نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- سکیورٹی کامسئلہ نہیں،تمام ادارےالرٹ ہیں،شیخ رشید
  • بریکنگ :- ساڑھے 4 بجےتمام صورتحال سےآگاہ کروں گا،شیخ رشید
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

پہلے تولو‘ پھر بولو

آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات کا نتیجہ میری توقعات کے عین مطابق تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ میں کشمیر کی سیاست کے بارے میں زیادہ نہیں جانتا۔ بلکہ زیادہ کا لفظ بھی فالتو ہے۔ میں کشمیر کی انتخابی سیاست کے بارے کچھ نہیں جانتا۔ بیرسٹر سلطان محمود‘ سردار عتیق احمدخان اور مشتاق منہاس کے بارے میں جان لینا اور ا ب کشمیر کی سیاست میں نئی انٹری سردار تنویر الیاس کے بارے میں تھوڑی بہت معلومات رکھنے سے مراد بہرحال کشمیر کی سیاست کے متعلق جاننا ہرگز نہیں ہے۔ اس خطے کے حلقے‘ ذات برادریوں کا کردار اور سیاسی جوڑ توڑ کے بارے میں یہ عاجز بالکل لاعلم ہے اس لئے کبھی بھی آزاد کشمیر کی سیاست کے متعلق کچھ نہیں کہا کہ یہ میرا میدان ہی نہیں۔ لیکن ''کامن سینس‘‘ ایک اور چیز ہے۔
کامن سینس یہ بتاتی ہے کہ اب ایک عرصے سے‘ جب سے پاکستانی سیاسی پارٹیوں نے آزاد جموں و کشمیر میں اپنی اپنی برانچیں کھولی ہیں کشمیر کی سیاست نیا رخ اختیار کر گئی ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ آزاد کشمیر کی سیاست میں پاکستان کی سیاسی پارٹیوں کا عمل دخل آج کے مقابلے میں تو سمجھیں گویا نہ ہونے کے برابر تھا۔ ہمدردیاں‘ بیانات اور اخلاقی امداد کی حد تک ایک دوسرے سے تعاون ہی تب کشمیر کے الیکشن میں پاکستانی اورکشمیر کی سیاسی پارٹیوں میں قدرِ مشترک تھی؛ تاہم یہ بات طے تھی کہ کشمیر میں جو بھی برسر اقتدار آئے گا وہ اسلام آباد سے تعلقات خوشگوار رکھے گا۔ یہ طریقہ کار بخیر و خوبی چلتا رہا۔ سردار عبدالقیوم‘ سردار سکندر حیات اور سردار عتیق احمد وغیرہ خود اور ان کی حکومتیں اس انجمن امداد باہمی ٹائپ چلتے ہوئے نظام کی گواہ تھیں۔حکومت خواہ مسلم کانفرنس کی ہو‘ مخلوط ہو یا کسی اور پارٹی کی۔ مظفر آباد اور اسلام آباد کے تعلقات نہایت ہی خوش اسلوبی سے چلتے رہتے تھے اور باہمی تعاون جاری رہتا تھا۔ پھر یوں ہوا کہ پاکستانی سیاسی پارٹیاں آہستہ آہستہ آزاد کشمیر کی سیاست میں دخیل ہوتے ہوتے اعرابی کے اونٹ کی مانند کشمیری سیاست کے خیمے میں گھس گئیں اور پھر اس پر قابض ہو گئیں۔ نتیجہ یہ نکلا ہے کہ کبھی کی آزاد کشمیر کی سب سے بڑی اور مقبول پارٹی مسلم کانفرنس کو حالیہ الیکشن میں صرف ایک سیٹ ملی ہے۔ وہ بھی شاید سردار عتیق احمد کے خاندانی سیاسی قد و قامت کے طفیل مل گئی ہے وگرنہ ان کی بھی صاف چھٹی ہو گئی ہوتی۔
میں نے پہلے بتایا ہے کہ مجھے حالانکہ آزاد کشمیر کی سیاست‘ جوڑ توڑ‘ حلقہ وائز امیدوار اور برادریوں کے کردار کے بارے میں بھی کچھ علم نہیں اور حالیہ انتخابات میں ٹکٹوں کی تقسیم میں ہونے والی اونچ نیچ اور الیکٹ ایبلز کی بدنامِ زمانہ لوٹا سازی کے بارے میں بھی سنی سنائی سے زیادہ معلومات نہ تھیں‘ یعنی معلومات کا ذریعہ ایسا نہ تھا کہ اس پر اعتبار کیا جائے اور اس کی بنیاد پر کوئی اندازہ لگاتے ہوئے تبصرہ کیا جاتا؛ تاہم گزشتہ ایک عرصے سے‘ جب سے آزاد کشمیر کی مقامی سیاسی جماعتوں کی جگہ ہماری پاکستانی سیاسی پارٹیوں نے سنبھالی ہے ایک بات طے ہو چکی ہے کہ اب آزاد کشمیر میں وہی پارٹی کامیاب ہوگی جو اسلام آباد میں بھی براجمان ہوگی۔
(حالیہ الیکشن کو چھوڑ کر) گزشتہ سے پیوستہ الیکشن میں اسلام آباد میں زرداری صاحب کی پیپلز پارٹی مسندِ اقتدار پر تھی تو مظفر آباد نے فیصلہ پیپلز پارٹی کے حق میں کر دیا۔ گزشتہ سے پیوستہ انتخابات میں اسلام آباد مسلم لیگ ن کی عملداری میں تھا لہٰذا مظفر آباد نے فیصلہ مسلم لیگ (ن) کے حق میں صادر فرما دیا۔ اب اسی تاریخی حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے یہ توقع لگائی کہ اس بار مظفر آباد میں تحریک انصاف کامیاب ہوگی تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی صورتحال کو نہیں بلکہ تاریخی حقائق اور آزاد کشمیر کی سیاسی مجبوریوں کو مدِنظر رکھ کرلگایا جانے والا اندازہ تھا۔ یہی کچھ گلگت بلتستان میں ہو رہا ہے۔ وہاں کے عوام اور الیکٹ ایبلز بھی آزاد جموں و کشمیر کی طرح خاصے سمجھدار ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ سارے فنڈز اسلام آباد سے آتے ہیں لہٰذا انہوں نے طے کر لیا ہے کہ اسلام آباد میں بیٹھے ہوؤں سے تعلقات اور معاملات ٹھیک رکھنے ہیں اور فنڈز لینے ہیں۔ سو وہ اسی پارٹی کو کامیاب کرتے ہیں جو اسلام آباد میں اقتدار کے مزے لے رہی ہو۔
گلگت بلتستان کے گزشتہ تین انتخابات کا جائزہ لیں تو ساری صورتحال سمجھ میں آ جاتی ہے۔ بالکل وہی نتائج ہیں جو آزاد کشمیر کے ہیں۔ 2009ء کے گلگت بلتستان الیکشن میں پیپلز پارٹی اسلام آباد میں بیٹھی تھی۔ گلگت بلتستان میں اسے 16سیٹیں ملیں۔ اگلے انتخابات میں یعنی 2015ء میں مسلم لیگ (ن) اسلام آباد پر حکومت کر رہی تھی تو اسے 24 (براہ راست منتخب) سیٹوں میں سے 15 سیٹیں مل گئیں اور 2020ء کے انتخابات میں تحریک انصاف نے وہاں کی کل 33سیٹوں میں سے 22 سیٹیں حاصل کیں جبکہ سابقہ حکمران پیپلز پارٹی کو صرف 5 سیٹیں ملیں‘ لہٰذا گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے انتخابی نتائج کیلئے وہاں کی سیاست کے بارے میں جاننا اتنا ضروری نہیں۔ بس آپ کو یہ پتا ہونا چاہئے کہ اسلام آباد میں کون بیٹھا ہے اور اس بات کا علم ہونے کیلئے سیاست کو جاننا قطعاً ضروری نہیں۔حالیہ الیکشن میں وہی ہوا جس کی اس عاجز کو توقع تھی؛ تاہم سچ تو یہ ہے کہ 11 سیٹوں کے ساتھ پیپلز پارٹی کی کارکردگی کم از کم میری توقع سے بہتر رہی ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ کشمیر کی سیاست میں سب سے پرانی سیاسی پارٹی ہے۔ لیکن صورتحال یہ ہے کہ حسب ِعادت دھاندلی کا شور مچ رہا ہے حالانکہ وہاں کے سارے الیکٹ ایبلز اور ووٹر اس حقیقت کو سامنے رکھ کر فیصلہ کرتے ہیں کہ آزاد جموں و کشمیر کا چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس مظفر آباد سی زیادہ وقت اپنے کشمیر ہاؤس اسلام آباد والے دفتر میں گزارتے ہیں۔
حالیہ کشمیر الیکشن سے جو نئی اور افسوسناک بات سامنے آئی ہے وہ یہ ہے کہ پاکستانی سیاست کے ساتھ ساتھ کشمیر کی سیاست بھی الزام تراشی‘ بدگوئی اور بد زبانی کے ریلے میں بہہ گئی ہے اور اخلاقیات کا وہاں بھی اسی طرح دیوالیہ نکل گیا جس طرح ہمارے ہاں نکلا ہے۔ کم از کم کشمیر کی حد تک وہاں کی سیاست اور انتخابات کشمیر کاز کو مرکزہ بنا کر لڑے جاتے تھے مگر اس بار کشمیر کاز کو بنیاد بنا کر صرف ایک دوسرے کے لتے لئے گئے۔کشمیر سے محبت میں کسی عملی پیشرفت کا ذکر کرنے کے بجائے سارا زور اس بات پر رہا کہ کون کس کو زیادہ برا بھلا کہتا ہے۔ کشمیر کی آزادی کو بہانہ بنا کر دشنام طرازی کی گئی‘ الزامات لگائے گئے‘ بدکلامی کی گئی اور طوفانِ بدتمیزی برپا کیا گیا۔ مقبوضہ کشمیر کا مقدمہ بھارت کے خلاف نہیں بلکہ ایک دوسرے کے خلاف لڑا گیا۔ اور ریکارڈ توڑ الزامات لگا کر ہر پارٹی نے اپنا فرض ادا کیا۔
ایک صاحب نے پوچھا کہ اس الیکشن کے دوران عمران خان صاحب کشمیر میں پاکستان کے ساتھ رہنے یا آزاد ملک کے طور پر اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے بارے میں جس ریفرنڈم کی بات کی ہے اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ تو عرض ہے اگر خان صاحب کے اس بیان کو کشمیر کے لیے آئندہ کا لائحہ عمل بنایا جائے تو گویا ہم اقوام متحدہ میں اپنے تہتر سالہ موقف سے از خود انحراف کر رہے ہیں۔ بات صرف اتنی ہے کہ خان صاحب کو صرف بولنے کا شوق ہے۔ بلا سوچے سمجھے بولنے کا شوق۔ وہ جو ہم بچپن میں پڑھا کرتے تھے کہ ''پہلے تولو پھر بولو‘‘ وہ شاید اس انگریزی میڈیم سکول میں نہیں پڑھایا جاتا جہاں عمران خان پڑھا کرتے تھے۔ خان صاحب کسی بھی مقدمے کو برباد کرنے کی پیدائشی صلاحیتوں سے مالا مال ہیں اور وہ اپنی اس صلاحیت کا بے دھڑک استعمال بھی کرتے ہیں۔ ویسے انہیں خود بھی علم نہیں کہ ان کے اس جملے کے تباہ کن اثرات کس حد تک دور جا سکتے ہیں۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں