"FBC" (space) message & send to 7575

جنگلوں کا ہی کوئی قانون نافذ کر…!

صاحب اولاد تصور کرسکتے ہیں کہ کیا گزری ہوگی‘ حبیب کے باپ پر جب اسے اپنے بیٹے کا نچلا دھڑ ملا ہوگا۔ وہ کس کرب سے گزرا ہوگا؟ جب اسے ڈاکٹرز نے بتایا ہوگا کہ اس کے بیٹے کے ساتھ 7بار جنسی زیادتی کے بعد قتل کیا گیا۔ ہر دو دن بعد اپنے بیٹے کے جسم کا کوئی حصہ ڈھونڈ کر دفن کرنا‘اسے روز زندہ درگور کردیتا ہوگا۔ اس کی ماں پر کیا گزری ہوگی‘ جب اس نے اپنے بیٹے کی بے چہرہ لاش جوتوں اور پینٹ سے شناخت کی ہوگی۔ بھکر کوٹلہ جام کا رہائشی سات سالہ حبیب کو جب اس کی ماں نے 13دسمبر کو تیار کرکے سکول بھیجا تو اسے پتا نہیں تھا کہ وہ دوبارہ اسے کس حال میں دیکھے گی۔ جب حبیب سکول سے واپس نہ آیا تو اس کے باپ نے تلاش میں ناکامی پر پولیس کو اطلاع دی۔ 
گمشدگی کی رپورٹ 14دسمبر کو درج تو کرلی گئی‘ مگر اس کے ساتھ ہی پولیس نے روایتی بے حسی دکھانی شروع کردی ۔ بچے کی تلاش کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ اغواء کے 11دن بعد 24دسمبر کو علی پرائمری سکول کے قریب کھیتوں سے حبیب کا نچلا دھڑ مل گیا ‘پھر 6دن بعد 30دسمبر کو ایک بازو اور اگلے دن 31دسمبر کو حبیب کی تین انگلیاں کھیتوں سے ملیں۔بوسیدہ نظام کی کوکھ سے ایسے سانحات ایک تسلسل سے جنم لے رہے ہیں۔ ابھی تو حویلیاں کی رہائشی تین سالہ ننھی مناہل کا ماتم ختم نہیں ہوا تھا کہ جسے درندے نے روندنے کے بعد جنگل میں پھینک دیا۔ پوسٹ مارٹم کے مطابق ؛اس کی سانسیں چل رہی تھیں ‘مگر وہ ایبٹ آباد کے منفی درجہ حرارت کا مقابلہ نہ کرسکی۔
کس کس کا ماتم کریں اور کس کس کا نوحہ لکھیں۔ بچوں سے زیادتی کے واقعات میں اچانک اضافہ نہیں ہوا‘ بلکہ یہ زہر آہستہ آہستہ پھیلا ہے ۔ گزشتہ دس سال کے دوران 23268بچوں سے زیادتی کے واقعات ہوئے ہیں ‘جن میں سے 2010ء میں 2252‘ 2011ء میں 2303‘ 2012ء میں 2788‘ 2013ء میں3002 ‘2014ء میں3508 ‘2015ء میں 3768‘2016ء میں 4141اور 2017ء میں 1056واقعات رپورٹ ہوئے ۔ بچوں کے ساتھ زیادتی کے خلاف کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم ساحل کی جانب سے وسط 2018ء میں جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق؛ 2017ء کی نسبت بچوں سے جنسی زیادتی کے کیسز میں 38فیصد اضافہ ہوا ہے ۔
2018کے ابتدائی 6ماہ میں جنسی زیادتی کے2338 واقعات رپورٹ ہوئے‘ جن میں سے 48فیصد 5سے 15سال کے بچوں کی ہے اور پاکستان میں اوسط 12واقعات یومیہ رپورٹ ہورہے ہیں۔پنجاب میں ستمبر 2018ء تک دس سال سے کم عمر کے 1019بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ ان کیسز میں گرفتار ہونے والے ملزمان کی تعداد 9فیصد ہے ‘جبکہ کمزور استغاثہ کی وجہ سے گرفتار ملزمان بھی ضمانتوں پر رہا ہوجاتے ہیں ۔ زیادتی کے کیسز میں سزا پانے والے مجرموں کی تعداد کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ لاہور میں بچوں سے ہونے والے جنسی زیادتی کے 121واقعات میں سے کسی ایک مقدمے میں بھی پولیس ملزمان کو سزا دلوانے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے‘ بلکہ تمام ملزمان باآسانی ضمانت حاصل کرکے آزاد گھوم رہے ہیں۔پولیس کی روایتی بے حسی ان تمام مقدمات میں ایک قدر مشترک ہے۔ پولیس کی جانب سے ان کیسز میں عدم دلچسپی ملزمان کی درندگی کو بڑھاوا دینے کی ایک اہم وجہ ہے۔ مناہل کا کیس ہو یا فریال‘ کراچی کی ثناء ہو یا حویلیاں کی مناہل‘ قانون کے رکھوالوں کی روش تبدیل نہیں ہوئی۔ 
کراچی کی تین سالہ ثناء کے ساتھ جنسی درندگی کرنے والے تو تھے ہی پولیس اہلکار‘ جنہیں انسداد دہشت گردی کی عدالت سے سزائے موت اور دس سال قید کی سزا ہوچکی ہے‘ مگر اطلاعات ہیں کہ پیٹی بند بھائی اپنے ہم پیشہ ساتھیوں کو بچانے کیلئے کوششیں کررہے ہیں۔ 
قصور میں زینب کے واقعے کے بعد اب تک 328واقعات ہوچکے ہیں‘ مگر کسی واقعہ پر حکومت کے کان پر جوں تک نہیں رینگی ۔ ایک عام تاثر یہ ہے کہ بچوں سے زیادتی کے بڑھتے واقعات کے خلاف عوام میں شدید ردعمل پیدا ہوگیا تھا‘ جو ایک لاوے کی طرح پھٹ سکتا تھا۔ اس لیے کرتادھرتائوں نے زینب کے قاتل کو گرفتار کیا اور اسے عدالت نے پھانسی دیدی۔ عوامی ردعمل عارضی طور پر ٹھنڈا پڑ گیا۔ اس کے بعد ہونے والے واقعات بھی معصوم زینب کی طرح معصوم پھولوں کے ساتھ ہی پیش آئے اور اسی بھیانک طریقہ سے ان پھولوں کو مسلا گیا‘ مگر مجال ہے کہ کوئی آواز اٹھی ہو‘ کہیں شور ہوا ہے‘ حکمرانوں میں غیرت کی کوئی رمق بیدار ہوئی ہو۔ 
رعایا پر کیا گزررہی ہے؟ یہ حکمران یہ جاننے میں دلچسپی نہیں رکھتے ۔بقول ہمارے ڈرامہ نگار دوست صہیب جمال کے تاریخ دان حلالی ہوا تو ضرور لکھے گا کہ جب معصوم پھول کو روندا جارہا تھا ‘ارباب اختیارحکومت سندھ گرانے میں مصروف تھے ۔بات صرف ارباب اختیار تک کی ہی نہیں رہتی‘درِ انصاف پر استادہ باوردی دربان‘ من مرضی کے مقدمات کی پیروی کروارہے تھے۔نظام عدل‘ایک پلڑے میں حکومتی ریشہ دوانیاں اور دوسرے میںاحتساب کی پریشانیاں لیے میزان عدل سنبھالنے میں مصروف تھا۔ باقی رہ گیا ‘ریاست کا پانچواں ستون تواس بیچارے کی اوقات ہی کیا ہے‘ یہ بھی باقی چار ستونوں کی طرح حکم شاہی پر مثبت خبروں کی تلاش میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کیلئے سرگرداں تھا۔
شاید کچھ ایسے ہی حالات پرزہرہؔ نگار کہتی ہیں:
سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے 
سنا ہے شیر کا جب پیٹ بھر جائے تو وہ حملہ نہیں کرتا 
درختوں کی گھنی چھاؤں میں جا کر لیٹ جاتا ہے 
ہوا کے تیز جھونکے جب درختوں کو ہلاتے ہیں 
تو مینا اپنے بچے چھوڑ کر 
کوے کے انڈوں کو پروں سے تھام لیتی ہے 
سنا ہے گھونسلے سے کوئی بچہ گر پڑے تو سارا جنگل جاگ جاتا ہے 
سنا ہے جب کسی ندی کے پانی میں 
بئے کے گھونسلے کا گندمی رنگ لرزتا ہے 
تو ندی کی روپہلی مچھلیاں اس کو پڑوسن مان لیتی ہیں 
کبھی طوفان آ جائے‘ کوئی پل ٹوٹ جائے تو 
کسی لکڑی کے تختے پر 
گلہری‘ سانپ‘ بکری اور چیتا ساتھ ہوتے ہیں 
سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے 
خداوندا! جلیل و معتبر! دانا و بینا منصف و اکبر! 
مرے اس شہر میں اب جنگلوں ہی کا کوئی قانون نافذ کر! 

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں