نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- طالبان کی نشست کےلیےدرخواست 9رکنی کمیٹی کوبھیج دی گئی،ترجمان اقوام متحدہ
  • بریکنگ :- افغان عبوری حکومت کے وزیرخارجہ کا اجلاس سے خطاب میں ابہام ہے،ترجمان
  • بریکنگ :- کمیٹی کےفیصلےتک گزشتہ حکومت کےنمائندےاسحاق زئی افغانستان کی نمائندگی کریں گے
  • بریکنگ :- سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کو طالبان کی جانب سےخط موصول ہوا،ترجمان اقوام متحدہ
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

شوقِ اقتدار

ہمارے پیارے مولانا فضل الرحمن عشروں تک اقتدار کی غلام گردشوں کی ٹھنڈی ہوائوں کے مزے لوٹنے کے ایک طویل عرصہ بعد پہلی مرتبہ اقتدار سے محروم ہیں‘ بلکہ اقتدار تو رہا ایک طرف اسمبلی میں داخلے کی سہولت سے بھی (بطور رکن اسمبلی) محروم ہیں۔ اب ان کی حالت اس مچھلی جیسی ہے جو پانی سے باہر ہے۔ بھارت کے بارے میں خاندانی اور تاریخی طور پر نرم گوشہ رکھنے والے اور کشمیر کاز سے رتی برابر دلی لگائو اور جذباتی وابستگی سے کئی نوری سال کی دوری پر ہونے کے باوجود وہ عرصہ تک کشمیر کمیٹی کے سربراہ رہے اور اس عہدے کے طفیل وہ وزیر بلکہ کئی وزرا کے برابر سہولیات، پروٹوکول سے لطف اندوز ہوتے رہے۔ اب وہ پرانے مزے اور حالیہ کسمپرسی یاد آتی ہے تو انکے دل سے ہوک اٹھتی ہے اور پھر وہ روزانہ صبح اپنے سر پر اپنا پسندیدہ پیلا رومال لپیٹتے ہوئے ارادہ کرتے ہیں کہ ملکی جمہوری نظام کو بھی جلد ہی اس رومال کی طرح لپیٹ کر رکھ دیں گے۔
استعفوں کی جتنی جلدی مولانا فضل الرحمن کو ہے اتنی پھرتیوں کی مثال روئے ارض پر کسی اور سے دی ہی نہیں جا سکتی۔ اس شتابی میں وہ اپنی مثال آپ ہی ہیں۔ وہ ایک پنجابی کہاوت نہ کھیڈاں گے، نہ کھیڈن دیواں گے (نہ خود کھیلیں گے نہ دوسروں کو کھیلنے دیں گے) کی عملی تصویر ہیں۔ ظاہر ہے ان کا اس صورت میں کوئی ذاتی نقصان ہونے کا امکان صفر سے زیادہ نہیں۔ بھلا ان کے پاس اب اور کھونے کے لیے بچا ہی کیا ہے؟ نہ اقتدار ہے اور نہ اسمبلی کی نشست، بھلے سے ان کے لیے دنیا کی ساری اسمبلیاں ٹوٹ جائیں، کرہ ارض کے سارے ارکان اسمبلی مستعفی ہو جائیں، عالمی سطح پر جمہوریت کا بستر گول ہو جائے ان کو ٹکے کی پروا نہیں۔ اور ہو بھی کیوں؟ جب وہ اسمبلی کے رکن نہیں، کشمیر کمیٹی کے دائمی سربراہ نہیں، اسلام آباد میں سرکاری گھر کے مکین نہیں، جھنڈے والی گاڑی میں سوار نہیں، اپوزیشن لیڈر نہیں، تو پھر دنیا میں جمہوریت کسی بھی بھائو بک رہی ہو ان کی سر دردی نہیں ہے۔ عمران خان نے جہاں زلفی بخاری جیسے غیر منتخب لوگوں کو اپنے صوابدیدی اختیارات کرتے ہوئے اکاموڈیٹ کر رکھا ہے اور رولز میں نرمیاں کرتے ہوئے ایسی ایسی سہولیات فراہم کروائی ہیں جو ان کا استحقاق نہیں تو وہ مولانا فضل الرحمن کو بھی اپنے اقتدار کے بحری بیڑے میں سوار کر لیتے تو کیا حرج تھا؟ کیا مولانا‘ عمران خان کی کابینہ میں موجود پرویز مشرف کے بعض ہیروں سے بھی گئے گزرے ہیں؟ خان صاحب میرٹ کا جنازہ تو نکال ہی چکے ہیں اگر میرٹ کے مردے پر ایک دُرہ اور رسید کر دیا جاتا تو میرٹ نے کون سا احتجاج کرنا تھا؟ ویسے بھی عمران خان 2002ء میں مولانا فضل الرحمن کو وزارت عظمیٰ کے امیدوار کے طور پر اپنا ووٹ تک دے چکے ہیں۔ مولانا تب بھی ویسے ہی تھے جیسے اب ہیں۔
مولانا کو اقتدار سے محرومی کے صدمے نے بے حال کر رکھا ہے اور وہ ایک عرصے تک اقتدار کے مزے لینے کے بعد اب اس سے محروم ہیں اور ان کی دلی کیفیت کا اندازہ لگانا قطعاً مشکل نہیں‘ اور ان کی اس حالت پر بعض اوقات تو میرے دل میں ٹیس سی اٹھتی ہے۔ اللہ مجھے بغض‘ عناد سے محفوظ رکھے لیکن مجھے یہ یقین ہے کہ مولانا سیاست برائے اقتدار کے قائل ہیں اور 'عصا نہ ہو تو کلیمی ہے کار بے بنیاد‘ کی طرح اقتدار نہ ہو تو وہ سیاست کو کار بے بنیاد سمجھتے ہیں اور جمہوریت کو فالتو گردانتے ہیں۔ آج کل وہ ہر وہ چیز دائو پر لگانے کے لیے تیار ہیں جس سے وہ پہلے ہی محروم کر دیئے گئے ہیں۔
روس میں کے جی بی ایک اہلکار نے ایک کامریڈ کسان کا انٹرویو کرتے ہوئے اس سے پوچھا کہ اگر اس کے پاس دو کھیت ہوں تو وہ کیا کرے گا۔ سوشلزم کی سرکاری تعلیمات سے واقف کامریڈ کسان نے جھٹ سے کہا کہ وہ ان دو میں سے ایک کھیت اپنے کسی ایسے کامریڈ ساتھی کو دے دے گا جس کے پاس پہلے سے کوئی کھیت نہیں۔ کے جی بی ایجنٹ نے مزید تفتیش کرتے ہوئے اس سے پوچھا: اگر اس کے پاس دو عدد گائے ہوں تو وہ کیا کرے گا؟ کسان نے بلا توقف جواب دیا کہ وہ ان میں سے ایک گائے اپنے کسی ایسے کامریڈ ساتھی کو دے دے گا جس کے پاس کوئی گائے نہیں ہے۔ پھر اس ایجنٹ نے کامریڈ سے پوچھا کہ اگر تمہارے پاس ایک ہزار روبل ہوں تو تم اس کا کیا کرو گے؟ کامریڈ نے بڑے سکون سے جواب دیا کہ وہ اس میں سے پانچ سو روبل اپنے ہمسائے کامریڈ کو دے دے گا۔ کے جی بی ایجنٹ اس کسان کامریڈ کے جذبے اور سوشلزم کی حکومتی تعلیمات کے عملی اثرات سے بڑا خوش ہوا اور آخر میں اس سے پوچھنے لگا کہ اگر اس کے پاس دو مرغیاں ہوں تو وہ کیا کرے گا؟ کامریڈ نے جواب دیا کہ وہ یہ دونوں مرغیاں اپنے پاس رکھے گا۔ کامریڈ کی ذہنی برین واشنگ سے متاثر تفتیشی ایجنٹ اس کی یہ بات سن کر پہلے حیران ہوا اور پھر پریشان ہو کر اس سے پوچھنے لگا کہ وہ اس سے پہلے اپنی تمام وہ چیزیں جو مرغی سے بہت زیادہ مالیت کی تھیں، اپنے کامریڈ ساتھیوں سے نصف بانٹنے کیلئے تیار تھا لیکن مرغیوں پر آ کر وہ انہیں تقسیم کرنے سے آخر کیوں انکاری ہو گیا ہے۔ کسان نے بڑے سکون سے اسے کہا کہ وہ یہ دو مرغیاں اس لیے کسی سے نہیں بانٹے گا کہ اس کے پاس فی الوقت دو مرغیاں موجود ہیں۔
فی الوقت مولانا فضل الرحمن کے پاس اسمبلی کی نشست اور اقتدار کی گائے موجود نہیں تو وہ اسے قربان کرنے پر تیار ہیں۔ دوسری طرف پیپلز پارٹی کے پاس چونکہ سندھ میں اقتدار کی مرغی موجود ہے اس لیے وہ اس سے دستبردار ہونے کے لیے قطعاً تیار نہیں‘ اور ان کے اسمبلیوں سے مستعفی ہونے میں بھی سندھ حکومت حائل ہے کہ اس کی لیڈرشپ کی ڈکیتیوں اور کرپشن کو سارا تحفظ اسی حکومت کے سبب مل رہا ہے اور سندھ حکومت سے دستبردار ہونے کا مطلب ہے کہ ان کے سر سے صوبائی حکومت کا سائبان ہٹ جائے اور بلاول بھٹو کو اپنے والد اور پھوپھی سمیت یہ صورتحال کسی صورت قبول نہیں ہے۔
اخبار میں تھا کہ پی ڈی ایم کو اس جعلی اسمبلی کے ذریعے سینیٹ کا اگلا الیکشن منظور نہیں۔ سوال صرف یہ ہے کہ پی ڈی ایم کو اس جعلی اسمبلی کے تحت سینیٹ کا الیکشن تو منظور نہیں لیکن وہ گزشتہ اڑھائی سالوں سے اسی جعلی اسمبلی کے ارکان کے طور پر ساری سہولتیں اور مالی مفادات کے مزے اڑا رہے ہیں۔ یہ بالکل وہی صورتحال ہے جو گزشتہ اسمبلی میں پی ٹی آئی والوں کی تھی۔ وہ اس اسمبلی کو مانتے بھی نہیں تھے اور بیٹھے بھی ہوئے تھے۔ مستعفی ہوگئے تو اس طرح کہ سپیکر کی جانب سے کئی ماہ بعد استعفے نامنظور ہوگئے تو واپس اسمبلیوں میں آگئے اور استعفیٰ شدہ دورانیے کے بقایا جات وصول کرتے ہوئے بھی کوئی عار محسوس نہ کی۔ یہی حال اب پی ڈی ایم کے ارکان اسمبلی کا ہے۔ اسمبلی جعلی ہے، انتخابات دھاندلی شدہ ہیں، حکومت غیر قانونی ہے، وزیراعظم سلیکٹڈ ہے اور پی ڈی ایم کے ارکان اسمبلی تنخواہ اور مراعات بڑے مزے سے وصول کررہے ہیں؛ تاہم یہ ساری باتیں اخلاقیات کے زمرے میں آتی ہیں اور اس معاملے میں ہماری سیاست کا ہاتھ گزشتہ کافی عرصے سے کافی تنگ ہے۔
پھر بھی مولانا فضل الرحمن کے مزے ہیں۔ وہ اس اسمبلی سے استعفیٰ دینے پر تیار ہیں جس کے وہ خود رکن ہی نہیں اور صرف اقتدار کی سیڑھی چڑھنے کی خواہش میں سارے نظام کا دھڑن تختہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ موجودہ حکومت سے مخلوق خدا یقیناً تنگ ہے لیکن حکومت کی تبدیلی کے لیے صرف آئینی طریقہ ہی واحد قابل عمل حل ہے۔ جتھوں، جلوسوں، لانگ مارچوں اور گھیرے سے حکومت کی تبدیلی کی رسم چل نکلی تو آئین، جمہوریت اور ملکی استحکام کا جو حال ہو گا اس کا تصور ہی محال ہے۔ لیکن اقتدار کے شوق نے بہت سوں کی آنکھوں پر پٹی باندھ رکھی ہے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں