نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- کراچی:ضلع جنوبی کے3سب ڈویژن میں مائیکرواسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ
  • بریکنگ :- گارڈن،صدراورسول لائنزکےمخصوص مقامات پرمائیکرواسمارٹ لاک ڈاؤن
  • بریکنگ :- گارڈن سب ڈویژن میں عیدگاہ لین،گلی نمبر8سے11تک مائیکرواسمارٹ لاک ڈاؤن
  • بریکنگ :- تین سب ڈویژن میں کوروناکیسزکےخاتمےتک لاک ڈاؤن نافذرہےگا
  • بریکنگ :- لاک ڈاؤن کےدوران 3اوراس سےزائدافرادکےجمع ہونےپرپابندی،نوٹیفکیشن
  • بریکنگ :- لاک ڈاؤن کےدوران شہریوں کےغیرضروری نکلنےپرپابندی ہوگی
  • بریکنگ :- کراچی:کورونامریض گھروں میں قرنطینہ رہیں گے،نوٹیفکیشن
Coronavirus Updates
"FBC" (space) message & send to 7575

بے معنی باتیں؟

بات میں وزن ہو تو کوئی وجہ نہیں کہ سننے والے اِس پرکان نہ دھریں۔ بات ہلکی ہو اور اِس کے باوجود تواتر سے کہی جاتی رہے تو پھر اِسے سمع خراشی کے علاوہ کیا نام دیا جاسکتا ہے؟ افسوس کہ ہم بحیثیت مجموعی اِس راہ پر چل نکلے ہیں۔ باتیں‘ باتیں اور صرف باتیں، اور وہ بھی ایسی کہ جن پرکہنے والوں کو خود بھی یقین نہیں ہوتا۔
ہمیشہ سے سنتے آئے ہیں کہ انصاف میں تاخیر کا مطلب اِس سے انکار ہوتا ہے۔ یہ بات اَن گنت مرتبہ کہی اور دہرائی جاچکی ہے۔ لیکن عملاً صورت حال کیا ہے؟ورلڈجسٹس پروجیکٹ کی رپورٹ کہتی ہے کہ قانون کی حکمرانی کے معاملے میں139 ممالک میں سے ہمارے ملک کانمبر 130واں ہے۔ حالات یہ ہوچکے کہ ہمارے خطے میں صرف افغانستان ہی قانون کی حکمرانی میں ہم سے کچھ پیچھے ہے‘ ورنہ خطے کے تمام ممالک ہم سے آگے ہیں۔ نیپال، سری لنکا، بھارت اور بنگلہ دیش میں قانون کی حکمرانی کی صورت حال ہم سے بہتر ہے۔ یہاں تو یہ حالت ہوچکی کہ دہائیاں گزر جاتی ہیں لیکن مقدمات کا فیصلہ نہیں ہوپاتا۔ یہ اُس ملک کی صورت حال ہے جہاں اوپرسے لے کر نیچے تک‘ ہرکوئی قانون کی حکمرانی کی بات کرتا دکھائی دیتا ہے لیکن قانون کا عملی زندگی میں نفاذ کہیں دکھائی نہیں پڑتا۔ بقول علی احمد کرد‘ ایسے محسوس ہوتا ہے کہ یہاں کوئی ادارہ، کوئی پارلیمان، کوئی حکومت وجودنہیں رکھتی، سرکار عوام کے کسی بنیادی حق کا تحفظ نہیں کرپارہی۔ جب یہ صورتحال ہو تو ایسے میں بھلا قانون کی حکمرانی کی باتیں کیا اہمیت رکھتی ہیں؟ جب ہم صورت حال میں بہتری لانے کے اہل ہی نہیں تو پھرکیوں اِس طرح کی بے معنی باتیں کرکے سننے والوں کی سمع خراشی کرتے ہیں؟
ہمارے ہاں ہمیشہ قومی مفاد کا غلغلہ بلند ہوتا رہتا ہے۔ جب سے یہ ملک وجود میں آیا ہے‘ تب سے اہلِ اقتدار کے ہاتھ میں قومی مفاد کی جادوئی چھڑی لگ چکی ہے۔ اِسے ہلاتے ہی کل کے دشمن آج کے رفیق بن جاتے ہیں اور کل کے رہنما آج کے غدار۔ یہ کھیل اِس تواتر سے کھیلا جارہا ہے کہ اب اپنی اہمیت بھی کھو بیٹھا ہے۔ یہ تو کل کی بات ہے کہ جن کو ریاست مخالف قرار دیا جارہا تھا‘ چند ہی روز کے اندر اُن پر سے سب الزامات ہٹ گئے۔ کسی نے نہیں پوچھاکہ وہ جو اِس معرکے میں اپنی جانوں سے گئے، اُن کے لواحقین کس کے ہاتھ پر اپنا لہو تلاش کریں۔ وہ جو اسلام آباد کی طرف مارچ کرنے والوں پر الزامات کا طومار باندھ رہے تھے، وہ بھی اِس جواب دہی سے مبرا قرار پائے کہ آپ کس برتے پر اتنی بڑی بڑی باتیں کررہے تھے۔ یہ کیونکر ممکن ہوا کہ وہ یکایک تمام الزامات سے بری کردیے گئے؟یہاں تو یہ عالم ہوچکا ہے کہ تین بار ملک کا وزیراعظم رہنے والا شخص دشمنوں کا دوست قرار پاتا ہے۔ اگر تین بار کا وذیراعظم دشمن کا ہمدرد ہوسکتا ہے تو باقی کیا رہ جاتا ہے؟ کیا ایسی باتوں کو سمع خراشی کے علاوہ کوئی دوسرا نام دیا جاسکتا ہے؟
ہمارے ہاں رشوت اور بدعنوانی کے خاتمے کی باتیں بھی تواتر سے سننے میں آتی رہتی ہیں۔ جو بھی حکمران مسندِ اقتدار پر براجمان ہوا‘ کہنے کی حد تک‘ بدعنوانی اور رشوت کا خاتمہ اُس کی ترجیحِ اولین ٹھہرا لیکن اس کے ایوانِ اقتدار سے رخصت ہو جانے کے بعد ؟ہمارے موجودہ حکمران تو آئے ہی اِس وعدے پر تھے کہ ملک سے کرپشن کوجڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے۔ جن لوگوں نے بدعنوانی کی، اس ملک کو لوٹا، اُن سے کرپشن کا پیسہ وصول کیا جائے گا۔ شاید ایسا ممکن ہوبھی جائے اگر اپنے آس پاس موجود عناصر پربھی آہنی ہاتھ ڈالنے کی ہمت ہو۔ ہم آج اِس بحث میں نہیں پڑتے کہ سابقہ حکومتوں کے دور میں کیا صورت حال رہی اوراب کیاہے۔ ہم تواپنے مجموعی رویوں کی بات کررہے ہیں۔ کرپشن کے خاتمے کی تمام تر باتوں کے باوجود‘ کیا آج یہ عالم نہیں ہوچکاکہ رشوت کا زہر اوپرسے لے کر نیچے تک سرایت کر چکا ہے؟ کسی بھی محکمے پر انگلی رکھ کر دیکھ لیں‘ کچھ کمی بیشی کے ساتھ ہرجگہ ایک جیسی صورت حال ہی دیکھنے کو ملے گی۔ جس محکمے کے پاس جتنے زیادہ اختیارات ہیں‘ وہاں حالات اتنے زیادہ خراب ہیں مگر کہنے کو ہرصاحبِ اختیار دن رات کرپشن کے خاتمے کی کوششوں میں مصروف دکھائی دیتا ہے۔ بیانات بھی تسلسل سے سامنے آتے رہے ہیں لیکن کیا آج صورتِ حال یہ نہیں ہوچکی کہ رشوت دیے بغیر کوئی بھی جائز کام ہونا محال ہوچکاہے۔ ہم صرف پولیس کی مثال سامنے رکھ لیں تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جاتاہے۔ کیا آج تک کوئی ایک بھی انسپکٹر جنرل ایسا آیا جس نے اپنے محکمے سے رشوت ختم کرنے کی باتیں نہ کی ہوں؟جس نے اختیارات سے تجاوز کرنے والے اہلکاروںکو عبرت کی مثال بنا دینے کے دعوے نہ کیے ہوں؟ ایسی باتوں کاآج تک کیانتیجہ نکلا ہے؟کیا اس محکمے سے کرپشن کا مکمل خاتمہ ہو گیا؟ کیا اب ادارے میں کوئی کرپٹ اہلکار باقی نہیں بچا؟ اگرچہ گاہے گاہے کی جانے والی کوششوں سے انکار نہیں کیا جا سکتا، کئی معاملات میں بہتری بھی آئی مگر پالیسیوں میں تسلسل نہ ہونے، وقتی ابال اور ایسے ہی دوسرے عارضی اقدامات سے کی جانے والی مثبت کوششیں بھی ماند پڑ گئیں۔ اب جن پالیسیوں پر پہلے عمل نہیں ہو پایا‘ انہی کو دہرایا جائے اور بار بار عوام کے کانوں میں انڈیلا جائے تو عوام کے نزدیک ان باتوں کی کوئی اہمیت باقی ہو گی؟ یا سننے والے اِن پر یقین کرنے کو تیار نظرآئیں گے؟
''ہمیں متحد ہوکر دشمن کی سازشوں کو ناکام بنانا ہے‘‘۔ اتحاد کے یہ درس سیاستدانوں کے منہ سے تواتر سے سننے کو ملتے رہتے ہیں لیکن کوئی صاحبِ علم بتائے کہ آج تک قومی اتحاد کسی کو نظرآیا ہے؟کیسی عجیب بات ہے کہ اتحاد اور اتفاق کی باتیں ہرکوئی اپنے اپنے سٹیج پر کھڑاہوکر کررہا ہوتا ہے۔ اتحاد کے درس وہ دے رہے ہوتے ہیں جو خود قوم کو تقسیم کرنے کا سب سے بڑا سبب ہوتے ہیں۔ اتحاد اور اتفاق کے نام پر نفرتوں کا جو زہر ہمارے معاشرے میں گھول دیا گیا ہے، اب تو اُس کا تریاق بھی کہیں سے دستیاب نہیں ہورہا۔ اِسی لیے تو اتحاد کی باتیں کرنے والے درس دیتے رہتے ہیں اور سننے والے اپنی اپنی باتوں میں مصروف رہتے ہیں۔ سب کو معلوم ہوتا ہے کہ ہرکوئی اپنے مفاد کے تحت یہ باتیں کر رہا ہے‘ پھر وہ کیوں اپنا وقت ضائع کریں۔ اب تو ایسی باتیں حقیقتاً سمع خراشی سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتیں۔
''صفائی نصف ایمان ہے‘‘۔ بچپن سے یہ جملہ ہمیں پڑھایا اور سکھایا جاتا ہے، لیکن شہروں کو تو ہم نے کیا صاف ستھرارکھنا ہے‘ ہم تواپنے گھروں، اپنے گلی محلوں کو صاف رکھنے کے بھی اہل نہیں ہیں۔ کیسی عجیب بات ہے کہ صفائی کو ایمان کا حصہ گردانا جاتا ہے مگر عملاً ہمارے گلی‘ محلوں، قصبوں اور شہروں میں سوائے گندگی کے کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ گاڑی کے اندر کھاپی کر لفافے وغیرہ شاہراہوں پر پھینک دینا تو اب معمول کی بات ہے۔ جگہ جگہ اُڑتے ہوئے شاپنگ بیگز، پان کی پیک کے داغ، کوڑے کرکٹ کے ڈھیر لیکن باتیں صفائی کے نصف ایمان ہونے کی۔ عجب ہے کہ ہماری کوئی بھی کل سیدھی ہونے کانام ہی نہیں لیتی۔ گفتارکے ایسے غازی کہ دنیا میں مثال ملنا محال ہے‘ کردارکا یہ عالم کہ ہمارا خود پر سے بھی یقین اُٹھ چکا ہے۔ ایسے میں دوسروں سے یہ توقع رکھنا عبث ہے کہ وہ ہمارے کہے کو بلا چون و چرا مان لیں گے۔ صاحبانِ علم ودانش! ایسا کیونکر ممکن ہے کہ ہم اپنے کردار سے تو کچھ ثابت نہ کرپائیں اور صرف باتوں سے ہی کام چلانے کی کوشش کریں۔ اور ہاں! یہ تو دیگ کے صرف چند دانے ہیں ورنہ دیکھا جائے تو سوائے چند ایک انفرادی مثالوں کے‘ ہر جگہ یہی صورت دکھائی دیتی ہے کہ منہ پر کچھ اور ہوتا ہے اور عمل کے گھوڑے کسی دوسری سمت میں دوڑائے جارہے ہوتے ہیں۔ احسن بات یہی ہوسکتی ہے کہ ایسی بے معنی باتوں سے گریز کی روش اپنائی جائے اور اپنے الفاظ کو ضائع ہونے سے بچایا جائے تاکہ سننے والوں کا وقت بھی بچ سکے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں