شوگر انڈسٹری کو چینی برآمد کرنے پر عالمی منڈی میں چینی کی کم قیمت کے باعث ہونے والے نقصان کو پورا کرنے کی غرض سے دی گئی تھی۔ اس تین ارب روپے کی سبسڈی کے طفیل زرمبادلہ کی پائی پائی کے محتاج ملک کو جو زرمبادلہ حاصل ہوا وہ اس دی گئی سبسڈی سے کہیں زیادہ بھی تھا اور ملکی معاشی صورتحال کے حوالے سے زیادہ اہم بھی تھا‘ لیکن فی الوقت سارا نزلہ سبسڈی پر گرا ہوا ہے۔ نزلہ گرنے کے بارے میں ایک محاورہ ہے کہ ''نزلہ بر عضو ِضعیف‘‘ یعنی غصہ کمزور پر اترتا ہے۔ فی الوقت یہ سارا نزلہ جہانگیر ترین پر گرا ہے۔ اس سے سب سے بڑا فائدہ تو یہ ہوا ہے کہ یکطرفہ احتساب کے غبارے سے ہوا نکالنے کی کوشش کی گئی ہے اور تحریک انصاف کے حمایتیوں نے سوشل میڈیا پر بڑا زور دار غل مچا رکھا ہے کہ عمران خان کسی کا لحاظ نہیں کرتے اور انہوں نے کرپشن میں ملوث اپنے عزیز ترین دوست جہانگیر ترین کو بھی نہیں چھوڑا۔ شنید ہے کہ اس کی وجوہات کچھ اور ہیں۔ عمران خان نے ایک تیر سے دو شکار کئے ہیں۔ جہانگیر ترین سے بھی جان چھڑوا لی ہے اور اپنے نمبر بھی ٹانگ لئے ہیں۔ ویسے بھی اب عمران خان کو پچپن روپے فی کلو میٹر کا اپنا سرکاری جہاز میسر ہے تو جہانگیر ترین کے ہوائی جہاز کی کیا اہمیت رہ جاتی ہے؟ جتنے ووٹ اس جہاز نے اکٹھے کرنے تھے کر لئے۔ جو سواریاں ''ڈھونی‘‘ تھیں ''ڈھو‘‘ لیں۔ اب یہ جہاز عملی طور پر بیکار تھا۔ اگلی بار اس کی ویسے بھی ضرورت پڑتی دکھائی نہیں دے رہی تھی۔ گھر کے خرچے کیلئے پونے دو لاکھ تنخواہ میں دو لوگوں کا گزارہ بھی کسی نہ کسی طرح چل رہا ہے۔ جیب میں کیش ہو تو اے ٹی ایم کارڈ کی ضرورت نہیں پڑتی۔
اگر یہ کیس مزید چلا ‘جس کی توقع ہے‘ تو پھر کم از کم اس سبسڈی والے مسئلے پر تو جہانگیر ترین کو کلین چٹ مل جائے گی ‘مگر جہانگیر ترین اس دوسرے جھٹکے سے ہونے والے نقصان سے کبھی نہ نکل پائیں گے۔ پہلا نقصان انہیں تب ہوا تھا‘ جب انہیں سیاسی طور فارغ کیا گیاتھا۔اس کہانی کا سب کو اندازہ ہے۔ پہلے اس نااہلی اور اب عمران خان کی ذاتی قربت سے محرومی کا سب سے بڑا فائدہ تو شاہ محمود قریشی کو ہوا ہے‘ جن کے پاس پہلے صرف ملتان اور خانیوال کے اضلاع کی نمبرداری تھی ۔اب‘ یہ نمبرداری ملتان ڈویژن کے دیگر اضلاع تک پھیل جائے گی۔ شاہ محمود قریشی نے بھی کیا قسمت پائی ہے۔ پہلے ان کا سب سے بڑا مقابل جاوید ہاشمی تحریک انصاف سے فارغ ہو گیا‘ اب جہانگیر ترین بھی رخصت ہی سمجھیں؛حتیٰ کہ صورت ِ حال یہ ہے کہ اپنی ذاتی جیب سے اپنے حلقے میں دس ہزار راشن پیک تقسیم کرنے والا سلمان نعیم کورونا ٹیسٹ پازیٹو آنے کے باعث مظفر گڑھ کے طیب اردگان ہسپتال میں داخل رہ چکا ہے ‘ جبکہ سرکاری فنڈ میں سے ایک کروڑ کا چیک دینے والا ہمارا محبوب وزیر خارجہ مزے میں ہے۔
اگر سبسڈی کا پنڈورابکس کھلا تو مزے دار کیس سامنے آئیں گے۔ میاں نواز شریف کے دور ِاقتدار میں چینی برآمد‘ یعنی ایکسپورٹ کرنے کے بعد سابقہ تاریخوں کیلئے نافذ العمل ایس آر اوز سامنے آئیں گے‘ جن کے ذریعے اپنے پیاروں کو سبسڈی سے مستفید کیا گیا اور فرنٹ مینوں کے ذریعے مزے لوٹنے کے واقعات سے قوم روشناس ہو گی‘ لیکن امید کم ہے کہ ایسا ہو سکے۔ فی الحال تو پچیس اپریل کے فرانزک آڈٹ کا انتظار ہے اور اس کیلئے صرف جہانگیر ترین کی شوگر ملز کو منتخب کیا گیا ہے کہ اب وہ چلا ہوا کارتوس ہے اور آپ کو تو پتا ہی ہے کہ چلے ہوئے کارتوس کو شکاری کبھی پلٹ کر بھی نہیں دیکھتا۔ مونس الٰہی کے پاس دس صوبائی اسمبلی کے ووٹ بھی ہیں اور چودھری پرویز الٰہی نے خواجہ سعد رفیق اینڈ برادر سے ملاقات کے ذریعے جو پیغام بنی گالہ بھیجوانا تھا وہ سب کو ویسے ہی سمجھ آ گیا ہے‘ جیسے چارلی چپلن بنا ایک لفظ ادا کئے ساری فلم بھگتا دیتا تھا اور سب کو اس گونگی فلم کی ایک ایک بات سمجھ آ جاتی تھی۔
لیکن دو سوالات تشنہ ہیں۔ پہلا یہ کہ اگر سبسڈی غلط دی گئی تھی اور اس سے مستفید ہونے والے قومی مجرم ہیں تو سبسڈی کی منظوری دینے والے اگر بے ایمان نہیں بھی تو ان کے نااہل ہونے میں رتی برابر شبہ باقی نہیں رہتا اور یہ وہ بات ہے جو ہم عرصۂ دراز سے کہہ رہے ہیں ۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ برآمد ہونے والی چینی کا بیشتر حصہ افغانستان بھیجا گیا ہے ‘جہاں اتنی چینی کی کھپت ہی نہیں۔ ایسی صورت میں گمان یہ کیا جا سکتا ہے کہ یہ افغانستان کی آبادی کے تناظر میں اتنی مقدار میں چینی کی بر آمد بذات ِ خود ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اس ایماندار اور کرپشن فری حکومت میں محکمہ کسٹمز کی ملی بھگت کے بغیر یہ فرضی ایکسپورٹ کس طرح ممکن تھی؟
قارئین! معاف کیجئے مجھے ان دو سوالات کے بعد ایک اور سوال یاد آ گیا ہے‘ اگر اجازت ہو تو وہ بھی پوچھ لوں۔ اور وہ سوال یہ ہے کہ تین ارب کی سبسڈی پر تو بڑا رولا ہے؛ حالانکہ اس کے عوض ملک کو زرمبادلہ ملا‘ لیکن سرکار یہ نہیں پوچھ رہی کہ چینی کا ریٹ پینتالیس روپے فی کلو سے ستر روپے فی کلو گرام کر کے شوگر مافیا نے عوام کی جیبوں سے جو اڑتالیس ارب روپے (کم از کم) نکال لئے تھے‘ اس کا کیا بنے گا؟( تفصیل میرے بارہ دسمبر 2019ء کے کالم ''اڑتالیس ارب کا ڈاکہ‘‘ میں موجود ہے) پہلے دو سوالوں کو گولی ماریں۔ اس تیسرے سوال کا جواب تو ملنا چاہیے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں