نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- نیویارک:شاہ محمودقریشی کی پاکستان ہاؤس آمد،نادراڈیسک کاافتتاح کردیا
  • بریکنگ :- تقریب میں شہریارآفریدی،مستقل مندوب منیراکرم،سفیراسدمجیدبھی موجود
  • بریکنگ :- وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی کا نیویارک میں پاکستانی کمیونٹی سے خطاب
  • بریکنگ :- نادراڈیسک کےقیام پر چیئرمین نادرا کےشکرگزارہیں،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- نادراڈیسک کےقیام سے اوورسیز پاکستانیوں کوفائدہ ہوگا،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- وزیراعظم بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کےمسائل سے آگاہ ہیں،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- وزیراعظم چاہتےہیں کہ اوورسیز پاکستانیوں کوتمام سہولتیں فراہم کی جائیں،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- اوورسیز پاکستانیوں نے تاریخی ترسیلات زرملک میں بھیجیں،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- اوورسیز نے29.4بلین ڈالرکی ترسیلات وطن بھیجیں،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- ملک کوجب بھی ضرورت پڑی اووسیز نےبھرپورساتھ دیا،وزیرخارجہ
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

ماسٹر غلام حسین‘ استانی جی اور مکّول کلاں…(2)

دسمبر جنوری کی سردی‘ بھلا برآمدے کے باہر لٹکے ہوئے پرانی بوریوں سے بنائے گئے پردے سے کہاں رکتی تھی؟ لیکن اس زمانے میں نہ تو لاڈ پیار ابھی اس درجے پر پہنچا تھا کہ بچوں کوسردی کی وجہ سے رات پڑھنے نہ بھیجا جاتا اور نہ ہی بچے اتنے نازک ہوتے تھے کہ سردی گرمی کو بہانہ بنا کر پڑھائی سے غچہ مارتے۔ کسی دن ایسا بھی ہوتا کہ استانی جی جب کونے والے چولہے میں آگ جلا کر اپنے اور ماسٹر جی کیلئے چائے بناتیں تو تھوڑا سا دودھ زیادہ ڈال کر ہمارے لیے بھی چائے بناتیں۔ چینی کے پیالوں میں چار چھ گھونٹ چائے ڈال کر ہمیں بھی دی جاتی۔ گرما گرم چائے بدن میں حرارت اور زندگی سی دوڑا دیتی‘ لیکن اس وقت بھی ہمیں احساس ضرور تھا کہ استانی جی کو ٹھیک طرح سے چائے بنانی نہیں آتی۔ممکن ہے ہمارے لیے استانی جی دودھ کی کمی کو زیادہ پانی ڈال کر پورا کرتی ہوں اور یہ بھی عین ممکن ہے کہ شاید ہم اس چائے میں ڈالی گئی دیسی چینی کے ذائقے کے عادی نہیں تھے لیکن اس کے باوجود وہ چائے اس وقت ایسا لطف اور سکون دیتی تھی کہ اس کا تصور بھی محال ہے۔
ماں جی تب گورنمنٹ ووکیشنل سکول اندرون بوہڑ گیٹ میں ہیڈ مسٹریس تھیں۔ سکول چھوڑنے کے بعد ایک دو بار ماسٹر غلام حسین مرحوم نے کہا کہ وہ مجھے ''پشم‘‘ (اون) لے دیں گے تا کہ میں انہیں سویٹر بنوا کر دوں۔ بات آئی گئی ہو گی۔ نہ انہوں نے ہی پشم لے کر دی اور نہ ہی میں نے کبھی یاد رکھا۔ ایک دن باتوں ہی باتوں میں‘ میں نے ابا جی کو کہا کہ ماسٹر غلام حسین نے مجھے ایک دو بار کہا ہے کہ وہ مجھے پشم لے کر دیں گے تا کہ میں انہیں سویٹر بنوا دوں‘ وہ کہتے تو ہیں مگر لے کر نہیں دیتے۔ اب بھلا چھٹی کلاس کے بچے کو اس سے زیادہ کیا سمجھ آتی؟ ابا جی اگلے روز سکوٹر پر بٹھا کر ساتھ بازار لے گئے۔ اندرون حرم گیٹ ایک دکان سے اون خریدی۔ مجھے اب بھی اچھی طرح سے یاد ہے کہ وہ سلیٹی رنگ کی اون تھی۔ ایک روز میں نے گھر میں سلیٹی رنگ کا ذکر کیا تو بچے پوچھنے لگے کہ یہ سلیٹی رنگ کیا ہوتا ہے؟ میں رنگوں کے اردو ناموں سے بچوں کی لا علمی پر بڑا حیران ہوا۔ انہیں بتایا کہ سلیٹی رنگ ''گرے کلر‘‘ ہوتا ہے۔ ماسٹر جی کیلئے سلیٹی رنگ کی اون پسند کی گئی اور ماں جی کو دی گئی کہ اس کی جرسی بنوائی جائے۔ ہفتے دس دن میں جرسی بن گئی تو میں ابا جی کے ساتھ ماسٹر صاحب کے پاس گھر گیا اور انہیں جرسی دی۔ ماسٹر صاحب نے اون کی قیمت دینے کی کوشش کی مگر ابا جی نے نہایت ملائمت سے منع کر دیا۔ میں اب سوچتا ہوں تو دل کو بڑی تسلی سی ہوتی ہے کہ اگر انہیں یہ جرسی نہ بنوا کر دی ہوتی تو دل میں ایک ملال سا رہ جاتا۔ یہ میرے مالک کا خاص کرم ہے کہ اس نے اس سدا کے ملال سے بچا لیا۔
ہم پانچ چھ بچے ماسٹر غلام حسین کے پاس وظیفے کے امتحان کی تیاری کیلئے آتے تھے۔ ماسٹر جی کی ساری توجہ میرے حساب کے مضمون پر تھی اور مجھے حساب سے ایسی دشمنی تھی کہ خدا کی پناہ! بلکہ دشمنی شاید مناسب لفظ نہیں‘ مجھے حساب سے ڈر لگتا تھا۔ بقول ماسٹر اقبال عرف ماسٹر بالی اور ماسٹر غلام حسین کے کہ لگتا ہے حساب اسے شاید کھا جائے گا۔ یہ تیاری ڈیڑھ دو ماہ چلتی رہی؛ تاہم ماسٹر صاحب کی تمام تر کوشش کے باوجود حساب سے تعلقات میں کوئی خاص بہتری پیدا نہ ہوئی۔ کبھی کبھی تو ماسٹر جی جھنجھلا جاتے مگر انہیں پھر بھی امید تھی کہ باقی مضامین میں بہت اچھا ہونے کی بنیاد پر شائد میں وظیفہ لینے میں کامیاب ہو جاؤں لیکن ان کی امید بر نہ آئی۔ میں حساب میں بمشکل پاس ہوا۔ میرے نزدیک یہ بھی ایک کارنامہ تھا کہ میں فیل نہیں ہوا تھا؛ تاہم ماسٹر جی کی محنت اور لگن پر آج بھی حیرت ہوتی ہے کہ کس طرح وہ بے لوث پڑھایا کرتے تھے اور اپنی مالی تنگی کے باوجود کس محبت سے ہمیں بلا معاوضہ ہر رات ڈیڑھ دو گھنٹے تک وظیفے کے امتحان کی تیاری کروایا کرتے تھے۔ ایسے میں استانی جی نے جس طرح ہمارا خیال رکھا وہ ایک ایسی یاد ہے کہ جب آئے‘ استانی جی کے لیے دل سے دعا نکلتی ہے اور حیرانی ہوتی ہے کہ کیسے لوگ تھے اور کس طرح اپنے پیشے سے مخلص اور اپنے شاگردوں سے محبت کرنے والے تھے؟ ایسے استاد تو اب خواب و خیال ہی ہو گئے ہیں۔
مکول کلاں ملتان سے قریب سو کلو میٹر کے لگ بھگ ہے اور اس کیلئے سب سے مختصر اور آسان راستہ ملتان سے تونسہ براستہ ہیڈ محمد والا‘ ٹی پی لنک کینال (تونسہ پنجند لنک کینال) تھا۔ میں اور ڈاکٹر انعام الحق مسعود صبح ملتان سے مکول کلاں کیلئے روانہ ہو گئے۔تونسہ روڈ سے مکول کلاں کی جانب مڑنے لگے تو میری نظر ایک بورڈ پر پڑی اس بورڈ کو پڑھ کر اندازہ ہوا کہ مکول کلاں وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کا حلقۂ انتخاب ہے اور وہ اسی حلقے سے کامیاب ہو کر رکن صوبائی اسمبلی بنے اور اسی رکنیت کے طفیل وزارتِ اعلیٰ کی مسند پر فروکش ہوئے۔ مکول کلاں کی ایک گلی سیدھی نہیں تھی‘ کسی گلی میں سیوریج کا بندوبست نہیں تھا‘ کوئی گلی مکمل پختہ نہیں تھی۔ آٹھ دس جگہوں سے گلی کے درمیان سے گزرتی ہوئی کچی نالیوں سے کود کر پار جانا پڑا۔ ہر جگہ گندگی‘ غلاظت‘ گندا پانی‘ کوڑا کرکٹ اور مٹی روڑا بکھرا ہوا تھا۔ غرض لگتا ہی نہیں تھا کہ یہاں برسوں سے کوئی ترقیاتی کام ہوا ہے۔ یہ گمان بھی نہیں کیا جا سکتا تھا کہ اس حلقے سے منتخب ہونے والارکن صوبائی اسمبلی اب وزیراعلیٰ پنجاب ہے اور اس کے حلقے کا اتنا برا حال ہے۔
استانی جی مکول کلاں میں نہیں تھیں۔ ہم ان کو ملنے کے لیے منگروٹھہ پہنچ گئے۔ استانی جی باہر آکر صحن میں بچھی چارپائی پر بیٹھ گئیں اور میں نے ان کے پاؤں دبانا شروع کر دیے۔ استانی جی نے بہتیرا منع کیا مگر میں نے کہا کہ میں آپ کا بیٹا ہوں اور آپ مجھے اس اجر سے محروم نہ کریں۔ ماسٹر جی کی باتیں‘ ان کے گھر آ کر پڑھنے کی یادیں۔ استانی جی نے بتایا کہ ملتان سے واپس مکول کلاں آنے کے بعد وہ صرف ایک بار ماسٹر صاحب کی پنشن کیلئے دوبارہ تصدیق کی غرض سے ملتان گئی تھیں۔ استانی جی اپنی زندگی سے انتہائی مطمئن اور ماسٹر جی کی تھوڑی سی پنشن پر خوش تھیں۔ کہنے لگیں:ماسٹر جی کی مرحومہ بیوی (پہلی بیوی) سے بیٹا ماسٹر رفیق چند سال ہوئے وفات پا گیا ہے‘ اس نے ان کا بڑا خیال رکھا اور سگے بیٹوں سے بڑھ کر عزت دی تھی۔ ان کے اپنے بچے بھی بڑے فرمانبردار اور خیال رکھنے والے ہیں۔ میں نے اور ڈاکٹر انعام الحق مسعود نے استانی جی کی خدمت میں معمولی سا محبت اور عقیدت کا اظہار پیش کیا تو استانی جی نے سختی سے منع کر دیا‘ اور یہ کوئی دکھاوا نہیں تھا۔ متوکل اور مطمئن استانی جی کو بصد مشکل اور واسطے دے کر اس بات پر راضی کیا کہ وہ ہمیں اپنا بیٹا سمجھ کر خدمت کا موقع دے دیں۔ استانی جی کہنے لگیں :آج قریب چالیس پینتالیس سال بعد ماسٹر غلام حسین کا کوئی شاگرد ان کو یاد کرتا ہوا مکول کلاں آیا ہے۔ یہ کہتے ہوئے ان کی آنکھیں بھر آئیں۔ میں نے کہا: استانی جی! یہ سردیوں میں ایک چھوٹے سے بچے کو دی گئی چائے کے ایک پیالے کا بھی بدل نہیں‘ ہم نے تو آپ سے ایسی محبت پائی تھی جس کا قرض اتار ہی نہیں سکتے۔ نہ آپ کا اور نہ ماسٹر جی کا۔ جب ہم منگروٹھہ سے ملتان کیلئے روانہ ہوئے تو مجھے ایسا لگا کہ جنت کی کھڑکی سے ماسٹر غلام حسین نے نیچے ہمیں دیکھا‘ مسکرائے اور اپنی مخصوص بے ضرر سی گالی دی۔ اس تصوراتی مسکراہٹ نے دل ایسا شاد کیا کہ اب بھی سوچوں تو دل خوشی سے جھوم اٹھتا ہے۔ (ختم)

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں