"FBC" (space) message & send to 7575

انوار و نقیب کا پاکستان

فلائٹ میں سوارچند مسافروں کو وہ چہرہ جانا پہچانا لگا ۔ اس لیے بار بار اس کی جانب دیکھ کر پہچاننے کی کوشش کررہے تھے۔یہ قومی ائیر لائن کی فلائٹ نمبر 451تھی‘ جو موسم کی خرابی کے باعث 18 کی بجائے 19 اکتوبرکو سکردو جانے کے لیے نئے پاکستان کے پرانے دارالخلافہ کی فضا میں بلندہوئی تھی۔ اس فلائٹ میں سابق و موجودہ پارلیمنٹیرینز بھی تھے ۔ ان کی نظریں دائیں جانب کی نشستوںپر مرکوزتھیں ‘جہاں ایک شخص کم عمر دوشیزہ کے ساتھ براجمان تھا اور اس کے اطراف کی دو سیٹوں پر بھی چاک و چوبند جوان بیٹھے تھے ۔ جب یہ شخص مکمل پروٹوکول کے ساتھ جہاز میں سوار ہوا تو سواریوں کا اس کی جانب متوجہ ہونا قدرتی امر تھا۔ پرانے پاکستان کی رسومات نئے پاکستان میں بھی جاری تھیں۔ اسی لیے لوگوں نے دیکھ کرنظر انداز کردیا‘مگر نئے پاکستان کے عوامی نمائندے اس کے فلائٹ میں داخلے کے انداز سے صرف نظر نہ کرسکے۔ انہوں نے جب غور کیا تو انہیں اس شخص کو پہچاننے میں دقت نہ ہوئی۔ یہ کراچی کے معروف انکائونٹر سپیشلسٹ سابق ایس ایس پی رائو انوارصاحب تھے۔ سکردو کے پہاڑوں میں طلوع و غروب کے نظاروں کی تصاویر بناتے‘ ان عوامی نمائندوں کا رائو صاحب سے سامنا شگر فورٹ کے ریزورٹس پر ہوا‘ جہاں رائو صاحب انہی محترمہ کے ساتھ براجمان تھے‘ جبکہ ان کے اطراف کی تین میزوں پر مستعد جوان بیٹھے ہوئے تھے‘ جو بظاہر موسم سے لطف اندوز ہونے کی اداکاری کرنے کے فرائض انجام دے رہے تھے۔
رائو انوار کا دوسری بار ان عوامی نمائندوں سے سامنا شنگریلاکے مقام پر ہوا ۔شنگریلابہت خوبصورت مقام ہے اور اس کے معنی جنت ہیں ۔رائو انواربھی نئے پاکستان کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی الگ جنت بنائے بیٹھے تھے۔ رائو انوار ہمیشہ ایک متنازعہ شخصیت رہے‘ رواں سال کے آغاز تک صرف کراچی کی حد تک جانے اور پہچانے جاتے تھے ‘ مگرایک خوبرو نوجوان نقیب اللہ محسودکے جعلی مقابلے میں قتل نے انہیں ملک بھر میں متعارف کرادیا۔ ٹی وی سکرینوں پردکھائی جانے والی ایک ویران علاقے میں اوندھی پڑی نقیب اللہ محسودکی لاش نے عوام کو جھنجھوڑ دیا۔نقیب اللہ محسود کو مقابلے میں مارنے کے بعد پریس کانفرنس میں اسے دہشت گرد قرار دینا رائو انوار کو مہنگا پڑ گیا تھا۔ ملک بھر میں ہلچل مچ گئی اور مشکوک پولیس مقابلوں کے خلاف عوام سڑکوں پر نکل آئے۔ اعلیٰ عدالت نے بھی نقیب اللہ محسود کے قتل کا نوٹس لے لیا تھا۔
رائو انوار جو رواں سال کے آغاز تک گزشتہ سات سال میں 745مقابلوں میں 444 مبینہ نوجوان دہشت گردوں کو مختلف الزامات کے تحت مبینہ پولیس مقابلوں میں مار چکے تھے ‘مگر کسی بھی ادارے کی جانب سے ان کے مشکوک مقابلوں پر اعتراض نہیں کیا گیا تھا۔ نقیب اللہ محسود کا قتل رائو صاحب کو مہنگا پڑ گیا اور وہ اس مقابلے کے بعد غائب ہوگئے ۔ 23جنوری کواسلام آباد ائیر پورٹ پر نظر آئے مگر دبئی فرار ہونے کی کوشش میں ناکامی کے بعدپھر رپوش ہوگئے یا کرادئیے گئے۔ عدالتی احکامات پر قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی ـــآنیاں جانیاں دکھاتے رہے‘ تاہم رائو انوار اور ان کے ساتھیوں کو ٹریس کرنے میں ناکام رہے۔عدالت نے احکامات نظر انداز کئے جانے کی وجہ سے ایک موقع پر رائو انوار کو مفروربھی قرار دے دیاتھا ۔ اس دوران ان کے حوالے سے ملک کی اہم شخصیات کے پاس روپوش ہونے کی خبریں گردش کرتی رہیں۔ 
قریبا ًدو ماہ کی روپوشی کے بعد 21مارچ کو سابق ایس ایس پی براہ راست سپریم کورٹ پہنچ گئے اوراہم شخصیات کے لیے استعمال ہونے والے خصوصی راستے کا استعمال کرتے ہوئے معزز جج صاحبان کے سامنے پیش ہوئے۔ان کی پیشی کے بعدنقیب اللہ محسود قتل کیس کے مقدمے کی باقاعدہ سماعت شروع ہوگئی۔ 
رائو انوار کے ماضی پر نظر ڈالیں تو پتا لگے گا کہ رواں سال کے آغاز پررائو انوار کا نام پہلی بار میڈیا کی زینت نہیں بنا ۔ اس کی تاریخ بہت پرانی ہے اور اپنے پولیس کیرئیر میں مختلف مواقعوں پر رائو انوارتنازعات کے باعث میڈیا کی شہ سرخیوں میں رہے ہیں۔ 
پولیس فورس میں موجود رائو انوار صاحب کے قریبی ساتھی بتاتے ہیں کہ وہ 1981ء میں ڈی ایس پی ہاربر کے پاس بطور کلرک بھرتی ہوئے تھے‘ تاہم اگلے ہی سال 1982ء میں ان کی بطور اے ایس آئی تعیناتی ہوگئی تھی۔رائو انوار نے اپنی کیرئیر کے ابتدائی دنوں میں ہی حکومتی حلقوں میں اثر رسوخ حاصل کرلیا تھا اور مبینہ طور ملکہ ترنم نورجہاں نے اس حوالے سے رائو صاحب کی مدد کی تھی‘اسی طرح رائو انوار صاحب نے پیپلز سٹوڈنٹس فیڈریشن کے کچھ لڑکوں کو گرفتار کیا اور پیپلز پارٹی کی جانب سے ان کی رہائی کی کوششوں کے دوران رائو انوار محترمہ بینظیر بھٹو کے منظور نظر ہوگئے۔ یہی وہ دور تھا‘ جب حکومت میں شامل اہم شخصیات کے ساتھ راؤ انوار کے رابطے قائم ہوئے‘ جس کے بعد ان کی ترقی کا سفر مزید تیز ہوگیا۔پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن شروع ہوا تو پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے کہنے پراس وقت کے وزیر داخلہ نصیر اللہ بابر نے راؤ انوار پر خصوصی نظر کرم کی۔راؤ انوار کے اربابِ اختیار سے مضبوط روابط کا اندازہ اِس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ مبینہ مقابلوں سے ترقیاں پانے کے باوجود سندھ پولیس کا یہ افسر ملک بھر میں تعیناتیاں حاصل کرتا رہا۔
ملتان ہو یا سیٹیلائٹ ٹاؤن کوئٹہ‘ راؤ انوارکرسی پر بیٹھے دکھائی دیتے رہے۔ملیر میں تعیناتی کے حوالے سے بھی سندھ پولیس کے اندرونی حلقوں میں یہ کہا جاتا ہے کہ ان کی تعیناتی سابق صدر آصف علی زرداری سے قربت کا نتیجہ تھی۔ گزشتہ 10 سال سے ملیر تعیناتی کے دوران متعدد بار اْن پر جعلی مقابلوں‘ زمینوں پر قبضوں‘ بھتہ خوری‘ ریتی بجری کی چوری جیسے الزامات لگ چکے ہیں۔ راؤ انوار کو 4 مرتبہ ان کے عہدوں سے ہٹایا گیا‘ مگر چند دن بعد راؤ انوار دوبارہ تعیناتی حاصل کرکے اپنے عہدے پر موجود ہوتے تھے‘ جس سے یہ قیاس حقیقت معلوم ہوتا ہے کہ کوئی ادارہ بھی رائو انوار کے خلاف تحقیقات کرانے کی پوزیشن میں نہیں۔یہ چہرہ ہے نئے پاکستان کا ۔رائو انوار کے پاکستان کا ۔
دوسری جانب نقیب کا پاکستان ہے۔
نقیب کا پاکستان کہ جہاں اسے بے گناہ قتل کردیا گیا ۔ نقیب کے قتل کے بعد اس کے بوڑھے والد کو امید تھی کہ نئے پاکستان میں جس کی بنیاد ہی انصاف سے اٹھائی گئی ہے ‘ اسے انصاف ضرور ملے گا‘مگر نئے پاکستان کے قیام کے بعد رائو انوار کی ضمانتیں منظور ہوئیں تو ابتدائی طور پر نقیب محسود کے اہل خانہ کو دھچکا لگا ‘مگر ان کا اپنی عدالتوں پر یقین تاحال قائم ہے۔ نقیب کے والد کی زندگی اپنے بیٹے کو انصاف دلوانے کے لیے عدالت اور نقیب کے بچوں کی کفالت کے لیے بھاگ دوڑ کرتے گزررہی ہے ۔ وہ آج بھی نقیب اللہ محسود کا مقدمہ پوری ہمت و استقامت سے لڑرہے ہیں ۔ 7اگست کو انہوں نے سندھ ہائی کورٹ میں درخواست کے ذریعے انسداد دہشت گردی کی عدالت نمبر 2کے جج پر عدم اعتماد ظاہر کیا تھا ‘جس کے دو ماہ بعد 5نومبر کو ہائی کورٹ نے نقیب اللہ محسود کا کیس انسداد دہشت گردی کی عدالت نمبر3 منتقل کردیاہے۔
نقیب اللہ محسود کے والدایک ملاقات میں کہنے لگے کہ عمر کے اس حصے میں جہاں باپ اپنے جوان بیٹوں کے سہارے بڑھاپا سکون سے گزارنے کی امید رکھتا ہے‘ میں اپنے جوان بیٹے کے قاتلوں کو سزا دلوانے کے لیے در در کی ٹھوکریں کھا رہا ہوں۔ کئی موقعوں پر میری ہمت جواب دے جاتی ہے‘ مگر جب گھر جاتا ہوں اور نقیب کے معصوم بچوں کے چہرے دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ انہیں انصاف ضرور دلوائوں گا ۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ بے گناہ مارے جانے والا جنت میں جائے گا اور نقیب اللہ محسود انشاء اللہ جنت میں ہی ہوگا۔ 
دیکھنا یہ ہے کہ نیا پاکستان کس کا بنتا ہے : رائو انوار کا یا نقیب کا؟

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں