نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- نیویارک:ترک صدرطیب اردوان کااقوام متحدہ جنرل اسمبلی سےخطاب
  • بریکنگ :- ویکسین کوقوم پرستی سےجوڑناانسانیت کی توہین ہے،طیب اردوان
  • بریکنگ :- اب بھی لاکھوں لوگ کوروناوائرس سےدوچارہیں،طیب اردوان
  • بریکنگ :- 40 سال سےافغانستان کوتنہاچھوڑدیاگیا،ترک صدرطیب اردوان
  • بریکنگ :- افغانستان کوعالمی امداداوریکجہتی کی ضرورت ہے،طیب اردوان
  • بریکنگ :- ترکی افغانستان اوروہاں کےعوام کےساتھ کھڑارہےگا،طیب اردوان
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

دیکھیں ہمارے ساتھ کیا بنتا ہے؟

گو کہ میں ملتان کی سیاست کے حوالے سے لکھے جانے والے کالموں میں اکثر اوقات اپنے وسیب کے ایک بڑے سیاستدان اور گدی نشین جناب شاہ محمود قریشی کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتا رہتا ہوں جو بدقسمتی سے (میری نہیں) شاہ محمود قریشی صاحب کے حق میں کم از کم میری جانب سے تو کچھ خاص مناسب نہیں ہوتے؛ تاہم اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ میری ان سے کوئی ذاتی دشمنی، پرخاش یا مخاصمت ہے۔ یہ میرے ذاتی خیالات اور اللہ کی طرف سے عطا کی گئی عقل کے مطابق کیا جانے والا تجزیہ ہوتا ہے۔ اب اسے کیا کہا جائے کہ وہ اکثر اوقات ان کے حق میں جانے کے بجائے دوسری طرف چلا جاتا ہے۔ جیساکہ میں اوپر کہہ چکا ہوں میری ان سے کسی قسم کی کوئی ذاتی رنجش نہیں ہے اور ان کی کوئی بات اچھی لگے تو اس پر بھی لکھنے کو ہمہ وقت تیار ہوں؛البتہ اسے آپ اتفاق (حسن اتفاق نہیں، محض اتفاق) کہہ لیں کہ ابھی تک ایسا کوئی موقع نہیں بنا تھا جس کی بنیاد پر میں ان کی تحسین کر سکتا؛ تاہم گزشتہ دو چار دن سے میں ان سے خوش ہوں۔
گو کہ جس بات پر میں ان سے خوش ہوں اسی بات پر کئی لوگ ان سے ناخوش ہیں اور ان کو سفارتکاری کے آداب سے ناآشنا، سفارتی زبان سے نابلد اور وقت کی نزاکت سے ناآگاہ قرار دے رہے ہیں۔ ایمانداری کی بات ہے کہ میں شاہ محمود قریشی کے او آئی سی کے حوالے سے دیئے گئے بیان سے ذاتی طور پر سو فیصد متفق ہوں اور ان کے ساتھ ہوں بشرطیکہ وہ اپنے اس بیان پر قائم اور ڈٹے رہیں۔ ان کے او آئی سی کے حوالے سے دیئے گئے بیان کے تناظر میں سعودی عرب کی جانب سے ایک ارب ڈالر کی واپسی اور تیل کی ادھار پر سپلائی بند ہونے کو یار لوگ ایک بے وقت دیئے جانے والے بیان کا شاخسانہ قرار دیتے ہوئے شاہ محمود قریشی کے لتے لے رہے ہیں۔ قوموں کی زندگی میں عزت و آبرو سے بڑھ کرکوئی شے نہیں ہوتی اور ہم اپنی اقتصادی بدحالی کے باعث ادھار کے تیل اور قرضے کے ڈالروں کے طفیل ہونے والی بے عزتی کو تو برداشت کرنے کیلئے تیار ہوتے ہیں لیکن کسی اصولی مؤقف پر سٹینڈ لیتے ہوئے ہماری ٹانگیں کانپنا شروع ہو جاتی ہیں۔
بیرون ملک سے آنے والی فنڈنگ اور مالی امداد کے طفیل ارب پتی ہونے والوں کی تواس بیان کی مخالفت سمجھ آتی ہے کہ ان کا رزق، روٹی اور دال دلیا بیرون ملک سے آنے والے ریالوں سے وابستہ ہے لیکن دانشوروں کی جانب سے اس بیان کی مخالفت میں دیئے جانے والے دلائل کی سمجھ نہیں آئی۔ کیا اب ہرچیز کو نفع، نقصان کے ترازو میں تولا جائے گا؟ کیا قومی عزت اور آبرو نامی شے کو بھی اب دو چار ارب ڈالر کی خاطر بیچ بازار نیلام کیا جائے گا؟ اور ایمانداری کی بات تو یہ ہے کہ اس بیان میں غلط کیا ہے؟ کشمیر کیلئے ہم نے چار جنگیں لڑیں اور آج بھی مکمل طور پر حالتِ جنگ میں ہیں، کیا اسلامی جمہوریہ پاکستان اور بھارت کے درمیان وجہ تنازع کشمیر صرف کسی زمین کے ٹکڑے کا نام ہے؟ کیا وہاں کے رہنے والے اسی لاکھ سے زائد مسلمان او آئی سی کا مسئلہ نہیں ہیں؟ آخر او آئی سی ہے کس مرض کی دوا؟ اگر او آئی سی بھارت میں مسلمانوں کے قتل عام پر خاموش رہتی ہے۔ اگر او آئی سی نے کشمیر میں ایک سال سے زائد عرصے سے جاری لاک ڈائون پر آنکھیں بند کرنی ہیں۔ اگر او آئی سی نے کشمیری مسلمانوں کی نسل کشی پر غیرجانبدار رہنا ہے۔ اگر او آئی سی نے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد کشمیر میں مسلمانوں کی آبادی کے تناسب کو بگاڑنے کی بھارتی سازش سے صرف نظرکرنا ہے اور لاکھوں کشمیری خواتین کی عزت و آبرو کی پامالی پر بھارت کی مذمت میں ایک لفظ بھی نہیں کہنا تو پھر ایسی اسلامی آرگنائزیشن پر انگلی نہ اٹھائی جائے تو اور کیا کیا جائے؟ ان سے سوال نہ کریں تو اور کیا کریں؟
چلیں اقوام متحدہ کی تو بات اور ہے‘ لیکن ''آرگنائزیشن آف اسلامک کنٹریز‘‘ یعنی تنظیم برائے اسلامی ممالک بھی اگر عالم اسلام کے اس سب سے بڑے حالیہ المیے پر خاموش رہتی ہے بلکہ نہ صرف خاموش رہتی ہے بلکہ اس کے چودھری وقت کے سب سے بڑے ظالم اور ہندوستان کے مسلمانوں کیلئے قصائی کا درجہ رکھنے والے نریندر مودی کو اپنے ملک کا سب سے بڑا سول ایوارڈ دیتے ہیں‘ ایودھیا میں بابری مسجد کے قاتل کو اپنی ریاست میں مندر بنانے کی اجازت دیتے ہیں، بھارتی زرمبادلہ میں سب سے زیادہ حصہ ڈالتے ہیں اور پاکستان کی طرف سے او آئی سی کی مجرمانہ خاموشی اور کشمیری مسلمانوں کے قتل عام پر، اس بے حسی پر آواز اٹھانے کی پاداش میں پاکستان سے اپنا قرضہ واپس مانگ لیتے ہیں اور تیل کا ادھار بند کر دیتے ہیں تو کیا اب ان ممالک کی مدح سرائی کی جائے؟
بہتّر سال سے مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی فائلوں میں دبا پڑا ہے۔ چلیں کفار سے کیا امیدیں وابستہ کرنا‘ لیکن ستاون مسلمان ممالک پر مشتمل اس تنظیم نے مسلمانوں کیلئے عملی طور پر آج تک کیا کیا ہے؟ اس بات کا افسوس تو اپنی جگہ کہ انہوں نے خود کچھ نہیں کیا‘ اس سے بڑھ کر افسوس یہ ہے کہ اس تنظیم کے مدارالمہام نے کسی اورکو بھی کچھ نہیں کرنے دیا اورایسا کرنے کی کوشش کرنے پر انہوں نے اپنے دوستوں کے ساتھ جوکیا‘ اس کا عملی مظاہرہ کوالالمپور کانفرنس کے موقع پر سب نے دیکھ لیا تھا۔ اس بے حسی اور بے التفاتی پر خاموش رہیں تودل جلتا ہے اور بولیں توپر جلتے ہیں۔ ہمیں ہمارے نام نہاد بھائیوں نے ادھار کے ڈالروں اور تیل کے انگوٹھے نے نیچے دباکر رکھا ہوا ہے۔ ذرا سا کسمسائیں تو عزت مآب کی طبع نازک پر گراں گزرتا ہے۔
سعودی عرب ہمارے لیے باعث احترام ہے اور باعثِ تکریم بھی اور اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ وہاں ہمارے مقدس ترین مقامات ہیں۔ وہ ''حرمین شریفین‘‘ کے رکھوالے اور خدمت گار ہیں اور یہ ایسا اعزاز ہے جو ان کو باعث عزت و شرف بھی بناتا ہے اور عالم اسلام کا مرکزہ اور سردار بھی‘ لیکن جتنی بڑی سرداری ہوتی ہے اتنی ہی بڑی ذمہ داری بھی ہوتی ہے۔ اب سرداری تو انجوائے کی جائے اور ذمہ داری نام کی کوئی چیز بھی آپ اپنے کندھوں پرنہ ڈالیں تو اس سے بڑی خیانت اورکیا ہوسکتی ہے؟
جب اس موضوع پر بات کریں کبھی تقدس آڑے آجاتا ہے اور کبھی اقتصادی مسائل۔ کبھی زرمبادلہ کے ذخائر میں پڑے ہوئے ادھارکے ڈالر رکاوٹ بن جاتے ہیں اور کبھی ادھار پرلیا ہوا تیل۔ کبھی چھبیس لاکھ ورکر یاد آ جاتے ہیں اور کبھی سعودی عرب سے بھیجے گئے سالانہ چارارب ڈالرز سے زیادہ زرمبادلہ کا خیال آجاتا ہے۔ ان احسانات تلے دباکر جوتے بھی مارے جاتے ہیں اور رونے بھی نہیں دیا جاتا۔ لیکن جناب علامہ اقبال اسی ضمن میں فرما گئے ہیں ع
غیرت ہے بڑی چیز جہانِ تگ و دو میں
ویسے آپ کاکیا خیال ہے شاہ محمود قریشی نے یہ بیان بھولپن میں دیا ہے؟ کیا انہوں نے یہ بات غلطی سے کی ہے؟ کیا اسے آپ غیرذمہ دارانہ بیان کہہ سکتے ہیں؟ کیا یہ Slip of the tongue تھی؟ ہرگز ہرگز نہیں! پانچ نسلوں سے مخدومی و گدی نشینی پر فائزشاہ محمود قریشی بغیر کسی ہلاشیری کے کوئی انقلابی بیان دے ہی نہیں سکتے اور اگر اب دیا ہے تو ان کی پشت پرکھڑے ہوئے سائیں تگڑے ہیں۔ ان کا ماضی دیکھوں تو یہ بیان جو میرے لیے بڑا خوش کن ہے مجذوب کی بڑ لگتا ہے۔ اب دیکھیں وہ اسے نبھاتے ہیں یا ایک پنجابی لفظ کے مطابق ''دُڑک‘‘ لگاتے ہیں۔ اگر وہ کھڑے رہے، میرا مطلب ہے اگر ریاست اس بیان پر کھڑی رہی تو باعزت تنگی کا سامنا کرنا پڑے گا، بصورت دیگر سو جوتے بھی کھائیں گے اور سو پیاز بھی۔ اب دیکھتے ہیں ہمارے ساتھ کیا بنتا ہے؟

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں