نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- نیویارک:ترک صدرطیب اردوان کااقوام متحدہ جنرل اسمبلی سےخطاب
  • بریکنگ :- ویکسین کوقوم پرستی سےجوڑناانسانیت کی توہین ہے،طیب اردوان
  • بریکنگ :- اب بھی لاکھوں لوگ کوروناوائرس سےدوچارہیں،طیب اردوان
  • بریکنگ :- 40 سال سےافغانستان کوتنہاچھوڑدیاگیا،ترک صدرطیب اردوان
  • بریکنگ :- افغانستان کوعالمی امداداوریکجہتی کی ضرورت ہے،طیب اردوان
  • بریکنگ :- ترکی افغانستان اوروہاں کےعوام کےساتھ کھڑارہےگا،طیب اردوان
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

تہمت

سرگودھا سے خوشاب کی طرف جائیں تو سرگودھا شہر سے نکلتے ہی جھال چکیاں آتا ہے۔ جھال چکیاں اپنی دال کی وجہ سے معروف ہے اور اب کئی جگہ پر یہ دال اپنی وجۂ شہرت ''جھال چکیاں‘‘ کے نام سے چل رہی ہے۔ جھال چکیاں سے تھوڑا آگے ایک پرانا قصبہ دھریمہ ہے۔ یہ قصبہ بھی اپنی خاص پہچان رکھتا ہے۔ یہاں پر کمال نامی ایک بندوق ساز تھا جو ہاتھ سے بندوقیں بنانے میں بڑی شہرت رکھتا تھا۔ اس نے ایک بندوق بناکر صدر جنرل ضیاالحق کو پیش کی۔ یہ بندوق ہاتھ کی صفائی اور مہارت کی مثال تھی۔ ضیاالحق اس بندوق کو دیکھ کر بڑے خوش ہوئے اور کمال کو بندوق سازی کیلئے ایک قطعہ زمین بھی عطا کیا۔ کمال بنیادی طور پر بندوق ساز نہیں بلکہ بندوق مرمت کرنے والا تھا اور اس کی شہرت اس حوالے سے بڑی مستند تھی۔ ایک بھیدی کا کہنا ہے کہ کمال نے جو بندوق صدر ضیاالحق کو تحفتاً پیش کی‘ وہ کسی پرانی ولایتی بندوق کو گھسا پٹا کر نئی شکل دے کر بنائی گئی تھی۔ واللہ اعلم۔
بات میں کچھ اور لکھنا چاہتا تھا مگر حسب سابق کہیں اور نکل گیا۔ جانا تھا شاہ پور اور درمیان میں جھال چکیاں آ گیا اور پھر میں دھریمہ نکل آیا۔ دھریمہ سے تھوڑا آگے ایک شہر آتا ہے‘ شاہ پور۔ یہاں ایک قدیمی جیل بھی ہے۔ شاہ پور ایسا مقدر کا ''ماڑا‘‘ شہر ہے کہ مت پوچھیں۔ جب 1893 میں شاہ پور ضلع تھا تب سرگودھا نام کا شہر روئے ارض پر نہیں تھا۔ سرگودھا 1903 میں انگریزوں نے بسایا۔ سرگودھا کو شہرت اور اہمیت تب حاصل ہوئی جب یہاں انگریزوں نے ہوائی اڈہ تعمیر کیا۔ دفاعی اعتبار سے اس جگہ کو ایک فوجی ہوائی اڈے کے لیے بہت مناسب خیال کیا گیا۔ جب سرگودھا تعمیر ہو رہا تھا تب شاہ پور صدر ایک مکمل ضلع تھا۔ 1914ء میں ضلعی دفاتر شاہ پور سے سرگودھا شفٹ ہوئے؛ تاہم ضلع کا نام شاہ پور ہی رہا پھر آہستہ آہستہ سرگودھا پھیلتا گیا اور شاہ پور سکڑتا گیا۔ سرگودھا ایک چھوٹے سے قصبے سے ضلعی اور پھر ڈویژنل ہیڈ کوارٹر بن گیا‘ جس میں سرگودھا، خوشاب، میانوالی اور بھکر کے اضلاع شامل ہیں۔ اسی دوران شاہ پور ضلع کی سطح سے نیچے آتا آتا، آج کل سرگودھا کی سات تحصیلوں میں سے ایک تحصیل ہے۔
بچپن میں جب ہم معاشرتی علوم پڑھتے تھے تو خیرپور سندھ کے تین ڈویژنز میں سے ایک ڈویژن تھا۔ تب سندھ کے تین ڈویژن تھے۔ کراچی، حیدر آباد اور خیر پور۔ ڈویژن بننے سے قبل خیرپور ایک ریاست تھی۔ اسے آپ آزاد اور خود مختار ریاست تو نہیں کہہ سکتے لیکن 1843 تک یہ خود مختار ریاست تھی اور یہاں تالپور میروں کی حکومت تھی۔ پھر انگریزوں کی ریشہ دوانیوں، سازشوں، مکاریوں اور معاہدہ شکنیوں نے اسے کمزور تر کر دیا۔ آخری دھچکا میانی کی جنگ میں لگا‘ جب چارلس نیپئر نے سندھ کے میر ناصر خان تالپور کو شکست دے کر یہاں باقاعدہ قبضہ کر لیا۔ ''مرسوں مرسوں سندھ نہ ڈیسوں‘‘ کا شہرۂ آفاق نعرہ اسی جنگ میں لگایا گیا تھا۔ یہ نعرہ لگانے والے جنرل ہوش محمد عرف ہوشو شیدی تھے‘ لیکن یہ ایک علیحدہ داستان ہے۔ انگریزوں نے تالپوروں سے وفاداری کا حلف لیا اور اس ریاست کو اپنا باجگزار بناتے ہوئے نیم آزاد سی حیثیت دے دی۔ ریاست کا اپنا دربار تھا، کرنسی تھی، سکے تھے، ٹکٹیں جاری ہوتی تھیں، اشٹام چھپتے تھے مگر حکم انگریز بہادر کا چلتا تھا۔ ایسی ریاستوں کو گوروں کے دور میں پرنسلی ریاستیں (Princely States) کہا جاتا تھا۔
1947ء میں پاکستان بننے سے قبل برصغیر میں کل 565 پرنسلی ریاستیں تھیں اور ان ریاستوں کے کئی درجے تھے۔ ان 565 میں سے گیارہ ریاستوں نے پاکستان کے ساتھ الحاق قبول کیا۔ خیرپور ان گیارہ ریاستوں میں سے ایک تھی۔ 1955ء تک پاکستان میں شمولیت کے باوجود اس کی حیثیت ایک علیحدہ انتظامی یونٹ کی تھی۔ اسے عرف عام میں خیرپور میرس کہا جاتا تھا۔ 1955 میں اسے ڈویژن یعنی کمشنری کی حیثیت مل گئی۔ تب سکھر خیر پور ڈویژن کا حصہ تھا۔ پھر ریاست سے ڈویژن بننے والا خیرپور نیچے آ کر سکھر ڈویژن کا ایک ضلع بن گیا۔ اس قسم کے اور بھی کئی شہر ہیں جو زمانے کے ساتھ نیچے سے اوپر جانے کے بجائے اوپر سے نیچے آتے گئے۔ شاہ پور اور خیر پور ترقیٔ معکوس کی دو مثالیں ہیں۔ گوگیرہ اور تلمبہ بھی ایسے ہی شہر ہیں۔
ملتان شہر بہرحال ایسے شہروں میں شامل نہیں‘ لیکن ملتان سے ہوائی سفر کی اندرون ملک دیگر شہروں کے لیے سہولت کا تذکرہ کریں تو حال اس سے بھی برا ہے۔ ملتان کا بین الاقوامی ہوائی اڈہ بڑا خوبصورت ہے اور غیر ملکی یعنی بین الاقوامی پروازوں کے اعتبار سے خاصی بہتر صورتحال کی عکاسی کرتا ہے‘ لیکن اندرونِ ملک پروازوں کے اعتبار سے آپ اسے شاہ پور سمجھ لیں، یا خیر پور کہہ لیں بات ایک سی ہی ہے۔ کبھی ملتان سے رحیم یار خان، ژوب، ڈیرہ اسماعیل خان، کوئٹہ، کراچی، لاہور، اسلام آباد، پشاور اور فیصل آباد کے لیے پروازیں چلا کرتی تھیں۔ مسافر بھی تھے اور جہاز بھی تھے۔ اندرون ملک ہفتے میں تقریباً ساٹھ کے لگ بھگ پروازیں چلتی تھیں۔ پھر آہستہ آہستہ ترقیٔ معکوس شروع ہوئی۔ جہاز اور روٹ سکڑتے گئے اور جن روٹس پر جہاز چلتے بھی تھے وہاں کم ہوتے ہوتے نہ ہونے کے برابر رہ گئے ہیں۔ بزرجمہروں کا کہنا ہے کہ سواریاں کم ہوں تو ہفتہ وار پروازیں کم کر دی جائیں حالانکہ بات یہ ہے کہ جب پروازیں کم کر دی جاتی ہیں تو مسافر کم ہو جاتے ہیں۔ آج کل ملتان سے اسلام آباد کے لیے صرف اتوار والے دن ہفتے میں ایک فلائٹ چلتی ہے۔ بھلا کسی کو کیا پڑی ہے کہ وہ ایک دن کے کام کے سلسلے میں ملتان سے اسلام آباد جائے اور واپس ملتان آنے کے لیے سات دن انتظار کرے۔ اب آپ خود سوچیں‘ ایسی سروس کب چل سکتی ہے؟
مجھے یہ باتیں اس لیے یاد آئیں کہ آج اپنے پرانے سامان کو اِدھر اُدھر کرنے لگا تو ایک لفافہ سامنے آ گیا۔ مجھے یہ لفافہ دیکھتے ہی یاد آ گیا کہ اس کے اندر کیا ہے۔ یہ وائی ایم سی اے مال روڈ لاہور کی بلڈنگ میں ہائی لینڈ ٹریولز والوں کا لفافہ تھا اور اس کے اندر ایک پی آئی اے کی ٹکٹ تھی۔ یہ میری لاہور سے ملتان واپسی کی ٹکٹ تھی جس کا نمبر 214:4101:551:843:4 تھا۔ یہ 31 مئی 1980ء کی پرواز پی کے 655 کی ٹکٹ تھی اور اس پر کرایہ 194 روپے درج تھا۔ ٹکٹ کی جیکٹ پر مبلغ پانچ روپے کی Airport embarkation fees کی ٹکٹ لگی ہوئی تھی۔ مجھے وہ سارا سفر یاد آ گیا۔ تب ملتان سے روزانہ لاہور کے لیے دو فلائٹس چلتی تھیں۔ اسلام آباد کے لیے روزانہ ایک فلائٹ چلتی تھی اور کراچی کے لیے روزانہ دو پروازیں چلتی تھیں۔ ہفتے میں تین دن ژوب، ڈیرہ اسماعیل خان اور پشاور کے لیے اور تین دن ژوب اور کوئٹہ کے لیے پروازیں چلتی تھیں۔ ہفتے میں تین چار دن فیصل آباد پرواز جاتی تھی اور ملتان سے رحیم یار خان بھی ہفتے میں کئی پروازیں تھیں۔ آج کل ملتان سے لاہور کے لیے ہفتے میں کوئی پرواز نہیں جاتی۔ اسلام آباد کے لیے ہفتے میں ایک پرواز ہے اور کراچی کے لیے ہفتے میں تین دن سفر کی سہولت میسر ہے یعنی ہفتے میں کل چار پروازیں۔ 
سنا ہے اب پاکستان سے برطانیہ کے لیے ورجن اٹلانٹک اپنی سروس شروع کر رہی ہے۔ گمان ہے کہ اس کے پیچھے بھی وہی مشیر ہیں جو اس سارے نظام میں مزے اٹھا رہے ہیں؛ تاہم جب یہ عقدہ کھلے گا تب تک یہ مشیر اپنا بریف کیس اٹھا کر رخصت ہو چکے ہوں گے۔ اگر آپ یورپ کے لیے بند ہونے پروازوں کی سازش کو اس تناظر میں دیکھیں تو کافی چیزیں سمجھ میں آتی ہیں‘ لیکن فی الحال تو میں یہ سوچ رہا ہوں کہ ملتان سے چلنے والی اندرون ملک کی یہ ہفتہ وار چار پروازیں کب بند ہوں گی؟ اب یہ تہمت بھی اٹھ جائے تو بہتر ہے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں