مسلمان نوجوانوں کے کوئلہ بنے اجسام‘ ظلم کا شکار بننے والی خواتین‘ خنجروں بھالوں سے قتل کیے گئے شیر خواراور بے گوروکفن لاشے ۔یہ 2002ء کا گجرات تھا اور حاکم تھا نریندر مودی۔وہی مودی ‘جس کی پارٹی نے ہر دفعہ انتخابات میںکامیابی کیلئے بھارتی مسلمانوں کو خون میں نہلایا۔ وہی مودی ‘جو قوم پرستی کے لبادے میں ہندو انتہاپسندی کو فروغ دیتا ہے۔ وہی مودی‘ جس کی پارٹی اقتدار میں آتے ہی کشمیری مسلمانوں پر ظلم کی انتہا کردیتی ہے ۔ وہی مودی‘ جو آج بھارت کا وزیراعظم ہے اور آئندہ انتخابات سے قبل پاکستان پر جنگ مسلط کرنا چاہتا ہے۔ایک بار پھر جنگ کے ذریعے ہزاروں جانوں کی قیمت پر دوبارہ اقتدار میں آنا چاہتا ہے۔
مگر اس بار مودی غلطی کرگیا۔ اپنے ملک میں اقلیتوں پر مظالم ڈھاتے ڈھاتے اچانک پاکستان کی امن کی خواہش کو کمزوری سمجھنے کی بے وقوفی کرگیا۔پاکستان کو ترنوالہ سمجھ کر اپنا رخ ادھر کربیٹھا۔ کشمیری تحریک آزادی کے نوجوانوں کے پلوامہ میں ردعمل کا الزام پاکستان کے سر تھوپ کر بھارتی طیاروں نے پیر اور منگل کی رات پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی اورچند منٹوں میں ہی فرار ہوگئے ۔اور بھارت نے پاکستان میں بڑی کارروائی کرنے کا ڈراما رچانا شروع کردیا۔ جنگی جنون میں مبتلا بھارتی حکومت اور میڈیا نے طوفان بدتمیزی مچا دیا‘ مگر جب بین الاقوامی میڈیا کی جانب سے اس کارروائی کو مشکوک قرار دیا گیا تو بھارت نے اگلے ہی روز دوبارہ پاکستانی حدود کی خلاف ورزی کرنے کی کوشش کی‘ پھر دنیا بھرمیں ٹی وی سکرینوں پر بھارتی طیاروں کے آگ میں لپٹا ملبہ اور گرفتار بھارتی پائلٹ۔ پاکستانی فوجی جوانوں نے جس پائلٹ کو گرفتار کیا وہ تو قیدی بن گیا اور اس سے بین الاقوامی قوانین کے مطابق سلوک کیا گیا‘ مگر جو طیارہ مقبوضہ کشمیر کی حدود میں گرا اُس کے پائلٹ کی لاش کو مشتعل کشمیری نوجوان سڑکوں پر گھسیٹتے رہے‘ بالکل ایسے ہی جیسے بھارتی فوجی کشمیری نوجوانوں کی لاشوں کو‘ بچوں کو اور خواتین کو گاڑیوں کے ساتھ باندھ کر گھسیٹتے ہیں۔یہ مناظر دیکھ کر اقتدار کی ہوس میں مبتلا مودی اور اس کے حواریوں کے چھکے چھوٹ گئے‘ ایک دن پہلے اندھیرے میں کیے گئے وار پر خوشیاں منانے والے اب ماتم کررہے تھے۔ اچانک ماحول بدلا‘ بھارتی وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم کشیدگی ختم کرنا چاہتے ہیں۔ جنگ کا جنون بہہ گیا۔ ''نو ٹو وار‘‘بھارت میں ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔ بھارتی میڈیا امن کا راگ الاپنا شروع ہوگیا اور بھارتی دانشور اپنے عوام کوجنگ کے نقصانات سے آگاہ کرنے لگ گئے۔انتہاپسند ہندو بنیے کی فطرت نے نیا روپ اپنا لیا تھا۔
بزدل ظالم ہوتا ہے اور اپنی احساس کمتری کو ظلم سے کم کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ ظالموں کا کوئی خاص قبیلہ‘ قوم‘ یا نسل سے تعلق نہیں ہوتا ۔ ان کی خصلت ایک جیسی ہوتی ہے۔اکثر اوقات ظالموں میں مماثلت حیران کردیتی ہے۔ اس کا اندازہ بھارت میں ہزاروں مسلمانوں کا قتل عام کرنے والے مودی اور دنیا میں دوسری عالمی جنگ کے ذریعے لاکھوں لوگوں کی موت کے ذمہ دار ہٹلر کی زندگی کا جائزہ لے کر لگایا جاسکتا ہے‘ دونوں کی زندگی میں حیرت انگیز مماثلت پائی جاتی ہے۔
مودی 17ستمبر 1950 ء کو ہندوئوں کی کمتر سمجھی جانے والی ذات ''تیلی ‘‘سے تعلق رکھنے والے غریب گھرانے میں پیدا ہوا۔ابتدائی عمر میں باپ کے ساتھ ریلوے سٹیشن پر چنے بیچتا تھا ‘جبکہ ماں لوگوں کے گھروں میں کام کرتی تھی۔مودی کے5بہن بھائی تھے۔ فن تقریر میں مہارت تھی اور فنون لطیفہ سے بھی دلچسپی رکھتا تھا۔ 8سال کی عمر میں ہی آر ایس ایس میں شامل ہوااورر ایس ایس کے کٹر ہندو انتہاپسندانہ خیالات اپنا لیے۔ 1967ء میں میٹرک کیااور اسی سال گھریلو حالات کی وجہ سے گھر سے بھاگ کر آشرم میں زندگی گزاری۔کچھ ایسا ہی ایڈولف ہٹلر بھی تھا۔ ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوا۔ہٹلر کے بھی پانچ بہن بھائی تھے اور بہترین مقرر ہونے کے ساتھ ساتھ اسے بھی فنون لطیفہ سے دلچسپی تھی۔ ہٹلر نے بھی 8سال کی عمر میں عملی زندگی کا آغاز کیا اور گھریلو جھگڑوں سے تنگ آکر گھر چھوڑ کر بھاگ گیا تھااور ابتدائی زندگی ہاسٹل میں گزاری تھی۔ ہٹلر اور مودی دونوں ہی واجبی سی تعلیمی قابلیت رکھتے تھے۔
مودی عملی زندگی کے دوران 77-1975ء میں آر ایس ایس پر پابندی لگنے کے بعد انڈر گرائونڈ چلا گیا ۔اس نے روپوشی کے دوران ایک کتاب ''دی سٹرگل آف گجرات ‘‘ لکھی۔ 1985ء میں آر ایس ایس نے نریندر مودی کو اپنے نمائندے کے طور پر بی جے پی میں بھیجا‘جس کے بعد مودی نے اپنی غربت کا رونا روکر اقتدار کا سفر طے کیا اور 2001ء میں گجرات کا وزیر اعلیٰ بنا۔ 2002ء میں مودی نے مسلمانوں کا قتل عام کروایااوراسی وجہ سے کئی ممالک نے اس کے اپنے ملک میں داخلے پر پابندی لگادی۔ مودی نے مسلمانوں کے قتل عام کو فخریہ انداز میں اپنا کارنامہ بتایا اور ''ہندو توا ‘‘ کا پرچار کیا۔ 2014ء میں نریندر مودی بھارت کا وزیر اعظم بن گیا‘ جس کے بعد مقبوضہ کشمیر اور بھارت میں مسلمانوں پر زندگی تنگ کردی گئی۔کچھ ایسا ہی معاملہ ہٹلر کا رہا۔ایڈولف ہٹلر نے عملی زندگی کا آغازجرمن فوج میں شمولیت سے کیا تھا۔ ایڈولف ہٹلر نے 1920ء میں نیشنل سوشلسٹ جرمن ورکرز پارٹی (نازی پارٹی) میں شمولیت اختیار کی اور غریب خاندان سے ہونے کا شور کرکے 1921ء میں پارٹی چیئر مین منتخب ہوگیا تھا۔ 1930ء میں جرمنی کا وزیراعظم (چانسلر) بنا۔ ہٹلر کے نازی نظریات انتہا پسندانہ تھے۔ہٹلر نے بھی کتاب ''مائی سٹرگل‘‘ لکھی۔1939ء میں ہٹلر نے پولینڈ پر حملہ کیا ‘جو دوسری جنگ عظیم کے آغاز کا باعث بنا‘جس میں کروڑوں افراد موت کے منہ میں چلے گئے۔
اپنے انتہا پسندانہ نظریات کے پرچار کیلئے مودی و ہٹلر دونوں کا طریق ایک جیسا ہی رہا۔مودی نے گجرات میں بچوں کے نصاب میں تبدیلی کرکے برین واشنگ کی ‘نصاب میں اقلیتوں کو بیرونی افراد قرار دیا گیا۔ ہٹلر کی جانب سے بھی بچوں کے تعلیمی نصاب میں یہودیوں کے خلاف مواد شامل گیا تھااور ان کے خلاف انتہاپسندانہ نظریات بچوں کو منتقل کیے گئے۔ مودی و ہٹلر دونوں کی جانب سے اپنی ریاست میں اقلیتوں کو ہدف بنایا گیا۔ ہٹلر نے یہودیوں اور مودی نے مسلمانوں کو بطور ِخاص نشانہ بنایا۔ہٹلر نے اقتدارمیں آنے کے بعد تمام اختیارات اپنے قبضے میں کرلیے تھے اور نچلی سطح سے اختیارات ختم کردیا تھا۔ حالیہ برسوں میں مودی کو بھی تمام اختیارات اپنے پاس رکھنے کے الزامات کا سامنا ہے اور اپوزیشن کا کہنا ہے کہ مودی اس حوالے سے اقدامات کررہا ہے۔ جھوٹ اور فریب پر مشتمل باتوں کے ذریعے پروپیگنڈہ کرنا بھی دونوں کا خاصہ رہا ۔ اس حوالے سے مودی کا ''وزیرپروپیگنڈہ‘‘ امیت اور ہٹلر کے پروپیگنڈہ منسٹر جوزف بوبل کا کردار بھی یکساں رہا ہے۔ جوزف بوبل نازی پارٹی کا خطرناک ترین شخص سمجھا جاتا تھا‘ جبکہ بے جے پی صدر امیت شاہ کو سازشیں کرنے کے حوالے سے خطرناک سمجھا جاتا ہے۔
تاریخ بتاتی ہے کہ ظالموں کا انجام بھی ایک جیسا ہی ہوتا ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ ہٹلر اور مودی کے انجام میں کتنی مماثلت پائی جاتی ہے۔ایک بات تو طے ہے کہ اگر پاکستان سے جنگ کا مودی کا جنون نہ اترا تو پھر اسے پاکستان اتارے گا اور اس صورت میں شاید انجام ہٹلر سے بھی بدتر ہو۔بقول ساحر ؔلدھیانوی:
ہم امن چاہتے ہیں مگر ظلم کے خلاف
گر جنگ لازمی ہے تو پھر جنگ ہی سہی