نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- ریڈلسٹ میں رکھنےکےبرطانوی فیصلےسےپاکستانی کمیونٹی میں تشویش بڑھی،شاہ محمود
  • بریکنگ :- کرکٹ ٹیم کادورہ پاکستان منسوخی کامعاملہ برطانوی حکومت کےسامنےاٹھایا،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- انگلینڈکرکٹ بورڈنےسیریزمنسوخی کافیصلہ یکطرفہ کیا،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- کرکٹ سیریز منسوخ کرناتھی توپی سی بی سے رجوع کیاجاتا،وزیرخارجہ
Coronavirus Updates
"FBC" (space) message & send to 7575

تمام خلق کا خدمت گزار ہے پانی لیکن…

پانی نہ ہوتو اِس کے لیے صوبے ایک دوسرے سے جھگڑنے لگتے ہیں لیکن مون سون کے دوران بارشوں کی صورت ہمیں جب یہ نعمت بڑی مقدار میں میسر آجاتی ہے تو ہم خود کو پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت سے بڑی حد تک محروم پاتے ہیں۔ موجودہ مون سون سیزن کے دوران بھی یہی صورتحال دیکھنے میں آرہی ہے۔ زیادہ عرصہ نہیں گزرا جب سندھ اور پنجاب پانی کے معاملے پر سیاست کر رہے تھے۔ کسی نے یہ سمجھنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی کہ جب مجموعی طور پر پانی کی کمی ہوگی تو لامحالہ سبھی کو اِس کا سامنا کرنا پڑے گا۔ عجب لڑائی تھی کہ جس کا حقائق سے دور دور کا کوئی واسطہ نہ تھا۔ ہمیں ارسا کے ایک ذمہ دار کی طرف سے بتایا گیا تھا کہ تمام صوبے اپنے اپنے حصے کا پانی استعمال کرنے میں آزاد ہیں لیکن معلوم نہیں کیوں صوبوں کو ایک دوسرے سے پانی چوری کی شکایت ہمیشہ رہتی ہے۔ اُنہوں نے سندھ اور پنجاب کے درمیان پانی کی تقسیم کے فارمولے کی بابت بات کرتے ہوئے یہ بھی بتایا کہ صوبہ سندھ میں پنجاب کی نسبت پانی ضائع ہونے کی شرح کافی زیادہ ہے۔ اِس قضیے میں واضح ہوا کہ جہاں سندھ کو اپنے حصے سے 17 فیصد کم پانی ملا تھا وہیں پنجاب کے لیے یہ شرح 22فیصد تھی۔ گویا پنجاب کو پانی کی کمی کا زیادہ سامنا رہا تھا لیکن اِس کے باوجود اس معاملے پر کافی سیاست کی جاتی رہی، اِن حالات میں اگر کبھی کالاباغ ڈیم کی بات کرلی جائے تو غصہ مزید بڑھ جاتا ہے کہ جیسے اِس اہم ڈیم کا تعمیر ہونا کسی کے خلاف کوئی سازش ہے۔ بہرحال یہ بات تو واضح ہے کہ ہمارے ہاں پانی کی کمی کا مسئلہ بڑھتا جا رہا ہے۔ تمام تر اشاریے واضح طور پر بتا رہے ہیں کہ ہم پانی کی کمی کا شکار ہونے کی طرف بڑھ نہیں رہے بلکہ بڑی حد تک اِس کا شکار ہو چکے ہیں۔ وہ وقت زیادہ دور نہیں جب پانی کے قلت کے معاملے میں مزید تیزی آئے گی۔ وہ وقت گویا سر پرکھڑا ہے جب ہمیں پانی ضائع کرنے کی سزا بھگتنا ہوگی۔
ایک طرف یہ عالم ہے تو دوسری طرف اب کے بھی مون سون سیزن کے دوران بارشوں سے حاصل ہونے والے پانی کی بڑی مقدار ضائع کی جا رہی ہے۔ یہی وہ سیزن ہے جس دوران ہمیں پورے سال کے دوران ہونے والی بارشوں کا تقریباً 80 فیصد پانی حاصل ہوتا ہے لیکن اِس کی بڑی مقدار سمندر میں گر کر ضائع ہو جاتی ہے۔ ایک طرف ہم مسلسل پانی کی کمی کا شکار ہوتے چلے جارہے ہیں تودوسری طرف تقریباً 34سے 55ملین ایکڑ فٹ پانی ہرسال سمندر میں پھینک دیتے ہیں۔ اتنی بڑی مقدار میں پانی ضائع کردینے کے بعد ایک دوسرے کو پانی کی کمی کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔ ہمارے پاس اِس وقت صرف 13ملین ایکڑ فٹ کے قریب پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ہے اور اُس میں بھی ہرسال کمی آتی چلی جارہی ہے۔ اتنی کم مقدار میں پانی ذخیرہ کرنے کے باعث ہی ہمارے اربابِ سیاست سوچ رہے ہوتے ہیں کہ پانی کی کمی میں کس طرح سے مخالفین کو موردِ الزام ٹھہرا نا ہے۔ سنجیدگی کا عالم یہ ہے کہ ہم چندے سے ڈیم تعمیر کرنے کی کوششیں بھی کرتے رہے ہیں۔ تب بیرونی ممالک میں مقیم اکثر پاکستانیوں سے یہ پوچھا جاتا تھا کہ بھلا کبھی چندے سے بھی ڈیم تعمیر ہوئے ہیں۔ اِس معاملے میں ہمارے ایک سابق منصف اعلیٰ نے بہت بڑھ چڑھ کر کردار ادا کیا تھا۔ وہ فرمایا کرتے تھے کہ میں ریٹائر ہونے کے بعد خود ڈیم کی چوکیداری کیا کروں گا۔لیکن یہ وعدہ کیا پورا ہونا تھا‘ اُلٹا مسائل مزید سنگین ہوگئے۔
ہمارے لیے اپنی کوتاہی کی سزائیں بھگتنے کا ایک لامتناہی سلسلہ ہمیشہ چلتا رہتا ہے۔ ہر کوئی حالات کی ذمہ داری دوسرے پر ڈال کر خود کو بری الذمہ ثابت کرنے کی کوششوں میں مصروف نظر آتا ہے۔ حکومت کو شکایت ہے کہ سابقہ حکومت ملک کو پستی کی جانب دھکیل کر چلی گئی اور اب اُسے ہاتھوں سے دی ہوئی گانٹھیں منہ سے کھولنا پڑ رہی ہیں۔ موقف اختیار کیا جاتا ہے کہ یہ تو موجودہ حکومت کا کارنامہ ہے کہ جو اُس نے ملک کو سنبھال لیا ہے‘ ورنہ تو معلوم نہیں کیا سے کیا ہوجاتا۔ اگر جانے والے کچھ عرصہ مزید اقتدار میں رہ جاتے تو ملک شاید دیوالیہ ہو جاتا۔ دن رات ہمیں سنایا جاتا ہے کہ معیشت دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کرنا شروع ہوچکی ہے اور روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہورہے ہیں۔ جب یہ پوچھا جائے کہ اِس کے اثرات عام آدمی تک کیوں نہیں پہنچ رہے تو کوئی جواب نہیں بن پاتا۔ جب یہ استفسار کیا جاتا ہے کہ اگر مسائل پر قابو پالیا گیا ہے تو مہنگائی میں کمی کیوں نہیں آرہی۔ اِن سب سوالات کا ایک ہی جواب ہوتا ہے کہ یہ سب سابق حکومت کا کیا دھرا ہے۔ ویسے یہ سابقہ حکومتیں بھی حکمرانوں کے لیے کمال کا ڈیٹرنٹ ثابت ہوتی ہیں۔ جہاں بات نہ بن پائے تو وہاں صورتِ حال کا ذمہ دار سابقہ حکومتوں کو قرار دے کر اپنی جان چھڑا لی جاتی ہے۔ یہ سب آج کی بات نہیں بلکہ جب سے ہم نے ہوش سنبھالی ہے‘ یہی کچھ دیکھتے چلے آرہے ہیں۔ آج کے حکمران بھی ہرمسئلہ جانے والوں کے سر منڈھ کر خود کو بری الذمہ قرار دینے کی کوششوں میں مصروف ہیں اور اپوزیشن بھی ہر برائی کا ذمہ دار حکومت کو قرار دینے میں پل بھر کی دیر نہیں لگاتی۔ سابق حکمرانوں کا دعویٰ ہے کہ اصل ترقی تو اُن کے دور میں ہورہی تھی۔ ملک میں شاہراہوں کا جال بچھایا جارہا تھا۔ مہنگائی آج کی نسبت نصف سے بھی کم تھی۔ ڈالر کو بھی قابو میں رکھا گیا تھا جس کے باعث عام آدمی کی حالت کافی بہتر تھی لیکن موجودہ حکمرانوں نے ملک کو ترقی کی پٹڑی سے ڈی ریل کر دیا ہے۔
یہ سب باتیں ہم ہمیشہ سے سنتے چلے آرہے ہیں۔ الزامات در الزامات کی یہ سیاست شروع سے ہمارا خاصہ رہی ہے۔ آج یہ عالم ہوچکا ہے کہ معاملات سنگین تر ہوتے چلے جارہے ہیں لیکن کسی کو کوئی فکر نہیں ہے۔ پانی کا مسئلہ ہے کہ ہرگزرتے دن کے ساتھ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ اِس کے لیے چاہے ہم پچھلوں کی کوتاہیوں کا گلہ کریں یا اوروں کو موردِ الزام ٹھہرائیں، حقیقت یہ ہے کہ ہم نے اِس معاملے میں انتہائی غیرسنجیدگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اب بھی وقت ہے کہ پانی کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے کچھ کر لیا جائے ورنہ وقت ہاتھوں سے ریت کی طرح پھسلتا رہا تو کسی بھی طرح سے اس کا ازالہ نہ ہو سکے گا۔ اِس حوالے سے یہ امر بہرحال خوش آئند ہے کہ چھوٹے ڈیموں کے ساتھ ساتھ داسو، مہمند اور دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر کا آغاز کیا جاچکا ہے۔ اِن میں سے بھاشا ڈیم سب سے بڑا ہے لیکن اِس کی تکمیل 2028ء سے پہلے ممکن نہیں۔ اب یہ تو کہا جاسکتا ہے کہ دیر آید درست آید لیکن حقیقت یہ ہے کہ اِس صورتِ حال کے باعث ہمارے ہاں پانی کی فی کس دستیابی تقریباً 1ہزار کیوبک میٹر سالانہ تک رہ گئی ہے جو قیام پاکستان کے وقت تقریباً 5600کیوبک میٹر تھی۔ گویا ہم تقریباً پانی کی چار سو فیصد کمی کا شکا رہوچکے ہیں۔ اِن حالات میں بھی اگر مون سون کے دوران بارشوں سے حاصل ہونے والے پانی کی بڑی مقدار کو ضائع کردیا جائے تو سر پیٹنے کے علاوہ کیا کیا جا سکتا ہے؟ اگر ہم کچھ کرنا چاہتے ہیں تو پانی کے نئے ذخائر کی تعمیر کے ساتھ ساتھ سب سے پہلے ہمیں اپنے شہروں کے بے ہنگم پھیلاؤ کو روکنا ہوگا ۔ شہروں کے ارد گرد بڑی جھیلیں بنانے کی اشد ضرورت ہے جہاں مون سون کے دوران اکٹھا ہونے والا پانی طویل عرصے تک موجود رہے۔ یہی پانی جب زمین کے اندر جذب ہوگا تو زیرزمین پانی کی سطح بھی بلند ہوگی۔ چھوٹے شہروں کے گرد بڑے تالاب بنائے جائیں‘ جہاں موجود پانی متعد د مقاصد کے لیے کام میں لایا جاسکتا ہے۔ اس سے نہ صرف شہری سیلابوں یعنی اربن فلڈز کا تدارک ممکن ہو گا بلکہ بے وقت اور بے موسمی بارشوں کے علاوہ معمول سے زیادہ ہونے والی بارشوں کے نقصانات سے بھی بچا جا سکے گا۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں