نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- کیادنیاافغانستان اورخطےکوچھوڑنےکی غلطی دہرائے گی؟معید یوسف
  • بریکنگ :- پاکستان نےہمیشہ افغان مذاکرات اورسیاسی تصفیے کی حمایت کی،معید یوسف
  • بریکنگ :- پاکستان افغانستان میں جنگ کی وجہ سے بری طرح متاثر ہوا، معید یوسف
  • بریکنگ :- ہمیں 80 ہزارسےزائدجانی نقصان اٹھانا پڑا،معید یوسف
  • بریکنگ :- ہمیں 150 بلین ڈالر سےزائد کا معاشی نقصان اٹھانا پڑا،معید یوسف
  • بریکنگ :- بھارت نے پاکستان کے خلاف جعلی بیانیہ بنایا، معید یوسف
  • بریکنگ :- بھارت نےافغان سرزمین کو پاکستان کیخلاف دہشتگردی کیلئےاستعمال کیا،معید یوسف
  • بریکنگ :- افغانستان کوانسانی بحران سےبچاناعالمی برادری کی ذمہ داری ہے،معید یوسف
  • بریکنگ :- عالمی برادری کو اپنی کوششوں کو مربوط کرنا چاہیئے،معید یوسف
  • بریکنگ :- عالمی برادری کو اتفاق رائے کےساتھ آگےبڑھناچاہیئے،معید یوسف
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

کتاب، لاہور، جہلم اور اِقرا لائبریری

افضال احمد سے شام سات بجے کا وقت طے تھا۔ موبائل پر وقت دیکھا اور چلنے کے لیے کھڑا ہو گیا۔ میرے یکدم سے کھڑا ہونے پر ندیم نثار نے حیرانی سے پوچھا کہ کہاں اٹھ کر جا رہے ہیں؟ یہ اچانک کہاں جانے کا ارادہ بن گیا ہے؟ میں نے کہا: سنگ میل پبلشرز والے افضال احمد سے سات بچے کا وعدہ ہے، ادھر جا ر ہا ہوں، ندیم نثار نے حیرانی سے پوچھا: آپ ابھی تک کتابوں کی دکانوں پر جاتے ہیں؟ میں نے کہا: جاتا ہوں، کیوں؟ نہیں جانا چاہیے؟ وہ ہنس کر کہنے لگے: میں یہ کب کہہ رہا ہوں؟ پھر انہوں نے اپنے سامنے پڑی ہوئی کمپیوٹر سکرین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: بھلا اس کے ہوتے ہوئے اب کتابوں کی دکانوں پر جانے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ سب کچھ تو آن لائن میسر ہے۔ میں نے کہا: ندیم صاحب! کیا میں اس سکرین کے صفحات کو اپنے انگوٹھے کو تھوک لگا کر پلٹ سکتا ہوں؟ میں آپ کی اس سکرین میں گھس کر شیلفوں میں لگی کتابوں کے سامنے چہل قدمی کر سکتا ہوں؟بُک شوروم میں کتابوں کے شیلفوں کے درمیان میں جس طرح گھنٹہ بھر گھوم سکتا ہوں، کیا اس سکرین کے سامنے یہ حرکت کر سکتا ہوں؟ کتابوں کو ویسے چکھ سکتا ہوں جیسے وہاں قطار اندر قطار سجی ہوئی کتابوں کو اٹھاتا ہوں، دیکھتا ہوں‘ صفحات پلٹتا ہوں اور پھر رکھ دیتا ہوں۔ کیا اس کمپیوٹر سے کتاب کی خوشبو آتی ہے؟ کیا اس کتاب میں بک مارک والا باریک سنہرا ربن صفحات کے درمیان پھنسایا جا سکتا ہے؟ میں نے مسکراتے ہوئے ندیم نثار سے ہاتھ ملایا اور روانہ ہو گیا۔
شوروم پر افضال موجود تھا، تھوڑی دیر میں آغا نثار آ گیا اور غلام قادر بھی۔ گرما گرم کافی، خوش مزاج دوست، خوش گفتاری اور من پسند جگہ۔ بھلا اور کیا چاہیے تھا؟ اس دوران قادر مسلسل شوروم میں گھومتا رہا اور اپنی پسند کی کتابیں ایک طرف رکھتا رہا۔ میں نے تھوڑی دیر گھوم پھر کر من کو شانت کیا۔ تین کتابیں اٹھائیں۔ ان میں سے ایک مستنصر حسین تارڑ کی کتاب تھی۔ تارڑ صاحب کو اللہ لمبی زندگی عطا کرے‘ ایک عمر سے ان کی تحریریں اور وہ خود ہماری کمزوری ہیں۔ ان کی تازہ کتابیں پڑھ کر حیرت کے ساتھ سوچتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیا تخلیقی صلاحیت بخشی ہے کہ بیاسی سال کی عمر میں بھی ان کا تخلیقی جوہر پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا ہے۔ لڑکپن میں پڑھی جانے والی کتابوں میں جہاں نکلے تیری تلاش میں‘ خانہ بدوش، اندلس میں اجنبی اور پیار کا پہلا شہر نے ایک عرصے تک دل و دماغ کو اپنے سحر میں جکڑے رکھا وہیں بہائو، راکھ اور خس و خاشاک زمانے جیسی کتابوں نے ایک اور دنیا کی سیر کروائی۔ گزشتہ عرصے میں اور سندھ بہتا رہا اور لاہور آوارگی نے حیران کیا کہ ان کی تحریر اس عمر میں بھی یکسانیت سے کوسوں دور ہے اور یہ کتابیں ہمیں ایک نئے حیرت کدے میں لے جاتی ہیں۔ مستنصر حسین تارڑ جیسے لوگ اب غنیمت ہیں‘ دل کرتا ہے کہ کسی روز ان کے پاس جا کر عرض کریں کہ حضور! ملتان میں آپ سے محبت کرنے والے اور چاہنے والے آپ کو سننا اور اس سے بڑھ کر دیکھنا چاہتے ہیں۔ کبھی ان چاہنے والوں کی عید کروا دیں۔ مجھے علم ہے وہ جواباً کہیں گے کہ اب کہیں آنا جانا مشکل ہے۔ جواب تو میرے پاس بھی ہے کہ جناب! کیا ملتان کیوبا سے بھی دور ہے؟ مگر تارڑ صاحب کے جلال سے خوف آتا ہے۔
اگلی صبح میں اور قادر جہلم کے لیے روانہ ہو گئے۔ قادر سے کیے گئے وعدے کی تکمیل تک پہنچنے میں کئی ماہ لگ گئے۔ میں نے کئی سال بعد گوجرانوالہ سے آگے جی ٹی روڈ پر سفر کیا۔ الحمدللہ جی ٹی روڈ اسی طرح تھی، کئی جگہ تعمیر جاری تھی، میں نے قادر کو کہا: میرا خیال ہے کہ جی ٹی روڈ پہلی اور آخری بار صرف تبھی مکمل حالت میں رہی ہے جب شیر شاہ سوری نے اسے1540 کے لگ بھگ تعمیر کرایا تھا‘ اس کے بعد تو یہ ہمیشہ حالت مرمت میں ہی دکھائی دیتی رہی ہے۔ قادر پچیس تیس سال بعد جی ٹی روڈ پر سفر کر رہا تھا۔ لالہ موسیٰ میں میاں جی کے المشہور دال والے ہوٹل سے گزرتے ہوئے میں نے قادر سے کہا کہ کبھی اس ہوٹل پر رکنا اور دال روٹی کھانا ایک عیاشی ہوتی تھی۔ پھر یہ چھوٹا سا ڈھابہ نما ہوٹل عالیشان ہوٹل میں بدل گیا۔ دیگچے میں پکنے والی دال جب کمرشل ہوئی تو مقدار بڑھ گئی‘ معیار گھٹ گیا۔ برسوں پہلے آخری بار ایئرکنڈیشنڈ میں بیٹھ کر دال کھاتے ہوئے اس کا پرانے مکھیوں والے ہوٹل سے موازنہ کیا تو ماحول کی بہتری سے بڑھ کر دال کے ذائقے کی تنزلی کا احساس ہوا۔ پھر ہم نے ہوٹل کو الوداع کہہ دیا۔
جہلم میں ہماری منزل بک کارنر تھی۔ شاہد حمید کا ادارہ۔ خوبصورت کتب کی اشاعت کے حوالے سے ایک معتبر نام اور کئی آئوٹ آف پرنٹ ادبی کتابوں کو دوبارہ شائع کرکے جی خوش کر دینے والا ادارہ ۔ اس کے بانی شاہد حمید مرحوم سے میری ملاقات ان کی زندگی میں نہ ہو سکی۔ میرا یہ یقین ہے کہ لاکھ کوشش کر لیں کوئی نہ کوئی اڑچن درمیان میں ایسی آ جاتی ہے کہ آپ کی خواہش کے باوجود ملاقات نہیں ہو پاتی۔ یہ تبھی ہوتی ہے جب اوپر والا اس کا اذن دیتا ہے۔ میرے اور شاہد حمید کے مابین ایک چیز مشترک تھی اور وہ آنہ لائبریری تھی۔ پچاس اور ساٹھ کی دہائی کے دوران پیدا ہونے والی جنریشن نے جتنی تہذیبی تبدیلیاں دیکھی ہیں شاید ہی کسی نے دیکھی ہوں۔ بے شمار چیزیں ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے ایسی غائب ہوئیں کہ لگتا ہے کبھی تھیں ہی نہیں۔ آنہ لائبریری انہی غائب ہو جانے والی چیزوں میں سے ایک تھی۔ آنہ لائبریری ہماری لڑکپن کی محبت تھی اور شاہد حمید اس محبت کا ایک کردار۔ آنہ لائبریری تو ختم ہو گئی مگر شاہد حمید کی محبت نے اس خاتمے سے ایک نیا جنم لیا اور آنہ لائبریری کے مالک سے ایک پبلشر کا ظہور ہوا۔ ہم نے تو آنہ لائبریری کی وفات حسرت آیات پر اس کا سوگ منایا، حسرت کی، ملال کیا، یاد کیا اور محبت کا ماتم کرتے ہوئے کالم لکھے‘ مگر شاہد حمید نے اپنی اس محبت کو ملال کے بجائے کمال بنایا، کتاب سے اپنی محبت کو جہلم کے چھوٹے سے محلے سے نکال کر پوری دنیائے ادب میں پھیلا دیا۔ میں اور قادر وہاں صرف کتابوں کے لمس کے لیے جا رہے تھے۔
میری چھوٹی سی لائبریری میں بلونت سنگھ کی ایک کتاب 'چک پیراں کا جسا‘ کا ایک پرانا اور متروک سا ایڈیشن ہے۔ انارکلی کے باہر فٹ پاتھ سے خریدی ہوئی یہ کتاب سمجھیں خاصی نایاب تھی۔ کئی دوستوں نے مانگ کر پڑھی اور حیرت کی بات ہے کہ واپس بھی کی۔ ایک دن کتاب نگر پر اس کا نیا ایڈیشن دیکھا۔ شاندار گیٹ اپ میں اس کتاب کو دیکھ کر دل کیا کہ خرید لوں اور جا کر پرانے ایڈیشن کے پہلو میں سجا دوں مگر پھر ارادہ ترک کر دیا کہ کہیں پرانا ایڈیشن اس بے وفائی پر آزردہ نہ ہو جائے۔ یہی حال رسول حمزہ توف کی بے مثال کتاب میرا داغستان کا ہے۔ مگر نجانے کیا سوچ کر میں رسول حمزہ توف کی یہ کتاب گھر لے آیا اور پرانے نسخے کے ساتھ سجا دی۔ یہ کتاب ہے ہی ایسی۔
بُک شوروم میں گھومتے ہوئے یادوں کے ایک جھونکے نے آنہ لائبریری کی کھڑکی سے لپک کر دل کے تاروں کو چھیڑا اور دل نے قادر پور راں میں ڈاکٹر ارشد کی قائم کردہ اقرا لائبریری کو یاد کیا جو اس حبس میں ٹھنڈی ہوا کا جھونکا ہے۔ میری کتاب دوست حضرات سے، مصنفین سے اور علم تقسیم کرنے والوں سے گزارش ہے کہ وہ اپنی تصنیف کردہ کتب اور پڑھ کر بیکار میں رکھی ہوئی کتابیں اقرا لائبریری قادر پور راں ضلع ملتان کو بھجوا دیں۔ ہاں ایک بات کا خیال رہے، میں نے بیکار میں پڑی ہوئی کتابوں کا کہا ہے‘ بیکار کتابوں کا نہیں۔ جن کتابوں کو وہ ردی میں فروخت کرنے کا ارادہ کر چکے ہیں بہتر ہو گا کہ وہ ان کتابوں کو ردی میں ہی بیچیں کسی لائبریری کو نہ بھیجیں۔ فالتو کتاب کی جگہ ردی فروش کی دکان جبکہ اچھی کتاب کی جگہ لائبریری ہے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں