نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- پارلیمنٹ میں این آراووالےشورمچاتےہیں،بولنےنہیں دیتے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- ریاست مدینہ پرمضمون لکھاتومخالفین نےکہادین کےپیچھےچھپ رہاہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- مہنگائی صرف پاکستان کامسئلہ نہیں ہے،وزیراعظم عمران خان
  • بریکنگ :- ہمیں 20 ارب ڈالرکاکرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ملا،وزیراعظم
  • بریکنگ :- کوروناکےدوران عوام پر 8 ارب ڈالرخرچ کیے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- کوروناسےساری دنیامتاثرہوئی،وزیراعظم عمران خان
  • بریکنگ :- پٹرول کی قیمت شایدمزیدبڑھ جائے،وزیراعظم عمران خان
  • بریکنگ :- مہنگائی کے مسئلے سے بہت جلد نکل جائیں گے ،وزیراعظم
  • بریکنگ :- پہلی بارکریمنل جسٹس سسٹم میں اصلاحات لارہے ہیں،وزیراعظم
  • بریکنگ :- کوشش ہوتی ہےکہ کمزورطبقےکےساتھ کھڑا ہوں، وزیراعظم
  • بریکنگ :- ایف بی آر کےڈھائی ہزارارب روپےکےکیسزعدالتوں میں زیرالتواہیں،وزیراعظم
  • بریکنگ :- معیشت کو دستاویزی شکل دینے کی کوشش کررہےہیں،وزیراعظم
  • بریکنگ :- 22کروڑلوگوں کا 20لاکھ لوگ ٹیکس دےکربوجھ نہیں اٹھاسکتے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- ٹیکس نہیں دیں گےتوملک چلانےکیلئےپیسہ کہاں سے آئےگا،وزیراعظم
  • بریکنگ :- ایف بی آر میں اصلاحات کی کوشش کررہےہیں،وزیراعظم
  • بریکنگ :- جولوگ ٹیکس نہیں دیتےان کےپیچھے جائیں گے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- ملک میں پہلی بارنچلےطبقےکواسکالرشپس دیئےجارہےہیں ،وزیراعظم
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

آئو دعا کریں!

عام طور پر اگر لکھنے والے کے اندازے درست ثابت ہوں تو اسے بہت خوشی ہوتی ہے اور ظاہر ہے ہونی بھی چاہیے مگر بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ بندے کو اپنے اندازے اور شبہات کے درست یا سچے ثابت ہونے پر خوشی کے بجائے افسوس ہوتا ہے اور آج میرا بھی یہی حال ہے۔ اس عاجز نے اپنے چوبیس اکتوبر 2021ء کے کالم میں گندم کی کاشت کے مداخل کی قیمتوں میں اضافے کا جو خدشہ ظاہر کیا تھا وہ سو فیصد درست ثابت ہوا۔ اس کالم کے محض چار دن بعد مورخہ اٹھائیس اکتوبر کو اسی سلسلے کا دوسرا کالم جس کا عنوان 'آئندہ گندم کی فصل، امکانات اور عرضداشت‘ لکھا جس میں‘ میں نے بڑے صاف الفاظ میں لکھا تھا کہ کھاد کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ اور خصوصاً گندم کی کاشت کے وقت سب سے ضروری کھاد ڈی اے پی کی قیمت‘ جو چند ماہ قبل تک پانچ ہزار روپے فی بوری تھی گندم کی کاشت شروع ہونے تک دس ہزار کے قریب پہنچ جائے گی اور مزید یہ بھی عرض کیا تھا کہ اس کی شدید شارٹیج بھی پیدا ہوگی‘ لیکن حکومت نے اس سلسلے میں مافیا کو خالی خولی دھمکیاں دینے کے علاوہ اور کچھ بھی نہ کیا۔ سو وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ ڈی اے پی کی قیمت دس ہزار روپے فی بوری تک بھی پہنچی اور اس کی شدید قلت بھی پیدا ہوئی۔ ان سب معاملات کا براہ راست اثر گندم کی ملکی پیداوار پر پڑے گا‘ لیکن حکومت کے ہاں ٹھنڈ پروگرام چل رہا ہے۔ خان صاحب کو نوٹس لینے، مافیا سے نمٹنے کے اعلان کرنے اور تقریریں فرمانے کے علاوہ اور کوئی دوسرا کام سرے سے آتا ہی نہیں۔
یہ کوئی ایسا خفیہ یا پیچیدہ معاملہ تو تھا نہیں کہ سمجھ نہ آتا۔ بالکل سامنے کا معاملہ تھا اور میرے جیسے نان ٹیکنیکل بندے کو بھی نظر آ رہا تھا کہ گندم کی کاشت کے سیزن پر ڈی اے پی کی کھپت کُل ملکی کھپت کا ستر فیصد ہے اور ڈی اے پی کھاد کی جتنی ضرورت گندم کی کاشت کے وقت ہوتی ہے اتنی نہ تو ملکی پیداوار ہے اور نہ ہی امسال اتنی ڈی اے پی درآمد کی گئی ہے جو اس ضرورت کو پورا کر سکے لہٰذا ڈی اے پی کی اس کمی کے باعث ہماری قومی عادت کے عین مطابق یار لوگ اس کی بلیک مارکیٹنگ شروع کر دیں گے۔ شارٹیج جتنی زیادہ ہو گی کھاد کی بلیک میں فروخت اتنی زیادہ ہوگی اور اس کا ریٹ بھی اتنا ہی اوپر جائے گا۔ میرا اندازہ تھا کہ ڈی اے پی کی فی بوری قیمت دس ہزار کے لگ بھگ ہو جائے گی اور بالکل وہی ہوا۔ ڈی اے پی کی بوری دس ہزار روپے کی ریکارڈ قیمت پر پہنچ چکی ہے اور دستیاب بھی نہیں ہے‘ یعنی دوطرفہ مشکل ہے۔
ڈی اے پی یعنی ڈائی امونیم فاسفیٹ زمین میں فاسفورس کی کمی پوری کرنے کیلئے سب سے موثر کھاد ہے اور ہماری زمین میں فاسفیٹ کی شدید کمی کو پورا کرنے کیلئے یہ کھاد گندم کی کاشت کے وقت انتہائی اہم اور ضروری جزو ہے۔ دوسری اہم کھاد یوریا ہے۔ یوریا کی ملکی پیداوار تو ہمارے استعمال کیلئے کافی ہے اور اس کے میری یادداشت کے مطابق ملک میں نو عدد کارخانے ہیں۔ ہری پور، میانوالی، شیخوپورہ، ملتان، میرپور ماتھیلو، ڈھرکی اور بن قاسم میں ایک ایک جبکہ گوٹھ ماچھی کے نزدیک دو عدد کارخانے ہیں؛ تاہم ملک میں ڈی اے پی کھاد کا محض ایک کارخانہ بن قاسم میں ہے اور وہ ملکی ضرورت سے کہیں کم پیداواری صلاحیت کا حامل ہے۔ شنید ہے کہ ایک مزید کارخانہ لگنے جا رہا ہے مگر اس کی متوقع پیداوار میں ابھی کم از کم تین چار سال کا عرصہ لگے گا۔ اس دوران ڈی اے پی کی فراہمی کا زیادہ تر دارومدار درآمدی کھاد پر رہے گا۔ ملکی ضرورت اور میسر کھاد کا حساب کرنا کوئی مسئلہ فیثا غورث نہیں کہ سمجھ میں آنا مشکل ہو۔ ملک میں گندم کا کاشتہ رقبہ تقریباً دو کروڑ پینتیس لاکھ ایکڑ ہے اور اوسطاً دو بوری فی ایکڑ ڈی اے پی کی سفارش کی جاتی ہے۔ آئیڈیل صورتحال تو یہ ہے کہ ملکی گندم کی کاشت کیلئے چار کروڑ ستر لاکھ بوری ڈی اے پی دستیاب ہو۔ ایک ٹن میں پچاس کلوگرام کی بیس بوریاں آتی ہیں۔ اس حساب سے تقریباً تیئس لاکھ پچاس ہزار ٹن ڈی اے پی کی ضرورت ہے۔ بن قاسم والے کارخانے کی نصب شدہ استعدادی پیداوار 1350 ٹن فی یوم ہے؛ تاہم یہ بڑھا کر 2000 ٹن تک لے جائی جا سکتی ہے۔ اس حساب سے تین سو یوم کی سالانہ اوسط پیداوار چھ لاکھ ٹن بنتی ہے جو کل ملکی ضرورت کا محض پچیس فیصد بنتا ہے یعنی بقیہ پچھتر فیصد ڈی اے پی درآمد کرنا پڑتی ہے جو ساڑھے سترہ لاکھ ٹن بنتی ہے۔ اب اتنی ڈی اے پی کی درآمد کا حساب لگانا اور اس کا بندوبست کروانا کوئی راکٹ سائنس تو ہے نہیں لیکن اصل مسئلہ ترجیحات کا ہے اور متعلقہ وزرا کا پسندیدہ کام گفتگو کرنا، نمبر ٹانکنا اور اپنی ساری نالائقیوں کا ملبہ ماضی کی ان حکومتوں پر ڈالنا رہ گیا ہے جس کا تب وہ خود حصہ ہوتے تھے۔
ڈی اے پی کی قیمت اگست 2021ء سے اب تک ساڑھے چار ہزار روپے سے دس ہزار روپے فی بوری تک پہنچ گئی ہے۔ سرکار کو پتا ہونا چاہئے کہ ڈی اے پی کھاد درآمد کرنے والی کمپنیوں نے تب کس ریٹ پر یہ کھاد درآمد کی تھی اور انہیں پاکستان میں یہ کھاد کس بھائو پڑی تھی اور وہ اسے اب کس قیمت پر بیچ رہی ہیں۔ کس کس ڈیلر نے کتنی مقدار میں ڈی اے پی درآمد کنندہ سے لیکر سٹاک کی تھی اور ڈی اے پی بنانے والی کھاد فیکٹری نے یہ کھاد کس قیمت پر اندرون ملک فروخت کی ہے۔ یہی حال گندم کی فصل کے دوران استعمال ہونے والی دوسری اہم ترین کیمیائی کھاد یوریا کا ہے۔ سرکار کی طرف سے یوریا کھاد کی بوری کا کنٹرول ریٹ 1768 روپے کے لگ بھگ ہے لیکن اس وقت یوریا کی بوری تین ہزار روپے میں فروخت ہو رہی ہے۔ یہی حال دیگر کھادوں کا ہے۔ نائٹروفاس کی بوری کی قیمت تین ہزار کے قریب ہے مگر فی الوقت چھ ہزار روپے فی بوری کے لگ بھگ فروخت ہورہی ہے۔
یہ بات ٹھیک ہے کہ ہمارا دکاندار، سٹاکسٹ، ہول سیلر اور کارخانہ دار زیادہ تر چور اور بے ایمان ہیں اور اکثریت لوٹ مار میں مصروف ہے‘ یوں پہلے سے بے ایمانی کی معراج پر فائز ہمارا سارا معاشرہ حکومتی گرفت کے کمزور ہونے کے باعث مزید پھیلتا جا رہا ہے۔ ہر طرف کھلم کھلا لوٹ مار کا بازار لگا ہوا ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔ سرکار کو عموماً اور ہمارے وزیراعظم کو خصوصاً صرف اور صرف تقریروں کی پڑی ہوئی ہے اور ان کی تقریروں کے طفیل کچھ اور تو نہیں ہوا تاہم ہم جیسے کم علم لوگوں کو ملک میں بے شمار مافیاز کا علم ضرور ہوگیا ہے۔ ہمارے پیارے اور ایماندار وزیراعظم نے مافیا کو بھلے کنٹرول نہ کیا ہو مگر کم از کم بے نقاب ضرور کردیا ہے۔ رہ گئی بات ان مافیاز کو کنٹرول کرنے کی تو یہ ذمہ داری ظاہر ہے گزشتہ حکومتوں کی تھی جن کی کمزوری‘ نالائقی اور کرپشن کے طفیل یہ مافیاز طاقتور ہوئے۔ ان مافیاز کو کنٹرول کرنے کیلئے تو ظاہر ہے فرشتے آئیں گے؛ تاہم کیا یہ کم ہے کہ حالیہ ایمانداروں کے طفیل ہمیں علم ہوا کہ ملک میں گندم مافیا، چینی مافیا، تیل مافیا، لینڈ مافیا، آٹا مافیا، سبزی مافیا، چاول مافیا، آٹوموبائل مافیا، پولٹری مافیا، لائیو سٹاک مافیا، فلاں مافیا، فلاں مافیا اور اب کھاد مافیا سرگرم عمل ہے۔ حکومت کی ذمہ داری ہمیں اطلاع فراہم کرنا تھی سو اس نے اپنی ذمہ داری بطریق احسن پوری کردی ہے۔ اب ہمارا کام ہے کہ ہم ان مافیاز کی بربادی کی دعا کریں کہ اب یہی آخری حربہ باقی رہ گیا ہے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں